Check out our most recent publications
وہ چاند ہے میرا دل - wo Chand Hai Mera Dil- love story novel in Urdu
Free sample · no sign-up

وہ چاند ہے میرا دل - wo Chand Hai Mera Dil- love story novel in Urdu

by Faiza Ehtasham

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

وہ چاند ہے میرا دل

 

فائزہ احتشام

 

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

 

ISBN Print: 978-969-696-543-5

 



 

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

مدیرۂ خصوصی

ردا ملک

 

مدیرانِ معاون

فریال زہرا

نرمین سرھیو

__

 

سرورق کے جملہ حقوق انس عامر شیخ اور محمد انس عابد  کے نام محفوظ ہیں

 

 

 

انتساب

 

میں اس کتاب کو اپنے تمام گھر والوں کے نام کرتی ہوں جنہوں نے محبت اور حوصلہ افزائی کے ساتھ اس پورے سفر میں میرا بھرپور ساتھ دیا اور اسے میرے لئے بہت آسان اور خوش گوار بنایا۔

 

فہرست

اداریہ............................... ix

پیش لفظ........................... xiii

میرا سفر.......................... xvi

باب 1 – دشتِ تنہائی............... 21

باب 2 – آتشِ ہجر.................. 83

باب 3 – نویدِ وصل............... 129

باب 4 – کرن..................... 156

باب 5 – ارمان.................... 217

باب 6 – خوابوں کی کرچیاں........ 243

باب 7 – خبر...................... 266

باب 8 – رہائی..................... 314

باب 9 – دل پر دستک.............. 366

باب 10 – زہر..................... 410

باب 11 – ڈنک.................... 465

باب 12 – جال..................... 509

باب 13 – تدبیر.................... 544

باب 14 – زہر مار................. 571

باب 15 – چاند سی روشن محبت.... 604

مصنفہ کا تعارف.................... 625

 

دور اندھیر فلک پہ
دنیا کی خلوت میں،

روشن ہے پھر بھی یہ
طوفان کی قربت میں،

جلتا ہوا سا دِیا
آسمان کی چادر پہ،

وہ چاند میرا دِل ہی تو ہے
تیری محبّت میں،

ٹھہرا رہے گا یہ
روشن رہے گا یہ،

اَپنی دعاؤں میں چاہے تو نفرت سے
میری موت بھی مانگ لے

 

اداریہ

الفاظ کے مناسب چناؤ سے منظر یا واقعہ کو پیش کرنا ہی اصل فن ہے۔ اسی فن میں مصنفہ’’فائزہ احتشام‘‘ اپنے ناول میں اپنے مخصوص منجھے ہوئے انداز سے کامیاب نظر آتی ہیں۔ ناول ’’یہ دل ہے چاند میرا‘‘ اپنے اسلوب کے سبب نہ صرف اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ بیانیے میں عمدہ اور برمحل الفاظ کا استعمال کہانی کو جان دار بناتا ہے بلکہ مناظر کی دل کشی میں اضافہ اور تخیل کی بلند پروازی کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے۔ لیکن اس کہانی کی خوبی صرف زبان و بیان ہی نہیں بلکہ وہ پلاٹ بھی ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور قصہ در قصہ بات یوں آگے بڑھتی ہے کہ تجسس کی لہر برقرار رہتی ہے۔ اسی لہر میں تصادم کی کئی صورتیں یوں حائل ہوجاتی ہیں کہ کبھی لگتا ہے کہ یہ لہر آسمان تک اٹھ جائے گی اور کبھی یوں معدوم ہو جائے گی کہ گویا اس کا وجود ہی نہ ہو۔

یہ کہانی محبت کے جذبات کی عکاس ہے۔ اس کے کردار اس کی ڈور سے بندھے نظر آتے ہیں۔ کہیں غم گین جذبات حاوی ہوجاتے ہیں تو کہیں ذوقِ شاعری مچلتا نظر آتا ہے۔ کہیں قہقہے چھپے نظر آتے ہیں اور کہیں دل زخمی سا پھرتا ہے۔

ایک بہترین اور عمدہ ناول منجھے ہوئے انداز میں پڑھنے کے لیے تیار رہیں۔

نرمین سرھیو

اردو مدیرۂ اعلیٰ، داستان

 

ایک قاری جب بھی کوئی کہانی پڑھتا ہے تو وہ صرف اس کے الفاظ کو ہی نہیں پڑھ رہا ہوتا بلکہ ان کے معانی میں پنہاں احساسات و جذبات کو بھی دل کی گہرائیوں سے محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ ایک تحریر کی کامیابی کی ضمانت اس کا بامعنی اور پُراثر ہونا ہے۔”وہ چاند ہے میرا دل“ بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے۔

فائزہ احتشام کے قلم سے تخلیق ہوئی دو دلوں کے ملاپ کی ایک ایسی داستان جس کا گواہ خود چاند ہے۔ یہ زائنا اور ریان کی محبت کی کہانی ہے جو برسوں پہلے حاسدوں کی سازشوں کے نتیجے میں جدا ہوگئےتھے اور اب جب قسمت انھیں پھر سے ملاتی ہے تو حاسدین ایک دفعہ پھر ان کی راہوں میں رکاوٹ ڈالنےکےلیےسرگرم ہوجاتے ہیں۔

یہ کتاب قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا مطالعہ کرتے ہوئے مناظر کا طلسم آنکھوں کے سامنے چھا جاتا ہے اور کردار آس پاس چلتے پھرتے محسوس ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ قاری خود کو بھی اس کہانی کا ہی حصہ تصور کرنے لگتا ہے؛ وہ کرداروں کی حماقتوں پر ان کے ساتھ ہنستا، ان کے دکھ میں غم گین ہوتا، دل چسپ واقعات سے حظ اٹھاتاان کی کامیابی کا دل سے متمنی ہوتاہے۔

مصنفہ کی پہلی کتاب ہونے کے باوجود بھی اس کا اسلوب منجھا ہوا اور منفرد ہے۔ ہر بات اس دل چسپ پیرائے میں بیان ہوتی ہے کہ تحریر کو مزید پُر اثر بنا دیتی ہے۔

اس قدر اچھا لکھنے اور کتاب کی اشاعت پر مصنفہ کو بہت مبارک باد!

فریال زہرا

اردو مدیرہ، داستان

 

پیش لفظ

فروری کی ایک دھندلی شام میں میری فائزہ احتشام سے جدید آدھی ملاقات یعنی بذریعہ ایک فون کال ہوئی۔ ایک دوست کے ذریعے یہ رابطہ ممکن ہوا تھا کیونکہ انہیں کچھ کام لکھوانا تھا۔ چند دنوں کے دوران معلوم ہی نہ پڑا کب ان سے ایک دوستی اور محبّت کا تعلق قائم ہو گیا۔ ایک دن باتوں باتوں میں یوں ہی انہوں نے ایک اردو ناول لکھنے کا اظہار کیا تو مجھے لگا شاید یہ کوئی وقتی جوش ہوگا۔ ایک مکمل کتاب لکھنا ہر کسی کے بس کی بات تو نہیں کیوں کہ یہ سالوں کی سوچ، کوشش اور محنت کے بعد کاغذ کے پنوں پر لفظوں کی صورت میں تکمیل پاتی ہے مگر ان کے مسلسل اصرار پر مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ایک بلند حوصلہ خاتون ہیں جن میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ اور خود کو منوانے کی لگن کس حد تک پائی جاتی ہے۔ اس دن مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ وہ آنے والے وقت کی ایک معروف ناول نگار بننے والی ہیں۔

’’وہ چاند ہے میرا دل‘‘ ایک رومانوی کہانی ہے جسے فائزہ احتشام نے بہت چاہت سے بُنا ہے۔ کسی پودے کا بیج لگاؤ تو اسے کھاد، پانی اور دیکھ بھال صفائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے خاص محبت کے ساتھ سینچو تو وہ ایک تناور درخت کی صورت محنت کا رنگ دکھلاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی یہ کہانی محض دو کرداروں کی کھوئی ہوئی محبت کے گرد نہیں گھومتی بلکہ چاہت، دوستی، بہن بھائیوں کی محبّت، والدین اور اولاد کے رشتے، اور نوکر اور مالک کے تعلق کو مثالی طرز پر دکھاتی ہے۔ اس قدر رکھ رکھاؤ اور اپنائیت کبھی ہمارے آباؤ اجداد کی روایات اور ہماری تہذیب کا خاصا تھی۔ صد افسوس کہ یہ خالص رشتے اور ایسی جذبات کی پاکیزگی اب ہمارے معاشرے سے ناپید ہوتی جا رہی ہے مگر فائزہ نے بہت باریک بینی سے انہیں اپنے قلم کے ذریعے اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے سب سے بڑھ کر انسان اور رب کا تعلق اس نہج پر دکھایا ہے جو ہر عام انسان رکھتا تو ہے مگر مایوسی کے اس دور میں ناامید ہو کر دعاؤں کی قبولیت کو محض خاص طبقے سے جڑا اللہ کا فضل سمجھنے لگتا ہے۔ یہ ناول رب سے رشتے کو مسلسل ہر پڑاؤ میں تازہ کرتا رہتا ہے۔ یہ کہانی صرف دو دلوں کی چاہت کی نہیں بلکہ کامل یقین اور سچی لگن سے مانگی دعاؤں کی قبولیت کی دلیل بھی ہے۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ رمضان کا پہلا عشرہ تھا اور مدیرۂ خصوصی کے ناتے میرا فائزہ سے تقریباً چوبیس گھنٹے کا رابطہ رہتا تھا۔ علی الصبح ہو یا پھر افطاری کے قریب کا وقت، میں نے فائزہ کو ہمیشہ اس ناول کو مکمل کرنے میں مصروف عمل پایا۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ آخر ایک انسان اتنی انتھک محنت کیسے کر سکتا ہے۔ لگتا تھا جیسے انہیں ایک جنون سوار تھا کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب ان کی کہانی ایک مکمل ناول کی صورت میں میرے پاس آئی تو مجھے یقین ہو گیا کہ میرا اندازہ غلط نہیں تھا۔ فائزہ احتشام اردو ادب کے افق پر ابھرتا وہ روشن ستارہ ثابت ہوں گی جو اپنی روشنی سے بہت سے مزید دیے بھی جلائےگا۔ ان کا پہلا ہی ناول’وہ چاند ہے میرا دل‘ ایک ایسا شاہکار ہے جس میں قارئین کو اپنی زندگی کی ایک جھلک دکھے گی۔ ایک ایسا سبق ضرور ملے گا جو ان کی زندگی میں امید کی کرن بن کر مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

ردا ملک

ridanaeem.malik@hotmail.com

 

میرا سفر

میں فائزہ احتشام!نہ میں مصنفہ ہوں نہ شاعرہ اور نہ اس سے قبل کبھی کوئی کتاب یا ناول پڑھنے کا شوق ہوا۔یہ میری زندگی کی پہلی نثری تخلیق ہے جس سے مجھے خود کو ایک بالکل الگ سطح پر دریافت کرنے کا موقع ملا۔اس کتاب نے مجھے میری شخصیت کے اس حصے سے ملوایا جس کو میں جانتی بھی نہ تھی کہ وہ میرے اندر موجود ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے دس سال پہلے جب پہلی بار میں نے شوق سے ایک کتاب اٹھائی کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں جہاز کے اس لمبے سفر میں پڑھوں گی تو ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھے میرے امی اور بابا نے مجھے ایسے دیکھا جیسے بچے کارٹون دیکھ کر محظوظ ہوا کرتے ہیں۔لاکھ چھپائے بھی ان سے اپنی امڈتی ہنسی نہ چھپ سکی۔ان کا یہ طرزِعمل بجا تھا، جن ماں باپ نے کبھی اپنی بیٹی کے ہاتھ میں کوئی کتاب نہ دیکھی تھی وہ ہنستے نہ تو اور کیا کرتے۔یہ دیکھ کر یکا یک میں بھی دل ہی دل میں خود پر ہنس دی کہ میں کہاں یہ تین انچ موٹی کتاب پڑھنے کے چکر میں پڑگئی۔کتاب سائڈ پہ رکھی اور اسی طرح وہ کوشش بھی نا کام ہو گئی۔

پھر زندگی کی چلتی رفتار میں کون سی سمت کو نکل گئی کچھ پتہ ہی نہ چلا۔ایک روز کسی کی مدد کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی، محض تین منٹ کی، کہانی نے دماغ میں جنم لیا اور تین منٹ کی کہانی نے کب ایک طویل داستان کی شکل اختیار کر لی مجھے اندازہ ہی نہ ہوا۔یوں ہی ایک دن دوپہر کا کھانا کھاتےہوئے میز پہ گھر والوں سے مذاق کیا کہ میں تو کتاب لکھنے لگی ہوں، بے ساختہ ان کی ہنسی چھوٹ گئی اور کیوں نہ چھوٹتی، آخر مذاق ہی تو کیا تھا میں نے۔کیا پتہ تھا کہ وہ معصوم سا مذاق میرےہنر کو یوں ڈھونڈ لائے گا جیسے پتھر کو تراش کر ہیرا ڈھونڈا جاتا ہے۔

خود ہی جیسے کسی نےقلم پکڑا دیا۔لکھنے کے لئے قلم اٹھایا تو سمجھ ہی نہیں تھی کہ کہاں سے شروع کروں اور کیا لکھوں۔ناول تو کبھی کوئی پڑھا نہ تھا۔ناول کیا سکول کے کورس کی کتابیں بھی بمشکل، بلکہ مجبوری میں، محض پاس ہونے کی غرض سے پڑھی تھیں۔میں نے سوچا، کتنی اعلیٰ سوچ کے موتی پرو کر مصنف لکھتے ہوں گے وہ لمبے لمبے ناول اور افسانے۔بھلا میں کہاں اتنی ذہین جو ان کی برابری کرنے جا نکلی۔پھر سوچا کون سا حقیقت میں میری کتاب چھپ جانی ہے کچھ بھی لکھ لیتی ہوں۔نت نئے شوق سے لطف اندوز ہی ہو جاؤں شاید۔کہانی کے وہ بکھرے ٹکڑے جو کاغذ پہ تحریر تھے انہیں بس اپنے انداز میں جوڑنا شروع کیا۔وہ رات بہت لمبی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے ۲۰ صفحے لکھ ڈالے۔ایسا محسوس ہوا کہ ابھی تو شروع ہی کیا تھا لیکن باہر سے آتی مرغے کی اذان کی آواز سے وقت کا ہوش آیا تو فجر کا پہر آچکا تھا۔وہ فجر کی اذان کی روحانیت تھی یا پوری رات سے بے لگام دوڑتا قلم جس نے آخر کار مجھے احساس دلایا کہ میں یہ کر سکتی ہوں۔میں یہ کر لوں گی۔

بڑا حسین سفر تھا۔بہت کچھ سیکھا، بہت کچھ سمجھااور نئے لوگوں سے ملی۔نئے لوگوں سے مل کر اکثر اچھا لگتا ہے لیکن وہی نیا شخص اگر اپنے اندر سے نکلے تو چار چاند لگ جاتے ہیں۔میرے اندر سے بھی ایک نئی فائزہ کی دریافت ہونا نہ صرف میرے لئے بلکہ میرے تمام گھر والوں کے لئے ایک بے حد دلچسپ تجربہ تھا۔

وقت گزرا، فروری سے اپریل آگیا۔ان دو ماہ میں وہ ۲۰ صفحے اب ۶۰۰ صفحے بن چکے تھے۔میری کہانی اب تک بہت سے نرالے موڑ لے چکی تھی۔کچھ آنکھوں دیکھی حقیقت، کچھ زندگی سے سیکھا تجربہ اور کچھ میرے تصورات کے موتی بڑی خوبصورتی سے مل کے ایک کتاب کی شکل اختیار کر چکے تھے۔لیکن کہانی مکمل ہو کے بھی کچھ تھا اس میں جو جاننا باقی تھا۔یوں ہی جیسے زندگی میں آگے کیا ہوگا وہ جاننا باقی ہے اور وہ انتظار کر کے ہی جانا جاتا ہے۔اسی طرح اس کتاب میں جو راز پوشیدہ ہیں وہ ان شاءللہ میری آنے والی کتاب میں افشاں ہوں گے۔تو جیسے آج میں رہ کر ہم مستقبل کا انتظار کیا کرتے ہیں مجھے اُمید ہے کہ آپ بھی میرے اگلے ناول کے منتظر رہیں گے۔ اپنے آج کی خوشی سے لطف اٹھائیں اور دکھ سے سیکھیں کیونکہ کچھ بھی ہمیشہ نہیں رہے گا، نہ خوشی نہ غم!

میری یہ کتاب اللہ کے نام پہ جو بڑا مہربان اور نہایت رحیم ہے۔ ہم انسان اپنے ماضی ، حال اور مستقبل کی فقر میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی کے ڈور تو اس ذات کے ہاتھ میں ہیں کہ سانس لینے کے لیے بھی جس کے حقم کے محتاج ہیں۔

کمال ہے اس کی قدرت اور بے مثال ہے اس کی تدبیر۔ بندے کی سوچ و فقر اس کی تدبیر کے آگے ایک رائی کے دانے کی مانند بھی نہیں رکھتی۔ انسان اپنے لئے اور دوسروں کے لئے کیا کیا منصوبے بناتاہے کتنی محنت کرتا ہے لیکن اس خالق دو جہاں کے منصوبے جب نافذ ہوتے ہیں تو بندہ اور اس کی ہر منصوبہ بندی ڈھیر ہو جاتی ہے۔ وہ بے شک طاقت رکھتا ہے کہ مٹی سونا اگلنے لگے یا خزانوں سے لت پت محل بھی ایک لمحے میں مٹی ہو جائیں۔

اندھیرے میں اجالا کرے
یہ تیری قدرت،
روشنی کو بھی کالا کرے
یہ تیری طاقت،

خوشیوں میں غفلت کروں
یہ میری فطرت،
پھر بھی تو عطا کرے
یہ تیری ہمت،

یہ دنیا یہ ذمانہ
ہے میری الفت،
جنّت میں ہو بسیرا میرا،
وہ تیری چاہت

 

اپنا اور اپنوں کا خیال رکھیں اور میری اس تحریری پہل کو انجوائے کریں۔

فائزہ احتشام

 

باب 1 – دشتِ تنہائی

آج آسمان پرعجیب اداسی چھائی ہوئی تھی۔گہرے بادل آسمان پر چھائی کسی بلا کا منظر پیش کر رہے تھے۔یہاں تک کہ ان کے رقص سے چاند تک مِٹ چکا تھا۔یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی کا سوگ منانا ہو۔ٹھنڈی تیز ہواؤں نے سڑکیں وقت سے پہلے سُنسان کر دی تھیں۔پتوں کی سرسراہٹ ماحول کو مزید بے چین کر رہی تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے تیز بارش شروع ہو گئی اور ہر شَے کو رلانے لگی۔ایسے میں وہ شاندار بنگلہ زمانے کی سختیوں سے اپنے باسیوں کو تحفظ دیتا ہوا وہ بزرگ لگ رہا تھا جس کے سینے میں ان گنت راز پوشیدہ ہوں۔اک تیز ہوا کا جھونکا آیا اور بارش کی بوندیں بنگلے کی اِک بلند کھڑکی پر پٹخنے لگا۔

ذرا کھڑکی سے اندر آؤ تو نائٹ بلب کی مدہم روشنی میں سفید پینٹ اور گرے پردوں میں چھپا کشادہ کمرہ رہنے والے کے رکھ رکھاؤ کا منہ بولتا ثبوت تھا۔بائیں ہاتھ پر لگے ایکویریم میں قیمتی چھوٹی مچھلیوں سے لے کر سامنے ڈریسنگ پر رکھے پرفیومز تک، نفیس قالین اور برانڈڈ فرنیچر حتیٰ کہ ہر چیز ہی خریدنے والے کے اعلیٰ ذوق کی مثال تھی۔مگر یہ کیا کہ دائیں ہاتھ پر میز پر رکھے پھول مُرجھائے ہوئے لگ رہے تھے۔شاید انہیں تازہ پھولوں سے بدلنے کا وقت آگیا تھا۔اِن سے آگے سامنے بستر پر ایک خوبرو شخص سویا ہوا تھا۔یوں جیسے اِسے کسی شے کا غم نہ ہو۔یوں کہ اس کی بند آنکھیں دیکھ کر نجانے کیوں ان کا عکس دیکھنے کی خواہش پیدا ہو جائے۔مگر ذرا مزید قریب آؤ تو الگ ہی کہانی رقم ملتی تھی۔نیند میں بھی اس کے چہرے پر اضطراب موجود تھا جو دیکھنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ آخر اسے کیا تکلیف ہو سکتی تھی۔ایک دم اس نے پھولی سانسوں کے ساتھ آنکھیں کھول دیں جن میں خوف صاف ظاہر تھا۔اُس نے گھبراہٹ میں اُٹھ کر سائیڈ ٹیبل پر پڑا قیمتی لیدر کا والٹ اٹھایا اور کھول کر اس میں موجود سالوں پرانی تصویر کو دیکھا۔یکایک اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں اور اس نے والٹ بند کر کے ایک طرف رکھ دیا، یوں جیسے اس تصویر کو آنکھ بھر کر دیکھنے سے بھی ڈرتا ہو کہ کہیں داغدار نہ ہو جائے، یا کہیں کھو نہ جائے۔وہ بے اختیار تیز سانسوں کے ساتھ بیڈ سے اُتر کر قالین پر بیٹھ گیا۔یہ وہ وجیہہ شخص تو کہیں سے نہ لگ رہا تھا، یہ تو کوئی ہارا ہوا جواری یا کوئی بھکاری لگ رہا تھا۔اُس نے ٹھنڈی آہ بھری اور بھیگے آسمان کی طرف دیکھا۔بے اختیار وہ گڑگڑایا، ”یا الله!ایک بار۔۔۔بس ایک بار مجھے اس سے ملوا دے۔اب کی بار اسے کھونے نہیں دوں گا۔بہت سنبھال کر رکھوں گا۔کہیں جانے نہیں دوں گا۔ایک۔۔۔صرف ایک بار اسے مجھ تک لے آ۔یا رب!میرے دل کو سکون نہیں ہے۔وجہ تو بہتر جانتا ہے۔بس ایک آخری موقع دے دے کہ اس کی ساری شکایتوں کو دور کر سکوں۔بس یہ فاصلے مٹا سکوں۔“

بیشک اِنسان جب تکلیف میں ہوتا ہے تو یا ماں نظر آتی ہے یا ستر ماؤں کا روپ لئے رب۔اس کے دل کی بے سکونی چہرے پر عیاں تھی۔کرب سے اک باغی آنسو آنکھوں کی قید سے آزاد ہو کر قالین میں جذب ہو گیا۔یہاں اس کا آنسو بہا وہاں کھڑکی کے اس پار آسمان بھی زار و قطار رو دیا۔جس کے بھی کھو جانے پر اس کی یہ حالت تھی وہ یقیناً بہت خوش قسمت ہو گا۔

”آخر کس کو کھو دیا تھا اِس نے؟اور کیوں؟“اُداس آسمان نے سوال اٹھایا۔

”کون جانے۔۔۔کون جانے!“بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند نے سرگوشی کی۔

***

”زائنا!زائنا!زائنا!“

گہری رات میں کُھلے آسمان کے نیچے کانسرٹ میں موجود لڑکے لڑکیوں کا ہجوم جو اپنے پسندیدہ سنگر کو اسٹیج پر دیکھنے کے لئے بےتاب تھے۔سُریلی آواز کا جادو تو الگ، لڑکے اس کی ایک جھلک دیکھنے کےلئےاور لڑکیاں اس کے رکھ رکھاؤ کی دیوانی تھیں۔اپنے نام کے گونجتے شور میں، سپاٹ لائٹ کی تیز روشنی میں اسٹیج پر گنگناتے ہوئے آتی سفید میکسی میں ملبوس سنگر دیکھنے اور سننے والوں کو اپنے دلوں میں اترتی محسوس ہوتی تھی۔سیاہ بالوں کا بن بنائے وہ کوئی لاپرواہ حسینہ معلوم ہوتی تھی۔مدھر آواز میں کانوں میں رس گھولتے ہوئے وہ خود بھی کسی اور جہان میں پہنچی ہوئی تھی۔ایک نزاکت اور ایک ان دیکھا، ان سنا سا کرب تھا اس کی آواز میں۔یوں کہ جیسے اس کی روح تک اس کی تکلیف کی غماز ہو۔مگر اس کے اندر کے خالی پن کو سامعین کی داد نے چھپا رکھا تھا اور وہ خود بھی لمحہ بھر کے لئے سب بھولے بس”زائنا!زائنا!“کی گردان میں آنکھیں بند کئے جھوم رہی تھی۔

اچانک ایک چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اسے جھنجھوڑ کر آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا، مگر یہ کیا؟سائیڈ میز پر موجود الارم کلاک غصے میں تھرتھراتے ہوئے نیچے گرنےکو پر تول رہا تھا۔

”آہ۔۔۔نہیں!“

اس نے زور سے آنکھیں میچیں کہ شاید دوبارہ واپس اسٹیج پر اُتر سکے مگر ٹوٹے خواب بھی بھلا کبھی واپس جُڑے ہیں۔

اب جدائی کے سفر کو آسان کرو
تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو

گہری سانس لے کرچیختے آلارم کا گلا گھونٹا اور اُٹھ بیٹھی۔یہ وہ خواب والی زائنا تو کہیں سے نہ تھی۔سُوجی ہوئی کانچ سی آنکھیں، بکھرے سیاہ بال اور گھسے ململ کے سفید کپڑے اس کے پریشان حال ہونے کا ثبوت دے رہے تھے۔نظر دوڑائی تو سامنے کھڑکی کے اس پار سورج پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا۔

اس نے بیزاری سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی۔سوچ میں ڈوبےہوئے سامنے دیوار پر نظر جمائی تو اپنی زندگی کسی فلم کی طرح چلتی ہوئی دِکھنے لگی۔ٹوٹے خوابوں کی چبھن زائنا کی کانچ سی آنکھوں میں اتری نمی کو بڑھانے لگی۔یادوں سے جان چھڑا کر اس نے دائیں ہاتھ پر لیٹے7 سالہ ارحم کو دیکھا تو بے اختیار ایک مسکان چہرے پر امڈ آئی۔

”میرے جینے کی وجہ!“مسکراتے ہوئے زائنا نے سرگوشی کی اور ارحم کا گال تھپتھپایا۔

”اٹھ جاؤ اَرحم صبح ہو گئی!“

”اوہوں۔۔۔“ارحم کسمسایا۔

زائنا نے اس کا ماتھا چوما۔

”ارحم!اٹھ جاؤ بیٹا سکول کا ٹائم ہو رہا ہے۔“

مندی مندی معصوم آنکھیں کھلیں مگر زائنا پر ایک ٹیڑھی نظر ڈال کر وہ منہ موڑ گیا۔

”کیا ہوا بیٹا؟“اس نےبیڈ سے اترتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔

”موم آج جانا ضروری تو نہیں۔“نیند میں ڈوبے ارحم نے جواب دیا۔

”کیوں نہیں!روز ہی جانا ضروری ہوتا ہے۔۔۔اور ویسے مجھے یاد پڑتا ہے کہ آج تو تمہارا ٹیسٹ بھی ہے۔۔۔ہمم!“زائنا نے بے ساختہ امڈتی مسکراہٹ کو دبا کر کہا۔

”موم یہ سب روز روز کرنا بہت۔۔۔بہت بورنگ لگتا ہے۔“ارحم نے اکتائےہوئے لہجے میں کہا۔

زائنا کی مسکراہٹ یک لخت سمٹی۔

”ہاں پر اب تو سب روز روز کرنا ہی زندگی ہے۔“اس نےبس سوچا مگر کہا نہیں۔

ارحم کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے اسے گدگدی کی تو اس کی ساری نیند بھک سے اُڑ گئی اور وہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔

”چلو اٹھ جاؤ اب۔۔۔شاباش!“

”اوکے موم!“

 ارحم کو گود میں اٹھاتے ہوئے اسے واش روم تک لے کر گئی۔

”جلدی سے برش کر کے ٹیبل پہ آ جاؤ۔میں ناشتہ بناتی ہوں۔“

”ٹھیک ہے!“

”دیر نہیں کرنا!“واش روم سے نکلتے ہوئے اس نے کہا۔

”ڈونٹ وَری موم!“اَرحم نے واش روم سے جواب دیا۔

 وہ خود تیزی سے کمرے سے نکلی اور منہ ہاتھ دھو کر کچن میں ناشتہ بنانے آئی۔اسے لگا کہ آج تو وہ ضرور لیٹ ہو جائے گی۔

”ارحم۔۔۔!“زائنا نے کچن سےآواز لگائی۔

”آ گیا موم!“اَرحم دوڑتا ہوا پہنچا۔

جلدی سےدونوں نے ناشتہ کیا اورارحم کے گیلے بالوں کو سنوار کر زائنا نے اسے یونیفارم پہنایا۔

”ٹیسٹ یاد ہے نا؟“جوتے پہناتے ہوئے اس نے پوچھا۔

”یس موم!“

”گڈ، بھولنا نہیں اور بہت اچھا ٹیسٹ دینا۔“زائنا ہمیشہ کی طرح کہنا نہ بھولی۔

”ٹھیک ہے موم!“

 ٹیسٹ دہرانے کا بول کر زائنا خود بھی تیار ہونےچلی گئی۔سادہ بھوری قمیض شلوار میں میک اپ سے پاک چہرہ لئے وہ اک باوقار شخصیت کی مالکن دکھ رہی تھی۔زائنا کا یہ روپ نسبتاً بہتر دکھ رہا تھا۔بس کا ہارن سننے پرارحم کا ہاتھ پکڑےوہ تیزی سے باہر کی طرف آئی اور گھر کو لاک کرنے لگی۔ارحم تیزی سے سیڑھیوں کی طرف دوڑا۔

”ارحم!۔۔۔نو!“

وہ جلدی سے لاک گھما کر اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے بڑھنے لگی۔

”موم کو پریشان نہیں کرتے بیٹا!“اس نے ارحم کی سرزنش کی۔

”سوری موم!“نہایت شرافت کے ساتھ جواب آیا۔

بلڈنگ کے سامنے ایک پیلی سکول بس تیار انتظار میں کھڑی تھی۔

”السلام علیکم!“

”وعلیکم السلام!“بچوں اور ڈرائیور نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔ارحم دوڑتے ہوئے اپنے کلاس فیلوز کے پاس جا پہنچا۔

”?Who do you do Ma'am“

”حبیب بھائی!How do you doہوتا ہے۔“اس نےمُسکرا کر جواب دیا۔

”اوہ!میڈم تھوڑی سی spelling کی mistake ہو گئی۔“

”!Me bad“

”e bad‏M نہیں My bad ہوتا ہے۔“زائنا نے تصحیح کی۔

”جی وہی تو میڈم جی۔“زائنا نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا اور سیٹ پر آ کر بیٹھ گئی۔کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔

کٹھن زندگی سے بیزاریت اس کے چہرے پر عیاں تھی۔بس کے بچوں اور ٹریفک کا شور اس کے اندر اٹھتے طوفان کے بوجھ میں کہیں دفن ہو کر رہ گیا تھا۔

”کیا اس زندگی کے خواب سجائے تھے؟یوں تو کبھی نہ چاہا تھا۔“وہ سوچ کر رہ گئی اور بس منزل کی طرف رواں تھی۔

اسکول پہنچے تو بچے تیزی سے اتر کر اپنی کلاسوں کی طرف ڈورنے لگے۔

”!Good Morning Ma'am“گزرتے بچے اپنا فرض ادا کرتے گئے۔

”!Good Morning“وہ بھی روز کا رَٹا جواب دہراتی رہی۔

زائنا حاضری لگا کر اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی۔سارے دن کی لگاتار کلاسوں کے بعد چھٹی کے وقت وہ ارحم کو ڈھونڈ رہی تھی جب مس سارا اس کے پاس آئیں۔

”سنو زائنا!“

”ہاں سارا، خیریت؟“

”ہاں ہاں۔۔۔وہ آج شام ہم سب نے ڈنر کا پلان بنایا ہے۔تم بھی چلو گی نا ہمارے ساتھ؟“سارا نے خوشدلی سے پوچھا۔

”بہت شکریہ سارا لیکن۔۔۔“

”دیکھو انکار مت کرنا زائنا، روز روز کب سب اس اسکول کے ماحول سے نکل کر مل بیٹھتے ہیں۔آج تو تمہیں آنا ہی ہوگا۔“مِس سارا نے اس کی بات کاٹی۔

”سارا آج بہت کام ہے۔“زائنا نےکمزور بہانہ بنایا۔

”کوئی نئی بات کرو۔“

”ارحم کو بھی پیچھے چھوڑنے کا مسئلہ ہوتا ہے تو۔۔۔پھر کبھی ضرور چلوں گی۔“

”تم اور تمہارے بہانے۔۔۔“سارا نے خفگی سے کہا۔

”ایسی بات نہیں ہے سارا۔“زائنا نے مسکرا کر بات کو ختم کرنا چاہا۔

”زائنا کبھی تو کام کے علاوہ بھی زندگی جی لیا کرو۔“سارا نے اکتائے ہوئےلہجے میں کہا۔

”اگلی دفعہ ان شاءالله ضرور چلوں گی۔“زائنا نے عاجزی سے سارا کے بازو پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔اتنے میں ارحم دوڑتا ہوا زائنا کی طرف آیا۔

”موم چلیں بس آ گئی!“

زائنا نے اس کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرا۔

”اچھا سارا چلتی ہوں اب، بس نکل جائے گی۔الله حافظ!“

”الله حافظ!“

ماں بیٹا ہاتھ پکڑے ہارن بجاتی بس کی طرف چل دیئے۔

”جی جناب تو کیسا رہا ٹیسٹ؟“

”ایک دم batman جیسا۔۔۔بہت اچھا!“ارحم نے اچھلتے ہوئے کہا۔

”اہاں۔۔ویری گڈ!“زائنا نے مسکرا کر ایک پیار بھری نظر ڈالی۔

 بس میں آ کر زائنا ایک ہی بات سوچنے لگی کہ شاید وہ واقعی زندگی سے بیزار ہو چکی تھی۔وہ زندگی گزار رہی تھی تو فقط ارحم کے لئے۔ایک ہی تو رشتہ تھا جو اس کے سانس لینے کی وجہ بن گیا تھا۔

 مگر کب تک؟

 کیا یوں زندگی گزرے گی؟

 کیا یوں وہ ارحم کو خوشی سے بھرپور مکمل زندگی دے پائے گی؟

ان سوالوں کے جواب ابھی اس نے خود سے جنگ میں تلاش کرنے تھے۔

گھر پہنچ کر ارحم کو چینج کروا کر کچن میں کھانا نکالنے آئی۔فریج سے کل رات کا سالن نکالا اور گرم کیا۔شیلف پر پڑے برتن اٹھائے، میز پر پلیٹ اور گلاس رکھا اور بَیٹ مَین سے باتیں کرتے ارحم کو آواز دی۔

”آ گیا موم!“ارحم دوڑتا ہوا ہاتھ میں بَیٹ مَین لئے کچن میں پہنچا۔

”موم دیکھیں میرے بَیٹ مَین نے مجھے کتنا مِس کیا۔“

”اچھا؟کیوں مِس کیا۔۔۔سارا دن تو یہ سو رہا تھا۔“

”موم وہ میں سارا دن اسکول میں تھا نا تو یہ مجھے یاد کرتے کرتے سو گیا۔“

زائنا کو بے اختیار ہنسی آئی۔

”تو کیوں نہ بَیٹ مَین کوبھی اسکول میں ایڈمٹ کروا دیں؟“اس نےارحم کے منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے کہا۔

”اوہوں۔۔۔“ارحم کو ساری محنت پر پانی پھیرتا ہوا یہ ظالمانہ مشورہ قطعاً پسند نہ آیا۔

”چلو جلدی سے ہوم ورک کر لو پھر بَیٹ مَین کے ساتھ کھیل لینا۔ٹیوشن کے بچے بھی آتے ہی ہوں گے۔“

کچھ دیر بعد ٹیوشن کے بچوں کو پڑھاتے ہوئے، ارحم کی فُٹ بال کی ٹھک ٹھک زائناکی توجہ میں بار بار مخل ہو رہی تھی۔

”ارحم!آپ جُنید کے ساتھ جا کر کھیل لو۔“زائنا نے ہدایت کی مگر ارحم جانے بَیٹ مَین کے ساتھ کون سے قصّے چھیڑے بیٹھا تھا کہ فُٹ بال کے شور میں زائنا کی بات نہ سن سکا۔

”ارحممم۔۔۔!“زائنا نے ذرا آواز بلند کی۔

”اوکے۔۔۔اوکے موم!“اس نے کہا اور باہر کی جانب دوڑ گیا۔زائنا سر جھٹک کر رہ گئی۔بچوں کے جانے کے بعد اس نے بکھری چیزیں سمیٹیں، اَرحم کے کھلونے اپنی جگہ پر رکھے اور اَرحم کو دروازے سے آواز دی۔دوڑتا ہوا ارحم ماں کی طرٖف آیا۔

”موم بھوک لگی ہے۔“

”اوہ میرا بچہ!سوری تھوڑا لیٹ ہوگیا نا آج۔ابھی کچھ مزے کا بناتی ہوں میں اپنے بےبی کے لئے۔“زائنا کو احساس ہوا کہ بچوں کے پیپروں کی مصروفیت میں اسے کھانے کے وقت سے دیر ہوگئی تھی۔

”کیا کھائے گا میرا موٹُو؟نوڈلز؟“زائنا نے پورے جوش و خروش میں ارحم کو پیار سے پکڑتے ہوئے پوچھا۔

”یسسس!۔۔۔Nooodless!“ارحم خوشی سے چلاّیا۔

تھکی ماندی زائنا جلدی سے کھانا بنانے لگی۔آدھے گھنٹے میں کھانے سے فارغ ہو کر زائنا کچن میں برتن دھونے لگی اور ساتھ ہی اس نے ارحم کے لئے دودھ گرم ہونے کےلئے چولہے پر چڑھایا۔ارحم صوفہ پر بیٹھا اونگھنے لگا۔زائنا نے اسے گود میں بٹھایا اور ہلکی پھلکی باتوں کے دوران اسے سارا دودھ کا گلاس پلا دیا۔زائنا ارحم کو گود میں اٹھائے کمرے میں آئی اور بیڈ پر لٹا کر چادر اوڑھائی۔

”موم آج میں good boy تھا نا؟“ارحم نے ماں کی گود میں سر رکھتے ہوئے پوچھا۔

”جی میرے بَیٹ مَین، آج تو الله تعالیٰ نے آپ کو ڈھیر سارے good points دیئےہوں گے۔“زائنا نے اس کے گال کھینچے۔

”کیا واقعی؟“ارحم نے خوشی سے کہا۔

”ہاں!اور نہیں تو کیا، اور اس لئے میں نے یہ سوچا ہے کہ میں اپنے بےبی کو اس ویک اینڈ پر فن سٹی لے کر جاؤں گی۔“زائنا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”?Really“یہ سُن کے اَرحم خوشی سے ماں سے لِپٹ گیا۔

”چلو شاباش اب سونے کی دعا پڑھو اور آنکھیں بند کرو۔“معمول کے مطابق زائنا نے ارحم کو یاد دلایا۔تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی دینی تربیت کا بھی خاص خیال رکھنا زائنا کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا۔اس کی محنت ہی تو تھی جس کے نتیجے میں ارحم اتنا فرماں بردار اور نیک بچہ تھا۔

زائنا ارحم کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اُسے تھپکنے لگی۔تھوڑی دیر میں وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔اسے سلانے کے بعد زائنا پانی کا جگ لینے کچن میں آئی تو کیبنیٹ کے شیشے میں اپنا عکس دیکھ لمحہ بھر کو کر ٹھٹکی۔یہ وہ تو نہیں تھی۔یہ کون تھی سامنے؟”کیا زندگی نے اِتنا مصروف کر دیا کہ وہ اپنا آپ بھی بھول گئی؟“

اس کے عکس نے اس سے سوال کیا۔

”ہاں کیونکہ اب تو سب روز روز کرنا ہی زندگی ہے۔“اِک گہری آہ بھرتے ہوئے اُس نے سرگوشی کی۔

***

دہکتے سورج کی کرنوں نے بنگلے کی شان کو نمایاں کر دیا تھا۔لان میں پودوں کی آرائش کے لئے مالیوں کی ایک فوج جتی ہوئی تھی۔گاڑی کے مخصوص ہارن پر گیٹ کیپر نے مستعدی سے گیٹ کھولا تو اک سیاہ چمکتی لگژری مرسیڈیز بینز زن کرتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور پورچ میں آ کر رکی۔ایک نوکر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔رائل بلیو تھری پیس میں ملبوس چونتیس سالہ ریان خان نے سنگِ مر مر کے فرش پر قدم رکھا۔دراز قد، کھڑی ناک، مغرور بھوری آنکھیں، اور کسرتی جسم پر ہلکی تراشی داڑھی اس کی شان کو بڑھا رہے تھے۔اس کی وجاہت کسی ریاست کے مغرور شہزادے سے کم نہ تھی۔

سب مالیوں نے تیزی سے کام چھوڑ کے ریان صاحب کو سلام کیا۔آنکھوں سے گاگلز ہٹا کر بھوری آنکھوں سے ترچھی نگاہ ڈال کر اس نےہلکےسے سر کے خم سے جواب دیا اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔

دروازہ کھولے اندر آیا تو خاموشی نے استقبال کیا۔سنگِ مرمر کے فرش پر اس کے پاؤں کی چاپ نے بنگلے کی خاموشی کو توڑا۔اندرونی حصے میں بیش بہا تزئین و آرائش کی گئی تھی۔سفید رنگ و روغن سے روشن اندرونی حصہ کے عین وسط میں سیڑھیاں اترتی تھیں جن کی ریلنگ سیاہ اور سنہری نقش و نگار کی بنی تھی۔اس کے عین اوپر سنہری فانوس جھول رہا تھا۔

”السلام علیکم Sir!“بٹلر نے کہا۔

”ہمم۔۔۔وعلیکم السلام!“

”شیری کہاں ہے؟“اس نےبٹلر کی طرف ایک نگاہ ڈالتےہوئے پوچھا۔

”وہ تو ابھی اٹھے نہیں۔“

ریان نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی تو ڈیڑھ بج رہےتھے۔

”حد ہے۔۔۔دن کا دوسرا پہر چڑھ گیا ہے اور ان جناب کی ابھی تک صبح بھی نہیں ہوئی۔“ریان نے ایک غصیلی نظر بٹلر پر ڈالی اور بڑے سے ڈائننگ ٹیبل پر لنچ کرنے بیٹھ گیا۔جواباً بٹلر خاموش رہا۔اکیلے ہی خاموشی سے موبائل پر سکرول کرتے ہوئے لنچ کرنے کے بعد وہ لاؤنج میں آ بیٹھا۔

”ہیلو!“کہہ کر آفس ریسپشنسٹ کی بات سننے لگا۔

”سر کچھ پیپرز پر آپ کے ارجنٹلی سائن چاہیے تھے۔“خاتون ریسپشنسٹ نے کہا۔

”I am coming in a bit بس لنچ کرنے گھر آیا تھا۔“

”اوکے سر، اور آپ کو یاد کروانا تھا کہ آج 3 بجے ڈائریکٹرز کی میٹنگ ہے۔“

”ہاں مجھے یاد ہے۔جن فائلز کا میں نے کہا تھا، کیا وہ ریڈی ہیں؟“

”سوری سر!وہ تو ابھی ریڈی نہیں ہیں شاید۔“لڑکی نے ڈر کر کہا۔

”You have 20 minutes I want them on my table.“

رعب دار آواز میں حکم دیتے ہوئے اس نے فون کاٹ دیا اور اوپر اپنے روم کی طرف چل دیا۔

”نواز!“

کچھ دیر بعد کوٹ کو فولڈ کر کے بازو پر ڈالے ریان اپنے خاص ملازم کو آواز دیتے ہوئے سیڑھیوں سے اترا۔

نواز پیچھے سے بھاگتے ہوئے آیا اور ریان کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔

”جی سر!“

”شیری کو اٹھاؤ اور میرا میسج دینا کہ فوراً آفس پہنچے۔آج ایک بہت ضروری میٹنگ ہے اور اس کا وہاں ہونا لازمی ہے۔“

نواز نے تیزی سے سر ہلایا تو ریان باوقار چال چلتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔

***

زائنا کلاس میں پڑھا رہی تھی جب چپڑاسی نے آ کر اِسے پیغام دیا کہ پرنسپل صاحب کہہ رہے تھے کہ کلاس کے بعد ان کے آفس میں آئيں۔

”اچھا۔“مختصر جواب دے کر زائنا نے چپڑاسی کو چلتا کیا۔

”کیا بات ہو سکتی ہے؟“زائنا نے سوچا۔

”شاید ایگزامز کے بارے میں کوئی بات ڈِسکس کرنی ہو۔“

خود کو تسلی دیتے ہوئے زائنا نے اپنی توجہ کلاس کی طرف مبذول کی مگر کلاس کے دوران بھی سارا وقت اسے ٹینشن سی رہی۔عجیب سی گھبراہٹ ہوتی رہی جیسے کسی انہونی کا خدشہ ہو۔کتنی ہی بار اس نے سر جھٹکا مگر پھر بھی دھیان اس اندیشے سے نہ بھٹکا۔

کلاس ختم ہونے کے بعد سامان سٹاف روم میں رکھا اور پرنسپل آفس کے دروازے تک پہنچی۔زائنا نے ایک گہری سانس لیتےہوئے سب انجان خدشوں کو دفن کرتے ہوئے دروازے پر ناک کیا۔

”!Yes“

نہایت ہی دبی ہوئی ہلکی سی آواز میں کہا گیا۔

زائنا کو تشویش ہوئی تو جلدی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔کیا دیکھا کہ پہلے سے ہی بھاری بھر کم پرنسپل صاحب اپنا مزید وزن بڑھانے کا انتظام کئے ہوئے تھے۔سامنے میز پر لیز چپس، کوک اور پیزا کھلے پڑے تھے۔دبی آواز میں یس کہنے کی وجہ بھی سمجھ آ گئی۔دراصل برگر کا ایک ہی نوالے میں صفایا کرنے کی ناکام کوشش کرتے پرنسپل صاحب کی توجہ زائنا اور برگر کے درمیان بٹی ہوئی تھی۔

اُنہیں نظر انداز کرتے ہوئے زائنا میز تک آئی۔

”سر آپ نے مجھے بلایا تھا؟“زائنا نے مؤدبانہ لہجے میں کہا۔

پرنسپل صاحب نے ناک پر عینک کو درست کرتے ہوئے سر کی جنبش سے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

”جی جی مس زائنا علی!Please have a seat“

زائنا گھبراتے ہوئے سیٹ پر بیٹھ گئی۔

”جی سر!“

پرنسپل صاحب بآواز بلند چپس تناول کرتے رہے۔جب تھوڑا سیر محسوس کیا تو زائنا کی طرف دیکھتے ہوئے بات شروع کی۔

”دیکھیں۔۔۔اُوہ سوری۔۔۔آپ چپس لیں گی؟“زائنا کی طرف دل مار کر چپس کا پیکٹ بڑھاتے ہوئےانھوں نے صلح ماری۔

”جی نہیں سر بُہت شکریہ!“زائنا نے دور سے ہی انکار کیا۔

”چلیں کوئی نہیں۔۔۔“انہوں نے چار لیز چپس ایک ساتھ منہ میں ٹھونستے ہوئے بات جاری کی۔

”ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہم آپ کی پرفارمنس سے خوش تو ہیں(کھڑچ۔۔۔کھڑچ)مگر حالات آپ کے سامنے ہیں۔“

”سوری سر میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔“

”دیکھیں آپ کو تو پتہ ہے اسکول کے حالات کیا ہیں۔اب اتنے فنڈز بھی نہیں مِل رہے۔“پرنسپل صاحب نے وضاحت دی۔

”جی سر؟“زائنا نے ناسمجھی سے کہا۔

”اور ہم نے کوئی خیراتی ادارہ تو کھول نہیں رکھا۔“پرنسپل صاحب نے بات جاری رکھی۔

”سر میں آپ کی بات نہیں سمجھ پا رہی ہوں ان باتوں کا مجھ سے کیا لینا دینا ہے؟“زائنا ابھی بھی ان کی بات کا مطلب نہ سمجھ پائی۔

”دیکھیں میری بات سنیں۔۔۔“چھوٹی انگلی کے ناخن سے سامنے کے دانتوں میں پھنسی بوٹی کو نکالا۔

”آپ کا بیٹا بھی اسی اسکول میں پڑھتا ہے اور آپ کی پے سے فیس نہ کاٹ کر ہم آپ پر ایک بہت بڑا احسان کر رہے ہیں۔“پرنسپل نے احسان جتاتے ہوئے کہا۔

”جی؟“زائنا نے شاک کے عالم میں بمشکل کہا۔

”اور اب میرے خیال سے ہم مزید یہ احسان جاری نہیں رکھ پائیں گے۔“پرنسپل صاحب سیدھی بات پر آئے۔

”سر کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا؟“زائنا کو یک لخت غصہ اور پریشانی نے آن گھیرا۔

”مطلب صاف یہی ہے کہ یا مکمل فیس دیں یا بیٹا کسی ایسے اسکول میں ڈال لیں جو خیرات میں پڑھاتا ہو۔ہم مزید اس احسان کا بوجھ آپ پر نہیں ڈال سکتے۔“پرنسپل صاحب نے کھل کر بات کی۔

”سر کیا مطلب ہے آپ کا احسان سے؟اپائنٹمنٹ کے ٹائم پچھلی پرنسپل نسرین مَیڈم نے commit کیا تھا کہ میرا بیٹا یہاں پر فری پڑھے گا۔“زائنا نے ضبط سے کام لیتے ہوئے بمشکل اپنے لہجے کو نرم رکھا۔

”جی لیکن نسرین صاحبہ کو سکول چھوڑے 3 ماہ ہو چکے ہیں اور نئی مینجمنٹ کے مطابق اب میں یہاں کا پرنسپل ہوں۔اِس لئے اب یہاں میرے فیصلے چلتے ہیں اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب پرانے طور طریقے بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔لہٰذا آپ بھی یہ بات سمجھیں کہ اب یہ احسان مزید نہیں چل سکتا۔“

 زائنا نے کچھ کہنے کو مُنہ کھولا تو پرنسپل بات کاٹتے ہوئے گویا ہوئے۔

”چلیں نام نہیں نکالیں گے، آپ کی پے سے کاٹ لیا کریں گے۔آپ فکر نہ کریں۔“انہوں نے فوراً سے پیشتر مسئلے کا اک ظالمانہ حل پیش کیا۔

”سر آپ تو میرے حالات سے واقف ہیں۔“زائنا نے کہا۔

”اور آپ کو بھی نظر آ رہا ہوگا کہ آج کل سب ٹھیک نہیں چل رہا۔“انہوں نے بنا تردد کے جواب دیا۔

”آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ نے کہا تھا۔۔۔“زائنا نے بے بسی سے کہا۔

انہوں نے زائنا کی بات کاٹی اور اپنی ٹون بدلتے ہوئے کہا۔

”دیکھیں مس ہمارے بھی کچھ رولز اینڈ ریگولیشنز ہیں جو سب ٹیچرز اچھے سے فالو کر رہے ہیں۔آپ ہمارا setup خراب نہ کریں۔“

”مگر سر ہماری بات ہوئی تھی۔“زائنا کو اپنی پوزیشن کمزور لگی۔

”تو اب بھی تو میں بات ہی کر رہا ہوں کہ ہم یہ جاری نہیں رکھ سکتے اور اس منتھ سے یا فیس ہو گی یا پھر ایڈمشن کہیں اور دلوا لیں۔“پرنسپل صاحب نے بغیر لگی لپٹی کے بات کی۔

”سر آپ جانتے ہیں کہ سیشن اینڈ چل رہا ہے، اور اگر ایسا کرنا بھی ہے تو اپ مجھے ایک منتھ کے نوٹس پر بتائیں تاکہ میں کچھ ارینج بھی کر سکوں۔“

”دیکھیں ایسے ہی ہے۔اگر جاب کرنی ہے تو اس منتھ سے اس کی فیس کٹے گی۔اسکول کو فنڈز نہیں مل رہے مزید۔“انہوں نے صاف صاف کہہ دیا۔

”اور میرے خیال سے یہ میرا سکول ہے اور میں فیصلہ لے سکتا ہوں۔“پرنسپل نے طنز کیا۔

”مگر سر یہ غلط ہے یوں اچانک کیسے۔۔۔(اس نے سانس کھینچ کر آواز بحال کی)میری پے پہلے ہی کم ہے ایسے میں آپ یہ کیسی بات کر رہے ہیں۔۔۔یہ تو نا اِنصافی ہے؟“

”دیکھیں مس زائنا!اب آپ میرا اور اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں۔اگر آپ کو زیادہ اعتراض ہے تو پھر کہیں اور جاب ڈھونڈ لیں۔“پرنسپل بات ختم کرتے ہوئے پیزا کے اگلے سلائس کی طرف متوجہ ہو گئے۔

غصے اور ضبط کی شدت سے اس کی آنکھوں میں سرخی دوڑ گئی۔

”!Thank you, Sir“

زائنا مایوسی سے اٹھ کر باہر آ گئی۔وہ آنسو بہا کر خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتی تھی۔مگر اب اس نئی پہاڑ جیسی مصیبت کو کیسے ہینڈل کرےیہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔اس کا اسکول میں سارا وقت اِسی پریشانی میں ڈوبے گُزرا۔

روز کی طرح بس میں بیٹھے وہ اپنی زندگی میں آتے اَن گنت مسائل کے بارے میں ہی سوچتی رہی۔

”کس سے کہوں؟کس سے مدد لوں آخر؟“اس کا تو کوئی اپنا نہ تھا۔ہاں مگر ایک ذات کا دروازہ وہ ضرور کھٹکھٹا سکتی تھی وہی جو سب کی سنتا تھا۔

”یا الله!میری مشکل تُو جانتا ہے تو ہی میرا وسیلہ بنا۔دوسروں کی مشکل میں تیرے لوگ بھی خدا بن بیٹھتے ہیں۔تُو بہتر جانتا ہے۔یارب میری مدد کر، اپنا کوئی فرشتہ مجھ تک بھیج۔“اس نے دل ہی دل میں دعا مانگی۔

اِک بہتا آنسو آ نکھ سے گرا فرش پہ
جیسے اِلتجا ہو اُس کی خدائے عَرش سے

وہ تھکی ہاری بھاری قدموں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔سوچ میں ڈوبے اس نے کھانا نکالا اور غائب دماغی کے ساتھ ارحم کی باتوں کا جواب دیتی رہی۔

وہ صوفے پرسر پکڑے سوچ میں ڈوبے بیٹھی تھی اور ارحم فٹ بال کے ساتھ کھیلتا ہوا گھر میں دوڑتا پھر رہا تھا۔

”ارحم!بیٹا بھاگو نہیں۔“

کسی خیال کے تحت زائنا نے گہرا سانس لیتے ہوئے موبائل اٹھایا اور گوگل میں ٹائپ کیا:

”Jobs for female teachers.“

کہنی صوفہ پر جمائے، سر بائیں ہاتھ پر گرائے وہ بھرپور توجہ سے دائيں ہاتھ سے سکرین پر سکرولنگ کرتی رہی۔

دروازے پر گھنٹی بجی مگر زائنا بِنا توجہ دیئے موبائل میں مصروف رہی۔دوبارہ سے بیل بجی تو بجانے والے نے ہاتھ اٹھانے سے ہی انکار کر دیا۔

”موم بیل بج رہی ہے آپ کہاں ہو؟“ارحم نے کمرے سے آواز لگائی۔

”ہوں؟۔۔۔ہاں ہاں میں جا رہی ہوں۔“اپنے خیالوں سے باہر آتی زائنا نے اٹھتے ہوئے کہا۔

”آرہی ہوں!“دروازے کی طرف جاتے بیل بجانے والے کو حوصلہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئےاس نے اونچی آواز میں کہا۔

دروازہ کھولا تو سامنے ایک اس کی ہم عمر لڑکی ہاتھ میں ڈِش لئے کھڑی تھی۔وہ میرون سوٹ پہنے زائنا کی نسبت بہتر حالت میں دکھ رہی تھی۔

”مہرین تم!“سادگی سے کہتے ہوئے اس نے اپنی ہمسائی کو راستہ دیا۔اپنی پریشانی میں ڈوبی زائنا کوئی گرم جوشی نہ دکھا پائی۔

”آگ لگا دو اپنی اِس بیل کو۔کب سے بجا رہی ہوں۔“ڈِش زائنا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہاگیا۔

”ہمم۔۔۔“زائنا نے بریانی کی ڈِش پکڑتےہوئے مختصراً جواب دیا۔

”الله کی قسم یہ بریانی بنانے میں دو گھنٹے لگے مجھے۔آگ لگے گیس والوں کوورنہ آدھے گھنٹے کا کام ہے میرے لئے۔“

مہرین خود کو ویلکم کرتے اندر چلتی ہوئی لاؤنج تک آئی۔زائنا بنا جواب دیئے بریانی کی ڈش لئے کچن میں آ گئی۔اتنے میں مہرین کی آواز سنتے ہی ارحم بھی باہر آ گیا۔

”مہرین آنٹی!“ارحم دوڑتا ہوا گرم جوشی سے بانہیں پھیلائے آیا۔

”ہائے۔۔۔میرا بچہ کیسا ہے؟“مہرین نے اسے گلے لگا کر گال چومتے ہوئے کہا۔

”!I am good“کہتے ہوئے ارحم نےمنہ پھلا کر ترچھی نگاہ سے ناراضگی کا اظہار کیا۔

”کیا ہوا بےبی کو؟“مہرین نے گال کھینچتے ہوئے کہا۔

”جنید آج بھی اسکول نہیں آیا۔“ارحم نے خفگی سے کہا۔

”نہیں بس اُسے fever تھا ہلکا سا اس لئے نہیں آ سکا۔“

”جھوٹ بول رہا ہوگا۔آج کلاس میں ٹیسٹ تھا نا اس لئے۔“ارحم نے آنکھیں گھماتے ہوئے معصومیت سے کہا۔

مہرین کی بےساختہ ہنسی چھوٹی۔

”اچھا؟میں جا کے چیک کرتی ہوں۔اچھا میں آپ کے لئے مزے دار بریانی لائی ہوں جاؤ شاباش جا کے فریش ہو کر آؤ پھر کھاتے ہیں۔“مہرین نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔

”کیا واقعی مہرین آنٹی۔۔۔وہ تو میری فیوریٹ ڈِش ہے!“

ارحم بریانی کی خوشی میں کپڑے بدلنے کے لئے کمرے کی طرف دوڑا۔مہرین کچن میں آئی تو زائنا کو خاموشی سے شیلف کے پاس کھڑے پایا۔

”آگ لگا دے اپنے فریج کو اگر اس سے جوس کا ایک گلاس نہیں نکلتا اپنی neighbor کے لئے۔“مہرین نے مفت مشورہ دیا۔

زائنا نے نا سمجھی سے مہرین کو دیکھا۔

”اوہ سوری یار!“پھرسمجھ آنے پر ہوش پکڑتے ہوئے کہا۔

مہرین ایسے ہی گھما کر بات کرنے کی عادی تھی۔زائنا نے فریج سے جوس نکال کر شیلف پر دھرے گلاس میں انڈیلا اور مہرین کے سامنے رکھا۔مہرین کچن میں ہی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور جوس کا ایک گھونٹ بھرا۔زائنا مڑ کر بیسن کی طرف جانے لگی تو مہرین نے ہاتھ پکڑ کر روکا اور اپنے سامنے بٹھا لیا۔

”اب بتاؤ۔کیا ہوا ہے؟میں تو آئی تھی کہ تمہیں سرپرائز دوں گی لیکن تم تو مجھے کچھ پریشان لگ رہی ہو۔“مہرین نے فکرمندی سے پوچھا۔

 زائنا نے گہری سانس بھری۔

”اب بس ہمت ٹوٹنے لگی ہے مہرین!“اس کی آواز رندھ گئی۔

وہ اپنے خالی ہاتھوں پر نظر جمائے خاموش ہو گئی۔ضبط کے مارے لمحہ بھر میں اس کی آنکھوں میں نمی چھلکنے کو تیار تھی۔الفاظ گلے میں پھنس کر رہ گئے تھے۔مہرین نے گلاس سائیڈ پر رکھا اور کرسی قریب کی۔

”کیا ہوا ہے یار کچھ بتاؤ تو سہی۔“مہرین نے زور دیا۔

”یار جاب کا ایشو ہو رہا ہے۔پہلے انہوں نے ایگری کیا تھا کہ ارحم کی فیس نہیں لیں گے مگر اب یہ نئے پرنسپل کہہ رہے ہیں کہ سیلری میں سے کٹے گی۔میں کیا کروں؟بس اب اور برداشت نہیں ہوتا مجھ سے۔“

 زائنا نے پریشانی سے کہا۔اس نے مہرین کو تفصیل سے ساری بات بتائی۔پوری کہانی سننے کے بعد مہرین نےکہا۔

”ہائے آگ لگے اُس پرنسپل کو۔۔۔دیکھو یار تم ٹینشن نہ لو بہت جابز مل جاتی ہیں۔فی الحال تم اس جاب کو continue کرو میں۔۔۔(سوچتے ہوئے)میں عدیل سے بات کرتی ہوں، اُن کے باس بہت اچھے ہیں مجھے یقین ہے وہ ضرور ہماری مدد کریں گے۔“مہرین نے حل نکالتے ہوئے کہا۔

”Thanksیار!“

بے شک بات کہنے سے ہی بات بنتی ہے۔زائنا کو امید کی کرن تو نظر آئی مگر ساتھ ہی ایک خیال آنے پر گلا کھنکھارتے ہوئے اگلی پریشانی بھی بتا ڈالی۔

”لیکن یار۔۔۔میں ارحم سے دور نہیں ہونا چاہتی۔“

”تم اُس کی ٹینشن نہ لو وہ اسکول میں ہی ہوگا دو بجے تک اور جنید اور ارحم ایک ہی کلاس میں تو ہیں جب میں جُنید کو لینے جاؤں گی تو ارحم کو بھی لے لوں گی۔کوئی ایشو ہوگا تو میں ہوں نا اور وہ میرا بھی بیٹا ہی ہے تم اس کی فکر نہ کرو۔“مہرین نے مخلصانہ مشورہ دیا۔

”!Thank you so much Mehreen“زائنا خوشی سے اس کے گلے لگ گئی۔”تم نے تو میرے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔“

”چل بس کر، آگ لگا ایسی جاب کو۔“مہرین نے اسے کندھوں سے تھام کر کہا۔تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد زائنا نے اچانک پوچھا:

”یار تیرے پاپا فائر بریگیڈ میں کام کرتے تھے نا؟“

”ہاں کیوں؟“مہرین نےنہ سمجھتے ہوئےکہا۔

”تبھی تو ہر جگہ آگ لگی رہتی ہے۔“زائنا نے ہنستے ہوئے کہا۔

”کمینی!“مہرین نے اس کے کندھے پر ایک مُکا جڑا اور دونوں ہنسنے لگیں۔

***

آفس میں معمول کے مطابق سب خاموشی سے اپنے کام میں مصروف تھے۔ایسے میں کانوں میں ہینڈز فری لگائے چھبیس سالہ مضبوط جسم کا مالک لڑکا اپنی ہی دھن میں مگن لفٹ میں داخل ہوا۔اس نے سُرخ پولو شرٹ کے ساتھ بلیو جینز اور اعلیٰ معیار کی گھڑی پہن رکھی تھی۔اس کے بال اچھے سے جیل لگا کر سیٹ کئے ہوئے تھے اور اس کی چھوٹی فیشنی داڑھی بھی تھی۔لفٹ سیکنڈ فلور پر جا کر رکی تو وہ گانے کی بیٹ پر جھومتا ہوا لِفٹ سے باہر آیا۔آفس میں موجود ہر شخص نے اُس پر ایک تاسف بھری نگاہ ڈالی مگر یہاں پرواہ کسے تھی۔وہ اطمینان سے ناچتے ہوئے اندر کی جانب بڑھا۔

ریسیپشن تک پہنچا تو سامنے ایک نئی نوجوان خوبصورت لڑکی کو ریسیپشنسٹ کی سیٹ پر بیٹھے پایا جو کسی سے موبائل فون پر بات کرنے میں مگن تھی۔لڑکی نے اُسے دیکھتے ساتھ ہی گھبرا کر فون بند کر دیا جو اس نوجوان لڑکے کی تیز نگاہوں سے چھپا نہ رہ سکا۔

”!Good morning, Sir“لڑکی نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا۔

”!Good morning, gorgeous۔۔۔کس سے بات کر رہی تھیں؟“ہینڈ فری اتارتے ہوئے پوچھا۔

”کسی سے نہیں سر!وہ میں۔۔۔بس“لڑکی نے گھبراتے ہوئے کہا۔

”وفا ایک واحد ایسی چیز ہے جو ایک سے زیادہ جگہ ہو تو بری لگتی ہے۔“لڑکے نے نصیحت کی۔

”کیا سر؟“لڑکی کے پلے ایک لفظ بھی نہ پڑا۔اس لڑکی نے اس شخص کو سر تا پا دیکھا۔

”محبت، چاہت، وفا کچھ بھی نہیں
محبت، چاہت، وفا کچھ بھی نہیں
تمہارے پاس میرے سِوا سب کچھ ہے
میرے پاس تمہارے سوا کچھ بھی نہیں۔“

اس لڑکے نے لہک کر شعر پڑھا۔

”سر آپ کیا باتیں کر رہے ہیں۔“وہ لڑکی اس غیر سنجیدہ شخص کی بےتکی باتوں سے زچ ہوتے ہوئے بولی۔

”نیو ہو نا مجھے سمجھنے میں ٹائم لگےگا۔“اس لڑکےنے ہنستے ہوئے تنگ آتی لڑکی کو جواب دیا اور آگے بڑھ گیا۔

”شیری۔۔۔“ایک رعب دار آواز گونجی۔

ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ اپنا نام پکارے جانے پر رک گیا۔

ایڑھیوں کے بل واپس گھوما تو سامنے ریان کو اپنے کیبن کے دروازے پر کھڑے پایا۔

”!Come into my office, now“ریان تحکمانہ انداز میں کہتے ہوئے کیبن میں چلا گیا۔

”آج تو تُو گیا بیٹا!“خود سے کہتے ہوئے شیری چہرے پر تھوڑا ڈر اور شرمندگی کے آثار لئے ریان کے کیبن کی طرف بڑھ گیا۔اندر پہنچا تو سامنے ریان کو اپنی سیٹ پر براجمان پایا۔

”ہیلو brother!“شیری نے خوش دلی سے کہا۔

”یہ کیا ہو رہا ہے؟“ریان نے گُھورتے ہوئے پوچھا۔

”وہ لڑکی پیاری ہے۔“ڈھیٹ پن کے ساتھ جواب آیا۔

”میں اُس کی بات نہیں کر رہا۔“ریان نے نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔

”تم پچھلے دو دن سے آفس نہیں آئے۔۔۔اور آج آئے بھی ہو تو اِتنی لیٹ؟“ریان نے مدعے کی بات کی۔

”ہاں وہ میری کچھ طبیعت۔۔۔“شیری نے بہانہ بنانے کی ناکام کوشش کی۔

”شیری تمہیں اندازہ ہے کہ لوگ تمہارے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“ریان نے اسے یاد دلانا چاہا۔

”اور ان کے کہنے سے مجھے فرق نہیں پڑتا آپ مجھے جانتے ہیں۔“شیری نے بےفکری سے کہا۔

ریان کو اس کے لاپرواہ رویے پر شدید غصہ آیا مگر تحمل سے کام لے کر اسے سمجھا نا چاہا۔

”جانتا ہوں مگر باقی تو نہیں جانتے نا۔میں سب کو ٹائم سے آنے کا کہتا ہوں اور میرا بھائی خود لیٹ آتاہے۔“ریان نے دوستانہ انداز میں گِلہ کیا۔

”اچھا بھائی اب جانے بھی دیں۔“شیری نے بات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے کہا۔

”یہ فائل پکڑو اور آج کل آفس میں اسسٹنٹ مینجرز کےلئے اِنٹرویوز چل رہے ہیں۔۔۔Make yourself useful“

ریان نے بارعب آواز میں کہتے ہوئے فائل اس کی طرف اُچھالی تو شیری خاموش ہو گیااور فائل اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔ریان بھی اس کے جانے کے بعد اپنے کام میں مصروف ہوگیا کہ اچانک شیری واپس دروازہ کھول کر پوچھنے لگا:

”بھائی!“

”ہمم!“ریان نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا۔

”یہ ریسپشن والی لڑکی کا نمبر تو ہو گا آپ کے پاس؟“شیری نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ سوال کیا۔

بےساختہ اُمڈتی مسکراہٹ کو ریان نے لبوں تک آنے سے روکا اور چہرے پہ غُصہ ظاہر کیا۔

”شیری دفع ہو جاؤ یہاں سے!“ریان نے اونچی آواز میں کہا تو شیری ہنستا ہُوا فوراً بھاگ گیا۔

”یہ نہیں سدھرے گا!“مسکراکرخود سے کہتےہوئے وہ اپنی فائل کی طرف مُتوجّہ ہوا۔

***

”ارحم اپنا ٹیسٹ revise کر لو۔“زائنا نے کچن میں ناشتے کے برتن سمیٹتے ہوئے بیٹ مین سے باتیں کرتے ارحم کو کہا۔

”موم ابھی بس تھوڑا سا اور۔۔۔“ارحم نے کہا۔

”اگر ٹیسٹ اچھا نا ہوا تو مارکس کم آ ئیں گے نا اور پھر آپ کا بیٹ مَین بھی آپ سے ناراض ہو جائے گا!“زائنا نے پیار سےسمجھانے والے لہجے میں کہا۔

”ہمم۔۔۔اچھا بیٹ مین ابھی تُم یہاں پر ریسٹ کرو میں جلدی سے ٹیسٹ یاد کر کے آتا ہوں۔“ارحم نے بیٹ مین کو صوفے پر رکھتے ہوئے کہا۔

زائنا اس کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی۔مہرین سے بات کرنے کے بعد اُس کا بوجھ بہت حد تک کم ہوگیا تھا۔مہرین اور اس کے شوہر عدیل نے زائنا کے اپنوں کی کمی کو پورا کر رکھا تھا۔اُن کے حالات زائنا سے نسبتاً بہتر تھے۔دونوں میاں بیوی مل کر زندگی کی گاڑی کو اچھے سے چلا رہے تھے۔زائنا کو امید تھی کے اگر رب نے اسے مہرین کے ذریعے آس دلوائی تھی تو آگے بھی کوئی نہ کوئی وسیلہ ضرور بنا دے گا۔اِتنے میں موبائل پر کال کی گھنٹی بجی۔

”ارحم مجھے میرا فون پکڑاؤ!“زائنا نے آواز دی۔

”جی موم!“ارحم دوڑ کر کمرے سے فون لے کر آیا۔

”یا الله!کوئی اچھی خبر ہو۔“مہرین کی کال دیکھ کر زائنا نے بےساختہ دعا کی۔

”ہاں مہرین؟“زائنا نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا۔

”Guess what?“مہرین کی چہکتی ہوئی آواز گونجی۔

”کیا؟“زائنا کو اُمید سی ہونے لگی۔

”ایک آفس ہے Red Brick Constructions کےنام سے، وہاں انٹرویوز چل رہے ہیں۔“

آہستگی سے ایک مسکراہٹ زائنا کے لبوں پر رینگ گئی۔

”واقعی؟“اس نے جوش سے کہا۔

”ہاں۔“

”کیا جاب ہے؟“زائنا نے بےتابی سے پوچھا۔

”اب وہ سب تو مجھے نہیں پتہ ۔عدیل نے پتہ کروایا ہے۔اُنہیں تم جیسی ذہین اور محنتی لڑکی کی تلاش ہے۔تم کل ہی جاؤ اور۔۔۔“مہرین نے کہا۔

”ہاں ضرور۔۔۔میں کل ارحم کو اسکول چھوڑ کر وہیں جاتی ہوں۔لیکن کتنے بجے جانا ہے؟“زائنا نے جلدی سے کہا۔

”پورے دس بجے پہنچ جانا، اور ہاں ڈونٹ وری اگر واپسی پہ لیٹ ہو گئی تو میں ارحم کو لے لوں گی۔تم بس دھیان سے انٹرویو دینا، باقی جاب کی تفصیل جاننی ہو تو میں ایک نمبر بھیجتی ہوں اُس پہ کال کر کےپوچھ لو۔“مہرین نے اس کی اگلی پریشانی کو بھی پہلے سے حل کر دیا۔

”Thank You so much Mehreen!تم واقعی ایک بہت اچھی دوست ہو۔عدیل بھائی کو بھی میری طرف سے تھینک یو بولنا۔“زائنا نے شکریہ ادا کیا۔

”ابھی تھینک یو نہ کر۔یہ جاب انٹرویو دینا ہے ابھی تو نے!“مہرین نے مصنوعی خفگی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

”Still, thank you very much for being so loyal with me.“زائنا نے اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے تشکر بھرے لہجے میں کہا۔

”لوئل ویسے کتا ہوتا ہے اورعدیل کے علاوہ یہ کوالٹی میں نے شاید ہی کسی میں دیکھی ہو۔“مہرین نے ہنستے ہوئے کہا۔

”استغفراللہ مہرین!کوئی حال نہیں ہے تمہارا۔“زائنا نے بھی جواباً ہنستے ہوئے کہا تو مہرین نے بھی قہقہہ لگایا۔

زائنا نے ہنستے ہوئے فون بند کیا اور ارحم کی طرف متوجہ ہو گئی۔

صبح ہوئی تو زائنا نے معمول کی طرح ارحم کو جلدی سے جگایا اور تیار کرتے ہوئے اسے مخاطب ہوئی۔

”ارحم بےبی آج موم کو ایک جگہ جانا ہے تو آپ کو اسکول ڈراپ کر کے موم وہاں چلی جائيں گی اوکے؟“

”آپ اسکول نہیں آئيں گی آج؟کہاں جانا ہے آپ نے؟“ارحم نے فوراً پوچھا۔

”نہیں آج نہیں آ سکوں گی۔ایک امپورٹنٹ کام سے جانا ہے۔آپ کی چھٹی ہونے تک آ جاؤں گی۔“زائنا نے وضاحت کی۔

”ہممم۔۔۔!“ارحم نے بگڑے موڈ کے ساتھ کہا۔

”اگر میں جلدی فری ہو گئی تو ٹھیک ہے ورنہ آپ جنید اور مہرین آنٹی کے ساتھ اُن کے گھر چلے جانا، ٹھیک ہے؟لیکن دیکھو مہرین آنٹی کو پریشان نہ کرنا۔گھر آتے ہی کپڑے چینج کرنا اور جو بھی کھانا پکا ہو آرام سےکھا لینا، نخرے نہیں کرنا۔پھر کل تو آپ کا ویک اینڈ بھی ہے نا، اگر آپ آج اچھے بچے بنو گے تو شام کو ہم سب mall جائیں گے اور کل پارک بھی۔“زائنا نے آئيڈيا دیا۔

”اُوہ واؤ!ٹھیک ہے ‏موم۔“ارحم نے پُر جوش مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔یہ آئيڈيا ارحم کو بہت پسند آیا تھا۔

ارحم کو اسکول چھوڑنے کے بعد وہ ٹیکسی کے انتظار میں اسٹاپ پر آ کر کھڑی ہو گئی۔مہرین نے اسے آفس کا ایڈریس میسج کر دیا تھا۔اب اُس کی منزل RBC تھی۔

زائنا کے سامنے شیشے کی ایک بہت خوبصورت عمارت کھڑی تھی جس پر جلی حروف میں بڑا بڑا Red Brick Constructions لکھا تھا۔آج یہاں اس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا تھا۔اُسے اپنے بابا کی کہی ایک بات یاد آئی جو انہوں نے اپنے کار ایکسیڈینٹ سے چند دن پہلے کہی تھی، کہ’کامیابی کا بہترین اور یقینی ذریعہ صدقہ ہےکیونکہ الله کبھی احسان نہیں رکھتا‘۔تو اندر داخل ہونے سے پہلے اس نے اپنا پرس کھولا اور کچھ پیسے صدقے کی نیت سے الگ کر لئے۔پھر اِک لمبا سانس لے کر خود کو کمپوز کر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے ایک نئے ولولے کے ساتھ آفس میں داخل ہوئی۔گراؤنڈ فلور کے ریسیپشن پر اسے بتایا گیا کہ انٹرویوز دوسری منزل پر موجود HR Department میں ہو رہے ہیں۔وہ وہاں پہنچی تو سامنے سی وی ہاتھوں میں پکڑے اُمیدواروں کی ایک بڑی تعداد بیٹھی تھی۔زائنا کی مسکراہٹ یک لخت سمٹی۔وہ میکانکی انداز میں چلتے ہوئے ریسپشن تک آئی۔

”السلام علیکم میرا نام زائنا علی ہے میں یہاں انٹرویو کے لئے آئی ہوں۔“زائنا نے ریسپشنسٹ سے کہا۔

”جی ایک منٹ میں کینڈیڈیٹ فائل میں چیک کر لوں۔“ریسپشنسٹ فائل کنگھالنے لگی۔

”زائنا۔۔۔امم۔۔۔زائنا۔۔۔ہاں جی زائنا۔۔۔مل گیا، ٹھیک ہے آپ وہاں بیٹھ کر ویٹ کریں۔آپ سے پہلے کچھ اور لوگ ہیں پھر میں آپ کو بُلاتی ہوں۔“ریسپشنسٹ نے پروفیشنل انداز میں کہا۔

زائنا فائل پکڑےخالی کُرسی پر آ کر بیٹھ گئی اور دعا کرنے لگی۔اس سے اگلی کرسی پر ایک لڑکی بیٹھی تھی۔

”?Nervous“اُس لڑکی نے دوستانہ مزاج میں پوچھا۔

”تھوڑی سی۔“زائنا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”آپ کا کیا نام ہے؟“اس لڑکی نے پوچھا۔

”زائنا!اور آپ کا؟“زائنا نے پوچھا۔

”مریم!“لڑکی نے بتایا۔

زائنا نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا۔اسے وہ لڑکی تھوڑی باتونی لگی مگر اس وقت اس کا دماغ کسی اجنبی سے بات کرنے کے قابل نہیں تھا۔اس کے ذہن میں پرنسپل کے الفاظ گونج رہے تھے اور سوچوں میں ایک ہی جنگ چل رہی تھی کہ کسی طرح وہ اس آنے والی مُصیبت کو روک سکے۔اتنے میں HR سے ایک لڑکی اس کے پاس آئی اور اس کی فائل مانگی۔

وقت گزرتا گیا۔۔۔وہاں بیٹھے لوگ زائنا سے عمر اور تجربے میں زیادہ معلوم ہو رہے تھے۔کمرے میں موجود کچھ لوگ ایک دوسرے کو اپنے job experience کے بارے میں بتا رہے تھے۔کسی کا تجربہ ۳ سال کا تھا تو کسی کا ۵ سال کا تھا۔زائنا یہ سُن کر مزید نروس ہو رہی تھی۔سب اپنی اپنی باریوں پر اندر جاتے رہےمگر تھوڑی دیر بعد ہر کوئی منہ لٹکائے باہر آتا۔زائنا کو ٹینشن ہونے لگی کہ اگر اِن سب کا یہ حال تھا تو اس کا کیا ہوگا۔زائنا خود بلاشبہ ایک ڈگری یافتہ، قابل اور ذہین عورت تھی لیکن حالات نے اس کا اعتماد زخمی کر دیا تھا۔کچھ دیر بعد وہی لڑکی دوبارہ آئی۔

”مس زائنا!“اس کی فائل واپس دے کرکہا۔

”جی؟“

”یہ آپ اپنے ڈوکیومینٹس لے لیں اور جب وہ لڑکی باہر آ جائے تو پھر آپ اندر جا سکتی ہیں۔“اُس لڑکی نے کہا۔

”!Thank you“زائنا نے کہا۔

اُسے ایک دم سے گھبراہٹ ہونے لگی۔اگراسے یہ جاب نہ ملی تو کیا ہو گا؟یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔وہ تو ایسے یہاں آ گئی تھی کہ جیسے یہ جاب تو اسے ہی ملے گی۔یوں جیسے وہ اسے ہی ہائر کرنے کو بیٹھے ہوں گے۔اپنی گھبراہٹ کو کم کرنے کے لئے اس نے مہرین کو کال ملائی۔

”ہیلو ہاں پہنچ گئی؟“فوراً فون اٹھا لیا گیا۔

”ہاں پہنچ تو گئی ہوں۔“

”کیا بنا؟“مہرین نے جلدی سے پوچھا۔

”پتہ نہیں یار میری باری آنے والی ہے اور مجھے گھبراہٹ ہونے لگی ہے۔اگر یہ جاب مجھے نہ ملی تو؟“زائنا نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

”زائنا تم کب سے اتنی کمزور ہونے لگی؟یہ جاب صرف تمہیں ہی ملے گی کیونکہ تم قابل ہو۔اپنے آپ کو بُرے حالات کے حساب سے مت تولو۔بس انٹرویو میں کونفیڈنٹ رہنا۔نہ یہ کوئی آخری جاب ہے اور نہ ہی کوئی آخری موقع ہے، الله پہ بھروسا رکھو جب اس نے تمہیں دینا ہوگا وہ تمہیں دے کر رہے گا۔“مہرین نے اس کا اعتماد بحال کیا۔

”ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو۔یہ جاب مجھے ہی ملےگی ان شاء الله!“زائنا نے قدرے حوصلہ مند آواز میں کہا۔

”اِن شاء الله!چلو اب فون رکھو اور اُڑا دو انٹرویور کو!“مہرین نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا۔

”ہاہا۔۔۔ہاں ٹھیک ہے۔الله حافظ!“زائنا نےہنستے ہوئےکہا۔

”الله حافظ اورGoodluck!“مہرین نے بھی فون رکھ دیا۔

”کیا ہو گیا ہے مجھے میں اتنا نیگٹِو کیوں سوچنے لگ گئی۔۔۔اُف!“

زائنا نے خود کو سرزنش کیا اور یہ دعا پڑھی:

نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ

”خدا کی طرف سے مدد اور فتح عنقر یب ہوگی۔“

کیبن کا دروازہ کھلا اور پہلے جانے والی لڑکی باہر آ گئی۔ایک لمبا سانس اندر اُتارتے ہوئے وہ کیبن کے دروازے کی طرف چل دی اور دروازے پر ناک کیا۔

”?May I come in, Sir“زائنا نے اجازت چاہی۔

”جی جی!Come in“شیری جمائی لیتے ہوئے اس کی جانب مڑا اور بےدلی سے اندر آنے کو کہا۔سب کے لٹکے ہوئے منہ کا سبب بھی شیری ہی تھا۔آخر کو وہ ان سب کی درگت بنانے کو جو موجود تھا۔

”!Thank you, Sir“زائنا نے رسماً کہا۔

شیری نے منہ کھولنے کا بھی تردد نہ کیا اور ہاتھ کے اشارے سے ہی اُسے بیٹھنے کا کہا۔

”تو مس۔۔۔“شیری نے نام جاننا چاہا۔

”زائنا!“

”یس مس زائنا۔۔۔?Why do you need this job“شیری نے پہلا سوال کیا۔

”سر آپ کا سوال صحیح نہیں ہے۔“زائنا نے جواباً کہا۔

”!Excuse me“شیری نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

”آپ کا سوال ہے?Why do I need this jobمگر آپ کا سوال یہ ہونا چاہے کہ?Why do I want this job“زائنا نے وضاحت کی۔

”یہ تو لگتا کوئی Grammar Nazi آ گئی ہے۔“شیری نے سوچا۔

”اس میں گرائمر کی غلطی تو نہیں تھی؟“شیری نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

زائنا کو ہنسی آئی۔

”نہیں سر!Need اور Want میں فرق ہوتا ہے۔We don't need anything ہمیں بس وقتی طور پر چیزیں چاہیے ہوتی ہیں، حتیٰ کہ پیار بھی۔“زائنا نے کہا۔

”پیار تو ضرورت ہے انسان کی۔“شیری نے اعتراض اٹھایا۔

”بالکل نہیں!پیار ایک کیفیت ہے جس میں آپ کو اپنا آپ ادھورا لگتا مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ہم ہمیشہ مکمل ہوتے ہیں۔“زائنا نے اسے ناک آؤٹ کیا۔

شیری مسکرایا، یہ لڑکی اسےاپنی ٹکر کی لگی تھی کیونکہ یہ وہ پہلی تھی جس نے اسے لاجواب کیا تھا۔۔۔ریان کے بعد!

”!Congratulations you’ve got the job“شیری نے کہا۔

”!Excuse meمگر سر آپ نے تو ابھی میری سی وی بھی نہیں دیکھی۔“زائنا نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔

”میں نے کسی کی بھی سی وی نہیں دیکھی کیونکہ مجھے پتہ ہے سب یہی پریٹنڈ کرتے ہیں کہ انہیں سب کچھ آتا ہے مگر کسی کی قابلیت اُس کی سی وی میں نہیں بلکہ اس کے ارادوں میں ہوتی ہے اور ارادے دل میں ہوتے ہیں۔لہٰذا مجھے وہی انسان اچھا لگتا ہے جو بات کرے تو دل سے کرے ورنہ اپنا منہ بند رکھے۔“شیری نے اپنا اسٹینڈرڈ بتایا۔

زائنا کو اس کے انوکھے معیار پر ہنسی آئی۔

”تو پھر کل سے آپ کو آفس میں ملیں گے مس زائنا!“شیری نے خوش دلی سے کہا۔

زائنا الجھن اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لئے باہر آ گئی۔شاید اُس کی رب سے کی ہوئی دعا پوری ہو گئی تھی۔زائنا کا صدقہ اس کے کام آیا۔بےشک الله کی ذات احسان نہیں رکھتی، وہ بڑا مہربان ہے اور اُس کے دینے کا انداز نرالا ہے۔

***

زائنا نے باہر آتے ہی مہرین کو کال ملائی۔

”ہاں؟کہہ دو کہ جاب مل گئی ہے۔“مہرین نے پہلی بیل پر ہی کال اٹھائی۔

”ہاں ہاں ہاں!مجھے اسسٹنٹ مینیجر کی جاب مل گئی ہے!“زائنا نے دل کھول کرمسکراتے ہوئے کہا۔

”سچ؟“مہرین نے خوشی سے چیختے ہوئے کہا۔

”ہاں۔۔۔پوچھ تو ایسے رہی ہو جیسے تمہیں امید نہیں تھی۔“زائنا نے مذاق کیا۔

”ہاہاہا۔۔۔نہیں ایسی بات نہیں مجھے ہی تو یقین ہے تم پر، تم بس جلدی سے پہنچو میں تمہارا منہ میٹھا کرواتی ہوں۔“مہرین نے ہنستے ہوئے کہا۔

”اچھا میں پہلے ارحم کو اسکول سے پک کر لوں۔“زائنا نے کہا اور ایک ٹیکسی کو ہاتھ دے کر روکا۔

”ارے وہ تو جنید کے ساتھ ہی گھر آ چکا ہے۔تم بس پہنچنے کی کرو۔“مہرین نے اسے بتایا۔

”چلو ٹھیک ہے۔“زائنا نے ٹیکسی میں بیٹھ کر جواب دیا اور فون بند کر دیا۔

سارے راستے وہ یہی سوچتےہوئے آئی کہ وہ آزمائشوں میں ثابت قدم رکھنے پر رب کا شکر ادا کرے یا پھر اس کے انعام پر سجدہ ریز ہو۔بچپن سے قرآن میں پڑھتی آرہی تھی مگر آج مفہوم سمجھ میں آیا، بالکل ٹھیک کہا گیا تھا:

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

”(اور)بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔“

اور یہ اس سے بہتر کون جانتا ہوگا، اسے رب پر بےاختیار بہت پیار آیا کہ اس پر مشکل آئی تو ساتھ ہی اسے آسان کرنے کا حل بھی بھیج دیا۔وہ لڑکی جو اتنے دھکے کھا کر آج اپنی قابلیت کے مطابق نوکری لے پائی ہو اس سے بہترمشکل کی تکلیف اور آسانی کی نعمت کو کون جانتا ہوگا۔وہ تو پریشان حال تھی، عین ممکن تھا کہ زندگی کی سختیوں سے تنگ آ کر مایوس بھی ہو جاتی مگر رب نے وقت پر مہرین کو بھیج کر اسے مایوسی جیسے کفر سے بچا لیا۔اسے یقین تھا کہ اس کی مشکلوں کو بھی رب اپنی رحمت سے دور کرے گا کیونکہ وہ اپنے پیاروں کو ہی آزماتا ہے۔بےشک رب ہی زندگی کے کانٹوں کو پھولوں میں بدلنے والا ہے۔

گھر پہنچتے ہی ارحم دوڑتا ہوا آیا اور اس کے گلے لگ گیا۔زائنا نے خوشی سے اسے بانہوں میں بھرا۔اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

”کیسا ہے میرا لڈو؟“زائنا نے اس کا منہ چومتے ہوئے پوچھا۔

”میں بالکل ٹھیک ہوں۔آپ رو رہی ہیں موم؟“ارحم نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔

”ارے نہیں۔میرے بےبی کو بھوک لگی ہو گی نا؟“زائنا نے بات بدلتے ہوئے پوچھا۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of وہ چاند ہے میرا دل - wo Chand Hai Mera Dil- love story novel in Urdu. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Faiza Ehtasham earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 800

See all editions, reviews and details

وہ چاند ہے میرا دل - wo Chand Hai Mera Dil- love story novel in Urdu Buy — Rs 800