12% of the book — free to read

زندگی ایک کرونا
وقار احمد بخش

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢٢ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
*
مدیران
فریال زہرا
نرمین سرھیو
۔۔۔
سر ورق کے جملہ حقوق منیبہ جاوید کےنام محفوظ ہیں
انتساب
میرے بچپن کے دوست حاجی ظہور احمد تنولی مرحوم کے نام!
فہرست
ہم جمعے کے بابرکت دن اس دنیا میں رونق افروز ہوئے اور ہمارا نام وقار احمد بخش رکھا گیا۔ہم بچپن میں کلاس میں فرسٹ آیا کرتے تھے۔بہت پڑھنے والے بچے تھے۔پھر جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی، پڑھائی میں دلچسپی بھی ختم ہوتی گئی۔ہمارا بچپن سعودی عرب کے ساحلی شہر جدّہ میں گزرا۔لڑکپن میں انگلستان چلے گئے اور پھر جیسے ہی عمر ڈھلنے لگی، شادی کرنے واپس پاکستان آ گئے۔شادی تو نہ ہو سکی، لیکن الله پاک کی رضا سے ہم رائیٹر بن گئے۔نتیجتاً اب شادی ہونے کے امکانات مزید کم ہوتے نظر آرہے ہیں۔
کہانیاں سنانے کا شوق ہمیں شروع سے ہی تھا، لیکن اس بات کا بھی احساس تھا کہ مصنف حضرات اکثر مفلسی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ہمارے چاچو ہمیں اکثر منٹو صاحب کی مثال دیا کرتے تھے۔چنانچہ ہم نے قصہ گوئی اور ادب کو خیر آباد کہہ دیا اور فکرِ معاش میں لگ گئے۔کہا جاتا ہے کہ انسان کی فطرت بدلنا نا ممکن ہوتا ہے۔سچ ہے یا جھوٹ، یہ تو ہم نہیں جانتے، لیکن ہزار کوششوں کے باوجود ہمارے اندر کا قصہ گو مر نہ سکا۔
اپنے گھر(جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں)ہم دودھ دینے والی بھینسیں اور گائیں پالتےرہے۔انٹرنیٹ اور بجلی کی قلت کی وجہ سے اکثر وقت کتابیں پڑھنے میں گزرتا رہا۔زندگی کی گاڑی اسی طرح سست رفتار سے چل رہی تھی کہ یکدم کرونا کی آفت نازل ہو گئی۔ہر جگہ لاک ڈاون لگ گئے۔اس دوران ہم نے اپنے پاس پڑی کتابیں بھی پڑھ ڈالیں۔اب کیا کریں؟
کہا جاتا ہے کہ ان دنوں اکثر لوگوں نےہمیں ماسک پہنے اپنی گائے اور بھینسوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا۔پڑوسیوں میں سے کچھ نے کرونا کو ذمہ دار ٹھہرایا اور باقیوں نے اماں ابا کو ہماری شادی کروانے کا مشوره دیا۔وقت کے ساتھ ہماری حالت مزید بگڑتی گئی۔کچھ دنوں بعد تو ہم نے علاقے کے پرندوں سے بھی گپ شپ لگانی شروع کر دی۔
آخر ایک دن ہمیں ڈاک میں ایک کاپی اور ایک قلم ملا۔بھیجنے والے کا پتا آج تک نہ چل سکا۔کوئی کہتا ہے کہ علاقے کے کوے شاید ہم سے تنگ آچکے تھے، اور کوئی ڈاک خانے والوں کو قصور وار ٹھہراتا ہے۔المختصر، وقت اسی طرح گزرتا گیا اور ہم اسی طرح اپنے کام میں لگے رہے۔پھر ایک دن بجلی اور انٹرنیٹ کی غیر موجودگی میں، وقت گزارنے کی غرض سے ہم نے ایک کاغذ پر ایک چھوٹی سی کہانی لکھ دی۔اگرچہ وہ اتنی قابلِ ذکر کہانی نہیں، لیکن اسے لکھنے کےبعد یکدم ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی بوجھ ہلکا ہو گیاہو۔ایسا محسوس ہوا جیسے طویل عرصے کی قبض کے بعد افاقہ ہوا ہو۔
تو یوں ہم نے پہلی کہانی لکھی، پھر دوسری اور پھر لکھتے ہی چلے گئے۔اس طرح ان بیچارے پرندوں، بھینسوں اور گایوں کی جان چھٹی اور یہ افسانوں کا مجموعہ وجود میں آیا۔
خیر فکرِ معاش چھوڑیے، یہ سب گردشِ زمانہ ہے۔اب ہم نے اس کی ٹینشن لینی چھوڑ دی ہے۔ امید کرتےہیں کہ آپ کو یہ مختصر سی کتاب پسند آئے گی۔آپ سے بس چھوٹی سی یہی گزارش ہے کہ صدقِ دل سے ہماری شادی کی دعا کر دیں۔ازل تک آپ کے شکر گزار رہیں گے۔
وقار احمد بخش
Contact: +92-306-040-1806, +92-333-6254-044
ان دنوں سب لوگ کرونا سے ڈرے ہوئےتھے۔ہر طرح کے تبصرے کیے جا رہے تھے۔کبھی واٹس ایپ گروپ پر میری خالہ سب کو سنا مکی کا ماہرانہ مشورہ دیتیں تو کبھی میرے چاچو اسے یہودی سازش قرار دیتے۔
میرے بڑے بھائی ان کو دلائل دے کر ان کی اصلاح کی کوشش کرتے اور احتیاط کی تلقین کرتے۔لیکن میرے چاچو کی استقامت(ضد)بھی قابلِ دید تھی۔ہرثبوت اور دلیل کے باوجود وہ اپنے سازشی موقف پر قائم رہے۔چونکہ تمام گھر والوں نے تنگ آ کران سے بحث کرنا چھوڑدی تھی چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ان کا موقف سو فیصد درست تھا۔
انھی دنوں میرے گھر والوں نے میرے بڑے بھائی کی شادی کے بعد مجھے چھت والے کمرے میں شفٹ کروایا تھا۔بڑی گرمی تھی اس کمرے میں۔تپتی دھوپ میں وہ کمرہ تپ کر تندور بن جاتا اور میں وہاں سڑی ہوئی روٹی کی طرح بیٹھ کر مونچھوں کوتاؤ دیتا رہتا۔
بڑے دنوں کی آہ و فریاد کے بعد امی کو نیچے والی بیٹھک کے لیے راضی کیا۔واپس نیچے شفٹ ہونے پر میں بہت خوش تھا۔پھر ایک دن صبح صبح مجھے کسی کے گنگنانے کی آوازآئی۔
You have read 12% of زندگی ایک کورونا - Zindagi Aik Corona. The full e-book picks up right where this stopped.