12% of the book — free to read

گلستانِ طرشّہ
طرشّہ شبیر احمد

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز, پاکستان
٭
کمپوزنگ
فریال زہرا
مدیران
نرمین سرھیو
فریال زہرا
مرتّب کنندہ
نرمین سرھیو
__
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں
﷽
میرے والد شبیر احمد کے نام!
میں نے جو کچھ سیکھا انہی سے سیکھا۔
آج کی دکھ بھری شام میں یہ اشعار بہت خوبصورت ہیں!
’تیرا‘ بخشا ہوا غم سلامت رہے
درد کی شام ہنس کے گزاریں گے ہم
زخمِ دل جب تیری یاد مہکائے گا
بے خودی میں بھی تجھ کو پکاریں گے ہم
مجھے ہمیرا شبیر کہتے ہیں۔ میرا نام طرشّہ شبیر میرے والد نے رکھا تھا۔ میں ۶ فروری۱۹۴۱ء کو ہندوستان کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئی۔ مجھے پڑھنے لکھنے کا بچپن سے ہی شوق تھا، میرے گھر کا ماحول بھی پڑھنے لکھنے والا تھا۔ میرے والدین بھی اس زمانے میں پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ ہم گیارہ بہن بھائی تھے؛ چھ بھائی اور پانچ بہنیں، میرا نمبر تیسرا تھا۔ مجھےادب سے بہت لگاؤ تھا، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میری زندگی کا یہ خوبصورت اور یادگار دن دکھایا۔
میرے قدردانوں نے میری محبت اور قدر میں یہ کتاب شائع کروائی ہے۔ میں ہمیشہ اُن کی مشکور رہوں گی۔ اچھے لوگ سب کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔ میرے پاس اب دعاؤں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
٭٭٭
گلستانِ طُرشہ، طرشہ شبیر کی تحریروں کا ایسا گلدستہ ہے جو اپنے اندر کئی رنگ رکھتا ہے۔ سادہ الفاظ کا چناؤ اسے منجھی تحریروں کا عکاس بناتا ہے تو احساسات کا بیان اسے محبت کا ترجمان۔ نثر کی دل کشی بہتے دریا سی روانی لیے ہوئے ہے اور اس کی لہریں کہیں کہیں اشعار کو بھی چھوتی نظر آتی ہیں۔ چاندنی راتوں میں چاند کے سحر کے ساتھ یہ کتاب بھی اندرونی جذبات میں تلاطم پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
طرشہ صاحبہ کے سادہ انداز کی میں دل سے گرویدہ ہوں اور انھیں اس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتی ہوں۔
مدیرۂ اعلیٰ، داستان
نرمین سرھيو
طرشّہ شبیر صاحبہ کی یہ کتاب محبت میں دل پر گزرنےوالے جذبات کامرقع ہے، جسے پوری سچائی اور خلوص سے قلم بند کیا گیاہے۔ انتظار کی ایسی داستان ہے جو ایک طویل عرصے پر محیط ہے۔ مصنفہ کی پہلی کتاب ہونےکے باوجود اس کا اسلوب سادہ، رواں اور پختہ ہے۔ یہ طرزِتحریر ان کےادبی ذوق کی ضمانت ہے۔ چوں کہ مصنفہ کا تعلق بنیادی طور پر لکھنؤ سے رہا اس لیے ان کی زبان و بیان میں بھی لکھنوی انداز جھلکتا ہے، جو بےحد شائستہ ہےاورقاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے میں ازحد معاون ثابت ہوا ہے۔ اس کتاب میں موجود ہر تحریر اور شعر نے براہِ راست مجھے متاثر کیا اور ہر جملہ دل کی گہرائیوں میں اترا۔ اس کتاب کو پڑھ کرحقیقت میں مجھے اندازہ ہوا کہ’دل سے نکلی ہوئی بات سیدھا دل پر اثر کرتی ہے‘۔ مصنفہ کے لیے نیک خواہشات اور کتاب کی کامیابی کے لیے ڈھیروں دعائیں۔
مدیرہ، داستان
فریال زہرا
منظومات

یا صبحِ الم ہو
تیرے آنے کی جاناں
دعا کب نہیں۔۔۔
۱ جنوری١٩٨٥ء
***
تیرے خیال کی حسین پرچھائیاں
کبھی خواب ہوتی ہیں اور
کبھی حقیقت کا رنگ ہوتی ہیں
ہر ایک شب تیرے خیالوں میں،
کبھی صبحِ امید کے گلابوں میں
کسی طرح گزر ہی جاتی ہے
تیرے قدموں کے ایک پل کی خوشی
میرے دکھ سارے بھلا دیتی ہے
۳ فروری١٩٨٥ء
***
(تم)
صبح ہوکہ شام ہو
تیرا میرا ساتھ ہو
درد کی شام ہو
یا سکھ کا سویرا ہو
مر بھی جائیں اگر ہم
ہاتھوں میں ہاتھ تیرا ہو
تیرا میرا ساتھ ہو
صبح ہو کہ شام ہو
یہ آرزو بھی ہے
یہ دعا بھی ہے
یہی متاعِ حیات ہے
یہ سب تمہاری مرضی
اور کرم پرمنحصرہے
۷مارچ١٩٨٥ء
***
جب تیری باتیں ہوتی ہیں
گزرے لمحوں کی حسین یادیں،
زندگی کےوہ دلکش لمحے
خواب کے رنگوں میں بکھر جاتےہیں
ہر ایک شب تیرے قدموں کی آہٹ
اس طرح آتی ہے
جیسے چاندنی ہر شب کو اتر آتی ہے
۸مارچ١٩٨٥ء
***
غم اٹھانے کے لیے
ہیں اکیلے ہی بہت
میرے پاس ہیں تیری خوشبو
کے سائے بہت
۸مارچ١٩٨٥ء
***
کتنے آنسو ملتے ہیں اک لمحے کی خوشی کے لیے
دو پل تیرے قدموں کے سائے ملیں
مہرباں ہو، اور کیا چاہیے
۱۰مارچ١٩٨٥ء
***
زندگی تجھ سے کوئی شکوہ نہیں
دکھ بھی اس طرح ہم کو ملے
جس طرح پھول گلشن میں کھلے
ہے کرم یہ بھی، اور آرزو کوئی نہیں
۱۱مارچ١٩٨٥ء
***
کوئی کچھ بھی کہے
لیکن یہ بات تو سچ ہے
محبت، جاناں!
سچائی کا دوسرا نام ہے
۱۷مارچ١٩٨٥ء
***
چاہتوں کا سلسلہ دور کتنی جائے گا
فاصلہ درمیان کچھ نہ کچھ رہ جائے گا
تمہارے نام، تمہارے لیے،
زندگی لمحہ لمحہ
دعائیں ایک ایک پل
۵اپریل١٩٨٥ء
***
دکھوں کو ہنسی کا پیراہن بخش دو
غم دوستوں کو دکھ دیتا ہے
رقیبوں کو شاید خوشی ملتی ہے
اپنے صبر اور برداشت سے،
سارے رنج آنسوؤں کی شبنم سے دھو لو۔
۶ اپریل١٩٨٥ء
***
تیری بے رخی کا شکوہ نہیں
You have read 12% of گلستانِ طُرشہ / Gulistan e Tursha. The full e-book picks up right where this stopped.