Check out our most recent publications
ِاِک پرِ خیال / Ik Par e Khyal- Reflective Poetry Book About Life
Free sample · no sign-up

ِاِک پرِ خیال / Ik Par e Khyal- Reflective Poetry Book About Life

by Muneera Qureshi

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

اِک پرِ خیال

------------------------

منیرہ قریشی

٭٭٭

 

انتساب

”استادِ محترم پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کے نام!“

(جنھوں نے تصورِ ترجیعء اوّل و آخر راسخ کیا)

٭٭٭

 

”اللہ کو مان لینے کے بعد حیرت نہیں رہتی،تشکر اور انکسار رہ جاتا ہے۔“

پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب

 

”تمہاری روح کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی مرض نہیں کہ تم خود کو کامِل سمجھنے لگو۔“

رومیؒ

٭٭٭

 

”پیارے والد ظفرالحق اور والدہ عزیزہ بیگم (مرحومین) کے درجات بلند ہوں کہ، جن کے ذوقِ مطالعہ نے چند لفظ لکھنے کا سلیقہ دیا۔“ (الحمد للہ)

٭٭٭

ترتیبِ مضامین         

کوڈ. 9

ہار اورہتھکڑی.. 11

بُودا جواب... 13

شرم یا احساسِ کمتری.. 14

نیند اور اُمید... 16

کارکن چیونٹیاں.. 18

انشائیہ، شکریہ. 21

تاریخ (تاریخِ دنیا یا تاریخِ جذبات). 24

مہربان مہربان موت... 28

صبر کی مٹھاس.. 32

سود و زیاں (ذرا سوچیں!). 35

نوحۂ عید... 37

سیڑھی... 39

صفات... 42

متکبر اور مستقبل....... 45

بارش.. 50

بند رَوزن.. 53

کچھ گھنٹے، کچھ دن.. 55

وجودِ خاکی  (اپنے والد کی بیسویں برسی کے موقع پرانھیں خراجِ تحسین). 57

سکرپٹ... 67

سپیشلسٹ یعنی ماہرین.. 71

میلہ.... 74

نوحہ (١٦ دسمبر ٢٠١٤ء آرمی پبلک سکول کے شہداء پر). 78

غرض یا صِلہ... 83

پرچہ پرچی.. 85

مینا بازار. 88

مور. 92

سخاوت.. 95

لمحۂ اچانک کا وار. 99

عالی نسب یا خاندانی. 102

سُقراط؟ارسطو، یا جبران.. 106

پوٹلی.. 111

دُعا۔۔۔آن پے منٹ.... 115

عنوان.. 117

ہجرت (منیٰ جاتے سمے). 120

چاشنی... 124

ستاروں پر کمند... 128

سُر کہاں کہاں، سُر توہر جا. 132

ٹھہراؤ. 135

جائزہ تو لیں (عالمی وبا کرونا کے تناظر میں). 138

تعزیت (کرونا لاک ڈاؤن کے دوران). 141

نیا اعلان (کرونا لاک ڈاؤن کے تناظر میں). 144

تاریخ ہی تاریخ (حصہ اوّل). 146

تاریخ ہی تاریخ (حصہ دوم). 150

اِکتارا 153

تھکن.... 156

معیارِ محبت.... 158

پنجرے (لاک ڈاؤن کے دوران). 160

انعام. 162

شاید. 165

(کووڈ ١٩ کے تناظر میں ایک سوچ). 165

بہاریہ پیغامات... 167

ویکسینیٹڈ (کروناکے تناظر میں). 170

سلطنتِ معصومیت.... 173

لمحے نے کہا (ایک تاثر). 180

فطرت کرتی ہے نگہبانی. 183

رازِ نہاں.. 186

عزت کی سنبھال.. 189

اِک پرِ خیال.. 194

٭٭٭

 

کوڈ

”تمھارا بینک کون سا ہے؟اے۔ٹی۔ایم، لاکر، ای۔میل، کمپیوٹر، اورتمھارے گھر کے تالے کا کیا کوڈ ہے؟“

”میں کیوں بتاؤں، یہ کوئی پوچھنے کی باتیں ہیں“!

”چلوہم معلوم کر لیں گےاب تو بہ آسانی کر سکتے ہیں، بہت سے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔“ تب اندر کی چاروں سمتوں پر خدشات، گمان، خوف اور، بدظنی نے مورچے سنبھال لیےاور وہ جم کر ان دروازوں پر بیٹھ گئی۔یہ منہ چڑاتے بد گمان دروازے بند ہیں، جس نے پوچھا اس کے لیئے بھی اور جس نے نہیں پوچھا اس کے لیئے بھی۔یہ رویہ بے زار کر گیا۔

مگر کیا میرے”خیالوں“کا کوڈ یہ جان پائیں گے؟

شکر ہے، بس ”وہ“ میرا یہ کوڈ جانتا ہے۔پھر بھی کوئی بلیک میلنگ نہیں، کوئی دھمکی نہیں۔نہ دوسروں پر عیاں ہونے کے خدشات، نہ زور نہ زبردستی۔ایسا راز دار کہ موقع دیتا چلا جاتا ہے خیالوں کے خزانے کو چمکانے کا، خود کو خود سے جانچنے کا اوراپنے رازوں کو سنبھالنے کا۔حالانکہ وہ میرا ہر کوڈ جانتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہےکہ میرے بندے”کوڈ ز“کے حصار میں پھنس چکے ہیں، انھیں مارجن دیا جانا چاہیے، میں انھیں موقع دیے چلا جاؤں گا۔

کیسا بہترین راز دار ہے، کتنا زبردست پردہ پوش ہے!

(15 ستمبر2018ء)

 

ہار اورہتھکڑی

میں تقریب میں جانے کے لیئے نِک سِک سے سج چکی ہوں، کانوں میں چھوٹے بُندےہیں، ہاتھوں میں انگوٹھیاں ہیں لیکن گلے کی زنجیر اور ہاتھ کے بینگل نہیں پہنتی۔جب بھی کوئی پوچھتا ہےکہ یہ دو زیور کیوں پہنتی ہو؟اور وہ دو کیوں نہیں پہنتیں؟تومیں جو جواب دیتی ہوں وہ دوسرے کے لیئے قابلِ قبول نہیں ہوتا۔کہتی ہوں، ”بھئ کان اور ہاتھ تو شاید بنے ہی اس لیے ہیں کہ انھیں سجا دیکھنا آنکھوں کی مجبوری ہے۔شاید انھیں عادت ہو چکی ہےکہ نظر پڑتے ہی لگتا ہے، ”کچھ کمی ہے ان انگلیوں میں“۔بھلے وہ پیتل کی انگوٹھیاں ہوں۔اسی طرح آئینہ دیکھتے ہی کانوں میں جھولتے بُندے تسلی دیتے ہیں کہ، ”ہاں اچھی لگ رہی ہو“۔بھلے بُندے پلاسٹک کے ہوں۔

جبکہ عورت کے گلے میں لٹکا ہار میڈل لگتا ہے۔جیسے، ”تم بہت بہادر ہو!تم سب کام کر سکتی ہو!تمھیں ہر جذبۂ ظاہر و باطن کے محاذ پر قابو پانا آتا ہے۔واہ!تم حق دار ہو اس میڈل کی، لو!اب سےیہ اور باقی سبھی کام تمھارے ذمے۔“

بینگل یا کڑےایک خوبصورت ہتھکڑی کی مانند ہیں، ایسی ہتھکڑی جو مرد کی توجہ کامظہر ہو، ایسی ہتھکڑی جو اس کے سٹیٹس کا سمبل ہو، اورایسی ہتھکڑی جو جس عورت نے پہنی خوشی سے پہنی اور ”جب یہ ہتھکڑی خوشی سے پہن لی تو ”من تُو شدی“ کا راگ دہراتی، محبت اور خدمت کی پیکر۔۔۔ یہ ہستی اپنے پچھلے سبھی رشتوں کو چھوڑ کر ان ہتھکڑیوں کے پہنانے والی کی اردل میں پہنچ جاتی ہے۔“

مجھے یہ خوبصورت قید کا بندھن، یہ خوبصورت دائرے قبول ہیں۔۔۔!

(نقطۂنظر اپنا اپنا)

(16ستمبر2018ء)

بُودا جواب

تو یہ ہے تمھارا کمرہ ہے، تم اکیلی سو لیتی ہو؟ڈر نہیں لگتا؟

 اکیلی کہاں ہوتی ہوں۔دائیں جانب کچھ نیکیاں منہ چھُپائے بیٹھی ہوتی ہیں لیکن کسی کلام کے بغیر مجھے ڈسٹرب کیے بنا۔بائیں جانب کچھ گناہ بیٹھے ہوئے ہیں دانت نکوستے ہوئے، متکبر انداز سے کلام کی اجازت مانگتے رہتے ہیں۔

پائنتی میں ایک اداس نفس بیٹھا ہی رہتا ہے۔نظر ڈالوں تو ایک آنسو ٹپک کر چہرے پر پھیل جاتا ہے، عجب بے بسی اس کے چہرے پر چھائی رہتی ہے۔سرہانے دو”ارقم“اب تک کی روداد روزانہ سناتے ہیں اور چل چلاؤ کا پروانہ بھی دکھاتے رہتے ہیں، لیکن میں روز کہتی ہوں، ”کچھ وقت اور دو، ابھی بہت کام پڑے ہیں۔“وہ زیرِ لب مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں، ”ایسے ہی الفاظ بولنے والوں سے یہ اندرونِ قُرصِ ارض بھرا پڑا ہے، یہ سب ہی بڑے مصروف لوگ تھے۔“

اپنے کمرے میں اکیلی کہاں ہوتی ہوں، مجھے تو تنہائی کی سخت ضرورت ہے۔یہ وجود جو موجود رہتے ہیں اور ان کےمکالمے، تنہائی کہاں ہے؟ڈر کیسا؟

(17 ستمبر 2018ء)

 

شرم یا احساسِ کمتری

میں یہ جملے کسی کو نہیں کہہ سکتی/سکتا۔مجھے شرم آتی ہے۔

میں اب وہی جوڑا اِسی گھر کے فنکشن میں پھر پہنوں، میری تو بےعزتی ہے۔میں کسی کے سامنے نہیں جا ؤں گی/گا مجھے تو شرم آرہی ہے۔

میں اپنی سہیلیوں/دوستوں کو اِس ڈرائنگ روم میں کیسےبلا سکتی/سکتاہوں جس کی ہر چیز بدلےجانے لائق ہے، مجھے تو شرم آرہی ہے۔

میں اُس تقریب میں کیوں جاؤں؟وہاں میرا کوئی واقف ہی نہیں، مجھے بور نہیں ہونا، اور پھرمجھے تو ایک دفعہ ہی انھوں نے بلایا ہےدوبارہ کہا ہی نہیں۔مجھے تو شرم آئے گی۔

آپ کمرے میں ہی رہیے گامیری سہیلیاں/دوست گھر میں آرہے ہیں۔ایک تو ہمارے گھر کے لوگ بہت باتیں کرتے ہیں، مجھے شرم آتی ہے۔

ہمارے گھر کی گاڑی اتنی پرانی ہےکہ بیٹھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

یہ شرم نہیں، احساسِ کمتری کے بدترین انداز ہیں۔

سوچ کے تنگ دائروں میں گھومتے لوگ بھلے بڑے گھر میں رہیں، بڑی کار میں گھومیں، بہترین لباس پہنیں، تب بھی وہ کوئی اور ایسی بے کار وجہ تلاش کر لیتے ہیں جس میں یہ جملہ شامل ہو جائے”مجھے بہت شرم آرہی ہے“۔احساسِ کمتری، دراصل احساسِ نفاست اور احساسِ انفرادیت سمجھ کر”پیش“کیا جاتا ہے تاکہ”ہم“کے لفظ کو مطمئن کرنے کا جواز بن جائے۔ان بے کار سوچوں کے دائروں میں کولہو کے بیل کی طرح گھومتے گھومتے سر کے بالوں کا رنگ سیاہ سے سفید ہو جاتا ہے لیکن شرم کے لیئے وہی بُودی توجیہات دہرائی جاتی ہیں۔دوسروں کی طرف حقارت کی انگلی اُٹھائے معاشرے میں”ہم“کے لفظ کی تکرار بندے کو کتنا”نَکو“بنا دیتی ہے، کسی کو سمجھ آجائے تو اس کے لیئےشرم کا مفہوم بدل جائے۔شرم اُتنی کریں جتنی آ رہی ہو، اور شرم کرنی ہے تو صرف تمیز و آداب کے”نہ“آنے پر کریں۔

خود اعتمادی سے جئیں اوراپنی محنت کی کمائی کی ہر چیز پر فخر کریں۔برینڈز کی عینک اتار پھینکیں جینا بہت آسان ہو جائے گا اور آپ ہلکے پھُلکے ہو جائیں گے، ”پَر“کی طرح!

(18ستمبر2018ء)

 

نیند اور اُمید

بہت سٹریس ہے، کام کے بوجھ نے تھکن سے چُور کر دیا ہے۔اُس کی دل جلی باتوں پر مجھے اس قدر غصہ تھا کہ غصے سےجسم لرز رہا تھا۔آج محفل میں اتنی گرما گرمی ہوگئی کہ کنپٹیاں ابھی تک تڑخ رہی ہیں۔جونہی اس نے الزام تراشی شروع کی تم نے مجھے کیوں روکا۔۔۔میں اسے یہ اور یہ جواب دیتی تو چُپ کرا کے رکھ دیتی۔اسے جواب نہ دے سکنے کے غم نے مجھے مزید ڈپریس کر دیا ہے۔

آہ!غم نے دل پارہ پارہ کر دیا ہےاور آنکھ سراپا آنسو بنی ہوئی ہے۔نہ بھوک لگ رہی ہے، نہ پیاس، ہر ا حساس سے جسم سُن ہو چلا ہے۔پتہ نہیں کب اس کیفیت پر قابو پا سکوں، شاید کبھی نہیں۔۔۔غم بھی توکوئی چھوٹا نہیں۔کسی اپنے کا یوں ہمیشہ کے لیئے بچھڑ جانامعمولی بات تو نہیں، جانے کب صبر آئے۔اُف، اتنی بےعزتی!میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسے گھٹیا اور گندے الفاظ اپنی زندگی میں سننے پڑیں گے، میری تو راتوں کی نینداڑ گئی ہے۔

قرض کیسے ادا ہو گا؟یہ فیسیں، یہ بلز، کیسے ادائیگی ہو گی؟فکر سے دماغ نے تو جیسے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔اب علاج کہاں سے کرائیں ہاتھ ہی اتنا تنگ ہے۔یہ اولاد تو ہے ہی نِری آزمائش، لائق ہوتی تو لوگوں کے طنزتو نہ سہنے پڑتے۔انسانی جسم، روح، جذبے، احساسات اور تفکرات کے بھنورکی گھمن گھیری میں چکرا کر رہ جاتے ہیں، لیکن یہ انسان ہی ہے جو پھر بھی زند گی سے چمٹا رہتا ہےکیونکہ باطنی طورپر”اُمید“سے اور جسمانی طور پر”نیند“سے توانائی اورہمت پا لیتا ہے۔

اُس خالق نے اپنی اِس تخلیق کے اندر”نیند“کا وہ پینڈولم فکس کر رکھا ہےجو چُور چُور اور ریزہ ریزہ وجود کو پھر ثابت کر ڈالتا ہے۔بس اِک ذرا نیند کے پینڈولم نے آنکھیں بند کروائیں اور چند گھنٹے کی نیند نے پھر ہر کڑوے، میٹھے، کھٹےاورکھاری حالات سے نبرد آزما ئی کی طاقت دے ڈالی۔جیسے کسی نے جسم میں”ملٹی وٹامنز“کا مرکب انڈیل ڈالا ہو۔ایک گہری نیند کا جھونکا باطن کی گرد آلود”اُمید“کی گرد کو اُڑا دیتا ہے۔سوچتی ہوں دنیاوی نیند اتنا تازہ دم کر دیتی ہے تو ہمیشہ کی نیند کیسا مزہ دے گی۔

شکریہ پیاری نیند!شکریہ۔

(19 ستمبر2018ء)

 

کارکن چیونٹیاں

اللہ کی اس ننھی منی مخلوق کو جب دیکھتی تو کتنی ہی دیر دیکھتی چلی جاتی۔وہ لا علمی اور ناسمجھی کا دور تھا اور ان سے متعلق کوئی معلومات نہ تھیں۔کبھی کبھی ان کی ترتیب سے چلتی قطار کے آگے پنسل سے لکیر کھینچ دیتی تودونوں سائڈ کی چیونٹیاں لمحے بھر کو ٹھٹک کر جائزہ لیتیں کہ یہ کیسی رکاوٹ ہے، پھرسونگھ کر، فیلرز ہلا ہلا کر، اور ذرا سی ترتیب بدل کردوبارہ اپنی راہ چلنے لگتیں۔کچھ دیر یہ نظارہ دلچسپ لگتا۔بہت بعد میں اس مخلوق سے متعلق حیران کن آگاہی ہوئی کہ یہ تواندھی مخلوق ہے۔ان کی سونگھنےاورمحسوس کرنے کی حِس اتنی تیز ہے کہ اپنے سے ٥/٧ گز دور مطلب کی چیز تک پہنچ جاتی ہےاور یہ اپنےجسم سے ٨ گنا وزن اُٹھا کر بِل میں لے جا رہی ہوتی ہیں۔یہ اپنے علاقے، اپنے گھر اور اپنی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہوتی ہیں۔یہ مزدور یا کارکن چیونٹیاں، بغیر کسی لالچ کے دن رات”کام کام اور کام“کرنے میں جُتی رہتی ہیں۔اپنے گھر کے اندر پہنچ جانے والی چیزوں کو سٹور کرتی ہیں اورانھیں محفوظ رکھنےکےلیئے سردیوں گرمیوں میں کمروں کو ایسے اینگل سے بناتی ہیں کہ وہ بالترتیب ٹھنڈے اور گرم رہیں، ملکہ کی دیکھ بھال کرتی ہیں، انڈوں کو سنوارتی ہیں، اور گارڈز چیونٹیوں، جو اندر آنے کےلیئےکوڈز کے ذریعےاجازت مانگتی ہیں، سے کوڈ دریافت کرتی ہیں(کوڈ غلط تو آنے والا جان سے گیا)اور یہ سب کام نہایت تندہی سے، بنا کسی تھکن کی شکایت کیےکیاجاتاہے۔

چیونٹیوں سے متعلق ایسی آگاہی کے بعد مجھے”عورت اور چیونٹی“میں بہت مماثلت لگی۔ایسی سب خصوصیات تو عورت میں بھی پائی جاتی ہیں، چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتی ہو۔والدین، بہن بھائی، شوہر، اور بچے، عورت ان سب کی”محبت میں اندھی“ہوتی ہے۔اپنے آرام کو تج کراور صحت کو نظرانداز کر کےوہ گھر کی صفائی ستھرائی کرتی ہے، پکوان گھر کے افراد کے مزاجوں کے مطابق تیار کرواتی ہے، سردیوں گرمیوں کے کپڑوں کو دھوپ لگواتی ہے، اور سٹور کی اگاڑ پچھاڑکواپنا فرض بنائےرکھتی ہے۔

گھر آنے جانے والے کی منفی یا مثبت اور سجن یا دشمن کی نظروں کو پہچان کر اس فرد کو”ڈی کوڈ“کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے، بھلے اسے اس کوشش میں ناکامی کیوں نہ ہو۔وہ گھر کواور اس کے ہر فرد کو ہر نقصان سے بچانے کی سر توڑ جدوجہد کرتی چلی جاتی ہے۔اس کے اندر بھی قدرت نے”حساس فیلرز“لگا رکھے ہیں۔کمزور ہونے کے باوجود، باطن کی مضبوطی اسے اگلی ناپسندیدہ قوت سے بھِڑ جانے پر آمادہ کر لیتی ہے۔واہ!عورت بھی کیا منفرد مخلوق ہے چیونٹی ہو یا عورت، ہر لمحہ”آن ڈیوٹی“نظر آتی ہے۔سوتے میں بھی عورت کا دماغ اپنوں کی فکر میں متحرک ہوتا ہے۔وہ زندگی کی آخری سانس اوراپنی آخری بات میں بھی”جُڑے رہنے“کا کہتی ہے۔عورت چاہے غریب ہو، متوسط طبقے سے ہو یا خوشحال گھر سے، اس کے اوصاف چیونٹیوں کی طرح شدتِ جذبات اورواضح فراست ِ فہم ہوتےہیں۔بظاہر موم، بہ باطن چٹان!کوئی صلہ، کوئی معاوضہ نہیں۔کیا مماثلتِ مخلوق ہے!اللہ کی قدرت حیران کر دینے والی ہے۔

(23ستمبر2018ء)

 

انشائیہ، شکریہ

اُردو ادب کی بے شمار جہتیں ہیں لیکن ہر ادیب ناول کے سمندر کا شناور نہیں ہو سکتا۔نہ تو ہر لکھاری افسانوں اور ناولٹ کے میدان کا شہ سوار بن سکتا ہے، نہ ہی ہرقلم کارآپ بیتی لکھنے کی تکنیک میں ماہر ہوتا ہےکہ واقعات کے تسلسل کی روانی اور دلچسپی کواس طرح برقرار رکھ سکےکہ قاری کے لیئے ان واقعات کی گرفت سے خود کو نکالنا مشکل ہو جائے۔

لکھنے کی چاہت رکھنے والےانسان اکثرطویل ابواب کو نہیں سنبھال پاتےتھےاور یوں کئی تحاریرگوشۂ گمنام میں رہ جاتی تھیں۔ایسے میں مختصر نویسی نے اپنا جلوہ دکھایا اور لاتعداد ایسے قلم کاروں کا جُھنڈ سامنے لے آئی جنھیں ایسےہی کسی میدان کی ضرورت تھی۔یوں اردو ادب میں”انشائیہ“کا آغاز ہوا اور حیرت انگیز طور پر اس کی بہت پذیرائی بھی ہوئی۔

انشائیہ دراصل ایک بندے کی سوچ کا وہ لمحہ ہوتا ہے جو کسی منظر، شخصیت، یا واقعہ کو دیکھنےپراس کے ذہن میں آتی ہے، جسےوہ کچھ دیر تکتاہے اور پھر اس پر غور کرکےسیرِ حاصل اثر لیتے ہوئے آگے قدم بڑھا دیتا ہے۔یہ کیفیت کچھ عالمانہ، کچھ فلسفیانہ، اور کچھ مجذوبانہ جذبات سے ایسے معمور ہوتی ہے کہ مصنف کےخیال، سوچ، اور نظریےکامنفردوانوکھا اینگل پڑھ کر قاری چونک جاتا ہے۔انشائیہ کا لکھاری اپنے باطن کے حساس لیول کو بھی چوکنا رکھتا ہے، اسی لیے کبھی کبھی اس پر کسی خیال کی”آمد“ہوتی ہے۔اس سے پہلے کہ وہ خیال تارے جیسی چھَب دکھا کرمعدوم ہو جائے، لکھاری اسے لفظوں اورجملوں کی صورت قیدکردیتا ہےاور پھر اپنی اس تخلیق پر ایسی ہی نگاہ ڈالتاہےجیسے ماں اپنے نومولود بچے پر ڈالتی ہے؛فخر اور محبت سے بھری نگاہ۔لکھاری کی ایسی تخلیق اکثر دریا کو کوزے میں بند کر دینے کے مترادف ہوتی ہے۔وہ اسے کچھ عرصہ سنوارتاو نکھارتا رہتا ہے لیکن مطمئن نہیں ہوتا۔آخر کار وہ دوسروں کے سامنے پڑھے جانے کے لیئے پیش کر دی جاتی ہے، تب لکھاری کو اپنی یہ مختصر لیکن مکمل تحریر کچھ زیادہ ہی مکمل محسوس ہوتی ہے۔اس لیے کہ اسے اپنا مافی الضمیر مختصر طریقے سے کہہ دینے کا میدان اورحوصلہ مل گیا۔

انشائیہ ایسے ہی محبت، درد، اور انوکھے پن کے لمحوں کو تحریر میں ڈھالنے کا نام ہے۔اسے اردو ادب میں جس نے بھی متعارف کرایاوہ یقیناًخوبصورت ذہنی اُپچ کا مالک ہو گا اور جرات کا مظہر بھی۔اس کا شکریہ۔انشائیہ چند منٹوں کے لیئے اپنے قاری کو گرفت میں تو رکھتا ہی ہےساتھ ساتھ معلومات اور ادبی ذوق بھی بخشتاجاتا ہے۔

تخلیق چاہے سیاہ ہو یا سفید، گرے ہو یا گلابی، نیلی ہو یا پیلی، لکھاری اسے دیکھ کر خوش بھی ہوتاہے اور اپنی صلاحیتوں کا معترف بھی۔یوں اس کا اپنی ذات پر اعتمادبڑھتا ہے اور بامقصد زندگی کا اشارہ بھی مل جاتا ہے کہ اللہ کی ایک تخلیق تو وہ خود ہے اور اِس کی اپنی تخلیق یہ مختصر تحریر، جسے دوسروں کو دکھانے کا حوصلہ اسے ملاہے۔اسی لیے کہہ رہی ہوں”انشائیہ، شکریہ!“

یہاں ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ مجھے کچھ انشائیہ کی کتب پڑھنے کو ملیں تو کچھ نے متاثر کیا اورکچھ نے کوئی اثر نہ دیا۔فیس بک پر ڈاکٹر شارق کی”انشے سیریز“جب تحریر اور ریکاڈنگ کے ساتھ ملیں تو جیسے انشائیہ کی محبت بیدار ہو گئی۔دلچسپ، معلوماتی، اور اقدار کے پہلو کو مدِ نظر رکھتے ہوئےاس سیریز سے بہت کچھ سیکھا۔وہ سب صاحبانِ انشائیہ کا جن سے بعد میں آنے والوں نے بہت کچھ سیکھا۔

(24ستمبر2018ء)

 

تاریخ
(تاریخِ دنیا یا تاریخِ جذبات)

مجھے تاریخِ دنیا پڑھنا پسند ہے۔تاریخِ یونانی، مصری، ہندوستانی، یورپ یا اسلامی جو مل جائے۔کوشش ہوتی ہے کہ کتاب خرید لوں یا مانگ کر پڑھ لوں۔شاید تاریخ سے محبت ہونے کی وجہ سے ہی پرا نی چیزیں، پرانی دوستیاں اور پرانی یادیں میری کمزوری ہیں۔بھلے وہ چیزیں قیمتی ہوں یا معمولی، یادیں تلخ ہوں یا شیریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔البتہ ہسٹری کی کتاب”پھر کیا ہوا“کے سحر میں مجھے جکڑ لیتی ہے اور ختم کرنے کے بعد، یاسیت، بے وقعتی اور اُداسی شدت سے حملہ آور ہوتی ہے۔ساتھ ساتھ دنیا کی بےثباتی اور کم مائیگی کا احساس اور بڑھ جاتا ہے۔

 بخت نصر کی تاراجیوں کا پڑھوں تو لاتعداد لوگوں کا خاتمہ اوربےشمار عالی نسب و اعلیٰ دماغ لوگوں کی تذلیل اداس کردیتی ہے۔یونانی تاریخ دیکھوں توپتاچلتاہے کہ کس طرح خوبصورت اورحسین خاندان بیرونی حملہ آوروں کی زد میں آئےاوران کے محلوں کی شہزادیوں کو رکھیل بنا کر ان کے محافظ مرد تہہ تیغ کر دیے گئے، پھرمصر کی تاریخ تو تھی ہی غلاموں کی بہترین”نرسری“۔ہند کی تاریخ میں تو بیرونی اورغیرملکی حُسن کی آمیزش سے اپنے ہاں کے سانولےاورنمکین پن کوحسن میں مزید نکھار کا باعث سمجھا گیا اور اعلیٰ نسب لڑکےلڑکیاں بکاؤ مال یا تحائف کی صورت پیش کیے جاتے رہےہیں۔ایسے جیسے یہ سب انسان نہیں ہیں یا کم ازکم ان کے کوئی احساسات وجذبات نہیں ہیں۔

اتنے اعلیٰ دماغ، اتنی خوبصورت سوچ اوراتنے عالی مرتبت اعما ل، اوراعلیٰ ذوقِ سلیم رکھنے والوں کو فطرت کے قوانین کیوں پیس کر رکھ دیتے ہیں؟یہ سب کیا ہے اور کیوں تاریخ میں ملکوں کو فتح کرنا اور انھیں ملیا میٹ کرنا کارنامہ قرار دیا گیا ہے؟

That’s the end of the free sample

You have read 12% of ِاِک پرِ خیال / Ik Par e Khyal- Reflective Poetry Book About Life. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Muneera Qureshi earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 500

See all editions, reviews and details

ِاِک پرِ خیال / Ik Par e Khyal- Reflective Poetry Book About Life Buy — Rs 500