12% of the book — free to read

کمال لمحے
--------------------------------------------
کمال الدین کمالؔ
داستان پبلشرز
٭٭٭
کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢١ء
ISBN: 978-969-696-539-8
مطبع: پکسلز پرنٹنگ
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
٭٭٭
ادارت
قدسیہ حذیفہ جمالیؔ
نظرِ ثانی
نرمین سرھیو
مرتّب کنندگان
قدسیہ حذیفہ جمالیؔ
نرمین سرھیو
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں۔
٭٭٭
﷽
نہ کریدا کرو میرے اندر
اندروں خانہ کچھ نہیں ہوتا
٭٭٭
ترتیب
ادب سے شغف رکھنے والے تمام قارئین کے نام۔۔۔!
٭٭٭
اگرچہ میری پہلی کاوش ’’سرد موسم میں حرارت تم ہو‘‘ ایک معمولی سا مجموعہِ کلام تھا تاہم بہت سے قارئین نے اپنی قیمتی آراء سے نوازا جس نے مجھے مزید طبع آزمائی کی طرف مائل کیا۔ اکثر کو لگا کہ کلام عام قاری کے لیے سمجھنا آسان ہے۔ کچھ قارئین نے کہا کہ کمال کے کلام میں تصنع نہیں بلکہ فطرت کی ایک بہتر عکاسی ہے۔
کچھ لوگوں نے فنِ شاعری پر بھی اظہارِ خیال کیا اور شاعری کے رسوم و قیود کی دیواریں پھلانگنے کی طرف بھی تو جہ دلائی گئی۔ حلقۂ اربابِ ذوق کے ایک درخشندہ ستارہ برادرم عبدالکریم کریمیؔ نے میرے مجموعہ کلام پر ایک کالم روزنامہ اوصاف میں شائع کیا کہ جس سے میری بہت حوصلہ افزائی بھی ہوئی اور اپنے کلام میں جو کمی بیشی مجھ سے رہ گئی تھی ان کا بھی اندازہ ہوگیا۔
عزیزم رحمت کریم نے بھی کتاب کو بہت شوق سے پڑھا اور میرے کلام میں موجودمختلف موضوعات سے متعلق میری آراء کی تفصیل بھی جاننے کی کوشش کی۔ میرے ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ، محترمہ پروفیسر دل انگیز صاحبہ نے آج کے دور کے احساسات اورتجربات کا بہترین عکاس قرار دیتے ہوئے میرے مجموعہِ کلام پر اپنے تعریفی کلمات سے نوازا۔ پروفیسر ڈاکٹر آصف خان صاحب نے بھی ادب سے کوئی خاص شغف نہ رکھنے کے باوجود، کلام پر دل کھول کر داد دی۔
دوسرے رفقاء کار پروفیسر ڈاکٹر صدرالدین قطوشی صاحب، مس نازیہ صاحبہ، پروفیسر ڈاکٹر زہرا صاحبہ اور بہت سارے میرے کے۔آئی۔یو کے لیکچرر دوستوں اور عزیز طلباء نے بھی اپنی قیمتی آراء سے نوازا۔ پی۔ایچ۔ڈی کلاس فیلو مس فصیحہ کا بھی بہت ممنون ہوں جنھوں نے اس کتاب کی اشاعت میں میر ی بہت مدد اور حوصلہ افزائی کی۔
یوں ایک اور مجموعہ کلام’’کمال لمحے‘‘ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ اُمید ہے سب کو پسند آئے گا۔
کمال الدین کمالؔ
٭٭٭
ہم نے کوشش کی بہت بن جانے کی یاں عقل مند
پر نہیں ہم جان پائے زہر میں شامل تھا قند
زندگی کا جرم ہم لوگوں پر ہے ثابت ہوا
عمر بیتے گی ہماری ایک ہی تھانے میں بند
لوگ کیا جانیں ہوا کا رُخ بدل جائے گا کب
دیر کتنی لگ جائے گی سانس ہو جانے میں بند
آؤ سب کچھ ترک کر کے اِک بھریں ایسی اڑان
جو زمانے کی فضاؤں سے بھی ہوجائے بلند
ہم کہاں سے تھے نکل آئے کہاں اب ہیں کھڑے
اور کیا کرنا پڑے گا، کدھر ہے جانا پسند
لفظ ہوتے جا رہے ہیں بے یقیں اور بے اعتبار
کس طرح تم کو بتائیں کیا لکھیں ہم شعر، بند
یہ کہاں ہوتا ہے سب پائیں وفاؤں کا صلہ
لوگ سب ہوتے نہیں ہیں قسمتوں سے بہر مند
تم تو باتیں جان کر کرتے نہیں ہوتے کمالؔ
ورنہ کیسے دوسرے لوگوں کو پہنچاتے گزند
------------------------
روز کُھلتا ہے مرے اندروں خانہ نیا باب
روز کیوں ہوتا ہے میرا پھر وہی خانہ خراب
تم سے کیا کام میری بستی کے لوگو! لے لوں
دیکھتے رہتے ہو تم لوگ تو دن دہاڑے بھی خواب
تم وہ کرتے ہو کہ جس کا نہیں رکھتے ہو شعور
تم کسی کام سے کیا خاک کماؤ گے ثواب
مشترک تم میں اور مجھ میں جو ہے، وہ بات ہے یہ
تم بھی تصویر بنے پھرتے ہو اور میں بھی سراب
تیرے حالات سے شاید میں بھی لاعلم ہوں یوں
میری باتوں کا نہیں تم بھی تو دیتے ہو جواب
کیا یہ سچ ہے کہ تم خود سے ہی انکاری ہو اب؟
تم پر لاگو پھر نہیں ہوتا ہے کوئی کفر و ثواب
کیا تمھیں یاد نہیں خاصہِ خاکِ صحراء؟
میری شاخوں پر کہاں سے ہو کوئی برگِ گلاب
منتظر ہیں وہ کمالؔ آکے جتانے احسان
وہ سمجھتے ہیں ان ہی کا نہیں ہوگا کوئی حساب
-------------------------
اُسی ظالم سے اتنا پیار مت کر
محبت کا بھی یوں اِظہار مت کر
You have read 12% of کمالؔ لمحے - Kamal Lamhay. The full e-book picks up right where this stopped.