12% of the book — free to read
شام ٹھہرگئی!
(شعری مجموعہ)
سید محمداظہرؔ
کتاب کے جملہ حقوق محفوظ ہیں
نام کتاب: شام ٹھہر گئی
مصنف: سید محمد اظہرؔ
باہتمام:سید انیس
انتساب
اپنی مرحومہ بیگم
نسیم اظہر
کے نام
پیش لفظ
مجھے اردو شاعری کا شوق اپنے کالج دور کے استادمحترم جناب تحسین فراقی صاحب کی عنایت اور محبت سے پیدا ہوا۔ حالانکہ یہ اشعار اس قابل تو نہیں کہ میں اپنے استاد محترم کو دکھا بھی سکوں مگر اپنے دیرینہ دوست اور استاد محترم تحسین فراقی صاحب کے مشترکہ شاگرد جناب سید انیس کے کہنے پر منظر عام پر لانے کا سوچا۔
میرے نزدیک شاعری صرف اظہار خیالات و جذبات کی مصوری ہے اور یہ کبھی بھی بالجبر نہیں ہوسکتی۔ خیالات کی آمدکبھی بھی کسی وقت اچانک وارد ہوتی ہے، الفاظ کو ترتیب سے پرونا ہر کسی کا اپنا ہنر ہے۔ اس کی ترتیب میں اگر جو کوتاہی ہوئی میں اس کا پیشگی معذرت خواہ ہوں اور جہاں یہ ترتیب آپ کو بھائے اس کے لیے بھی میں پیشگی شکرگزار ہوں۔
سید محمد اظہرؔ
جنوری 2021ء
⦾
غم کے سائے بڑھتے جاتے ہیں آہستہ آہستہ
دل پہ چھانے لگے یہ سائے آہستہ آہستہ
پہلے تو عادت نہ تھی اک بات بھی سہنے کی
اب تو ہوگئی ہے عادت کی آہستہ آہستہ
پاگل ہوا تھا دل مرا اک ادا پر تیری
اب ٹھہر گیا ہے دیوانہ پن آہستہ آہستہ
⦾
تاریکی تھی یا تھی آنسوؤں کی برسات
میں تیرے چہرے کو پہچان نہ سکا
تیرے پیچھے نکل آیا اتنی دور کہ
باوجود کوشش کے پلٹ نہ سکا
کچھ کہنے آیا تھا تیرے پاس لیکن
ہمیشہ کی طرح آج بھی کچھ کہہ نہ سکا
آنسو سنبھال رکھا تھا اک آنکھ میں
آج وہ بے قرار بھی رہ نہ سکا
رات کو موند لیں آنکھیں خاطر نیند کی
مگر شدت غم سے پھر سو نہ سکا
لکھنے تو بیٹھا ہوں اظہرؔ اس کےلئے
بات پھر بھی لکھنے کی لکھ نہ سکا
⦾
وعده وفا ہوا آج دونوں کی جانب سے
رہے کاش قائم یہ رسم ہمارے درمیاں میں
لیتی ہو جب نام کسی کا میرے سامنے تم بھی
چبھتا ہے اک تیر سا سینے کے درمیاں میں
بیٹھوگی اس دن سہیلیوں کے جھرمٹ میں تم ایسے
ہو جیسے کوئی چاند پورا ستاروں کے درمیاں میں
ہے بس گیا نظر میں اک وہی چہرہ
پہچان لوں گا اس کو ہزاروں کے درمیاں میں
نہ جانے کیوں نہ کر سکا اظہارمحبت میں آج تک
ہر بار پھنس گئی زباں دانتوں کے درمیاں میں
یادیں ہیں اس کی محفوظ یوں ذہن میں میرے
گلاب جیسے ہو کوئی کتابوں کے درمیاں میں
آتے گئے تم میرے قریب لیکن پھر بھی
بڑھتے گئے حجابات ہمارے درمیاں میں
نہ جانے کیا ہوئی میری حالت اظہرؔ جب کبھی
آگئی یاد اس کی امتحانوں کے درمیاں میں
⦾
آج پھر تیری یاد کا جھونکا آیا
دل میں تیرا حسیں عکس ابھر آیا
سوچنے بیٹھا گلشن خیالاں میں تیری تصویر
چاند اک منور ذہن میں اتر آیا
یاد جو آئی تیرے جسم کی خوشبو
اک لطیف سا جھونکا ہوا کا چلا آیا
کہہ کر گئے تھے وہ نہ آئیں گے پھرکبھی
پھر بھی خیال بن کے وہ چلا آیا
جب بھی دیکھا تیری جانب شوق سے
تیری آنکھوں کا حسیں سمندر نظر آیا
بڑھ کر کروں گا استقبال میں اس کا
تصور میں بھی تیرا خیال اگر آیا
کہنے گیا تھا تیرے پاس کچھ اظہرؔ
بوجھل قدموں لیکن پھر لوٹ آیا
⦾
سوکھے ہوئے پھولوں سے خوشبو جاتی نہیں
یاد تیری دل سے ایسےبھلائی جاتی نہیں
نام جو لے لیا تیرا میں نے کبھی اگر
لبوں سے میرے شیرینی جاتی نہیں
رہ رہ کر یاد آتا ہے وہ تیری رخصت کا عالم
آنکھوں سے میرے نمی جاتی نہیں
کھینچوں کیسے نقشہ تیرا اے ستمگر
لفظوں سے تیری تصویر بنائی جاتی نہیں
خیالوں میں جو چھو لیا تھا تیرے ہاتھ کو
ہاتھوں سے اب تک وہ حنا کی خوشبو جاتی نہیں
اپنا سمجھ کر کہہ دیا تھا سب کچھ اظہرؔ
غیروں سے کوئی بات کہی جاتی نہیں
⦾
ظلمت شب میں مہکتا ہوا چاند ہے تو
ماند چکور کی تیری جانب اڑ رہا ہوں میں
ڈٹ گیا تھا ہر طوفاں کے سامنے مگر آج
تیری اک نگاہ سے بکھر رہا ہوں
بہل رہا تھا دل تیرے وصل کے لمحات میں
لیکن پھر جانا کہ ایک خواب دیکھ رہا ہوں میں
لٹ گیا ہے سب کچھ اس کی الفت میں اظہرؔ
آب فقط اسے یاد کر رہا ہوں میں
⦾
مٹی سے آتی ہے خوشبو ساون کے برسنے کی
دل کو پھر آس ہے آج تیرے ملنے کی
بڑی دیر سے تھا شور چمن میں بہار آنے کا
کھل گئے وہ پھول بھی آس نہ تھی جنہیں کھلنے کی
بجھ گئی شمع سر شام ہی آج کہیں
کہاں جا ئیں وہ پروانے حسرت تھی جنہیں جلنے کی
ہم تو تکتے رہے راہ تیری مگر نجانے
تجھے تو کچھ عادت ہے راہ بدلنے کی
اب کیا غم ہے ہمیں اظہرؔ
لٹ گیا دل اب کیا چیز ہے لٹنے کی
⦾
خاموش نظروں ہی نے کہہ دیا سب کچھ
ورنہ تو کہنے کو انداز بہت تھے
نہ تھی اس چاند کے بغیر رات میں کشش
یوں تو چمکنے کو ستارے بہت تھے
تیری یاد میں بہنے والا اک آنسو دیا ہے تجھے
ورنہ تو دینے کو تحائف بہت تھے
تیری نظروں سے ہی ڈولنے لگا ہے دل کیوں
یوں تو راہ گزر میں طوفاں بہت تھے
اک تجھے ہی کیوں پیدا کیا خدا نے
یوں تو اس وادی میں پھول بہت تھے
اک ہی نظارہ دل میں سمایا ہے اظہرؔ
یوں تو دیکھنے کو شاہکار بہت تھے
⦾
کر تو لیا ہے عہد ترکِ وفا کا لیکن
اگر اس کا سامنا ہو گیا تو کیا ہو گا
تجھے دیکھنے کے بعد ہی جو پیاسی رہتی ہیں آنکھیں
تیری فرقت میں ان کی پیاس کا عالم کیا ہو گیا
ہمیں تو ہو گئی تھی عادت تیرے سایہ چمن کی
آب گرمئ زمانہ میں اپنا حال کیا ہو گا
بڑی پرخار تھی راہ الفت ظہرؔ
نجانے منزل پہ انجام کیا ہو گا
⦾
چودھویں کی رات اور ہم
کل پھر تھی وہی چودھویں کی رات
کل پر جاگ رہے ہم ساری رات
پھر تمہارے آنے کی امید تھی ہمیں
کروٹیں بدلتے رہے ہم ساری رات
ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے سونے نہ دیا
خوشبوئیں پھر کہیں سے آتی رہیں ساری رات
پھر تیری باتیں تیرا انداز ستم یاد آیا
پھر تڑپنے لگا دل ہلچل سی رہی ساری رات
تجھ سے تو پھر کچھ نہ کہہ سکے ہم
خود ہی سے باتیں کرتے رہے ساری رات
⦾
عمر بھر اک شخص کی تلاش رہی مگر
ہر راہ ہر منزل کہاں ہوتی ہے
کہا جاتا نہیں سب کچھ الفاظ سے
محبت کی تو اک اور زباں ہوتی ہے
گوہر اب کیسے ہو پیدا نیا کوئی
اب کہاں وہ ابر نیساں ہوتی ہے
ہر بات ان کی دل کو لگی ہے نئی سی
ہر بات میں اک بات پنہاں ہوتی ہے
اندازہ نہیں تھا مجھے اس قدر جنوں کا
آنکھ لگتی نہیں رات جہاں ہوتی ہے
You have read 12% of شام ٹھہر گئی - Sham Thehr Gai. The full e-book picks up right where this stopped.