Check out our most recent publications
سیاہی - Siyahi
Free sample · no sign-up

سیاہی - Siyahi

by Zarish Iqbal

You are reading the first 15% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

15% of the book — free to read

 

سیاہی

 

زرش اقبال

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

 

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

*

مدیرہ

نرمین سرھیو

 

ـــــ

 

سرورق کے جملہ حقوق مصنفہ کے نام محفوظ ہیں

 

یوں تو کئی پروئی میں نے کہانیاں ۔۔۔۔ مگر

سانحہ تیرے وجود کا میرا قلم جُھلسا گیا ۔۔۔۔۔

 

زرش اقبال

 

اِک  بات

سیاہی دھبے مانگتی ہے خواہ وہ کورے کاغذوں پہ پڑے وہ ان گنت چھینٹے ہوں یا انسانی وجود پہ گزرے ہوئے لمحوں کی تگ و دو لیے کچھ ایسے سوال جو جواب کے منتظر ہوں اور کچھ ایسے جواب جو اپنے سوالوں کے متلاشی ہوں ۔

 "سیاہی دھبے تو مانگتی ہے"

 

وہ دھبے جو کسی بے رنگ تحریر کو رنگ بھرنے کی کوشش میں کبھی کبھی داغدار کر جائیں یا کسی داغدار وجود کو اپنے اندر سما لیں اور اپنے رنگ میں ڈھال کر اُسے بے رنگ ہونے سے بچا لیں کیونکہ ایسا میرا ماننا ہے کہ تحریر ہو یا تمہارا اپنا وجود یہ جب تک داغدار نہیں ہوگا سوال نہیں اُٹھائے گا سوال نہیں اُٹھائے تو قلم کیسے اُٹھائے گا اور جب تلک قلم نہیں اُٹھے گا تمہارا اندر بے سکون رہے گا۔

 

انسان جب اِس دنیا میں آتا ہے تو بے شمار رشتے اِس کے منتظر ہوتے ہیں لیکن ایک بات جو ہم پہ عیاں ہونا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اِس کی روح اِس سے ملنے کے لیے کتنی منتظر ہوتی ہے اور انسان یہ بات تب جانتا ہے جب اُس کو اپنے رشتوں سےاور اِس دنیا کی رنگینیوں سے الگ کسی روز ایک سیاہ رات میں اپنے آپ سے ملنا پڑتا ہے تب وہ یہ بات سمجھتا ہے کہ وہ کبھی اپنی روح سے تو ملا ہی نہیں جو کتنے برسوں سے اِس کے اندر پناہ لیے ہوئے ہے اور جب اِس سیاہ رات میں وہ تلاش کرنے نکلتا ہے اپنی روح کو تو اُس کی روح اِس سے سب سے پہلا سوا ل یہ کرتی ہے ۔

 

ہاں آگئے ہو تھک ہار کے دنیا کے جسموں سے ؟

 

پھر جواب میں نظر آتا ہے ایک خالی چہرہ جو کسی شفاف کاغذ کی طرح انتظار میں ہے اُن سیاہی میں ڈوبی انگلیوں کے جو تحریر کریں ہر اُس داغ کو جس میں جسم مقید ہے ۔اور پھر اُنڈیلا جائے سیاہی کو زندگی کے ہر صفحے پہ جہاں منظر عام پر آئے ہر وہ دھبہ جو اِن تمام کوششوں کی عکاسی کرے جو اِس جسم نے سکون کے حصول کے پیچھے کی ہیں۔

 

اور پھر یہی سیاہی لفظوں کو تحریر کرتے کرتے مِیلوں کا سفر طے کرتے ہوئے ملاقات کرواتی ہے ایک جسم کی اُس کے اندر سے اور پھر یہ جسم اپنی روح کے ہمراہ منزلیں طے کرتا چلا جاتا ہے کرتا چلا جاتا ہے جہاں وہ اپنی زندگی کے بہت بڑے فیصلے تک رسائی کرتا ہے۔

"کہ وہ غلط تھا یا صحیح ؟“

 

اپنی زندگی کو قلم بند کرتے کرتے وہ کتنے ہی کورے کاغذوں سے گزرتا ہے اور نجانے کتنے ہی تہہ لگے اوراق سے اور سب ہی اُس کو دیکھ مسکراتے ہیں اپنی آنکھیں نم کیے جیسے وہ برسوں سے منتظر تھے اُنہی سیاہی ٹپکتی انگلیوں کے جیسے اِنہیں پھر سے داغدار ہونا تھا پر داستان بننے کے لیے ایک جسم کی روح سے ملاقات کی داستان۔

 

"اِس بے وقعت سی زندگی میں وقعت ڈھونڈھتے میں اور تم"

 

 

     

فہرستِ مضامین

1. 

محبت کا مقدمہ

1

21.      

خوبصورت غریب

24

2. 

رضاۓالہی اور اطمینان قلب

2

22.      

ملاقات ڈائری سے

25

3. 

سچے رشتے ۔۔۔۔۔ جھوٹ کے محتاج

3

23.      

پاکیزہ دن

26

4. 

زندگی ( کاروبار ، قرضہ اور سود )

5

24.      

ہرے زخم

27

5. 

ماتحت

6

25.      

چلتے راستے

28

6. 

انسانی ضمیر

7

26.      

دہلیز

29

7. 

چند ستارے

8

27.      

مغرور خواب

30

8. 

بہتات میں محتاط رہو

9

28.      

پچھتاوا

31

9. 

دو بول پُر اثر ہیں یا بولنے والا

10

29.      

لعن طعن

32

10.      

معصوم موت

12

30.      

آسان مشکلیں

33

11.      

عادتیں کب چھوٹتی ہیں

13

31.      

قِلقاریاں

34

12.      

موقعوں کا متلاشی اور کامیابی

14

32.      

آدھی نیند

35

13.      

صاحب کچھ دے نا

15

33.      

بہترین

36

14.      

تقدیر کا لکھا

16

34.      

ڈر

37

15.      

بے عیب

17

35.      

تسلی

38

16.      

رخصتی

18

36.      

موت کے مرحلے

39

17.      

کچھ لوگ

19

37.      

ہمدردی

40

18.      

طبیب

20

38.      

دعائیں

41

19.      

 سیاہ شیشہ

21

39.      

مسکراتے اندیشے

42

20.      

ہم بے سہارا

23

40.      

رنگ

43

 

41.      

وِیمن ایمپاورمنٹ

44

59.      

آوازیں

62

42.      

مستقل رفتار

45

60.      

خالی دل

63

43.      

پذیرائی

46

61.      

تذکرے

64

44.      

پوشیدہ محبتیں

47

62.      

اجنبیت

65

That’s the end of the free sample

You have read 15% of سیاہی - Siyahi. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Zarish Iqbal earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 300

See all editions, reviews and details

سیاہی - Siyahi Buy — Rs 300