12% of the book — free to read

ارتقاء کا مسافر
------------
شعیب عارفؔ

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢١ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
٭
ترتیب
فریال زہرا
مدیرہ
نرمین سرھیو
__
سرورق کے جملہ حقوق مصنف کے نام محفوظ ہیں
***
انتساب
یہ کتاب اللہ کے لیے وقف ہے جس نے یہ پوری کائنات بنائی اور مجھے علم دیا ، اس لیے کہ میں اپنے اندر اور اس کی کائنات میں اللہ پر غور و فکر کر سکوں!
فہرست
قرآن: سورۂ فاتحہ (اردو ترجمہ). 20
Surah Fateha: English Translation. 21
محبت روح ہے جو معنی دے تجھے... 22
بات کتنی اچھی ہو بات بھول جاتی ہے... 23
کیوں چپ چاپ چلتے جا رہے ہو.. 37
رستوں پہ بےبسی سے گھومنا تو ہے... 47
غالؔب تیری غزل کا مداح ہوا کرے گا. 73
چل کسی کو تو کچھ سمجھ آیا. 80
آنکھوں سے آنکھوں تک سفر... 83
میں رستہ ہوں تیری منزل کا تجھے ہر سُو تکتا رہتا ہوں.. 96
پھر کسی صورت میں تُو آئے... 99
کب تیرے شہر کی گلیاں گزریں کب تیرے گھر کا در آیا. 100
اس طرح کا بھی تو دیوانہ ہوتا ہے... 102
بہت اونچی ہے صدا فقیروں کی.. 107
میری خموشی پہ شور برپا ہو گیا.. 108
اب تو خوابوں میں ملن ہوا کرتا ہے... 109
درد جس کا انعام ہے وہی اپنے دل کا مکیں سہی... 111
اُن کا عکس سرِ طور دیکھنا... 112
انساں بنا دیا کہ تماشا بنا دیا. 113
یہاں لٹنے اور لٹانے کا نام زندگی.. 114
اب تو ہر دیوار سے میرا نقش بھی مٹتا جائے ہے... 115
سانوں عمراں لنگیاں سانوں عمراں لنگیاں.. 121
ہم اپنی ہستی مٹائے ہوئے ہیں... 129
Your own will is your destiny. 141
آؤدنیا کو اپنی بدلتے ہیں... 144
کیا دنیا یہ بدلنے کو، دل کرتا ہے تیرا؟. 167
چل ڈینگی مار مُکائیں رے۔۔۔. 171
تُو نہیں، تیرا دھوکہ ہی سہی... 173
دِکھتا نہیں ہے وہ، دکھائے جو آج تک... 174
اِنسان محوِ خواب ہے، خیال کیجیے... 176
محمدﷺ کی محبت میں جینا چاہیے... 190
اگر اب ذات کی نفی کر دوں.. 191
خوابِ دل کے کواڑ خانوں سے... 217
If I want knowledge, wisdom, power 221
اب کبھی آنے ہی نہیں دیتا. 224
فیر وی میڈی میں نی جاندی.. 235
اللہ تو سب کے ساتھ ہے لوگو.. 239
O the Ariؔf, O the wandering soul! 245
چلے چلو، بڑھے چلو۔۔۔ پاکستان!!! 246
What do you know about existence?. 254
کوئی اچھی سی بات سناؤ تم۔۔۔. 260
Enough of slavery Now set me free!! 262
جلتے جلتے یہ جگنو، ستارہ ہو گیا.. 264
اضطرابِ عشق کے مرحلے نہ دیکھ.. 272
محبتوں کے سفر میں تھے جی.. 277
کوئی ایسے ہی یوں چلا گیا.. 278
ملے گا تجھ کو وہ تیری ہی ذات میں... 285
سلجھا ہوا سا ایک الجھا ہوا سا شخص..... 286
***
یہ کتاب میرے ذاتی ’’ارتقائی انقلاب‘‘ کے سفر کے بارے میں ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے آخری بیس سال مادے اور روح کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش میں گزارے ہیں۔ میں نے اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے مابعدالطبیعات کی تلاش کی کہ مادہ اور روح جڑے ہوئے ہیں اور ایک توازن میں ہیں۔ جہاں بھی یہ توازن بگڑتا ہے وہاں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ میں بنیادی طور پر اپنے روحانی استاد اشفاق احمد ، قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی اور بانو قدسیہ سے متاثر ہوں۔ اس کے بعد میں نے نیتزے ، گوئٹے اور اقبال کی نثر اور شاعری پڑھی ہے۔ میں خوش قسمت تھا کہ برصغیر کے مشہور صوفی شعرا بابا فرید ، بابا بلھے شاہ ، سلطان باہو اور شاہ بھٹائی تک پہنچا جو کہ انسان کو امن اور محبت کا پیغام دینے کے لیے شاعری کو بطور ایک میڈیم استعمال کرتے تھے۔ اسی طرح ، میں نے پوری دنیا میں امن ، محبت اور عاجزی کا پیغام دینے کے لیے شاعری کو بطور میڈیم استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کو میری شاعری میں ایسے تمام بڑے شعرا، فلسفیوں کے رابطے ملیں گے اور یہ میری زندگی کے تمام اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اردو ، انگریزی اور پنجابی میں لکھے گئے اپنے تمام کام کو جمع کرنے کی میری عاجزانہ کوشش ہے۔
میری والدہ نسرین اختر اور والد عارف جاوید (مرحوم) ہمیشہ میرے ارتقاء کے سفر کی حمایت کے لیے موجود تھے ، میں اُن کا کبھی شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنے والد کا نام عارف اپنے والد کی محبت میں اپنے تخلص کے طور پر استعمال کیا ہے۔
میں اپنی بیوی انم شعیب اور اپنے بچوں موسیٰ ، عبید ، افراہ کا شکر گزار ہوں کیونکہ اُن کی وجہ سے میں اپنا کام مکمل کر کے دنیا کے سامنے پیش کر سکا۔
میرے دوست نوید اکبر ، فرمان یوسف ، رابعہ ، بلال احمد ساجد ، یوسف فرید ، آصف نسیم اور اطہر اشفاق ہمیشہ میری مدد کے لیے تیار رہے اور مجھے خود ارتقاء کے اس سفر میں آگے بڑھنے کا یقین دلانے کے لیے موجود تھے۔
میں محبت کے اس احساس کو خاص طور پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جس کی وجہ سے میں نے شعیب سے عارفؔ ہونے کا سفر شروع کیا۔
میں اب بھی ایک بہت ہی عام انسان ہوں اور میں نے ارتقاء کے اس طریقے سے کچھ حاصل نہیں کیا ، لیکن میرا یقین ہے کہ اگر ارادہ بے لوث ہو اور انسانی ارادہ روحانی ہو جو دل کی کوششوں میں بدل جائے۔ پھر ایک دن میں اس دائمی نعمت تک پہنچوں گا جس کا اللہ نے انسان سے وعدہ کیا ہے۔
شعیب عارفؔ
٢٥ اگست، ٢٠٢١ء
***
(حصہ اوّل)
تعریف کُل کی تیرے لیے ہے
تُو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اللہ
رحمٰن، رحیم ہے صفت تیری
تُو مالکِ خیر و جزا ہے اللہ
کریں تیری عبادت، مدد چاہیں تجھ سے
ہمیں سیدھی راہ پہ چلا دے اللہ
انعام کیا تُو نے جن پہ
ہمیں وہ نیک راہ دکھا دے اللہ
غضب کیا تُو نے جن پہ
اس گناہ کی راہ سے بچا لے اللہ
All the praises are for You O Allah
You are the Lord of whole Universe O Allah
The Most Gracious and the Most Merciful are You
You are the Owner of the day of resurrection O Allah
We worship You and call You for aid
Guide us to the straight path O Allah
On whom You have bestowed Your Grace
Award us with the way of those O Allah
On whom You have done Your anger
Save us from way of those O Allah
محبت روح ہے جو معنی دے تجھے
محبت بادل ہے جو پانی دے تجھے
محبت کتاب ہے جو کہانی دے تجھے
محبت وقت ہے جو جوانی دے تجھے
محبت راگ ہے جو روانی دے تجھے
محبت ہوس نہیں اے دوست
محبت ربّ ہے جو زندگانی دے تجھے
بات کتنی اچھی ہو بات بھول جاتی ہے
روشنی کے ساحل پہ رات بھول جاتی ہے
عشق کے سمندر میں پانی اتنا گہرا ہے
دھیرے دھیرے اپنی بھی ذات بھول جاتی ہے
عشق کرنا گناہ نہیں پرگناہ سے بڑھ کر ہے
عشق کا بدلہ سزا نہیں پر سزا سے بڑھ کر ہے
عشق پڑھنا پاک ہے تو عشق کرنا ناپاک کیوں
عشق دنیا کی نگاہ میں شاید خدا سے بڑھ کر ہے
یہ جان کے تیری آنکھ میں دنیا کا خوف کیوں آگیا
عشق تیری حیا نہیں پر حیا سے بڑھ کر ہے
روح تو روح سے مل گئی پھر جسم پہ پہرہ کیا معنی
عشق تو ایسا ہے کہ تیری ہروفا سے بڑھ کر ہے
تیرے من میں سوز ہو تو ربّ بھی تیرے پاس ہے
عشق کوئی صدا نہیں پر صدا سے بڑھ کر ہے
پاؤں میں چھالے پڑ گئے لوگوں نے مجنوں کہہ دیا
عشق ایسے ہی نہیں فرشتوں کی اداسے بڑھ کر ہے
عشق نگری جو بھی پہنچا دل کا امیر پہنچا ہے
عشق عارفؔ جزا نہیں پر جزا سے بڑھ کرہے
اب روشنی دل کی کہاں سے لاؤں
اب دل کے جنگلوں میں بھٹکنے کا وقت ہے
کیوں کوئی مسیحا آکے میرے درد چھین لے
اب کانٹوں پہ چل کے سچ کو پرکھنے کا وقت ہے
منزل کا سرور بھی پل دو پل کا ہے
اب منزل سے بے پروا چلنے کا وقت ہے
گو اُس کی یاد ہی حاصل ہے زندگی کا
اب حاصل کو لاحاصل کرنے کا وقت ہے
دل تے چاندا اے کہ ڈگاں
اِک واری کر کے اللہ ہو
منزل دا فریب مُک جاوے گا
میں دا مندر سڑ جاوے گا
عشق تیرے نال ہو جاوے تے
گھمن گھیری کھاندا جاواں
تیری چاہ دے اتھڑو روندا جاواں
جیڑے آگ لگا ون میرے پاسے پاسے
اُس آگ وچ میں تے سڑدا جاواں
میں دا رمز وی پاندا جاواں
میریاں گلاں اُچیاں نے پر
مینوں عمل دی راہ نہیں اے
جیڑی عرشان دا سینہ چیرے
میرے گندے دل وچ او آہ نہیں اے
فیر گواچی گاں ورگوں میں
کیوں کلاں کلاں پھردا واں
جد ساریاں راہواں کھو جاون
کیوں تیریاں راہواں لبھدا واں
کد بھول بھلیاں مکن گیاں
کد نفس دے بت ڈگن گے
کد میرے دل نوں چیر کے ویکھو
تے نور تیرے ہی چمکن گے
You have read 12% of ارتقاء کا مسافر - Irtiqa Ka Musafir. The full e-book picks up right where this stopped.