Check out our most recent publications
طمانچہ - Tamancha
Free sample · no sign-up

طمانچہ - Tamancha

by Syeda Neha Rizvi

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

 

طمانچہ

سیدہ نیہا رضوی

 

 


داستان پبلشرز 

 

داستان پبلشرز

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

ISBN: 978-969-696-556-5

 

 

مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

٭

مدیران

فریال زہرا

نرمین سرھیو

 

نظرِ ثانی

قدسیہ حذیفہ جمالی

__

 

سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں

 

انتساب

 

میرے والدین، جنہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میری زندگی کا پہلا حرف لکھوایا اور میری زندگی میں آنے والی دو خوبصورت پریوں، اسراء اور ہانیہ کے نام۔۔۔

 

فہرست

دیباچہ.. 8

پہلا باب... 11

دوسرا باب... 85

تیسرا باب... 114

چوتھا باب... 148

پانچواں باب... 167

چھٹا باب... 197

ساتواں باب... 227

آٹھواں باب... 256

نواں باب... 277

دسواں باب... 306

گیارہواں باب... 335

بارہواں باب... 367

تیرہواں باب... 410

چودہواں باب... 448

 

 

 

دیباچہ

”سب تعریفیں صرف اور صرف خدا وند متعال کے لیے جو لفظ اتارتا ہے، انہیں ترتیب دلواتا ہے اور جو ہر تخلیق پر قارد ہے۔“

مجھے بچپن سے ہی کہانیاں بننے اور کہنے کا شوق رہا ہے، بلکہ یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہوگا کہ میرے لیے لکھنا زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔شاید یہی وجہ تھی جس نے مجھے قلم اٹھانے پر اکسایا اور میں نے باقاعدہ طور پر اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔اِس نئے سفر میں مجھے کچھ مشکلات کا سامنا تو کرنا ہی پڑا لیکن جب بات ہو اپنے ادھورے خواب کو پورا کرنے کی تو انسان کے اندر ایک اُمید جنم لیتی ہے جس سے وہ ہر ناممکن کو ممکن بنا کر ہی دم لیتا ہے۔

طمانچہ کا لفط لفظ معاشرے کے قلم نے لکھا ہےاور معاشرے کی ہی تختی پر لکھا ہوا ہے۔اس کے لفظوں کو میں نے معاشرے کی تختی سے ہی سمیٹا ہے اور اسی سیاہی سے لکھا ہے۔یہ ایک لکھاری کے ذہن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ ہم سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کا طمانچہ کھا ہی رہے ہیں، ہے ناں؟

کہیں سچائی کا، کہیں ایمان کا اور کہیں اپنے انسان ہونے کا۔

کسی نے کہا ہے کہ، ”چند لفظ لکھ کر کوئی بھی لکھاری نہیں بن جاتا۔“لہٰذا میں بھی خود کو لکھاری نہیں کہتی۔اس کتاب کو لکھنے کے لیے مجھے بہت سارے لوگوں کا بھرپور ساتھ حاصل رہا۔میری ٹیچر مہک اسلم۔۔۔جن کی رہنمائی اور تعاون کے بغیر اسے کتابی شکل میں لانا مشکل تھا۔

ہانیہ ساجد۔۔۔طمانچہ اس کا بھی ناول ہے۔ہانیہ طمانچہ کی پہلی قاری، پہلی مداح اور پہلی نقاد ہے۔

اسراء حسن جو طمانچہ کی care taker رہی ہے۔اس نےہر ایک زاویے سے مجھے اس کی خوبیاں اور خامیاں بتائیں۔خلوص والے لوگ تو بہت مل جاتے ہیں مگر اسراء جیسے سادہ اور مخلص بہت کم نظر میں آتے ہیں۔اسراء تمہارا شکریہ۔۔۔تم نہ ہوتیں تو میں کیا کرتی؟

اپنے ناشر داستان پبلشرز کی میں بے حد ممنون ہوں جنہوں نے میری کتاب کو نہ صرف اشاعت کا شرف بخشا بلکہ ہر مرحلے پر میری رائے، پسند اور نا پسند کو ترجیح دی۔

طمانچہ کو پڑھیں اور مجھے اپنی رائے سے آگاہ کریں، مجھے خوشی ہوگی اگر آپ اپنی اچھی یا بری رائے مجھ تک پہنچائیں گے۔

سیدہ نیہا رضوی

rizvineha62@gmail.com

٭٭٭

 

پہلا باب

اپنے حصے کے غم مجھے دے دے
میرے حصے کا تو مسکرایا کر
حسن والوں کو کیا ضرورت ہے
حسن والوں کو کیا ضرورت ہے
حسن والوں کو کیا ضرورت ہے

””اب آگےبھی بڑھو!“وہ تیز قدموں کے ساتھ چلتی ٹیپ ریکارڈر کے پاس آ کر رکی۔ایک لمبی سانس لی۔۔۔ہوں۔۔۔ہوں۔۔۔عموماً غصہ آنے کی صورت میں ماشاء نثار خان یہی کیا کرتی تھی لمبی لمبی سانسیں۔وہ زمین پر ٹیپ ریکارڈر کے برابر میں بیٹھ گئی۔ابھی وہ ٹیپ ریکارڈر کو غصے سے گھور ہی رہی تھی کہ اچانک وہ چل پڑا اور گلوکار کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔

حُسن والوں کو کیا ضرورت ہے سنورنے کی
وہ تو سادگی میں بھی قیامت کی ادا رکھتے ہیں
وہ تو سادگی میں بھی قیامت کی ادا رکھتے ہیں
وہ تو سادگی میں بھی قیامت کی ادا رکھتے ہیں

 اس بار غصہ کرنے کی بجائے ماشاء جھنجھلا گئی اور کمرے سے باہر نکل کر سیدھا آغا نثار کے کمرے میں گئی۔آغا نثار کا اپنے علاقے میں کافی اثر و رسوخ تھا۔ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو کسی روایت کے ٹوٹ جانے پر لوگوں کو قتل کروانے میں بھی کوئی دقت محسوس نہیں کرتے تھے۔

”میں اندر آجاؤں بابا جانی؟“اپنی بھولی سی معصوم آواز سے ماشاء نے اندر جانے کی اجازت لی۔

”ارے ماشاء!میری جان، بابا کا دل، تم سے کہا ہے کہ بغیر اجازت آجایا کرو۔تمہارے بابا جانی کا کمرہ ہے میرے بیٹے۔“

”بابا!پھر بیٹا؟میں بیٹی ہوں آپ کی۔بیٹی یعنیDaughter“۔ماشاء نے ان کے بیٹا کہنے پر چڑکر اپنا روایتی جملہ دہرایا۔

ماشاء کے اِس فقرے پر آغا نثار کھل کر ہنس دیے۔عموماً وہ ماشاء کے ساتھ ہی ہنس بول لیا کرتے تھے باقی سب سے بہت مخصوص اور بہت کم گفتگو کرتے تھے یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ان کا رعب ہی اتنا تھا کہ کوئی ان سے فالتو بات کرنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا تھا۔

”اچھا اچھا، میری بیٹی رات کے اِس وقت کیا کررہی ہے؟بھئی میرا اس وقت لڈو کھیلنے کا موڈ تو نہیں ہے۔“

”نہیں بابا۔۔۔“لفظ باباپر ماشاء نے غیر اِرادی طور پر زور لگایا۔

آغا نثار اپنی مسکراہٹ دبائے اس بھوری آنکھوں والی لڑکی کو بڑے اشتیاق سے دیکھنے میں مصروف تھے۔

”یار بابا، وہ منحوس ٹیپ ریکارڈر ہے نا وہ بالکل بےغیرتوں والی حرکتیں کررہا ہے۔“

آغا نثار جو اب تک مسکرا رہے تھے ایک دم ان کے تمام اعصاب سخت پڑ گئے۔

”ماشاء!تمہیں کتنی بار بتایا جائے گا کہ یہ لفظ مت بولا کرو۔“

”سوری بابا جانی، وہ بے دھیانی میں نکل گیا، سوچ کر نہیں بولا۔۔۔“

”کمرے میں جاؤ اپنے مجھے آرام کرنا ہے۔“ا نہوں نے غصے سے ماشاء کو کمرے سے جانے کا کہا اور ماشاء باپ کے غصے کی پرواہ کیے بغیر بہت آرام سے سوری کہہ کر کمرے سے نکل گئی۔

”بابا جانی سوری، کل کرتے ہیں بات، اوکےگڈ نائٹ!“

آغا نثار کے کمرے سے نکل کر ماشاء سیدھی اپنے کمرے میں آئی، ایک نظر اس ٹیپ ریکارڈر پر ڈالی جو اب تک وہیں اٹکا ہوا تھا، اسے دیکھ کر اک لمبی سانس لی اور جا کر ٹیپ ریکارڈر بند کردیا۔

ٹیپ ریکارڈر بند کر کے وہ سیدھا اپنے کمرے کے اس حصےمیں گئی جہاں سے ان کا یہ چھوٹا سا گاؤں، جسے ماشاء ولیج، کہتی تھی نظر آتاتھا۔دیکھتے دیکھتے وہ کب کیا سوچنے لگی اسے خود بھی اندازہ نہ ہوا۔

”کیا ماشاء نثار خان اِس جگہ کو ڈیزرو کرتی ہے؟ان لوگوں کو جنہیں دیکھ کر سوائے حقارت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا، کیا یہ ماشاء نثار خان کو دیکھنا ڈیزرو کرتے ہیں؟کیا اِس چھوٹے سے ولیج کے لوگ جنہیں انگلش کے چار الفاظ نہیں آتے کیا یہ ماشاء نثار خان کو دیکھنا۔۔۔اس سے نظریں ملانا ڈیزرو کرتے ہیں؟“

”ماشاء!ادھر آؤ ذرا!“ماشاء کی سوچ کا ردھم سعیدہ بیگم کے اندر داخل ہونے سے ٹوٹا۔

”یار امی مینرز تو سیکھ لیں، ناک کر کے آیا کریں۔“

سعیدہ بیگم جو دودھ کا گلاس میز پر رکھ کر پلٹ رہی تھی ایک دم ان کے قدم تھمے اور وہ ماشاء کے سر پر آ موجود ہوئیں۔

”تمیز کب سیکھوگی تم ماں سے بات کرنے کی، ہاں؟“

”افففو، دوست ہیں یار آپ۔آپ سے بھی تمیز سے بات کروں گی تو امی بدتمیزی کس سے سیکھوں گی؟“ماشاء نے برا منایا۔

”سیکھنے کی ضرورت ہے بھی نہیں، پیدا ہی بدتمیز ہوئی تھی تم۔“

ماشاء سعیدہ بیگم کے گال پر پیار کر کے دودھ کا گلاس اٹھانے چلی گئی۔گلاس خالی کر کے اس نے سعیدہ بیگم کو تھمایا جو اس کے بستر کی سکڑی ہوئی چادر ٹھیک کررہی تھیں۔

”لڑکی!کل تمہارا رزلٹ نہیں آ رہا؟“

ماشاء جو اب بڑے اطمینان سے صوفے پر بیٹھی ماں کی صفائی کی کارروائی کو دیکھ رہی تھی ایک دم چونک کر کھڑی ہوگئی۔

”ہیں؟نہیں آ رہا؟پھر سے؟“

”ارے پوچھ رہی ہوں تم سے۔“

”افف۔۔۔نہیں نا۔۔۔آرا ہے۔“

”یہ اردو درست کرو۔آرا ہے کیا ہوتا؟آرہا ہوتا ہے۔بیٹا ہمارا تعلق ہے تو کراچی سے ہی نا۔وہاں اگر کبھی گئی یا وہاں سے کوئی آیا، اس نے یہ اردو کا جنازہ تمہارے منہ سے سنا تو کیا ہوگا؟“

”افسوس ہوگا۔“ماشاء نے جھٹ سے جواب دیا۔

”اور ہاں بیٹا نہیں بیٹی ہوں آپ کی۔بیٹی یعنیDaughter“۔

سعیدہ بیگم جو اب تک سنجیدہ سی کھڑی اپنی اچھی خاصی بدتمیز بیٹی کی باتیں سن رہی تھیں ایک دم مسکرا دیں۔

”اچھا بالوں میں کنگھا کر کے سونا۔“یہ کہہ کر وہ جانے کے کیے مڑی ہی تھیں کہ ماشاء نے فوراً جملہ کسا۔

”اور امی ناک کر کے آیا کریں، پرائیویسی ہوتی ہے۔“

ماشاء یہ جملہ کہہ کر، مسکرا کر ماں کے جواب کا انتظار کر رہی تھی لیکن سعیدہ بیگم نےایک گہری سانس لی اور کمرے سے نکل گئی۔

ان کے جانے کے بعد ماشاء نے ایک نگاہ اپنے کمرے پر ڈالی جو اب پہلے کے مقابلے میں کافی سیٹ نظر آ رہا تھا۔سنگار میز کے پاس جا کر اس نے جوڑے میں کیے اپنے بال کھولے، انہیں کنگھا کیا اور اک فاتح نظر خود پر ڈالی۔کتنی خوبصورت تھی وہ۔لمبے ہلکے بھورے بال، بھوری آنکھیں بالکل بلی جیسی، کھڑا نقش اور اس پر سونے پہ سہاگہ اس کی پیاری بھولی سی آواز۔

بال اچھے سے کنگھا کر کے وہ اپنے بستر پر آئی اور نیم دراز ہوتے ہی سوگئی۔یہ عادت اسے سعیدہ بیگم سے ملی تھی، یہاں لیٹی وہاں ٹن۔جہاں ماشاء خوابوں کی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی وہاں آغا نثار گہری سوچ میں نظر آ رہے تھے۔ان کی سوچوں کا تسلسل سعیدہ بیگم کی آمد سے ٹوٹا۔

”چائے لاؤں؟جاگ رہے ہیں؟“یہ وہ سعیدہ بیگم نہیں تھیں جو ماشاء کو ڈانٹ پلا کر اور اس کے ساتھ ہنسی مذاق کر کے آئی تھیں۔ان کا طرز اب بالکل مختلف تھا۔

”نہیں۔“

 فضول بات کرنے پر آغا نثار سعیدہ بیگم کو اچھی طرح ذلیل کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے تھے۔

”سوئیں گے کب؟“سعیدہ بیگم نے اگلا سوال بہت ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

”ابھی نہیں۔“جواب دولفظی تھا۔

سعیدہ بیگم ان کا یہ جواب سن کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔سعیدہ بیگم اور آغا نثار کزنز تھے۔شادی کے بعد بھی دونوں ایک دوسرے سے بہت مختصر اور بہت کم گفتگو کیا کرتے تھے۔ان کی گفتگو اگر کبھی طویل ہوئی بھی تھی تو اس کی وجہ ماشاء ہوتی تھی۔شادی کے کچھ عرصے بعد سعیدہ بیگم کا کمرہ آغا نثار نے الگ کردیا تھا اس وقت ماشاء بہت چھوٹی تھی۔جب سے ماشاء نے ہوش سنبھالا اس نے ان دونوں کو الگ کمروں میں ہی دیکھا تھا اور ماشاء ان بچوں میں سے نہیں تھی جو ماں باپ کے ناراض ہونے یا لڑنے کی صورت میں جاسوس بن کر ان کے پیچھے پڑ جائے۔وہ بس خود خوش رہنا اور خود کو خوش رکھنا جانتی تھی، وہ خود کو پریکٹیکل سمجھتی تھی۔کسی اور کےاحساسات اور جذبات کو اپنے اوپر سوار کرنا اسے نہیں آتا تھا۔

٭٭٭

”اللهم لك الحمد ولَكَ الشكر“

”ادھر آؤ ذرا تم خبیث!“

”ماشاء فوکس۔۔۔“

”اللهم لك الحمد ولَكَ الشكر“

”اسے پراٹھا کہتے ہیں؟یہ کھاؤں میں؟“

”فوکس ماشاء۔۔۔“

”اللهم لك الحمد ولَكَ الشكر“

”دوبارہ بنا کر لاؤ۔“

”اوفو کیا ہے!“

باہر سے مسلسل سعیدہ بیگم کی آواز آنے کی وجہ سے ماشاء کی تسبیح کا تسلسل ٹوٹ رہا تھا جو کہ روز کی بات تھی۔یہاں وہ کچھ پڑھنے بیٹھی، وہاں امی نے احمر کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔جائے نماز موڑ کر اس نے چہرے کے گرد سے دوپٹہ کھولا اور گلے میں ڈالا۔اپنے گیلے بال کھول کر کمر پر پھیلائے، پنک لپ ٹنٹ لگایا، آنکھوں میں کاجل ڈالا اور کمرے سے باہر نکلتے ہی اس نے بولنا شروع کردیا۔

”امی کوئی دن، کوئی صبح میری زندگی میں ایسی آئے گی جب میری تسبیح میں آپ کی صلوات شامل نہ ہو؟“

”سلام کیا کرو باہر آنے کے بعد، شکوے شکایتیں نہیں۔“سعیدہ بیگم نے برا مناتے ہوئے کہا۔

”اور کمرہ سیٹ کر کے آئی ہو؟“

”کبھی کیا ہے؟“

”کیا مطلب کبھی کیا ہے؟کرو جا کر، کبھی نہیں تو آج سہی۔“

”جہیز میں کیا ماں کو لے کر جاؤ گی؟“سعیدہ بیگم کا اگلا جملہ ادا ہونے سے پہلے ماشاء نے ان کا جملہ(روایتی جملہ)دہرایا، یہ کہہ کر ماشاء مسکرانے لگی۔

ارے امی!سسرال جانا ہے یا نہیں یہ تو 8 بجے پتہ چل جائے گا۔جب تک آپ کمرہ سیٹ کردیں میں ذرا بابا جانی سے مل آؤں اور ناشتہ کرلوں۔“

یہ کہہ کر ماشاء آغا نثار کے کمرے کی طرف بڑھی۔

”گڈ مارننگ ہینڈسم!“آغا نثار جائے نماز موڑ کر ریک پر رکھ رہے تھے جب ماشاء اندر داخل ہوئی۔

”ویری گڈ مارننگ ڈاٹر آف ہینڈسم۔“جواب بہت پیار سے دیا گیا۔آغا نثار ماشاء کے ساتھ صوفے کی طرف بڑھے۔

”ہاں بھئی، آپ کا روزہ ہے؟“

”جمعرات ہے ماشاء۔“

”مطلب آج میں کافر ہوں۔“

”ہاہاہا!نہیں تم ماشاء ہو۔“

”8بجے رزلٹ آرہا ہے بابا جانی۔اگر پاس ہوگئی نا، جو کہ مشکل ہی ہے تو نیا ٹیپ ریکارڈر لے کر دیجیے گا۔“

”پاس؟اے ون نہیں آ رہا؟“آغا نے تفتیش ظاہر کی۔

”اے ون اور میں؟ہا ہاہا، بابا!پڑھ کر گئی کب تھی، اور پڑھ کر جاؤں بھی نا، اے ون تو تب بھی نہیں لا سکتی۔“

”ہاہاہا، چلو ٹھیک ہے۔دیکھتے ہیں کیا آتا ہے رزلٹ آپ کا۔“

ماشاء ان سے تھوڑی مزید گپ شپ کر کے سیدھا ڈائیننگ روم میں گئی جہاں اس کے کیے احمر کا دس ہزاردفعہ ریجیکٹ کیا ہوا پراٹھا تیار رکھا تھا۔

ماشاء اور آغا کے درمیان کل رات کے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔یہ تو جیسے طے تھا کہ کچھ بھی ہوجائے اگلے دن سب نارمل ہو گا۔اور بقول ماشاء کے کل کی بات کو ڈسکس کرنے والے اپنا آج کھو دیتے ہیں۔

ماشاء ناشتہ کرنے بیٹھی ہی تھی کہ ٹیلی فون پر کسی نے رنگ کیا۔

”چھوٹی صاحبہ آپ کے کیے فون ہے۔“احمر نے آ کر اسے خبردار کیا۔

”رزلٹ آنے کی دیر ہوتی ہے بس سب ٹپک جاتے ہیں۔“

”نہیں چھوٹی صاحبہ وہ دلدار میڈم کا ہے۔“احمر مسکرا کر ماشاء کو فون کال کے بارے میں بتانے لگا۔

”یہ تم غریبوں کو صبح صبح فون کر کے موڈ خرب کرنے کی عادت ہے کیا؟“

”جی؟‘‘ماشاء کے اِس طنز پر احمر بری طرح چونکا۔

”کچھ نہیں آرہی ہوں۔“برا منہ بنا کر ماشاء فون سننے گئی۔

”بولو!“

”ہیلو ماشاء!میں دلدار، کیسی ہو؟“

”یہ پوچھنے کے کیے فون کیا ہے تم نے؟“

”نہیں نہیں یار، میں وہ رزلٹ کا پوچھ رہی تھی کب آ رہا ہے؟“

”نیوزپپیر دیکھو اس میں ٹائم لکھا وا ہے۔“یہ جملہ ماشاء نے جان بوجھ کر ادا کیا تھا۔

”ماشاء نیوز پیپر نہیں ہے۔“

”ہے نہیں؟یا خریدا نہیں؟“

”ماشاء!“

”جسٹ کڈنگ!8 بجے آئے گا۔“

”میرا بھی دیکھ لو گی تم وہ ذرا۔۔۔“دلدار کے کسی صفائی پیش کرنے سے پہلے ہی ماشاء نے ہامی بڑھ لی۔

”تھینک یو ماشاء!“

”اتنے چھوٹے سے احسان میں کردیتی ہوں۔یور ویلکم۔“

”چلو میں رکھتی ہوں۔“

ماشاء کو دلدار کو نیچا دکھا کر یا شاید غریب طبقے کو ذلیل کر کے سیٹسفیکشن ملتی تھی۔دلدار سے ماشاء کی دوستی کالج میں ہوئی تھی۔دلدار کے کیے تو وہ ہمیشہ بہت اچھی دوست رہی تھی لیکن ماشاء کے دلدار سے دوستی کرنےکے پیچھے وجوہات تھیں۔دلدار پڑھنے میں اچھی تھی اور کلاس میں بہترین نوٹس اسی کے ہوتے تھے۔ماشاء نے جب دلدار سے دوستی کے کیے ہاتھ بڑھایا تودلدار کے کیے یہ کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔اس نے فوراً ہامی بڑھ لی اور ہمیشہ ماشاء کو پڑھائی میں ہیلپ کی۔لیکن ماشاء اپنی عادت سے مجبور اسے بات بات پر ذلیل کرنے کی عادی تھی وہ ہر کسی سے اسی طرح بات کرتی تھی۔شروع شروع میں دلدار کو برا لگتا تھا لیکن پھر اس نے ماشاء کے اِس رویے کو اس کی ایک بری عادت سمجھ کر اگنور کردیا۔اس کے کیے اتنا ہی کافی تھا کہ ماشاء نثار خان اس کی دوست ہے۔

٭٭٭

صبح 8:49

”ماشاء رزلٹ آیا؟“

”امی میں لارہی ہوتی نا تو آجاتا۔“

”ہیں؟“

”یار نہیں آرہا نا۔عجیب ہیں، دینا نہیں تھا تو بولا کیوں؟“

وہ اِس وقت شدید جھنجھلائی ہوئی نظر آ رہی تھی اور اس کا سر گھوم رہا تھا۔رزلٹ کا انتظار کرتے ہوئے اسے آدھے گھنٹے سے اوپر ہو گیا تھا۔

”آجائے گا تھوڑا انتظار کرو۔“

”بس قیامت سے پہلے آجائے۔“

٭٭٭

صبح9:21

”آگیا!“

”شور کیوں مچا رہی ہو؟دیکھو!“

”ارے امی میرا رزلٹ زیادہ آگیا!“

”ہیں؟“

”ہیں کیا امی، سی گریڈ سے پاس ہوگئی۔وللہ سوچا بھی نہیں تھا اتنا حسین دن دیکھنے کو ملے گا۔“

سعیدہ بیگم نے افسوس بھری نگاہوں سے ماشاء کو دیکھا۔

”سی گریڈ ماشاء؟“

”تو امی؟فیل تو نہیں ہوئی نا۔سوچیں۔۔۔شکر ادا کریں۔“

”تم خوش کیسے ہو اِس پر؟“

”امی میں کام تو فیل ہونے والے کر کے آئی تھی پاس ہوگئی ہوں نا تو سمجھیں بڑی بات، اور سی گریڈ سے پاس ہوگئی ہوں یہ تو اسے بھی بڑی بات۔۔۔“

سعیدہ بیگم نے اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھا اور کمرے سے نکل گئی۔وہ وہاں اس کا کمرہ سیٹ کرنی آئی تھیں۔جو وہ دن میں سات سے آٹھ دفعہ کیا کرتی تھیں۔ماشاء بچوں کی طرح ہر وقت اپنا کمرہ پھیلائے رکھتی تھی۔

”یس دلدار بیگم کا بھی تو دیکھیں۔کتابی کیڑا، آیا ہو گا اے ون گریڈ۔“

”فور، ایٹ، نائن۔۔۔ون۔۔۔سکس۔“وہ اخبار دیکھتے ہوئے دلدار کا رول نمبر زیرِ لب دہرا رہی تھی۔

”82.9%“رزلٹ توقع کے عین مطابق تھا۔

”لڑکی اچھی ہو تم بس غریب ہو۔“

ماشاء جس وقت دلدار کا رزلٹ دیکھ رہی تھی تب ہی احمر نے آ کر اسے دلدار کے فون کا بتایا۔

”ہاں بولو؟“

”ماشاء رزلٹ دیکھا؟‘‘دلدار کی آواز میں تفتیش صاف ظاہر ہو رہی تھی۔

”ہاں اے ون سے پاس ہوگئی ہو۔مبارک!“

”ارے زبردست!تمہارا کیا ہوا ماشاء؟“

”تم سے مطلب؟“

”اوہ نہیں میرا مطلب ہم دوست ہیں ناتو۔۔۔“

”دوست ہیں تو؟“

دوسری طرف لمبی خاموشی ہوگئی۔

”جسٹ کڈنگ!“ماشاء نے کہا جیسے اس کا دلدار کو ذلیل کرنے کا موڈ چینج ہو گیا تھا۔

”ماشاء!ڈرا دیا تم نے۔“

”سی گریڈ آیا ہے میرا۔“افسوس کی بجائے ماشاء کی آواز سے خوشی اور خوشی سے بھی زیادہ جوش جھلک رہا تھا۔

”کیا؟“

”اوہ پلیز۔یہ مت کہنا کیسی ہو؟مر تو نہیں رہی؟زہر تو نہیں کھالو گی؟میں خوش ہوں اِس پر بہت بہت بہت۔“

”چلو اچھی بات ہےماشاء۔۔۔“

”سنو ذرا مصروف ہوں بعد میں بات کروں گی۔“ماشاء نے جیسے جان بچائی اوردلدار کا خدا حافظ سنے بغیر ہی فون پٹخ دیا۔

”آئی بڑی افسوس کرنی والی ہونہہ!“

برا منہ بنا کر ماشاء آغا نثار کے کمرے کی طرف چلی گئی۔کمرہ خالی تھا۔سعیدہ بیگم کے بتانے پر اسے پتہ چلا کہ آج گاؤں میں سنوائی ہے۔آغا نثار کا نام چونکہ گاؤں کے عزت دار لوگوں میں تھا اس کیے وہ وہاں گئے ہوئے تھے۔

”بابا کہاں ہیں؟“

”سنوائی میں گئے ہیں۔“

کوئی جواب دیے بغیر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی۔اتنی بڑی حویلی میں ماشاء کا یہی روٹین تھا کبھی ادھر کبھی ادھرلیکن آج ماشاء کے پاس سوچنے کے کیے ایک ٹاپک تھا، اسے کیا کرنا ہے۔ہمیشہ سے اس کی خواہش تھی کہ وہ شہر جا کر یونیورسٹی میں پڑھے۔جہاں صرف ایلیٹ کلاس ہو۔کوئی بھوکا غریب نہ ہو۔جہاں کا ماحول آزاد ہو(آزاد سے ماشاء کا مطلب کوایجوکیشن تھی)۔آج ماشاء نے اپنی آگے کی زندگی طے کرنی تھی۔آگے کا سفر۔حسین سفر۔جس کا اسے ہمیشہ سے انتظار تھا۔وہ انتظار ختم ہونے والا تھا۔اس حسین سفر کا آغاز ہونے والا تھا۔

 ماشاء نے وہ پورا دن کمرے میں اکیلے اپنے نئے سفر کو سوچ سوچ کر گزارا۔رات کو کھانے کے وقت اس نے بابا جانی سے بات کرنی تھی۔کیسے کرنی تھی وہ یہ سوچ رہی تھی۔انہیں قائل کرنا تھا۔

آغا نثار خان کے گاؤں میں لڑکیوں کی بس ایف اے تک تعلیم کا رواج تھا۔وہاں لڑکیوں کو زیادہ پڑھانا پسند نہیں کیا جاتا تھا لیکن ماشاء نے کبھی خود کو عام سمجھا ہی نہیں تھا۔اس نے شہر جا کر پڑھنے کے خواب بچپن سے سجائے تھے۔

رات کے کھانے کے کیے سب موجود تھے۔رات کا کھانا آغا نثار خان کے ہاں 9 بجے کھا لیا جاتا تھا۔ماشاء کے رزلٹ کے متعلق سعیدہ انہیں پہلے ہی با خبر کر چکی تھی۔وہ خوش تو نہیں تھےلیکن جب انہیں ماشاء کی خوشی کے بارے میں سعیدہ بیگم نے بتایا تو انہیں اطمینان ہو گیا تھا۔آغا نثار کی ساری خوشی، ساری ہنسی ماشاء سے جڑی تھی۔کھانے کے وقت ماشاء نے ان سے اپنے آگے پڑھنے کی بات کی تو ان کا رویہ ماشاء کو حیران کرنے کے کیے کافی تھا۔

”بابا جانی؟“

”بابا کی جان؟“

”میں پڑھنا چاہتی ہوں۔“

”ریپیٹ کیوں کر رہی ہو ماشاء جب کلیئر ہوگئی ہو؟اور خوش بھی ہو؟“

ماشاء حیرت اور صدمے کے مارے ہنسے لگی۔

”بابا!نہیں نا۔“

”پھر؟‘‘سوال بہت پیار سے اور مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا گیا۔

”بابا میں یونیورسٹی جانا چاہتی ہوں، میں اپنی اسٹڈیز آگے کنٹینیو کروں گی۔او ر آپ مجھے جانے دے رہے ہیں اوکے؟“ماشاء کا جملہ مکمل ہونے کی دیر تھی آغا نثار کے چہرے پر سختی آگئی، یونیورسٹی جاکر پڑھائی کرنا انہیں سخت ناپسند تھا۔ماشاء کے کیے شاید وہ ناپسندیدگی کو پسند میں بدل بھی لیتے لیکن شہر سے جو یادیں وابستہ تھی وہ ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے۔وہ کچھ بھی پرانا دہرانا نہیں چاہتے تھے۔مگر چلتی ہوا پر کس کا بس چلتا ہے۔

الفاظ وہی تھے بس لہجہ بدلا تھا۔وقت وہی تھا بس زمانہ بدلا تھا۔حالت وہی تھے بس منظر بدلا تھا۔سوالات وہی تھے بس پوچھنے والا بدلاتھا۔

”نہیں۔‘‘جواب یک لفظی تھا۔

”بابا مجھے جانا ہے۔“

”کہہ دیا ہے نا ماشاء!نہیں تو بس نہیں۔بات ختم۔“جملے کے آخر میں آغا نثار نے اپنا ہاتھ زور سے میز پر مار ا تھا۔ماشاء نے آغا نثار کی طرف نم آنکھوں سے دیکھا اور میز سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔آغا نثار اسے ٹو کا ضرور کرتے تھے لیکن وہ اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے، وہ تو وہ ان کے سامنے کوئی بھی ماشاء سے اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا چاہے وہ سعیدہ بیگم ہی کیوں نہ ہوں۔آج ماشاء سے انہوں نے پہلی بار سخت لہجے میں بات کی تھی، خود انہیں بھی اس بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔وہ تو بہت معصوم سی ضد کر رہی تھی جو وہ عموماً کیا کرتی تھی۔وہ اسے سمجھاتے تو وہ سمجھ جاتی لیکن کبھی کبھی انسان اپنی گرفت سے نکل جاتا ہے، اس بد قسمت کشتی کی مانند جو طوفان سے نکل کر دوبارہ طوفان میں پھنس جاتی ہے۔

ماشاء غم غصے کی حالت میں کھانا چھوڑ کر کمرے میں آگئی۔اس کے کیے یہ سب نیا تھا۔آغا نثار کا وہ لہجہ۔ان کا ماشاء کی کسی خواہش کو انکار کردینا۔اس کا ناراض ہو کر میز سے اٹھ کر آنے پہ ان کا منانےنہ آنا۔یہ سب اجنبی تھا۔بہت اجنبی۔تکلیف دہ۔ماشاء نثار خان کی زندگی کی پہلی رکاوٹ آج آ گئی تھی۔آج۔آج رات ماشاء نثار خان کا زندگی سے تعارف ہوا تھا۔جو اب تک وہ جی رہی تھی وہ کہانی تھی۔اس کی زندگی اب شروع ہو رہی تھی۔نئے باب کا آغاز اس نے خود چاہا تھا۔نئے باب کا آغاز اس کے کیے اچھا نہیں تھا۔نئے باب سے وہ ڈر گئی تھی۔

آغا نثار کے کمرے میں صبح کے باوجود آج اندھیرا تھا۔آج بیس سال بعد ان کی نماز ان کے جاگتے ہوئے قضا ہوئی تھی۔وہ کہاں تھے اِس وقت؟ماضی میں؟حال میں؟ماشاء کے مطالبے نے انہیں کافی پیچھے دھکیل دیا تھا۔جہاں جانا دور کی بات وہ مڑ کر زندگی کے اس مقام کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے۔افسوس انہیں ماشاء کے مطالبے پر تھا یا بیس سال پرانی نادانی میں کی گئی ایک غلطی پر؟سوچیں گڈمڈ ہو رہی تھیں، احساسات بدل رہے تھے، محبتیں ایک دفعہ پھر ان کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی تھی۔وہ پھر اکیلے رہ گئے تھے پھر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

”بابا جانی کی ساری محبت عارضی ہے وہ نہیں کرتے پیار مجھ سے۔ایک بات نہیں مانی جارہی؟بولا کیا ہے آخر میں نے ایسا جو اِس طرح بات کررے ہیں، اتنا خرب رویہ ہے ان کا۔پہلے تو میرے ناراض ہونے پر فوراً مان حاتے تھے۔اب کیا ہوا؟“

صبح کے 9 بج رہے تھے۔رات بھر وہ نہیں سوئی تھی۔رات گزر رہی تھی اور وہ رو رہی تھی۔آنسو خشک ہوگئے تھے، ملال رہ گیا تھا۔اسے رونا آغا نثار کے لہجے سے زیادہ ان کے انکار پر آ رہا تھا۔آج سے پہلے آغا نثار خان نے اس سے اس طرح دو ٹوک بات نہیں کی تھی۔کل رات بہت توڑ پھوڑ ہوگئی تھی۔معاً محبت، اعتماد، بھروسہ بہت کچھ تھا جو کل رات کرچی کرچی ہو گیا تھا۔بہت خوفناک ہوتا ہے اپنے کے ہاتھوں ٹوٹنا۔اس کے ہاتھوں ٹوٹنا جسےآپ نے اپنا مرہم سمجھا ہو۔یہ خوف کیسا ہے؟یہ کیا ہے؟یہ کیسے محسوس ہوتا ہے؟ماشاء نے آج سہہ لیا تھا۔

٭٭٭

کبھی بے حد پیار تھا ان آنکھوں میں
جو آج ہمیں نفرت سے دیکھتی ہیں

”سنیے!“سعیدہ بیگم کی آواز خود ان سے زیادہ ڈری ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔وہ جو کہنے جا رہی تھیں اس کے بعد آغا نثار کے رد عمل سے بھی وہ بخوبی واقف تھیں۔صرف وہی تھیں جو کل رات ہونے والی گفتگو کو سمجھ سکتی تھیں۔آغا نثار کے رویے کو سمجھ سکتی تھیں۔صرف وہی تو تھیں جو آغا نثار کے راز میں ان کی شریک تھیں۔سعیدہ بیگم، ان کی ہمسفر، ان کی زندگی کے بدترین مقام میں ان کی ہمراز رہ چکی تھیں۔

”کہو؟“جواب یک لفظی دیا گیا۔

”وہ۔۔۔آپ نے کل ماشاء کے ساتھ بہت زیادتی کردی ہے۔اسے آپ کے اِس لہجے، اِس طرز کی عادت نہیں ہے۔وہ ڈر گئی ہے۔آپ اسے۔۔۔“

”کہہ دیا؟“آغا نثار کا رد عمل سعیدہ بیگم کی توقعات کے بالکل مطابق تھا۔

”جی بس کہہ رہی تھی کہ اس نے کل سے کچھ نہیں کھایا، اگر آپ۔۔۔اسے۔۔۔“

”سعیدہ آپ جائیں!“

آغا نثار کا کمرہ ابھی بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور باہر سورج پوری آب تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔آج سورج کی کرنیں، اس کی تپش، اس کی روشنی کچھ بھی کل رات کی سیاہی کو ختم نہیں کرپا رہی تھیں۔سب ڈوب رہا تھا۔سب ڈوب چکا تھا۔اندھیرے میں۔سیاہی میں۔سیلاب میں۔

٭٭٭

دروازے پر دستک کے ساتھ ماشاء کی آنکھ کھلی۔رات کب اسے نیند آگئی، کب وہ اس طوفان سے بچ کر کنارے لگ گئی اسے خود بھی یاد نہیں تھا۔

”آ۔۔۔آجائیں۔“آواز میں کراہت تھی، تھکن تھی، بیزاری تھی۔

ماشاء نے کمرے میں آنے کی اجازت دی۔اس کا گلا رات کو رو رو کر خراب ہو گیا تھا۔آنکھیں سوجھ رہی تھی جنہیں کھولے رکھنا بھی اس کے کیے کسی جہاد سے کم نہ تھا۔

”اٹھ گئی ہو؟“سعیدہ بیگم کمرے میں ناشتے کی ٹرے کے ساتھ داخل ہوئیں۔

”اٹھا دی گئی ہوں، اٹھ کیا گئی؟ٹائم کیا ہوا؟“سوال بہت عام تھا۔آرام سے پوچھا گیا۔

”ٹائم!ہمم۔۔۔ٹائم ہورہا ہے 2۔۔۔2 بج رہیں ہیں۔“سعیدہ بیگم نے دیوار پر لگی گھڑی(وال کلاک)سے اسے ٹائم دیکھ کر بتایا۔

”کیا؟فجر قضا؟اللہ میاں توبہ!“کل رات ہوئی بات کے آثار سوائے چہرے کے کہیں نہیں نظر آ رہے تھے۔باتیں ویسے ہی ہو رہی تھیں۔سوال بھی ویسے ہی ہو رہے تھے۔

”ماشاء!“سعیدہ بیگم اسے تفتیشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔

”بولیں؟میں منہ بھی دھو لوں ذرا!“یہ کہہ کر ماشاء کمرے میں موجود غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔

”ماشاء!“سعیدہ بیگم اسے دیکھ کر پریشان ہو رہی تھیں۔وہ بہت نارمل نظر آ رہی تھی اور یہ نارمل نہیں تھا۔

”بولیں امممی!“ٹوتھ برش کرتے ہوئے اس نے جواب دیا۔سعیدہ بیگم کمرے میں یہ سب سوچ کر نہیں آئی تھیں۔وہ تو سوچ رہی تھیں کہ ماشاء انہیں دیکھتے ہی رونے لگے گی۔شکایتیں کرے گی۔ایسا تو کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا۔یہاں تو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

”بیٹا تم ٹھیک ہو؟“وہ منہ دھو کر کمرے میں داخل ہوئی تو سعیدہ بیگم حیران پریشان بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔

”یار امی!پھر بیٹا؟بیٹی ہوں آپ کی، بیٹی یعنی ڈاٹر۔“روایتی جملہ دہرایا گیا۔لیکن روایتی مسکراہٹ کی جگہ آج سعیدہ بیگم کی آنکھیں بھر آئیں۔انہیں رونا کس بات پر آیا وہ خود نہیں جانتی تھیں۔ماشاء کے یوں ان سے اپنے جذبات چھپانے پر؟یا اِس بات پر کہ وہ نہ اچھی بیوی بن سکیں نہ اچھی ماں۔کوئی ان سے کیوں کچھ نہیں کہہ رہا تھا؟

”امممی!“آنکھیں بڑی کر کے ماشاء نے ماں کو غور سے دیکھا۔

”کیا ہوا؟کسی نے کچھ کہہ دیا؟خدا نخوستہ ماشاء سمجھ کر بابا جانی کو تو نہیں ڈانٹ دیا؟“ماشاء نے مسکرا کر ماں پر ایک جملہ کسا۔سعیدہ بیگم نے اسے غور کر دیکھا۔وہ ماشاء کو اِس وقت سمجھ نہیں پارہی تھیں۔یا شاید ان دونوں باپ بیٹی کو کوشش کرنے کے باوجود بھی سمجھنا ان کے کیے ممکن نہیں تھا۔

کچھ چیزیں ناممکن کی ایکویشن سے بہت دور ہوتی ہیں۔انہیں ممکن کرنے کا سوچنا بھی ناممکن ہوتا ہے۔

”ماشاء!تم ٹھیک ہو نا؟“سوال پوچھتے ہوئے سعیدہ بیگم کی آنکھوں سے پھر آنسو جاری ہوگئے۔

”امی ایک رات میں سینگ تو نہیں نکل آئے میرے۔ہاں آنکھیں ذرا چڑیلوں والی ہو رہی ہیں جو کہ ماشاء کی پرسنیلیٹی پر سوٹ نہیں کرتیں۔اس کا بھی حل ہے، باہر جا کر آئس کیوبس کی ٹرے تو پہنچوائیں۔“جواب پھر توقعات کے خلاف تھا۔

”اچھا!“سعیدہ بیگم مزید کمرے میں رکتیں تو شاید ان کے آنسوؤں کا دریا کبھی بند نہیں ہوتا، اسی کیے ایک لفظی جواب دے کر وہ کمرے سے نکل گئی۔ان کی بیٹی ان سے چھپا رہی تھی۔اپنے جذبات۔اپنے احساسات۔اپنے خیالات۔اپنے آنسو۔

جب وہ کمرے سے باہر نکل رہی تھیں اس وقت ماشاء ماں کو جاتا دیکھ رہی تھیں۔وہ جا رہی تھیں۔ماشاء بھی جا رہی تھی۔سوچوں کے سیلاب میں ڈوبتی جا رہی تھی۔جس سیلاب سے رات کو بچ گئی تھی۔وہ آج پھر بہانے آگیا تھا۔اسے ڈبانے آگیا تھا۔اپنے ساتھ لے جانے آگیا تھا۔آج اسے ڈرنا نہیں تھا۔آج اسے ڈوبنا نہیں تھا۔آج اسے اس سیلاب سے نکلنا تھا۔

٭٭٭

”آپا آپ پڑھنے جا رہی ہیں؟‘‘معصوم سا، چھوٹا سا لڑکا ایک لڑکی سے معصوم سا سوال کر رہا تھا۔

”ہاں شہزادے۔تم چلو گے آپا کے ساتھ؟‘‘لڑکی نے لڑکے کے منہ پر ہاتھ پھیرا اور پھر اپنا سامان سوٹ کیس میں رکھنے لگی۔

”بی جان نہیں جانے دیں گی آپا۔“لڑکے نے منہ بسورتے ہوئے شکایت کی۔

”تو پھر کیا کریں شہزادے؟‘‘لڑکی نے لڑکے کی معصومیت کو مات دیتے ہوئے مزید معصومیت سے سوال پوچھا۔

”آپا، آئی ول مس یو۔“

”ہیں؟ارے واہ بھئی، پڑھنے آپا جا رہی ہیں اور انگریزی آپا کے شہزادے کو آگئی ہے۔زبردست!کہاں سے سیکھی؟“

لڑکی کے سوال پر وہ لڑکا شرمانے لگا اور اس کی آنکھیں زمین پر لگے ٹائلز پر جم گئی۔

”آپا اسے کون کہتے ہیں نا؟“ٹائلز پر بنی مختلف ڈائی گرامز میں سے ایک پر ہاتھ رکھ کر سوال بہت سنجیدگی سے کیا گیا۔

”آپا کی جان!ہاں۔“لڑکی نے لڑکے کا ماتھا بہت پیار سے چومتے ہوئے پوچھے گئے سوال کا جواب دیا۔

”آپا آپ کیا لائیں گی؟“

”آپا کی جان جو بولے۔“

”ہمم، آپا کچھ مت لائیے گا بس میری عز۔۔۔“

آنکھ کھل گئی۔منظر بدل گیا۔خواب ٹوٹ گیا۔سب پیچھے چلا گیا۔

٭٭٭

”ماشاء نثار خان نام ہے میرا۔ماشاء نثار خان!آغا نثار خان کی بیٹی ہوں میں۔اکلوتی بیٹی۔میری بات بابا جانی رد نہیں کرتے۔وہ کر ہی نہیں سکتے۔میرا تعلق کراچی سے ہے۔میں چمجوریان(کشمیر میں موجود ایک گاؤں)میں رہتی ہوں۔میری خوبصورتی، میری دوستی، میری ایک نظر کے لوگ محتاج ہیں۔میں بے مثال ہوں۔میں اپنی مثال آپ ہوں۔میں ماشاء ہوں!“

آئینے میں کھڑی وہ دبلی پتلی، درمیانے قدکی لڑکی بار بار اپنا تعارف کر وا رہی تھی۔خود کو یاد کروارہی تھی کہ وہ کون ہے، وہ کیا ہے، وہ بے مول ہے۔بار بار اِس بات کا اقرار سننا چاہ رہی تھی۔وہ آئینے میں کھڑی بھوری لمبے بالوں والی لڑکی خودکو تلاش رہی تھی۔خود کو دیکھ رہی تھی۔وہ یقین دہانی کررہی تھی۔کل رات والے طوفان سے کتنی تباہی ہوئی تھی وہ بس اس کا اندازہ لگانا چاہ رہی تھی۔

”ہیلو؟ماشاء سے بات کروا دیں۔“

دلدار کا فون سعیدہ بیگم کے کیے باعث رحمت بن گیا تھا۔وہ شکر کررہی تھیں کہ کسی بہانے ان کی لاڈوں سے پلی بیٹی اب اپنے کمرے سے تو باہر آئے گی۔ماشاء جس دن گھر میں چہل قدمی اور شور شرابا نہ کرے سعیدہ بیگم کو وہ دن ادھورہ لگتا تھا۔وہ اس وقت لاؤنج میں بیٹھی پرانی یادوں میں کھوئی ہوئی تھیں جب دلدار نے فون کیا۔وہ ماضی کی کسی یاد میں آنکھیں بند کیے بیٹھی تھیں جب وہ یاد دیکھتے ہی دیکھتے خوب میں تبدیل ہوگئی تھی۔

”جا کر چھوٹی صاحبہ کو بلا لاؤ۔“سعیدہ بیگم نے ہی فون اٹھایا تھا۔فون پر دلدار کی آواز سن کر انہوں نے احمر کو ماشاء کو بلانے کے کیے بھیجا۔دلدار سے بات کر کے انہیں ہمیشہ ہی اچھا لگتا تھا لیکن آج بہت خوشی بھی ہو رہی تھی۔

سعیدہ اور دلدار کی ملاقات پہلی بار ڈیڑھ سال پہلے ہوئی تھی جب وہ ماشاء کو اپنے نوٹس دینے ان کی حویلی آئی تھی۔سعیدہ کو دلدار بہت سلجھی ہوئی اورسیدھی سادی لگی تھی۔دلدار دکھنے میں تو بہت عام سی صورت کی مالک تھی لیکن اس کا ذہن بہت اچھا تھا اور اِس بات کا اندازہ سعیدہ بیگم کو دلدار کے ساتھ ہونے والی پہلی گفتگو میں ہی ہو گیا تھا۔

دلدار کو چیزیں یاد رکھنے میں کبھی بھی ماشاء کی طرح مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔وہ بہت اچھے اور تیز ذہن کی ملک تھی۔اس کے گھر میں کل چار افراد تھے۔اس کے ابا کام کے سلسلے میں زیادہ تر گھر سے دور رہتے تھے۔دلدار اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔اس کی بڑی بہن رخسار شادی شدہ تھی۔رخسار کی شادی آٹھویں پاس کرتے ہی ہوگئی تھی اور اِس بات کا عموماً ماشاء مذاق اڑایا کرتی تھی۔

”میرے بابا جانی تو کر ہی نہ دیں میری شادی اتنی سی عمر میں۔بھلا اپنے بچپن میں بھی کوئی بندہ بچے پالتا ہے۔“ماشاء کا بے باک انداز دلدار کو کبھی کبھی بہت برا بھی لگتا تھا لیکن ان کی دوستی اس مقام پر نہیں تھی کہ وہ ماشاء نثار خان کو اس کی کوئی خامی بتا سکے۔وہ بس ایک دوست کی حیثیت سے اس کی تمام باتوں پر اپنا کبھی کبھار آنے والا غصہ ضبط کرلیا کرتی تھی۔

”کون؟‘‘ماشاء کی آواز اب کافی بہتر لگ رہی تھی۔اس کی آنکھوں کی سوجن بھی اب کافی کم ہوگئی تھی۔

سعیدہ بیگم نے ماشاء کو بات کرتا دیکھ کر بہت پیار سے اس کے لمبے سلکی بالوں میں، جو کہ کھلے ہوئے تھے، ہاتھ پھیرا اور اس کے کیے جوس لینے چلی گئیں۔نجانے کیوں آج انہیں اپنی بیٹی، اپنی ماشاء، بہت کمزور لگ رہی تھی۔

”دلدار بات کررہی ہوں۔“

”کیو ں فون کیا ہے؟‘‘ماشاء نے اپناحال چال نہ پوچھنےکا ریکارڈ قائم رکھتے ہوئے سیدھا دلدار سے کام کی بات پر آنے کو کہا۔

”ایسے ہی خیر خیریت لینے، خیر خیریت بتانے۔کیسی ہو؟“

”ٹھیک۔اب؟‘‘سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑی ماشاء روایتی انداز میں دلدار کو جواب دے رہی تھی۔

”آگے کا کیا سوچا ہے ماشاء؟مطلب تم انہیں۔۔۔“

”بکواس بند کرو اپنی۔بتانا ہوگا نا تو خودبتا دوں گی۔فون کرنے کا مقصد نہیں ہے تو کیا کیوں؟تمہارے باپ کی نوکر ہوں دلدار، تمہاری کال سننے بار بار کمرے سے باہر آؤں؟تمہارے گھر جتنا گھر نہیں ہے میرا، حویلی ہے۔یہ نہیں کہ دو قدم مارے اور کمرہ ختم، چار قدمارے تو گھر ختم۔“ماشاء دلدار کے یونیورسٹی کے بارے میں پوچھنے پر بری طرح بھڑکی تھی۔بھڑک تو وہ رہی تھی۔آگ بھی جل رہی تھی۔دلدار بیچاری نے بس پوچھ کر اس آگ میں تیل ڈال دیا تھا۔

”ماشا!میں نے کچھ ایسا نہ۔۔۔“دلدار کا لہجہ بالکل رونے والا ہو رہا تھا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ ماشاء کو کس بات کا برا لگا؟یونیورسٹی جانے کا پوچھنے کا؟وہ تو وہاں جائے گی ہی، اس نے تو کہا تھا۔دلدار جانتی تھی کہ ماشاء سخت بات کہہ دیتی تھی لیکن اِس طرح آج اس نے دلدار سے پہلی دفعہ بات کی تھی۔

”ایسا نہیں کہا؟کیوں پوچھ رہی ہو یونیورسٹی کا؟تم جاہلوں کو کیا کرنا ہے پوچھ کر؟ہاں؟کر کیا سکتی ہو تم؟دو ٹکے کے ملازم پِیشہ لوگ۔تم اور تمہارا خاندان اور تم لوگوں جیسا یہ پورا ولیج، تم لوگوں کی سوچ سے آگے سوچتی ہے ماشاء نثار خان۔تم اور تمہاری جیسی اِس ولیج کی دو ہزار جاہل عورتیں، تم لوگوں کا مقصد صرف شادی کرنا ہے۔ماشاء نثار خان کے ذہن کو تم نہیں سمجھ سکتی ہو دلدار بیگم اور نہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔لاکھ شکر ادا کرو کہ اِس قابل ہو کہ ماشاء سے بات کرتی ہو۔تم جیسی ہزاروں لڑکیاں ماشاء سے بات کرنے کے کیے ترستی ہیں۔اور ہاں تم یہ بھی مت سوچنا کہ سی گریڈ آیا ہے تو میں کیا کر لوں گی؟جس کام کو ماشاء کرنا چاہے وہ کام ہوتا ہے دلدار۔“

فون کے دوسری طرف صرف خاموشی تھی۔دلدار شاید بن آواز سسکیاں لے رہی تھی۔شاید وہ رو رہی تھی۔اس کی ایک ہی تو دوست تھی ماشاء، اور وہ اسے ذلیل کر رہی تھی۔اس کے باپ کی تذلیل کررہی تھی۔وہ چپ تھی۔کیا یہ دوستی تھی؟؟؟

”دوبارہ فون مت کرنا جب تک میں نہ کروں۔اور سوری اگر ہرٹ ہوئی ہو تو بھئی۔“

ماشاء فون رکھ کر پلٹ ہی رہی تھی جب اس کی نظریں سعیدہ بیگم سے جا ملیں۔وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ ہاتھ میں جوس کا گلاس کیے کھڑی اسے دیکھ رہی تھیں۔اپنی تربیت کو دیکھ رہی تھیں۔اپنی ماشاء کو دیکھ رہی تھیں۔ماشاء کا دلدار سے ایسے بات کرنا ان کے کیے نیا نہیں تھالیکن آج وہ وہاں کھڑی یہ سوچ رہی تھیں کہ کب وہ اتنی مغرور ہوئی تھی؟اسےکیوں نہیں روکا؟وہ غرور تکبر کی آخری سیڑھی بھی پار کر چکی تھی، لیکن کب؟انہیں کیوں کچھ نہیں پتہ چلا؟انہیں کیوں کچھ نہیں پتہ چلتا تھا؟ماشاء ان کے برابر سے گزر کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔وہ وہیں کھڑی جوس کا گلاس ہاتھ میں کیے سوچتی رہیں۔

”دلدار پوتھار بھر آ وی۔سانو وی روٹی کھانی اے۔“

صبح کا آغاز دلدار کی زندگی کے کیے اہم تھا۔آج اس کا رشتہ پکا ہونے والا تھا۔یہ خبر سن کر سب سے پہلا خیال اسے ماشاء کو بتانے کا آیا تھا۔وہ اسے فون کرنا چاہتی تھی لیکن صبح سے مصروفیت کے باعث ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔

دلدار کے ابا ایک جنرل اسٹور میں ملازم تھے۔دلدار کی بڑی بہن آٹھویں پاس تھی۔ان کی شادی بھی دلدار کی اماں کشمالہ بی بی نے اپنے ہی جیسے لوگوں میں کی تھی۔ان کے شوہر زیادہ تو نہیں کماتے تھےلیکن وہ پھر بھی وہاں خوش تھیں۔دلدار اور رخسار نے شروع سے صبر و شکر کرتی ماں کو دیکھا تھا۔کبھی کھانے کو ہوتا، کبھی نہیں۔کشمالہ بی بی نے ہر حال میں صبر کیا تھا۔وہ بہت نیک خاتون تھیں۔دلدار کے ایف اے کا امتحان اتنے اچھے نمبرز سے پاس کرنے پر وہ بہت خوش ہوئی تھیں۔دلدار اپنی بہن رخسار کے مقابلے میں بہت کم شکل تھی۔سانولی رنگت، اس پر اس کے کالے گھنے گھنگریالے بال۔کھڑی ناک۔ہاں آنکھیں دلدار کی بہت خوبصورت تھیں۔اس کی سیاہ آنکھوں میں ٹھہراؤ تھا۔اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملنے پر سکون ملتا تھا۔ان میں امید تھی، اک کرن چھپی ہوئی تھی۔

دلدار کے کیے آنے والا رشتہ انتیس سالہ آدمی کا تھا۔اس کی پہلی بِیوِی ڈینگی کے مرض میں مبتلا ہو کر مر چکی تھی۔دلدار نے اِس رشتے کو اپنے ماں باپ کی خوشی جان کر قبول کرلیا تھا۔وہ خوش تھے اِس کیے وہ بھی بہت خوش تھی۔

دوپہر ڈھل رہی تھی، شام کے 4:30 بج رہے تھے۔وہ اپنے رشتے کی یہ خبر ماشاء کو آج ہی بتانا چاہتی تھی۔اس کا رشتہ صبح پکا ہو گیا تھااور تین ماہ بعد اس کی شادی تھی۔وہ اپنی خوشی اپنی سہیلی کو بتا کر اسے حصے دار بنانا چاہتی تھی۔

وہ باورچی خانے میں کھڑی آنسو بہا رہی تھی جب باہر سے کشمالہ بی بی کی آواز آئی۔

”آئی!‘‘آنسو ضبط کر کے اس نے باورچی خانے کا دروازہ جو اس نے ماشاء سے بات کرتے وقت بند کردیا تھا، اور باہر نکل کر سیدھا اپنے گھر کے واحد غسل خانے میں گئی۔زمین پر بیٹھ کر اس نے بالٹی میں سے پانی نکالا اور منہ اچھے سے دھویا اور وہ دھوتی رہی، دھوتی رہی۔کیا دھو رہی تھی دلدار؟اپنا چہرہ؟ا س پرلگی کالک؟جو ماشاء نے ملی تھی۔اپنے ماتھے پر لگا غریبی کا داغ؟کیا تھا جو وہ دھوئےجا رہی تھی اور وہ نہیں دھل رہا تھا۔

”ماشاء میری دوست ہے۔وہ میرا اچھا چاہتی ہے۔وہ غصے میں ہوگی۔وہ اچھی ہے۔میں، دلدار حزین اِس لائق ہوں کہ ماشاء نثار خان مجھ سے دوستی کرے۔وہ کسی سے بھی دوستی نہیں کرتی۔اس نے مجھ سے دوستی کی ہے۔میں خاص ہوں۔وہ کہہ رہی تھی وہ بتائے گی جانے سے پہلے۔میں بھی تب بتا دوں گی۔ہوسکتا ہے وہ ابھی پیکنگ میں مصروف ہو۔“بہت ساری باتیں خود کو دلدار نے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے سمجھائیں۔یقین کرنا مشکل تھا، نا ممکن نہیں۔

”پتر گڑیا نو بات کرلی؟“کشمالہ بی بی نے اس کے منہ دھو کر باہر آنے پر ماشاء سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں پوچھا۔کشمالہ بی بی نے کبھی ماشاء کو نہیں دیکھا تھا۔انہوں نے دلدار کے منہ سے اس کا صرف ذکر سنا تھا جس میں اس کی ہزار خوبیاں تھیں۔ماشاء کا تعارف سننے کے بعد کشمالہ بی بی نے ماشاء کو گڑیا کہا تھا۔جس طرح دلدار نے ماشاء کا نقشہ ماں کے سامنے کھینچا تھا وہ بالکل گڑیوں جیسا تھا۔

”جی!“دلدار نے اپنے جذبات قابو میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔

”یہ تیرا منہ کیوں لال ہورہاہے؟‘‘دلدار کی آنکھیں تو ویسے ہی چینی عورتوں جیسی چھوٹی چھوٹی تھیں۔ان میں سوجن اگر آئی بھی تھی تو کشمالہ بی بی نے دور کی نگاہ خراب ہونے کے باعث اسے نہیں دیکھا تھا۔ہاں منہ انہوں نے فوراً دیکھ لیا تھا چونکہ دلدار کا چہرہ گول تھا بالکل کشمیری عورتوں کی طرح جیسا اس کی ماں کشمالہ کا تھا۔

”وہ اماں جی۔۔۔ماشاء ہے نا۔۔۔وہ بڑا ہنس رہی تھی جی، چڑا رہی تھی مجھے بیاہ کے نام سے، تو بس۔“

”ارے؟ہاہاہا۔۔۔بہت پیاری بچی ہے۔“

”جی اماں جی۔“

٭٭٭

ایک رات بس ایک رات ہی تو تھی۔ایک رات کافی تھی۔ایک رات کافی ہوتی ہے۔بنیادیں ہلانے کے کیے۔توڑ پھوڑ مچانے کے کیے۔تہذیب بھلانے کے کیے۔رشتے ٹوٹ جانے کے کیے۔سعیدہ بیگم کےگھر بھی تو یہی ہواتھا۔سب ایک ساتھ آیا تھا۔تباہی، آندھی، سیلاب، طوفان۔

٭٭٭

”تم تیل کیوں نہیں لگاتی لڑکی؟‘‘سب لان میں بیٹھے تھے اور وہ لڑکی نیچے زمین پر۔اس کے ہلکے بھورےبال پوری کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔مرزا حیات خان ہاتھ میں تیل کی شیشی کیے بیٹھے اس کے بالوں کا جائزہ لے رہے تھے۔

”ٹائم کہاں ہوتا ہے ابی؟“

وہیں مرزا حیات خان کی کرسی کے برابر میں نو دس سال کا بچہ بیٹھا اپنی بہن کے خوبصورت بالوں کو بہت پیار سے دیکھ رہا تھا۔اسے اپنی بہن کی آنکھیں اور بال دونوں بہت پسند تھے۔ان کا رنگ بہت دلکش تھا۔

”ٹائم نکالنے سے نکلتا ہے بیٹا۔اب وہاں جا کر تو بالکل ہی لاپرواہ ہوجاؤ گی۔“

”ابی!“لڑکے نے ساری گفتگو میں پہلی بار حصہ لیا۔

”بولو بیٹا!“

”ابی آپا کے بال کتنے خوبصورت ہیں نا۔۔۔“بہت اشتیاق سے، بہت پیار سےاس نے اپنی بہن کے بالوں کو چھوا۔

”ماشاءاللہ بولتے ہیں بیٹا!“

”ماشاءاللہ؟یہ کسی کا نام ہے ابی؟کتنا پیارا نام ہے۔“

”صحیح ہے۔تمہاری دلہن لائیں گے نا اس کا نام ہوگا ماشاء اللہ۔“لڑکی نے چھیڑنے والے اندازمیں اپنے چھوٹے سے بھائی سے کہا۔

لڑکا شرما کر زمین پر لگی گھاس میں پیر چلانے لگا۔

آنکھ کھل گئی۔نیچے گھاس نہیں تھی۔بھوری بالوں والی وہ خوبصورت سی لڑکی، اس منظر میں کہیں نہیں تھی۔۔نیند ٹوٹ گئی۔نیند بہت ٹوٹ ٹوٹ کر آ رہی تھی۔ہر بار نیند کے ساتھ ماضی کا ایک جھونکا آ رہا تھا۔پریشان کرنے کے کیے۔ڈرانے کے کیے۔سہمانے کے کیے۔

٭٭٭

رات 01:17

بہت آرام سے کمرے کا دروازہ کھولا گیا۔دھیمے دھیمے، آرام آرام سے۔ہر قدم لرز رہا تھا۔ہر قدم میں ڈر تھا۔ہر قدم کانپ رہا تھا۔قدم اٹھانا آسان نہیں تھا لیکن اٹھا لیا گیا تھا۔بہادری کے ساتھ۔ہمت کے ساتھ۔طاقت کے ساتھ۔اپنے کیے۔ماشاء کے کیے۔

٭٭٭

رات9:00

رات کے 9 بج رہے تھے۔کھانے کا وقت تھا۔کھانے والے نہیں تھے۔سب اپنے کمروں میں قید تھے۔آغا نثار نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا۔صرف درد تھا، آنسو تھے، افسوس تھا، یادیں تھیں۔۔۔جو وہ پی رہے تھے۔۔۔مسلسل۔۔۔مستقل۔۔۔انہیں زندہ رکھنے کے کیے آج وہی کافی تھا۔

”ماشاء اندر آجاؤں؟“

”آئیں آمی!“جواب آنے میں تین سے چار منٹ لگے۔

سعیدہ بیگم اندر داخل ہوئیں تو وہ اس کا کمرہ دیکھ کر ایک منٹ کے کیے سکتے میں چلی گئیں۔آج وہ بہت سمٹا ہوا اور سیٹ نظر آ رہا تھا۔

آج وہ اس کے کمرے میں کب آئی تھیں؟وہ سوچ رہی تھیں۔صبح؟ہاں صبح۔۔۔لیکن انہوں نے تو تب کمرہ سیٹ نہیں کیا تھا۔تب کمرہ کیسا ہو رہا تھا؟اممم۔۔۔ہاں!پھیلا ہوا تھا۔ہر جگہ سب بکھرا ہوا تھا۔جیسا ہوتا تھا۔یہ کس نے سمیٹا تھا؟ماشاء نے؟ماشاء سمیٹ سکتی ہے؟وہ کیوں سمیٹ رہی ہے؟وہ کیا سمیٹ رہی ہے؟کمرہ یا۔۔۔؟

”آج کیسے آپ ناک کر کے آگئیں؟“ان کی سوچوں کا تسلسل ماشاء کی آواز سے ٹوٹا۔

ماشاء نے مسکراہٹ کے ساتھ، بدتمیزی سے ایک معصومانہ سوال ماں سے پوچھا۔

وہ کیوں آج سعیدہ بیگم کو حیران کررہی تھی؟بار بار؟وہ گہری سوچ میں نظر آ رہی تھیں۔

ماشاء نے ان کی نظروں کا تعاقب کیا تو وہ اس کے کمرے پر جمی تھیں۔ماشاء مسکراہٹ کے ساتھ ماں کا حیران چہرہ دیکھ رہی تھی۔

”وہ۔۔۔کمرہ دیکھ رہی ہیں، میں نے صاف کیا ہے، ماشاء نے۔کیسا لگا؟“

”کیوں کیا؟میں کردیتی نا بچی۔“سعیدہ بیگم نے اپنے آپ کو ایک حد تک نارمل رکھتے ہوئے سوال پوچھا۔

”خود تو کہتی ہیں کہ کچھ ایسا کرو کہ کل کو ماں یاد کرے۔“سعیدہ بیگم اس کے ان کی نقل اتارنے کے انداز پر ہنس دیں۔

”کتنی پیاری لگتی ہیں آپ امی۔مسکرایا کریں۔“

”اچھا جی!شکریہ۔“وہ مسکرا کر ماشاء کو سر سے پاؤں تک دیکھنے لگیں۔اس نے کالی شیفون کی لمبی قمیض کے ساتھ کالا چوڑی دارپاجامہ پہنا ہوا تھااور اس پر اس کے چٹیا میں گندھے بال۔وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔انہیں اس پر بے تحاشا پیار آ رہا تھا۔

”کھانا کھا لو!“

”لگ گیا کھانا؟“

”تم ڈائیننگ روم میں کھاؤگی؟“سعیدہ بیگم حیرت اور خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔وہ باہر آ رہی تھی، خودسے۔وہ خوش ہو رہی تھیں۔

”ہاں امی!“

”ہاں نہیں جی۔۔۔“

”اوفو۔آپ تو فوراً فری ہوجاتی ہیں۔دانٹیں مت، آ رہی ہوں۔“

سعیدہ بیگم نے ماشاء کے سر پر ایک چپت لگائی اور کمرے سے نکل گئی۔

”آؤ!“

٭٭٭

رات9:21

کھانے کی میز پر آج بس وہ دونوں تھے۔آغا نثار کا کھانا کمرے میں بھیج دیا گیا تھا۔ماشاء نے ان کی غیر موجودگی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا تھا۔اس نے کھانا کھایا۔آرام سے، ٹھہر ٹھہر کر، روٹین سے ہٹ کر۔آج ماشاء نثار خان کو کھانے میں زیادہ وقت لگا تھا۔کھاناکھا کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔جانے سے پہلے اس نے ماں کو کافی دیر تک دیکھا۔اچھے سے ان کا ایک ایک نقش، ایک ایک طرز، ایک ایک انداز ذہن نشین کیا تھااور یہ سارا بدلاؤ سعیدہ بیگم نے محسوس کرلیا تھا۔

٭٭٭

رات1:19

رات کافی ہوچکی تھی۔چمجوریان پورا کا پورا اندھیرے میں ڈوب چکا تھا۔ایک دو اسٹریٹ لائٹس جل رہی تھیں۔بہت آرام سے کمرے کا دروازہ کھولا گیا۔دھیمے دھیمے، آرام آرام سے۔ہر قدم لرز رہا تھا۔ہر قدم میں ڈر تھا۔ہر قدم کانپ رہا تھا۔قدم اٹھانا آسان نہیں تھا لیکن اٹھا لیا گیا تھا۔بہادری کے ساتھ۔ہمت کے ساتھ۔طاقت کے ساتھ۔اپنے کیے، ماشاء کے کیے۔

”آپ یہاں کیا کررہی ہیں سعیدہ؟‘‘سعیدہ بیگم جو اب تک بلی کی چال چل کر آغا نثار کے کمرے میں داخل ہو رہی تھیں۔آغا نثار کی آواز پر ان کے قدم تھمے۔وہ جاگ رہے تھے۔سعیدہ بیگم نے کمرے کی لائٹس آن کی۔کمرہ روشن ہو گیا۔آغا نثار کی آنکھیں چندھیا گئی۔ان کی آنکھیں مسلسل جاگے رہنے کی وجہ سے لال پڑ گئی تھیں۔

”میں آپ سے کچھ بات کرنےآئی ہوں۔“

سعیدہ بیگم نے ڈر ڈر کر اپنا جملہ ادا کیا۔لیکن آج وہ بہادر تھیں۔اپنے کیے۔اپنی بیٹی کے کیے۔وہ برسوں پرانی کی گئی ایک غلطی کی بھینٹ اپنی بیٹی کو نہیں چڑھنے دیں گی۔وہ بے قصور ہے۔اسے سزا نہیں ملے گی۔

”کریں۔“ہمیشہ کی طرح ایک لفظی جواب ملا۔

”کیا سوچا ہے آپ نے؟ماشاء کے بارے میں؟“

”وہ خود سوچ چکی ہے، میرے سوچنے کی اب ضرورت نہیں ہے۔“

”پلان بی آن دا وے۔۔۔“آواز میں جوش تھا۔خوشی تھی۔آواز پھر سے ویسی ہی لگ رہی تھی۔

”نثار صاحب!میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔“سعیدہ بیگم کا اگلا سوال آغا نثار کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔

”ٹوڈو لسٹ چیک کرلیتی ہوں۔ہمم۔۔۔کمرہ سمیٹنا، ڈن۔رات کا کھانا باہر کھانا، ہمم۔۔۔ڈن۔امی کو پیار بھری نظروں سے دیکھ کر بلیک میل کرنا، ڈن۔“

”میں ماشاء کی خوشی میں راضی ہوں۔اس کا کوئی تعلق نہیں ہے پرانی باتوں سے۔یہ صرف میری سوچیں ہیں جو ڈرا رہی ہیں۔اسے تو ماضی کا کچھ علم تک نہیں ہے۔کیا ہوا تھا؟کیا نہیں ہونا تھا؟میری بیٹی کو کیوں کوئی سزا دےگا؟وہ پڑھنا چاہتی ہےتووہ پڑھے گی۔“

”ڈن ڈنا ڈن ڈن!“وہ کاپی پینسل ایک سائڈ پر رکھ کر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔آئینے میں خود کو دیکھا، کتنی حسین لگتی تھی وہ ان کپڑوں میں۔

”تو کیا ہوا اگر بابا نہیں مان رہے، وہ ناراض ہیں۔میں انہیں منانا جانتی ہوں۔میں انہیں قائل کرنا جانتی ہوں۔وہ آج بھی ماشاء کی کوئی بات رد نہیں کرسکتے۔میں منواؤں گی۔سیدھی طرح نہیں تو ایسا سہی۔تھوڑی سی اوور ایکٹنگ سہی۔امی ضرور بابا جانی کو بتائیں گی اور پھر بابا جانی مان جائیں گے۔میں ہار نہیں مانوں گی۔میں بھاگوں گی نہیں۔بھاگنا حل نہیں ہوتا۔میں لڑوں گی۔میں سامنا کروں گی۔میں نے جیتنا سیکھا ہے۔میں جیت کر دکھاؤ ں گی۔“

”شکر، ورنہ آپ نہیں جانتے ماشاء بہت الٹی سیدھی حرکتیں کررہی ہے۔وہ ابھی کھانا کھانے بھی۔۔۔“

آغا نثار نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں چپ ہونے کا کہا۔

”آپ جائیں۔میں ماشاء سے خود بات کرلوں گا۔“

سعیدہ بیگم احساس ندامت کے ساتھ کمرے سے نکل آئیں۔یہی تو کرتے تھے وہ۔ان کی بات نہیں سنتے تھے۔انہیں کچھ نہیں سمجھتے تھے۔انہیں بات بات پر اِس طرح ذلیل کیا کرتے تھے۔

اگر آج ان میں فاصلے تھےتو اس کی وجہ وہ خود تھے۔بیوی کا معنی گھر چلانے والی کسی آیا کے نہیں ہوتے۔وہ شریک حیات ہوتی ہے، ہمسفر، ہمراز۔زندگی کی خوبصورت ساتھی، جو وقت پڑنے پر مرہم سے زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے۔وہ ساتھ چلنے کے کیے ہوتی ہے، قدم سے قدم ملا کر، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر۔اِس سفر کے کیے محبت ضروری ہے، احساس ضروری ہے، بھروسہ ضرروی ہے، خیال ضروری ہے۔

”جی ٹھیک!“

آئینے میں کھڑی وہ لڑکی اپنے آپ کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔

”کل میں بہت رو لی، اب نہیں روؤں گی۔میں ماشاء نثار خان ہوں، میں اپنے بابا کو قائل کرلوں گی۔میں کرنا جانتی ہوں۔“

ایک یقین تھا جو اس کی آواز سے جھلک رہا تھا۔ماشاء نثار خان!وہ عام لڑکیوں کی طرح نہیں تھی۔وہ ڈرنے والی نہیں تھی۔وہ بہادر باپ کی بہت بہادر بیٹی تھی۔وہ انہیں قائل کرنا جانتی تھی۔اس کے کیے اسے زہر نہیں کھانا پڑے گا، بھاگنا نہیں پڑے گا۔یہ سب بزدلوں کے کام ہیں۔وہ بزدل نہیں تھی۔وہ ماشاء تھی۔

دروازے پر دستک کے ساتھ اس کی سوچوں کا ردھم ٹوٹا۔

”امممی!اتنے مینرز کے ساتھ آپ اچھی لگ نہیں رہی ہیں۔“دروازہ کھولتے ہوئے اس نے جملہ باآواز ادا کیا۔دروازہ کھلا تو وہاں سعیدہ بیگم نہیں تھیں جو اس کی اِس بات کے جواب میں اسے ایک چپت لگاتیں۔

وہاں آغا نثار کھڑے تھے۔دروازے کے دوسری طرف، مسکرا رہے تھے۔ان کی مسکراہٹ تو ویسے ہی رہی۔ماشاء کے چہرے کی مسکراہٹ دروازہ کھولتے ہی غائب ہوگئی تھی۔

جن نظروں سے وہ دونوں گھبرا رہے تھے۔وہ مل گئی تھیں۔

آغا نثار کو دیکھتے ہی ماشاء کی آنکھوں میں نمی اتر آئی اور اپنی تمام پلاننگ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس نے رونا پیٹنا شروع کردیا، بالکل بچوں کی طرح جیسے وہ روتی تھی۔آغا نثار اسے روتا دیکھ رہے تھے۔آگے بڑھ کر انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔

دونوں رو رہے تھے، اک آنسوؤں کے ساتھ ایک بنا آنسوؤں کے۔جذبات، احساسات، محبتیں سب آپس میں گڈمڈ ہورہی تھیں۔

اپنوں سے ناراض نہیں ہوا جاتا، اپنوں سے ناراض رہا ہی نہیں جاتا۔جن رشتوں میں محبت ہوتی ہے، اخلاص ہوتا ہے، پیار ہوتا ہے ان سے معافی نہیں مانگی جاتی۔وہاں تو شکایتیں ہوتی ہیں۔۔۔ناراض ہوجانے کی، روٹھ جانے کی، دور چلے جانے کی۔۔۔وہاں سوال ہوتے ہیں۔۔۔کیا کہ؟کیونکہ؟وجہ کہ؟

آغا نثار صوفے پر بیٹھے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہے تھے اور وہ اپنا سر ان کے زانو پر رکھے دنیا جہاں کی باتیں کررہی تھی۔وہ ساری باتیں جو اس نے آج ان سے دور رہ کر اکھٹاکی تھیں۔وہ باتیں جو وہ ان سے کرنا چاہ رہی تھی۔وہ مسکرا رہے تھے۔اس کی معصومیت پر، اس کے بچپنے پر، اس کی محبت پر۔

”اور بابا جب میں کھانا کھا کر اٹھ رہی تھی نا تو آئی وش کے وہاں کوئی کیمرہ ہوتا جو میری ایکٹنگ کیپچر کر لیتا۔امی کے سامنے میں نے ایسی ایکٹنگ کی کہ۔۔۔“باتوں کے بیچ میں وہ کھل کر ہنس بھی رہی تھی۔وہ اب بالکل پرانی والی ماشاء لگ رہی تھی۔ہنستی کھیلتی، شور مچاتی، بدتمیزی کرتی پرانی ماشاء۔

”یہ تم نے ایکٹنگ سیکھی کہاں سے؟ہوں؟اور تم کل رات یہ سوچ رہی تھیں۔۔۔“

”بابا آپ کو پتہ بھی نہیں ہے۔اور یہ ایکٹنگ۔۔۔یو نو واٹ بابا؟آئی واز بورن ایز این ایکٹر۔۔۔اور یہ تو میں نے دلدار سے فون پر بات کی تھی نا، تب میں نے دیکھا تھا امی میری ذرا سی بات پر کتنا پریشان ہو رہی تھیں۔تب سوچا میں نے کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ امی میری سائڈ پر ہوجائیں۔“یہ کہہ کر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔

”ماشاء!“آغا نثار نے بہت پیار سے اس کا نام لیا تھا۔

”تم پڑھنا چاہتی ہومیں تمہیں پڑھاؤں گا۔۔۔لیکن تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا۔“

”کچھ بھی بابا!پرامس۔کچھ بھی بولیں، سب قبول۔“خوشی کے مارے وہ اچھل پڑی تھی اور ہاتھوں سے تھمبس اپ کا نشان بنا کر آغا نثار کو دکھا رہی تھی۔اب وہ زمین سے اٹھ کرآغا نثار کے برابر میں، صوفے پر، جا کر بیٹھ گئی تھی۔

”تم کبھی بھی میرا مان نہیں توڑوگی۔ہمیشہ یاد رکھنا تمہارے باپ نے تم سے بہت پیار کیا ہے ماشاء!تم میرے کیے بہت قیمتی ہو۔میں تمہارے کیے روایت توڑ رہا ہوں ماشاء!تم میرے کیے بس میرا مان نہیں توڑنا۔“لہجے میں آس تھی، امید تھی، التجا تھی، درخواست تھی۔

”ڈن بابا!اچھا میں کراچی جاؤں گی پڑھنے؟“

”نہیں۔“ایک لفظی جواب تھا اورآواز میں پھر سے سختی تھی۔

”پھر؟“

”اسلام آباد۔“

”لیکن بابا ہمارا تعلق تو کراچی سے ہے۔دادا تو کراچی سے۔۔۔“

”ماشاءاسلام آباد میں بھی یونیورسٹیز ہیں۔تمہاری ضد پڑھنا ہے میں وہ پوری کر رہا ہوں لیکن تم کہاں پڑھو گی یہ میرا فیصلہ ہوگا۔“آغا نثار نے ماشاء کی پوری بات سنے بغیر اپنا جملہ مکمل کیا۔

”اوکے بابا!“

وہ ان کے ساتھ وہیں صوفے پر، ان کے کندھوں پر سر رکھے بیٹھی رہی۔آغا نثار آج پوری ایک رات بعد خوابوں کی دنیا میں جا رہے تھے۔وہ دونو ں وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئے تھے۔

٭٭٭

”آپا آپ پر لال جوڑا بہت اچھا لگتا ہے۔“

”آپا کی جان بولے گی تو آپا یہی پہنے رہیں گی۔“بہت پیار سے اس نے اس لڑکے کے سوال کا جواب دیا جو اسے تیار ہوتا بہت اشتیاق سے دیکھ رہا تھا۔

”آپا یہ ٹیکہ بھی لگائیں نا۔“

”میں دلہن تھوڑی ہوں۔“لڑکی نے ہنس کر جواب دیا۔

”پھر بھی لگا لیں نا۔“لڑکے کے اصرار پر اس لڑکی کے تیزی سے ڈریسنگ ٹیبل کو سمیٹتےہوئے ہاتھ رکے۔

”جانو تم بہت پیارے لگتے ہو ایسی باتیں کرتے ہوئے، لیکن آپا پڑھنے جا رہی ہیں نا شادی تھوڑی کرنے جا رہی ہیں۔“یہ کہہ کر لڑکی نے لڑکے کی ناک کو بہت پیار سے موڑا۔

”شادی آپا آپ کی یہیں ہوگی۔اللہ نہ کرے آپ وہاں کریں۔میں خود ما۔۔۔“

مؤذن کی آواز کے ساتھ ان کی آنکھ کھل گئی۔

٭٭٭

”چھوٹی صاحبہ!“

”چھوٹی صاحبہ!“

اس کی آنکھ احمر کے دروازہ زور زور سے پیٹنے پر کھلی۔جب وہ اٹھی تو بابا جانی کہیں نہیں تھے۔صبح کے 8 بج رہے تھے۔

”کیا مصیبت ہے؟“

”وہ آپ کے کیے فون ہے۔“

”دلدار کا فون ہے تو کہہ دو میں گھر پر نہیں ہوں۔“

”جی؟‘‘احمر سوال کیے بنا نہیں رہ سکتا۔

”ارے بولو نہیں کرے کال، نہیں کرنی بات۔روز منہ اٹھا کے کال کردیتی ہے۔“ماشاء ابھی بھی صوفے پر سر رکھے آدھی سوئی آدھی جاگ رہی تھی۔

”جی وہ ان کا نہیں ہے۔“احمر کو ماشاء کے اِس طرح بات کرنے کی عادت تو تھی لیکن پھر بھی کبھی کبھی وہ گھبرا جایا کرتا تھا۔

”تو کس کا ہے؟بول بھی دو۔“ماشاء نے جھنجھلا کر سوال کیا۔

”آپ کا پوچھ رہے ہیں۔“احمر نے مزید صفائی پیش کی۔

”یہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہےیا چرس پی کر آئے ہو؟میں پوچھ کیا رہی ہوں اور تم بول کیا رہے ہو؟“

”جی آ رہی ہیں آپ؟“

اِس بار جواب دینے کی بجائے ماشاء نے اسے غصے سے گھورا اور کمرے سے نکل گئی۔

”یہ آج آپ اپنی صلواتوں سے اٹھا دیتیں صبح مجھے تو کیا چلا جاتا۔فجر کی نماز آج بھی قضا ہوگئی ہے۔“

”تو رات کو جلدی سویا کرو نا۔“

سعیدہ بیگم اِس وقت لان میں کھڑی گلدان میں پھول لگا رہی تھیں۔

”ہیلو؟“

”ہیلو یو ماشاء نثار خان!“مردانی اجنبی آواز۔رعب دار آواز۔

”ایکسکیوز می؟‘‘ماشاء ایک لمحے کے کیے سکتے میں چلی گئی تھی۔وہ کمرے سے یہ سننے تو نہیں آئی تھی۔

”اپنے باپ کو بتا دینابدلہ رہتا ہے۔حساب رہتا ہے۔ایک خون ابھی رہتا ہے۔اس کا برا وقت رہتا ہےاور تمہارا برا وقت، تمہارا برا وقت ماشاء نثار خان!شروع ہو گیا ہے۔ٹک ٹاک۔۔۔ٹک ٹک۔۔۔“

فون ٹھک سے بند ہو گیا تھا۔وہ کیا کہتی؟وہ کیا سوچتی؟سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہوگئی تھی۔کوئی اجنبی اسے کیوں فون کر رہا تھا؟اس کے بابا جانی کا نام لے رہا تھا۔کوئی اجنبی اسے ڈرا رہا تھا۔کوئی اجنبی اسے کیوں ڈرا رہا تھا؟خون؟کس کا؟

”ایک خون رہتا ہے؟‘‘اس اجنبی کی آواز کانوں میں گونجی۔کس کا؟باقی کن لوگوں کا خون ہوا ہے؟

سوالات میں الجھی وہ واپس اپنے کمرے آگئی تھی۔بستر پر نیم دراز ہو کر وہ سوچ رہی تھی۔اس اجنبی کے بارے میں۔اس اجنبی کے اجنبی انکشافات کے بارے میں۔وہ کون تھا؟وہ کیا چاہتا تھا؟وہ اس کا نمبر کیسے جانتا تھا؟وہ ماشاء کو کیسے جانتا تھا؟برا وقت؟ابھی اور برا بھی ہونا تھا؟کیا ایک رات کافی نہیں تھی؟کیا ہونے والا ہے؟وہ بے سدھ اپنے بستر پر پڑی سوچ رہی تھی۔

اس کی زندگی کا حسین سفر اتنا بھیانک کیوں تھا؟وہ ایسا کیوں شروع ہو رہا تھا؟اس نے تو ایسا نہیں چاہا تھا۔۔۔اور کیا کوئی چیز ماشاء نثار خان کے نہ چاہنے کے باوجود بھی ہوسکتی ہے؟تو یہ سب کیوں ہو رہا تھا؟اتنی رکاوٹ کیوں آ رہی تھی؟کیا یہ اشارہ تھا؟لیکن کس کا؟کیا آنے والی مشکلات کا؟بدترین انجام کا؟اس حسین سفر کے شروع ہونے سے پہلے اختتام کا؟

٭٭٭

تم یہاں، ہم وہاں، نجانے کون کہاں؟
منزل پتہ نہیں، پھر بھی رستہ تلاش کرتے ہیں

وہ اندھیرے کمرے میں سر کرسی سے ٹکائے آنکھیں بند کیے بیٹھا نوجوان بہت پر اسرار نظر آرہا تھا۔سامنے میز پر اک تصویر رکھی تھی۔بھورے بالوں والی لڑکی کی۔اس نے سرمئی رنگ کا جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا اور وہ مسکرا رہی تھی۔اس کے ساتھ تصویر میں ایک چھوٹا سا لڑکا بھی کھڑا تھا۔وہ لڑکا اس لڑکی کے دوپٹے کو بہت مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا۔

اسے آج بھی وہ لمحے، وہ دلکش مناظر، وہ خوشبو، وہ احساس، وہ قریب ہونے کا مان، وہ لمس۔۔۔سب۔۔۔سب یاد تھا۔

٭٭٭

”ماشاءکو کمرے میں بھیجیں۔“سعیدہ بیگم سے مختصر سا جملہ کہہ کر آغا نثار اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔

”بابا جانی آپ نے بلایا؟“

آغا نثار کے کمرے کی طرف آتے ہوئے وہ سوچوں کے طوفان میں گھری ہوئی تھی۔اس طوفان میں جس کے اندر اسے اس اجنبی نے دھکیلا تھا۔”کیا وہ بابا جانی کو سب بتا دے؟اگر بتا دیا اور پھر انہوں نے اسے نہ جانے دیا تو؟پھر کیا ہو گا؟نہیں، نہیں بتانا چاہیے۔لیکن اگر نہیں بتایا اور بابا جانی کو کوئی نقصان ہو گیا پھر؟لیکن بابا جانی کو کون نقصان پہنچائے گا؟کوئی کیسے آغا نثار کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟اس کا سوچ بھی کیسےسکتا ہے؟‘‘نہیں۔پتہ نہیں۔۔۔شاید ہاں۔۔۔نہیں۔۔۔شاید نہیں۔۔۔

٭٭٭

”یہ لڑکا کال کیوں نہیں اٹھا تا ہے؟حسن صاحب اپنے آفس میں پریشان بیٹھے کالز پر کالز ملائے جا رہے تھے جب دیار اندر داخل ہوا۔دیار عمرانی۔حسن عمرانی کا بیٹا۔اکلوتا بیٹا۔باپ کو موبائل پر مصروف دیکھ کر اس نے سر ہلا کر سلام کیا۔کال پھر نہیں ملی۔

”کیا ہوا؟خیریت ہے ڈیڈ؟آپ پریشان ہیں؟‘‘باپ کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر اسے تفتیش ہوئی۔

”زامل!یہ کال کیوں نہیں اٹھا تاہے؟بہت عاجز کردیا ہے۔“وہ ابھی پھر اسے کال ملا رہے تھے۔

”آپ اس کے کیے کیوں پریشان ہوتے ہیں اتنا؟میں ہوں نا، میں دیکھ لیتا ہوں۔“دیار نے مسکرا کر باپ کو تسلی دی۔صرف اسی کے دیکھ لینے سے تو وہ مطمئن ہوجایا کرتے تھے۔دیار عمرانی کو بڑی بڑی باتیں کرنے کی عادت نہیں تھی۔وہ کام کرتا تھا۔کر کے دکھا تا تھا۔وہ وعدے کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔وہ وعدوں سے پہلےبات کو کردینے والوں میں سے تھا۔ہر چیز وقت پر اس کی جگہ پر بالکل سیٹ۔با ترتیب۔Say Less Do More پر عمل کرنے والا دیار عمرانی۔

”ہاں بیٹا ذرا دیکھو۔بہت تنگ کردیا ہے اس نے۔۔۔“اب ان کے موبائل پر چلتے مسلسل ہاتھ رک گئےتھے۔

”کال کیوں کر رہے ہیں؟‘‘دیار نے جیسے وجہ جاننی چاہی۔

”ارے تو ہے کہاں وہ؟صبح کی بات ہوئی ہے۔“ان کے رکے ہوئے ہاتھ پھر سے موبائل پر چلنے لگے۔

”کہیں نہیں جائے گا ڈیڈ، میں دیکھ لیتا ہوں اسے۔آپ گھر چل رہیں ہیں یا میں جاؤں؟‘‘دیار نے میز پر پڑی کار کی چابیاں اٹھائیں جو اس نے تھوڑی دیر پہلے وہاں رکھی تھیں۔

”تم جاؤ، اور زامل سے کوئی رابطہ ہو تو کہنا ٹیکسٹ کر دے۔“

”اوکے!“یہ کہہ کر وہ سیاہ کوٹ پینٹ میں ملبوس وجیہہ نوجوان اس بلڈنگ کے پاور روم سے باہر نکل گیا۔حسن عمرانی پاکستان کے چند مشہور بزنس مین میں سے تھے۔انہوں نے اپنی بزنس ایمپائر خود کھڑی کی تھی۔اپنی محنت سے، لگن سے، ہمت سے، اور اِس کھڑی ایمپائر کو مزید مضبوط دیار عمرانی نے کیا تھا، اپنے ٹیلنٹ سے۔لندن اسکول آف بزنس اینڈ فائنینس سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے باپ کے ساتھ مل کر عمرانی اینڈ سنز کی بیس مضبوط کی تھی۔اسے چار چاند لگائے تھے۔اسے روشن ستارہ بنایا تھا۔چمکنے کے کیے، مزید آگے جانے کے کیے، سب سے آگے۔

٭٭٭

”ہاں بچے اندر آجاؤ۔“بھرپور محبت کے ساتھ انہوں نے ماشاء کو اندر کمرے میں بلایا۔

”تم آج شہر چلی جانا سعیدہ کے ساتھ۔جن چیزوں کی تمہیں ضرورت ہو خرید لینا۔“

آغا نثار اسے بہت پیار سے سب بتا رہے تھے۔لیکن کیا ماشاء انہیں سن رہی تھی؟نہیں، وہ تو ابھی بھی اس اجنبی کے اجنبی جملوں میں کھوئی ہوئی تھی۔”تمہارا برا وقت ماشاء نثار خان شروع ہو گیا ہے۔ٹک ٹاک۔ٹک ٹاک۔۔۔“اسے تمام پلان سے خبردار کر کے آغا نثار اس کا چہرہ دیکھنے لگےجو اِس وقت بالکل سپاٹ تھا۔وہ ان کے ساتھ تھی اور نہیں بھی تھی۔اس کا ذہن کچھ سوچ رہا تھا۔کہیں غم تھا، کہاں؟وہ یہ نہیں جانتے تھےلیکن وہ ان کے ساتھ نہیں تھی یہ وہ جان گئے تھے۔

”ماشاء!“اس کی بھوری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے انہوں نے کچھ دیکھنے کی کوشش کی۔

”جی بابا جانی؟‘‘سوچوں کا ردھم ٹوٹ گیا تھا۔

”کیا ہوا؟کوئی بات ہوئی ہے؟“

”نہیں بابا بس وہ۔۔۔آ۔۔۔کچھ نہیں۔بس وہ آپ سے دور چلی جاؤں گی نا تو بس۔۔۔اممم اسی کا۔۔۔اسی کا سوچ رہی ہوں۔آپ کے بغیر کیسے رہوں گی۔۔۔“یہ کہہ کر ماشاء مسکرانے لگی۔وہ مسکرا تو رہی تھی لیکن یہ مسکراہٹ وہ نہیں تھی جو ماشاء نثار خان کی ہوتی تھی۔خوشی سے بھرپور، جوش کے ساتھ۔اِس مسکراہٹ میں جھینپ تھی، کنفیوژن تھی، ڈر تھا۔شاید صدمہ بھی تھا جھوٹ بولنے کا، سچ چھپانے کا۔خودسے۔۔۔بابا جانی سے۔۔۔

جھوٹ وہ نہیں ہوتا جس میں ہم بات غلط بیان کریں۔جھوٹ میں تو دھوکہ ہوتا ہے، فریب ہوتا ہے، چوری ہوتی ہے، دغا بازی ہوتی ہے۔جو ہم دوسرے کو دیتے ہیں۔خود کو دیتے ہیں۔یہ بولنا آسان ہوتا ہے۔اِس سے نکلنا بہت مشکل۔آج اس کی پہلی سیڑھی ماشاء نثار خان نے پار کی تھی۔زندگی میں پہلی بار جھوٹ اس نے یونیورسٹی کے کیے بولا تھا۔اس نے دھوکہ دیا تھا، فریب کیا تھا، چوری کی تھی، دغابازی کی تھی۔اپنے ساتھ، اپنے ضمیر کے ساتھ، ماشاء نثار خان کے ساتھ۔

”ہاہاہا۔۔۔کچھ نہیں ہوتا بچے۔شروع شروع میں لگے گا ایسا پھر سب صحیح ہوجائے گا۔تمہیں جانا ہے یا نہیں؟“انہوں نے جیسے اس کا دھیان بٹانا چاہا۔

”نہیں نہیں، جانا ہے۔جاؤں گی تو۔۔۔“اس نے فوراً جواب دیا۔کہیں آغا نثار کا اسے بھیجنے کا موڈ نہ تبدیل ہوجائے۔

”آپ کہاں تھے بابا؟‘‘ ماشاءنے گفتگو کا ٹاپک مزید چینج کیا۔جھوٹ کے گلٹ کو مٹانے کے کیے۔اس اجنبی سے پیچھا چھڑانے کے کیے۔شاید اسی بہانے وہ اجنبی اس کے ذہن سے نکل جائے۔اس کے وہم سے دور چلا جائے۔دور۔۔۔بہت دور۔۔۔جہاں وہ ہے۔جہاں وہ تھا۔فون کرتے وقت۔فون کرنے سے پہلے۔

”وہ بچے نیاز کی بیٹی کے قتل کا مقدمہ تھا۔اس کے بیٹے نے اس کی پسند کی شادی کی خواہش ظاہر کرنے پر اسے قتل کردیا تھا دوہفتے پہلے۔آج پیشی تھی اس کی۔“

”قتل کردیا؟مطلب قتل کردیا؟چھری سے؟کیوں؟کیسے بابا کیسے؟یہ لوگ اتنے جاہل کیوں ہیں؟یہ غریب اتنے جاہل کیوں ہوتے ہیں بابا؟“

”ایسے نہیں کہتے ماشاء۔“انہوں نے سخت لہجے میں اس سے کہا۔

”نہیں بابا!یہ صحیح تو نہیں ہے۔یہ صحیح کیسے ہوسکتا ہے؟کوئی کسی بھی دن کسی کو بھی مار دیتا ہے۔کیوں بابا کیوں؟آپ کیوں نہیں سمجھاتے بابا؟آپ تو سمجھا سکتے ہیں۔سب آپ کی تو سنتے ہیں۔۔۔“

”ماشاء جاؤ!“آغا نثار کے اعصاب سخت پڑ رہے تھے۔انہیں بیٹی کا ان سب معاملوں میں بولنا بالکل بھی پسند نہیں تھا۔وہ ماشاء کو ہمیشہ اِس ٹاپک پر بات کرنےسے ٹوکتے تھے۔انہیں اپنی بہت پیاری بیٹی کا اِس ٹاپک پر بات کرنا بالکل گوارہ نہیں تھا۔

”آپ یہی کرتے ہیں بابا۔۔۔آپ نہیں سمجھتے، آپ نہیں سمجھا تے۔۔۔کیوں؟کیوں نہیں سمجھاتے؟یہاں کیوں اتنی جہالت ہے؟لوگ کیوں اتنے دین سے دور ہیں؟انہیں کیوں کچھ سمجھ نہیں؟یہ سب باتیں تو اسکول سے نہیں آتی نا بابا؟یہ تو دین سکھاتا ہے۔کیا یہاں کے لوگوں میں دین بھی نہیں ہے بابا؟کسی دن کوئی اپنی ماں کو مار دیتا ہے، کوئی اپنی بہن کو جلا دیتا ہے، کبھی کوئی اپنی بیٹی کو زندہ دفنا دیتا ہے۔بابا یہ عورتوں کو کیو ں انسان نہیں سمجھتے؟انہیں کیوں اپنی جیسی ایک اور جان نہیں سمجھتے؟بابا یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ عورت ان سے زیادہ کمزور ہے۔صرف غیرت کے نام پر ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں۔پاگل ہوجاتے ہیں۔کیا نقصان کرنے والے ہیں یہ بھول جاتے ہیں۔تو کیا غیرت صرف مرد کی ہوتی ہے بابا؟سارا نقصان اس کا ہوتا ہے؟کبھی سنا ہے آپ نے کسی عورت نے مرد کو قتل کردیا ہوغیرت کے نام پر؟نہیں نا؟پھر یہ لوگ کیوں زمین پر خدا بن جاتے ہیں؟کیا زمین پر خدا بن جانا سہی ہوتا ہے؟ماں بہن اور بیٹی کو قتل کردینے سے کیا غیرتیں مطمئن ہوجاتی ہیں؟کیا خدا راضی ہوجاتا ہے؟کیا خدا خوش ہوتا ہے؟کیا محبت کرنا اتنا غلط ہوتا ہے کہ مردوں کی غیرتوں پر بن جاتی ہے؟تو کیا وہ محبت نہیں کرتے؟وہ پسند کی شادی نہیں کرتے؟اگر عورت اپنی پسند یا محبت بتا دے تو پھر انہیں کیوں برا لگتا ہے بابا؟آپ کو پتہ ہے جو یہ مرد عورتوں کو مار کر بڑی بہادری سے، سینہ تان کر، سر اٹھا کر چلتے ہیں، یہی سب سے زیادہ کمزور ہیں۔اتنے کمزور کہ ان پر رحم کیا جائے، ترس کھایا جائے۔یہ بہت نحیف ہوتے ہیں، بہت بیمار۔ان کی بیماری بابا تاحیات ان کے ساتھ رہتی ہے۔انہیں کوئی نہیں آزاد کرواسکتا اِس بیماری کی قید سے اور بابا پتہ ہے یہ بیماری کیا ہوتی ہے؟یہ ملامت ہوتی ہے۔جو پوری زندگی ان کا ضمیر کرتا ہے۔ان سے خدا بھی ناراض رہتا ہےاور خدا کی اِس ناراضگی کو یہ اس کے سامنے ہزار سجدے بھی کر کے نہیں دور کرسکتے۔“

آغا نثار صرف اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔وہ کیا کہتے؟کیا بولتے؟وہ تو بس سن رہے تھے۔کسی مجرم کی طرح۔آج شاید پہلی دفعہ کسی نے ان کے سامنے دلیلیں رکھی تھیں۔باتیں پیش کی تھیں۔بولنے کی ہمت کی تھی۔وہ کمزور پڑ رہے تھے۔پھر سے۔لیکن اِس بار کمزور کرنے والا کوئی اور تھا۔وہ اب کسی اور کے ہاتھوں کمزور پڑ رہے تھے۔کس کے ہاتھوں؟ماشاء کے ہاتھوں۔ان کی بیٹی کی باتوں نے انہیں جھنجھوڑ دیا تھا۔انہیں ہلا دیا تھا۔ان کی بیٹی انہیں کمزور کیے جا رہی تھی۔ہر لحاظ سے۔ہر میدان میں۔ہر بار۔بار بار۔

٭٭٭

ماشاء کو کمرے سے نکلے ہوئے تقریباً دوگھنٹے ہو چکے تھےلیکن آغا نثار، وہ؟وہ تو ابھی بھی وہیں موجود تھے۔۔۔وہیں۔۔۔اس کے جملوں میں۔کہیں کھوئے ہوئے تھے۔وہ صحیح کہہ رہی تھی۔وہ کہہ رہی تھی کہ محبت کرنا غلط نہیں ہے۔وہ پوچھ رہی تھی کیا غیرت صرف مرد کی ہوتی ہے؟وہ سوال کر رہی تھی کیا مرد نہیں کرتا پسند کی شادی؟وہ کرتا ہے تو کوئی اسے کیوں کچھ نہیں پوچھتا؟

عورت کے ہی حصے میں کیوں؟کیا؟کیسے؟ایسا نہیں کے سوال کیوں آتے ہیں؟ان کی بیٹی آج انہیں محبت سکھا کر گئی تھی۔محبت بتا کر گئی تھی۔محبت کی صفائی پیش کر کے گئی تھی۔انہیں محبت کی عدالت میں کھڑا کر کے گئی تھی۔وہ کیا ہے؟وہ کیسے کرتے ہیں؟لیکن کیا محبت کی جاتی ہے؟یہ سمجھنا ضروری ہے، اہم ہے۔ان سوالوں کا جواب ضروری ہے، اہم ہے۔کوئی کیسے کسی کو مار دے؟وہ بھی اسےجس سے وہ محبت کا دعویدار ہو؟کیا محبت میں خون بہایا جاتا ہے؟کیا محبت کے دعویدار اپنی محبت کو رسوا کر کےمحبوب کو مار دیتے ہیں؟

اوپر جو ذات بیٹھی ہے۔جس نے بہت پیار سے، بہت چاہ سے، بہت محبت سے اپنی ایک ایک مخلوق کو تخلیق کیا ہے۔جو اپنی ہر مخلوق سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے۔جو اس کے کیے بہترین چاہتا ہے۔کیا وہ انہیں اِس طرح قتل ہوتا دیکھ کر غم نہیں کرتا ہو گا؟لوگ کیوں خود کو خدا سمجھ لیتے ہیں؟لوگ کیوں گمراہی میں چلے جاتے ہیں؟اس کی مخلوق کو اس کی ہی دنیا میں مار کر خود کو بادشاہ سمجھتے ہیں۔کیوں خودکو حکمرا ن سمجھ لیتے ہیں؟پھر تاحیات سجدے کر کے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خود کو۔۔۔خدا کو۔۔۔ضمیر کو۔۔۔محبوب کو۔۔۔

ماشاء کی ایک ایک بات، بار بار ان کے کانوں میں ٹکرا رہی تھی۔ہر بات ہر دلیل کے ساتھ، ہر سچ کے ساتھ۔اصلی سچ کے ساتھ۔

٭٭٭

”ہیلو؟‘‘بہت میچور اور پر سکون آواز کے ساتھ مخاطب کیا گیا۔

”کہاں تھے تم؟کب سے ڈیڈ کال کر رہے ہیں۔“دیار اِس وقت کار ڈرائیو کر رہا تھا جب اس کی پہلی ہی رنگ پر زامل نے فون اٹھا لیا تھا۔

”آئی واز بزی۔خیریت؟‘‘بہت مختصر گفتگو کرنے والے زامل نے بہت مختصر سا جواب دیا۔

”کال کر لو یار ڈیڈ کو، یا میسج کر کےبتا دو کہ کہاں ہو۔“وہ اِس وقت فیصل مسجد کے سامنے کار پارکنگ میں لگا چکا تھا اور اپنے جوتے کے تسمے کھول رہا تھا۔

”اوکے۔“اِس سے پہلے کے دیار فون رکھتا زامل فون بند کر چکا تھا۔وہ بدتمیز نہیں تھا بس بہت کیے دیے رہتا تھا۔

”آئی ایم ایٹ ہوم۔“سینڈ کا بٹن دبا کر اس نے موبائل سائڈ ٹیبل پر رکھا اور خود بستر سے اٹھ گیا۔

٭٭٭

”اے لڑکی!ادھر آنا ذرا!“سعیدہ بیگم جو اِس وقت ڈائیننگ ہال میں بیٹھی تھیں ماشاء کو اپنے پاس آنے کا کہہ رہی تھیں۔

”وہیں سے بول دیں نا۔“سو کاہلوں کی ایک کاہل ماشاء نے ماں کو مفت کا مشورہ دیا۔

”ادھر آؤ!“

”بولیں!“ناک پھلا کر وہ ماں کے سر پر آ کر کھڑی ہوگئی۔

”بیٹھو!“

اِس بار ماشاء نے چڑ کر سعیدہ بیگم سے بات واضح کرنے کو کہا۔

”کیا ہے۔سب ایسے کیوں ہیں؟ایک دفعہ کہہ دیں کہ ادھر آ کر بیٹھو۔لیکن آپ کو تو فل ہیروئن بننے کا شوق ہے۔سنو۔ادھر آؤ۔یہاں جاؤ۔ادھر بیٹھو۔بات بتاؤ۔۔۔“سعیدہ بیگم نے اس کا کان پوری جان سے موڑا تھا۔

”کیا اممی۔۔۔چھوڑیں نا۔۔۔“ماشاء نے انتہائی برا منہ بنا کر سعیدہ بیگم کو دیکھا۔وہ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔

”امی اگر صرف دیکھنے بلایا ہے تو تصویریں لگی ہیں، ان میں دیکھیں میں جا رہی ہوں۔“وہ اٹھنے لگی تھی جب سعیدہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھایا۔

”اہمم۔۔۔“بہت آرام سے، بہت نیچی آواز میں سعیدہ بیگم نے بات کرنا شروع کی۔

”کیا کہہ رہی تھیں تم اندر اپنے باپ کو؟ہاں؟باہر تک آواز آ رہی تھی۔بکواس بند نہیں ہوگی؟ضروری ہے ہر بات میں فلسفہ جاری کرنا اپنا؟“

”نہیں آپ کو مسئلہ کیا ہے؟اور آواز آ رہی تھی یا آپ آواز کو بلا رہی تھیں باتیں چپکے سے سن سن کر۔“

”ماشاء!ایک تھپڑ لگاؤں گی ابھی میں۔انسان بن جاؤ۔روز تم کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کرنا جس سے باپ کا دل دکھے۔“سعیدہ بیگم نے اسے ڈانٹا شروع کیا۔

”کیا تھپڑ؟دن میں ہزار دفعہ تو ویسے ہی آپ مارتی پیٹتی ہیں۔ایک اور مار لیں۔اورصحیح بات کہہ کر آئی ہوں۔آپ تو ڈرپوک ہیں، ماشاء نہیں ڈرتی۔“اس نے بہادری سے ماں کو وضاحت پیش کرنے کی ناکام کوشش کی جس کے نتیجے میں انہوں نے واقعی ایک چپت اس کے سر پر لگائی تھی۔

”ماشاء نہیں ڈرتی۔جاؤ اندر!“شروع کا جملہ سعیدہ بیگم نے تقریباً ماشاء کی نقل اتار تے ہوئے ادا کیا تھا۔جس پر ماشاء نے بمشکل اپنی ہنسی قابو کی تھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔

٭٭٭

سعیدہ بیگم اِس وقت ایک سپر مارکیٹ میں کھڑی اپنی اولاد کی کبھی نہ ختم ہونے والی لسٹ دیکھ رہی تھیں۔ماشاء آج پوری تیاری سے آئی تھی۔صبح کیا ہوا تھا؟کون اجنبی؟کیسی کال؟کون سی ڈانٹیں؟بابا جانی کو کیا بولا؟سب ایک طرف اور ماشاء کی شاپنگ ایک طرف۔وہ اِس وقت سب بھول چکی تھی۔ایک رات پہلے کیا ہوا؟صبح کیا ہوا؟سب کچھ۔اِس وقت اسے کچھ یاد تھا تو وہ یونیورسٹی اور اس کی شاپنگ تھی۔ڈھیر ساری شاپنگ۔

”ماشاء!“سعیدہ بیگم جو اسے بہت پیار بھرے غصے سے گھورے جا رہی تھیں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔انہیں مارکیٹ میں آئے یہ چوتھا گھنٹہ تھا اور ماشاء کی شاپنگ ختم نہیں ہو رہی تھی۔

”یہ کلر، ہاں اس میں برائٹ دکھائیے تھوڑا۔اچھا ہو شیڈ تیز سا۔اٹریکٹِو۔“وہ الگ اپنی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔مارکیٹ کی دنیا میں۔

”جی؟‘‘مارکیٹ میں داخل ہونے کے بعد ان کے درمیان ہونے والی یہ پہلی گفتگو تھی۔

”یہ تم باپ کی محنت کی کمائی کس طرح اڑا رہی ہو؟“

”باپ کی؟باپ کے مزدوروں کی محنت ہے، اور کمائی میرے باپ کی ہےآپ کو کیا ہے؟‘‘اس کے اِس طرح جواب دینے پر سعیدہ بیگم نے اسے اپنی کالی آنکھوں سےاسے ایسےگھورا جیسے اب وہ اس کا ہاتھ کھینچ کر باہر لے جائیں گی۔

”میں تمہارے ایک تھپڑ لگاؤں گی ابھی۔کس کیے کر رہی ہو یہ فالتو شاپنگ؟“

”باجی یہ دیکھیں!‘‘دکاندار اس کی مرضی کا کلر لے آیا تھا۔

”نہیں بھائی اور برائٹ، اور اچھا۔اس میں اٹریکشن نہیں ہے۔“ماں کو چھوڑ چھاڑ ماشاء دکاندار سے بات کرنے میں لگ گئی تھی۔

”باجی اس سے اچھا تو نہیں ہو گا۔“دکاندار نے جیسے اس کی پسند کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔

”دکان تم نے کیا شو مارنے کے کیے کھولی ہے یا رشتہ داروں کو جلانے کے کیے۔کپڑے ہیں نہیں تو باہر لکھا کیوں ہے کہ سب ملتا ہے۔جھوٹے!“ماشاء اسے بلاوجہ ہی، بے جرم ذلیل کر کے آگے بڑھ گئی تھی۔سعیدہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور احمر کو، جو بےشمار شاپرزلا دے ساتھ چل رہا تھا، گاڑی میں جا کر بیٹھنے کو کہا۔

”گھرچلو ماشاء!کیسی یونیورسٹی؟کہاں کی یونیورسٹی؟ایڈمیشن ہوا نہیں۔پتہ تک نہیں ہے تمہیں کہ جانا کہاں ہے۔ہو گا بھی ایڈمیشن یا نہیں؟ہے بھی تمہارا سی گریڈ۔اس پر تمہارا یہ حال ہے۔ایڈمیشن ہوجائے پھر کرنا شاپنگ۔“

”ایک منٹ، آپ کو لگتا ہے میں نکمی ہوں؟‘‘ماشاء نے ہاتھ چھڑا کر ماں سے سوال پوچھا۔

”لگتا کیا ہے، تم ہو۔“

”امی بے عزتی مت کریں۔“اس نے برا منہ بنایا۔

”گھر چلو ابھی۔“انہوں نے جیسے جھنجھلا کر کہا تھا۔

”سوری بولیں بےعزتی کے کیے۔“ماشاء نے اَڑ کر ماں کے سامنے اک معصوم سی خواہش ظاہر کی۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of طمانچہ - Tamancha. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Syeda Neha Rizvi earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 400

See all editions, reviews and details

طمانچہ - Tamancha Buy — Rs 400