30% of the book — free to read

حرفِ تمنا
(شعری مجموعہ)
ممتاؔز
داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
ترتیب و ادارت نرمین سرھیو (مدیرۂ اعلیٰ)
نظرِ ثانی: فریال زہرا (مدیرۂ معاون)
سرورق: انعم امیر
اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان (www.daastan.com)
فہرست
﷽
حرفِ تمنا کے نام سے یہ مختصر سا شعری مجموعہ حاضر ہے۔مجھے اس بات کا پورا احساس ہے کہ شاعری میرا میدان نہیں ہے۔لہٰذا اس مجموعےکا اگر تنقیدی نظر سے جائزہ لیا جائے تو ہو سکتا ہے بعض اشعار فنی اعتبار سے تنقید کے کڑے معیار پر پورے نہ اتر پائیں۔چونکہ نظم جذبات و احساسات کو پیش کرنے کا زیادہ مؤثر ذریعہ ہے اور میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر ’کسی حد تک‘ یہ قدرت ہے کہ میں اپنے جذبات کو شعر کی زبان میں پیش کر سکوں لہٰذا یہ جسارت کر ڈالی۔
شعر کہنے کی تحریک کیسے پیدا ہوئی؟ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اس کا پسِ منظر بھی پیش کر دوں۔
بعض لوگوں کا تعلق علمی اور ادبی خاندانوں سے ہوتا ہے۔اس لیے ان میں سے اکثر کو یہ چیزیں وراثت میں مل جاتی ہیں۔جب کہ میرا تعلق ایک زمیندار اور کسان گھرانے سے تھا جن کے شب و روز میں علم و ادب کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ہاں ساری مشغولیات زمین کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی تک محدود تھیں اور میٹرک تک تو خوب بڑھ چڑھ کر میں نے کھیتی باڑی میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹایا۔لیکن ایک بات جو مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس زمانے میں بھی مجھے شعر پڑھنے کا بہت شوق تھا۔اور اردو کی درسی کتاب میں نظم والے حصے کی کئی نظمیں مجھے زبانی یاد ہوتی تھیں۔اور میں ان میں سے اکثر کو ترنم کے ساتھ گنگناتا رہتا تھا۔
F.Sc کرنے کے بعد میں نے انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا۔اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ علم الہندسہ اور ادب کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے اور پھر انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران اردو بطور مضمون بھی ختم ہوگیا۔اس طرح کچھ وقت کے لیے تو ساری توجہ فنی تعلیم کی طرف ہی مرکوز ہو کر رہ گئی۔انجینئرنگ کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے کچھ فرصت ملی تو میں نے کلیاتِ اقبال کو زیادہ غور سے اور سنجیدگی سے پڑھا اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار پڑھا اس مطالعے کے دوران مجھے اس کے ساتھ ایک قلبی لگاؤ پیدا ہو گیا۔جوں جوں علامہ اقبال کے کلام کی سمجھ آتی گئی قلب و روح کے اندر ایک انبساط کی کیفیت پیدا ہوتی گئی اور شاعری کے ساتھ، خاص طور پر علامہ اقبال کی شاعری کے ساتھ تو اس حد تک تعلق پیدا ہو گیا کہ اس وقت سے اب تک ان کی کلیات کا اردو حصہ تو ہمیشہ میرے سرہانے ہوتا ہے۔شاعری کو کسی حد تک سمجھنے کی اور کچھ شعر کہنے کی تحریک مجھے اسی سے پیدا ہوئی۔
بعد میں میں نے حضرت اکبر الہٰ آبادی کا بھی پورا کلام پڑھا اور غالب کا بھی۔غالب کے پورے کلام کو سمجھنا تو استادوں کا کام ہے لیکن جو تھوڑا بہت میری سمجھ میں آیا میں اس کے بارے میں غالب کی ہی بات دہراؤں گا کہ ”آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں“۔ندرتِ خیال میں غالب واقعی عروج پر ہیں۔بقول علامہ اقبال ”ہے پرِ مُرغِ تخیل کی رسائی تا کُجا“۔
حضرت اکبر الہٰ آبادی کی شاعری پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں بڑی بڑی باتیں، اور نہایت وقیع باتیں کتنے مؤثر انداز میں کہی جا سکتی ہیں۔انہیں لسان العصر کےلقب سے بالکل صحیح نوازا گیا۔
بہر حال ہم تو ان بڑے لوگوں کی خوشہ چینی بھی کرنے کے لائق نہیں۔اگر ان کے کمالات میں سے تھوڑا سا حصہ بھی مل جائے تو زہے نصیب۔
اس مجموعے میں نظموں کی وہی ترتیب رکھی گئی ہے جس ترتیب سے یہ لکھی گئی ہیں۔یعنی جو نظم پہلے لکھی گئی اسے پہلے رکھا گیا ہے۔
آخر میں ہم علامہ اقبال کے شعر پر بات ختم کرتے ہیں۔
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنا جسے کہہ نہ سکیں رُوبرو
یہ ”حرف تمنا“ شعر کی صورت میں آپ کے پاس حاضر ہے۔
مُمتاز
جون ۲۰۲۰ء
لاہور، پاکستان
پکڑ تلوار ہاتُھوں میں سبق توحید کا پڑھ کے
لگا اِک ضربِ کاری بازوئے دشمن پہ بڑھ چڑھ کے
یہ کافر ہی ہیں جو اپنی سِپاہ پر ناز کرتے ہیں
مُسلماں تو مُحمد ّ کے خُدا پر ناز کرتے ہیں
ابوبکرؓ و عمؓر عؓثمان جس ملت کے راہبر ہوں
علیؓ شیرِ خُدا جیسے ملے جن کو بہادر ہوں
جُھکے کیوں کر وُہ ملّت کفر کی یلغار کے آگے
کہ ہے کٹنے کو کفر اسلام کی تلوار کے آگے
نہیں ہے دُور کی یہ بات جب پینسٹھ میں مارا تھا
فضا میں، بحر و بَر میں، ہر جگہ ان کو پچھاڑا تھا
خدا کے راستے میں جنگ تو عینِ عبادت ہے
مُسلماں کی تو ساری زِندگی حق کی شَہادت ہے
۱۹۷۱ء
یہ نظم ۱٩٧۱ء میں پاک بھارت جنگ کے موقع پر لکھی گئی۔
جنہیں میں ہمسفر سمجھا، جنہیں میں ہم زباں سمجھا
چلے نہ ساتھ میں جن کو شریکِ کارواں سمجھا
بَہت سے تجربوں سے گزر بیٹھے ہیں ابھی سے ہم
فضا کی تلخیوں کو تونے کب جانا، کہاں سمجھا
مِری منزِل بَہت دُشوار بھی، محنت طلب بھی ہے
میں کیوں رستے کے ہر پتھر کو منزِل کا نشاں سمجھا
کروں گا کس کے اُوپر زندگی میں اعتبار اب میں
وہی نامہرباں ٹھہرا جسے میں مہرباں سمجھا
نہیں ہے فاصلوں کو دخل کُچھ راہِ محبت میں
میں اُن کو ہر گھڑی ہر آن اپنے درمیاں سمجھا
ابتدائی زمانے کے چند اشعار۔ کچھ اشعار کی نوک پلک بعد میں سنواری گئی۔
شاہیں پِھرے ہے دشت میں‘ بلبل ہے باغ میں
دونوں بَہت اداس ہیں میرے حِساب میں
گرچہ بَہت سے فاصلے حائل ہیں راہ میں
دِل دِل سے محوِ راز ہیں گو ہیں حجاب میں
ان کا یہ اضطراب کہ آتی نہیں ہے نیند
آتی ہے جو ذرا سی تو ملتے ہو خواب میں
آتے ہمیں ہیں ان کے نامہ ہائے بے حساب
ہم روز روز کیا لکھیں ان کو جواب میں
سارے حصار توڑ کر پہنچیں گے جب یہاں
حاضر کریں گے جان و دِل ان کی جناب میں
۴ ستمبر ۱۹۸۲ء
سعودی عرب
سعودی عرب میں لکھی گئی پہلی نظم ہے۔
آئیں گے خوب رو رخِ تاباں لیے ہوئے
اے دِل جنہیں مدت ہوئی مہماں کیے ہوئے
نمناک ہوگی آنکھ اور دِل میں سرور سا
چہرہ چمک دمک رہا ہوگا حضور کا
وہ پُھول میرے چمن کے لائیں گے اپنے ساتھ
میں کتنے پیار پیار سے رکھوں گا ان پہ ہاتھ
چھوٹا سا میرا گُلشن یارب تیری اماں
رکھنا سدا بہار نہ آئے کبھی خزاں
خدا کے گھر میں مَیں پہنچا تمنا دِل کی بَر آئی
بلایا اپنی رحمت سے یہ ان کی لُطف فرمائی
تجلی گاہِ ازلی سامنے تھی میری نظروں کے
نہیں تھا پاس میرے کُچھ بجز دو چار اشکوں کے
کہا آنکھوں سے میں نے کہ یہاں اب باوضو رہنا
کہ ان کے گھر میں آئے ہیں ذرا تسلیمِ خُو رہنا
تھا دِل کا حال کُچھ ایسا کہ ہیبت اس پہ چھائی تھی
زمیں تا آسماں انوار کی جلوہ نمائی تھی
جبیں میں شوق تھا ایسا جُھکی جاتی تھی سجدے میں
وُہ ہوں پنہاں کہیں گویا بہت بارِیک پردے میں
زُباں گویا ہوئی یا رب یہ سائل در پہ آیا ہے
زمانے بھر کی امیدیں لیے اس گھر پہ آیا ہے
نہیں جاؤں گا خالی میں یہاں سے، ہاں کدھر جاؤں
کہ اِس گھر کے علاوہ اور میں اب کِس کے گھر جاؤں
مِرا گُلشن ہرا کردیں، میرے غنچے کو وا کردیں
مُسلماں کو جہاں میں پِھر سے وُہ عزت عطا کردیں
***
طواف ِحُسنِ ازلِی کے لیے ہر فرد آیا ہے
نِدائے ابراہیمی نے عجب اِکرام پایا ہے
ترانہ حمد ہے لب پر دلوں میں سوز رکھتے ہیں
وُہ کیسی شمع ہے جس پر یہ سب پروانے جلتے ہیں
صفا مروہ پہ پیہم دوڑتے پھرتے ہیں دیوانے
یہ سب عِشق و محبت ہے خِرد کیوں کر یہ پہچانے
کوئی سیکھے وفاداری وفا کے اس مجسّم سے
کیا گُلزار شعلوں کو ثباتِ عزمِ پیہم سے
بلندی کس قدر پائی ہے کیسی رفعتِ شاں ہے
گلِ سرسَبَد یہ کیسے ہیں کیسا یہ گُلِستاں ہے
حیات ِ جاوداں بخشی وفا کے اس گھرانے کو
کیا پابند اُن کی ہر ادا کا اِک زمانے کو
۱۴۰۲ھ (ستمبر ۱۹۸۲ء)
You have read 30% of حرفِ تمنا - Harf e Tamana. The full e-book picks up right where this stopped.