Check out our most recent publications
زیرو سے ہیرو ؛ سول انجینئر / Zero se Hero; Civil Engineer- Civil Engineering Book
Free sample · no sign-up

زیرو سے ہیرو ؛ سول انجینئر / Zero se Hero; Civil Engineer- Civil Engineering Book

by Mudassir Majeed

You are reading the first 30% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

30% of the book — free to read

 

زیرو سے ہیرو ؛ سول انجینئر

 

مدثر مجید

 

 

داستان پبلشرز

 

داستان پبلشرز

کاپی رائٹ©۲۰۲۱ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

اشاعت اوّل: ۲۰۲۱ء

 

مطبع: پکسلز پرنٹنگ

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

ادارت و ترتیب

قدسیہ حذیفہ جمالیؔ

 

نظرِ ثانی

نرمین سرھیو

 

---

سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر اور نرمین سرھیو کے نام محفوظ ہیں

 

اس کی سی جی پی اے(CGPA) 2 تھی۔اس نے مر مر کر سول انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا تھا۔ چار سالہ یونیورسٹی کی زندگی میں اس نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ کچھ ایسا سیکھا ہے جس پر وہ فخر محسوس کر سکے۔

وہ تو چھاپے اور رٹے لگا کر اور سی گریڈ لے کر پاس ہوتا رہا تھا۔یونیورسٹی کی تعلیم تو بس اس کے لیے ڈگری لینے میں مددگار ثابت ہوئی تھی۔ اس پورے سفر میں وہ اپنے کسی پروفیسر سے متاثر نہیں ہوا تھا۔

یوں توپروفیسر ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں لیے پھررہے تھے لیکن ان میں نہ مقصد تھا، نہ جوش اور نہ ہی وطن کو سنوارنے کی نیت تھی۔وہ تو ملازمت سمجھ کر اپنا وقت گزار رہے تھے اور ایک ایسی نوجوان نسل آگے لا رہے تھے جو انھیں کی زندگی کے اثر میں آگے بڑھ رہی تھی۔

اسے یاد تھا وہ کلاس کی آخری بینچ پر بیٹھتا تھا وہ کبھی توجہ سے کسی پروفیسر کو سننے کی کوشش بھی کرتا تو بوریت محسوس ہونے لگتی اور پھر پانچ منٹ بعد اسے شدید نیند کے جھونکے تنگ کرنا شروع کر دیتے تھے۔

اسے اپنی زندگی کا وہ واقعہ یاد آ رہا تھا کہ جس میں وہ ریاضی کے مضمون میں مر مر کر پاس ہوا تھالیکن بد قسمتی ایسی ہوئی کہ اس کے رول نمبر والے سینئر نے اسی مضمون کاضمنی امتحان دیا تھا اور پروفیسر نے نتیجے میں اس کا رول نمبر سمجھ کر ضمنی لگا دی تھی اور پھر وہ دو سال تک اس مضمون کو پاس کرنے میں لگا رہا تھا۔

وہ سوچ رہا تھا کہ شاید غلط شعبے کا انتخاب کرلیاہے اس لیے سول انجینئرنگ میں نالائق اور نا کام ہے۔ وہ اندر سے اپنے آپ کو کوس رہتا تھا کیوں کہ اپنے والد کی فرمائش پر اس شعبے میں آ تو گیا تھا لیکن اس کا اصل شعبہ شاید کوئی اور تھا۔

اب وہ ایک سول انجینئر تھا۔ اُس کا ارادہ تھا کہ کہیں ملازمت شروع کر کے خاندان کی مالی معاونت کرےکیونکہ اس کے گھر کے معاشی حالات اچھے نہ تھے۔پہلے چھ مہینے وہ اِدھر اُدھر نوکری کے چکروں میں گھومتا رہا لیکن اسے کبھی بھی ایسا نہیں لگا کہ کوئی اسے کام پر رکھنا چاہتا تھا۔

ہر طرف سے مایوسی اور ناکامی کے بادل اسے گھیر رہے تھے اور وہ زندگی کو اپنے اوپر بوجھ سمجھ رہا تھا۔اس کے والد نے کسی سے منتے ترلے کرکے اسے ایک کمپنی میں بھیجا تھا۔وہاں پر ماہانہ تنخواہ پندرہ ہزار تھی اور اس سے چوبیس چوبیس گھنٹے سائٹ پر کام لیا جاتا تھا۔

وہ مجبوری سمجھ کر ملازمت کرتا رہا اور اسی دوران اسے شدت سے احساس ہوا کہ کسی طرح گورنمنٹ کی نوکری مل جائے تو وہ اس عذاب سے شاید نکل آئے۔ وہ کام کے ساتھ ساتھ پی پی ایس سی (PPFC) اور ایف پی ایس سی (FPSC) کے امتحانات کی تیاری میں مشغول ہو گیا۔

اس دوران اس نے واقعی محنت سے کام بھی کیا اور امتحان کی تیاری بھی کی۔ وہ دو گورنمنٹ کے امتحانات میں پاس ہو گیا، اب بس انٹرویو باقی تھا۔ وہ خوش تھا کہ اب وہ نوکری حاصل کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

انٹرویو کے دن وہ سب لوگوں کو دیکھ رہا تھا جو کہ تھری پیس سوٹ میں آئے ہوئے تھے۔ جب کہ اس کے پاس تو بس سادہ سا قومی لباس تھا۔ وہ سب اسے پینڈو سمجھ رہے تھے اور جب وہ اندر انٹرویو کے لیے گیا تو اُنھوں نے بھی اسے پینڈو سمجھ کر نظر انداز کردیا۔پھر نتیجہ وہی آیا جس کی اُمید تھی؛ وہ دونوں انٹرویو میں فیل ہو گیا تھا۔وہ اندر سے بہت اداس تھا، اس کا خواب بکھر گیا تھا، وہ جو چاہتا تھا وہ اسے نہیں مل پایا تھا۔

 دوستوں نے اسے دلاسہ دیا کہ میاں ہم جیسے لوگوں کے لیے گورنمنٹ کی ملازمت نہیں ہے یہ تو سفارش اور پیسے والے لوگوں کے لیے ہے۔ اس لیے اس پر مایوس مت ہو اور زندگی میں کوشش کو جاری رکھو۔ ایک دن ایسا آئے گا جب تمھیں محنت کا پھل ضرور ملے گا۔

وقت گزرتا رہا اور وہ کام میں مشغول رہا۔وہاں پر انجینئر کی نسبت عام آدمیوں کو زیادہ اہمیت حاصل تھی وہاں اسے بس ایک ہی بات سننے کو ملتی کہ تمھاری اس کمپنی میں کوئی جگہ نہیں، بہتر ہے تم کسی اور کمپنی میں چلے جاؤ ورنہ پوری زندگی 15000 پر ہی رہو گے۔

آج اسے کام کرتے کرتے تین سال ہو گئے تھے کوئی بھی انسان اپنا علم کسی سے بانٹنا نہیں چاہتا تھا، ہر کوئی یہ سمجھتا تھا کہ اگر اسے کچھ پتا چل گیا تو وہ ہم سے آگے بڑھ جائے گی۔

جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا اس کی مایوسی حد کو چھوتی جا رہی تھی۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر اپنی سی وی آن لائن نوکری کے لیے شیئر کرے گا۔ ایک ہفتے تک وہ اپنی سی وی ہر اس ویب سائٹ پر ڈالتا رہا جس کی اسے تشہیر نظر آتی۔

مہینہ گزر گیا تھا اور وہ اب بھی اس انتظار میں تھا کہ شاید کہیں اسے کوئی ای میل ملے اور وہ دوڑ کر دوسری ملازمت کو جوائن کر لے۔ ایک دن اسے اچانک فون پر کال آئی۔

”جی ہم لاہور سے بول رہے ہیں ہمارے کلائنٹ کو بیرونی ملک کے لیے سول انجینئر چاہیے آپ دو دن تک ہمارے اس پتے پر انٹرویو کے لیے آ جائیں۔“

وہ بہت خوش تھا اور بے چین بھی۔وہ اپنے لیے اسے موقع سمجھ رہا تھا۔ آخر کار انٹرویو کا وقت آگیا اور اس کے تین سال کے تجربے اور گورنمنٹ امتحانات کی تیاری نے اسے اچھے انٹرویو کے قابل بنا دیا تھا۔ اسے باہر کی کمپنی کے لیے چن لیا گیا۔

وہ دیہات سے تھا اس کی ماں اس بات پر راضی نہ تھی کہ اس کا بیٹا اپنے ملک سے باہر جا کر کام کرے لیکن اس کے والد کے سمجھانے پر اور گھر کے حالات دیکھ کر سب راضی ہو گئے اور یوں وہ اپنے ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں روزی کی خاطر پہنچ گیا۔

اس نے نئی کمپنی کو جوائن کر لیا تھا لیکن وہ یہ دیکھ کرحیران تھا کہ اس کا ملک تو اس نئے ملک کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔ ان کا رہن سہن، صفائی، انفراسٹرکچر اور لوگوں کی تعلیم اور محبت سب اپنی مثال آپ تھی۔

وہ اپنی نئی کمپنی کے ماحول کا بغور جائزہ لےرہا تھا۔یہ ایک گھر جیسا ماحول تھا اور سب کے سب لوگ ایک دوسرے کو کامیاب دیکھنا چاہتے تھے۔ ہر انسان اپنے کام سے دلی لگاؤ رکھتا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی اس فیملی کا حصہ بن گیا تھا۔

وہ حیران تھا کہ اسے اپنے ملک میں تو ایسے احساسات نہ ملے تھے۔ وہ اپنے پیشے میں پہلی مرتبہ دلچسپی لینے لگا تھا۔ اسے شاید وہ ماحول مل رہا تھا جو اسے آگے بڑھنے میں مدد دے رہا تھا اور اسے اس بات کا احساس دلا رہا تھا کہ اس کے پیشے کا اصل مقصد پیسے کمانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کرنا اور ان کے لیے سہولیات کو مہیا کرنا ہے۔

آج اسے ایک سال مکمل ہو گیا تھااور وہ وقت کے ساتھ اپنے آپ کو کامیاب دیکھ رہا تھا۔ ہر گزرتے دن میں اسے نئے ہنر سکھائے جا رہے تھے۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے لوگ اس کی مکمل مدد کر رہے تھے ہر انسان ایک مقصد پر یقین رکھ کر آگے بڑھ رہا تھا اور اپنا علم دوسروں کو دینے میں فخر محسوس کر رہا تھا۔

That’s the end of the free sample

You have read 30% of زیرو سے ہیرو ؛ سول انجینئر / Zero se Hero; Civil Engineer- Civil Engineering Book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Mudassir Majeed earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 300

See all editions, reviews and details

زیرو سے ہیرو ؛ سول انجینئر / Zero se Hero; Civil Engineer- Civil Engineering Book Buy — Rs 300