Check out our most recent publications
محبت کے رنگ / Muhabat Kay Rung
Free sample · no sign-up

محبت کے رنگ / Muhabat Kay Rung

by Muhammad Afzal Ansari

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

محبت کے رنگ

محمد افضل انصاری

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

 

 

 

مطبع: پکسلز پرنٹنگ

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

٭

مدیرہ

نرمین سرھیو

 

مرتّب کنندہ

نرمین سرھیو

 

__

 

سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں

 

انتساب

یہ کتاب میں اپنی بیگم’فرزانہ افضل‘ کے نام کرتا ہوں۔۔۔!

 

ترتیب

دیباچہ.. 19

مجھے کیا غرض    21

ہوتی ہے کیا حالت     25

کیسے بُھلا دوں؟  28

یہ تو عادت ہے میری   30

کیا کہوں؟  32

خوش قسمت....... 33

میں کیا کروں؟  36

ضبط.... 39

مُجھ سے مَت چِھینو  41

اندیشہ... 44

اُلجھن..... 47

سب کچھ اُن کے لیے     49

حقیقت........ 52

دعوت... 53

آپ کی خاطر    55

مصروفیت.... 57

میں ا کیلی.... 58

چُھپ نہیں سکتا     60

تجسس...... 63

ڈر لگتا ہے... 67

جب تم سامنے ہوتے ہو   70

تیری یاد میں.... 72

چوری.. 74

تاکید... 77

مجھے پتہ ہے... 79

نالائق... 81

بُھول.. 83

یہی تو پیار ہے... 84

نصیحت....... 87

وصال.. 89

پائل... 91

مجبوری.. 93

بونس... 96

کس کوخیال ہے؟  97

ناکامی.. 98

کمال.. 99

پگلی دیوانی.. 102

میرے لیے.... 106

پل بھر میں.... 109

جیت..... 111

اِحتیاط سے.... 112

میری غزل   114

کب تلک..... 117

بے چینی..... 119

رقیب.... 120

خواب اور آپ    122

اِسی بہانے... 125

بے بسی... 127

رکاوٹیں.... 128

اِلزام. 133

پہلی بارش.. 135

وہ آئی کیوں تھی؟  136

خواب اور خیال   138

میرا حق... 139

کیوں نہ ناز کروں ؟  140

ہر لمحہ... 142

جب تُم دُور جاتے ہو   144

تُو ہی تُو ہے... 146

ہجر کی رات... 148

ذرا مجھ کو بتاؤ  150

رات ساری گزار دی   153

وہ شام سُہانی   155

شہ پارہ 157

کبھی ہم تھے ہم   158

سب سُن لو  159

اِک نظر میں.... 160

اپیل.... 162

ملنے کی ضد نہ کرو 165

خواب بکھرتے دیکھے     167

دِل میں اُترتے دیکھا    170

اُدھار. 176

امانت.... 178

انجان.. 179

مجبوری.. 181

مجھ کو چاہیے.... 182

پہلی نظر.... 184

منزل.. 185

کہیں ایسا نہ ہو   186

کامیابی.. 188

ساجن کی گلی   189

سب رنگ.... 192

ہستی.... 199

اُداسی... 201

بھٹکا ہوا راہی   203

تجھے خیال رکھنا ہے    205

دوسری بارش   208

نبض شناس... 210

دسمبر.... 212

ساون.. 215

اِنکشاف... 217

آخر کیوں؟  219

واپسی... 221

تیری محفل میں     223

اب اُسے یاد رکھنے کا کیا فائدہ؟  225

تو مجھے بھول جا  230

اِلتجاء 232

گزارش.. 236

دیوانہ. 238

مجھے یقیں ہے... 240

وجود. 241

تنہائی.. 244

پیار کی ندیا  246

خوش قسمت....... 248

قسمت....... 249

مجھے جانے دو 250

نیا سال.. 255

کون جیتا کون ہارا 259

جی چاہتا ہے... 262

شکوہ 263

تلاش... 265

گمنام. 267

کسک..... 269

 

دیباچہ

تمام انسانی رشتے احساسات و جذبات کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔اگر انسانی زندگی میں اِن احساسات و جذبات کے رنگ پھیکے پڑ جائیں توانسان آہستہ آہستہ اپنوں سے ہی بیگانہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے بغیر کبھی وہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا اپنے اُن خاص لوگوں کو بھی وہ بوجھ سمجھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اُس کے دل میں اُن کے لیے جذبات کے سارے رنگ آہستہ آہستہ پھیکے پڑنے یا پھر بالکل ختم ہونا شروع ہو جاتے۔

جب کسی دل سے محبت بھرے جذبات کے سارے رنگ ختم ہو جاتے ہیں تو وہ دل اس بھری دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس تنہائی کے بعد کی دنیا تو اور بھی بھیانک ہے۔ جب ایک دل تمام میٹھے میٹھے اور رنگین جذبوں سے عاری ہو جاتا ہے تواس دل میں اندھیرا چھا جاتا ہے اور دور دور تک روشنی کی یا اُمید کی کوئی کرن تک نظر نہیں آتی۔ ایسی حالت میں کبھی کبھی اپنی زندگی پرموت کو ترجیح دینے لگتا ہے۔

دل کی دنیا صرف اور صرف اِن محبت، پیار اور خلوص بھرے جذبوں سے ہی رنگین ہے۔ جب تک انسان اپنے دل میں ان جذبوں کی آبیاری کرتا رہے گا اور ان رنگوں کو تلخی، تند و تیز لہجوں اور غصہ ونفرت کی تپش سے بچاتا رہے گا تب تک یہ جذبے اس کے دل کو دنیا کو رنگین اور حسین بنائے رکھیں گے۔اِس لیے ہمیں اِن چھوٹے چھوٹے معصوم سے پیارے سے رنگ برنگے جذبوں کی نہ صرف قدر کرنی چاہیے اور ان کو بچا کر رکھنا چاہیے بلکہ ان کو وقت کے ساتھ ساتھ اور پکے کرنا چاہیے تا کہ ہماری زندگیاں جنت کا اِک حسیں نمونہ بن جائیں جس میں ہر طرف پھول ہی پھول ہوں، پیار ہی پیار ہو، سکون ہی سکون ہو، آرام ہی آرام ہو اور چاروں طرف محبت اور پیار کے سارے رنگ بکھرے ہوں۔

اس کتاب میں بھی ایسے ہی اُن تمام احساسات و جذبات کے رنگوں کی بات کی گئی ہے جن کو اگر انسان اپنے دل میں نہ صرف محسوس کرے بلکہ ان کو اگر بسا لے تو اس کی زندگی بھی گل و گلزار ہو سکتی ہے۔اس کتاب میں اُن لطیف سے جذبوں کی عکاسی کی گئی ہے جن کو ہر لمحہ محسوس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور جن کی وجہ سے ہی ہمارے دل کی دنیا نہ صرف آباد ہوتی ہے بلکہ رنگین بن جاتی ہے۔

 

محمد افضل انصاری

afzal.ansari@gmail.com

 

مجھے کیا غرض

کر کے ہار سنگھار

آپ جاؤ کہیں بھی

اپنے دن رات

مناؤ کہیں بھی

ڈال کر اپنی بانہوں میں بانہیں

جھومو، ناچو اور گاؤ کہیں بھی

جی بھر کے پیو

جوانی کے نشے کو اور

خزانہ حسن تم لٹاؤ کہیں بھی

تم آزاد ہو

ا پنے جی کو بہلاؤ کہیں بھی

دل کو اپنے لگاؤ کہیں بھی

ان سے مجھے کیا غرض

لیکن جب تم تھک جاؤ

جب مرجھا جائیں

تیری زلفوں کے گجرے

بانہوں کی کلیاں

جب ختم ہو جائیں

تیرے ہونٹوں کی لالی

آنکھ کا کاجل

جب ماند پڑ جائے

چمک رخساروں کی

جب پھر جائیں نظریں

اِس زمانے میں

تجھ سے ساروں کی

جب دل تمھارا

ذرا سا بھی

ہونے لگے غمگین

تو پھر عرض ہے اتنی

میرے پا س لوٹ آنا

کیونکہ۔۔۔

میں نے تجھ سے نہیں

تیری روح سے

محبت کی ہے اور مجھے

اُسے ہر حال

میں خوش رکھنا ہے

 

ہوتی ہے کیا حالت

تمہیں معلوم ہو گا

تیر ا دل جانتا ہو گا

کتنا مشکل ہے انتظار

کیسے گزرتا ہے وقت

گر نہ ہو پائے دیدار

کیسے ہوتی ہے

من کو بے قراری

جب بن دیکھے

دن گزر جائے سارا

اور گزر جائے

رات بھی ساری

ہو جائے جب ملاقات بھی

اور رہ جائے دل میں

دل کی بات بھی ساری

من ترستا ہی رہے گر

بن بھیگے گزر جائے

برسات بھی ساری

سیج سجا کے اور

کر کے ہار سنگھار

کرنا پڑ جائے گر

عمر بھر انتظار

تمہیں معلوم ہو گا

تیرا دل جانتا ہو گا

گر تو نے بھی

کیا ہے پیار کسی سے

اور اعتبار کسی پہ

ہوتی ہے کیا حالت دل کی

اور آنکھ میں کاجل کی

 

کیسے بُھلا دوں؟

تیرے درد کو

میں سمجھتا ہوں

میں سمجھ سکتا ہوں

کیونکہ میں

تم سے محبت کرتا ہوں

مجھ کو معلوم ہیں

کیسے گزرتے ہیں

لمحے جدائی کے

کتنے بوجھل ہوتے ہیں

لمحے تنہائی کے

اس لیے جس طرح جان سے

پیارا ہے صنم تیرا تجھ کو

اُسی طرح جاں سے پیارا ہے

میری جاں تو مجھ کو

گر تو اُسے بھول نہیں سکتا

تو پھر میں کیسے ؟

That’s the end of the free sample

You have read 12% of محبت کے رنگ / Muhabat Kay Rung. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Muhammad Afzal Ansari earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 300

See all editions, reviews and details

محبت کے رنگ / Muhabat Kay Rung Buy — Rs 300