Check out our most recent publications
آبِ بقا / Aab e Baqa
Free sample · no sign-up

آبِ بقا / Aab e Baqa

by Syeda Aleena Saqib

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

 

آبِ بقاء

 

سیدہ علینہ ثاقب

 

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ©۲۰۲۱ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل: ۲۰۲۱ء

 

 

مطبع: پکسلز پرنٹنگ

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

کمپوزنگ، ادارت و ترتیب

قدسیہ حذیفہ جمالیؔ

 

نظرِ ثانی

نرمین سرھیو

 

_______

 

سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں

 

پیش لفظ

برکت علی شاہ سیالکوٹ کے ایک گاؤں ظہور والا میں رہتے تھے۔یہ اللہ والے تھے مرنے سے پہلے وصیت کی کہ ان کی گدی پر کوئی نہ بیٹھے۔آج بھی اس گاؤں میں لوگ ان کا عرس مناتے ہیں لیکن اب اس خاندان کا کوئی بھی فرد اس گاؤں میں نہیں رہتا۔میں سیدہ علینہ ثاقب میرے دادا باقرحسین شاہ ولد محمود علی شاہ ولد برکت علی شاہ تھے۔

کہتے ہیں صبر کرو، صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔یہ باتیں ہم اپنی زندگی کے ہر دور میں سنتے ہیں۔ صبر چاہے مرد کرے یا عورت اس کا گھونٹ دونوں کو پینا پڑتا ہے۔زندگی کے ان 34 سالوں میں شاید ہی میں نے اپنے آس پاس کسی کو صبر کرتے نہ دیکھا ہو۔یہ بات شاید پڑھنے والے سوچ رہے ہوں کہ اس میں کیا نئی بات ہے سب ہی صبر کرتے ہیں۔ میں ایک بیٹی، بیوی، ماں، بہن اور کسی کے گھر کی بہو بھی ہوں۔ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورت کا ذکر ایک ماں، بیٹی یا بیوی کی حیثیت سے کرتے ہیں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت کو خدا نے ایک مکمل ذات بنا کر بھیجا ہے۔اللہ نے اس کی جبلت میں ممتا کے ساتھ ساتھ صبر بھی ڈالا ہے۔ہر شخص اپنی ماں سے پیار کرتا ہے چاہے وہ کوئی منسٹر ہویا وزیراعظم ماں کا نام ایسا ہے کہ جس کے لبوں پر بھی آئے دل بھر آتا ہے۔شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ماں کا ذکر چھپ کر کرتا ہو۔

شوکت خانم ہسپتال ہمارے سامنے ایک مثال ہے ایک بیٹے نے اپنی ماں کے لئے ایسا کام کیا کہ رہتی دنیا تک اس کی ماں کا نام یاد رہ جائے گا۔ ایدھی صاحب کی ماں نے اُن کی ایسی تربیت کی کہ پاکستان کی تاریخ میں جتنا کام انہوں نے کیا اور کسی نے نہیں کیا۔

یہ سب بہت عام سی مثالیں ہیں اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں۔میرا مقصد یہ کتاب لکھنے کا صرف یہ ہے کہ ماں بیٹے کی محبت، ماں بیٹی کی محبت، محبوب اور محبوبہ کی محبت، میاں بیوی کی محبت کے بارے میں سب لکھتے ہیں لیکن میں اپنی زندگی کا تجربہ اس کتاب میں لکھنا چاہتی ہوں۔ میں اپنی ماں سے بھی بہت زیادہ پیار کرتی تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اپنی ساس سے بھی بہت زیادہ پیار کرتی ہوں۔

آبِ بقاء؛ایسا پانی جو انسان کو ابدی زندگی دیتا ہے۔ کیا واقعی ایسا کوئی چشمہ ہے جس کا پانی انسان کو لافانی کردے؟میری نظر میں یہ پانی الفاظ کا ہے۔یہ کتاب ایک کوشش ہے 'آصفہ بانو' کی زندگی کو امر کرنے کی۔ یہ کہانی میں اپنی ساس کی زندگی پر لکھ رہی ہوں۔ میں اپنی ساس سے بہت پیار کرتی تھی۔آج بھی ان کی وفات میرے لئے سب سے مشکل وقت لائی۔ میں بیان نہیں کر سکی کہ میں ان سے کتنا پیار کرتی ہوں۔

وہ آب جو آنکھوں میں تھا ٹھہرا وقتِ آخر
عُمر سما گئی تمام اس ایک قطرے میں

سیدہ علینہ ثاقب

 

انتساب

 

میرے شریکِ حیات؛ثاقب جاوید کے نام۔۔۔

میری زندگی کی رونق میرے بچے ایمان فاطمہ، شافع حیدر، محمد رافع اور ایک پیاری سی سہیلی کے نام؛جن کی مسلسل حوصلہ افزائی نےمیری اتنی ہمت بڑھائی کہ میں نےیہ کتاب لکھی۔

 

شریف علی شاہ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ شریف علی شاہ کی آزادی سے پہلے جڑانوالہ سے انڈیا بسیں چلتی تھیں۔ خاندان کے امیر ترین آدمی تھے۔ وقت بدلاملک آزاد ہوا تو بسیں انڈیا ہی رہ گئیں۔

سات سال کی آصفہ بانو اپنے گھر کے آنگن میں کھیل رہی تھی۔ گھر کے باہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوئی آرہا تھا۔ کھیلتے ہوئے بچی سوچ رہی تھی کل سے ہمارے گھر اتنے لوگ کیوں جمع ہیں؟باجی اختر اتنا کیوں روتی ہیں؟باجی خاوراور بھائی بھی خاموش ہیں۔ امی اللہ میاں کے پاس ہی تو گئی ہیں جہاں سب جاتے ہیں۔ ہم سب نے بھی تو وہاں جانا ہے تو کیا ہوا جو چلی گئیں۔ صبح سے دو بار ابا جی کے پاس گئی ہوں، سب ہی کہہ رہے ہیں ”بھئی شریف علی شاہ بہت افسوس ہوا“ اور ابّا جی سر جھکا کر کہتے ہیں، ”جو اللہ کی مرضی۔۔۔“

آصفہ بانو سب سے چھوٹی تھی اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچپن کے اُس دور میں تھی جہاں بچہ سب بھول جاتا ہے یا پھر بچپن خواب کی طرح ہو جاتا ہے۔ اس چھوٹی سی بچی کو پتا ہی نہیں تھا کہ قدرت نے اس کی جبلت میں ممتا کے برابر صبر بھی ڈال دیا تھا جو اُسےمرتے وقت تک کرنا تھا۔ یہ بچی نہیں جانتی تھی کہ ماں کا پیار کیا ہوتا ہے، ماں کسے کہتے ہیں۔ ماں کیسے اپنے بچے کو سینے سے لگاتی، ساتھ سُلاتی واری واری جاتی ہے۔ وہ ان سب باتوں سے انجان تھی۔

”آصفہ آصفہ!کیا کر رہی ہو؟“

”جی باجی میں کھیل رہی ہوں۔“

”چلو جلدی سے آجاؤ، آکر کھانا کھا لو۔“

آصفہ ہاتھ دھو کر باجی کے پاس آئی تو دیکھا وہ کھانا سامنے رکھ کر رو رہی تھیں۔باجی خاورشایدباورچی خانے میں تھیں۔آصفہ نے ارد گرد نظر دوڑائی مگر کوئی نظر نہ آیا، سوچنے لگی کیا ہوا ہوگا؟ کیوں باجی ہر وقت روتی رہتی ہیں؟

”باجی آپ کیوں رو رہی ہیں۔“وہ اپنے سے بڑی بہن کے آنسو صاف کر رہی تھی۔ بہن میں سے ماں والی خوشبو آتی تھی، یہ بڑی بہنیں ہوتی ہی ایسی ہیں، ماں جیسی لگتی ہیں۔

”جان میری ادھر آؤ۔“باجی نے پاس بٹھا لیا۔

”منہ کھولو!“آصفہ کےمنہ میں روٹی کا نوالہ ڈالے مسلسل رو رہی تھیں۔

”آصف بیٹااگر باجی کہیں جائیں گی تو گھر میں کسی کو تنگ تو نہیں کرو گی۔“

”نہیں باجی لیکن آپ کہاں جا رہی ہیں، مجھے بھی ساتھ جانا ہے۔“وہ بڑی بہن کی گردن کے گرد بازو ڈالے بول رہی تھی۔

”آصف، باجی کی شادی ہو جائے گی تو آپ گھر میں خاوریا ابو کو تنگ تو نہیں کرو گی؟“

”ارے واہ باجی آپ کی شادی ہوگی! میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی، باجی کی شادی میں کتنا مزہ آئے گا۔“بچی کو انتظار تھا کہ باجی کی شادی ہوجائے گی۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of آبِ بقا / Aab e Baqa. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Syeda Aleena Saqib earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 150

See all editions, reviews and details

آبِ بقا / Aab e Baqa Buy — Rs 150