12% of the book — free to read

[Azan-e-naza]
(معاشرتی حصار میں دم توڑتی مسیحیت کے نام)
-------
مصنفہ: شہلا رعنا اعجاز
الٰہی زور ِتقویت:
”اور دیکھ میں جلد آنے والا ہوں۔ مبارک ہے وہ جو اِس کتاب (یوحنا عارف کا مکاشفہ) کی نبوت کی باتوں پر عمل کرتا ہے۔“
(رسول یوحنا عارف کامکاشفہ ۷:۲۲)
-------

داستان پبلشرز
نوٹ: داستان کی طرف سے شائع ہونے والی کتب میں مدیران و منتظمین کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی مماثلت، مخاصمت یا (سخت بات وغیرہ) کی صورت میں مصنف خود ذمہ دار ہوں گے۔
---
کاپی رائٹ©۲۰۲۱ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ۲۰۲۱ء
ISBN: 978-969-696-522-0
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
٭٭٭
ادارت و ترتیب
قدسیہ حذیفہ جمالیؔ
نظرِ ثانی
نرمین سرھیو
___
سرورق کی تصویر حبیہ ہارون کا ’لیور پروجیکٹ‘ ہے جو انہوں نے اپنے اسکول Roots international Lahore کے لیے تشکیل دیا ہے۔
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں
___
فہرست
حرفِ اوّل................................................................................................. 7
تجریدی مغز:................................................................................................ 8
تبصرہ...................................................................................................... 8
انتسابی کتبہ................................................................................................. 9
تعارف.................................................................................................. 10
پاکستانی معاشرت بحوالہ تاریخِ ہندوستان.................................................................... 11
اٹھارویں صدی اور خدا کا فضل............................................................................. 26
مسیحی خاندان سے مسیحی کلیسیا تک.......................................................................... 37
مسیحی شناخت پر کثیر عوامل کا اثر............................................................................. 42
مشنری آمد سے فلاحِ انسانیت.............................................................................. 51
مسیحی فرقہ بندی سے لاشعوری تصا دم....................................................................... 55
و راثت اور قبائلی فرقہ بندی................................................................................ 64
اکیسویں صدی کے دنیاوی عناصر........................................................................... 72
لہولہان انسانیت کی دردناک داستان........................................................................ 81
اُوموجاہ کا تعارف اور دنیاؤی ردِعمل........................................................................ 94
کلامِ حق کی باز گشت...................................................................................... 100
اُوموجا طرزِزندگی اور خاکہ حیات........................................................................ 103
مسیحی زندگی کے حقیقی جوہر.............................................................................. 111
آخری نرسنگا کی پُکار سے پہلے!............................................................................ 116
یونا ہ نبی اور نینوہ......................................................................................... 129
پنجابی کلیسیا کی پہلی محبت................................................................................. 134
کیتھولک ایمان کا رومن پہلو: رومن کیتھولک کلیسیا......................................................... 139
آستانہ مریم کی چرب دستی................................................................................ 165
پینٹیکاسٹل محرکات کا کلیسیا پر اثر......................................................................... 172
مقاصدِگرجا گھر بحوالہ تاریخِ ہندوستان.................................................................... 175
پاکستانی کلیسیا کی کرداری ہئیت............................................................................ 184
شریعت، انجیل، مکاشفہ، اموجا،اور معاشرتی حصار.......................................................... 190
حرفِ آخر.............................................................................................. 201
کُتب نامہ............................................................................................... 203
مصنفہ کا تعارف......................................................................................... 216
”دل والوں کو دل کی، اور پڑھنے والوں کو کتاب کی قدر ہوتی ہے! معرفت کا ذائقہ چکھ لینے پر آگہی والوں کو آگاہی کی لگن ہوتی ہے۔ورنہ یہ جابرا ور ظالم دنیا والے،دھڑکتے دل کو صرف ایک مرتعش گوشت کا ٹکڑا ہی سمجھتے ہیں!
یہ ایک قدرتی دفاعی عمل ہے کہ بھاگتی چھپکلی اپنی دم پھینک جاتی ہے، تا کہ وہ ٹرپتے تڑپتے آپ کو مصروف رکھے اور وہ خود کسی جائے پناہ میں دَم کر لے۔ بس کچھ یوں ہی سمجھ لیجیے کہ میں بھی ایک بھاگتی چھپکلی ہوں اور یہ کتابچہ اُسکی تڑپتی، کٹی دُم ہے جو آپ کے ہاتھ میں ہے!
جو کہ آپ کو ایک داستانِ رنج والَم کی کسک سے واقف کروا رہی ہے۔ اور آپ کے پُر سکون من مندر میں تڑپ اور نئی پکار کی اطلاع دے رہی ہے۔“
شہلا رعنا اعجاز(بقلم خود)
(ایم۔ایسی کیمسٹری؛ ایم۔اے ای۔پی۔ایم؛ ایم۔ڈیو)
ای میل: shahllaejaz@gmail.com
٭٭٭
”یہ کتاب ایک بحث یا تذکرہ ہے جو دینی اجتماعی یعنی عمرانی تاریخ کا تجزیہ ہے۔ یہ اِس مسئلہ کو اُجاگر کر رہی ہے کہ ہمارے آج کے رواں ترقیاتی دور میں مذہبی محرکات کے وافر ہونے کے باوجود اقلیتی رویہ یہ ہے کہ لوگ پاکستان میں اپنی حقیقی شخصیت کو روشناس کروانے سے قاصر کیوں ہیں؟
اِس کتابچہ کا باہمی ربط ایک یک رنگی بیان میں پیش کیا گیا ہے تا کہ لوگ اپنی شناحت کے جوہر کو پہچان سکیں کہ وہ کس طرح کے عمرانی، ثقافتی و معاشرتی حصار میں گھِر ے ہوئے ہیں۔ اور اسے عبور کرنے کے لئے وہ کیسے کیسے حیلے بہانوں اور اُدھار کی معاشرت سے ترقی یافتہ نظر آنے کی اندھی دوڑ میں کوشاں ہیں!“
٭٭٭
چار مرتبہ کتاب کا مطالعہ کیا سب سے پہلے تو یہ کتاب موضوعات کا ذخیرہ ہے۔ اس کے کچھ صفحات سے جیسے کسی کے شدید کرب کا احساس مجھے بھی زخمی کر گیا بلکہ چیخ و پکار تک کا احساس ہواجیسے کہ صفحہ 184 کی کچھ سطریں۔۔۔
بہرحال بہت زخیم تاریخی کتاب کا درجہ بھی اسے حاصل ہے، تجدیدِ ایمان بھی ہے اور اس سے بڑھ کر مجھےاحساس ہے کہ میری ذہنی وسعت سے باہر ہے۔
اور مبارک باد ہو اس کو لکھنے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالنا بہت جرأت کی بات ہے۔
محمد شہزاد
ایم فل ( مذاہب اور ان کا فلسفہ)
منہاج یونیورسٹی آف لاہور
٭٭٭
”معاشرتی حصار میں دم توڑتی مسیحیت کے نام“
وجہ انتساب:
دیر آئے درست آئے!
اِس کتابچہ میں میں نے پنجابی مسیحی خاندان میں بحران کی وجوحات کا ایک مختصر مگر موثرجائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ وہ پاکستانی اسلامی ریاستی نقطہ نگاہ میں کن موانع عمل عوامل کا شکار ہیں جن کی بدولت وہ اپنی شناخت، تاریخِ، ثقافت اور ایمان کا بھرپور طریقہ سے اظہار نہیں کر سکتے۔ اِن موانع عمل محرکات کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے میں نے اُنکے حل تلاش کئے ہیں، تا کہ مستقبل میں آپ ایک راہِ عمل کا تعین کرنے کی سعی کر سکیں۔
زیر کتاب میں اسلام کے متعلق کچھ مواد بحث کا درجہ رکھتا ہے لیکن دیگر مذاہب کے بارے میں اسلام مشترکات کا حکم دیتا ہے جس کے تحت میرے تاثرات پیش نظر ہیں۔
٭٭٭
عزیز بہنو اور بھائیو،
یہ ایک تاریخی جا ئزہ ہے جو اِس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ سرزمین پاکستان میں مسیحیت بطور خاندان کیوں ایسے مسائل سے دو چار ہے۔ اُس کے پس منظر کو سمجھنا ہی آئندہ نسلوں کے لئے ایک جیتی جاگتی راہ تیار کرنا ہے۔ اپنی سرزمین کو چھوڑ کر ہجرت کرنا ایک دورِ قدیم سے خدائی احکام میں شامل رہا ہے(ابرہام کی ہجرت)۔ مگر اپنے عزیزوں کے لئے،اپنی سرزمین میں ایک ہل کی میخ بن کر اُن کے لئے سخت سرزمین میں ’میخ مارنے،' یعنی زمین چیرنے کے عمل کو جاری رکھنا بھی خدائی احکام کا حصہ ہے۔
”عدن سے صلیب تک اور صلیب سے آج کے دور میں، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہماری آئندہ نسلوں کے دور تک؛ جب تک وہ اِس دنیا پر زندگی کی قید و بند کی صعوبتوں میں ہوں گے،وہ بھی اِس کڑوے دانے کی کڑواہٹ کے ا ثر سے آزاد نہیں ہوں گے۔“ (متی ۱۳: ۲۴۔۳۴)
یہ کتاب”اذانِ نزع“(معاشرتی حصار میں دم توڑتی مسیحیت کے نام) ایک ایساموضوع ہے جو میں نے اپنی مرضی سے نہیں چُنا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بوجھ ملا اور میں نے اُسے ایک’ نشان‘ یا عَلم کے طور پر بلند کرتے ہوئے”اموجاہ مرہم“کی یعنی ایک مادر سرانہ حل کو پیش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تب یہ خیال ایک مکمل صورت کے طور پر ایک کتان کے گہرے دھاگے کی طرح بُنتا چلاگیاکہ اسے یوں پیش کیا جائے۔یہ ایک انفرادی حیثیت میں دینی اقدار کی پاداش کا قول ہے۔ ورنہ دینی اقدار کی تو کسی بھی مذہب کے لحاظ سے اِس دورمیں ہر زاویے سے دھجیاں اُڑ چکی ہیں۔ یہ تحریر انسان کے ذہنی و خارجی طبّی حالت کے جاری و استمراری افعال سے اُن کے اندر کی دنیا، یعنی انسانی ہئیت کی بناوٹ اور ترقی کے زاویوں کو اُن کے پرورش پانے والے محرکات کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جس میں معاشرہ اور خاندانی روایت اور دھرم ایک گہرا عمل دخل رکھتے ہیں۔
آج کی مسیحی اور غیر مسیحی کتب کی فہرست میں یہ ایک کارآمد اضافہ ہو گا۔ اِس کتاب کونسخہء حیاتِ جاوداں کے لئے استعمال کرنے سے ہر دور میں مسیحی اپنی مسیحیت کی راہ متعین کرنے میں اسے قطب نما یعنی دینی مقناطیسی کامپاس (compass)کے طور پر استعمال کر سکیں گے۔ دیگر اسے پڑھتے ہوئے آپ یقیناً محسوس کریں گے کہ کوئی محدب عدسہ (convex lens) آپ کی ذات پر الٰہی نظر کی قوت کو منعکس کئے ہوئے ہے اور دَم بھر میں آپ کی کائنات شعلوں کی لپیٹ میں آنے والی ہے!
اِس کاوش کے ہرصفحہ پر میں نے انفرادی جہت کا بیج ڈالا ہے،جو میرا ایمان ہے کہ آپ کے دل میں جذبہ جگا دے گا کہ آپ اسے پڑھے بغیر چھوڑنے کی طاقت نہیں پائیں گے۔ یہاں آپ کو یہ موقع مل رہا ہے کہ آپ ایک ایسا تاریخی جائزہ لیں جو آپ کو یہ نقطہ سمجھا پائے کہ آج کسی بھی پنجابی مسیحی خاندان میں افراد، مسیحیت کو اپنے خاندانوں میں عملی طور پر اپنانے کے قابل کیوں نہیں ہیں؟ وہ ایمانی جذبہ کس سولی پر لٹکا ہوا ہے۔ یہ نزع (آخری سانس) کا وقت ہے، مسیحیت کا دم نکلنے کو ہے، غیر مسیحوں میں مسیحائی دم توڑ رہی ہے۔
یہ سب ایسا کیوں ہے! اِس لئے یہ خیال ایک عَلم کی طرح اُٹھایا گیا ہے تاکہ یہ زمانہ حاضر سے شروع کر کے زمانہ مستقبل میں بھی اپنی ایک پہچان کے ساتھ نظر آتا رہے گا۔خداوند آپ کو یہ کتاب پڑھنے اور اِس پر سوچ بچار کر نے کا موقع دے۔ آمین!
دعا گو بہن !
آئینے میں چہرہ دیکھیں تو حقیقت سے منہ موڑنا آ سان نہیں ہوتا۔ وہ چہرہ جیسا ہو گا ویسا ہی نظر آئے گا۔ تو آج تاریخ کو اُلٹ پلٹ کر بھی ہم اِس کی اصل حقیقت اور اُس اصلیت سے واقف کیوں نہیں ہو رہے ہیں؟
اِس ہیجان کی وجہ یہ ہے کہ اِس سرزمین پر بیج بونے والے نے بیج توڈالا مگر یہاں بیج چگنے والی چڑیاں تھیں اور زمین بھی پتھریلی تھی اور وہاں پودوں کو دبا دینے والی زہریلی کانٹے دار جھاڑیاں بھی تھیں۔ بیج کو آبیاری کے لئے بونے والے کی تمثیل لوقا ۸ (۵-۸)بیان ہے۔
یہ کتاب اُن گوناگوں حقیقتوں میں سے چند پر سے پردہ اُٹھانے کی کوشش کر رہا ہے جنہیں ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ کر بھی شتر مرغ کی طرح زمین میں سر چھپا کر یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جبکہ آج کا ایماندار یہ محسوس کرتا ہے کہ اِن اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو ہمارے ایمان کو گہری جڑ پکڑنے سے روک رہی ہیں۔ ہمیں خدا کا شفقت بھرا ہاتھ اپنے اوپر نظر آتا ہے، جو پنجابی مسیحی خاندانوں کو بچا کر اپنی پدرانہ محبت سے اور اپنی چُنی ہوئی قوم اسرائیل (حضرت یعقوب کی نسل)سے کیے ہوئے وعدہ کی پاسداری میں، ہر دور کے مشکل شکنجہ میں سے نکال کر لے آیا، اور یہ پرانے عہدنامہ میں درج خدا کے وعدے ہیں اور یہ واضح طور پر ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔
اِس باب کے آغازمیں میں شمالی پنجاب میں بسنے والی قوموں کا تاریخی پس منظر پیش کروں گی۔ اِن قوموں نے ہمالیہ کے دامن میں جنم لے کر، دریائی سلسلوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے علاقہ پنجاب میں سکونت کی اور اِنکا ذکرکئی ناموں سے تاریخ کے اوراق کی زینت بنا۔
موہنجو دھڑو، ہڑپا اور گندھارا کی تاریخیں اِن ہی لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
ڈیوڈ ہیسلگر(David Hess Elgar) جو معاشرہ کی اندرونی کیفیت کو ایک زندہ جاندارکے طور پر پرکھتے ہوئے، بیان کرتے ہیں کہ:
”جب انسان زبان دانی، سیاست، معیشت، علم الٰہیات، علم روحانیت،قومی اور نسلی رکاوٹوں کو مٹا کرایک جگہ رہنا شروع کر دیتے ہیں تو ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔“
لوئس لزبیتک(Louis Lizbeth) کہتے ہیں کہ:
”جب انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے سمجھوتہ کر کے رہنا سیکھ جاتا ہےتو اکثر یہ سمجھوتہ سیاسی ڈھانچے، علم، سائنس، جادو، فلسفہ، اور مذہب کی بنیادوں پر کرتا ہے۔ ان سب میں خوراک کی پیداوار سے لے کر ٹیکنالوجی تک اور روزمرہ کے کام کاج اور ہُنر تمام اس ڈیزائن کا حصہ بن جاتے ہیں اور یوں ایک معاشرہ اپنے مرکبی الجھا ؤ میں اتنا الجھ جاتا ہے کہ ایک نیا مخلوط النسل معاشرہ، ایک نئی ہئیت تشکیل پا جاتی ہے۔ایسے مخلوط النسل معاشرےکا اگر ایک ماہر طبّی ڈاکٹر کی طرح بغور اور گہرا معائنہ کیا جائے تو آج کل کے علم و فنون کے معنوی انداز میں پڑھے اور پڑھائے جانے والے مضامین کی روشنی میں ہم اس کی ہئیت کا تنقیدی اور تصریحی جائزہ لیں تو اِس میں سب سے پہلی ترجیح تاریخی پس منظر کو ملے گی۔“
پنجاب کے اس علاقہ کے شمال مغرب میں وہ علاقہ ہے جو ہمالیہ کے سلسلہ سے جا ملتا ہے۔ علم بشریت کا مطالعہ آج نسل انسانی کی آبائی جڑوں کو بے نقاب کر نے میں ہماری گہری معاونت کرتا ہے۔ اس علاقہ میں بسنے والے قبائل ۲۰۱۴ء کی مردم شماری کی گنتی میں”جوشوا پروجیکٹ“ (Joshua Project)کے مطابق برہمن ۵ فی صد ہیں، جو کُل آبادی میں ساڑھے چھ کڑوڑ کی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ زیادہ تر شمالی علاقہ جات میں بستے ہیں اور یہاں تقریباً ایک تہائی کی آبادی پر چھائے ہوئے ہیں۔ موجودہ ہندوستان کی ہر مخصوص حلقہ بندی میں اِن کی موجودگی یقینی اور نمایاں ہے۔
مشرق کی اِس دور پار زمین پر جو ایسے سماج اور معاشرے کے پلنے کی جگہ بنی ہوئی تھی کہ ابراہام کی اولاد یہاں ۹۰۰ قبل از مسیح سے آ کر بس گئے اور”براہیم“ کہلائے جو وقت کے ساتھ برہمن بن کر ہندو دھرما اور سماج میں ایک اونچے درجہ کی ذات بن گئے۔ نینسی اوبرخچ کہتی ہیں کہ:
برہمن کا ترجمہ ہی”سب سے اونچی ذات“ ہے جو خد ا/ اعلیٰ بُت کے برابر گنی جا سکتی ہے۔ اے۔ ڈینیل(A. Daniel) اپنے تحقیقی پرچہ ’ذات پات کے نظام کا شروع ‘(The Origins of Caste system) میں لکھتے ہیں کہ اِس نظام کے پس منظر میں چار اُصولی نظریات کا خاکہ ہے جو اسے سمجھنے میں مددگار ہے۔
۰ مذہبی و صوفیانہ اُصول۔
۰ علم الحیات کے نفسی وانتظامی اُصول۔
۰ سماجی ومعاشرتی اُصول۔
۰تاریخی و نظریاتی اُصول۔
آسان اور ہاضم زبان میں، ہندو دھرمہ یعنی ہندو سماج کے چار بڑے اور دیگر ذات پات کے درجات کو ہم کئی صدیوں سے یو ں پہچانتے ہیں:
۱)۔برہمن۔
۲)۔ کشتریا۔
۳)۔ وائیسیاز۔
۴)۔ سُودرہ۔
اِن سب کے پس منظر میں جو نظریاتی اور تاریخی اُصول کار فرمان ہے، وہ یہ ہے کہ ہندؤں کی مقدّس کتاب”ریگ ویدہ“ کے مطابق پہلے بنیادی انسان نے اپنی طبع کو چیر ڈالا اور اُس کے سر سے برہمن بنا، اُس کے بازو اور زور سے کشتریا بنا اور اُس کی رانوں سے وائیسیاز بنے اور اُس کے پاؤں سے سُودرہ بنے۔ یوں وہ”پرؤش“ یعنی انسان اب ایک علم الحیات کے انتظامی ڈھانچہ یعنی”وارانہ“میں ڈھل گیا۔
پھرمصنف، اے۔ ڈینیل کہتے ہیں کہ اب مسئلہ یہ ہے کہ جاٹ اور اچھوت اِس دھرمہ میں اُصولی طور پر کہیں نہیں پائے جاتے کیونکہ اُنہیں کوئی درجہ نہیں دیا گیا۔ اِسلئے وہ برہمن درجہ کو چھوڑ کر ہر درجہ میں کسی نہ کسی طرح سما جاتے ہیں۔
اِس کے علاوہ علم الحیات کے نظریات کے مطابق تمام جاندار اور غیر جاندار اشیا ء نے اِن تین خوبیوں میں سے انتخاب کیا ہے:
۱)۔ ستوئیا: ہوشیاری،عقل مندی، ایمانداری،اچھائی اور مثبت سوچ رکھنا۔
۲)۔ راجئی: جذبات،حرص، فخر، غرور،جوش رکھنا۔
۳)۔ طمعٰ: بد دماغی، بیوقوفی، بیزاری، کچھ نہ کرنے کی خواہش یعنی سُستی اور ایسی ہی منفی سوچ رکھنا۔
اوپر بیان کردہ اِن ہی خوبیوں کے چناؤ کی بنیاد پر لوگ اپنی کام کرنے کی نیو رکھتے ہیں اور اُس ہنر کو سیکھتے اور دھرمہ کا ایک اہم رکن بنتے ہیں۔ جیسے سپاہی،موچی، چمی، ترکھان، کسان، اُستاد، پیر یا فقیر، یا مذہبی رہنما، پنڈت وغیرہ۔
اِس سب میں ’وارانہ‘ کا مکمل عمل دخل ہے جسے رنگ روپ یا طبعی بناوٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ کھانے میں یعنی خوراک کے چناؤ بھی اُنہیں ایک دوسرے سے الگ کرتے ہیں۔ ستوئیا کھانے جیسے برہمن اور وائیسیاز کی عقل کو بڑھاتے ہیں اور اِس خوراک میں دودھ، پھل شہد، زمین سے نکلنے والی سبزیاں اور جڑیں شامل ہیں۔ جبکہ زیادہ تر گوشت اپنے اندر طمع کا عنصر رکھتے ہیں۔ جیسے زیادہ تر سُودرہ درجہ کے لوگ ہر طرح کا گوشت کھاتے ہیں مگر گائے کا گوشت نہیں کھاتے۔ جب کہ کشتریا لوگ اپنی راجئی طبع کی بناء پر ہرن اور اِس سےملتے جُلتے گوشت کھاتے ہیں۔ لیکن کئی مراٹھی لوگ جو خود کو کشتریا کہلاتے ہیں مگر وہ گائے کا گوشت کھا لیتے ہیں۔ جب کہ کچھ علاقوں کے چند برہمن لوگ طمع کی فہرست میں موجود گوشت کھا لیتے ہیں۔
معاشرتی و تاریخی اُصول، ’وارانہ، جاٹ، اور اچھوت‘ درجات کے لوگوں کی تخلیق پر روشنی ڈالتا ہے۔ اِس اُصولی نظریاتی قاعدے کے مطابق یہ ہندو دھرمہ میں ۱۵۰۰ قبل از مسیح سے وجود میں آئے جب آریہ نسل کے گورے رنگ والے لوگ یورپ اور شمالی پہاڑی علاقہ جات سے ٹیکسلا اور دیگر پہاڑی دروں اورراستوں سے آئے اور یہاں،اِس سرزمین ِ پاک و ہندپر بسنا شروع ہو گئے۔ آریہ لوگوں کی آمد سے پہلے یہاں چند اور رنگ و نسل کے لوگ بھی بستے تھے۔ اِن لوگوں کو بھی چار گروہوں میں بانٹ کر سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
۱) منگولیہ نسل کے چینی۔
۲) آسٹریلوی نسل کے حبشی۔
۳) افریقی نسل کے حبشی۔
۴) دڑاویڈین۔
اِس مد میں اے۔ ڈینیل (A. Daniel)کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مغربی وسط میں، علاقہ راجستھان کے ساتھ ایک خطہ ہے جو’’مہا راشٹرا“ کہلاتا ہے اور لوگ اِسےآج”بڑی اور اونچی زمین“ کے طور پر ترجمہ کرتے اور سمجھتے ہیں۔ جب کہ اُن کی ناقص رائے میں یہ”ماہر“ یا”مہر“ نام کی نسل کے لوگوں کا ذکر ہے، جو جاٹ ذات سے منسوب ہیں۔ اِس کے علاوہ ایک اور یونانی نسل جو سکندرِ اعظم کے ساتھ آ کر یہاں اپنے نسلی تخم کو چھوڑ گئی مگر اِس کا ذکر کسی بھی کتاب میں نہیں ملتا۔ اِس کے علاوہ یہ ’راجپوت‘ بھی کہلاتے ہیں جو دریائے سندھ کے مغربی جانب بسے والے علاقہ ڈی آئی خان اور ڈی جی خان، جو موجودہ خیبر پختونخواہ کے صوبہ سے ہوتے ہوئے ٹیکسلا اور واہ تک بستے ہیں۔
”لیونگ ہندو ازم“ (Living Hinduism)،یعنی ہندو طریقہ حیات میں نینسی اؤبراخچ (Nancy Oberich)کہتی ہیں کہ جب برہمن بن رہا تھا اور وہ”پرؤش“ یعنی انسان ڈھل رہا تھا تو برہمن میں سے اُس کی تمام منفی طاقت خارج ہوئی اور اُس نے چھوٹے قد کے سیاہ فام بھُتنے اور شیطانی صفت انسان بنا دئیے جو آج بھی ہر برہمن اورنیک سیرت شخص کو تنگ کرتے ہیں۔
ہانگ کانگ کی رابن مرڈتھ جو ایک تجربہ کارصحافی ہیں اپنی کتاب”ایلیفنٹ اینڈ دی ڈریگن“ (Elephant and the Dragon)، یعنی زمانہ قدیم کے دو طاقتور نشان، جو اژدھا یا اُڑن چھپلکا جو چین کواور ہاتھی کوبطور نشان ہندوستان کی سرزمین سے منسلک کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ:
”آج یہ ممالک کئی صدیوں سے دنیا پر کسی نہ کسی طرح سے حکومت کر رہے ہیں۔ اِن کے اثرات نمایاں طور پرہر سماج میں نظر آتے ہیں۔ آج کل تو حالات یہاں تک آ گئے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی طرح کے سامان کو کہیں بھی خریدیں تو اُس پر چین ہی کی چھاپ نظر آئے گی۔“
دوسری جانب کھانے، مصالحے، گانے اور ناچ رنگ میں ہندوستان کسی نہ کسی طرح دنیا کے ہر سماج کا اہم حصہ بنا ہوا ہے۔ یوگا، نینجا اور دیگر اِسی طرح کی کئی جسمانی ورزشیں، ستاروں کا علم، دست شناسی یعنی انسانی قسمت کا احوال بیان کرنا، یہ سب اِس ہی سرزمین سے نکل کر پوری نوعِ انسانی کے نفس پر راج کر رہی ہیں۔رنگ برنگے کپڑے، زیوراور تہوار نے آج کے بچوں کو ویسے ہی اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔
اِس لئے دنیا کی کسی بھی سرزمین پر پیدا ہوتے ہی ایک انسانی بچہ لازمی طور پر کسی نہ کسی سوچ بچار اور عقیدہ کے بارے میں رغبت ضرور محسوس کرےگا۔اور یوں وہ اپنے آپ کو نفسیاتی طور پر، ایک جنگجو ماحول میں گھرا ہوا پائے گا۔وہ اپنے اردگرد محسو س کرے گاکہ زندگی کے ہر قدم پر سماج، مذہب اور معاشرت میں سے گزرنے کے لئے اُسےایک نئی جنگی مہم اور نئے فنِ حرب کا استعمال سیکھنا ہے۔اُسے زندہ رہنے کے لئے مذہب یا کوئی مخصوص معاشرت کا انتخاب کرنا ہے،اور یہ اُس کے زندہ رہنے کے لئے اُس کے اعمال میں ایک لازم و ملزوم فعل ہے۔
۳۲۶قبل از مسیح میں سکندرِ اعظم نے اپنے قدم ہندوستان کی سرزمین پر رکھے اور کھیوڑا میں نمک کے پہاڑوں کی دریافت سے شروع کر کے شمال مغربی پنجاب، موجودہ افغانستان، مشرقی ایران کی سرحد اور اوزبکستان کے علاقہ میں تقریبا ۵ صدی تک اپنے قدم جما کر رکھے۔ سکندرِ اعظم کی مڈ بھیڑ بادشاہ پورس سے ہوئی اور دریاِ جہلم جو اُس وقت دریاِ ہائے داسپس کہلاتا تھا۔ اِس کے کنارے پر اُس کی ۶۰۰۰ ہاتھی گھوڑوں اور جنگی سپاہیوں سے لیس فوج کو سکندرِ اعظم کی مٹھی بھر فوج نے حکمتِ عملی سے شکست دے دی۔ یہاں پر سکندرِ اعظم کی فوج نے زندگی میں پہلی مرتبہ جنگی ہاتھی دیکھے تھے۔ علاقہ افغانستان میں اُس وقت وہ بادشاہ دارا (داریس) اوّل کو شکست دے کر ہندوستان تک پہنچا تھا۔ اِس کادانی ایل نبی کی کتاب کے باب ۹ :۱میں ذکر ہے۔
” دارا بن اخسویرس، جو مادیوں کی نسل سے تھا اور کسدیوں کی مملکت پر بادشاہ ہوا۔۔۔ ‘‘
یہ وہ دور تھا جب دانی ایل جو نبوکدنظر کے محل میں بلطشضر( دانی ایل ۱: ۷) کے نام سے خواجہ سراؤں کے جھنڈ میں داخل کیا گیا تھا۔
باب ۹ میں ذکر بادشاہ بلطشضر، نبوکد نظر کا بیٹا ہے اور دانی ایل تب ایک کہنہ مشق بزرگ تھا اور فال گیروں کا سردار بھی تھا۔ تب اُس نے یرمیاہ نبی کے طوماروں کو پڑھ کر یروشلم کی بربادی کے ستر سال کا حساب بھی پیش کیا تھا۔ اور بادشاہ کے ہیکل کے ظروف کو ضیافت میں مے نوشی میں استعمال کرنے کی غلطی پر دیوار پر خدا کے ہاتھ سے لکھی گئی تحریر کو پڑھنے اور سمجھنے کے لئے دانی ایل نبی کو بُلا بھیجا تھا۔
جب سکندرِ اعظم افغانستان اور اِس سے منسلک ایران کے علاقہ سے فتح حاصل کر کے سرزمینِ ہندوستان پہنچا تو اُس کے سب سے من پسند گھوڑے کے بیمار ہونے اور نمک کے پتھر کو چاٹ کر تندرست ہونے پر، کھیوڑا کے پہاڑوں کی دریافت ہوئی۔ سکندرِ اعظم مردانہ وجاہت کا بے حد دلدادہ تھا مگر اُس پر مردانہ جنسی افعال میں ملوث ہونے کا الزام تاریخ کے اوراق میں پایا ضرور جاتا ہے۔ بے شک یہ اُس دور کے فنِ حرب( جنگی جیت کے اطوار) میں شامل ایک طریقہ بھی تھا کہ جنگ کے دوران آپ کے پسندیدہ شحص کو آپ کے ساتھ رکھا جاتا تھا اور اُسے محفوظ کرتے ہوئے دشمن کی صفحوں کو زیادہ جوش سے تہس نہس کر دیتے تھے۔ بیشک سکندرِاعظم نے بہت کم وقت میں بابل میں رہتے ہوئے دارا اوّل کی بیٹی روخسانہ جسےتاریخ دان رابن لین نے روشانک یعنی روشن ستارہ کہہ کر سمجھایا ہے۔ اِسکے علاوہ سطاتیریہ (جو دارا کی بیوی بھی تھی)، سکندِراعظم کی والہانہ محبت بنی۔ اور پھر اُس نے ڈرئیپیری سطاتس سے بھی بیاہ کیا جس میں اُس علاقہ کے لوگوں سے بہتر سیاسی مراسم رکھنے کے لئے اُس نے اُن کی رسومات اور لباس کا ادب کیا۔ اِسکے علاوہ اُسکی ایک حرم پیرئسطاتیرتس کا بھی ذکر ہے اور روخسانہ جو باشاہ دارا کی بیٹی تھی، اسکندرِ اعظم کی بیاہتا ملکہ بنی۔
بابل کے گرم اور مرطوب موسم میں مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے بخار سے سکندرِ اعظم بچ نہ سکے اور ۳۲۳ قبل از مسیح میں اپنے مرنے سے پہلے، ۳۳ سال کی عمر میں صرف روخسانہ سے پیدا ہونے والے بیٹے کو ہی دیکھ سکے۔ جونہی سکندِ اعظم کی موت واقع ہوئی روخسانہ نے اپنی سوتیلی ماں اور سوتن سطاتیریہ اور اُس کی بہن ڈرئیپیرسطاتس کو موت کے گھاٹ اُتا دیا، تاکہ اُس کے بیٹے سکندر چہارم کے مقابلہ میں کوئی نہ آئے۔ قیاس ہے کہ اُس کی سوتن بھی امید سے تھی۔
یونان میں سکندرِ اعظم کا سوتیلا اور تھوڑا ذہنی مریض بھائی اُس کے تخت کا وارث تھا۔ بعد کے دور میں سکندرِ اعظم کی بہن قلوپطرہ(۳۵۶۔ ۳۰۸ قبل از مسیح) مصر کی ملکہ بنیں، جنہوں نے مولوسیس کے سکندر سے بیاہ کیا اور بعد میں جولئیس سیزر کے سپاہی مارک اینتھونی سے بیاہ سے اُن کے جڑواں بچے ہوئے۔ ۱۸ سال کی عمر میں ملکہ بننے والی قلوپطرہ نے تین مرتبہ بیاہ کیا جس میں ایک اپنے ۱۰ سال کے بھائی سے بھی کرنا پڑا کیونکہ تخت کو سنبھالنا تھا۔ گیاسس یا جولیس سیزر سے بھی اُن کا ایک بیٹا سیسرین تھا جو سیاسی محبت کی اولاد تھی جو بعد میں بادشاہ اوکٹیوئین نے قتل کر دیا۔ اُس کی بہن اوکٹویا جو مارک اینتھونی کی سیاسی بیوی بھی تھی اُس نے مارک اینتھونی کے جڑواں بچوں کی نگہداشت کی۔ قلوپطرہ ۳۹سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔
علاقہ ایشیا اُس دور میں ایک نہایت ہی سیاسی اور جنگی دور میں سے گزر رہا تھا اور یہ لوہے کی تہذیب ۷۰۰ قبل از مسیح سے ۴۳ عیسوی کے درمیانی ادوار کے دن تھے۔ سکندرِاعظم کے بابل کے دور کے بعد مرکزی ایشیا میں کافی ہنگامی صورتِ حال رہی۔ سکندر نے اپنے فوجی جرنیل کو علاقے بانٹ دئیے کہ اُن پر علاقائی خواتین سے بیاہ کریں اور یونانی حکومت کو رائج کریں۔ اِس دور میں افغانستان اور بابل کے علاقہ میں آہورہ مثدہ یعنی زرتش، اور سندھ اور گنگا کے اردگرد شمالی ہندوستان میں جین مت کا ایمانی دور تھا۔
تقریبا ۱۴۷سال گزرنے کے بعد شمالی علاقہ میں پامیر کی چوٹیاں جن میں تائی شین، قراقریم، کئن لئن، ہندو کش، سلیمان کا پہاڑی سلسلہ اور ہندو راج کا پہاڑی سلسلہ شامل ہے۔ پاکستان میں یہ موجودہ ہنزہ، بلتستان اور کشمیر کا علاقہ ہے،اِسکا دوسرا نام دُنیا کی چھت بھی ہے۔ نیچے جنوب میں دریا ئےسندھ، جہلم کے ساتھ چناب اور مشرق کی طرف دریائے گنگا کے ساتھ ہوتے ہوئے بیہار میں پتالی پُترا اور پٹنا کی حدوں کو چھو لیا۔ سکالہ موجودہ سیالکوٹ، ٹیکسلا سے ہوتے ہوئے دریائے کابل کے ساتھ اور نیچے کی جانب جہلم کے ساتھ ڈی۔ جی خان اور بلوچستان میں کوئٹہ، چمن سے گذرتے ہوئے ایران کے دالحکومت پرسی پولس، موجودہ افغانستان، چین، تُرخمانستان، قاضغستان اور آرمینای سے جنوب میں یردن، عراق، اور سریہ یعنی آسور اور مصر کی حدوں سے یونان اور سپین تک یونانی حکومت تھی۔ جب تک کہ رومی قیادت ایک طاقت بن کر نہ اُبھری۔
یونانی اور لاطینی میں لفظ انڈوس جو کہ دریا انڈس سے نکلا اور بعد میں انڈیا بنا، دریائے سندھ سے منسلک ہے۔ یونانی میں یہاں کے باشندوں کو اِس ہی نام سے پُکارا جاتا تھا۔ اِس علاقہ میں چار دارالحکومت تھے۔ جن میں سکالہ یعنی موجودہ سیالکوٹ، ٹیکسلہ یعنی ٹیکسلا، چنئٹس یعنی چنیوٹ، پیوکیلاوٹس جو چارسدہ کے علاقہ میں ہے، اور پانچواں دارالحکومت سکندریہ جو ’غیر دوستانہ سمندر‘ یعنی کالا سمندر اور بحیرہ روم کے وسط میں یونانی سرزمین پر واقعہ ہے۔
یہ حکومت ۱۸۰ سے ۱۹۰ قبل از مسیح میں اپنے عروج پر تھی۔ یہاں سے نمک بھی کان کیا جاتا تھا اور دیگر قیمتی پتھر بھی درآمد کئے جاتے تھے۔
اِس کے برابر میں موجود شمالی ہندوستان میں چندر گپتاکی حکومت قائم تھی جو۳۲۲ قبل از مسیح میں چندر گپتا نے نینندہ حکومت کو فتح کرنے کے بعد حاصل کی تھی۔ موریا حکومت کا یہ پہلا بادشاہ سوُدرہ قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ چندرگپتا کا وزیر کیوتالیہ اُس دور سے آج تک ایک مشہور کردار رہا ہے۔ موریا لفظ کا ماخذ بھی مور سے ہے کیونکہ یہ مور پالنے والوں کا قبیلہ تھا یعنی برہمن یا کشتریا قبائل میں سے نہیں تھا جو اکثر بادشاہت کے لئے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ پھر یہ حکومت شمالی اور وسطی ہندوستان میں پھیل گئی۔ ۱۸۰ سے ۳۲۰ قبل از مسیح میں یہ گندھارا کے علاقہ میں بھی قابض رہے۔ پھر ۵۰۰ جنگی ہاتھی کے عوضانہ میں ۳۰۵ قبل از مسیح میں یونانی بادشاہ سلیوقس اوّل سے چندرگپتا نے پنجاب کا علاقہ واپس لے لیا۔ ۲۷۳ سے ۳۰۰ قبل از مسیح میں چندرگپتا کے بیٹے بندوسرا نے موریا حکومت کو پھیلایا۔
۲۹۸ قبل از مسیح میں چندر گپتا نے زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور جین مت کا پیروکار سادھوبن گیا۔ بندوسرا کی بیوی جس سے اشوکا پیدا ہواوہ ایک سُودرہ تھی۔ ۲۶۸ ق۔ م میں اشوکا نے کالینگا، جنوبی ہندوستان میں حملہ کر کے فتح کر لیا اور والد کے بعد مسند پر ۲۳۲ – ۳۷۲ ق۔ م تک بادشاہت کی، مگر خون بہانے سے توبہ کر لی۔ اشوکا کے دور میں جین مت کے ساتھ بدھ مت کو بھی عروج حاصل ہوا۔ موریا حکومت کے ۹ بادشاہ گزرے اور کُل ۱۴۲ سال کی حکومت میں ہندوستان اور یونانی حکومت ہمسایہ گری میں وقت گزارتی رہیں۔ لیکن جیسے سنڈراوکوٹس (Cindera Cotes) لکھتے ہیں کہ چندرگپتا وہ پہلے ہندوستانی بادشاہ ہیں، جنہوں نے شمالی ہندوستان، علاقہ پنجاب کو یونانی حکومت کے شکنجے سے آزاد کروایا تھا۔ اور اِس کی قیمت میں جنگی ہاتھیوں کے علاوہ بندوسرا کی والدہ سے شادی بھی کی جو یونانی بادشاہ سلیوقس کی بیٹی اور ایک یونانی شہزادی تھیں۔
مذہبی غورو فکر کے لوگ اکثر جین مت کو فلسفہ نہیں مانتے بلکہ جین معاشرت کو زندگی گزارنے کا ایک باوثوق طریقہ کہتے ہیں۔ یہ طریقہ کار پہلی اور دوسری صدی میں ہندوستان کی سرزمین پر سماج اور ھندو دھرمہ کا حصہ بن گیا تھا۔ بیشک جین لوگ موت کے بعد دوسری زندگی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور اِن کے مطابق روح جو ایک منفرد چیز ہے وہ پیدائش، موت اور دوسری پیدائش کے انوکھے دائرہ میں چلتی رہتی ہے۔ جین لفظ سنسکرت کے ’جینا‘سے نکلا ہے جو اِس مادی زندگی سے اخلاقی اور روحانی زندگی گزارنے سے ’کارمہ‘ کا بندھن توڑ کر کامیابی سے روح کی زندگی میں چلے جانا ہے۔ گیان کی اِس سب سے اوپر والی حالت میں پہنچ کر وہ ’اوتار‘کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔
جین مت وہ پہلا مذہبی سلسلہ ہے جو ایک فلسفہ کو سات اصولوں میں بیان کرتا ہے:
۱)۔ جیوا یعنی روح یا جاننا یا شعور۔
۲)۔ اججیوا یعنی غیر روح، یا بنا روح۔
۳)۔ اسروا یعنی روح میں غیر معیاری مادئیت اوردیگر اشیا ءکا شامل ہو جانا۔
۴)۔ باندھا یعنی روح اور کرمہ کا بندھن۔
۵)۔ سموارا یعنی غیر کرمہ اشیاء کا روح میں آ جانے پر پابندی لگانا۔
۶)۔ نیرجارا یعنی روح کی دھیرے دھیرے صفائی کرنا اور غیر کرمہ سے قطعی چھٹکارا پانا۔
۷)۔ موکشہ یعنی آزادی، جو روح کو ہر طرح کے مادئیت اور بُرائی سے حاصل ہو جائے اور روح پاکیزہ ہو جائے۔
اِن ہی سات اُصولوں کا وِرد اور حاصل کرنے کی سعی کو تتورتھا سُترا کہتے ہیں۔
”درست ایمان، درست شعور، درست چال چلن سب مل کر اُنہیں روحانی آزادی تک لے جاتے ہیں۔”
ہندوستان میں آج بھی ۴۱ اقسام کے جین گروہ پائے جاتے ہیں جو سارے ہندوستان کے علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اِن کے مرد عام زندگی میں عورتوں سے زیادہ محنتی ہوتے ہیں۔ جین مت کے کٹر پیروکار زمین میں اُگنے والی سبزی جیسے آلو، پیاز، شلجم،گاجر، اور دیگر زیرِ زمین اُگنے والی سبزی کو ’انانتھک‘ کہتے ہیں، یعنی جنکے اُکھیڑنے سے پودے کی موت ہو جائے اوروہ اُن کے لئے کھانا جائز بھی نہیں ہے۔
پہلی صدی کے وسط میں توما رسول اور برتلمائی رسول(مرقس ۱۸:۳) کو ایشیا کے وسطی علاقوں میں جانے کی رویا ملی اور اعمال کی کتاب کے مطابق پہلی کلیسیا کے یروشلم میں آغاز کے بعد یہ رسول اپنے مقررہ تبلیغی مشن پر رواں دواں ہو گئے۔ مگر جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ توما رسول طبعیت کے اعتبار سے شک کرنے کی نفسیاتی حس میں مبتلا تھے اور بحث کرنے والی طبعیت کے مالک تھے،اور ہم جانتے ہیں کہ یسوع کو مصلوب ہونے کے بعد اپنے ہاتھوں سے چھو کر محسوس کرنے اوردیکھنے تک انہوں نے یسوع کے جی اُٹھنے پر یقین نہیں کیا تھا۔ یوحنا ۰۲(۲۹ تا ۴۲) آیت اِس موقعہ کا ذکر کرتی ہے اور اِس ہی وجہ سے توما کو شکی مزاج بھی کہا گیا۔
تاریخی پس منظر میں جب ہم سکندرِ اعظم کی فتوحات کی مہم جوئی کو پڑھیں،جو یونان یعنی بکٹریا کے مشرق اور مغرب کے علاوہ تمام فارس اور ہند وستان کی سر زمین میں گندھارا سے گزر کر سارے شمالی علاقہ جات میں پنجاب کے مشرقی علاقہ تک جو موجودہ دہلی تک کا علاقہ ہے، قائم ہوئیں۔ اُس وقت مشرقی اور مغربی پنجاب میں ھندوں کی نندا بادشاہت کا دور تھا۔ اُس کے بعد ۳۰۵ قبل از مسیح تک یہاں موری(موریا) بادشاہت رہی۔۲۲۵ تا ۲۳۹ قبل از مسیح میں یونان میں ڈایوڈوٹس کے دور میں ایک آزاد حکومت قائم ہو گئی۔ یہی دور ۲۳۲تا۲۶۸ قبل از مسیح، ہندوستان میں بادشاہ اشوکا کا دور رہا جو پنجاب کے علاقے کو چھوڑ کر شمال سے لے کر کالینگا تک حکومت کرتا رہا۔ پھر اِس مشرقی اور وسطی ہندوستان میں ۱۹۰تا۲۰۰ قبل ازمسیح تک سنگا بادشاہت کا دور رہا۔ اِس کے برابر کے علاقہ پنجاب میں مینینڈر اوّل نے ۱۳۰تا۱۵۵ قبل از مسیح میں قدم جمائے اور یہ وہ جرنیل ہے جس نے شہر بنائے، بدھ مت کو فروغ دیا اور سکالا یا سگالا جو پُرانا سیلکوٹ بھی کہا جاتا ہے اِسے اپنا دارالخلافت بھی بنا کر رکھا۔ یونان میں اِن دنوں میں یوحیزی کا دور تھا جو ۱۱۰ تا ۱۲۰ سے شروع ہو کر ۱۰ عیسوی تک رہا۔ اِس دور میں ارکوسیاہ اور گندھارا پر بادشاہ گونڈو فوریز جو ہندوستانی اور فارسی نژد بادشاہ تھا اور اِس کی حکومت کے دور میں توما رسول کو اِس کا محل تعمیر کرنے کے لئے ٹیکشلا یا موجودہ ٹیکسلا اور اِس کے گرد و نواح کے علاقے میں بُلایا گیا تھا۔ یہ وقت یسوع کے دوبارہ جی اُٹھنے کے بعد تقریبا ۴۰ عیسوی میں یہاں آئے مگر پھر جنوب ہندوستان میں کیریلا کے مقام پر جا کر ٹھہر گئے۔
پانچویں (۵) صدی قبل از مسیح میں، شمالی ہندوستان نیپال کے علاقہ میں پیدا ہونے والا کشتریا ذات کی لڑی میں سے شہزادہ،’سدہارتا گوتاما‘ معاشرتی اور سماجی سطح پر انسانی دکھوں اور تکلفوں کو دیکھ کر ایک نئی راہ پر نکلا اور قدرت نے اُسے ایک نیا گیان اور روشنی بخشی، جو اِن کے پیروکاروں کا ایمان اور عملی راہ ہے۔ آج بدھ مت کے زیادہ ماننے والے ہندوستان سے باہر ملحقہ ممالک میں بستے ہیں جن میں نیپال، تیبت،چین، تھائی لینڈ، بھوٹان، سری لنکا، کمبوڈیا، لاؤس، جاپان، تائیوان، کوریا، سنگاپور، برہمااور ویتنام ہیں۔ بدھ مت تین طرح کی عملی صورت میں نظر آتا ہے جو معمولی ایمانی شکوں پر ایک دوسرے سے متفرق ہیں۔ انہیں یوں سمجھا جا سکتا ہے:
۱)۔ تھیرا ودہ بد ھ مت:جو سری لنکا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، لاؤس اور برھما میں رائج ہے۔
۲)۔ ماہیانہ بدھ مت: جو چین، تائیوان، کوریا، سنگاپور، جاپان اور ویتنام میں رائج ہے۔
۳)۔ تبتین بدھ مت : جو تیبت، نیپال، بھوٹان اور شمالی ہندوستان میں رائج ہے۔
کُل پندرہ ممالک کے علاوہ اِن کے پیروکار چیدہ چیدہ ایشیا کے دوسرے علاقوں میں بھی موجود ہیں۔ پوری دنیا پر تقریبا ۵۳۵ ملین لوگ بدھ مت کے ایمانی مفروضوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس میں سب سے بڑی آبادی چین میں پائی جاتی ہے۔
دیگر بدھ مت کے بنیادی ایمانی مفروضوں کو ایک بڑے خول”دھرمہ“ کے دائرہ میں رکھا جاتا ہے۔ جو صرف اور صرف بدھا کی تعلیم ہے اور اِس میں عقل و دانش، رحمدلی،صبر، فراخدلی اور ہمدردی سب سے اہم ایمانی اور تعلیماتی نکات ہیں۔ یہ کسی خدا یا ایشور یا اللہ یا کوئی بھی عظیم قدرتی طاقت کو نہیں مانتے۔ یہ اندرونی بصیرت کو غور و فکر سے تلاش کرتے ہیں۔ بدھا اُن کے لئے مہا گرو ہیں۔ جن کو ’بدھ مت‘ یعنی مہا بصیرت حاصل ہوئی۔
پانچ رُکنی اخلاقی اصول ہیں،جن سے انہیں پرہیز کرنا ہے اور یہ اِن کے ایمان کی بنیاد ہیں:
۱)۔ کسی بھی جاندار کو قتل کرنا یا اُس کی جان لینا۔
۲)۔ کوئی بھی چیز بلا اجازت حاصل کر لینا۔
۳)۔ کسی بھی طرح کی جنسی بد تمیزی۔
۴)۔ جھوٹ بولنا۔
۵)۔ کسی بھی طرح کی نشہ آوری، یعنی شراب یا ادویات۔
بدھ مت کے بارے میں اتنا جاننے کے بعد ایک بات غور طلب ہے کہ اِن ممالک میں پھر بھی سمگلنگ، چور بازاری اور فحاشی عروج پر ہے!انٹر نیٹ پر شائع ہونے والا زیادہ فحش اور جنسی ہیجان سے متعلق مواد اِن ہی ممالک سے آتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں بھی بنیادی محرکات کے آغاز میں چین کا کردار نمایا ں تھا۔
ساتویں صدی عیسوی میں، مسیحیت کے ۶۰۰ سو سال بعدعرب کے اندھیروں میں روشنی لانے والا پیغام بھی ابراہام کے بیٹے اسماعیل کے موروثی قبیلہ حنفیہ کو حاصل ہوئی ہے۔
آٹھویں (۸)صدی میں ایک حادثاتی واقعہ نے خلیفہِ وقت کو مشرق میں سندھ کی سرزمین سے، اپنی خواتین کو برہمن راجہ داہر کی قید سے نکالنے کے لئے دیبل تک یلغار کرنا پڑی جو موجودہ کراچی کے گرد و نواح کا علاقہ ہے۔ یہ قدم آج کے اسلامی دور کی اِس سرزمین پر آغازتھا۔ تب وہ پہلی اِسلامی افواج موجودہ ملتان تک کے علاقہ، چشتیاں تک اپنے قدموں کی چھاپ لگا کر گئے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ موجودہ کراچی کے گرد و نواح کے علاقہ اوردیبل میں برہمن راجہ داہر کا قلعہ بھی تھا جسے فتح کر کے ایک ہی دن میں تمام مرد آبادی کے ختنہ کیا گیا تھا اور اُنہیں اسلام میں شامل کیا گیا تھا۔ تاریخ دان ڈھکے چھُپے الفاظ میں یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ جو لوگ اِس تین دن کی قتل و غارت سے بچ گئے اور ختنہ سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے وہ کشتریا تھے اور یہ ملتان کے علاقہ سے نکل کر شمال کی طرف آباد ہو گئے۔ قیاس ہے کہ اِن میں سے بعد میں سکھ مت کی طرف راغب ہونے والے بھی یہی لوگ تھے۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا اُن میں ڈاکٹر حبیب اللہ صدیقی اپنے تحقیقی پرچہ میں تحریر کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سندھ کے ساحل سے لے کر موجودہ ملتان اور بہاولپورکے علاقے تک برہمن راجہ داہر کے دور میں بسنے والے ہندو قبیلہ سومرو لوگ تھے۔ بیشک ڈاکٹر لاشاری بھنبور کے آثار قدیمہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ذکر کرتے ہیں کہ کاش اِس تحقیق کو وضاحت سے کیا جائے اور یہ ثابت ہو سکے کہ یہ سومرو قبیلہ کا اصل سمیری (Sumerians) تہذیب سے ہے۔
کئی صدیوں تک اِن کے راج میں بھنبور سے تجارت اور علاقے میں کپاس، گندم اور دیگر زراعت بھرپور طریقہ سے رائج رہی ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ تاریخ دان یہ بھی کہتے ہیں کی اِن لوگوں نے اسلام صرف نام کا قبول کیا اور اپنے سماج اور معاشرہ، رہن سہن اور دیگر اعمال میں یہ ہندو ہی رہے۔ راجہ داہر تو اُس قعلہ کی فتح کے وقت مارا گیا اور اُس کی دو بیٹیاں جو خلیفہ حجاج بن یوسف کو تحفہ کے طور پر بھجوائی گئیں۔ لیکن اِن خواتین کے محمد بن قاسم کے ہاتھوں جنسی تشدد نے خلیفہ کو خفا کیا اور جب محمد بن قاسم بسرہ واپس پہنچے تو نا عمری میں اُنہیں نہایت تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ محمد بن قاسم خلیفہ حجاج کے داماد بھی تھے۔
درمیانی عرصہ میں ایران سے خوارزمی اور شمالی علاقہ سے غزنوی افواج نے سندھ کی سر زمین پر گیارہویں صدی سے لے کر حکومتِ برطانیہ کے راج کرنے اور جنرنل نیپئیر کے سندھ میں (۱۸۴۳ء) دھوکے سے قدم جمانے تک سندھی لوگ اپنے سماج، دھرم اور علاقہ میں خوشحال رہے۔ بیشک جرنل نیپیر کے گورنر جرنل بننے کے بعد اِس علاقہ سے ٹھگی اور دیگر خرافات کا خاتمہ ہوا اور پختہ سڑکوں اور بعد ازاں کوٹری ڈیم اور ریل کا انتظام بھی نافذ ہوا۔
اگلے پندرہ سو سال یعنی پندرہویں (۱۵ء) صدی تک مغربی سرحد سے پنجاب اور سندھ کے علاقہ میں صوفی مسلمان خاندانوں کا اِس خطہ پر اُس طرح سے اثر و رسوخ نہیں تھا جو مغلیہ بادشاہ بابر، چنگیز خان منگول کے بیٹے چغیتائی کے خاندان سے تھے،یہ تیموری بھی کہلاتے تھے۔ دولت خان جوہندوستان میں ابراہیم لودھی کی بادشاہت سے خفا تھے اور اُنہوں نے تیمرلین کے بیٹے، ترکی نژد کے بہادر بابر کو دعوت دی اور یوں پانی پت کے مقام پر جنگ کے بعد فتح دہلی ممکن ہوئی اور مغلیہ سلطنت قائم ہوئی۔ لیکن سندھ کے علاقہ میں اسلام کی موجودگی اور دیگر سفوید اور غزنوید اثرات کے تحت اِس علاقہ میں سُنّی صوفیا ءکا قیام بااثر تھا۔ بھنبور کے آثارِ قدیمہ نے اِس علاقہ میں اسلام کی موجودگی کو کچھ ایسے ترتیب دی ہے کہ چار واضح ادوار ملتے ہیں۔ جو امُیّہ دور، عباسی دور، ساسنی دور اور پھر سفوید(سلطنتِ فارس یا ایران سے) دور رہا۔ بارہویں (۱۲ء)صدی تک شاہ خوازم کے بعد شہاب الدین غوری کے قدم اِس علاقہ میں پہنچے۔
اِس دور تک تقریبا ً گیارہ سے تیرہ صدی عیسوی تک اِس علاقہ میں آنے والے سُنّی صوفیوں کے نام یہ ہیں:
۱)۔ ۱۱۹۲ ء میں پیر حاجی پنہوار جو پت کے علاقہ سے تھے۔
۲)۔ حاجی پنہوار کے مرید پیر بھرکیوہ ۱۲۰۰ء میں رہے۔
۳-۷)۔ پھر شاہ داتا آر اکے چار بیٹے؛ شاہ حسن، شاہ گوریہ، شاہ آریہ، شاہ لال چہاتو نے علاقہ میں خدمات پیش کیں۔ دیگر آنے والے صوفیا کرام میں
۸)۔ شاہ وجیہ الدین جو شاہ فتح شاہ کے بیٹے تھے۔
۹)۔شیخ زکریا (جن کا آستانہ اور مقبرہ، دادو، بدین کے علاقہ میں ہے)۔
۰ ۱)۔ کریم کیتل گرئیا، جو سومرو دور میں اُن کی حفاظت میں امن سے اسلام پھیلانے کی خدمت میں مصروف رہے۔
تقریباً اگلے تین سو سال میں فارس یعنی ایران، تُرکی، عراق اور دیگر علاقوں سے با اثر اور پڑھے لکھے لوگ یہاں آکر پڑاؤ کرنے لگے اور ایک ایمانی روشنی کے علاوہ شاعری اور ایک نئے سماج اور معاشرت نے تشکیل پائی جو اِن علاقوں میں اسلام کے پھیلاؤ میں پیش پیش رہی۔ ایک طائرانہ جائزہ ذیل میں پیش کیا ہے کہ ایک اندازہ لگایا جا سکے کہ آج یہ خاندان کتنے زیادہ اِس سرزمین کا حصہ بن جانے کے باوجود اپنے خاندان اور خاندنی جنم بھومی سے منسلک ہیں۔
شیراز سے آئے ہوئے شیرازی ہوئے، گیلان سے گیلانی، اصفہان سے اصفہانی، حجاز سے حجازی، یمن سے یمنی، بصرہ سے بصری، ہجویر سے ہجویری، جیلان سے جیلانی، کعبان سے کعبانی، جعین پور سے جیلعی، ربان سے ربانی، چشتیاں سے چشتی، دہلی سے دہلوی، مدھاپور سے مدھانی، تبریز سے تبریزی، کابل سے کابلی، نقاش پور سے نقشبندی، پاران سے پارانی، سیفی پور سے سیفینی، ناگپور سے ناگپوری، بخاراسے بخاری، غازی پور سے غازی، غزال سے غزالی، بوسیر سے بوسیری، بادوان سے بادوانی، ہاشم قبیلہ سے ہاشمی، خاقان قبیلہ سے خاقانی، ترمذ سے ترمذی، قونان سے قونائی، کیسان پورہ سے کیساری، انصار قبیلہ سے انصاری، ارد بیل سے اردبیلی، کیول پورہ سے کیوللی، ہمدان سے ہمدانی، سہرورد سے سہروردی، تامیم سے تامیمی، ایفند سے ایفندی، مصر سے مصری، امر پورہ سے امری، انیت پورہ سے انیاتی، منیار سے منیائیری، شبیل پورہ سے شبلی، گردیز سے گردیزی، جلا ل پور سے جلال آبادی، اور کئی نے فارس سے فارسی کہلانا پسندکیا اور جو مغل خاندان سے وابستہ تھے وہ مغل یا مغلئی یا خان، یا تیموری اورچغتائی(تُرکی) کہلائے۔
آج بھی پاکستان اور ہندوستان کی سرحدوں میں اِن کے مقبروں پر جو میری ناقص گنتی میں کوئی ایک سو اسی(۱۸۰) کے قریب یا اِس سے زیادہ ہی مزار اور آستانہ شریف ہوں گے، اور اُن پر عقیدت مندانہ عبادات اور دیگر رسوم پورے سال میں جاری رہتی ہیں۔دیگر ہمارے اِس پورے خطہ میں بسے ہوئے خان قبائل کے ناموں میں بہت سی ترمیمی اقسام پائی جاتی ہیں۔
ہندوستان کی سر زمین پر اسلام کی آمد کے بعد جو اصولی طور پر اِس دھرتی کے باہر پیدائش پانے اور بڑھنے والا ایمان ہے لیکن ہندو دھرم سے الگ ہو کر یہاں پیدا ہونے والا ایمان یا مذہب سکھ مت ہے۔ ۱۵۰۰ عیسوی میں لاور یا لاواپور موجودہ لاہور کے پاس پیدا ہونے والے گرو نانک اِس کے بانی ہیں اور یہ ایمانی مسلک ایک خدا کی عبادت پر مبنی ہے۔ سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ ہندو سماج کے خاکہ میں تیسرے درجہ کے لوگ کیشتریا میں سے نکل کر آنے والے لوگوں نے قبول کیا اور یہ تمام مذہبی فرقہ ایک جنگجو نسل سے منسلک ہوئی۔
بیشک گرونانک کی تعلیمات میں ایک خدا کو ماننے کے علاوہ یہ نہایت ہی باغیرت اور عزتِ نفس کے اُصولات کے پیروکار ہیں۔ اِن کے ایمانی مفروضوں میں مرد حضرات کا بال نہ کٹوانا، ایک کرپان (خنجر) کو رکھنا اور کچھا پہننا اور بازو میں کڑے کا استعمال اِن کی غیر معمولی پہچان ہیں۔ اِس کے علاوہ کیسری رنگ کی پگڑی پہننا بھی ایمانی پہچان ہے اور یہ اِ ن کی خوبصورتی اور الھڑ پن کو چار چاند لگاتی ہے۔ سماجی طور پر نہایت خاندانی اور ریت رسم اورپیار کے نام پر مر مٹنے والے لوگ ہیں۔
’ناگ پھنی‘ جوانگریزی میں ’کیکٹس‘ (cactus) کہلاتا ہے، ایک ایسا پودا ہے جو دیکھنے میں پودا نہیں لگتا۔ اِس کا گداز جسم پانی سے بھرا ہوتا ہے۔ اورجسم پر سیدھے اُگے ہوئے اَن گنت کانٹے ہوتے ہیں۔ پتوں کا فقدان ہوتا ہے جو حقیقت میں اِس پر موجود کانٹوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔ اِسی وجہ سے یہ پتھریلی زمین اور ریگستانی علاقوں میں بھی آسانی سے زندہ رہ لیتا ہے۔ اِس میں نہایت ہی خوبصورت، دل موہ لینے والے پھول لگتے ہیں، مگر اُن کے لگنے میں اکثر کئی سالوں کا وقت درکار ہوتا ہے، جسے اکثر اِس پودے کے صبر سے منا سبت دی جاتی ہے۔
تاریخِ ہندوستان میں، ۱۶۰۰ عیسوی میں مغلیہ سلطنت کے اکبرِ اعظم کے دور میں اِس سرزمین پر ایسٹ انڈیا کمپنی (East India Company)کے نام سے شروع ہوا دور ایک الگ داستان ہے جو یہاں کے باسیوں کی طبّی شناخت پر ہی نہیں اُن کی ذہنی استعداد پر بھی مسلّط ہو گیا۔ انگلستان سے آنے والی اس تجارتی کمپنی کے یہاں کام سے شروع ہونے والا دور ہندوستان کی تقسیم پر ختم ہوا۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ ہندوستان کے مشرقی ساحلوں کی اجازت لیتے ہوئے، تجارت کے نام پر اِس سرزمین پر قدم رکھنے والے انگریزوں نے اگلے دو سو سال یہاں پر جابرانہ حکومت کرنے کے ساتھ، اِس سرزمین کے سماج کو ٹھیس بھی پہنچائی اور اِس کی دولت کو بھی لوٹ کر لے گئے۔
تجزیاتی نگاہ سے دیکھیں تو اُن کی تجارتی اشیا میں شامل فہرست کچھ یوں ہے: ریشم، نیل، نمک، گرم مصالحہ، پھٹکری، چائے اور افوین۔
بیشک اپنے رہنے اور آرام کے نام پر انہوں نے یہاں کے لوگوں کے دھرم کو جاہل کہا لیکن یہاں کی معاشرت کی آنکھیں ضرور کھول دیں۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو سیاست کا ڈھنگ سکھا دیا۔ اور ۱۹۴۷ ء میں یہاں سے جاتے ہوئے ایسے تنازعہ کے بیج ڈال گئے کہ آج بھی کشمیر اور دیگر کئی مسائل حل ہونے کے دائرہ سے باہر نظر آتے ہیں۔ مادی ترقی میں نہروں، ڈیم اور ریل کے نظام کے علاوہ ستی، ٹھگی، اور کئی سماجی اور مذہبی رسوم کو ختم کر کے اِس سرزمین پر تعلیم عام کی، یہاں ایک جمہوری اور سرکاری نظام قائم کیا اور اِسے قانون سے روشناس کروایا۔ جو آج بھی کچھ رد و بدل کے ساتھ قانونِ ہند اور آئینِ پاکستان کہلاتا ہے۔
آئیے تاریخ کے اِس باب کو یسوع المسیح کی سمجھائی ہوئی،بیج بونے والے کی تمثیل کے دائرہ کار میں رکھتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پیدائش۶:۲۵ میں باپ ابراہام نے اپنی تیسری بیوی اور حرموں سے اولاد کو برکت دے کر اِس مشرق کی طرف میں دور پار سرزمین پر برکات کے ساتھ رخصت کیا تھا۔ لفظ برہمن میں عبرانی زبان کا ’براہیم‘ اور ابراہیم اور ابراہام لفظ کی بنیاد ملتی ہے۔ اِس نسل کی پرہیزگاری اور دیگر مذہبی عمل اور رسوم میں ہمیں توریت اور شریعت کے بنیادی عناصر کی جھلکیاں ملتی ہیں مگر وقت کی سختیوں نے اِسےایک نیا بہروپ پہنا دیا۔ اور یوں وہ بیج جو خدا کی طرف سے اِس دور پار سرزمین پر آ کر گرا وہ سماج اور ہندو دھرما کی کانٹے دار، زہریلی جھاڑیوں کے نیچے دب گیا۔اور جیسا ایوب نبی کی کتاب جو رزمیہ مثنوی کا طرزِ بیان ہے،اُس کے پہلے باب میں ذکر ہے، باب ۱( ۶ تا ۷):
”اور ایک دن خداوند کے بیٹے آئے کہ خداوند کے حضور حاضر ہوں اور اُن کے درمیان شیطان بھی آیا۔
اور خداوند نے شیطان سے پوچھا کہ تُو کہاں سے آتا ہے؟شیطان نے خداوند کو جواب دیا کہ:
”زمین پر ادھر اُدھر گھومتا پھرتا اور اُس میں سیر کرتا ہوا آیا ہوں۔“
شیطان کے جواب میں ایک بات واضح نظر آتی ہے۔ وہ ساری زمین پر ہر جگہ، ہر وقت گھومنے پھرنے کی آزادی رکھتا ہے۔ راہ پر گرنے والے بیج جن کے پاس جڑ پکڑنے کے لئے زمین کم ہوتی ہے اور وہ باآسانی اُس کی پہنچ میں ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں یہ ہمارے ہاتھ میں موجود اینڈرائڈ فون، آئی فون سے لے کر کسی بھی طرح کی وہ ایجاد ہو سکتی ہے جو خدا کے کلام کے بیج کو ہمارے دل میں جڑ پکڑنے اور بڑھنے سے روک دے۔
اب ایوب کی کہانی تو چند باب میں ایک انسانی بحالی کے پیغام کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے مگر تاریخِ ہندوستان مذہب و سیاست کے نام پر مٹ کر خون و بربریت کی نئی داستانیں رقم کر کے آج بھی اپنی اُس ہی ڈگر پر رواں دواں ہے۔ سیاہی ختم ہو جائے گی مگر یہاں پر ہونے والے ظلم و بربریت کے قصے قلم بند نہیں ہو پائیں گے۔
ویسے بھی آج تمام دنیا پر نفسا نفسی کے عالم میں انصاف ایک نام نہاد خرگوش ہے جو دیکھنے میں موجود ہے، مگر پکڑ میں مشکل ہے۔ اُس کے عکس پر بیرونِ ملک کام کرنے والی سماجی تنظیمیں اپنے نام کی تختی چمکا کر، کوئی دوچار دھرنے لگا کر بھوک ہڑتال کرکے اور نعرہ بازی کی کوئی آواز تو بلند کرتی ہیں مگر اُس کے آخر میں وہ بین الاقوامی سماجی تنظیموں سے بس خرچہ ہی بٹورتی ہیں اور اُس مظلوم کو کفن صرف وقت اور حالات ہی پہناتے ہیں۔جیسے یہودہ اسکریوتی کا ایمان جو تیس سکوں میں بِک تو گیامگر خدا کے انصاف کو ہم اُس کے ساتھ ہونے والے انجام میں دیکھ کر سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ متی(۱۵:۲۶)، ۲۷ (۱ تا ۱۰)،لوقا (۳:۲۲) اور یوحنا (۲۷:۱۳)؛تمام اناجیل اِس دھوکہ دہی اور غداری کو شیطانی عمل کہتے ہیں۔ جس کا نتیجہ ایک غیر قدرتی موت یعنی خودکشی کے طور پر بیان کی گئی اور دیگر وہ عبرت کا باعث بھی بنی۔ اعمال۱(۱۸ تا ۱۹) میں اُس کی بدکاری اور اُس کے نتیجہ کی وضاحت بیان کی گئی ہے۔
پیدائش کی کتاب میں تخلیق کے ذکر کے بعد جو اہم کردار انسانیت کی فلم کے پردہ ٔ سیمی پر نظر آتا ہے وہ ہے ’سانپ‘ یعنی شیطان کو سمجھنے کے لئے استعمال کیا گیا استعارہ یا تشبیہ، جو اُس کی کنایہ یاصفت کو مدِّ نظر رکھ کر اُس کا بیان ہے۔ آدم سے نکلی ہوئی مونث ہستی، جسے آدم نے حوّا کہہ کر بُلایا، وہ شیطان کے پھُسلانے اور دھوکہ میں گھیرنے کے فعل کو سمجھانے کے لئے اُسے سانپ سے تشبیہ کرتی ہے کیونکہ آدم اِس بات سے مکمل واقف تھا۔ اُس کی تخلیق سے قبل آسمانی بادشاہی میں بغاوت ہوئی اور ملائک نے اپنے خالق کی حکم عدولی کی، جس کے نتیجہ میں وہ اُن وسعتوں میں سے نکال کر زمین پر بھجوا دئیے گئے۔ یہ وہ مخالف ہے جو ابلیس کہلایا اور یہی خدا کا حریف یا دشمن کے طور پر موجود ہے، اوروہ ہر وقت انسان کی تگ و دو میں ہوتا ہے۔
ایوب کی کتاب اور دیگر پُرانے عہدنامہ میں متعدد بار شیطان کا ذکر اژدھااور دشمن کے طور پر آیا ہے۔اژدھا لفظ سے تشبیہ تقریباً ۷ بار آتی ہے جس میں پیدائش ۱:۳، ۱۳ کا ذکر ہے جبکہ اُردو ترجمہ اُسے سانپ کہہ رہا ہے۔ پُرانے اور نئے عہد نامہ میں سانپ لفظ ۱۴ مرتبہ استعمال ہوا ہے، جس سے مراد سانپ بطور جانور ہی ہے۔ جو موسیٰ کے اپنے قوم کے حق میں کئے گئے معجزات تھے اور زبوروں میں جہاں سانپ او ر بچھو کو ایماندار اپنی ایڑی سے ماریں گے۔ لیکن ہم جب شیطان کی جبلی اور جسمانی ہئیت کے علاوہ اُسے بطور نفسیاتی ہستی کے دیکھتے ہیں تو وہ عیار، چالاک، دھوکہ باز اور غیر معمولی ہوشیاری کا مالک ہے۔ اُس میں روپ بدلنے کی، کسی انسان کے اندر اُس کے نفس کو اور ذہن کو قابو کرنے کی طاقت ہے جیسے لوقا ۳:۲۲ میں وہ یہوداہ اسکریوتی میں سما گیا۔ یسعیاہ ۲۷: ۱ میں اِس کا ذکر ایک”تیز رو،لچھے دار یعنی کنڈل مار“ اور”سمندر کا عجیب الخلقت“ اژدھا کے طور پر آیا ہے۔ اِس کا نام انگریزی ترجمہ میں ”لیوائتھین“ یعنی بہت بڑا ژدھا کہا گیا ہے۔ مکاشفہ ۹:۱۲ میں اِس کا نام شیطان اور قدیم اژدھا کے طور پر لکھا گیا ہے۔ یسوع کی آزمائش کرنے کے لئے بھی ہمیں اِس ہی کا ذکر ملتا ہے۔اِس نے یسوع کی ذات ِ اقدس کو اپنی زمینی مہم شروع کرنے سے پہلے تین شرائط میں پھنسانے کی کوشش کی اور پھر تیسری شرط میں آزماتے ہوئے توساری دنیا اور اُس کی کل بادشاہت کا اختیار دینے کا وعدہ بھی کر ڈالا۔کیا وہ واقعی میں ایسا کر سکتا ہے؟ یہ اُس کی جبلت میں ہے کہ وہ دھونس دینے اور بڑی چال چلنے سے باز نہیں آتا ہے۔ عدن میں انسان سے کیا ہوا فریب بھی تو اُسی کے حق میں گیا تھا، جس سے انسان کا زمین پر عدن سے نکالا جانا اور آج تک کے دنیاوی معاشرت کے سیاست، مادئیت اور خاندانی سماج میں رہنے کی کہانیاں درج ہیں۔
٭٭٭
ہمارے روزانہ کے افعال میں کئی حیرت انگیز اور انہونی باتیں ہو جاتی ہیں۔ ہم نے اراددہ کہیں اور جانے کا کیا ہوتا ہے مگر اچانک تمام انسانی منصوبہ میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ میری زندگی میں تو کئی مرتبہ ایسے مواقع آئے ہیں۔ مجھے یاد ہے،جب میں نے غوطہ سے بپتسمہ کا سوچا تو وہ دور یوپی چرچ کے سخت نیم اور پالیسیوں کا دور تھا جب ایسی بات کا سوچنا بھی ایمان کے درجہ میں ایک غلطی تھی اور میں نے اپنے والد کی مخالفت پر جا کر بپتسمہ لیا تھا۔ کئی سال بعد جب دت کی کہانی پڑھی تو سمجھ آنا شروع ہواکہ وہ مشنری جن کے پاس دت کو نتھو جٹ لے کر آیا تھا وہ ابھی اُسے اپنی بپتسمہ کی پالسی کے مطابق بپتسمہ دینے پرراضی نہ تھے۔
پادری رابرٹ سموئل (Robert Samuel) کے حساب میں ابھی وہ تقدیس کی رسم (کلیسیائی جماعت میں شمولیت کی رسم)کی تعلیم کو پورا وقت نہیں دے سکے تھے۔ مگر خدا کی مرضی کے سامنے کون کھٹراہو سکتا ہے۔ دَت نے رات ہی کو ضد سے بپتسمہ لیا اور صبح اُن کے کمپاؤنڈ کی دیوار کو پھلانگ کر اپنے گاؤں کو روانہ ہو گیا۔ پھر یوحنا باب۴ میں ذکر کی گئی، کنویں پر آنے والی سامری عورت کی طرح اپنے گاؤں میں پہنچتے ہی منادی شروع کر دی۔ وہ اپنے چمڑا جمع کرنے والے ٹین کو بجاتا اور یسوع کے نام کو پھیلاتا گیا۔ اُس کی مخالفت بھی شدید ہوئی۔ اُس کے بھائی نے اُس کے بیوی اور بچوں کو اُس سے الگ کر دیا اور یوں اُس کی زندگی میں آزمائش اور شدید دکھ تو آیا مگر اُس کا ایمان ڈاواں ڈول نہ ہوا۔ گاؤں کے گاؤں، جوق درجوق مسیح یسوع پر اعلانیہ ایمان لائے اور جان اوبرئین(John Oberin) اپنی کتاب میں اِسے”میسو ڈیآئی“ یعنی ایک معجزاتی عمل کہتے ہیں۔ جس میں خدا کا ہاتھ واضح نظر آتا ہے۔ یہ کسی مشنری یا پادری یا ایونجلسٹ، یا صوفی یعنی تبلیغی شخصیت کا کام نہیں تھا۔ یہ صرف اور صرف خدا کی قدرت سے اُس کے فضل کا ظہور تھا اور اِسے آج بھی مغرب میں ایک حسد اور حیرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ جس تھوڑے سے وقت میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے بپتسمہ لیا اور ایک بڑی کلیسیا وجود میں آئی۔
بیشک اِس سے قبل سرزمینِ ہندوستان پر سمانٹیلی، تلگو،(گوا)، ٹروین کور میں جوگرا اور اورنگ آباد(جنوبی ہندوستان میں قائم بادشاہ اورنگ زیب کے نام پر شہر جہاں سے وہ مغربی خطہ کے حکومتی امور چلاتا تھا)، میں بھی ایسے بڑے پیمانے پر لوگوں نے مسیحیت قبول کی، جس میں سینٹ فرانسس زیوئیر کی کوششیں اور دعائیں شامل تھیں۔ لیکن پنجاب اور پنجابی کلیسیا ہندوستان میں شمال مغرب کی جانب مسیحی ایمان میں آنے والوں کی یہ ایک منفرد کہانی ہے جس نے دنیا کو ششدر کر دیا تھا۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ لوگ پنجابی کلیسیا کے مضبوط ایمان میں قائم ہونے کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں، آج بھی جہاں جہاں یعنی امریکہ، کینیڈا اور خصوصاً فلڈلفیا میں پنجابی کلیسیا نے اپنے رول ماڈل ہونے کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔ یہ بات الگ حیثیت میں ہے کہ اب تیسری اورچوتھی نسلیں، جوسرزمینِ پنجاب سے باہر پردیس میں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھی ہیں۔ وہ پنجاب کے ورثے اور ثقافت اور معاشرت کو صرف سکھوں کی فلموں سے ہی دیکھ کر سیکھ رہے ہیں۔ دیگر اُن میں جس بات کی کمی ہے وہ ہے لباس کا استعمال اور رشتوں کی وہ پاسداری جو اِس پنجاب کے مرکزی سماج کا دائرہ ہے۔
بے شک وقت کی سختی میں رشتوں کی پاسداری تو پوری دنیا پر ہی نئی تعلیم اور نئی دنیاوی سوچ کی بھینٹ چڑھ چُکی ہے۔ لیکن پھر بھی آج بھی ہمارے گاؤں جو مشنری لوگوں کی کاوشوں کا نتیجہ اور اِس پنجابی قوم کے لئے اِس سخت سیاسی دور میں ایمان میں چھپنے کی جگہ اور ہمارے آباؤ اجداد کی نشانی ہیں یہ اصل پنجابی ہونے کے نشان کی یادیں محفوظ رکھے ہوئے ہیں اور اِس پنجاب کی سرزمین کی وراثت ہیں۔ اِن علاقوں میں خداوند کے فضل کی بازگشت آج بھی گونج رہی ہے۔ یہ وہی علاقہ تھا جو ہندو اور سکھ مندروں اور مسجدوں سے بھرا ہوا تھا۔ رنجیت سنگھ کے زمانہ سے یہ کٹر سکھ زور میں رہا اور مغل دور سے پہلے سے یہاں افغان، اصفہان، گیلان سے آنے والے غزنوی، تغلق اور دیگر کئی قومیں تھیں اور اِن کے علاوہ بدھ مت بھی اثر و رسوخ رکھتے تھے اور گنتی میں بے شمار تھے۔
لاہور کے گرد و نواح میں سیالکوٹ، ظفروال، چونڈا سے شروع کر کے گودہپور گجرات جو شمال مغرب کو پھیل جاتے ہیں اور پھر فیصل آباد، سرگودھا، بھلوال (ولسن آباد)اور جنوب کو ملتان، بہاولپور اور مشرق کی جانب اوکاڑہ ساہیوال اور پھر شمال کو لاہور کی طرف بڑھتے ہوئے ہم پتونکی، تلونڈی، قصور، کنگن پوراور شمال مغرب میں رائیونڈ سے گھوم کر لاہور میں قدم رکھتے ہیں۔ آج یہ اُن علاقوں میں آجاتے ہیں جو اب غیر مسیحی آبادی سے بھرپور ہیں اور یہاں کی کُل آبادی کی زیادہ فی صد میں اسلام سے تعلق رکھنے والے مسلمان تہذیب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ یہ پاکستان کی سرحد بندی کے بعد مہاجر آبادکاری میں زمینیں ملنے کے بعد کی آبادیاں ہیں۔
اِ س ہندوستانی کلیسیا کا آغاز جو توما رسول کے ہندوستان پر ٹیکسلا میں قدم رکھنے سے اِس مٹی کی خوشبو میں تو نظر آیا مگر اُس میں رچ بس نہ سکا۔ اُسے ابھی اِٹھارہ صدیوں کے بعد ظہور میں آنا تھا۔ اِس کام کے لئے خدا نے یورپی مشنری لوگوں کو استعمال کیا اور وہ انگریز جو ۲۰۰ سال یہاں رہے، مسیحیت کو اِس طرح سے ایک کلیسا کا روپ نہ دے سکے۔
بے شک خدا کی طرف سے ہونے والے معجزات نہایت ہی حیرت انگیز طور پر وقوع پذیر ہوتے رہے۔ کیونکہ کیریلا کی سرزمین پر پہنچ کر اُنہیں اُن سادہ لَو لوگوں کو یسوع کی حیثیت کو ایک ناریل پھوڑ کر ہی سمجھا دیا کہ جو باہر سے انسان دیکھتا ہے اگر وہ اپنے حیثیت کو توڑ دے تو وہ اندر سے پوتر اور پاک سفید ناریل کی طرح نکل آئے گا۔ آج بھی جنوبی علاقہ کے ہندو ہر کام کو کرنے سے پہلے ناریل کو پھوڑنا ایک خوش قسمتی کا نشان سمجھتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ دور تھا جب ہسپانوی بادشاہ نے بھی ایک نیا سمندری راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھ دیا۔ یوں ۱۴۹۲ میں کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) کو امریکہ کے ساحلوں سے متعارف کروایا اور یوں اُس کی سوچ کے مطابق کہا گیا لفظ انڈین آج بھی سانولے اور افریقی نژد قدیم ایذٹیک(Aztec) تہذیب اور اِس سے ملتی جُلتی دیگر تہذیب سے تعلق رکھنے والے قبائل’انڈین‘ کہلائے۔ بیشک آج بھی یہ لوگ اپنی درست شناخت کے لئے سرتاپا کوشاں ہیں۔
ولیم کٹز(William Katz) کی کتاب”حبشی انڈین: ایک مخفی تہذب“ (Black Indians:A Hidden Heritage)اِس امر پر روشنی ڈالتی ہے۔
واسگو ڈیگاما (Vasco De Gama)کے ہندوستان پہنچنے کے لئے بحری راستہ کی تلاش نے ۱۴۹۷ میں افریقہ کے گرد چکر لگا کر ’کیپ آف گڈ ہوپ‘(Cape of Good Hope) سے ہوتے ہوئے کلکتہ کے قرب و جوار میں لانے والا ایک ہندوستانی جو جہاز کا سمت وار بھی تھا اور واسکو ڈی گاما کو وہ افریقہ کے مغربی کنارے پر سرئی لیون کے ساحل پر ملا تو اُس کی ہدایت پر انہوں نے مناسب بحری ہواؤں کا انتظار کیا اور پھر وہ انہیں ہندوستان کی سر زمین پر بحرِ ہند کو پار کر کے ۱۴۹۸ میں کلکتہ کے قریب لا کر لنگڑ انداز ہوا۔ پُرتگالی مشن کا یہ راستہ تلاش کرنے کی وجہ ایک محفوظ تجارتی راستے کی تلاش تھی جو راستہ میں اسلامی ممالک کے زمینی راستوں پر نہیں جانا چاہتے تھے۔ تب بھی سرزمینِ ہندوستان سے وہ مصالحوں، زیرہ اور دارچینی کی تجارت کرتے تھے۔ بحیرہ ٔروم میں بھی ہسپانوی اور مسلم قزاقوں کے ہاتھوں انہیں پریشانی لاحق رہتی تھی۔
یوں۱۵۰۰ میں اِس مشن کے دوسرے بحری جہاز پر سینٹ فرانسس زیویر (Saint Francis Xavier) بھی پُرتگال سے آئے اور یہ دیکھ کر کہ سوائے کیریلا میں ۲ فی صد توما رسول کے پیروکارمسیحی کے علاوہ یہاں کوئی نہیں ہے جو نجات کے اہم کام کو مشن کے طور پر کر رہا ہو۔ تب وہ سرزمینِ ہندوستان کے ہی ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے ’سوسائٹی آف جیزز‘بنائی اور اِس کی زیرِسرپرستی یہ لوگ پہلی مرتبہ گوا (Goa)میں پہنچے۔ یوں ۱۵۰۰ ء سے جنوبی ہندوستان میں مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ بمبئی اور ٹریون کور کے علاقوں میں مسیحیت کا پرچار شروع ہوا۔ یہ غریب مچھیروں کو مفت چاول پکا کر دیتے تھے اور یوں اُن کے بچوں کو علاج اور تعلیم اور دنیا کی بدعتوں اور مصیبتوں سے چھٹکارے کے مشن کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ مدر ٹریسہ (mother Tresea) جیسے لوگوں کی تاحیات خدمت کی کہانیوں سے بھرپور ہے۔ ہندوستان میں یہ کلیسا بھی غریب اور نادارلوگوں کی جماعت ہے۔
ہندوستان کی تاریخ میں ۱۷ سے ۱۸ صدی کا دور جہاں مغل سلطنت اور اُس کی بیشتر تہذیب اور معاشرت کو اختتامی رنگ میں ڈبو رہا تھا وہاں ہندوستان میں انگریز سپاہی معاشرت نے یہاں کے سماج کو گہرے دھچکے دئیے۔ آئیے پہلے ایک معجزاتی کلیسیا کا ساردھنہ میں خاموشی کے ساتھ بڑھنا دیکھتے ہیں، یہ جاگیر نئی دہلی کے شمال مشرق میں اُتر پردیش کے علاقہ میں ہے۔ ساردھانہ، ہندوستان میں واقع یہ کہانی ایک ناچ گری کے طبقہ کی لڑکی زیب النسا ءکی ہے۔ یہ ایک پٹھان نژدنو جوان کی بیٹی تھی، جو ۱۴ برس کی عمر میں دہلی کے ایک طوائف خانہ سے، نواب والٹر رینیڈ ہارڈئیٹ(Walter Reinhardt Sombre) نے قیمتاً لے لی جب وہ ۴۲ سال کے تھے، انہوں نے اُسے نواب زادی کا رتبہ دیا اور ساردھانہ کی جاگیر اُن کے حوالہ کر دی۔ بعد کے دور کی تاریخ میں یہ بیگم سومرہ کے نام سے پہچانی جاتی ہیں اور ساردھانہ شہر کے نام سے منسوب ہوئیں۔ یہ جاگیر بعد کے ا وقات میں شاہ عالم دوئم جو مغلیہ دور کے آخری ادوار کی بادشاہت میں اُن کی نظرِکرم سے، ایک مخصوص حیثیت سے نظر آتی ہے۔
چونکہ یہاں پر انہوں نے ذاتی حیثیت میں،ایک خونی جنگجو فوج (mercenary soilders or assasians)بنا رکھی تھی۔ جو کہ اُن کے خاوند نواب رینیڈ ہائیٹ نے تیار کی ہوئی تھی۔ یہ فرانسیسی نسل سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو تاریخ ’ٹرن کوٹ‘( turn-coat) یعنی زمانہ ساز، طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لینے والا،کے نام سے تحریر کرتی ہے۔ طبی اور نفسیاتی دائرہ میں اِس سے مراد ایسا شخص ہوتا ہے جو وقت آنے پر اپنا روپ بدل کر حالات کے ساتھ ہاتھ ملا کر ایک سیاسی ساتھی بن جائے، جیسے ایک پاکستانی اصطلاح عام ہے یعنی ’لوٹا‘۔ یہ افغان افواج سے لڑنے کے لئے مغلیہ فوج کی بھی مدد کر لیتے تھے اور بہتر معاوضہ ملنے پر انگریزوں کے ساتھ بھی مل جاتے تھے۔ یہ جاگیر بھی انہیں ایسے ہی کسی کام کے انعام کے طور پر عنایت ہوئی تھی۔ مقامی خواتین سے شادی کر کے یہ لارڈ سے نواب صاحب بن گئے۔ زیب النسا سے پہلے بھی اِن کی ایک بیوی تھی جس کا ذکر بڑی بیگم اور اُن میں سے صاحب زادوں کا بھی ذکر ہے۔ زیب النسا عرف بیگم سومرو اپنے شوہر کے لئے مسیحی ہوئیں جو اُس وقت یورپ میں رائج کیتھولک فرقہ والی مسیحیت تھی۔ اِسی لئے اِن کا عقیدت اور دلجوئی سے بنایا ہوا گرجا بعد میں ذاتی شوق کے علاوہ آج ’بیسلہ آف آور لیڈی آف گریس‘ (bacilla of our Lady of Grace)کہلاتا ہے۔ یہ میرت اور دہلی سے چند گھنٹوں کے فاصلہ پر اُتر پردیش میں ہے۔اِن کی سرزمینوں پر کام کرنے والے اور جاگیر کی کھیتی باڑی میں جٹ قبائل اور دیگر بہار اور اُتر پردیش کے لوگ ۱۸۲۲ میں کیتھولک فرقہ میں آچکے تھے۔ یہ ہندوستان کی سرزمین پر قائم ہونے والی غریب طبقہ کی کلیسیاہے۔ یہاں آج بھی ماہ نومبر میں نو روزہ میلہ یا مریم کا عرس بطور کنوینشن یا حج منعقد کیا جاتا ہے۔ گرجا سے دور پارکنگ کی جگہ ہے جہاں سے لوگ پیدل سنگِ مرمر کے راستہ پر اندر تک جاتے ہیں۔ اِس سے منسلک قبرستان میں بیگم کے علاوہ اِن سے رابطہ اور رشتہ کے بہت سارے لوگوں کی آخری آرام گاہ موجود ہے۔
You have read 12% of Azan-e-Naza / اذانِ نزع. The full e-book picks up right where this stopped.