Check out our most recent publications
وائس آف ڈیتھ (عمران سیریز) - Voice of death (Imran Series)
Free sample · no sign-up

وائس آف ڈیتھ (عمران سیریز) - Voice of death (Imran Series)

by Irfan Mehmud

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

 

وائس آف ڈیتھ

(عمران سیریز)

 

عرفان محمود

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

 

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

٭

مدیران

نرمین سرھیو

فریال زہرا

 

__

 

سرورق کے جملہ حقوق مصنف کے نام محفوظ ہیں

 

پیش لفظ

علی عمران کا کردار برِ صغیر کے شہرۂ آفاق ناول نگار جناب ابنِ صفی مرحوم کی تخلیق تھا۔ اس کے بعد بہت سے مصنفین نے اس کردار کو اپنے اپنے انداز میں نکھارا ،جن میں سب سے قابلِ ذکر نام مظہر کلیم مرحوم کا ہے۔ بلکہ میری طرح بہت سے لوگ علی عمران سے  دراصل مظہر کلیم  مرحوم کے ناولوں کے ذریعے ہی متعارف ہوئے۔ زمانۂ طالب علمی  میں عمران سیریز کے ناول پڑھنا ایک طرح کا نشہ سا تھا اور اس کے لیے والدین کی ڈانٹ ڈپٹ بھی سننا پڑتی تھی اور دوستوں سے پڑھنے کے لیے بعض اوقات ناول   اُدھار  مانگنے کے کٹھن مرحلے سے بھی گزرنا پڑتا تھا۔ اس زمانے جہاں کہیں اور جس کسی کے ہاتھ میں بھی عمران سیریز کے ناول کا مخصوص سرِ ورق یا   پُشت پر مظہر کلیم صاحب کی تصویر نظر آجاتی تو بس  وہیں منہ میں پانی بھر آتا اور اسی وقت قرار آتا جب  تک وہ خود اپنے ہاتھوں میں نہ آجاتا۔

دنیا کے جاسوسی ادب میں بہت سے مشہور کردار تخلیق ہوئے ، لیکن علی عمران کے کردار کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ لڑائی بھڑائی ، نشانہ بازی اور سراغ رسانی میں حد سے زیادہ ماہر ہونے کے باوجود  بظاہر ایک احمق اور معصوم سا دکھائی دینے والا نوجوان تھا جو دیکھنے والوں کو  کسی طرح بھی کوئی خطرناک سیکرٹ ایجنٹ نہیں لگتا  تھا۔ انتہائی سفاک قسم کے مجرموں سے مقابلہ کرتے ہوئے بھی وہ کبھی سنجیدہ نہ ہوتا اور انتہائی خوفناک سچویشنز میں بھی اپنی حماقتوں  اور مزاحیہ باتوں کا سلسلہ جاری رکھتا اور یہی چیز قارئین کو اس کا دیوانہ بنا دیتی تھی۔علی عمران کا باپ سررحمان سول انٹیلی جنس کا سربراہ تھا، مگر باپ  کے ساتھ اس کی  کبھی نہ بنتی تھی ، اس لیے وہ  والد کی کوٹھی  کی بجائے اپنے ہم مزاج باورچی سلیمان کے ساتھ ایک الگ فلیٹ  میں رہتا تھا۔ قانونی طور پر وہ سیکرٹ سروس کا چیف ایکسٹو تھا مگر اس نے ایسا سیٹ اَپ بنا رکھا تھا کہ دنیا اسے  سیکرٹ سروس کے لیے کام کرنے والا ایک فری لانسر ہی سمجھتی تھی۔

مظہر کلیم مرحوم ایک طویل عرصے تک عمران سیریز کے ناول لکھتے رہے، حتی ٰ کہ ان کے مقابلے میں دیگر مصنفین پھیکے پڑ کر  منظر سے غائب ہوتے چلے گئے۔ پھر وقت کے ساتھ خود مظہر کلیم مرحوم کے اندازِ تحریر میں کافی تبدیلیاں آئیں اور رفتہ رفتہ انھوں نے اپنے ناولوں میں علی عمران کے مخصوص مزاج کو ہی بدل ڈالا۔  ہنسنے ہنسانے والا مسخرہ سا علی عمران اب ہر وقت سنجیدہ رہنے لگا۔ اس کے بعد اُن کے ناولوں میں روحانیت کا رنگ اتنا غالب آگیا کہ علی عمران سیکرٹ ایجنٹ کی بجائے کوئی قُطب ابدال قسم کی چیز نظر آنے لگا۔ یہ تبدیلیاں مجھ سمیت بہت سے قارئین کو پسند نہ آئیں، حتیٰ کہ تنگ آکر ایک بار میں نے خود ناول لکھنے کی کوشش کر ڈالی اور نتیجہ اِس ناول ”وائس آف ڈیتھ“ کی صورت میں نکلا۔ اس ناول میں میں نے کوشش کی کہ علی عمران کے اُس اصل روپ کو دوبارہ زندہ کیا جائے جسے ابنِ صفی مرحوم  نے تخلیق کیا تھا۔اب اس کوشش میں کتنی کامیابی ہوئی، اس کا فیصلہ تو آپ پڑھنے والے ہی کرسکتے ہیں۔ ناول کے بارے میں اتنا واضح کرنا چاہوں گا کہ یہ موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے دور سے پہلے لکھا گیا تھا، اسی لیے اس میں آپ کو پرانے ٹیلی فون سیٹوں  اور ہارڈ کوور فائلوں کا ذکر ملے گا۔

عرفان محمود

 

ایکریمن سیکرٹ سروس کے ہیڈکوارٹر میں تمام سیکرٹ ایجنٹس اور سٹاف ممبران ایک ہال میں جمع تھے۔ سیکرٹ سروس کے چیف نے ایک میٹنگ کال کی تھی۔ ایکریمن کے چیف کا کوڈ زیروون تھا۔ وہ ایک عمررسیدہ مگر بارعب اور باوقار شخصیت کا مالک تھا۔ سیکرٹ سروس کے لیے اس کے کارنامے اورخدمات اس قدر شاندار اور مرعوب کن تھیں کہ ایکریمیا کا صدر بھی اسے بہت احترام دیتاتھا، بلکہ زیروون کو صدر کے بعد پورے ملک کے اداروں پر اختیارات حاصل تھے۔ سیرٹ سروس کے ارکان اس وقت زیروون ہی کے منتظر تھے۔ بعض سیکرٹ ایجنٹس آپس میں اس میٹنگ کے مقاصد پر قیاس آرائیاں کرنے میں مصروف تھے۔ اچانک ہال کا بغلی دروازہ کھلا اور جدید اسلحے سے لیس سیکیورٹی گارڈز اندر داخل ہوئے۔ انھوں نے گائیکروں کی مدد سے پورے ہال کو چیک کیا۔ مطمئن ہونے کے بعد وہ سب چلے گئے۔ سیکرٹ سروس کے تمام ممبران سانس روک کر بیٹھ گئے تھے کیونکہ اب کسی بھی لمحے زیروون کی آمد متوقع تھی۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد زیروون ہال میں داخل ہوا۔ اس کے چارباڈی گارڈز بھی دائیں بائیں ہوکر چلے آرہے تھے۔ تمام لوگ زیروون کے احترام میں اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ زیروون بارعب انداز میں قدم اٹھاتاہوا اپنی کرسی تک پہنچا۔ پھر اس نے اپنے سر کو ہلکا سا خم دے کر تمام لوگوں کو بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اورخود بھی بیٹھ گیا۔

”ہیلو ممبرز! آپ لوگ یقیناً آج کی میٹنگ کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین ہوں گے۔“ زیروون کی بھاری بھرکم آواز ہال میں گونجی۔ ممبروں نے اثبات میں سرہلادیے۔ زیروون کے سیکرٹری نے ایک فائل کھول کر اس کے سامنے رکھ دی۔

”جس مسئلے پر ہم نے آج غور کرنا ہے اس کی تفصیلات یہ ہیں کہ حکومتِ ایکریمیا آج کل ایسے تمام ممالک کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرہی ہے جو ایکریمیا کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں یا ہوسکتے ہیں ۔ اس حوالے سےآپ کے علم میں ہوگا کہ ایکریمییا نے بعض ممالک کے خلاف فوجی کارروائی بھی کی ہے ۔ بعض کے خلاف عالمی اداروں پر دباؤ ڈال کراقتصادی پابندیاں لگووائی ہیں اور کچھ ممالک کومحض وارننگ دی ہے۔ ان آخر الذکر ممالک میں ایشیا کاایک مسلم ملک پاکیشیا بھی شامل ہے۔ بظاہر پاکیشیا نے کبھی ایکریمیا کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا لیکن وہاں کے عوام کے جذبات انتہائی درجے میں ایکریمیا مخالف ہیں اور ایکریمیا کو خطرہ رہتاہے کہ کسی بھی وقت وہاں پر ایسی پارٹی اقتدار میں آسکتی ہے جو اپنی خارجہ پالیسی عوامی رجحانات کے مطابق ترتیب دے کر ایکریمیا کے لیے پریشانی بن جائے۔“ یہاں تک کہہ کر زیروون کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا۔ سیکرٹ سروس کے تمام ممبرز پتھروں کے مجسمے بنے انتہائی توجہ سے زیروون کی باتیں سن رہے تھے ۔ ایک نظر تمام لوگوں کے چہروں پر ڈالنے کے بعد زیروون نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔

”اس خدشے کے پیشِ نظر ایکریمیا حکومت پاکیشیا اور وہاں کے اداروں پر کڑی نظر رکھتا ہے۔ حکومت کو اطلاعات ملی ہیں کہ پاکیشیا اور شمالی کوران کے درمیان حال ہی میں میزائل سازی کے شعبے میں تعاون کا ایک سلسلہ شروع ہوا ہے۔ شمالی کوران نے میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں خاصی پیش رفت کی ہے اور اس کی امداد سے پاکیشیا بھی اس شعبے میں غیر معمولی ترقی کرسکتاہے۔یہ بات حکومتِ ایکریمیا کے نزدیک اچھی نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ شمالی کوران بھی ایکریمیا کے ناپسندیدہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے لہٰذا حکومتِ ایکریمیا شمالی کوران اور پاکیشیا کے مابین اس تعاون کی تفصیلات جاننے کی خواہاں ہے۔ مزید برآں پاکیشیا کی موجودہ حکومت نے معاشی شعبے میں چند مؤثر پالیسیاں نافذ کی ہیں ۔ ان کے نتیجے میں پاکیشیا کی معیشت سنبھلی ہے اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس نئی ساکھ سے فائدہ اٹھاکر حکومتِ پاکیشیا کی نے اقتصادی لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک کی ایک علاقائی نتظیم ”ایشین ٹائیگرز“ میں رکنیت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اگر پاکیشیا اور شمالی کوران کے درمیان فوجی تعاون کے شواہد منظر عام آجاتےہیں تو اس سے پاکیشیاکی ان کوششوں کو زبردست دھچکا پہنچے گا۔ کیونکہ ایشین ٹائیگرز میں رکنیت کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ رکن ممالک اسلحے کی دوڑ میں شامل نہ ہوں گے۔“ زیرو ون نے ایک بار پھر سانس لینے کے لیے خاموش ہوگیا۔

”ممبرز! آپ کسی حد سمجھ گئے ہوں گے کہ اس صورتحال میں اب حکومتِ ایکریمیا کی کیا خواہش ہوسکتی ہے؟“ زیرو ون نے سیکرٹ سروس کے ممبروں سے دریافت کیا۔

”سر! یقیناً ہماری حکومت ان دونوں ممالک کے مابین اس فوجی تعاون کی تفصیلات حاصل کرنا چاہے گی تاکہ ان کی مدد سے پاکیشیا کی حکومت کو بلیک میل کرکے زیرِ دام رکھا جاسکے۔“ ایک سینئر ممبر نے کھڑے ہوکر انتہائی مؤدبانہ لہجے میں کہا۔

”ہاں! مگر یہ آسان نہیں ہے۔ پاکیشیا کی سیکرٹ سروس انتہائی فعال سمجھی جاتی ہے اور پاکیشیا کے خلاف ایسے مشنز کو ناکام بنانے میں بڑی مہارت رکھتی ہے۔ خاص طور پر اس کے لیے کام کرنے والا ایک نوجوان علی عمران انتہائی خطرناک ہے جو بظاہر احمق سا دکھائی دیتا ہے مگر حقیقتاً اس کا وجود دنیا بھر کے سیکرٹ ایجنٹوں اور مجرم تنظیموں کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی حیثیت رکھتاہے۔ لہٰذا پاکیشیا سے مطلوبہ معلومات کی سن گن حاصل کرنا کافی مشکل ہوگا۔“ زیروون نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ یہ سن کر اکثر ممبران کے چہروں پر حیرت کی پرچھائیاں نمودار ہوگئیں۔ غالباً وہ زیروون جیسی شخصیت کے منہ سے پاکیشیا جیسے پسماندہ ملک کی سیکرٹ سروس اور احمق سے نوجوان کی تعریفیں سن کر متعجب ہوئے تھے۔

”لیکن سر! ہم اس فوجی تعاون کے راز پاکیشیا کی بجائے شمالی کوران سے بھی تو حاصل کرسکتے ہیں۔“ ایک سیکرٹ ایجنٹ نے اٹھ کر کہا۔

”نہیں! ہماری اطلاعات کے مطابق اس تعاون کو ایک پراجیکٹ کی صورت میں مکمل طور پر پاکیشیا ہی میں چلایا جارہا ہے اور اس سے متعلقہ تمام ریکارڈ بھی پاکیشیا ہی میں ہے۔“

”سر! ایسی صورت میں یہ مشن کسی پرائیویٹ تنظیم کو دیا جاسکتا ہے تاکہ ناکامی کی صورت میں بھی ایکریمین سیکرٹ سروس کا کوئی نقصان نہ ہو۔“ سیکرٹ سروس کے شعبہ پلاننگ کے سربراہ نے تجویز دی۔

”ہاں! میرے ذہن میں بھی یہی تدبیر آئی ہے۔“ زیروون نے سرہلاتے ہوئے اتفاق کیا۔

”مگر سر! کیا یہ مشن صرف پاکیشیا سیکرٹ سروس یا علی عمران کے خوف سے کسی پرائیویٹ تنظیم کے حوالے کردیا جائے گا؟“ ایک سیکرٹ ایجنٹ نے کھڑے ہوکر اعتراض کیا۔ اس کی بات پر میٹنگ میں موجود تمام ممبروں نے تائید میں سر ہلائے۔ غالباً کسی کو بھی ایکریمیا جیسی سپر پاور کی سیکرٹ سروس کا مقابلے میں پاکیشیا سیکرٹ سروس کے کُترانا اچھا نہیں لگا تھا۔

”نہیں ! اس کی وجہ ایک اور بھی ہے۔ ایکریمین سیکرٹ ایجنٹس کے میدان میں آنے سے ایکریمیا اور پاکیشیا کے سفارتی تعلقات متاثرہوسکتے ہیں اور ایکریمیا بہرحال دوسری وجوہات کی بنا پر پاکیشیا کو اپنا دوست بنا کر رکھنا چاہتاہے۔“ زیروون نے جواب دیا۔ یہ معقول جواز سن کر سب لوگ مطمئن ہوگئے۔

”تو اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ مشن کس تنظیم کے سپرد کیا جائے۔“ زیروون اپنے سامنے رکھی فائل بند کرتے ہوئے بولا۔

”سر! میرے خیال میں وائس آف ڈیتھ نامی نتظیم یہ مشن آسانی سے مکمل کرلے گی۔ یہ اگرچہ کوئی بڑی تنظیم نہیں لیکن اس نے تھوڑے ہی عرصے میں یورپ کی سیکرٹ سروسز کے خلاف غیر معمولی کارنامے انجام دیے ہیں۔ یہ لوگ جدید سائنسی حربے استعمال کرتے ہیں اور بہت کم وقت میں انتہائی مشکل اور پیچیدہ مشنز مکمل کرلیتے ہیں۔ خاص طور پر اس کا ایجنٹ جیمز رسل بہت ہی فعال ہے۔“ ایکریمین سیکرٹ سروس کے ایک انتہائی تجربہ کار ایجنٹ نے رائے دی۔

”اوہ! میں نے بھی اس تنظیم کے بارے سنا ہے۔ واقعی اس کی شہرت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔“ ایک دوسرے ممبر نے کہا۔

”ٹھیک ہے۔ اگر کسی اور کو اس پر اعتراض نہیں تو یہ مشن وائس آف ڈیتھ کو دے دیا جائے۔“ زیروون نے تمام ممبران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس پر سب ممبروں نے تائید میں سروں کو جنبش دی یعنی انھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔

”اوکے! مسٹر جیکب! آپ اس تنظیم سے رابطہ کرکے معاملات طے کریں۔ انھیں بھاری معاوضہ دیا جائے لیکن ایکریمیا حکومت کانام درمیان میں نہیں آنا چاہیئے۔ وائس آف ڈیتھ کو یہ مشن انتہائی رازداری اور برق رفتاری سے مکمل کرنے کو کہا جائے۔“ زیروون نے اس ممبر کو مخاطب کیا جس نے اس تنظیم کانام پیش کیاتھا۔

”رائیٹ سر! میں یہ کرلوں گا۔“ جیکب نے مؤدبانہ لہجے میں جواب دیا۔

”اس فائل میں مشن اور پاکیشیا سیکرٹ سروس کے بارے میں تمام تفصیلات موجود ہیں۔ یہ معلومات بھی اس تنظیم تک پہنچادیں تاکہ وہ محتاط رہ کر یہ مشن مکمل کریں۔“ زیروون نے فائل جیکب کے حوالے کی اوراٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ یہ میٹنگ کے برخاست ہوجانے کا اشارہ تھا۔ زیروون اسی طرح رُعب دار انداز میں چلتاہوا باڈی گارڈز کے ساتھ ہال سے باہر نکل گیا۔ اس کے بعد سیکرٹ سروس کے ممبر بھی اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور مختلف دروازوں سے جانے لگے۔

٭٭٭

عمران ہونٹوں سے راک اینڈ رول کی دُھن بجاتا ہوا فٹ پاتھ پر چلاجارہاتھا۔ آج موسم بہت خوشگوار تھا۔ آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ لہٰذا عمران موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے کار کی بجائےپیدل ہی فلیٹ نکل پڑا تھا۔ وہ اس وقت شام کی چائے پینے کے لیے ہوٹل بلیو اسکائی کی طرف رواں تھا۔ سلیمان ان دنوں گاؤں گیا ہوا تھا، اس لیے وہ کھانے اور چائے کے لیے اسی ہوٹل میں آیا کرتا تھا۔اس نے اپنا مخصوص ٹیکنی کلر لباس پہن رکھا تھا جس میں وہ بالکل کسی فلم کا کامیڈین کیریکٹر لگ رہاتھا۔ راستے میں آنے جانے والے لوگ عجیب مسکراتی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ مگر وہ سب سے بے نیاز اپنی دُھن میں بڑھے چلاجارہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بلیو اسکائی ہوٹل کے کمپاؤنڈ میں داخل ہورہا تھا۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of وائس آف ڈیتھ (عمران سیریز) - Voice of death (Imran Series). The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Irfan Mehmud earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 150

See all editions, reviews and details

وائس آف ڈیتھ (عمران سیریز) - Voice of death (Imran Series) Buy — Rs 150