12% of the book — free to read

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢١ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز,، پاکستان
٭
مدیرہ
نرمین سرھیو
__
سرورق کے جملہ حقوق شان علی کے نام محفوظ ہیں
یہ گول روٹی میرے شوہر کے نام!
گول روٹی کی طرح جلال آباد کا یہ چال بھی گول تھا۔ یہاں دیوار سے جڑی دیوار تک میاں عبدللہ کے کھانسنے کی آواز یوں معلوم ہوتی تھی جیسے ہارمونیم پر چلتیں انگلیوں کا مقابلہ کر رہی ہو۔ وہ ایک راگ لگاتے اورشائستہ کئی لمحے اُن کی کمر پر ہاتھ پھیرتی رہتی پر مجال ہو جو ہارمونیم سے ہاتھ ہٹ جائے۔ میاں کاخراخراہٹ کا ساز بجتا رہتا۔ اب چال کےتمام افراد بھی اُن سے چِڑنے لگے تھے۔ پر وجہ ہارمونیم یا اُن کی موسیقی نہیں تھی۔ بس اُن کے نخروں کے سبب کنواری شائستہ بائیس کی ہو گئی تھی۔۔۔ اِکیسویں عمر تک نہ اُسےآٹا گوندھنا آیا تھا نہ گول روٹی بنانی۔ میاں کی زوجہ کو گزرے بھی عرصہ ہو گیا تھا ورنہ یہاں تک نوبت ہی نہ آتی۔ وہ گھنٹوں حمیدہ خالہ کے پورشن میں گھس کر باپ کی ضد پر کھانا بنانا سیکھتی جس میں اب وہ کافی حد تک ماہر ہو گئی تھی۔ اب بس گول روٹی رہتی تھی جس کے پیڑے سے لے کر بیلنے تک وہ بالکل اناڑی تھی۔ نہ جانے کون کون سے ملکوں کے نقشے وہ رومال میں رکھ کر میاں کو دیتی تھی کہ وہ بھی اِن ملکوں کی سیاحت کے قصے لوگوں کو بتاتے نہ تھکتے تھے۔ چال کے لوگ تو خیر گھر والوں جیسے تھے، میاں تو شائستہ کے لیےآئے رشتوں کو بھی اُس کی روٹی کی گولائی کے قصے سنا کر چلتا کر دیتے تھے۔ نہ وہ اپنے گھر کسی کی پھوہڑ بیٹی لانا پسند کرتے تھے نہ ہی اپنی نکمی شائستہ کسی کے گھر بیاہانہ۔ شاید اُن کی یہی ایک خوبی تھی کہ وہ دوسروں کے بارے میں بھی اچھا سوچتے تھے۔ پر شائستہ کا کیا؟ وہ تو انھیں اپنا دشمن سمجھنے لگی تھی۔
جب بھی چال کے کھلے میدان میں شہنائی بجتی اُس کا دل بیٹھنے لگ جاتا تھا۔ فائزہ، خدیجہ، رابعہ اور نمرہ کے تو بچے بھی ہو گئے تھے۔ اب اُس کی روٹیاں صرف مایوسی میں ٹیڑھی بنتی تھیں۔ وہ لاکھ جتن کر لیتی پر نہ خود کو تسلی دے پاتی نہ میاں کا دل جیت پاتی۔ چال والے بھی باتیں بنانے لگے تھے۔ پہلے کچھ برس تو سب نے میاں کی اُلٹی دُم سیدھی کرنا چاہی پر تھک کر خودہی ہار مان لی۔ وہ اس مسئلے میں کسی کی نہیں سنتے تھے جس کے سبب سب کا لگاؤ شائستہ سے اور گہرا ہو گیا تھا۔
"شائستہ باجی آج ریڈیو نہیں لگایا؟" عصمہ اُچھلتی ہوئی اُس کے کمرے میں آ کر ایک دم کہنے لگی تو شائستہ کے ہاتھ سے فریم گر گیا۔ وہ میاں صاحب کی نئی قمیض کے لیے فریم پر کڑھائی کر رہی تھی۔
"خدا کا خوف کرو عصمہ۔ آنے سے پہلے بتادیا کرو۔ جان ہی نکال دی۔۔۔نہیں لگایا۔ تمہیں معلوم توہے میں صرف انور عباسی کا پروگرام سنتی ہوں۔"
"اُف ہو باجی۔ اتنی سڑی غزلیں لگاتا ہے وہ۔"
"تو؟ میں سنتی ہوں نا۔" شائستہ نے سر جھٹک کر کہا۔ بھلا کوئی اُس شخص کے بارے میں ایسی رائے کیسے رکھ سکتا تھا جس کے دن کا آغاذ ہی ٹوٹے دلوں کا دکھ بانٹنے سے ہوتا تھا۔ صرف محبوب کی بے وفائی کا دکھ نہیں، خود کے فیل اور کسی کے پاس ہونے کا دکھ۔ بنے رشتے چھوٹنے کا دکھ تو دل کے رشتے ٹوٹنے کا دکھ۔دنیا جہان کے چھوٹے بڑے غموں کا بوجھ اُٹھائے اِس نوجوان نسل کے دکھوں کی فہرست تو بے حد طویل تھی۔
پر اِن سب پر بھاری بیچاری شائستہ کا دکھ جس کے غم کی وجوہات پر کوئی غزل ہی نہیں بنی تھی۔ رشتہ نہ ہونے کا دکھ۔ ہو کر ٹوٹ جانے کا دکھ۔ گول روٹی کی اُمید میں جوانی ضائع ہونے کا دکھ۔۔۔بس دکھ ہی دکھ۔۔۔۔
"باجی؟ آپ نے کل کا پروگرام نہیں سنا؟"
"ابو کو روٹی بنا کے دے رہی تھی۔ مجھے لگا جلدی سے ایک پھلکا اُتار کر شو سنوں گی پر روٹی پھٹ گئی اور نیا پیڑا لینا پڑا۔۔۔۔ پھر تم تو جانتی ہو بات کہاں چلی گئی ہوگی۔" اس نے تاسف میں سر جھکا کر کہا جیسے دکھ شو چھوڑنے کا نہیں روٹی خراب ہونے کا تھا۔ اِس بات پر عصمہ کاندھے اچکا کر کہنے لگی۔
"ہاں آدھا گھنٹہ تو کہیں نہیں گیا ہوگا۔" اس کے جواب پر شائستہ نے نظریں پھیریں اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ اگر اس کے مغموم دِل کے لیے اگلا سوال تسکین بخش نہ ہوتا تو کبھی نہ پوچھتی۔
"خیر بتاؤ۔۔۔ کیا بات ہوئی پروگرام میں؟"
"کھیلو کراچی کھیلو! کی۔" شائستہ کی نظروں نے عصمہ کا تعاقب کیا جو بڑی چالاکی سے اس کے ابّا کے تخت پوش پر جا بیٹھی تھی۔ وہ وہاں کیوں جا بیٹھی تھی شائستہ باخوبی واقف تھی۔ وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھی اور عصمہ کی پیروی کرتے ہوئے تخت پوش کے دوسرے کونے پر جا بیٹھی۔
"کیا؟ انور عباسی نے غزلیں نہیں سنائیں؟ وہ تو کہہ رہے تھے نسیم بلالی کی غزل لگائیں گے۔" اٹھتے ہوئے کب کڑھائی والا فریم اس کے ہاتھ سے جا گرا کچھ خبر نہ رہی۔
"سنائی تھیں۔۔۔ پر بار بار بیچ میں رک کر 'کھیلو کراچی کھیلو!' کی مشہوری کرنے لگ جاتے تھے۔ میں نے تو بند ہی کردیا۔" اس نے سر جھٹک کر ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔ آج کا چٹپٹا موضوع چال کی کہانیوں کی بجائے انور عباسی کا پروگرام تھا جسے عصمہ جتنا ڈرامائی بناتی تھی شائستہ اتنا ہی ڈرامائی ردِ عمل ظاہر کرتی تھی۔
موقع دیکھتے ہی عصمہ نے بہانے سے ہارمونیم کی طرف ہاتھ بڑھایا تو شائستہ نے فوراً جھٹک دیا۔
"وہ ہے کیا؟" گردن کو تفہیمی جنبش دے کر شائستہ نے مزید پوچھ گچھ کی تو عصمہ سر جھٹک کر ہارمونیم کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔
"فضول سی کوئی چیز ہے۔"
شائستہ نے ایک بار پِھر اُسے نظر انداز کیا۔
"فضول چیز اور انور عباسی کے شو میں؟ ناممکن!" انور عباسی کے شو کی برائی کرنا جیسے عصمہ کا مشغلہ بن گیا تھا مگر دَر حقیقت وہ ہارمونیم کی چڑ میں شائستہ کے مزاج کا امتحان لے رہی تھی۔ بات صرف ہارمونیم کی نہیں تھی۔ یہ عام ہارمونیم نہیں تھا۔ سالوں پہلے ایک مایہ ناز موسیقار نے میاں کو تیس سالہ ایمانداری کے ساتھ نوکری کرنے پر تحفے میں دیا تھا۔ آخری سانس کا لینا تھا کہ وہ اسے میاں کے حوالے کر گئے جیسے ضعیف باپ کنواری اور بے سہارا بیٹی کسی کے کندھوں پر بوجھ بنا کر دُنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔ جب شائستہ ان کی زندگی میں آئی تو یہ ہارمونیم پہلی بیٹی کے روپ میں پہلے موجود تھا اور وہ خودبخود دوسری بیٹی بن گئی تھی۔
You have read 12% of گول روٹی / Gol Roti- Feminist Book. The full e-book picks up right where this stopped.