Check out our most recent publications
دنیا کے رنگ - Duniya Kay Rung
Free sample · no sign-up

دنیا کے رنگ - Duniya Kay Rung

by Umm e Bobi

You are reading the first 23% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

23% of the book — free to read

 

دنیا کے رنگ

امِ بوبی

 

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

ISBN: 978-969-696- 560-2

 

 

مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

٭

کمپوزنگ

قدسیہ حذیفہ جمالیؔ

فریال زہرا

 

ادارت و ترتیب

نرمین سرھیو

قدسیہ حذیفہ جمالیؔ

 

گرافک ڈیزائنر

انعم امیر

__

سرورق کے جملہ حقوق مصنفہ کے نام محفوظ ہیں

 

انتساب

 اپنے پیارے امی ابو کے نام !

جن کے بارے میں سب کہتے ہیں کہ وہ جنت میں بھی ایک دوسرے کی کمپنی انجوائے کر رہے ہوں گے۔ امی ادبی ذوق رکھتی تھیں خود بھی شعر کہتیں اور ہمیں بھی بیت بازی پر لگا دیتیں۔ ابو محفل جمانے والے تھے۔ عام سے واقعات کو ایسے سُناتے کہ سب انجوائے کرتے۔ کبھی کبھار کسی پر مزاحیہ نظم بھی بنا دیتے۔

 

فہرست

دیباچہ            viii

آدھی زنانی        10

آسمان سے گرا     18

بیوی               20

دیارِ غیر میں رہنا    23

دیوار             30

دل بوڑھا نہیں ہوتا   34

جادو کی ڈبیا    36

جوتا            40

کتا              42

معصوم        46

مرغا             49

پری               53

ساسو جی          57

خوفِ محبت        62

سونے کا دل       67

اجی سنتے ہو      72

دادی اور پوتی      76

دنیا کے رنگ       81

فرینڈز              90

شیر                  95

گوگلی سے پوچھو     99

 

دیباچہ

ایک عزیز سہیلی کے اصرار پر زندگی میں پہلی بار قلم اُٹھانے کی جسارت کی ہے۔اس کتاب میں موجود تمام کہانیاں سنجیدہ موضوعات پر مبنی ہیں۔ البتہ کوشش کی ہے کہ جس حد تک ممکن ہوان تلخ کہانیوں کو ہلکےپھُلکے انداز میں پیش کروں۔ ان کہانیوں کے کردار ہمارے اِرد گرد پھیلے ہوئے ہیں۔ کہیں نہ کہیں ہم سب ان کہانیوں کو اپنی زندگی میں جی رہے ہیں۔

اس کتاب میں آپ کو ہر رنگ کے کردار سے واقفیت ہوگی جیسےبے تحاشہ محبت اورقربانیاں دینے والے لوگوں سے لے کر اپنی اولاد کو زمانے کی ٹھوکروں پر چھوڑنے والے۔ جہاں دوستوں کی باتوں میں آکر اپنے گھروں کو خراب کرنے والے نادان لوگ ہیں وہیں اپنی بُردباری اور صبر سے گھروں کو سمیٹنے والے دانش مند، حساس طبعیت کرداروں سے بھی آپ کی ملاقات ہوگی۔

حقیقی زندگی میں رونما ہونے والے کافی واقعات نے بھی ان کہانیوں کو جنم دیا ہے۔ جیسے آدھی زنانی کا کردار بھی آٹھ سالہ بچے کی خودکشی کے حادثے کا ردِّ عمل ہے۔

میرے بھانجے بلال نے اس کتاب کی اشاعت میں میری بھرپور مدد کی۔ میں اپنے بیٹے بوبی اور بیٹی صائمہ کی بھی مشکور ہوں کہ انھوں نے مجھے ہمت و حوصلہ دیا۔

سعید صاحب کا بہت بہت شکریہ جنھوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی کی اور میری کتاب کو اپنی پینٹنگ سے سجا دیا۔

امِ بوبی

 

آدھی زنانی

اماں کا خیال تھا میرے دماغ میں کوئی کمی رہ گئی ہے جو میں عام لڑکوں جیسا نہیں ہوں اور وہ اس کا الزام ہمیشہ ابا کو دیتیں۔اماں سے بحث کرنا اباکے بس کا کام نہیں تھا۔اماں جب شروع ہوتیں تو ابا کان دبا کر گھر سے باہر نکل جاتے، ہاں جاتے جاتے اپنے دونوں خوب صورت بیٹوں ریان اور منان کو ساتھ لے جانا نہ بھولتے۔ابا کے گھر سے نکلتے ہی اماں مجھے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیتیں اور جانے کہاں سے اتنا ڈھیر سارا پانی ان کی آنکھوں میں اُتر آتا۔ان کے آنسو پونچھتے ہوئے میں خود بھی رو پڑتا۔ میں جانتا تھا اماں ابا سے میری خاطر لڑتی ہیں مگر ابا مجھے خاطر میں لاتے ہی نہیں تھے۔

دراصل اماں کی خواہش ہوتی کہ ابا مجھے بھی ریان اور منان کی طرح اپنے ساتھ رکھیں۔مجھے بھی فخر سے اپنے دوستوں سے ملوائیں مگر میں ابا کا فخر نہ تھا۔

مجھے یاد ہے جب اماں کے اصرار پر ابا ایک دو بار مجھے لے کر باہر نکلے تو ان کے دوستوں نے مذاق سے کہا ،”چودھری صاحب آپ دونوں تو بہت خوبصورت ہو یہ کس پہ چلا گیا؟ کہیں ہسپتال سے کسی اور کا بچہ تو نہیں اٹھا لائے۔“

ابا نے اپنے دوستوں کو تو کچھ نہیں کہا، ہاں مجھے باہر لے جانا چھوڑ دیا۔اماں کے اصرار پر بھی نہیں اور جو اماں کو اس بات کی بِھنک بھی پڑ جاتی تو وہ ابا کے دوستوں کو خودکشی پر مجبور کر دیتیں۔

اماں ایسی ہی تھیں میرے لیے ڈٹ جانے والی۔مجھے ان سے بہت پیار تھا۔میری ساری دنیا ان کے گرد گھومتی تھی۔میں نے اماں کا پلّو پکڑ کر چلنا سیکھا تو بولنے بھی امّاں کی طرح لگا۔جب ذرا بڑا ہوا تو ابا نے ٹوکا۔اماں نے دو تھپڑ مارے اور منہ پر دوپٹہ رکھ کر رونے بیٹھ گئیں۔اماں رو رو کر ابا کو یاد دلا رہی تھیں کہ میرا منا دو برس کا تھا ابھی بولنا سیکھ ہی رہا تھا کہ تمھاری بہن بلاوجہ شوہر سے روٹھ کر سال بھر میرے سر پر سوار رہی۔ سارا دن بول بول کر میرا دماغ الگ کھاتی رہی میرے بیٹے کو بھی لڑکیوں کی طرح بولنا سکھا گئی۔ہائے کیا کیا ارمان نہ تھے میرے، کتنے وظیفے کیے، منتیں مانگیں، مزاروں پر جھاڑو لگائی، دھاگے باندھے کہ پہلوٹی کا لڑکا پیدا ہو اور اِدھر یہ آدھی زنانی پیدا ہو گیا۔اماں کے آدھی زنانی کہنے پر دبک کے بیٹھے ابا کا قہقہہ نکل گیا۔انھوں نے مذاق مذاق میں یہ قصہ چچا کو سنایا، چچا نے پھوپھو کو اور ہوتے ہوتے میں پورے خاندان میں آدھی زنانی مشہور ہو گیا۔

وہ تو شکر ہے اماں نے برقعہ اٹھایا اور ایک ایک کے گھر جا کر ان کی وہ خبر لی، وہ وہ نام دیے کہ سب دبک کر بیٹھ گئے اور ابا کے الگ سے وہ لتے لیے کہ ابا قہقہہ لگانا ہی بھول گئے۔میری اماں سپہ سالار تھیں ہر جنگ جیت کرآتیں۔

میرے بعد دو بھائی اور پیدا ہوئے مگر کوئی میری جگہ نہ لے سکا۔یونہی محلے میں کھیل کود کرجوان ہونے والے میرے بھائی مجھ سے بہت مختلف تھے۔انھیں دیکھ کر میرے ابا کا سر فخر سے بلند ہو جاتا اور پھر وہ تمسخربھری نگاہوں سے مجھے دیکھتے۔

اماں میرا اُترا چہرہ دیکھ کر کہتیں ”میرا بیٹا بہت گبرو ہوتا اگر ست مہینہ نہ پیدا ہوا ہوتا۔پہلا بچہ تھا میرا مگر تمھاری بہن نے مجھے وہ کچوکے لگائے کہ نیاز کی بار ٹینشن میں آکر نہ میں کچھ کھا پی سکی نہ بچے کا دھیان رکھ سکی وہ تو شکر ہے یہ پورے ہاتھ پیر سے پیدا ہوا۔غم سے میرا جسم پھول گیا تھا مگر تمھاری بہن نے طعنہ دیا لو ہاتھی کے گھر چوہا پیدا ہوا ہے۔“ابا کھسیا نے پڑجاتے۔

اسکول کے زمانے میں تو میں ایسا ہی تھا۔جب کوئی تنگ کرتا تو رونے بیٹھ جاتا اماں کو بتانے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔اماں لڑنے پہنچ جاتیں اور لڑکے بعد میں میرا مذاق اُڑاتے۔

سیکنڈ ایئر میں تھا کہ اماں کے دور کے کزن انکل رزاق اپنی فیملی کے ساتھ پہلی بار کراچی چھٹیاں گزارنے آئے اور اماں کے اصرار پر ہمارے گھر ہی ٹھہرے۔

انکل رزاق آرمی آفیسر تھے۔ ان کی شخصیت بڑی شاندارتھی اور اماں کے بعد انکل رزاق ہی تھے جن کی آنکھوں میں میرے لیے خلوص تھا۔شاید میری کمزور سی شخصیت کو دیکھ کر انکل کو مجھ پر رحم آگیا اور انھوں نے اماں کو مشورہ دیا کہ وہ مجھے ان کے پاس مری بھیج دیں۔تازہ آب و ہوا میری صحت پر اچھا اثر ڈالے گی یوں بھی آرمی ایریا ہے میں ہر طرح سے محفوظ رہوں گا۔

اماں کو بھی شاید احساس ہو گیا تھا کہ ماحول کا بدلنا میرے لیے اچھا ہے سو میں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور انکل کے ساتھ مری چلا گیا۔

مری کی تازہ آب و ہوا نے میری صحت پر اچھا اثر ڈالا چند ہی مہینوں میں، میں اچھا خاصہ ہینڈسم ہوگیا۔انکل رزاق نے مجھے صحیح معنوں میں شفقت دی۔مجھے لوگوں سے ملوایا۔انکل کے ساتھ رہنے سے مجھے بات کرنے کا فن آگیا۔ میری سوچ اور میرے اسٹائل بدل گئے مجھ میں اعتماد آیا تو پڑھائی کی طرف میرا رجحان بڑھنے لگا۔MBA کے بعد میں نے اپنا ذاتی بزنس شروع کر دیا۔

قسمت نے ساتھ دیا اور اب میں ایک ایسا نوجوان تھا جو ہر لڑکی کا آئیڈیل ہوتا ہے؛ خوش مزاج، ہینڈسم اور کامیاب۔

انکل رزاق نے شازیہ کو میرے لیے پسند کیا تو اماں نے بغیر دیکھے ہی ہاں کردی۔

وقت اچھا ہو تو بہت تیزی سے گزر جاتا ہے۔میں اپنے حال میں مگن تھا اور شاید ہمیشہ کے لیے اپنے بھیانک ماضی سے نظریں چرائے رکھتا اگر فراز کی آواز مجھے واپس نہ لے جاتی اور علی مجھے اپنی جگہ کھڑا نظر نہ آتا۔

ہوا یوں کہ میں اور شازیہ اپنے کمرے میں ٹی وی دیکھ رہے تھے بچے لاؤنج میں تھے۔فراز کی طبیعت میں شوخی تھی ہر وقت رونق لگائے رکھتا۔فراز کو بات کرنے میں مہارت تھی،اتنے مزے سے قصے سناتا کہ ہر محفل کی جان بن جاتا۔اب بھی فراز کوئی قصہ سنا رہا تھا راحیلہ بےتحاشہ ہنس رہی تھی۔علی بھی شاید کوئی قصہ سننا چاہتاتھا۔

علی کے کچھ کہنے پرفراز زور سے چیخا، ”امی اس مینڈک کو چپ کروائیں ٹر ٹر کیے جا رہا ہے۔“ فراز نے اتنے مزے سے مینڈک کی آواز نکالی کہ راحیلہ تو ہنسی ہی شازیہ بھی ہنس دی۔

میں نے حیرت اور افسوس سے شازیہ کی طرف دیکھا مجھے اس طرح اپنی طرف دیکھتے ہوئے شازیہ گھبرا کر بولی،” نیاز دیکھیں فراز نے مینڈک کی کتنی اچھی نقل اُتاری ہے۔“

میرے چہرے پر سختی اور بڑھ گئی اور میں اُٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگا۔میں نیاز سے اماں بن گیا۔باہر آکر میں نے فراز کو علی سے معافی مانگنے کے لیےکہا۔مجھے اس فتنے کو یہیں ختم کرنا تھا۔جب میں کمرے میں واپس آیا تو شازیہ ابھی تک حیران و پریشان تھی۔اس نے مجھے کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ مجھ سے فراز کی صفائیاں پیش کرنے لگی کہ بچے آپس میں مذاق کرتے ہی ہیں اس سے ان میں understanding بڑھتی ہے۔

میں جانتا تھا شازیہ اس دور سے نہیں گزری۔وہ ان لوگوں میں سے تھی جن کا کبھی مذاق نہیں اُڑایا جاتا۔شاید اس لیے وہ مذاق کرنے اور مذاق اُڑانے کے فرق کو نہیں سمجھ پا ئی تھی۔ میری خاموشی سے گھبرا کر شازیہ نے محبت سے میرے دونوں ہاتھ تھام لیے۔

”نیاز پلیز مجھ سے یوں خفا تو نہ ہوں۔میں فراز کو منع کروں گی وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔“شازیہ نے مجھے منانے کے لیے ہتھیار ڈالے۔

”شازیہ تمھیں انکل رزاق یاد ہیں؟“ میرے سوال پر شازیہ کی بڑی بڑی خوب صورت آنکھوں میں حیرت اُ تری اور پھر میں نے شازیہ پر اپنا ماضی کھول دیا۔وہ ماضی جو میں خود سے بھی چھپا کر رکھتا تھا۔وہ دکھ جو مجھے زندگی سے دور لے جا رہے تھے۔

کاش یہ سب بدل سکتاتو آج ماں باپ اپنے آٹھ اور دس سال کے بچوں کی خودکشی اور bullying پر احتجاج نہ کر رہے ہوتے۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ bully ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ہم بچوں کے دوسروں پر ہنسنے اور اُن کی نقل اتارنے کوtalent کہتے ہیں۔ ہم نے اسےentertainment کا درجہ دیا ہوا ہے۔

دوسروں پر ہنستے ہوئے ہم یہ نہیں سوچتے کہ کیسےوہ دنیا والوں کے ہاتھوں رسوائی کا نشانہ بنتا ہے۔کس طرح وہ لوگوں کی مذاق اُڑاتی نظروں سے بچتا پھرتا ہے۔کیسے وہ سماج سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔یہ مذاق نہیں ہے شاید۔۔۔اپنے بچوں کو مذاق اُڑانے کی اجازت دے کر ہم ان کے ہاتھوں میں ان دیکھی تلوار پکڑا دیتے ہیں کہ جاؤ جب جس کو چاہو اپنے لفظوں سے مار ڈالو۔اسے خودکشی پر مجبور کر دو۔

میں شاید زندگی میں پہلی بار شازیہ کے سامنے رو رہا تھا۔میں فراز کو ایسا نہیں بننے دوں گا۔میں علی کو مرنے نہیں دوں گا۔میں جانے کتنی دیر روتا رہا۔شازیہ بھی رو رہی تھی۔

فرازجو نجانے کب سے کمرے کےباہرکھڑا ہماری باتیں سُن رہا تھا اندر آکرماں سے لپٹ گیا اور اُس کےآنسو پونچھتے ہوئے بولا،”امی! یہ آپ سے میرا وعدہ ہے کہ میں علی کو مضبوط بناؤں گا، اور پاپا آپ تو بہت بہادر ماں کے بیٹے ہیں جنھوں نے اس زمانے میں اپنے تمام تر وسائل استعمال کرکے آپ کو اونچے مقام تک پہنچایا۔

پاپا اگر مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ میرا مذاق کسی کو suicidal بنا سکتا ہے تو میں کبھی ایسا نہ کرتا۔ بلکہ شاید بہت سے دوسرے بچے بھی ایسا نہ کرتے۔مگر آپ کے بعد میرا آپ سے وعدہ ہے کہ میں اپنے Talent کا صحیح استعمال کروں گا۔ میں اور میرے دوست اپنی videos سے بچوں میں awareness پیدا کریں گے کیونکہ اگر میڈیا کے ذریعے Bullismہوسکتا ہے تواسی کےذریعے اسے ختم بھی تو کیا جاسکتا ہے۔“

مجھے لگا میرے سامنے میرا پندرہ سال کا بیٹا نہیں بلکہ پچاس سال کے انکل رزاق کھڑے ہیں۔

 شازیہ نے فخر سے فراز کا ماتھا چوما اور التفات سے میری طرف دیکھ کر مسکرادی۔

***

 

آسمان سے گرا

”لو سنو!کتنا عجیب سا محاورہ ہے۔“نگہت نے اردو کی کتاب بند کرتے ہوئے نبیلہ کو مخاطب کیا۔

”کون سا؟“ نبیلہ نے اشتیاق سے پوچھا۔

”آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔میں سوچ رہی ہوں اگر وہاں کھجور کا درخت نہ ہوتا تو بیچارا کہاں گرتا؟کسی دریا میں، سمندر میں یا جوہڑ میں؟“

”یا تیرے جہیز کے ٹرک پر۔“ نبیلہ نے بات اُچکی۔

”اور پھر تیرا دولہا گنڈاسہ لے کر بڑک لگاتا،’توں کتوں آیا اے جواناں! ‘ اور میں کہتی نہیں نہیں دولہا بھائی یہ یونانی دیوتا تو آپ کی سالی کے لیے آسمان سے اُترا ہے۔“نبیلہ نے ڈرامائی انداز میں کہا۔

” میرے کیوں تیرے جہیز کے ٹرک پر گرتا اور میں کہتی آپ مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک آگئے۔“ نگہت نے پرانی فلموں کی ہیروئن کی نقل اُتاری۔

بات ایک یونانی دیوتا کی تھی جسے دو شرارتی لڑکیاں ایک دوسرے کے جہیز کے ٹرک پر گرا رہی تھیں۔بے تحاشہ ہنستے ہوئے اسے اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے ڈائیلاگ بول رہی تھیں، گانے گا رہی تھیں، رقص کر رہی تھیں۔پھرتھک کر یوں بیٹھیں جیسےپیا کے چرنوں کی داسیاں۔۔۔ نگہت نے دیوتا کو یقین دلایا کہ اس سے اچھی لڑکی تو روئے زمین پر ہو ہی نہیں سکتی، نبیلہ بھلا کیوں پیچھے رہتی۔

زبردست مقابلہ ہوا، جانے کب اپنی تعریفیں ختم ہوئیں اور کب دیوتا کی نظروں میں گرانے کے لیے ایک دوسرے کے راز کھولے گئے۔خوب کیچڑ اُچھالا گیا۔

ایک بات جو مذاق میں شروع ہوئی تھی اتنی بڑھی کہ آج برسوں بعد بھی دلوں کی کدورت نہیں گئی۔

***

 

بیوی

چیزیں جتنی پرانی ہو جائیں اتنی ہی آرام دہ ہو جاتی ہیں۔نہ بھئی پرانی جوتی کی بات نہ کرنا ورنہ یہی جوتی تاڑ کر کے سر پر پڑے گی۔یہ جو بیوی ہوتی ہے ناں وقت کے ساتھ آپ کی روح میں اُتر جاتی ہے، بتائے بغیر ہر بات جان جاتی ہے۔آپ سامنے بیٹھے ہیں اور وہ پوچھ رہی ہے کہاں جانے کا ارادہ ہے۔آپ بھوک بھوک کرتے گھر میں داخل ہوئے اور وہ کہتی ہے کھانا تو آپ باہر سے کھا کر آرہے ہوں گے۔

That’s the end of the free sample

You have read 23% of دنیا کے رنگ - Duniya Kay Rung. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Umm e Bobi earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 240

See all editions, reviews and details

دنیا کے رنگ - Duniya Kay Rung Buy — Rs 240