12% of the book — free to read

محبت کے رنگ
محمد افضل انصاری

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢١ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
٭
مدیرہ
نرمین سرھیو
مرتّب کنندہ
نرمین سرھیو
__
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں
انتساب
یہ کتاب میں اپنی بیگم’فرزانہ افضل‘ کے نام کرتا ہوں۔۔۔!
ترتیب
اب اُسے یاد رکھنے کا کیا فائدہ؟ 225
تمام انسانی رشتے احساسات و جذبات کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔اگر انسانی زندگی میں اِن احساسات و جذبات کے رنگ پھیکے پڑ جائیں توانسان آہستہ آہستہ اپنوں سے ہی بیگانہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے بغیر کبھی وہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا اپنے اُن خاص لوگوں کو بھی وہ بوجھ سمجھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اُس کے دل میں اُن کے لیے جذبات کے سارے رنگ آہستہ آہستہ پھیکے پڑنے یا پھر بالکل ختم ہونا شروع ہو جاتے۔
جب کسی دل سے محبت بھرے جذبات کے سارے رنگ ختم ہو جاتے ہیں تو وہ دل اس بھری دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس تنہائی کے بعد کی دنیا تو اور بھی بھیانک ہے۔ جب ایک دل تمام میٹھے میٹھے اور رنگین جذبوں سے عاری ہو جاتا ہے تواس دل میں اندھیرا چھا جاتا ہے اور دور دور تک روشنی کی یا اُمید کی کوئی کرن تک نظر نہیں آتی۔ ایسی حالت میں کبھی کبھی اپنی زندگی پرموت کو ترجیح دینے لگتا ہے۔
دل کی دنیا صرف اور صرف اِن محبت، پیار اور خلوص بھرے جذبوں سے ہی رنگین ہے۔ جب تک انسان اپنے دل میں ان جذبوں کی آبیاری کرتا رہے گا اور ان رنگوں کو تلخی، تند و تیز لہجوں اور غصہ ونفرت کی تپش سے بچاتا رہے گا تب تک یہ جذبے اس کے دل کو دنیا کو رنگین اور حسین بنائے رکھیں گے۔اِس لیے ہمیں اِن چھوٹے چھوٹے معصوم سے پیارے سے رنگ برنگے جذبوں کی نہ صرف قدر کرنی چاہیے اور ان کو بچا کر رکھنا چاہیے بلکہ ان کو وقت کے ساتھ ساتھ اور پکے کرنا چاہیے تا کہ ہماری زندگیاں جنت کا اِک حسیں نمونہ بن جائیں جس میں ہر طرف پھول ہی پھول ہوں، پیار ہی پیار ہو، سکون ہی سکون ہو، آرام ہی آرام ہو اور چاروں طرف محبت اور پیار کے سارے رنگ بکھرے ہوں۔
اس کتاب میں بھی ایسے ہی اُن تمام احساسات و جذبات کے رنگوں کی بات کی گئی ہے جن کو اگر انسان اپنے دل میں نہ صرف محسوس کرے بلکہ ان کو اگر بسا لے تو اس کی زندگی بھی گل و گلزار ہو سکتی ہے۔اس کتاب میں اُن لطیف سے جذبوں کی عکاسی کی گئی ہے جن کو ہر لمحہ محسوس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور جن کی وجہ سے ہی ہمارے دل کی دنیا نہ صرف آباد ہوتی ہے بلکہ رنگین بن جاتی ہے۔
محمد افضل انصاری
afzal.ansari@gmail.com
کر کے ہار سنگھار
آپ جاؤ کہیں بھی
اپنے دن رات
مناؤ کہیں بھی
ڈال کر اپنی بانہوں میں بانہیں
جھومو، ناچو اور گاؤ کہیں بھی
جی بھر کے پیو
جوانی کے نشے کو اور
خزانہ حسن تم لٹاؤ کہیں بھی
تم آزاد ہو
ا پنے جی کو بہلاؤ کہیں بھی
دل کو اپنے لگاؤ کہیں بھی
ان سے مجھے کیا غرض
لیکن جب تم تھک جاؤ
جب مرجھا جائیں
تیری زلفوں کے گجرے
بانہوں کی کلیاں
جب ختم ہو جائیں
تیرے ہونٹوں کی لالی
آنکھ کا کاجل
جب ماند پڑ جائے
چمک رخساروں کی
جب پھر جائیں نظریں
اِس زمانے میں
تجھ سے ساروں کی
جب دل تمھارا
ذرا سا بھی
ہونے لگے غمگین
تو پھر عرض ہے اتنی
میرے پا س لوٹ آنا
کیونکہ۔۔۔
میں نے تجھ سے نہیں
تیری روح سے
محبت کی ہے اور مجھے
اُسے ہر حال
میں خوش رکھنا ہے
تمہیں معلوم ہو گا
تیر ا دل جانتا ہو گا
کتنا مشکل ہے انتظار
کیسے گزرتا ہے وقت
گر نہ ہو پائے دیدار
کیسے ہوتی ہے
من کو بے قراری
جب بن دیکھے
دن گزر جائے سارا
اور گزر جائے
رات بھی ساری
ہو جائے جب ملاقات بھی
اور رہ جائے دل میں
دل کی بات بھی ساری
من ترستا ہی رہے گر
بن بھیگے گزر جائے
برسات بھی ساری
سیج سجا کے اور
کر کے ہار سنگھار
کرنا پڑ جائے گر
عمر بھر انتظار
تمہیں معلوم ہو گا
تیرا دل جانتا ہو گا
گر تو نے بھی
کیا ہے پیار کسی سے
اور اعتبار کسی پہ
ہوتی ہے کیا حالت دل کی
اور آنکھ میں کاجل کی
تیرے درد کو
میں سمجھتا ہوں
میں سمجھ سکتا ہوں
کیونکہ میں
تم سے محبت کرتا ہوں
مجھ کو معلوم ہیں
کیسے گزرتے ہیں
لمحے جدائی کے
کتنے بوجھل ہوتے ہیں
لمحے تنہائی کے
اس لیے جس طرح جان سے
پیارا ہے صنم تیرا تجھ کو
اُسی طرح جاں سے پیارا ہے
میری جاں تو مجھ کو
گر تو اُسے بھول نہیں سکتا
تو پھر میں کیسے ؟
You have read 12% of محبت کے رنگ / Muhabat Kay Rung. The full e-book picks up right where this stopped.