Check out our most recent publications
قصہ بابا بِگو - Qissa Baba Bigu - karbala book
Free sample · no sign-up

قصہ بابا بِگو - Qissa Baba Bigu - karbala book

by Zahra Nauman

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

قصہ بابا بگو

(بابا کی باتیں کرو)

--- 

زہرہ نعمان

 

داستان پبلشرز

 

*

کمپوزنگ

دیا خان بلوچ

قدسیہ حذیفہ جمالیؔ

فریال زہرا

نرمین سرھیو

 

مدیران

نرمین سرھیو

قدسیہ حذیفہ جمالیؔ

ـــــ

سرورق کے جملہ حقوق مصنفہ کے نام محفوظ ہیں

 

نوٹ: داستان کی طرف سے شائع ہونے والی کتب میں مدیران و منتظمین کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔کسی مماثلت، مخاصمت یا (سخت بات وغیرہ) کی صورت میں مصنف خود ذمہ دار ہوں گے۔

 

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ 

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

مطبع: پکسلز پرنٹنگ

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 *** 

 

انتساب

فلسطین اور کشمیر کی عورتوں کی چادروں کے نام۔۔۔

اِس معاشرے میں موجود کمزور مردوں کی محرم عورتوں کی چادروں کے نام۔۔۔

اے ہمارے وارث۔۔۔

ہمارے والی اللہ۔۔۔!

ہم سر پر چادریں رکھنے والی عورتوں کے محافظ آپ بننا۔آمین۔۔۔!!

 

دیباچہ

پانچ سال پہلے جب میں نے یہ کہانی لکھی تو مقصد یہ تھا کہ دنیا کو حسین ﷛ کی کہانی معلوم ہو اور دنیا کو محبت ہوجائے حسین﷛ سے۔لیکن آج جب یہ کہانی آپ لوگوں کے پاس پہنچے گی تو مقصد ہوگا کہ کوئی حسین یہاں کیوں نہیں؟

 ماؤں نے پیدا نہیں کیے؟باپ نے بہادری نہیں سکھائی؟ یا نانا نے دین کی کہانیاں نہیں سنائیں؟

ہم مائیں اپنی اولاد کو نماز پڑھنا نہیں سکھاتیں، جہاد کرنا کیا سکھائیں گی؟

کلمہ سکھا دیا، بس کہانی ختم۔

نہیں!

کلمہ کے بعد کہانی ایک بار پھر سے شروع کرنی ہے۔

کیوں آپ کھانا بناتے یا صفائی کرتے وقت ساتھ ساتھ اپنےبچوں کو اسد اللہ کی کہانیاں نہیں سناتیں؟

غازی علم الدین شہید، صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، علی بن ابن طالب، حسین ابن علی صرف پیدا نہیں کیے تھے کسی ماں نے۔۔۔بنائے تھے۔۔۔تیار کیے تھے۔

 اللہ نے اشرف المخلوقات کس لیے بنایا انسان کو کچھ سوچو کچھ کرو!

کفار کی قید میں وہ بہنیں، بیٹیاں ان کی سسکیاں آپ کو رات میں سونے کیسے دیتی ہیں؟ آپ کے حلق سے نوالے کیسے اُترتے ہیں؟

 معصوم بچوں کو خون میں نہایا ہوا دیکھ کریا صرف آپ ملبوں پر بیٹھے ان لوگوں کو دیکھ کر کہتے ہیں اللہ ”شکر“ ہمیں محفوظ چھت دی، یہ کہنے سے آپ اچھے اور نیک مسلمان اور انسا ن بن جاتے ہیں؟

ان زیادتی کا شکار ہوئی بچیوں اور بچوں کا سُن کر کہتے ہیں، ”شکر پروردگارہمارا بچہ نہیں تھا۔“

جب یونیورسٹی کی لڑکیوں کے اسکینڈلز کی کہانیاں بیٹا آ کر ہنس ہنس کر ماں کو سناتا ہے ماں روکتی ٹوکتی کیوں نہیں؟

آپ اپنے بیٹوں کو جنگ کے میدان میں نہیں بھیج سکتیں کم از کم اتنا تو سِکھا ہی سکتی ہیں اپنے بیٹوں کو کہ راہ چلتی کسی لڑکی کو اگر سیٹی بجا کر چھیڑے یا ہاتھ بڑھا کر روکے تو آپ کا بیٹا اپنی شرافت کا ثبوت ایسے نہ دے کہ سر جھکا کر قریب سے گزر جائے۔

حسینی بن جائیں!سر کٹ جائے لیکن کلمہ حق بلند رہے۔حق بات کیا ہوتی ہے؛ وہی جو قرآن و حدیث نے ہمیں سکھائی۔اذیت دینے والا، ظلم کرنے والا، ذلیل کرنے والا ہمیشہ یزیدی ہی رہے گا۔دین میں نئی بات نکالنے والا، جبراً اسےمنوانے والاہمیشہ یزید ہو گا۔ظلم سے روکنے والا، بدعت کوروکنے والا ہمیشہ حسینی رہے گا۔

جب دہشت گردوں کا گروہ بن سکتا ہے تو حسینیوں کا کیوں نہیں؟کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی؟ مسلمان بہن بیٹیوں کے سروں سے چادریں کھینچنے والوں کا کوئی ہاتھ کیوں نہیں کاٹتا؟

شوق شوق میں تو ہم اپنے بچوں کو بہت کچھ سکھاتے ہیں، کیوں بچوں کو گھڑ سواری، تیر اندازی، تیراکی، بندوق چلانا، جہاد کے لیے نہیں سکھایا جاتا؟اور فرق رکھیں جہاد اور فساد میں۔کیوں گلی محلے کی بیٹیوں کی حفاظت نہیں کرتے؟

 کیوں جب کوئی یزیدی کسی گھر سے عورت کے سر سے چادر اُتار کر اُسے باہر نکالتا ہے تم کوفی اور شامی بن کر تماشا دیکھتے ہو؟

 کیوں غیرت نہیں جاگتی تمہاری جب کوئی اللہ کے کلام کا مذاق اُڑاتا ہے ( کسی بھی صورت میں)

اللہ آپ کے بیٹوں۔۔۔عبداللہ، عمر، ولی، سجاد، جواد، عبد الرحمان، طلحہ، وصی، علی اور میرے بیٹے محمد حیدر علی سمیت سب کو غیرت والا اور متقی بنائیں۔آمین۔۔۔!!!

زہرہ

Zahra.nauman1@gmail.com

 

نوحہ

کربلا کیا تھی

لعینوں کی شقاوت کیا تھی

سوچ انسان کہ سادات کی غربت کیا تھی۔۔۔!!

عید گزری ہے ابھی یعنی کہ عیدِ قرباں

آپ نے پورا کیا ہو گا یہ رُکنِ ایماں

چند شرائط ہیں ذبیحہ کی برائے انساں

شرطِ اول ہے کہ کم سن نہ ہو، بیمار نہ ہو

اور بھوکا نہ ہو، پانی کا طلب گار نہ ہو

روبرو سامنے حیوان کے حیوان نہ ہو

وقتِ ذبح وہ گھڑی بھر کو پریشان نہ ہو

شرط یہ بھی ہے چھری بھی نہ دکھاؤ اسے

ذبح سے پہلے قضاء سے نہ ڈراؤ اسے

ہو چھُری، تیز مگر ہاتھ ہو نرمی سے رواں

ایک ہی وار میں ہو جائے ذبیحہ قرباں

شرط دوئم تھی کہ حیواں نہ ہو بھوکا پیاسا

اور ہفتوں سے تھے سادات بِنا آب و غذا۔۔۔

حلق تر کرتے ہیں قصاب بھی قربانی کا

اور بہتّر کو دم ِذبح بھی پانی نہ ملا

جلتی ریتی پہ کہیں اکبرو عباس گرے

اور کہیں عون و محمد کہیں قاسم تھے پڑے

ذبح حیواں کا نہیں حکم ہے حیوان کے حضور

یہاں نہ شبیر سے زینب نہ سکینہ تھی دور

شاہ ان کو وہ سوے شاہ امم دیکھتے تھے

ذبح ہوتے تھے حسین اہلِ حرم دیکھتے تھے

منع دکھلانا چھری کا ہے پہ(پئے) قربانی

یہاں تھا نو لاکھ کے نرغے میں علی کا جانی

اب جگر تھام کے مومنوں یہ حال سنو۔۔۔!!

لو ذرا مقتلِ شبیر کا احوال سنو

ہائے حیواں کی دم ذبح شرائط اتنی

اور جس گھر سے منسوب ہوئی یہ قربانی

اسکی اولاد کی مقتل میں یہ توقیر ہوئی

ایک بھی شرط ذبیحے کی نبھائی نہ گئی

شرط اول تھی کہ کم سن نہ ہو دندان بھی ہو

دودھ پیتا نہ ہو مر جانے کے امکان نہ ہو

تمہیں اب مادرِ اصغر کی قسم اہلِ عزا۔۔۔!!

قتل اصغر جو ہوئے سوچیے وہ کیا سِن تھا

تیسرا فاقہ تھا، چھ ماہ کا سِن واویلا!

ایک بھی دانت نہ نکلا تھا علی اصغر کا

ایک بالشت کا کُرتا تھا علی اصغر کا

دودھ پینا بھی نہ چھوٹا تھا علی اصغر کا

پہلا کمسن تھا جو ذبح نہیں نحر ہوا

تیر سہ پہلو سے معصوم کو بھی مار دیا

اپنے رُتبے کا کسی کو نہ شناسا دیکھا

دیکھا پیاسے نے جسے خون کا پیاسا دیکھا

آخری شرط چھری تیز ہو نرمی سے رواں

تا کہ تڑپے نہ اذیت سے ذرا بھی حیواں

آخری سجدہ اُدھر کرنے لگے شاہ خدا

کند کرتاہوا خنجر کو ادھر شمر چلا

تیرہ ضربوں سے سرِ سیدِ والا کاٹا

اور مظلوم ہر اک ضرب پر دیتا تھا صدا

ضرب پر ضرب لگی کہتے تھے اماں !اماں!

ضربِ آخر پر کہا۔۔۔

میرے عباس۔۔۔میرے عباس۔۔۔

کہاں ہو۔۔۔؟

(نوحہ؛ ندیم سرور)

 

O’ my father

If it is necessary to go

Make a promise to me

When darkness spread of night

And you listen to my cry

Come back father

Where should I look father?

Where in this desert are you

Come close father

Give me your love and affection

For the sake of your daughter

Am I not your daughter?

Am I not priceless gem?

Am I not the light of your eyes?

Or, am I not a fellow traveler

If you go, you shall not find me when you return

 

اے میرے بابا

لازم ہے اگر جانا

ایک وعدہ کر لو مجھ سے

جب رات کی تاریکی چھا جائے

اور میری صدا سنو

واپس آجاؤ بابا

کہاں ڈھونڈوں بابا

تمہیں اس دشت میں بابا

نزدیک آجاؤ بابا

ازراہِ وفا مجھے دے دو

بیٹی کے لیے

کیا میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں

کیا میں یکتا گوہر نہیں ہوں

کیا میں نورِ نظر نہیں ہوں

یا، ہمسفر نہیں ہوں

اگر گئے تو، واپسی پر مجھے نہ پاؤ گے

 

(نوحہ علی جی)

 

فہرست

پہلا باب... 15

دوسرا باب... 147

تیسرا باب... 285

چوتھا باب... 377

پانچواں باب... 541

چھٹا باب... 702

ساتواں باب... 797

آٹھواں باب... 910

تعارفِ مصنفہ...... 1029

 

پہلا باب

اتنے سالوں پہلے جو گہرا زخم اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے میں نے سیا تھا۔جو ابھی مندمل نہ ہوسکا تھا، جس کا درد اب تک کم نہ ہوا تھا۔

وہ زخم آج پھر کسی نے بہت بے دردی، بے رحمی اورسفاکی سے اُدھیڑ دیا۔خون رسنے لگا ہے، بہت درد ہورہا ہے۔پرانے زخم جیسے کاٹ کھانے کو آگئے۔۔۔اُف یہ گھبراہٹ، اندھیرا، گھٹن۔۔۔

٭٭٭

”ایک بات کہوں، جب کسی کودرد ہو۔۔کسی بھی قسم کا؛ ذہنی، جسمانی۔۔۔تو ایک کام کرنا؛کربلا کو یاد کرلینا۔۔کوئی غم، غم نہیں لگے گا اورکوئی درد، درد نہیں محسوس ہوگا۔“

”سچ کہہ رہے ہو نا؟“

”جھوٹ تو میں بولتا نہیں۔“

٭٭٭

”ٹھیک کہا تھا تم نے، کربلا پر آنسو بہاؤ تو اپنا غم تو غم لگتا ہی نہیں۔“

تم کتنے اچھے تھے نا۔۔۔تم کتنے سچے تھے نا!

 

میرا دعویٰ ہے اُجڑ سکتا نہیں
کربلا دِل میں بسا کر دیکھنا

”میں دنیا کو زیادہ جانتا نہیں، نہ ہی دنیا کو قریب سے دیکھ رکھا ہے، بس اتنا معلوم ہے یہ دنیا آپ کو کبھی بھی، کہیں بھی، کسی بھی حال میں جینے نہیں دیتی۔“

”پری!“ نظریں اُٹھا کر اُس نےخود پر جھکی پری کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے اُس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی، وہ اپنے بیڈ پر لیٹا تھا، پری سرہانے بیٹھی تھی۔

”جی۔“ جھک کر ماتھا چوما، اور پھر سر اُٹھایا مسکراتے ہوئے۔

”آپ مسکراتی کیوں ہو؟“آواز سامنے سے آئی اُس حسین پری نے سر اُٹھاکر دیکھا وہ راکنگ چیئر پر جھول رہا تھا۔بڑی آنکھیں بند تھیں، ایسے جیسے سو رہا ہو، لیکن مسکرا تا ہوا۔اُن سب کو عادت تھی مسکرانے کی، کیونکہ پری کو تھی اور پری کو کیوں تھی؟

”آپ کو معلوم ہے، آپ کو معلوم ہے۔اپنے بالوں سے انگلیاں نکالتےہوئے وہ دائیں طرف مڑی اور آہستہ سے بستر اُتر ی۔پھر دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی اس خوبصوت انسان کے پاس آئی جس سے اُسے محبت تھی۔

”میں کیوں مسکراتی ہوں؟“ وہ اُس کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی، چیئر ہلنا بند ہوگئی، اب کے وہ اُس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔اُس نے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں، پیار سے خوب صورت پری کو دیکھا۔

”آپ بہت حسین ہو۔“ وہ مسکراتی رہی خوب صورتی سے، نرمی سے۔

”اور آپ۔۔۔“ وہ جھکی اور ماتھے پر بہت عقیدت اور و احترام سے بوسہ دیا، وہ پیار سے مسکرادیا۔”میری جان ہو۔“ خوب صورت پری سیدھی ہوئی۔

”پری!“ خفگی بھری پکارپر وہ مڑی۔

”کیا ہوا بچے؟“ بائیس سالہ بچے نے خفگی سے دیکھا ”میں جان ہوں آپ کی“ کتنی پیاری آنکھیں لگ رہی تھیں نا اُس کی، بڑی، گلابی ڈوروں والی۔

”آہ!“ایک کشن آکر گرا اُس کی گود میں۔

خفا نظریں اُٹھا کر سامنے دیکھاتوصوفے کے دائیں طرف ایک پاؤں اوپر ایک نیچے رکھے بالکل اُسی کی طرح خفا نظریں لیے دیکھ رہا تھا۔

”میں جان ہوں۔“وہ ٹھیک سے بول بھی نہ پایا تھا کہ کمر میں پین کا کونہ چبھا

”اوئی ماں۔“گردن گھما ئے بغیر اُن شرارتی معصوم آنکھوں کو دیکھا جو اُسے دیکھ رہی تھیں۔

”میں جان ہوں پری کی۔“ سینہ پر ہاتھ رکھ کر زور سے دُہرایاجیسے سب کو یا د کروا یا ہو۔ہاں بالکل جیسے یاد کروا یا ہو، سب بھول جاتے تھے؛ وہ سب، پری اور وہ خود بھی۔

”کیوں پری۔“ ایک مان سے گردن اُٹھا کر دیکھا۔بستر پر لیٹے وجود کی آنکھ میں مزید خفگی اُبھری۔

”تو میں کیا ہوں؟“بڑی خوب صورت چمکیلی آنکھوں والے کے لب ہلے۔

”میرا شیر جوان۔“پری نےاُس کی طرف دیکھ کر کہا۔وہ کھلکھلا اُٹھا۔”معلوم ہے۔“

”میں کیا ہوں؟“شرارتی آنکھوں والے نے سوال کیا۔

 ”میرے جگر کا ٹکڑا۔“ شرمیلی صابر آنکھیں اُٹھیں، صرف آنکھیں، لب نہیں ہلے۔وہ جانتے تھے حسین پری آنکھوں سے پڑھ لے گی، جان لے گی۔

”میرا مان ہو تم۔“

”ہاہ“ معصوم لب اور آنکھوں والی خوب صورت پری دھیرے سے قدم اُٹھاتی اُس کے قریب گئی۔عقیدت سے ماتھ پر پڑے بال چومے۔”میرے جگر کا ٹکڑا، میر اشیر جوان، میرا مان۔“اور جگر کے ٹکڑے، مان، شیر جوان کی آنکھوں میں پیاربھری خفگی اُبھری۔

”میری زندگی، میرا سب کچھ۔“ وہ اب اُس کا ہاتھ چوم رہی تھی۔زندگی سے بھر پور، ہلکا سا قہقہ بڑی خوبصورتی سے اُبھرا۔مسکراتے ہوئے معصوم آنکھوں سے سب کو دیکھا۔

”آج تو لکھ لو سب۔“ اُس نے بہت مزے سے کہا۔اتنے ہی مزے سے نظر انداز کر دیا گیا۔وہ مایوس نہیں ہوا کیونکہ مایوسی تو کفر ہےاور وہ بڑا پیارا مسلمان تھا۔

”سن لو۔۔۔“ کان کی طرف اشارہ کیا، ”لکھ لو۔۔۔“ پین ہوا میں اُچھالا، ”جان لو سب“ مسکرایا۔”میثم عبا س میں سب کچھ ہے۔“

٭٭٭

”تم ہار گئے علی حیدر، تم ہار گئے۔علی رضا تمہاری زندگی تھا مگر اب علی رضا تمہاری موت ہے۔“

”ابھی ہار جیت کا فیصلہ نہیں ہوا؛ گیم آن ہے اوریہ گیم تب تک آن رہے گی جب تک علی حیدر زندہ ہے۔“ وہ خشک لہجے میں کہہ رہا تھا۔

”تمہیں معلوم ہوگا علی رضا، کسی بھی لڑائی میں ہارتا وہ نہیں جو گرتا ہے، بلکہ ہارتا وہ ہے جو گر کر اُٹھتا نہیں۔تم نے مجھے گرا کرسمجھ لیا میں ہار گیا! میں واپس اُٹھ نہیں سکتا! اوں ہوں۔“ اُس نےنفی میں سر ہلایا۔

علی رضا اُسےدیکھتا رہا، جاندار مسکراہٹ، گہری مسکراہٹ کے ساتھ۔

”اب وقت آگیا ہے۔۔۔وقت آگیا ہے علی رضا، گر کر اُٹھے کا وقت آگیا ہےاور علی حیدر اُٹھ چکا ہے۔“

٭٭٭

”پری، حُسین کون تھے؟“ سر اُٹھا کر معصومیت بھری آنکھوں سے سوال کیا۔

”ڈفر! اتنا بھی نہیں پتا آپ کو۔“ بڑے سنجیدہ طریقے سے ماتھے پرہاتھ مار کر، چڑتے ہوئے کہا تھا، مگر پری نہیں کسی اور نے۔”امام تھے۔“

معصوم آنکھوں میں خفگی اُبھری( آپ سے پوچھا کسی نے)۔

”شاہ ِ کربلا تھے۔“ مسکراتے چہرے اور آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے پری کے لب ہلے۔

”اوئی ماں۔“مسکراتی آنکھوں میں ہلکا میٹھاسا درد اُبھرا۔اُس کی خوب صورت پیشانی سے کچھ ٹکرا کر نیچے گرا تھا۔مسکراتے ہوئے سر جھکایا اور دیکھا۔

”اوہ قلم۔۔۔قلم کی عزت کرتے ہیں نہ کہ اُس سے دوسروں کو بے عزت۔“ اُس نے کہا تھا۔

”حسین شاہ ِ شہیداں تھے۔“ صابر شاکر مسکراتی نظروں والے زیرک عباس نے کہا۔

”کون صحیح ہے پری؟“ مسکراتی سوالیہ نظریں تھیں سب کی پری پر جمی ہوئی۔حسین پری نے مسکراتے ہوئے اپنے چاروں شہزادوں کو دیکھا۔

وہ سامنے کونے میں، بالکل کونے میں صابر و شاکر، تھوڑا ڈرپوک، ذرا شرمیلا زیرک عباس تھا۔بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے، خفا نظریں، شرارتی آنکھوں والا کرار حیدر اور راکنگ چیئر پر جھولتا گہری سنجیدہ آنکھیں لیے زریاب حیدرتھا۔

اور پھر پری نے گردن موڑ کر پاس بیٹھے معصوم آنکھوں والے میثم عباس کو دیکھا۔

 اُس کا دعویٰ تھا محبت ہے اُسے سب سے اور پھر اُس کا دل خود ہی اُس سے کہتا تھا، ”تمہارا دِل تو سب کے لیے ایک سا ہے پری، اِن چاروں میں سب سے زیادہ محبت کس سے تھی اُسے۔۔۔چار نہیں ایک اور بھی تھا، محمد ساحر فاروق؛ خود کی طرف کھینچنے والا، کشش والا، مگر یہ کیسا کشش والا تھا جو خود کی طرف کھینچنے کے بجائے اُن سب کی طرف کھنچتا چلا جاتا تھا۔“

وہ چھوٹا تھا تو ضدی تھا، خود سر اور شاید بد تمیز کہنا بے جا نہ ہوگا۔وہ غصیلا تھا، ماتھے کو سکیڑے رکھنا بہت پسند تھا اُسے اِسی لیے جوان ہوتے ہوئے یہ غصہ اپنی خوب صورت نشانی دے گیا؛ ماتھے پر تین لکیریں۔گھنی بھنوؤں کے درمیان دو گہری مگر چھوٹی لکیریں خوب جچتی تھیں۔اُس پر کالی گھنی سیاہ مونچھیں، کاندھوں تک آتے بال، اُس کے بہت روپ تھے۔کس کس کو، کون کون جانے؟ کوئی نہیں جانتا تھا اُسے، کوئی جان ہی نہیں سکا۔۔۔وہ کسی کو بھی خو د تک رسائی حاصل نہ کرنے دیتا۔خود بھی ڈرتا تھا کہ اُس کی کوئی محرومی نہ سامنے آجائے۔ماں باپ اُس پر توجہ نہیں دیتے تھےاور وہ یہاں سے محبتیں لینے آجاتا تھا۔

کیسے اپنے غرور کو پاش ہونے دے، کیسے اپنا کوئی راز فاش ہونے دے، وہ ساحر فاروق تھا۔بظاہر مردانہ وجاہت کا شاہکاروہ حسین تھا یا نہیں، معلوم نہیں۔صرف دکھنے کے لحاظ سےپکے رنگ کا پکا مشرقی مرد۔اُسے بہت عزیز تھااپنا آپ سب کی نظرمیں مگراُسے عزیز تھےوہ سب اپنی نظر میں۔وہ عاشق تھا سچا والا، پکا والا۔اُسے خوب صورتی سے عشق تھا، خوب صورت لوگوں سےخوب صورت چیزوں سے اور یہی خوبصورتی اُن کے نزدیک لے گئی اُسے۔۔۔وہ خوب صور ت تھے نا!

وہ 'میں خود' کا راگ الاپنے والا بچہ تھا۔سا حر کو کھانا کھلاؤں گی 'میں خود' ساحر کو نہلاؤں گی'میں خود' ساحر کو چلنا سکھاؤں گی 'میں خود۔نو ماہ کی عمر میں اُس نے چلنا شروع کیا بنا کسی سہارے کے 'خود' ہی۔وہ اگر کہتا 'میں خود' تو کرکے دکھاتا۔پانچ سال کی عمر تک اُس نے شاید ہی 'میں خود' کے علاوہ کوئی لفظ منہ سے نکالا ہو۔وہ پورے پانچ سال کا ہو چکا تو کسےمعلوم تھا ساحر فاروق کی دنیا بدلنے والی ہے، خوب صورت ہونے والی ہے!

 وہ نینی کے ساتھ پارک گیا تھا اُسے نظر آگیا وہ جس سے عشق تھا۔معصوم آنکھوں والا، اُس کی ٹھوڑی میں ایک خوب صورت سا گڑھا تھا جو دیکھتا کھنچتا چلا جاتا۔اُس کے ساتھ تھاسنجیدہ، سمجھدار آنکھوں والاجس کی دائیں آنکھ کے نزدیک ایک تل تھااور پھر وہ بالکل ایک ساتھ کھڑے مسکرا رہے تھے۔صابر آنکھوں والا اور شرارتی خوب صورت سا بچہ، ایک موٹا گپلا سا، لٹکتے گال۔دوسرا پتلا لمبا کچھ مشترک تھا۔غور سے دیکھو تو ہاں وہ بالکل ایک جیسے تھے۔ایک جیسےنقش، ایک ساقد ایک سی مسکراہٹ، ہاں آنکھوں کا رنگ جُدا تھا!

پانچ سالہ ساحر فاروق اُن کی آنکھوں کے بدلتے رنگوں کو پہچان گیا تھا۔مطلب وہ اُنہی میں سے تھا۔۔۔نہیں! بالکل نہیں! وہ وہی تھا، وہ اُن کی آنکھوں کی زبان سمجھتا تھا اور آنکھوں کو تو صرف اپنے ہی پڑھ پاتے ہیں نا!

ساحر فاروق کی آنکھیں بولتی نہیں تھیں وہ لاکھ کوشش کرلیتا۔اُسے نفرت ہونے لگی اپنی کالی آنکھوں سے۔کسی کو بھی سمجھ نہ آتی، انہوں نےساری زندگی کیسے اکٹھی گزارلی۔ایسا کیا تھا کیوں تھا کہ وہ سب سراپا محبت تھے اورساحر فاروق سراپا نفرت؟

”کون ٹھیک ہے پری؟“مسکراتی سوالیہ گہری نظریں اُٹھیں۔

”سب غلط۔“خفا، شرارتی، معصوم، صابر آنکھیں ایک ہی حسین چہر ے پر تھیں۔مسکراتی آنکھیں، مسکراتے لب، اور اُن کے مسکراتے چہرے۔

”وہ اپنے نانا کے نواسے تھے۔“ پری کی آنکھیں مسکراتی رہیں۔

”بالکل ٹھیک کہا آپ نے“ سب نے سر ہلایا تھا، ”لیکن غلط تو ہم نے بھی نہیں کہا۔“

”پتا ہے پری“ معصوم آنکھیں اُس کے قریب آرہی تھیں، اُس کے دِل کو یکدم قرار آنے لگا۔

”میرے پاس رہا کرو میثم عباس۔“ اُس کا دِل چلایا تھا، ”مجھے سکون ملتا ہے، نظروں سے اوجھل مت ہوا کروکچھ ہو جائے گا مجھے۔“ اُس نے آنکھیں موند لیں۔دِل کی حالت صرف لب تو نہیں بتاتے وہ سب تو آنکھیں ہی پڑھتے تھے۔وہیں سے سب جان جاتے تھےکیا جواب دے گی وہ اُسے جب باقی سب پوچھیں گے محبت کا دعویٰ توہم سے۔میثم عباس اُس کا سب کچھ تھا۔وہ قریب آکراُس کی بند آنکھوں کو چوم رہا تھا۔

”آپ جب کہتی ہیں نا، وہ اپنے نانا کے نواسےتھے۔“ وہ اُس کے پاس سے ہٹا، ”مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔“ پیچھے ہو کر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

”سب القاب سے زیادہ۔۔۔سب رشتوں سے زیادہ۔“ وہ مسکراتا جا رہا تھا اور کہتا جارہا تھا۔”یہ بہت اچھا لگتا ہے۔“

وہ بند آنکھوں سے دیکھ سکتی تھی وہ مسکرا رہا تھا۔پری کی پلکیں لرز رہی تھیں اور لب کپکپارہے تھےاور پھر اُسے صابر چمکدار، شرارتی آنکھوں کی چبھن محسوس ہوئی۔وہ اُسے دیکھ رہا تھا۔وہ شاید میثم عباس سے جیلس ہو رہا تھا، وہ جھٹ سے سیدھی ہوگئی۔اُس نے آنکھیں کھولیں اور مسکراتے ہوئےسب کو دیکھا اور وہ سب مسکرا دیے آہستہ سے۔

”آپ کو پتاہے حسین ایک شخص کا نام نہیں ہے۔حسین ایک شخصیت ہے۔“ وہ بچپن سے ہی اِسے بالکل خاموشی سے سنتے اور تائید کرتے تھے چاہے اُنہیں سمجھ آئے نہ آئے (بھلا! پری غلط ہو سکتی ہیں اور اُنہیں تو امام حسین سے محبت ہے نا۔بھلا جس سے محبت ہو اُس کے بارے میں کون غلط کہتا ہے؟ کوئی کہہ سکتا ہے؟ جی نہیں، بالکل بھی نہیں!) وہ سب یہی سوچا کرتے۔

”حسین ایک انسان نہیں حسین ساری انسانیت ہے! حسین ایک آدمی بھی نہیں، حسین آدمیت ہے۔حسین ایک ذہن نہیں، حسین ذہنیت ہے۔“وہ بولتی جاتی تھی اور سب عقیدت سے اور احترام سے سنتے جاتے تھے۔

”حسین انتہا ہےدین کی، حسین عشق ہےساری انسانیت کا۔حسین پہچان ہےآلِ عمران کی حسین قائد اعظم ہےاسلام کا۔“

”حسین کون ہے معلوم ہے؟“ وہ ہمیشہ اُن سے ایسے ہی پوچھا کرتی۔

”ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے خواب کی تعبیر ہے حسین۔ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں نے جو عبادت کی، عبادت میں دعا مانگی؛ اُس دعا کی تاثیر ہے حسین۔“

”بتاؤں کون ہیں حسین؟“ وہ مسکراتے ہوئے اُن سے پوچھتی، وہ سب اُس کے ارد گرد بیٹھ جاتے، حسین کا نام لے کر تو وہ گھنٹوں بول سکتی تھی اور وہ سب اپنی پری کو گھنٹوں سُن سکتے تھے۔

”معلوم ہے تم لوگوں کو محمدﷺ قرآن ہیں۔۔بولتا ہوا قرآن۔۔۔اور اس قرآن کی تفسیر ہیں حسین۔“ وہ سب اتنا مسکرائے کہ اُن کے سفید دانت نظر آئے۔”بتاؤں کون ہیں حسینؓ؟“ وہ جانتے تھے وہ اُن سے سوال نہیں کرتی بتاتی ہے۔”اللہ خالق ہے، حسین مخلوق ہے۔اللہ رازق ہے، حسین مر ذوق ہے۔اللہ معبودہے، حسین عبد ہے۔اللہ مسجود ہے، حسین ساجد ہے!“

”خالق ہیں اللہ تعالیٰ، خالق ہونے میں کوئی ثانی نہیں، کوئی شریک نہیں۔اللہ کی کوئی مثال نہیں۔خالق اللہ تعالیٰ ہیں، صرف اللہ۔۔۔صرف ایک اللہ۔۔۔ایک خالق! ایسے ہی مخلوق میں حسین بھی صرف ایک ہیں۔۔۔صرف ایک!“ وہ اِسی طرح حسین پر گھنٹوں بولتی رہتی بہت محبت سے، مسکراتے ہوئے۔

”جس کا حسن کبھی فانی نہ ہو۔۔۔اُسے حسین کہتے ہیں۔“ 

”معلوم ہے اسلام اور حسین کا کیا رشتہ ہے؟“ اُن کے سر نفی میں ہلے تھے۔

”اسلام رسولﷺ کے سینے کے اندر پل رہا تھا!“ 

”اورحسین اپنے ناناﷺ کے سینے کے اوپر پل رہے تھے!“ 

”اتنا گہرا رشتہ۔۔۔“ وہ سب یک زبان ہو کر اپنی چمکدار آنکھوں کو خوب پھیلا کر بولے۔

”ہاں اتنا گہرا رشتہ۔آپ کو پتا ہے، اسلام اصل میں ہے کیا؟“

”کیا؟“ حیران نظریں سب نے بڑی کی تھیں اور حسین پری نے سب کو باری باری چوما تھا پیار، عقیدت اور احترام سے۔

”اسلام۔“ اُس کی مسکراہٹ بہت گہری تھی۔۔۔”اسلام تخلص ہے حسین کا۔“

”اسلام اور حسین میں فرق کیا ہے پری؟“ کرار حیدر نے ذرا سی شرمیلی پلکیں اُٹھائیں۔

”کوئی فرق نہیں ذرا بھی۔۔۔“ نفی میں گردن ہلائی۔”اسلام حسین ہے۔۔۔حسین اسلام ہے۔“ 

”رسول اللہﷺ کے منہ سے جو الفاظ نکلتے تھے۔۔۔وہ اسلام کی خوراک تھے اور آپﷺ کے منہ سے جو لعاب نکلتا تھا وہ حسین ؓ کی خوراک بنتا تھا!“

”اسلام اور حسین ایک ہی گھر میں اکھٹے پلے بڑھے۔“ وہ حسین پری سب کو دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولتی جارہی تھی۔

”پری“ معصوم آنکھیں اٹھیں، اُس نے اپنے ارد گرد بیٹھے بچوں کو دیکھا۔”جیسے ہم ایک ہی گھر میں پلے بڑھے ہیں جیسے ہم سب۔“ اُس نے پھر سے پوچھا۔پری نے سر ہلایا۔

”ایک دِن حضرت عمرؓ کے بیٹے عبداللہؓ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے“ پری نے اپنے بچوں کو دیکھا، وہ چمکدار آنکھیں لیے ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے دونوں ٹانگوں کو جوڑے آگے کی طرف جھک کر مسکراتے ہوئے اُسے بہت شوق سے سُن رہے تھے۔

”اتنے میں امام حسین ؓ آئے تو آپ ؓنے لوگوں سے پتا ہے کیا کہا؟“

”کیا کہا؟“ صابر آنکھوں میں اُلجھن اُبھری لب جھٹ سے بول اُٹھے۔

”حضرت عمرؓ نے کہا کہ، حسین اہلِ آسمان کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“

”کیوں؟“ شرارتی آنکھوں میں حیرانگی تھی۔”کیوں۔۔۔سب سے زیادہ پسند تھے؟“

”کیونکہ“ اُس نے ہلکے سے اُس کے بال بکھیرے۔”وہ حسین تھے۔“

”حسین تھے۔“ اُس نے معصوم آنکھیں بڑی کر کے پھیلا کر پوچھا، ”اس لیے پسند تھے۔“ سر ہلایا۔

”تو آپ میرا نام حسین رکھتی نا“ جھٹ سے کہا جیسے کوئی اور نہ کہہ دے۔

”آپ کا کیوں؟“ چمکدار، خفگی بھری آنکھیں۔”میرا رکھتیں۔“

”میں بڑا ہوں آپ سے پورے تین منٹ۔“ صابر آنکھیں خفا ہوئیں۔”میرا حق زیادہ بنتا ہے مجھے حسین ہونا چاہیے تھا۔“

”میں اچھا ہوں، سب سے اچھا، مجھے ہونا چاہیے تھا۔“

اچھا ہونے سے بڑا ہونے سے، پیارا ہونے سے کوئی حسین نہیں بن جاتا۔۔۔حسین تو بس حسین ہے۔وہ سب آپس میں بحث کرنے لگے۔

نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہے
خدا کے دیں کا ناخدا ہر ابتداء کی ابتداء
کرم کی انتہا حسین ہے‘ کیا حسین ہے
کرے جو کوئی ہمسری کسی کی کیا مجال ہے
جہاں میں ہر لحاظ سے حسین بے مثال ہے

٭٭٭

سورج بڑی شان سے عین درمیان میں موجود تھا عین زوال کا وقت وہ گھا س پر بیٹھے آئسکریم کھا رہے تھے جو کہ آخری مراحل میں تھی شاید اِس لیے پگھل رہی تھی۔دور سے دیکھو تو چہرے سے مرے دکھائی دے رہے تھے بالکل، قریب آ کر دیکھو تو وہ لڑکے تھے؛ نئے نئے جوان ہوتے لڑکے۔دائیں طرف بیٹھے لڑکے کی ہلکی ہلکی کالی سیاہ داڑھی تھی۔بائیں طرف بیٹھے کی بھیگی نسیں جوان ہورہے تھے نا وہ!

اسکول یونیفارم میں ملبوس آئس کریم ختم کرکے کپ وہیں سائیڈ پر رکھ دیے۔قطار میں طریقے اور سلیقے سے کھڑے ہوئے، کالے بیگ اُٹھائے، جانے کیا تھا اُن میں شاید کتابیں ہوں کیوںکہ وہ اسکول یونیفارم میں تھے۔نظریں ارد گرد دوڑاتے آگے بڑھتے جا رہے تھے کہ پیچھے قدموں کی آواز اُبھری، پھر کسی کی باتوں کی آواز آئی۔

”تم بولو نہیں تم میں نے کہا نا تم۔“ 

وہ ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اُس کا ساتھی رکا پھر آہستہ سے پیچھے گھوما۔وہ دو لڑکیاں تھیں، اسکارف لپیٹے، دوپٹہ پھیلائے۔غور سے دونوں کو دیکھا۔

”میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں آپ دونوں ہمارا پیچھا کر رہی ہیں لوٹنا چاہتی ہیں یا مدد چاہیے۔“ وہ دونوں سپاٹ چہرہ لیے دیکھ رہے تھے۔لڑکیوں کے چہرے پر اطمینان تھا۔

”ہمیں لفٹ چاہیے۔“ وہ مسکرایا، ساتھی لڑکے کو دیکھا جو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا۔وہ مڑا۔

”آئیں۔“ سیدھا چلتا گیا، لڑکیاں بھی ساتھ ہی تھیں۔پارکنگ ایریا سے گاڑی نکالی۔دروازہ کھول کروہ اور اُس کا ساتھی بیٹھے۔پچھلے دونوں اطراف کے دروازے کھولے لڑکیاں بیٹھ گئیں۔

”کہاں جانا ہے؟“ سامنے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”پنڈی۔“ وہ مسکرایا۔گاڑی آگے بڑھا دی۔وہ دونوں خاموش بیٹھے سامنے دیکھتے رہے وہ لڑکیاں پیچھے فائلز رجسٹر پین اٹھائے کچھ ڈسکس کر نے لگیں۔

'جاب کرتی ہیں' بائیں طرف والے کے ذہن میں خیال اُبھرا۔

'یونی کی اسٹوڈنٹس' دائیں طرف سوچا گیا۔

گاڑی رکی تو سب ہوش میں آئے۔ڈرائیو کرتے لڑکے نے جیب سے کچھ نکالا۔کیا؟ والٹ تھا۔اُس میں سے کچھ نکالا پیچھے مڑا اور ہاتھ بڑھایا۔وہ دونوں دنگ رہ گئیں۔اُن کی اڑتی رنگت کتنا مزہ دے رہی تھی نا!

”یہ کیا ہے؟“ سرسرارتی آواز بے یقین لہجے میں پوچھا۔

”نظر نہیں آرہا۔“ ہمدردی سے کہا۔”غور سے دیکھیں نا!“ مفت مشورہ دیا اُس نے۔

غور سے دیکھنے کی ضروروت نہیں تھی نظر آرہا تھا وہ دو کڑ کڑاتے نئے نوٹ تھے دس بیس روپے کے۔

”یہ لیں۔“ آنکھ سے اشارہ کیا ”وہ سامنے۔۔۔ “ اُس نے انگلی سے اشارہ کیا، ”جہاں ذرا سا اوپر سرخ سی چیز (میٹرو بس) اُس میں بیٹھیں وہ پہنچادے گی پنڈی۔“ 

”چھوڑ کر نہیں آنا تھا تو بٹھایا کیوں؟“ اب کے لڑکی کی آواز میں غصہ تھا۔ ہاتھ سے پیسے کھینچے، چیزیں سمیٹیں، باہر نکلیں۔

”دیکھنا اب ٹھاہ کی آواز آئے گی۔“ اُس نے گردن سیدھی کرتے اپنے ساتھی لڑکے سے کہا۔آواز تو نہیں آئی سامنے جاتی وہ دونوں لڑکیاں ضرور نظر آئیں۔دونوں نے ساتھ مڑکر دیکھا گاڑی کے دونوں دروازے کھلے تھے۔

”ہوووو!“ انہوں نے ہونٹ گول کیے سیدھے ہوئے اپنی اپنی طرف کےدروازے کھولے۔ایک قدم باہر نکالا اور دروازے کو دھکا دیا ”ٹھاہ“ اب آواز آئی تھی۔واپس اپنی پوزیشن پر بیٹھے اب اگلے دونوں دروازے کھلے تھے کچھ دیر بے یقینی سے سامنے دیکھتے گئے۔

”کیا تھا یہ؟“ بے یقین لہجے میں پوچھا۔

”اکیسویں صدی۔“ اسٹئیرنگ پر انگلیاں بجاتے ہوئے کہا۔

”تو چھوڑ کر کیوں نہیں آیا انہیں اِسی بہانے گھر دیکھ لیتے۔“ وہ اب ٹھیک ہو چکا تھا۔دھچکا ختم۔

”ہاں لے جاتا آگے بھائی کھڑے ہوتے ان کے تو؟“ طنز سے پوچھا۔

”تو کیا۔“ وہ مزے سے بولا۔”لگے ہاتھوں سالے صاحب سے بھی ملاقات ہوجاتی۔“

”اوہ!“ ہاتھ اٹھا کر کہا۔”بھائی میرے“ ہمدردی سے پکارا۔”میں تیرے سالے والے بھائی کی نہیں۔ڈان والے بھائی کی بات کر رہا تھا گینگسٹر۔“ اُس نے آنکھیں پھیلائیں۔

”چل چھوڑ۔“ دروازے بند کیے گاڑی سٹارٹ کی سامنے دیکھ کر کچھ سوچتا رہا، چابی گھمائی، گاڑی پھر بند اُس کے ساتھی نے حیرانگی سے اُسے دیکھا وہ سامنے دیکھتا رہا پھر پیچھے سیٹ سے ٹیک لگا لیا۔

”ویسے ہے یہ سوچنے کی بات۔“ اُس نےبالوں میں انگلیاں چلائیں۔”یہ تھا کیا؟“ نظریں گھما کر دیکھا۔”اتنی ماڈ رن لڑکیاں اعتماد تو دیکھ ذرا پنڈی تک ہمیں لفٹ چاہیے۔“ پھر وہ اپنے ساتھی کی طرف مڑا اور کندھے پر ہاتھ رکھا۔

”ویسے بھائی یہ واقعی لڑکیاں ہی تھیں نا؟“ وہ اُسے کچھ دیر دیکھتا رہا پھر سامنے ڈیش بورڈ پر سے سکاچ ٹیپ اٹھائی۔اُس کے منہ پر چپکائی، وہ سیدھا ہوگیا۔

”بھول جاؤ دماغ سے نکال دو کچھ بھی نہیں ہوا۔“ اُس نے سکاچ ٹیپ لبوں سے ہٹا کر اُس کے لبوں پر چپکا دی اور مسکرا کر اُسے دیکھا۔

”جی بالکل کچھ نہیں ہوا۔“ سیدھے ہوکر گاڑی سٹارٹ کی۔”ہم گھر جارہے ہیں اور کچھ نہیں ہوا۔“

ایک دم رکا نظریں گھما کر دیکھا، ”بھیا کو پتا چل گیا تو؟“ چہرے پر خوف تھا مگر کیوں؟

”بھیا گاڑی لے لیں گے۔“ ڈر اور خوف تھا۔

”ہر گز نہیں!“ اُس نے نفی میں سر ہلایا۔”بھیا گاڑی نہیں لیں گے۔“ سر برابر نفی میں ہلتا رہا۔

”بھیا ٹانگیں توڑ دیں گے۔“ چابی پھر گھومی تھی گاڑی پھر بند ہوئی تھی۔سر پھر سیٹ کی پشت سے جا لگے تھے۔آنکھیں بند ہوئیں، ہاتھ، ٹانگیں جانے کیوں ہولے ہولے کپکپا رہے تھے جانے کیوں۔

٭٭٭

”اتنے قیمتی الفاظ کہاں سے سیکھے علی حیدر۔“

”زندگی سے۔“

یہ ہوچکا ہے فیصلہ! یہ ہوچکا ہے فیصلہ! نہ کوئی دوسرا خدا، نہ کوئی دوسرا حسین ہے!
ہے جس کی فکر کربلا حسین وہ دماغ ہے یہ پنجتن کی انجمن کا پانچواں چراغ ہے!
حسن کا پہلا ہمسفر، علی کا دوسرا پسر امام تیسرا حسین ہے، کیا حسین ہے!

”تم بہت خوب صورت ہو۔“ بڑی گہری مسکرا ہٹ تھی اُس کی ٹھوڑی پر ڈمپل اُبھرا۔

”میں نے سنا تھا جو لوگ خوبصورت ہوتے ہیں وہ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔“

ایک قہقہ لگایا تھا بڑے جاندار طریقے سے۔

”تم کون ہو؟ تم کیا ہو؟ تم کیوں ہو؟“ کسی نے اکھٹے سوال کیے تھے۔

”میں حسین ہوں میں محبت ہوں میں کیوں ہوں؟“ کیا تھا ان آنکھوں میں۔”اِس کا جواب میں نہیں۔“ انگوٹھے سے خود اپنی جانب اشارہ کیا۔”اِس کا جواب میں نہیں، اِس کا جواب تمہیں وقت دے گا۔“

”تم حسین ہو۔“ اُسے کسی نے بتایا تھا۔

”نہیں۔“ اُس نے دائیں بائیں گردن ہلائی۔”میں حُسین ہوں۔“ اُس نے سمجھایا تھا۔

؎ کربلا کے راستے کی راہیوں میں ہیں ہم امام حسن کے سپاہیوں میں ہیں!

”تم اپنا کام کرو تمہیں کوئی روک نہیں پائے گا میں تمہیں یقین دلاتا ہوں۔تم وہ کرو جو کر رہے ہو کوئی نہیں روک سکتا کسی کو ہم روکنے نہیں دیں گے، سوائے موت کے اور تقدیر کے!“

٭٭٭

”مجھے لا ہور جاناہے!“

سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی۔وہ سنجیدہ سا ونڈ اسکرین کے پار دیکھتا گاڑی چلا رہا تھا۔اُس نے حیران نظروں سے پچھلی سیٹ پر آنکھیں موندے بیٹھے بچے کو دیکھا۔

”کیا کہا؟“ حیرانگی ہی حیرانگی تھی اُس کی آواز میں۔

”میری ماں بنی رہتی ہیں ہر وقت۔“ اگلی سیٹ پر بیٹھی عورت کو خفا نظروں سے دیکھا بچے نے۔”ان کو سمجھا نہیں سکتیں۔“ ذرا غصے سے کہا۔”روازانہ نہاتے ہیں کہا کریں ان سے کان صاف کر لیا کریں۔“

سنجیدگی سے کہتے ہوئے سب کی نظروں میں وہ اپنے لیے خفگی کو محسوس کررہا تھا۔ماں نے مڑ کر اُسے دیکھا۔اُس کی آنکھوں میں خفگی نہیں تھی، پیار بھی نہیں تھا غصہ تھا۔

”جی آپ ہی سے کہہ رہا ہوں ان سے کہا کریں۔“ ہاتھ سے اشارہ کیا۔

”ماں سے ایسے بات کرتے ہیں؟“ وہ ہلکے سے چلاّئ، آواز غصے بھری تھی۔

”بیٹے سے ایسے بات کرتے ہیں؟“ وہ بھی غصے سے بولا مگر آواز اونچی نہیں تھی۔

مقابل ماں تھی جیسی بھی تھی ماں تھی۔

اُس کی ماں کی آنکھوں میں دُکھ اُبھرا، رُخ بدل لیا۔

”سکھا دیں مجھے۔“ اپنی طرف اشارہ کیا۔”کیسے بات کرتے ہیں، ماں سے۔“

”نہیں، تم سکھا دو مجھے کیسے بات کرتے ہیں بیٹے سے۔“ خفا دُکھی آنکھوں سے ماں نے پھر مڑ کر دیکھا۔

”پیار سے۔“ وہ سنجیدہ سا کچھ دیر ماں کو دیکھتا رہا، پھر نظریں اُٹھا کر سامنے آئینے میں دیکھا۔

”آپ نے سنا نہیں ایک شریف انسان نے ابھی کچھ دیر پہلے آپ سے کہا تھا کچھ۔“ خاموشی چھائی رہی۔

”مجھے لاہور جانا ہے۔“ خاموشی چھائی رہی۔پھر بولا ”مجھے لاہور جانا ہے۔“

”جاؤ۔“ کوئی بڑ بڑایا تھا۔

”مجھے خاموشی سے ڈرائیو کرنے دیں گے آپ؟“

وہ کچھ دیر سامنے دیکھتا رہا غصے سے۔”مجھے کیوں مجبور کررہے ہیں آپ سب میں کچھ غلط کروں۔“ ماں نے مڑ کر پھر سے اُسے غصے سے دیکھا لیکن بولی نرمی سے۔

”کیا کرو گے؟“

'اوہ! تو پوچھ رہی ہیں کیا کروں گا؟ میں کر کے دِکھاؤں گا۔' وہ دِل ہی دِل میں بولا۔

”میں چھلانگ لگا دوں گا۔“ اُس نے کہا۔

”کہاں سے؟“ سوال کیا گیا۔

”چلتی گاڑی سے۔“ اُس نے بتایا۔

”لگا دو۔“ کہا گیا۔

اور اُس نے دروازہ کھول کر لگا دی چھلانگ۔ایک جھٹکے سے گاڑی رُکی تھی۔پیچھے آتی گاڑیوں کے ٹائر چر چرائے گاڑیاں جھٹکے کھا کر رکیں۔ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر سب دروازے کھلے دوڑتے قدم قریب آکر رکے وہ کھڑا کپڑے جھاڑ رہا تھا۔

”آر یو اوکے۔“ وہی مرد آگے بڑھا، فکرمندی سے پوچھا، پیار سے کندھے پر ہاتھ رکھا۔وہ جلدی سے دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔

”بڑی سخت جان ہوں۔“ اُس نے غصے سے کہا تھا۔

”لاکھ جان چھڑانا چاہیں کچھ بھی کرلیں نہیں مروں گا بالکل نہیں مروں گا۔“ نفی میں گردن ہلاتا بول رہا تھا۔”آپ کو مارے بغیر نہیں مروں گا۔“

وہ ساکت کھڑا رہ گیا اتنی نفرت جسے سب سے زیادہ چاہو وہی کیوں زیاد دُکھ دیتا ہے۔

”گو لی ماردوں گا آپ کو۔“

سب خاموش کھڑے رہے، ہارن بج بج کر بند ہوچکے تھے۔شاید تھک چکے تھے اور وہ سب بھی۔

”نفرت کرتے ہو مجھ سے؟“ کس کرب سے پوچھا گیا تھا۔

”مجھے لاہور جانا ہے۔“ جواباً غصے سے چلا کر کہا۔اُس کی آنکھیں غصے سے بھر چکی تھیں۔چار سال کی بچی آگے بڑھی شاید اُسی کی عمر کی تھی۔

”نہیں جائیں گے، کیا کر لو گے؟“ وہ معصوم سی دکھائی دے رہی تھی۔آواز میں رعب لانے کی کوشش کی ناکام کوشش۔اُس بچے کی آنکھیں مسکرائیں چہرہ سپاٹ تھا۔

”کیا کروں گا؟“ گول سا سر ہلایا۔

”ہوں!“ سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔

”گاڑی کے نیچے لیٹ کر مر جاؤں گا۔“ سب دہل کر آگے بڑھے۔وہ آرام سے پیچھے مڑا۔سب تیز قدموں سے اُس کی جانب برھے، وہ اُلٹے قدموں سے دوڑا، سب کو اپنی طرف آتا دیکھتا رہا۔

”سب ہی کو جلدی ہے میرے مرنے کی۔“ وہ چلایا۔

”مت کرو۔“ کہیں سے آواز آئی، لیکن وہ جو بھی تھا، قول کا پکا تھا جا کر لیٹ گیا گاڑی کے نیچے۔وہ سب سانس روکے سامنے دیکھتے رہے۔وہ پورا گاڑی کے نیچے تھا صرف اُس کے بال نظر آرہے تھے وہ لیٹا تھا گاڑی کے نیچے مگر مرا نہیں تھا۔کافی دیر گزرگئی، سب کھڑ ے اُسے دیکھتے رہے۔وہ باہر نکلا دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا بچی کے سامنے جا کر کھڑا ہوا ابرو اٹھائی اور مسکرایا۔

”تم مرے نہیں؟“ سوال کیا گیا۔

”مارنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔“ جوا ب دیا گیا۔

”تم نے کہا تھا گاڑی کے نیچے لیٹ جاؤں گا۔“ خفا خفا نگاہوں سے پوچھا۔

”ہاں تو۔“ گردن اکڑائی، ”جو کہا تھا وہ کیا۔“

”وہاں۔“ دور کھڑی گاڑی کی جانب اشارہ کیا۔”وہاں لیٹا تھا۔“

بچی کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا اُس کے دونوں کاندھوں پر ہاتھ رکھا۔پھر ایک ہاتھ اٹھا کر سامنے اشارہ کیا بازو لمبا کر کے ”گرے گاڑی“ گردن کو ایک ہاتھ سے اپنی جانب گھمایا۔”نظر آئی۔“ بچی نے خفا نظروں سے اُس کی آنکھوں کی چمک دیکھی۔”وہ گاڑی رکی ہوئی ہے۔“ وہ پیچھے ہٹا تھوڑا سا

”ہا ں تو میں نے کب کہا تھا چلتی گاڑی کے نیچے لیٹوں گا۔“ اس شخص کی جانب مڑا۔”پوچھ لو اِن سے۔“ بڑے پیار سے کہا تھا پر آنکھوں میں غصہ اور لہجے کی حقارت چھپی نہ تھی کسی سے اور چھپانا بھی کون چاہتا تھا؟

”میں نے ایسے کہا۔“ بچی کی آنکھوں میں دیکھا پھر وہی نفی میں سر ہلایا۔”نہیں نا۔“ غور سے ماں کو دیکھا۔

”مجھے لاہور جانا ہے۔“ ایک ایک لفظ کو الگ الگ دھیمے دھیمے انداز میں چباچبا کر کہا۔ماں کا سر نفی میں ہلا۔آنکھوں دُکھ تھا نظر انداز کر دیا گیا۔

”کبھی نہیں! ہم کہیں نہیں جا رہے۔“

”دیکھتا ہوں۔۔کیسے نہیں جاتے۔“ اُس نے ایک زور دار ٹھوکر گاڑی کے ٹائر کو لگائی۔گاڑی کو کیا ہوتا جوتوں میں چھُپے اُس کے پیر کو بہت کچھ ہوا کیا ہاں او درد۔اب وہ اُس درد کی وجہ سے وہاں کھڑا رہ کر روتا کس لیے؟ اِس لیے کہ پیر میں درد ہوا۔رونا تو تھا چلو دل کے درد کے لیے روتے ہیں آنکھوں میں اُس کے آنسو آئے، سوائے ماں کے سب بے چین تھے۔

”میں۔۔۔“ ایک دکھ ایک درد سے اپنی جانب اشارہ کیا۔”میں دیکھتا۔۔۔“ ہچکیاں بندھیں، ”میں دیکھتا اگر۔۔۔“ ہچکیاں لیتے وہ الٹے قدموں سے پیچھے ہٹتا گیا۔”میں دیکھتا اگر۔۔۔“ اُس سے بولا نہیں جا رہا تھا لیکن بولنا ضروری تھا وہ شاید بولنے کے لیے ہی تو دنیا میں آیا تھا اِس دُنیا میں اِس گھر میں اِس سڑک پر!

”اگر۔۔۔“ آنسو ٹپ ٹپ گرنا شروع ہو چکے تھے اور وہ آہستہ آہستہ قدم پیچھے کی جانب بڑھاتا گیا آہستہ آہستہ، ”اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو میں دیکھتا۔“

”دیکھتا میں۔۔۔“ وہ اتنی زور سے چلایا کہ چار سالہ بچی بہت ڈر گئی۔

”میں یتیم ہوں نا۔“

٭٭٭

”تم نے بہت غلط کیا، بہت غلط۔میں نے تمہیں غلط سمجھا بہت غلط۔“

”تم وہ نہیں ہو جوتم دکھائی دیتے ہو۔“

اور آگے سے کسی نے کہا تھا۔

”میں وہ نہیں ہوں جو میں دکھائی نہیں دیتا۔“

”تمہیں غلط سمجھا میں نے بہت بڑی غلطی کی۔“ وہ بے بس نظر آرہا تھا۔

”میں تمہیں ایک اچھا انسان سمجھتا تھا، لیکن تم میری زندگی میں آنے والے سب سے بُرے انسان ہو علی رضا۔تم پہلے میرے دوست تھے اور اب تم میرے دشمن ہواور مجھے سمجھ جانا چاہیے تھا کہ تم میرے پرانے دشمن ہو۔“ علی رضا نے کہا۔

علی حیدر نے قہقہہ لگایا بہت خوبصورت، بہت خطرناک۔

”تم میرے پرانے بہت پرانے دشمن ہو بہت سی چیزیں میں نے تم سے سیکھی ہیں علی حیدر۔اِس لیے آج تمہیں ایک مشورہ دیتا ہو ں یاد رکھنا ہمیشہ۔“ وہ اُس کے قریب آیا تھا، کچھ دیر چہرے کودیکھتا رہا مسکراتے ہوئے۔

“Never ever underestimate your enemy. Always! Mind it.”

دائیں طرف کنپٹی پر شہادت کی انگلی بجائی زور سے۔

٭٭٭

وہ کسی کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا بہت اداس، اور بہت غمگین!

”کیا ہو ا حسین علی حیدر؟“

”میں تھک چکا ہوں ٹوٹ چکا ہوں غلط کیا بہت غلط۔“ وہ بڑ بڑا رہا تھا آہستہ سے۔کرب اور درد تھا اُس کے لہجے میں۔

”اتنا کمزورتو نہیں تھا حسین ہوا کیا میرے بچے؟“

”میں بکھر گیا میں گنہگار ہوگیا میں نے گناہ کر دیا پری میں کیا کروں؟“ بال مٹھیوں میں بھینچے۔

”حسین“ وہ ٹو ٹ گئی اندر تک، یوں بھلا کوئی دیکھ سکتا ہے اپنی جوان اولاد کو؟

”ہوا کیا میرے بچے کیا کردیا تم نے؟“

اُس نے بہت درد اور کرب سے کہا، ”میں نے سانپ کو دودھ پلادیا ہے۔“

٭٭٭

ضبط کرتا ہوں تو ہر زخم ہوا دیتا ہے!

وہ کچن میں تھی شیشوں سے مزین خوب صورت کڑھائی، مختلف خوب صورت رنگوں والا خوبصورت سا ایپرن باندھے، بالوں کو گردن سے ذرا سا اوپر کرکے باندھا ہوا تھا۔رنگین اور بہت پیارا سا سکارف چہرے کے گرد لپٹا تھا۔گھٹنوں سے ذرا نیچے تک آتی قمیض پاجامہ پہنے وہ بہت حسین دکھائی دے رہی تھی بالکل کسی پری کی طرح۔

کچن کاؤنٹر پر رکھے سفید رنگ کے بورڈ پر رنگ برنگی سبزیاں بکھری پڑی تھیں جن پر تیزی سے کا لے دستے والی بڑی سی چھری بے دردی سے چل رہی تھی۔

”اوہ!“ وہ جھٹکے سے مڑی بالکل سامنے برنر پر کچھ پڑا تھا تیزی سے قریب گئی، ڈھکن ہٹایا اور چمچہ چلایا۔ساتھ نظر دوڑائی اُس کے ذرا سا قریب شیشے کے ڈھکن کے نیچے اُبلتا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا۔آرام سے ڈھکن اٹھایا بھاپ اکھٹی ایک جھٹکے سے باہر نکلی اور پھر گم ہوگئی جیسے ایک قید سے آزاد ہوئی ہو، وہ مسکرا دی۔دائیں طرف نظر گئی پلاسٹک کے جگ میں بھگوئے چاولوں کو دیکھا اُسے اٹھا کر سنک کے قریب آئی، ہلکے سے ٹیڑھا کیا پانی کی لمبی دھار بہتی گئی۔سفید پانی خوب صورت سا منظر تھا چند پل میں ختم ہوگیا ہر پل کو ختم ہونا ہے زندگی کو بھی، کبھی نہ کبھی۔

وہ پھر سے برنر کے پاس آئی اُبلتے بلبلے بناتے پانی میں جگ الٹ دیا بے رحمی سے بے دردی سے اُسے ترس آیا تھا۔

”پانی گرم ہے۔“ اُس بچے کا چہرہ فکر سے بھرا ہوا تھا۔

”تو گرم میں ہی پکے گا نا۔“ دوسرے بچے نے کہا تھا۔

”ہاں اُسے پکنے کے لیے آگ پر جلنا تو پڑے گا چاہے درد ہو چاہے مزہ آئے۔“

ڈھکن واپس رکھ کر آنچ آہستہ کی اور پھر سے آدھ کٹی سبزیوں کی جانب متوجہ ہوئی۔وہ خاموشی سے کام کرتی رہی تو بچے وہاں سے چلے گئے۔گاجر کا آخری ٹکڑا اُس نے کاٹا اور سبزیوں کو ایک باؤل میں ڈالا۔اُس وقت اُسے چلاّنے کی آواز آئی۔

”اللہ!“ اُس کا دِل دہلا لب مسکرائے دھیرے سے، اُس نے جلدی جلدی چولہے بند کیے۔سب خراب ہوجائے گا معلوم تھا اُسے 'تو کیا ان کے گھر میں ہوتے سب ٹھیک ہو سکتا ہے؟' سر جھٹکتے ہوئے اُس نے ہاتھ دھوئے، برتنوں کے ریک کے پاس پڑا سفید بے داغ کپڑا اٹھایا اور ہاتھ پونچھتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

دھیرے سے دروازے کے ہینڈل کواُس نے ایک طرف گھمایا۔بنا آواز پیدا کیے دروازہ کھل گیا۔

”میرے اللہ!“ اُس نے ایک گہری سانس لی۔کتابیں بکھری پڑی تھیں جو یقیناً پڑھنے کے لیے نہیں، نہ ہی پڑھانے کے لیے بلکہ اُٹھا اُٹھا کر پھینکنے کے لیے نکالی گئی تھیں۔کشن بکھرے پڑے تھے، کرسیاں ٹیڑھی میڑھی، اُلٹی سیدھی پڑی تھیں۔وہ موٹی سی بڑی بیڈ شیٹ زیرک عباس کے گرد لپٹی ایک کونے میں تھی۔یہ شاید باقی سب سے بچنے کی ایک خوب صورت، ادنیٰ سی کوشش تھی۔بالکل سامنے صوفے کے قریب وہ سب ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے تھے شاید کچھ چھپنے کی کوشش کر رہے تھے۔

صرف ایک چیز بچی تھی سارے کمرے میں جو صحیح سلامت اپنی جگہ پر موجود تھی؛ راکنگ چئیر، وہی جو زریاب حیدر کی تھی۔بھلا مجال تھی کسی کی چھیڑے اُسے؟ پہلی نگاہ زیرک عباس کی ہی اُس پر پڑی تھی، اُس نے شکر کا کلمہ پڑھا اور دھیرے سے کھڑا ہوا بیڈ شیٹ کو جیسے خود پر سے جھاڑا، وہ اب اُس کے پاؤ ں میں تھی۔

پھر تقریباً دوڑتا ہوا قریب آیا، ”پری“ کہہ کر اُس کے گلے لگ گیا بالکل ننھے معصوم ڈرے بچے کی طرح! اُسے دیکھ کر سب کھڑے ہوئے مسکراتے ہوئے خود بھی سیدھے ہوئے لیکن سر جھکائے ہوئے تھے، نظریں نہیں۔

”کیا ہورہا ہے یہ سب؟“ اُس نے مسکراتے ہوئے ذرا سختی سے پوچھا۔

”مستی۔“ مسکراتے ہوئے جواب آیا۔

”میرے بچے کو ڈرا کر۔“ زیرک عباس کو دیکھا، ”بیچاراسا۔“ اُس نے منہ لٹکا کر سر جھکا لیا۔سب کی نظریں اُٹھیں اُس بیچارے کو دیکھنے کے لیے وہ واقعی بیچارا لگ رہا تھا صابر آنکھیں رو دینے کو تھیں بس! وہ سب اُس کے قریب آئے بالکل آہستہ سے، نرمی سے بازؤں کے گھیرے میں لے لیا ”ڈر گئے تھے نا؟“ زریاب حیدر نے پوچھا مسکراتے ہوئے۔

”ہوں۔“ اُس نے زور و شور سے سرہلایا۔”کتنی بار کہا ہے مجھے آپ لوگوں کا مستی کرنا پسند نہیں۔“

”ارے! تو آپ نے کہا مجھے مت گھسیٹا کرو اس سب میں ہم مان گئے اب ہم خود ہیں تو بھی آپ کو پرابلم ہو رہی ہے۔“ کندھے اچکائے گئے۔

”کبھی نہیں ہم ہنسنا، کھیلنا نہیں چھوڑیں گے۔“ آنکھوں میں ناراضگی اُبھری تھی لیکن لب مسکراتے رہے۔

”ایک بات سمجھ نہیں آئی۔“ ساحر فاروق نفی میں سر ہلا رہا تھا سب نے سر گھما کر اُسے دیکھا۔

”آپ اپنی شادی والے دِن بھی رونا شروع کر دوگے۔“ آنکھوں میں حیرانی تھی، ”کیوں بھئی؟“

”جب ہم اِن کی شادی پر یہ سب۔۔۔میرا مطلب ہے مستی کریں گے۔۔۔“ شرارت تھی میثم کی آنکھوں میں، چہرے پر ساحر کی آنکھیں بولتی نہیں تھیں نا، ”تو یہ ڈر کے مارے بے ہوش ہی ہو جائیں گے۔“ وہ سب ہلکے سے ہنس دیے۔

”جب ہم فائرنگ کریں گے تب کیا حال ہوگا؟“ زریاب حیدر نے پوچھا تھا۔

”فائرنگ کیوں؟“ صابر آنکھوں میں خوف آیا تھا۔

”بھئی سب خوش ہوں گے نا۔“ جواب دیا گیا۔”ویسےعجیب منطق نہیں ہے خوشی میں فائرنگ!“

”ہر گز نہیں۔“ نفی میں سر ہلایا۔”فائرنگ نہیں ہوگی۔“ اُس کا لہجہ قطعی تھا۔

”کیوں؟“ جواباً! سوال کیا گیا، ”وجہ؟“

”فائرنگ جنگ میں ہوتی ہے۔“ معقول وجہ تھی اس کے پاس۔

”ٹھیک ہے۔“ ساحر فاروق کے مونچھوں تلے لب مسکرائے۔

”میں دونوں خاندانوں میں دشمنی کروا دوں گا پھر ٹھیک ہو گا نا فائرنگ کر لیں گے تب۔“ زیرک عباس کی آنکھیں پھیل گئیں۔

”اصل مزا تو تب آئے گا۔“ کرار حیدر نے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔”جب ان کی سالی جوتا چھپائے گی۔یہ پری کا پلو پکڑ کر روتے ہوئے کہیں گے۔“ساحر فاروق مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا، ”مجھے جوتا واپس کرو میرا گندی بچی۔“ وہ سب ہنستے جارہے تھے اور وہ شرمندہ ہوتا جارہا تھا۔

”ویسے آپ کو جوتا۔۔۔“ ایک دم رکا، ”میرا مطلب تھا آپ کو بیوی کیسی چاہیے۔“

”اپنے جیسی روتی بسورتی ڈر پوک روتی قسم کی۔“ وہ رو دینے کو تھا بس۔

”آپ سب چھوڑیں اِسے۔“ پری نے سب کو اُس کے ارد گرد سے ہٹایا۔

آج بہت سال بعد اِسی طرح پری کچن میں کام کررہی تھی اور اُن کی چیخ پر وہ کمرے میں گئی اور وہی منظر تھا۔وہ سب لیٹے ہوئے ہنس کھیل رہے تھے ایک دوسرے کے ساتھ اور وہ اُسی طرح کونے میں چھُپا پری کو دیکھ کرآگیا تھا۔آج بھی وہ سب اُس کا مذاق اُڑا رہے تھے کہ بیوی کے سامنے بھی ایسے روؤ گے، کمرے میں جاتے ہوئے بھی ایسے روؤ گےاور پھر پری نے سب کو منع کیا تھا۔پھر آج کے دِن ساحر فاروق نے کہا۔

”بھئی ہمیں تو اپنے ہیرو سے پوچھنا چاہیے اِس کو کیسی لڑکی چاہیے؟“ اور بیڈ پہ بیٹھ کر پانی پیتے پیتےمیثم عباس کو اچھو لگ گیا۔دونوں ہاتھ اٹھا کر روکا۔

”مجھ پر مت چڑھ دوڑنا آپ سب پلیز۔“ سب ہنسے تھے بالکل ایک ساتھ۔۔۔

”کیسے پتا کہ آپ ہی کو ہیرو کہا ہے۔“ زریاب حیدر دھم سے اُس کے پاس بیٹھا۔

”ہاں تو ہیرو کو پتا نہیں ہوگا کہ وہ ہیرو ہے؟“

”مجھے“ وہ خوابناک کیفیت میں بولا، ”مجھے ایسی لڑکی چاہیے جو کسی کے مرنے کا غم سینے سے لگائے نہ بیٹھی ہو۔“ اور پری کے دِل کو کچھ ہوا تھا کیو ں کہ وہی تو مرنے والوں کا غم سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔

”اکیس سال ہوگئے اس لڑکی کی ماں کو مرے لیکن یہ ابھی تک اس کا غم سینے سے لگائے بیٹھی ہے۔“

”یہ کیا بات ہوئی بھلا؟“ سا حر نے پوچھا تھا۔

”پری سے پوچھنا تفصیل سے جواب ملے گا۔“

”اچھاآگے بتاؤ۔“

”ہووووں۔“ اُس نے خوب سوچ کر کہا، ”باقی لڑکیوں کی طرح بزدل نہ ہو۔“

کہیں دور ایک لڑکی چلاّ رہی تھی اور کسی نے اُسے پوچھا۔

”کیا ہوا لڑکی؟“

”وہ وہ چھپکلی۔“

٭٭٭

”پری؟“ کتنی عقیدت سے پکارا تھا کتنے پیار سے، کتنے مان سے۔

”جی بچے۔“ بہت ہی پیار سے جواب آیا تھا۔وہ پری کو اپنے پاس بیڈ پر بٹھا کر سر گو د میں رکھ کر لیٹ گیا پھر جیسے بڑبڑایا، ”مجھے وہ چاہیے جو عزت کرتی ہو بڑوں کی۔“

”عزت کیا ہوتی ہے؟ کیسے ہوتی ہے؟ کچھ معلوم نہیں۔مجھے تو لگتا ہے اِس عزت شے کا نام بھی نہیں معلوم ہوگا اِسے۔“ کوئی اُس لڑکی پر چلاّ رہا تھا۔

اُدھر میثم عباس کہہ رہا تھا، ”شرم و حیا کا پیکر ہو۔“

اُدھر کوئی اُس لڑکی پر چلاّ رہا تھا، ”لاج شرم توچھو کر نہیں گزری اس لڑکی کو۔“

میثم عباس کہہ رہا تھا، ”کھانا بہت اچھا بناتی ہو بالکل آپ کے جیسے۔“ سر اُٹھا کراُس نے حسین پری کو دیکھا تھا۔

اُدھر اُس لڑکی کو ڈانٹ پڑ رہی تھی۔

”کھانے کو کہو جتنا مرضی کھالے گی پکانے کے نام پر انڈا تک اُبالنا نہیں آتا۔“

میثم عباس اپنی پسند بتا رہا تھا پری کو، ”سگھڑ، سلیقہ مند حد سے زیادہ صفائی پسند ہو۔“

اُدھر اُس لڑکی سے کوئی کہہ رہا تھا، ”سارے جہاں میں اپنا گند پھیلا رکھا ہے سلیقہ نام کو نہیں پھوہڑ، ہڈ حرام لڑکی۔“

میثم عباس کہہ رہا تھا، ”خوب صورت چاہے بالکل نہ ہو۔“

اُدھر کوئی اُس لڑکی سے کہہ رہا تھا، ”بس! اپنی سفید چمڑی پر غرور ہے اِسے۔“

پھر میثم عباس نے کہا، ”پڑھی لکھی بھی زیادہ بے شک نہ ہو۔“

اُدھر اُس لڑکی کو کہا جارہا تھا، ”کھانے کو مانگے گانا گھر والا تو اِن ڈگریوں کی کپیاں بنا کر بازار سے چھولے لا دینا اُسے۔“

”بس۔“ ساحر فاروق نے آنکھیں پھیلائیں۔

”ہاں بس۔“ معصوم آنکھیں کھلکھلائی تھیں۔سب اپنی پیاری آنکھوں کے ساتھ مسکرا ئے تھے، دور کھڑا کوئی قہقہے لگا رہا تھا۔کون؟ قریب جا کر دیکھو کون تھا نظر آیا؟ ہاں کون؟ تقدیر!

٭٭٭

”زندگی کو گزارنے کے ڈھنگ مجھ سے سیکھو گے نا تو خود کے گزر جانے سے پہلے زندگی گزارنے کا سلیقہ آجائے گا!“ وہ اقوال زریں سنایا کرتا تھا لوگوں کو اور خود کبھی بھی عمل نہیں کرتا تھا۔کہیں دورکسی جگہ وہ دو لوگ کھڑے تھے۔پہلے شخص نے کہا۔

”کبھی موت کو زندگی کے قریب دیکھا ہے؟“ سامنے والا چپ رہا۔آج خود کو میرے قریب دیکھ لو۔“

وہ نیو ائیر نائٹ تھی، وہ خاکی رنگ کے کُرتے میں ملبوس تھا خوب صورت کڑھائی والا کرتا، سفید شلوار، مقابل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا رہا اور بولا،

”زندگی اگر میری ہوگی تو موت بھی میری ہی ہوگی۔۔۔اور اگر۔۔۔موت میری ہوگی نا تو قبر بھی میری ہی ہوگی۔“

اگرچہ میں پتھر ہوں مگر سچ بولتا ہوں!

وہ کتنی رنگین رات تھی رنگین مزاج لوگ بھی تھے۔ہر طرف رنگ تھے خوشبو تھی۔لوگ رنگ برنگے لباس میں سجے تھے، نت نئی خوشبوؤں میں بسے تھے۔قہقہے لگاتے مشروب پیتے کیا کررہے تھے وہ لوگ۔۔۔؟ شاید زندگی کو انجوائے!

وہ پھولے گال، سیاہ بالوں والا بچہ ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنا تھا اور احساس تھا اُسے اِس بات کا۔وہ مطمئن تھا پُرسکون تھا اسے اچھا لگتا تھا، کوئی اسے دیکھے اور سراہے۔وہ سرخ رنگ کی نیکر، ٹی شرٹ میں ننھا بھالو سا دکھائی دے رہا تھا وہ مسکراتے ہوئے سامنے سرخ لباس میں ملبوس 'گڑیا' کو دیکھ رہا تھا۔پھر وہ وہ دوڑتا ہوا اسٹیج کی کی سمت گیا۔اُس کے ماتھے پر بال اچھل رہے تھے۔دونوں بازؤں کو آگے پیچھے کرتا جا رہا تھا اچھا لگ رہا تھا خوب صورت لگ رہا تھا! سامنے صوفے پہ دلہا دلہن بیٹھے تھے ہنستے مسکراتے، باتیں کرتے وہ دلہن کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا دیکھتا رہا دیکھتا رہا۔

”آپ کو معلوم ہے مجھے شادی کا کتنا شوق ہے۔“ وہ جو گردن موڑے کسی بات پر ہنس رہی تھی اُس نے سامنے دیکھا اُسے، جہاں بھر کا اشتیاق وہاں بھوری آنکھوں میں جمع تھا۔

”کتنا؟”ہنستے ہوئے پوچھا۔

”اتنا آآآں۔”دونوں بازو سیدھے لمبے دائیں بائیں پھیلائے اُس نے بتایا۔

”اچھا۔“ وہ ہنسی، بھوری آنکھیں ایک دم اُداس ہوئیں ہونٹ لٹک گئے، بازو پہلو میں گرائے۔

”مگر۔“ نظریں اُٹھا کر سامنے دیکھا۔”کوئی میری شادی نہیں کرتا، کرنی چاہیے نا؟“

”ہاں!“ وہ ہنسی، ”ضرور۔“ وہ کھل کے مسکرایا تھا۔

”تو آپ کر لو مجھ سے شادی۔“ اُس کے مسکراتے لب ساکت ہوئے بے یقین نظریں پھر جیسے پرسکون ہوئیں اور تھوڑا آگے جھکی۔

”میں کیسے کرلوں؟“ اُس نے غور سے دیکھا۔

”شادی کا نہیں پتا کیسے کرتے ہیں؟“ اُس نے آنکھیں جھپکا کر پوچھا۔

”نہیں“ہنستے ہوئے گردن نفی میں ہلائی۔

”تو یہاں پر کیوں بیٹھی ہیں مٹھائی کھانے؟“ اُس نے غصے سے پوچھا تھا، بہت جلد غصہ آجاتا تھا اُسے۔”میں بتاتا ہوں۔“ ذرا پیچھے ہوا۔”کیسے کرتے ہیں شادی۔“ ”آپ سے پوچھیں گے۔“ اُس نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔”آپ خوش ہو آپ راضی ہو آپ کو قبول ہے۔“ 

”تو پھر آپ کہنا قبول ہے۔“ اُس نے اُس لڑکی کو دیکھا۔”ٹھیک ہے۔“

”ہاں ٹھیک ہے۔“ ہنستے ہوئےلڑکی نے سر ہلایا۔

”چلیں اب کریں مجھ سے شادی۔“ وہ ساتھ جا کراُس کے دوسری طرف بیٹھ گیا۔”کریں نا۔“ اسے غور سے دیکھا۔

”اور آپ اُٹھ جائیں۔“ اُس نے دولہے سے کہا۔کئی لوگ متوجہ ہوگئے اُس کی ماں نے بھی دیکھا دوڑتی قریب آئیں۔

”اٹھو۔“ بظاہر مسکراتی ہوئی۔

”نہیں۔“ وہ بیٹھا سر نفی میں ہلایا ”یہ مجھ سے شادی کریں گی اُنہوں نے خود کہا۔“

”میں نے کب کہا؟“ دلہن حیران تھی پریشان بھی۔وہ اُٹھا بایاں پیر زور سے اسٹیج پر پٹخا۔”ٹھیک کہتے ہیں لوگ یہ دنیا ہے ہی دھوکے باز۔“

٭٭٭

وہ وہاں کھڑا رو رہا تھا ”کیا ہوا؟“ کئی لوگوں نے پوچھا کوئی جواب نہیں آیا۔

”کیا ہوا بچے؟“ کوئی قریب آیا تو اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا اور دیکھتا رہا ”آپ نے مجھے بہت کچھ سکھایا، سب کچھ کیوں نہیں سکھایا؟“ اُس نے شکوہ کیا تھا اور آنسو بہتے جا رہے تھے!

”کیا ہوا؟“ وہ پریشان ہوئی گھبرائی اللہ 'یہ لڑکا۔'

”اذان کی آواز سن رہی ہیں؟“ اُس نے رک کر دیکھا میوزک اور اذان دونوں میں فرق تھا دونوں کی آواز مدھم سی اُس کے کانوں میں پڑرہی تھی۔

”فجر کی اذان ہے، یہ حضرت عمر نے فجر کی اذان کے لیے کہا تھا۔الصلوۃ خیر من النوم۔میں، جب سب سوتے سے۔۔اُٹھ نہیں سکتا آنکھیں نہیں کھلتیں زبردستی کھولتا ہوں اِس لیے کہ نماز نیند سے زیادہ اچھی ہے زیادہ پیاری۔“ وہ رونے لگا۔

”رو کیوں رہے ہو؟“ پریشانی سے پوچھا تھا۔( یہ لڑکا بھی نا اللہ!)

”رو رہا ہوں۔“ اُس نے ہچکی لی، ”رو رہا ہوں۔“ پلکیں جھپکیں، ہچکیاں بندھیں، کافی دیر گزر گئی اذان کی آواز اب نہیں آرہی تھی بہت دیر بعد جھکی پلکوں، روتی آنکھوں سمیت وہ بولا، ”سوچ رہا ہوں سوئے ہوئے کو تو جگانے کی ترکیب دے دی، جاگتے ہوؤں کے لیے کوئی خون کو گرماتا جملہ کیوں نہیں کہا؟“

٭٭٭

مگر قسمت کا ٹھکرایا نہیں ہوں!

”فلمیں دیکھتے ہو علی رضا؟“ بہت سی زنجیروں میں جکڑے شخص سے پوچھا۔

”ہوں۔“ وہ کراہ کر سیدھا ہوا

”تمہیں تو پھر پتا ہونا چاہیے۔“ وہ گھٹنوں کے بل اُس کے قریب بیٹھا۔

”ہر دوسری فلم ہر تیسرا ڈائیلاگ یہی ہوتا ہے۔“ اُس کی آنکھوں میں چمک اُبھری۔”اپنے دشمن کو کمزور مت سمجھ، میں نے دھوکہ کھایا تو تم بھی کھا گئے۔“

”میں ہاروں گا نہیں۔“ وہ زنجیروں میں قید آگے پیچھے ہلتا چلایا تھا۔”نہیں ہاروں گا“

علی حیدر قہقہے لگاتا رہا اور علی رضا چلاتا رہا ”نہیں ہاروں گا نہیں! ہاروں گا! نہیں ہاروں گا!“ بول بول کر وہ تھک گیا۔

”نہیں ہاروں گا!“ وہ بے دم ہوگیا۔”نہیں ہاروں گا!“ بے بس سا چلایا تھا۔”نہیں ہاروں گا!“

”ٹھیک ہے“ علی حیدر کھڑا ہوا انداز چیلنج کرنے والا تھا، ”جیت کر دکھا دو پھر۔“

”میں نے کہا میں نہیں ہاروں گا“ علی حیدر مسکرایا۔”اور میں تمہیں جیتنے نہیں دوں گا۔“

”علی رضا تم ہار ماننا ہی نہیں چاہتے اور علی حیدر نے تو سیکھا ہی جیتنا ہے“ اُس نےسر ہلایا۔”ٹف کمپٹیشن ہوگا۔“

٭٭٭

”بیٹی کیا ہوتی ہے۔“

”بیٹی گلا ب ہوتی ہے۔“

”بالکل نہیں گلاب تو مرجھا جاتا ہے نا!“

”بیٹی بھی تو مر جھا جاتی ہے نا!

”بیٹی چاندنی ہوتی ہے۔“

”چاندنی تو چند پل بعد گم ہوجاتی ہے۔“

”بیٹی بھی تو گم ہوجاتی ہے۔“

”بیٹی ہنسی ہوتی ہے خوبصورت ہنسی“

”ہنسی چاہے کتنی بھی خوبصورت ہو چند پل کھلکھلا کر خاموش ہوجاتی ہے۔“

”بیٹی بھی تو خاموش ہوجاتی ہے۔“

”بیٹی بہار ہوتی ہے۔“

”بہار آتی ہے اور پھر چلی جاتی ہے خزاں چھوڑ کر۔“

”بیٹی بھی تو خزاں ہی بن جاتی ہے۔“

”بیٹی ہوا کا جھونکا ہوتی ہے۔“

”جھونکا تو ایک بار خوب صورتی سے آکر چلا جاتا ہے۔“

”بیٹی بھی تو آکر چلی جاتی ہے۔“

”بیٹی شبنم ہوتی ہے خوبصورت سفید قطروں کی طرح شفاف جو دھوپ پڑنے کے بعد نظر نہیں آتی۔“

”تو بیٹی کہاں نظر آتی ہے؟“

”بیٹی زندگی ہوتی ہے۔“

”زندگی چاہے کتنی بھی ہو ایک نہ ایک دِن ختم ہوہی جانا ہے اُسے۔“

جانے کیوں وہ کہہ نہ پائی۔”بیٹی بھی تو ختم ہوجاتی ہے۔“ جانتے ہو کیوں؟

٭٭٭

میرے ظرف کا یہ قصور تھا
کہ میں درد دِل نہ چھپا سکا!

”تو تم ایک بار پھر سے جا رہے ہو؟“ پوچھا تھا اُس سے کسی نے۔

وہ جو تیار تھا ”ہاں“ اُس نے سرہلایا۔”جینے کے لیے؟ یا مرنے کے لیے؟“ خاموشی تھی پھر خود ہی پوچھ لیا۔

”یہ معلوم ہے تمہیں بچ کر آ سکو گے؟“ اُس نے غور سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔

”نہیں۔“ نفی میں گردن ہلائی۔

”پھر کیوں کیوں جارہے ہو؟“ اُس نے روکنا چاہا تھا۔

”پرندوں کو بھی پتا ہو تا ہے کہ اُن کے پر وہ ان کو کبھی نہ کبھی موت کی سر حد پر لے جائیں گے کبھی تم نے اُنہیں پروں کے بغیر دیکھا ہے۔“

٭٭٭

وہ تھی کمپیوٹر ٹرالی اُسے کہا بھی یہی جاتا تھا کمپیوٹر ٹرالی۔کمپیوٹر ٹرالی بھی ٹرالی میں فرق وہ دونوں ٹرالی کیا ہوتی ہیں پھر ایک پہ ٹی وی، دوسرے پر کمپیوٹر رکھا جاتا ہے ہاں وہ تھی کمپیوٹر ٹرالی، نام کی کام کی نہیں ارے! کام کی تھی نا!دیکھو تو ذرا غور سے دیکھو!

 سب سے اوپر کیا تھا؟

لیکن لگ تو وہ سنگھا ر میز ہی رہا تھا ایک طرف دنیا بھر کے کُشن دوسری طرف جہاں بھر کی کرسیاں درمیان میں چوکور شیشم پلاسٹک کا جس کے نیچے گنڈا ( ہینڈل ) ہوتا ہے نا اُسے پکڑ نے کے لیے وہ والا وہ والا بھی جس کے پچھلی طرف گوری چٹی انگر پڑنی ' ہوتی ہے ہاں بالکل وہی والا اُس کے نیچے ایک خانہ تھا!

وہاں تھا کاجل کالی نہیں رنگ برنگی( ٹک ٹک ) کرنے والی نہیں پلاسٹک کے ہئیر بینڈ پونیاں ایسی ہی چیزیں اُس کے ساتھ ہی دائیں بائیں دو قدرے بڑے خانے تھے وہاں کیا تھا؟ ایک طرف چوڑیاں رنگ برنگی پیکٹ میں بند چمکیلی چوڑیاں ہاں دوسری طرف، دوات قلم ہر رنگ کے ہر روپ کے اور اس کے نیچے جہاں مانیٹر ہوتا ہے نا!کتابیں تھیں جیسے لائبریری میں ہوتی ہیں کھڑی کھڑی، ٹیڑھی میڑھی جہاں کی بورڈ رکھتے ہیں نا وہاں پڑا تھا گتا (پیپر بورڈ) وہی والا جو صرف امتحانوں کے دِنوں میں کام آتا ہے اور جہاں ہوتا ہے نا ماؤس وہ جگہ خالی تھی فی الحال یہ نہیں کہ وہ سوتیلی تھی بالکل نہیں وہ ذرا خاص تھی تھوڑی ڈراؤنی والی وہاں پر نا سال میں تین دفعہ کچھ رکھا جاتا وہ تھا ایک سفید کاغذ جس پر کچھ نمبر اور کچھ لفظ لکھے ہوتے تھے کیا کہتے ہیں اُسے نام بھی تھا اُس کا سوچو کیا تھا!

ہاں یاد آیا ڈیٹ شیٹ! سی پی یو رکھنے کی جگہ پر فائلز تھیں کون سی والی بھلا! کچھ کریکٹر سرٹیفیکٹ، کچھ بل، کچھ ڈاکٹر کی فائلز (وغیرہ وغیرہ)۔

سب سے نیچے میں نے تو سنا تھا وہاں سی پی یو رکھا جاتا ہے وہاں کیا تھا!

وہاں پر ایک برش تھا شوز پالش کرنے والا اور کالی پا لش بس ارے ہاں!وہ کالے شوز بھی تو تھے نا جو سارا سال نہیں پھٹتے تھے بلکہ پوری زندگی نہیں پھٹتے۔۔ہاں تب بدلتے جب ان میں پاؤں نہ آتے اور ایسا تو بہت کم ہوتا نا کیونکہ جب نئے لیے جاتے تو دو نمبر بڑے ہی لیے جاتے پھر اُن کے اگلے حصے میں پرانے موزے، اخبار کے ٹکڑے یا پھر کوئی سا بھی رف کپڑا ڈال دیا جاتا!

وہ کاغذ پر لکھتی جارہی تھی جب آپا نے اُسے پکارا۔

 ”ابا بلا رہے ہیں۔“

وہ پیر جوتوں میں ڈالتی باہر بھاگی اور آپا نے اُس کی کرسی سنبھالی، اُس کا کا غذ قلم اٹھا یا اور لکھنا شروع کیا۔

وہ ڈریسنگ ٹیبل تھا، وہ اسٹڈی ٹیبل تھا!

کیا کیا تھا نا وہ۔ ارے! ایک بات تو بھول گئی وہ ڈائننگ ٹیبل بھی تھا کیا کیا تھا نا وہ بھلا کیسے! جو کبھی اکیلا رہ جائے کھانے میں۔جب سب چٹائی پر ساتھ بیٹھ کر کھاچکے ہوں تو اکثررہ جاتی 'بیچاری' اکیلی۔آنکھیں ملتی اس جگہ جہاں کتابیں پڑی تھیں۔ارے! ہاں نا بھئی وہی والی جگہ جہاں مانیٹر رکھے ہیں، کیونکہ وہ کمپیوٹر ٹیبل تھا اور وہاں مانیٹر نہیں رکھا تھا کتابیں تھیں وہاں ہی، سامنے پڑیں دو، تین کتابیں ایک طرف کھسکائیں کھانے کی ٹرے رکھی کرسی گھسیٹی اور کھا لیا یہ تھی کمپیوٹر ٹرالی کی کہانی ہاں۔ہاں بھئی وہی کمپیوٹر ٹرالی جس پہ کمپیوٹر رکھا جاتا ہے اور اِس کمپیوٹر ٹرالی پہ کمپیوٹر نہیں رکھا گیا تھا جانے کیوں؟

دائیں طرف کمرے کا دروازہ تھا اور اس کے بالکل سامنے ایک چارپائی جو بالکل بیڈ کے جیسے لگتی تھی تین اچھی، اچھی موٹی، موٹی نئی والی وہ جو بالکل نئی نکور ہوتی ہیں نا جن میں سے عجیب سی خوشبو آرہی ہوتی ہے ہاں وہی والی اور اُس کے اوپر گلابی رنگ کی بڑے بڑے پھولوں والی کاٹن کی چادر بچھائی گئی تھی اُس کے ساتھ ہی نیچے جوتوں کے چار ڈبے تھے خالی اور اُن کے اوپر شیٹ بچھی تھی خاکی رنگ کی وہی رنگ جو مجھے درہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا مگر، ہائے رے مجبوری کسی اور رنگ کی شیٹ نہیں تھی نا گھر میں!

اس پر پڑے تھے پلاسٹک کا گلاس جگ بھی پڑا تھا مگر چارپائی کے نیچے کالی، نیلی، سیاہی والے نہیں ایک رجسٹر وہی خراب سے رنگ والا پسند نہیں تھا مجھے، یعنی درہ کو، مگر وہی مسئلہ کیا؟

مجبوری بھئی!دوسری طرف وہی والی کمپیوٹر ٹرالی تھی۔جہاں کمپیوٹر کے علاوہ سارا جہاں آباد تھا اوراس کے قریب ایک گدا پڑا تھا گدے پہ وہی گلابی، بڑے پھولوں والی چادر تھی اور پھر کمرے کے بیچوں بیچ میں تھی، یعنی درہ اس کمرے کی آدھی ادھوری مالک بکھرے بالوں میں بال پوائنٹ پھنسائے نیلا والا، وہی جو پانچ روپے کا ملتا تھا نا اور ہاتھ میں کچھ صفحے لیے اور صفحے کالے کررہی تھی۔یہ بھی مجھے پسند نہیں، لیکن وہی مجبوری سچ میں اور یہ پانچ والا نہیں تھا انک کر کے بند اور کھلنے والا نہیں تھا اس کا کالے رنگ کا ڈھکن تھا پیچھے سے بھی تھوڑا سا کالا تھا باقی سارا پیلا اچھا پلاسٹک نہیں اچھا قلم تو اچھے پیسوں سے ہی آتا ہے نا!

اور اچھے پیسے تو نہیں ہیں میرے پاس!

”بہت خواہشیں ہیں میری۔“ وہ لکھتے لکھتے بڑبڑائی۔

”ہاں۔“پریشے آپا پاس سے گزریں۔”جن میں ایک فون بھی تھا نا۔“

”آپا! موبائل ہوتا ہے۔“

”ہاں وہی والا موبائل جو تمہارے۔“رک کرآپا نے جوتوں کے ڈبوں کو بجایا۔”بیڈ کی اِس سائیڈٹیبل پر ہونا ہوتا۔“ وہ ہلکے سے ہنس دی۔

”اگر میرے پاس موبائل ہوتا تو قسم سے پریشے آپا وہاں نہ ہوتا۔“

”کہاں ہوتا؟“

”میرے ہاتھ میں۔“ آکھٹے ہنسی تھیں وہ دونوں۔”ہر پل، ہر لمحے۔“ انگڑائی لی، کھڑی ہوئی گود میں پڑی ”کچی پینسل“ لڑھک کر چارپائی کے نیچے پہنچ گئی گھوم کر اُس نے ادھر اُدھر دیکھا۔

”میں تھک گئی آپ صفائی کرلو۔“ گدے پربیٹھتے بیٹھتے آپا رکیں، ہاتھ میں پکڑی سبزی کی ٹوکری کو دیکھا ایک نظر کھڑی بہن کو جو کھڑکی سے باہر نظارے میں مگن تھی وہ کھڑی تھی پھر سے بیٹھ جاتی تواُٹھانا محال تھا۔صفائی کبھی بھی نہ ہو پاتی۔محترمہ کہتیں ( اب میرا موڈ نہیں رہا اپنا کمرہ صاف کروانے کا۔)سبزی نے تھوڑا ہی کہنا تھا، اب میرا موڈ نہیں رہا خود کو کٹوانے کا۔

باورچی خانے میں جا کر ٹوکری پٹخی۔

”بد تمیز۔“ باہر نکل کر کمرے میں جھانکا وہ نہیں تھی۔مڑکر دیکھا باہر بالکونی میں کھڑی جائزہ لے رہی تھی، نیچے کھڑی سڑک کا، بالوں میں ہاتھ چلاتے اُس نے بائیں طرف دیکھا تھا۔

”ہا!!“ پیچھے مڑ کر آپا کو دیکھا وہ نظریں چرا کر اندر بڑھ گئیں وہ بے یقینی سے دیکھتی رہی، اور پھر دوبارہ نیچے دیکھا۔گاڑی دو جوان سر پر کیپ رکھے پاؤں میں بڑے سے شوز پہنے۔

”ہائے ربا۔!“ سینے پر ہاتھ رکھ کر واپس مڑی۔”پریشے آپا! کرنل انکل آئے ہیں؟“ وہ تیز قدم بڑھاتی اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی وہ ایک طرف ہٹیں چادر اُٹھائی زور زور سے جھاڑی واپس بچھانے لگیں ”آپ کو معلوم تھا۔“ کمر پر ہاتھ رکھ کر اُن کو گھورا۔”تھا یا نہیں۔“وہ اپنی آواز میں زور دے کربولی۔

وہ کمر پر ہاتھ رکھے آپا کو گھورتے ہوئے بولی۔”بتایا کیوں نہیں؟“ آپا نے سر اُٹھایا تھا۔

”اللہ کا نام ہے جانا مت ابا نے منع کیا ہے۔“ اُس نے دانت نکالے۔

”منع کیا ہے ابا نے؟“ پریشے آپا وہیں بیٹھ گئیں چارپائی پر، دونوں ہاتھوں سے سر تھاما، نیچے دیکھنے لگیں سیمنٹ والے پکے فرش کو اچانک سر نظر آیا تھوڑی نظریں اٹھائیں وہ سجدے کی حالت میں تھی۔آپا مسکرائیں ایک طرف سر کیے وہ چارپائی کے نیچے ڈھونڈ رہی تھیں کچھ، پھرکھڑی ہوئی آپا کو دیکھا۔

”آپا!“ ایک ہاتھ میں جوتا تھا، جوتا نیچے پٹخا۔”میری دوسری چپل نہیں مل رہی۔“ اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے، پاؤں سے ہلکے سے اُس کے جو تے کو چھوا۔

”دونا۔“اُس نے اپنی آپا سےجوتے مانگے تھے، انہوں نے اُتار دیے۔جو جلدی سے اُس نے اپنے پاؤں میں ڈالے اپنے سنگھار میز کے سامنے کھڑی ہوئی پلاسٹک کی کنگھی سے سامنے کھڑے بال بٹھائے پونی اتاری آگے پیچھے سے بال آکھٹے کر کے جوڑے میں لپیٹے پونی باندھی مڑی دوپٹا اتار کر جھاڑا صحیح پھیلا کر سر پر اوڑھا۔دائیں بائیں طرف پلو گرائے اور آہستہ سے قدم اٹھاتی بیٹھک کی طرف بڑھی۔

٭٭٭

ہلکے سے رنگ کا قالین بچھا تھا کمرے میں، دروازے کے بالکل سامنے لکڑی کا صوفہ پڑا تھا اور اس پہ قالین سے بھی زیادہ پھیکے رنگ کی گدیاں دائیں طرف میں تین خانے بنے ہوئے تھے۔پہلی میں، ابا کی جوانی تصویر کھلا سفید رنگ کا ٹراؤزر پہنے، سفید رنگ کی ہی شرٹ سامنے بٹن اور بالکل کھلے ٹراؤ زر کے جیسے بازو بھی تھے۔کالی لمبی سفید مونچھیں، جو لبوں کے دونوں طرف گرائی تھیں۔

اُس کے ساتھ میں ٹرافیاں پیلے، سرخ رنگ کی جو سب پریشے آپا کی تھیں اور اس کے ساتھ لگی کیل کے ساتھ لٹکے میڈل جس کے ربن سرخ، گلابی اور مختلف رنگ کے( وغیرہ وغیرہ ) تھے اورگو ل ساپلاسٹک کا پیلا سا، نشان جہاں حسنِ کارکردگی، شاندار کارکردگی لکھا تھا اس کے نچلے خانے میں چائے کی پیالیاں نیچے جگ گلاس اور دوسری طرف دروازے کے ساتھ ایک چارپائی، اورچارپائی کے بالکل ساتھ دیوار پر لگی لکڑی کی کھڑکیاں جو اندر کمرے کی طرف کھلتی تھیں

جالی بھی تھی ہاں اِس چارپائی کے نیچے نئے والےموڑھے ھی پڑے تھے، جو خاص الخاص مہمانوں کے آنے پر نکالے جاتے اور پھر اُن کے کور دھو کر واپس اُن پر چڑھا کر واپس رکھ دیے جاتے۔ابا اور کرنل انکل نے ایک ساتھ دروازے کی جانب دیکھا تھا وہاں سے کچھ دیر پہلے کافی روشنی آرہی تھی اچانک کیا ہوا تھا وہ کھڑی تھی، انگلیوں کو مڑوڑتی، جیسے ہی ابا نے دیکھا

 ”اوہ“آنکھیں پھیلائیں۔”آپ کب آئے کرنل انکل۔“ابا کی نظروں کو نظر انداز کردیا۔دونوں ہاتھ پیچھے کرکے دائیں طرف کے پلو کو چٹکیوں میں پکڑ کے سر پر جمایا، ہلکے سے مسکرائی۔

”السلام علیکم۔“مسکراتے ہوئے جواب ملا، آگے بڑھ کر اُن کے قریب سر جھکایا، جہاں پر دھیرے سے ہاتھ پھیرا اُنہوں نے پھر ابا کی طرف دیکھا اُس نے۔

”میں تو ابا! آپ کے پاس بیٹھنے آئی تھی بہت دِل چاہ رہا تھا گپ شپ لگانے کو۔“ کرنل انکل کی طرف دیکھا۔”اب تو۔“ ہونٹوں پر انگلی رکھی۔

”آپ کے دوست آئے بیٹھے ہیں تو میں چلتی ہوں۔“ کہہ کر گئی نہیں، بلکہ کھڑی رہی۔”تو پھر اب میں جاؤں ابا۔“ زور دے کر پوچھا، معصومیت سے، آنکھیں جھپکاتے ہوئے۔”ارے جاؤ کیوں گڑیا۔“ اف کرنل انکل آپ سچ میں اچھے ہیں، اُس نے دِل میں سوچا۔

”بیٹھو۔“ ارد گرد دیکھا پھر خودہی سامنے پڑے لکڑی کے میز پرجو سفید چادر سے ڈھکا تھا، بیٹھ گئی۔بولتی رہی، بولتی رہی۔ابا تھک ہار کر باہر نکل گئے، کن انکھیوں سے اُس نے ابا کو جاتے دیکھا۔

”انکل، انکل۔“ رازداری سےتھوڑا آگے ہوکر پوچھا، انکل حیران۔”آپ ڈائری لکھتے ہیں؟میرا مطلب ہے لکھتے رہے ہیں جوانی میں۔“ انکل نےحیرانگی سے اِسے دیکھا۔”کیوں؟“

”مجھے جاننا ہے۔“وہ پیچھے ہوئی۔”آرمی والوں کے بارے، کیسے ہوتےہیں، کیا کرتے ہیں، کیا کھاتے ہیں، کیا پیتے ہیں۔“وہ ہنس دیے۔اُس نے ناراضگی سے انکل کو دیکھا۔”آپ ہنسے کیوں؟“

”کیا کھاتے ہیں، کیا پیتے ہیں۔“وہ ہنستے رہے۔

”ہاں اتنے فٹ جو ہوتے ہیں۔“اور انکل ہنستے رہے۔

”ہنسیں مت، میں چلی جاؤں گی۔“وہ ہنستے رہے۔”آپ ہنس لیں کھل کر، جارہی ہوں میں۔“وہ کھڑی ہوئی، جانے لگی۔”ارے بٹیا، بمشکل ہنستےہو ئے بولے۔”بیٹھو۔“اُنہوں نے اشارہ کیا تھا وہ دھم سے بیٹھی گئی۔”بولو بیٹا۔“وہ انگلیاں مڑوڑتی رہی، ناراضگی چہرے پہ لیے، منہ لٹکائے۔

”اچھا کیوں شوق ہے جاننے کا۔“ اُنہوں نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے سوال کیا۔وہ مسکرائی، آگے ہوئی۔”پہلے شوق تھا، اب مجبوری۔“

”مجبوری۔“اُن کی آواز میں حیرانگی تھی۔”شوق کا تو سمجھ میں آتا ہے، بیٹا مجبوری کیسی؟“

”وہ نا۔“وہ ہچکچائی۔ ”ابا ہر وقت کہتے رہتے ہیں فضول لڑکی۔“ ایک دم رُکی۔سامنے دیکھا، سوچا بتائے یا نہ بتائے۔ہووں بتا دے، کرنل انکل اپنے ہی تو ہیں۔اُس نے دِل میں سوچا۔

”ہاں تو ابا کہتے ہیں کام نہیں کرتی کھاتی ہے، سوتی ہے، کتابیں چاٹتی رہتی ہے۔دادی کہتی ہیں اتنا پڑھتی تو ہو دو کتابیں ہی لکھ ڈالو۔ اب میں نے کیا سوچا ہے کہ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ تو بننے سے رہی۔“ وہ تیز تیز بولتی جارہی تھی۔ ”میں نے سوچا ہے درہ دجانہ ہی بن جاتی ہوں۔“

”درہ دجانہ کون ہے گڑیا۔“ جتنی حیرانگی سے پوچھا، وہ اس سے زیادہ حیران رہ گئی۔”آپ“ اُس کی آواز میں بے یقینی تھی۔”آپ“ اُس کی آواز میں بے بسی تھی۔”آپ درہ دجانہ کو نہیں جانتے انکل۔“

”نہیں۔“ کتنی بے یقینی سی تھی اُس کی آنکھوں میں، اُس کے چہرے پر ”بہت اچھی رائٹر ہے۔“ ر ک کر تاثرات دیکھے۔”کرنل انکل، بہت خوب صورت ہے، شریف بھی ہے۔“ اُس نے ایک اور خوبی گنوائی۔”خوش اخلاق، خوش گفتار جانے کیا کیا۔“

”گڑیا۔“اللہ اُس کا دِل دہلا۔ابا کی آواز تھی۔”تنگ مت کرو کرنل کو، جاؤ۔“وہ بیٹھی رہی۔”جاؤ گڑیا۔“

”تم لکھتی ہو۔“ کرنل انکل نے لٹکا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔اُس نے سراٹھایا خوشی سے، سرشاری سے۔”جی بالکل۔“ زور زور سے سر ہلایا۔”بہت اچھا لکھتی ہوں کرنل انکل سچی۔“

”اچھا۔“ وہ خوش ہوئے۔”کیا لکھتی ہو، پڑھاؤ گی نہیں۔“ وہ خوشی سے اُٹھی، گئی اور آئی۔”یہ لیں۔“ ایک پرانی بوسیدہ سی کاپی پکڑائی۔انہوں نے حیرانگی سے کاپی کودیکھااور پھر اُسے۔”یہ۔“ بے یقینی سے۔وہ گڑبڑائی، پھر سنبھلی۔

”اصل میں نا ابا کہتے ہیں، تم نے پیج ہی ضائع کرنے ہیں، پیسے، وقت صفحات ضائع کرو گی تومجھے نا، اپنے پیسوں کا سب کرنا پڑتا ہے اور میں شاہ جہاں کی بیٹی تو ہوں نہیں۔ابا کی بیٹی ہوں، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے۔میں فی الحال بہت غریب ہوں اور پچھلے ہفتے دادی نے پیسے دیے تو۔۔۔“

”گڑیا بیٹا، یہ کیا لکھا ہے؟“وہ اُس کاپی کو دیکھتے ہوئے بولے۔”افوہ۔کرنل انکل مانا کہ رف لکھا ہے، غور سے دیکھیے نا۔“ کاپی اٹھا کر آنکھوں کے قریب کی۔غور سے دیکھا، کیا تھاوہاں۔کیڑے کیڑے، بڑے کوئی چھوٹے۔وہ کوئی کورس کی کاپی تھی ایک لائن چھوڑ کر کام لکھا تھا۔جو لائینیں اُس بچے نے چھوڑ رکھی تھیں۔اُس لائن میں اس بچی نے لکھ دیا تھا۔کیا لکھا تھا غور سے پڑھیے۔

”بڑے سارے لان میں وہ جھولا جھول رہی تھی، وہ آیا چھپ چھپ کر۔دونوں میں لڑائی ہوئی (وغیرہ وغیرہ ) ”یہ کیا ہے گڑیا بیٹا۔“ سر اٹھا کر انہوں نے ایک بار پھر حیرانگی سے اُسے پوچھا۔”نیٹ پیج نہیں ہیں نا انکل۔یہ رف ہیں، نیٹ لکھوں گی ناتو۔“

”میں پوچھ رہا ہوں، اِس کامطلب کیا ہے۔ایسے بھی کوئی لکھتا ہے کیا۔“

”اوفوہ کرنل انکل۔“ وہ جھنجھلائی۔”معلوم ہے نہیں لکھتا اس کا مطلب یہ ہے کہ۔“ اُس نے سوچا تھا۔”ہاں۔اِ س کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب ڈانٹتے ہیں۔“ کاپی ہاتھ سے لی۔”آگے میں لکھ لوں گی نیٹ پیج پہ، کیا ہے ابا نے پیسے نہیں دیے تو نیٹ پیج کیسے لوں۔ صرف اِس لیے میں نے جو میرے ذہن میں آتا ہے ہلکا پھلکا لکھ لیتی ہوں۔پھر آگے یہ وہ وغیرہ وغیرہ لکھ لیتی ہوں تاکہ جب میں نیٹ پیجز پر لکھوں گی تو وہاں پر آگے میں لکھ لوں گی بہت سا۔“

”اچھا اچھا۔ہاتھ اٹھا کر اُسے روکا۔”سمجھ آگیا۔اب بتاؤ یہ ڈانٹ ڈانٹ کیوں لکھا ہے۔“

”او فوہ کرنل انکل۔کچھ نہیں سمجھتے آپ، اب ہر وقت ڈانٹیں گے۔میں ڈانٹ سنوں گی تو پھر یہی لکھوں گی۔بس اِسی لیے تو پوچھا کیسے ہوتے ہیں آرمی والے۔ناول لکھوں گی میں، بس اتنا پتہ ہے، لمبا ہوتا ہے بہت۔“اُس نے زور دیا۔

 ”بہت لمبا۔اب کیسے لکھوں وہ لمبا ناول۔ڈانٹ کے سوا کچھ آتا ہی نہیں۔اب آپ سے لوں انفارمیشن کچھ بولنا پڑے گا۔اگر میرے پاس پیسے ہوتے تو میں دس ڈائریاں خرید دیتی آپ کو، بیس باتیں بھی۔چالیس نہیں۔بس زیادہ لاڈ نہیں کرسکتی میں اور پیسے والا تو بالکل بھی نہیں، میرے پاس تو پہلے ہی پیسے نہیں ہیں۔اباتو نیٹ بیج کے لیے بھی پیسے نہیں دیتے۔“ اور کرنل انکل نے پھر سے ہاتھ اُٹھا کر اُسے روکا۔

”اچھا بیٹا میں دے دوں گا انفارمیشن آپ کو۔“وہ رکی دیکھتی رہی اور پھر ایک دم مسکرائی۔”پکا؟“ سر ہلایا تھا اُنہوں نے۔”جی!“وہ خوش تھی بہت خوش۔”ارے!پریشے آپا دو کپ چائے تو لاناذرا میرے اور کرنل انکل کے لیے۔“وہ وہیں میز پہ پاؤں اُٹھا کر چوکڑی مار کر بیٹھ گئی۔

”صرف میرے اور کرنل انکل کے لیے۔“ وہ حیران ہوئے۔”ہاں نا اب ہم دونوں اپنے نئے ناول کو ڈسکس کریں گے۔“ حیرانگی۔”کون سے ناول کو؟“ سر اُٹھا کر ابا کو دیکھا “نئے!“اُس نے زور دیا۔”سمجھ آیا؟“

”چلیں پھر۔“ دونوں ہاتھ آپس میں ملے تھے اُس نے۔”کرنل انکل آپ کا بڑا بیٹا ڈاکٹر ہے نا۔“سر ہلایا۔”پھر کل اُن کو بھیجیے گا کل ڈاکٹروں پر ناول لکھوں گی پھر جو سب سے چھوٹا بیٹا ہے ہاں وہی جو سکول جاتا ہے نوجوان لڑکیوں کے بارے میں پوچھوں گی۔“

”مگر میرا بیٹا لڑکا ہے۔“ وہ حیران ہوئے۔

”معلوم ہے!“

”تو پھر لڑکیوں کے بارے میں کیوں پوچھو گی؟“وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔”افوہ! انکل جی آپ بھی نا بس اب لڑکیوں کے بارے میں لڑکوں کو معلوم نہیں ہوگا تو کسے ہوگا چیک کرنا کبھی بیٹے کو ہاں بھیجنا بھی اسے میرے پاس کچھ انفارمیشن لوں گی کچھ مفت مشورے بھی دے دوں گی اور ہاں وہ اُس والے بیٹے کو بھی بھیجیے گا “ذہن پر زور دیا، نہ نام یادآیا نہ پروفیشن کرنل انکل مسکرائے پر اِسرار مسکراہٹ۔

”کون سا والا؟“ ابا نے پوچھا۔”وہ کرنل انکل وہ وہ والا جو “ خوب سوچا وہ سوچتی رہی۔کرنل انکل ہلکے سے ہنسے۔”وہی الو کے پٹھے والا؟“

ابا حیران تھے بے حد حیران پریشان بھی تھے بے حد پریشان (کون الو کا پٹھا اُنہوں نے سوچا تھا)

٭٭٭

گلی تھی یہاں سے وہاں تک جاتی لمبی گلی اس گلی کہ بالکل درمیان میں پانی کامیلے رنگ کا کین پڑا تھا اُس کی سیدھ میں سامنے ذرا دوراینٹ کھڑی تھی، اُس کے قریب چھوٹا سا بچہ گیند اُٹھائے بے زار چہرہ لیے تھوڑا دور دیکھے جارہا تھا سامنے کیا تھا؟پانچ لڑکے بارہ لڑکیاں اور ہاتھ میں ایک روپے کا سکہ جسے ہوا میں اُچھالا گیا وہ نیچے آکر زمین پر گر گیا صرف ایک چہرے پر اشتیاق تھا باقی سب چہرے بے زارتھے۔

”اوہ!“ اکھٹی آواز بلند ہوئی ”خدا کے لیے بس کردو آپا بس کردو۔“ چہرے پر سے پسینہ پونچھ کر اُس گیارہ سالہ بچے نے ہاتھ باندھ لیے ”ٹاس کر کر کے ہی پسینہ نکل گیا اب کھیلنے کے لیے کچھ تو جان باقی رہنے دو۔“ اُس نے گھور کر دیکھا تھا اُس بچے کو۔

”سمجھ نہیں آتی ایک بار کہانا میں ہی ٹاس جیتوں گی اور جب جیتوں گی میں تو پہلے کھیلوں گی بھی میں۔“اُس نے گردن اکڑائی۔اُس بچے نے ہاتھ ڈھیلے چھوڑ دیے۔

”کہا نا پہلے بیٹنگ کر لو۔“ بچہ بے بس سا بولا۔

”ارے جاؤ احسان نہیں چاہیے مجھے تمہارا اور یونہی کیسے کھیل لوں جب تک ٹاس نہیں جیتوں گی، کچھ نہیں کروں گی نہ کھاؤں گی، نہ پیوں گی، نہ ہنسوں گی، نہ کھیلوں گی۔“وہ رکی تھی۔

”نہیں کھیلوں گی ضرور، پکا کھیلوں گی مگر ٹاس جیت کر۔“

سکہ پھر ہوا میں اچھال دیا۔ایک زور دار آواز آئی سکہ ہوا میں تھا سب نے مڑ کر دیکھا سکہ زمین پہ تھا سب کے کھلے منہ ہونق چہرہ کانپتا بدن کیا تھا سامنے بڑی سی خوب صورت سی گاڑی اور اِس میں سے نکلتا خوب صورت نوجوان وہ باہر نکل کر سیدھا کھڑا ہوگیا دیکھتا رہا وہ سب اُس کو دیکھتے رہے، ایک دوسرے کو۔پہل نوجوان نے کی۔وہ بشاشت سے ان کی طرف آیا، مسکرا کر سلام کیا۔کیا اکڑ تھی گردن میں۔

 ”کیا ہوا کبھی خوب صورت انسان نہیں دیکھا؟“سیدھے کھڑے کھڑے ہی نظریں گھمائیں اور اس نے دور کھڑی گاڑی جس میں آیا تھا، کو دیکھا۔”یا“ نظریں سیدھ میں کیں کھلے منہ کو بغور دیکھا۔”اتنی خوب صورت گاڑی نہیں دیکھی کبھی؟“وہ چند لمحے حیرانگی سے دیکھتی رہی وہ حیرانگی کی شدت تھی۔

”دیکھی ہے۔“ وہ دھاڑی سب نے بے اختیار کہا۔”اللہ خیر!“وہ دیکھتی رہی لال بھبھوکا چہرہ لیے۔”گاڑی بھی دیکھی ہے اور تم جیسے گھٹیا انسان بھی دیکھے ہیں۔“ وہ ہلکا سا چلائی تھی۔”بہت دیکھے ہیں۔“

”اوہ!“تو جس کو وہ حیرانگی کی شدت سمجھا تھا وہ تھی غصے کی شدت۔

”بہت دیکھے ہیں اتنے دیکھے ہیں، اتنے دیکھے ہیں، اتنے دیکھے ہیں۔“وہ ہاتھ پھیلا کر بولی۔”اتنے دیکھے ہیں اتنے دیکھے ہیں۔“ خاموش کچھ دیر سوچا۔”اتنے دیکھے ہیں کہ۔۔۔کہ۔“وہ رُکی۔”کہ اب مجھے یاد نہیں۔“

”اور تم۔“ شہادت کی انگلی اٹھائی۔”تم اُن سب میں سے زیادہ کمینے ہو۔“گھنی مونچھوں کے نیچے جو لب تھے وہ مسکرائے تھے وہ اُس کی مسکراہٹ دیکھ کر سلگ گئی (اگر جو یہاں میرے ابا نے دیکھا ہوتا) کچھ کہا ہوتا تو اِس خوب صورت۔(طنزاً سوچا تھا )نوجوان نے اُن کی بزرگی اُن کی سفید داڑھی کا بھی خیال نہیں کرنا تھا اور بہت کچھ کہہ دینا تھا بد تمیزی نہ سہی غصے سے اب اللہ جانے!اِن خبیث، کمینے لڑکوں کو تمام شائستگی لڑکیوں کو دیکھ کر کیوں یاد آجاتی ہے ہاں حسین لڑکیوں کو۔وہ مسکرا مسکرا کر سب سنتے رہتے ہیں ابھی جو پتھر بھی اٹھا کر ماروں تو پتھر۔وہ جو ٹکٹکی باندھے اُس ”حسین لڑکی“ کو دیکھ رہا تھا اُس کے گھورنے پر سیدھا ہوا۔

”اوئے۔“ اُس لڑ کے نے بالوں میں انگلیاں چلائیں تھیں (اللہ جانے لڑکی کو دیکھ کر بال کیوں یاد آجاتے ہیں، وہ دِل ہی دِ ل میں سوچ رہی تھی ) ”جی۔“ گڑ بڑایا۔”جی بولیے۔“ اُسے دیکھتا رہا۔(یا لڑکی کو دیکھ لو یا پھر بال بچالو)

”میری اینٹ کیوں توڑی؟“وہ اُسے دیکھتا رہا دیکھتا ہی رہا۔(گھٹیا) وہ لڑکا اُس کے گھورنے پر ہڑبڑایا۔”جی کون سی اینٹ؟“ پھر اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔وہ سامنےذرا دور ٹوٹی اینٹ پڑی تھی ساتھ نیلا کین۔”میں نے نہیں توڑی میں توڑ کیسے سکتا ہوں۔“ (کیسے معصوم بن رہا ہے میں نے نہیں توڑی، وہ دِل ہی دِل میں بولی)

”ہاں واقعی تم نے نہیں توڑی تمہاری اُس۔“ دور کھڑی گاڑی کو دیکھا۔”خوب صورت گاڑی نے توڑی ہے۔“( لڑکی ہے یا؟)

”میری گاڑی نے۔“ وہ حیران ہوا تھا۔”پر وہ تو وہاں ہے۔“

”میں نے کب کہا یہاں ہے وہاں سے نہیں توڑ سکتی؟“(شوخیاں مار رہا تھا کمینہ)

”کیسے توڑ سکتی ہے؟“

”تم وہاں سے گاڑی لے کے آئے ٹھیک۔“اُس نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ اُسے ہی دیکھتا رہا۔

”ٹھیک۔“ زور سے بولی۔

”ہاں ہاں ٹھیک بالکل ٹھیک۔“

”جہاں تمہاری گاڑی کھڑی ہے وہاں ہمارا کین تھا۔“وہ اب ٹھہر ٹھہر کر سمجھانے لگی۔”یہ جو نیلا والا کین ہے۔“ اُس لڑکے کی نظریں اُس لڑکی پر ہی تھیں۔”کین کو دیکھو۔“وہ تیز لہجے میں بولی۔

”سمجھ آئی۔“

”جی آگئی۔“ وہ کین کو دیکھتے ہوئے بولا۔

”تمہاری گاڑی نے اُس کو زور دار ٹھوکر ماری۔“

”ہاں تو۔“ نظریں اُٹھائیں کین سے گاڑ دیں لڑکی پر ”تو اینٹ کا کیا “

”تم اپنا منہ بند کر لو۔“ وہ چلائی تھی منہ بند ہوگیا تھا۔”جو میں کہہ رہی ہوں وہ سنو۔“

”سمجھ آئی؟“اُس لڑکے نے سر ہلایا۔”تمہاری گاڑی نے کین کو ٹھوکر ماری کین اُڑتا ہوا یہاں۔“ ہاتھ سے اشارہ کیا۔”یہاں اینٹ پر گرا اینٹ کھڑی تھی گر گئی بُرے طریقے سے گری بیچاری تو۔“ رُکی۔”سمجھ آرہی ہے نا؟“ سر ہلایا۔”ہوں۔“وہ چپ رہی کافی دیر۔

”آگے بولو۔“اُس لڑکے نے کہا۔

”آگے کیا بولوں یہ گری تو ٹوٹ گئی بس۔“

”تو اِس میں اتنا چلانے غصہ کرنے والی کیا بات تھی اینٹ تھی ٹوٹ گئی نئی لے لو۔“

”تمہارے سسرال والوں نے یہاں تمہاری ہونے والی بیوی کا گھر تعمیر کروانا ہے نا۔“

”کل ہی ٹرک آیا تھا اینٹوں کا جاؤ جاؤ، جا کر لے آؤ، نئی نکور اینٹ۔“وہ منہ کھولے اُس خوب صورت لڑکی کو دیکھتا رہا۔

”پچھلے دو دِن سے ہم کرکٹ نہیں کھیل پائے۔“وہ ایک بار پھر سے دھاڑی تھی۔”صرف اور صرف اِس۔“ جھک کر اینٹ کے ٹکڑوں کو اُٹھایا۔”اینٹ کی وجہ سے۔“ وہ رو دینے کو تھی بس۔”اِس محلے سے نا پید ہوچکی ہیں، یہ سلیم۔“ بچے کی طرف اشارہ کیا۔”اِس نے۔“ وہ روپڑی روتی رہی۔

”اُس نے کتنی مشکل، کتنے جتن کر کے ڈھونڈکر لائی تھی۔“(وہ حیران پریشان دِل میں ہی سوچے جا رہا تھا، ایک اینٹ کے لیے رو رہی تھی؟)

”چوری کر کے لائی تھی۔“ بچے نے تصحیح کی غصے سے (چوری کی ہوئی اینٹ کے لیےرونا؟ اُس نے پھر سے دِل میں سوچا )

”چلو جو بھی ہے۔“اُس لڑکی کے آنسو بہتے گئے۔”مشکل سے تو لائےتھے نا!“ وہ روتی رہی روتی رہی۔ایک دم جیسے جھٹکا لگا ہو سیدھی ہوئی بڑی بے دردی سے گال رگڑے آنکھیں دوپٹے کے پلو سے پونچھیں۔”اب تم۔“انگلی اٹھائی۔

”تم جاؤ گے اپنی اِس خوب صورت گاڑی میں۔“ گاڑی کو جن نظروں سے دیکھا تھا اُس نے۔(اللہ!)”اِس گاڑی میں جاؤ اور ہمیں اینٹ لا کر دو۔“

”کیا“ وہ حیران ہوا۔”کیا مطلب کیا ہے تمہارا میں اینٹ لینے جاؤں؟“

”ہاں اینٹ لینے جاؤ، اِس کا مطلب یہی ہے۔۔“

”کیا فضول بولتی جارہی ہو تم۔“ وہ لڑکا غصے سے مڑنے لگا۔

”ابا ابا۔“ وہ روپڑی۔” ابا ابا۔“ وہ چلانے لگی اونچا بہت اونچا۔”ابا ابا ابا “

”خاموش ہو جاؤ محلے والے اکھٹے ہو جائیں گے۔“وہ پریشان ہوا تھا۔”دیکھو دیکھو چپ کرو، پلیز میں۔“ارد گرد دیکھا کوئی نکل آیا تو کیا کہوں گا کیوں رلایا جوان جہان، لڑکی کو۔(دِل میں سوچ رہا تھا )”اوکے۔“ گہری سانس لی۔”اوکے میں لادیتا ہوں تمہیں اینٹ۔“اور وہ ایک دم خاموش ہوگئی تھی۔

٭٭٭

صبح سے دوپہر، دوپہر سے سہہ پہر اور سہہ پہر سے شام ہوچکی تھی۔شکر ہے شام سے رات نہیں ہوئی تھی کچھ دیر گزرجاتی تو وہ بھی ہو ہی جاتی!“

وہ ایک گھر کے گیٹ سے ٹیک لگائے کھڑی تھی پریشان حال دوپٹا زمین کو چوم رہا تھا کچھ دور سلیم پاؤں پر بیٹھا تھا ہاتھ میں مٹی لیتا ہاتھ کو سر سے بلند کرتا اوپر دیکھتا مٹھی میں سے پھسلتی مٹی کو دیکھتا مٹی ختم ارد گرد دیکھتا پھر سے وہی شغل شروع!

اُس کے بالکل قریب تارا بیٹھی تھی آلتی پالتی مارے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے گرد لپیٹے بیزار بہت ہی بیزار چہرہ لیے!

اور ذرا دور باقی سب بیٹھے تھے بیٹھے کیا تھے لیٹے تھے، شاید کچھ کچھ دیر میں وہ سامنے کھڑی خوب صورت گاڑی کو دیکھ لیتے ہاں وہی خوب صورت گاڑی جو اُس خوب صورت نوجوان کی تھی، جسے اُس خوب صورت لڑکی، نے گاڑی کو لے جانے نہیں دیا تھا اور کہا تھا۔

”تمہارا کیا بھروسہ واپس ہی نہ آؤتو۔“

”تو بے شک نہ آؤں کون سا خزانہ لے کر جارہا ہوں میں تمہارا۔“اُس نے بچہ پارٹی کو دیکھا، وہ سب اُس کی گاڑی پر چڑھ گئےتھے۔”اوہ! بدمعاشی۔“وہ آگے بڑھا گاڑی کا دروازہ کھولا۔”دیکھتا ہوں کیسے روکتی ہو جانے سے۔“اُس خوب صورت لڑکی نے ہاتھ میں لی اینٹ کا ٹکڑا دکھایا۔(تو گاڑی توڑے گی، توڑے کون سا میری ہے، اُس نے سوچا تھا ) پاؤں اٹھا یا گاڑی میں رکھنے کے لیے پاؤں پیچھے کیا اُس خوب صورت لڑکی کو دیکھا، ہاتھ میں ٹکڑا لیے ہاں اینٹ کا ہی، کبھی اُس کو تو کبھی گاڑی کو دیکھتی۔”ہاں۔“ سر ہلایا۔

”ہاں“

”بالکل بالکل یہی اینٹ تو لینے جا رہا ہوں۔“ وہ اُلٹے قدموں پیچھے مڑتا گیا مڑتا گیا پھر غائب ہوگیا اور وہ سب تب سے بیٹھے تھے انتظار میں۔

”گڑیا آپا بس۔۔کردیتے ہیں، کل کھیل لیں گے وہ لڑکا نہیں آئے گا۔“ سلیم نے کتنی بار کوشش کی تھی اُسے سمجھانے کی، منانے کی ڈراوے دیے، گھر سے لاکھ آوازیں آئیں، بچوں کے امی ابا بلانے آئے بے سود۔”کوئی یہاں سے اُٹھ کر گیا۔“ انگلی اٹھا کر وارننگ دی ”ایک انسان بھی یا انسان کا بچہ بھی مرا منہ دیکھو گے میرا اورمیرا مرا منہ دیکھنے سے پہلے سوچ لینا ابھی میری شادی نہیں ہوئی۔“ کوئی کیوں بے چاری خوب صورت لڑکی کو بھری جوانی میں مارتا سو سب بیٹھ گئے!

”یہ گاڑی کس کی کھڑی ہے؟“ایک جھٹکے سے سب نے سر اُٹھایا تھا، وہ تھوڑے بزرگ ٹائپ ایک انسان تھے اِن سب سے ہی پوچھ رہے تھے اُس کا دِل چاہا چلائے پھر جانے کیا سوچ کر دھیرے سے بولی۔

”یہ ایک کمینے، خبیث انسان کی گاڑی ہے۔“ بہت مہذب طریقے سے بتایا گیا تھا۔

”ایسے نہیں کہتے کسی کو بیٹا۔“ (انکل نے سمجھانا چاہا۔میں کسی کو تھوڑا ہی کہہ رہی ہوں کمینے شخص کو ہی کہہ رہی ہوں اور پھر انکل کو دیکھا)

”کیوں نہیں کہتے ایسے؟“ وہ ایک بار پھر سے غصے میں آگئی تھی، غصہ تو فٹ آجایا کرتا تھا اُس کو اور کتنی ہی دیر وہ اُس لڑکے کی شان میں قصیدے پڑھتی رہی۔اگلا پورا ایک گھنٹہ، پانچ منٹ اور پوردے دو سیکنڈ تک قصیدے پڑھے اُس خوب صورت لڑکی نے، خوب صورت نوجوان کے وہ اگر سا ت چھوڑ چودہ پردوں میں بھی چھپا ئے جاتے نا تو کم تھے کم تھے وہ پردے۔”وہ آئے تو الو کا پٹھا “وہ بول بول کر تھک رہی تھی جب کسی بچے نے اُس کو ٹوکا۔

”گڑیا آپا، گڑیا آپاوہ آگیا!“سلیم چلایا۔”کون؟“وہ ٹھٹکی۔

”ارے وہی آپا!الو کا پٹھا۔“سلیم کھلکھلایا تھا، دور سے چلتا ہوا پھولے سانسوں کے ساتھ آہستہ آہستہ وہ لڑکا قریب آیا قالِ رحم حالت تھی اُس کی۔

”یہ آپ کی اینٹ۔“ پھولی سانسوں کے ساتھ بمشکل اُس نے کہا۔کیا بن کے آگیا تھا وہ، خوب صورت نوجوان، مٹی سے اٹے جوتے بال کپڑے (جانے کہاں سے ڈھونڈکر لایا اُسےایک پل کے لیے ترس آیا تھا اُس پر، ہاں تو اینٹ بھی تو خود ہی توڑی تھی)دوسرے ہی پل اُس پر غصہ آنے لگا اُسے۔

”شہیر!“بزرگ انکل نے حیرانگی سے دیکھا۔(یااللہ!کیا یہ واقعی ہی شہیر ہی ہے )

”آپ پہچانتے ہیں اِس الو کے پٹھے کو؟“(ہائے اللہ! اگر کرنل انکل نے ابا کو بتادیا تو اُنہوں نے بھری جوانی میں مجھے ماردینا ہے۔میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی)وہ دِل ہی دِ ل میں سوچ رہی تھی۔

”جی بالکل یہ جو پٹھا ہے نا “ وہ مسکرائے تھے۔”یہ اِس ہی۔“ اُنہوں نے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا ہے۔”الو کا ہے۔“اور پھر کرنل انکل نے اُسے گھر لے جا کرکہا تھا۔”میری بیٹی تم زندگی میں سب کچھ کرنا پڑھنا لکھنا کھیلنا ہنسنا رونا سردیوں کی راتوں میں ماں سے چھپ کر آئس کریم کھانا ساون کی بارشوں میں، منع کرنے باوجود نہانا جو پیسے فقیر کو دینے کے لیے تمہیں دیے جائیں اُن کے بھی چپس کھا لینا تم بے شک مت پڑھنا کالج یونیورسٹی، سکول جانا موبائل، کمپیوٹر، ٹی وی، لیپ ٹاپ، واٹس ایپ، گوگل، فیس بک، ٹوئیٹر، سب۔ہر چیز دنیا کی ہر چیز سے جائز فائدہ اٹھانا مگر گڑیا بیٹی کوئی ایسا قدم مٹ اٹھانا جس سے تمہارا باپ کا لونی کی مسجد تک پہنچنے کے لیے قدم نہ اُٹھا سکے۔“ اور وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی رہی۔”میں نے ایسا بھی کچھ نہیں کہا، کرنل انکل۔“ بہت دیر بعد وہ بولی۔

”وہاں پر گلی میں کھڑے ہو کر تم ایک لڑکے کے بارے میں ایسے باتیں کررہی تھی، بے شک وہ لڑکا، میرا بیٹا ہے۔میری جگہ کوئی اور ہوتا، یا صرف محلے کی آنٹیوں نے ہی تمہاری باتیں سنی ہوتیں تو تمہارے بار ےکیا سوچتیں۔اور ایسی لڑکیوں سے کوئی بھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔“اور درہ بیچاری دہل گئی، شادی تو اُس کو ضرور کرنی تھی۔

٭٭٭

لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے!

”میں نے کہا تھا مجھ سے پیار کرو؟“کس بے رحمی سے پوچھا تھا۔”بولو میں نے کہا تھا پیار کرو؟“اُس کی آنکھوں سے شعلے نکل کر مقابل کو جھلسا رہے تھے ہاتھوں میں بازو دبوچ کر پوچھ رہا تھا یا گرج رہا تھا ”میں نے کہا تھا؟“

”نہیں۔“ سسکیاں لیتے وجود نے نفی میں سر ہلایا ”تو کیوں کیا؟“ ایک کرب تھا اُس کی آواز میں۔”پیار زبردستی نہیں کیا جاتا “ ہچکیاں لیتے وہ بمشکل بولی۔”خود بخود ہوجاتا ہے۔“

اُس کا چہرہ سوج چکا تھا، اُس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہتی تھی دیکھ نہیں پائی سر جھکا لیا۔

”مجھ سے کوئی امید مت رکھو۔“ وہ ایک جھٹکے سے اُس کا بازو چھوڑ کر مڑا تھا۔

”پیار کرتی ہوں تم سے۔“ وہ چلائی تھی اُس نے ضبط سے اپنی آنکھیں میچیں ایک قطرہ گال سے ہوکر کہیں زمین میں جذب ہوگیا تھا وہ تقریباًدوڑتا ہوا گاڑی کے قریب گیا ایک جھٹکے سے دروازے کو کھول کر گرنے کے سے انداز میں اندر بیٹھ۔ا اسٹئیرنگ کو دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ کر سامنے نیلے آسمان کودیکھ کر کُرلایا،

”کیوں اللہ کیوں؟“ایک ایک گہری سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی۔

”پیار کرتی ہوں تم سے۔“ اُس کو کسی کی آواز آئی تھی۔بائیں طرف اُس کے سینے میں تیزدرد اٹھا وہ سانس نہ لینے پایا یا خود ضبط کی ہچکی لی نچلے لب کو شدت ست دانتوں تلے دبایا۔

”بہت پیار کرتا ہوں تم سے، میں بھی بہت پیار کرتا ہوں تم سے۔“آنکھوں سے آنسو دِل پرگرا تھا!

٭٭٭

رات کا آخری پہر تھا لاؤنج میں ہلکی سی روشنی تھی، بہت ہلکی، وہ نظر آرہا تھا لاؤنج کے عین درمیان میز پر آلتی پالتی مارے سر پر ہاتھ رکھے، دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا! کافی دیر تک شنوائی نہ ہوئی تو بین شروع کر دیے۔”میں یتیم ہوں نا میں یتیم ہوں نا!“

”میرے اللہ!“ جہاں جہاں جس جس کے کان میں خوب صورت آواز پڑی لبوں سے بڑی خوب صورتی سے ”اللہ“ کا نام ادا کیا۔دِن میں کتنی بار یہ یاد کرواتا تھا نا اللہ کو، ثواب سمیٹنے کا بہت شوق تھا اُسے۔اچانک اُس کے نام کی پکار پڑی بین کرتے لب رُکے، یونہی سر پر ہاتھ رکھے رکھے سر اُٹھایا، ماں تھی اُس کے سامنے وہی ظالم بے رحم ماں، دِل دھڑکا اُس کا، ڈانٹ پڑے گی۔

”ہائے!میرا باپ مر گیا، میں یتیم ہوگیا۔“وہ پھر سے زور و شور سے سر ہلاتے ہلاتے شروع ہوگیا۔

اب اس کے ہونٹ کبھی رکنے کا نام نہیں لیں گے، بولتا رہے گا، معلوم تھا سب کو۔”میرا باپ مرگیا مار گیا مجھے مار گیا۔“ بائیں ہاتھ سے آنسو صاف کیے جو کسی کو نظر نہیں آرہے تھے، شاید اُسے خود کو محسوس ہوئے ہوں۔”مار گیا میرا باپ خود تو مر گیا مجھے جیتے جی مار گیا۔“ ماں کی غصے بھری آنکھیں نظر آئیں۔”باپ مر گیا میرا اور مجھے مار گیا جیتے جی۔“ سب کو دیکھ کر اُس نے یاد کروایا۔” اب مجھے لگتا ہے یہ میری ظالم ماں جیتے جی نہیں، سچ مچ مار کر قبر میں پہنچا کر دم لے گی۔ہائےمیں یتیم ہوگیا ہائے میں۔“

(ڈرامے باز) اُس کے سامنے بالکل سامنے کھڑی بچی نے بمشکل لبوں کو یہ کہنے سے روکا مگر اف! یہ آنکھیں کہہ گئیں بین کرتے بچے نے سامنے دیکھا (دیکھ لیا سب دیکھ لیا تم سے تو بعد میں نپٹوں گا)۔وہ بچی سہم کر دیوار سے جا لگی دائیں آنکھ کے نیچے موجود سیاہ تل نے رونا شروع کردیا۔”ہوا کیا؟“بےزاری سے پوچھا کسی نے۔(اُس کے یہ ڈرامے)

”اب میں کیا بتاؤں آپ کو “ دونوں ہاتھ گود میں رکھے ”باپ مرگیا میرا۔“

”چار سال ہوگئے اِس با ت کو کچھ نیا بتاؤ۔“ خفگی سے پوچھا۔”کیا ظلم ہوا اب کی بار؟“

”ظلم“اُس نے بڑی بڑی آنکھیں پھیلائیں۔”ظلم صرف ظلم۔“ آواز میں لرزش۔”ظلم کی انتہاہوئی۔“ سینے پہ ہاتھ مارا۔”مجھ پر یہ ظالم ماں۔“ ماں کی جانب اشارہ کیا، جو خود کو نارمل رکھنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔”یہ مار ڈالے گی مجھے لکھ لو سب۔“وہ جیسے رو دینے کو تھا۔”ہائے میں یتیم ہوگیا۔“

”میں نے پوچھا“ضبط کی شدت تھی۔”ہوا کیا؟“

”میں بتا رہا ہوں آپ کو سمجھا لیں انہیں، بچے سنبھالنے نہیں آتے تو پیدا کیوں کیا؟“

”ہا!“منہ کھل گیا تھاسب کا۔”میری ماں کو بچے پالنے نہیں آتے ہائے! میں یتیم ہوگیا۔“

”ہائے! ہائے!مرگیا میرا باپ کیوں بنا مجھے اِس دنیا میں لانے کا سبب اتنا ہی شوق تھایاتو مجھے پیدا کرنے سےپہلے مرجاتا یا اتنا ہی شوق تھا پیدا کرنےکا تو پال کرجاتا مجھے نہیں تو سکھا کر جاتا اپنی بیوی کو۔میری ماں کو بچے پالنے نہیں آتے، ہائے!میں یتیم ہوگیا۔“ اُس نے پھر سے سر پر ہاتھ رکھ لیا۔”ہائے میں یتیم ہوگیا!“

”ہوا کیا؟“کسی نے پھر سخت بیزاری سے پوچھا تھا۔

”سورہا تھا جگا دیا جگا دیا جگ آآآآآآآآ دی آآ۔“ وہ اتنی زور سے چلایا تھا، بچی نے سہم کر کانوں پر ہاتھ رکھ لیے (جنگلی)آنکھیں باز نہیں آئیں اور وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے بولا (سب دیکھ رہا ہوں میں )آنکھوں سے اشارہ کیا(اووووووف)اُس بچی نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں ڈر اور۔۔خوف!

”اِس میں اتنا واویلا کرنے کی کیا بات ہے؟“ (یہ لڑکا اور اِس کے ڈرامے؟)سب نے سوچا تھا۔

”بالکل یہ صرف واویلا کرنے کی بات نہیں ماتم کرنے کی بات ہے، بین کی بات ہے، مجھے تو شرٹ کے بٹن کھول کر سڑک پر نکل جانا چاہیے، ٹائر جلانے چاہییں، بینر ہاتھ میں لے کر احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے میرا باپ مرگیا ہائے!میں یتیم ہوگیا۔“اُس نے کن انکھیوں سے سب کو دیکھا۔”ہائے میں کدھر جاؤںمیرے مالک!کدھر جاؤں ساتھ ہی مار ڈالتے مجھے۔“(توبہ توبہ)دِل میں کہا ( ابھی میں نے دیکھا کیا ہے؟”مرجاتا میں)

”تو مر جاؤ!“وہ دہل گیا (تم سب مرجاؤ بچے کو مار رہے ہیں تم سب مر جاؤ بوڑھو!)وہ دِل ہی دِل میں بول رہا تھا۔

”جب مر جاؤں گا نا سر پکڑ کر رو گے سب واپس نہیں آؤں گا۔“

٭٭٭

تیری مرضی پوری کی تونے ہاں ہردفعہ!

شڑاپ شڑاپ شڑاپ۔

”کیا کررہی ہو؟“پریشے آپا ننگے پیر ننگے سر باہر آئیں تھیں، برآمدہ خالی تھا وہاں پر موجود ساری چیزیں کچھ دور سامنے اینٹوں پر پڑی تھیں موڑھے، چارپائیاں برآمدے میں صرف ایک چیز موجود تھی اور شاید ایک انسان موجود تھی ایک چیز ایک انسان چیز تھی جھاڑو انسان تھی۔

لڑکی کے کانوں میں آواز پڑی تھی پریشے آپا کی، لیکن وہ خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی۔کچھ دیر یونہی گزری پھر اُٹھی صحن میں بنے نل کے قریب گئی، پائپ ہٹایا اور نلکا کھول دیا سر نلکے کے نیچے۔بال بھیگے، گردن بھیگی، چہرہ بھیگا۔چند پل بعد پیچھے ہٹی نلکا بند کیا برآمدے میں آئی بیچوں بیچ بیٹھ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی پریشے آپا قریب آئیں!

”ہوا کیا؟“سر اُٹھا کر غور سے دیکھا آنکھیں سرخ تھیں اُس کی شاید پہلے بھی روتی رہی تھی۔”میرا دماغ گرم ہوگیا ہے زندگی بُری لگنے لگی ہے مرنے کو جی چاہ رہا ہے۔“

”مگر ہوا کیا؟“(کیوں کرتے ہیں دنیا والے ایسے اللہ کیوں؟“)وہ دِل ہی دِل میں سوچ رہی تھی۔

”آپا پریشے آپا۔“آپا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔”میری بات مان جاؤنا۔“ اور پریشے آپا نے ہاتھ چھڑوائے اپنے اُٹھیں، قدم بڑھائے نل کے قریب بیٹھیں نل کھولا سر نیچے کر دیا۔

”کیا کررہی ہو آپا۔“ (کہیں آپا کا بھی تو؟)

”دماغ گرم ہوگیا ہے۔“ وہ شاید تھک چکی تھیں۔”تمہاری ضدیں۔“بڑ بڑائیں۔”بے جا ضدیں“

٭٭٭

”ہاں تو ضد کیا تھی؟“

وہ سامنے برآمدے کے آگے صحن کے آگے ذرا سی اینٹوں والی جگہ وہاں سے ذرا آگے گھاس اور اِس گھاس کے بالکل پاس بالکل قریب گیٹ نظر آیا ہاں بالکل وہی سبز رنگ کا کہیں سے بالکل وہیں سے ایک دِن وہ آئی تھی دروازہ کھلا اور بس کھلا ہی رہ گیا، وہ اندر آئی۔

”آپا، آپا، آپا آپ آآآآآآ “آپا باہر آئیں وہ سامنے سفید یونیفارم، کالے جوتے، کالا بیگ، کالی چادر میں لپٹی چہرہ سرخ ہورہا تھا اور آنکھیں گلابی۔

”جی کیا ہوا گڑیا اندر آؤ پانی تو پی لو“(زہر لادیں بھری جوانی نہیں نہیں۔وہ دِل ہی دِل میں سوچ رہی تھی )

”نہ پانی نہ کھانا!“ اُس نے بیگ برآمدے میں پڑی چارپائی پر پٹخا تھا زور سے!

”ہواکیا؟“ (الٰہی خیر ہی ہو یہ لڑکی اور اِس کے ڈرامے مر جائے گی دادی کے ہاتھوں بھری جوانی میں)

”دادی کہاں ہیں؟“ نظریں گھمائیں۔(چھپ کر بیٹھ جاتی ہیں ہمت ہے تو سامنے آئیں) وہ دِل میں بولی۔

”ارے آجاؤ تم بھی اندر۔“آپا منمنائی تھیں (آپا تو بس!اللہ)

”ہرگز نہیں۔“ نفی میں سر ہلایا۔”کبھی نہیں، باہر نکالو۔“ہاتھ سے اشارہ کیا۔”باہر نکالو دادی کو میں پوچھتی ہوں میں نے کہا ابا “دادی باہر آگئیں تھیں سفید غرارسفید کرتا سفید دوپٹہ گول گول عینکیں کمر پر ہاتھ ٹکائے، دادی کمرے کے دروازے پر کھڑی تھیں آنکھوں سے پوچھا۔”ہوں بولو۔“اف دادی کی آنکھیں، پل کو ڈر لگا۔

”ابا کا نام کس نے رکھا۔“ ایک دُکھ کی کیفیت میں پوچھا وہ دُکھ جو سوائے اُس کے کسی کو بھی سمجھ نہ آتا۔

”میں نے۔“ دادی نے گول گول عینکوں کو پیچھے دھکیلا زور سے جیسے عینکوں کو نہیں کسی اور کو دھکیلنا چاہا۔

”کیا رکھا؟“چبا۔۔چبا کر پوچھا جیسے سب تہس نہس کرنے کا دل چاہے (میں نے ہی تو )

”اللہ رکھا“دادی نے بڑی عقیدت، وحترام، اورپیار سے بتایا(اللہ نے دیا اللہ نے رکھا اللہ شکر!)

”یہ نام ہے؟“وہ دھاڑی۔پریشے آپا تو پریشے آپا، دادی بھی ایک پل کو دہل گئیں۔چند۔۔پل چند پل لگے تھے جلال میں آنے کو ”لڑکی!دماغ چل گیا ہے تمہارا۔“

”جی دماغ چل گیا ہے میرا۔“ اعتراف کیا بے خوف و خطر۔

”سارا جہاں مذاق اُڑاتا ہے میرا۔نام ہے ابا کا اللہ رکھا۔“اُس نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر کہا۔

”دادی یہ کوئی نام ہے؟“وہ رودی بے بسی سے (کوئی تو سمجھے!)

”دادی اللہ کا واسطہ ہے نام بدلو یا ابا بدلو۔“وہ تڑپتے ہوئے بولی۔

”جاؤ جا کر ابا بدل لو۔“فیاضی کی حد کردی تھی دادی نے جھٹکے سے کہا(لڑکی پاگل ہے یہ)وہ دِل میں سوچتی رہیں۔

”کیسے بدل لوں؟“وہیں بیٹھ گئی بے بسی ہی بے بسی (کیسے منہ دکھاؤں)

”دادی“ سر اٹھا کر دادی کو دیکھا دھیرے سے پکارا۔”ہوں“ اُنہوں نے منہ ہی منہ میں کہا۔

”دادی ابا کا نام بدل دو۔“مشورہ دیا (عزت رہ جائے سب کے سامنےہائےدادی مان جاؤ)

”ابا کی بیٹی نہ بدل دوں “دادی نے مشورہ دیا (اپنی عزت سب کو پیاری)

”بدل دیں اور مجھے کسی اچھے نام والے ابا کے پاس چھوڑ آئیں جن کا اچھا سا نام ہو، طاقتور سا۔“جن نظروں سے دیکھا تھا دادی نے اف میرے اللہ!(طاقتور سا؟)

”طاقتور نام طاقتور ابا شاہ جہاں کی قبر میں نہ گاڑ آؤں۔“ وہ سہم گئی تھی، پھر ایک دم بھڑکی۔”ہاں زندگی میں تو کوئی خواہش پوری نہ کریں بعد مرنے کے “

”دادی پلیز “ وہ منتوں پر اُتر آئی شاید، شاید، شاید(کوئی مان جائے)شاید شاید!

”اچھا اگر یہ مشورہ اچھا نہیں ہے تو ایک اور دوں۔“دادی نے سر اُٹھایا(اپنے جیسا ہوگا)وہ دِل میں سوچ رہی تھیں۔

”میرا ایف اے کا داخلہ جائے گا اور اب میں بچی نہیں رہی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہوں تو بے فارم کی بجائےاپنا شناختی کارڈ دوں گی تو میں کہہ رہی تھی کہ بے فارم میں جہاں ابا کا نام لکھتے ہیں“ دادی نے بات کاٹی۔

”وہاں شاہ جہاں کا نام لکھ دیں۔“ دادی کو غصہ آیا بے حد بے پناہ!

”دادی“وہ تڑخی۔”بات تو سُن لیں پوری۔“ بے رحم لہجے میں بولی۔

”بولو!“دادی تو دنگ ہی رہ گئیں پوتی کا لہجہ دیکھ کر جلال دیکھ کر۔

”وہاں یا تو ابا کا نام لکھتے ہیں یا پھر “ دادی کو دیکھا تھوک نگلا۔”شوہر کا۔“

”تو شناختی کارڈ میں آپ اپنے نام کے بعد اپنے شوہر کا نام بھی لکھ سکتے ہیں۔“دادی نے حیرانگی سے دیکھا تھا اُسے۔”کیا بول رہی ہو لڑکی۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ اتنا فضول بولتے بولتے، ایک دِن تم یہ بھی بول دو گی۔“

”کیا ہے دادی، شادی تو سب نے کرنی ہوتی ہے، پلیز د سے کسی نام والا لڑکا مجھے دے دیں۔“ اور پریشے آپا نے اُسے ایسے گھورا تھا جیسے وہ پاگل ہو۔”ایک لڑکا صرف ایک لڑکا ایک اور صرف ایک ہی لڑکا نہیں ڈھونڈ سکتیں آپ میرے لیے؟“

”تو شوہر لادوں تمہیں۔“ دادی بھڑک کر کہا۔(یہ لڑکی)اللہ!

اور پھر دھک سے رہ گئیں جب اُس کا زور سے ہلتے سر دیکھا۔”جی“ اور میری شرط بھی ہے “رکی، دادی نیچے جھک رہی تھیں کیا کرنے جوتا وہ دوڑی۔

”اب شرط کیا تھی؟

”میرا نام د سے ہے تو میرے شوہر کا نام بھی د سے ہی ہونا چاہیے۔“

”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔آ لینے دو تمہارے باپ کو بتاتی ہوں اُسے۔“ دادی اندر چلی گئیں، وہ پریشان تھی، پھر آپا کی طرف مڑی۔

”کیا لڑکا صرف ایک لڑکا ایک ایک اور صرف ایک ہی لڑکا ڈھونڈ سکتی ہو آپ میرے لیے۔“وہ پریشان تھی بیچاری، بہت بہت زیادہ۔

”ڈھونڈ سکتی ہوں مگر 'د'؟“آپا نے بہت سوچا بہت بہت زیادہ۔

”ہمارے جاننے والوں میں تو دسےدو نام کے لوگ ہیں۔“آپا نے سوچا۔”کون؟“کیسا اشتیاق تھا چہرے پر۔”دلاور داؤد“ نام پیش کیے مزے سے

”داؤد“ وہ چلائی۔”آپا شرم کرو، دو سال کا تو ہے۔“ ”چھوٹا ہے مجھ سے۔“ زور دیا۔

”اچھا“ آنکھیں پٹپٹائیں۔”اور دلاورکے بارے میں کیا خیال ہے وہ تو چھوٹا نہیں ہے۔“

”نہیں بالکل نہیں وہ دادا ابا جس کو میں “رکی۔”آپا“ کتنا غم تھا نا!

”دادی ڈھونڈ لیں گی، پریشان مت ہو۔“آپا نے اُسے تسلی دی پھر خود کو بھی تسلی ہی دی!

اوردادی نے ڈھونڈ لیا تھا!

'د'سے لڑکےکا نام بتایا گیا تھا اُس کا نکاح ہوگیا۔اُس کا داخلہ چلا گیا، سب کام ہوگیا، شناختی کارڈ بھی بن گیا تھا اور پھرایک دِن وہ مسکین صورت لیے کھڑی تھی ابا کے سامنے!

”میرا داخلہ چلا گیا۔“چھوٹے سے میز پر کھانے کی ٹرے رکھے خود چارپائی پہ بیٹھے ابا کھا رہے تھے منہ میں نوالہ تھا سر ہلایا۔

”ابا اب آپ اُس سے کہیں مجھے طلاق دے دے۔“زبان ابا کے دانتوں تلے آئی تھی ابا نے سر اُٹھایا اپنی 'خوب صورت ' معصوم' بیٹی کو غور سے دیکھا زمانے بھر کی معصومیت تھی اُس کے چہرے پر!

”مجھے اپنا 'سر'نیم بدلنا تھا بدل لیا اب اُسے کہیں چھوڑ دے مجھے۔“

”وہ تمہیں چھوڑ دے گا تو نام ہٹانا پڑے گا۔“

”ایسے کیسے اب تو شناختی کارڈ بن چکا۔“ اور ابا نے سخت دُکھ اور ہمدردی سے دیکھا تھا اپنی اُس معصوم اور پاگل بیٹی کو!

٭٭٭

نہیں شکوہ کسی سے ہم کو!

”دل میں اُتر کر دیکھو ہم کتنے اداس ہیں۔“ وہ گنگنا رہی تھی آپا نے اُسے نظر انداز کیا۔وہ پھر سے آپا کو دیکھ کر بولی۔

”دِل میں اُتر کردیکھ ہم کتنے اُداس ہیں۔“اب کے آپا نے اُسے دیکھا۔قریب سے گزرتی آپا پل بھر کو رکیں پھر قدم بڑھادیے کسی آواز نے پھر سے قدم جکڑے تھے وہ ٹھٹک کر رکی تھیں۔

”میں مان گئی آپا میں مان گئی۔“ وہ بولی آپا اپنی جگہ سے اٹھ کر اُس کے قریب آئیں پیار سے اُسے دیکھا۔

”میں ہار گئی آپا میں ہار گئی۔“وہ بے بس تھی مانی نہیں تھی منوایا گیا تھا۔

”گڑیا دیکھو، وہ اچھا ہے۔“آپا نے سمجھایا”بہت آخر کچھ سوچ کر ہی تو دادی نے پسند کیا اُسے۔“

”آپا وہ بہت بڑا ہے، مجھ سے عمر میں۔“

کیا ہوا اگر بڑا ہے تو؟“

”ہاں، آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں کیا ہوا، اگر بڑا ہے تو کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ جلدی مرجائے گا میں جوانی میں بیوہ ہوجاؤں گی اور میرے بچے بچپن میں یتیم ہو جائیں گے۔“آپاتو دہل گئی تھیں۔

”ابا کہہ رہے تھے کہ اُس کی فیکٹری ہے نا کھلونوں کی “

”آپا کیا پتا۔“وہ جوش سے مڑی تھی اور آپا کی طرف دیکھا چند پل پہلے جو اُداسی تھی اچانک کہاں گئی؟(یہ لڑکی بھی نا) (اللہ!)

”کیا پتہ وہ ہیروئن سمگل کرتا ہو کھلونوں کے ذریعے۔“اور آپا نے اُسے ایسے دیکھا تھا جیسے وہ واقعی پاگل ہو۔(واقعی یہ لڑکی بھی نا؟)(اللہ!)

آپا وہاں سے کھڑی ہوئیں۔”تمہارے پاس بیٹھ کر بات کرنا وقت ضائع کرنا ہے اور مجھے بہت کام ہیں۔تمہارے یہ نادر خیالات میں پہنچاتی ہوں ابا کو دادی کو۔“وہ بیچاری دُکھی سی بولی۔

”رہنے دیں اور کچھ ہونہ ہو میرے بچوں کو کھلونے تو مفت مل ہی جائیں گے۔“اور وہ پھر سے گنگنائی۔

جو سلوک مجھ سے کیا گیا میری ہر گھڑی میں وہ آگ ہے!

٭٭٭

”ہم کہنے آئے ہیں کچھ“وہ میثم عباس تھا کھڑا ہوا۔”شاید“ سر اٹھا کر دیکھا۔

”شاید بہت کچھ “ وہ مسکرا کر بول رہا تھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا کھڑکی کی جانب بڑھا۔اُس کے جوتوں کی مضبوط آواز سنائی دے رہی تھی سامنے جا کر اُس نے پردے ہٹائے پھرپیچھے مڑا۔

 ”یہاں آئیں گے سر پلیز۔“ ادب سے گزارش کی، وہ اٹھے اور آگئے۔”شکریہ۔“ سر کو ہلکا سا خم دیا۔”سامنے دیکھیے۔“

 پلیز نظریں سامنے دوڑائی گئیں وہاں گاڑیاں تھیں گاڑیاں ہی گاڑیاں ایک قطار میں طریقے سے سلیقے سے ”دیکھ لیا؟“ سامنے پھر سے انگلی سے اشارہ کیا بالکل سامنے۔” اب اُن کی نمبر پلیٹس دیکھیں۔“ چہرہ گھمایا دائیں جانب وہ اُس کی طرف دیکھ رہے تھے۔”سامنے پلیز۔“ بڑے ہی ادب سے گزارش کی گئی، سامنے دیکھا ”گڈ!“اچھے بچوں کی طرح کہا گیا۔

اور پیچھے سے دبی دبی ہنسی کی آواز۔”کچھ پرائیوٹ گاڑیاں ہیں اورکچھ گرین گورنمنٹ کی۔“ نظر انداز کردی گئی ”ہاں تو “میں کیا کہہ رہا تھا؟“سر کھجایا ہلکے سے۔”ہاآآں یہ کہ پلیٹیں دیکھیے۔“

 Black- private کیGreen-Government

”سب قیمتی ہیں۔“نظریں دوڑائیں۔”بہت ہی قیمتی اور اِن میں موجود لوگ، ہم لوگ جو یہاں آپ کے پاس آئے ہیں۔ہم بھی بہت قیمتی ہیں اور طاقتور بھی۔“ ساتھ کھڑے شخص کو دیکھا۔

”بہت ہی قیمتی۔“ پھر وہاں سامنے گیا ”جائیے بیٹھیے پلیز۔“ اُسے جو کہا گیا تھا وہی ہوا، وہ جا کر بیٹھ گیا بالکل سامنے دونوں ہاتھ آپس میں جکڑے۔

”ہوں تو“اُس نے اُن کی آنکھوں میں دیکھا تھا بڑے غصے سے دیکھتا رہا پھر مسکراہٹ، دھیرے سے ایک دم سنجیدہ ہوگیا بالکل سنجیدہ کیا تھا اُس کے چہرے پر؟

اُس کی آنکھوں میں؟”آپ کو پتا ہے “کچھ کہتے کہتے رکا۔”اوہ!“سب کو ایک نظر دیکھا۔

”ہم آپ کی تیمارداری کرنے آئے تھے۔“ اُس نے ماتھے اوربازوپہ بندھی پٹیوں کی جانب اشارہ کیا۔

اورپھر اُس نے سب لڑکوں کو دیکھا وہ سب ایک ساتھ بولے، ”بہت افسوس ہوا سر اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا جو آپ نے کیا اور جو آپ کے ساتھ ہوا وہ اللہ معاف فرمائے آخر ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے۔“ معصومیت سے اُن سب نے ایک ساتھ کہا تھا۔جیسے وہ سب یہ سبق یاد کر کے آئے ہوں۔

”Reflex actionتھا نا۔“ معصومیت سے کہا گیا ایک ساتھ جیسے یاد کر کے آئے ہوں سب۔

”اب بس۔“ ہاتھ اٹھا کر روکا۔”ہوگئی تیمارداری اب ہم خاموش۔“ لب پر انگلی رکھ لی سب نے رکھ لی ایک ساتھ، اُس نے ہٹائی، سب نے ہٹا دی ایک ساتھ، ایک گہری ٹھنڈی سانس لی گئی۔”آپ کو پتا ہے سر “سر اُٹھا کر معصومیت سے دیکھا۔

اور اب میثم عباس بولیں گے۔

”تیمارداری کرنا سنت ہے میرے نبیﷺ کی، ہمیں یہی سکھایا گیا۔“ میثم کھڑا بول رہا تھا اور وہ بیٹھےسن رہے تھے۔معصومیت سے بتایا۔

”معلوم ہی ہوگا استاد ہیں آپ، پیغمبری پیشہ۔سچ بتاؤں سر۔“اُس نے گہری سانس اندر کھینچی۔

”اچھا پیشہ ہے، پسند ہے مجھے، میثم عباس کو۔آپ کے لیے بھی اچھا ہوگا اگر آپ۔“ اُس نے جن نظروں سے اُسے دیکھا تھا، اف۔

”اُلٹی سیدھی حرکتیں مت کریں تو۔“ ہنسی کی آواز، میثم عباس بھی نا!

”خیر“ اُس نے پھر سے گہری ٹھنڈی سانس لی۔”یقین مانیے میں آپ کو یہ سب سکھانے نہیں آیا۔“ سب نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔”سچ میں “ یقین دہانی کرائی۔”سکھانا تو آپ کو چاہیےآخر کو“ (اف!نظریں) ”آپ استاد ہیں ہمارے میں آپ کا نہیں۔“ پھر سے مدھم ہنسی کی آواز آئی۔”بہر حال آپ ایک ٹیچر ہیں “نظریں اُٹھائیں۔”استاد وہی استاد جس کے لیے علامہ اقبال نے کہا تھا۔

میرے استاد کی تصنیف ہوں میں افسوس!

ہم سب میں سے“اُس نے سب لڑکوں کی جانب اشارہ کیا۔”کوئی یہ نہیں کہہ سکتا۔کہتے ہیں، انسان کے تین باپ ہوتے ہیں باپ، سسراور استاد۔باپ کہتے ہیں، اپنے بچوں سے، وہ جو اچھے والے باپ ہوتے ہیں کچھ آپ جو درجے والے ہوتے ہیں اپنے بچوں سے کہتے ہیں شرم آتی ہے۔

”تم میرے بچے ہو۔“ اُس کی معصوم سی آنکھوں میں غصہ اٹھا تھا۔”میں بڑے ادب سے عرض کرتاہوں سر “ اُس کا لہجہ تلخ ہوا تھا۔”میں بھی سخت شرمندہ ہوں کہ آپ میرے ٹیچر ہیں بس۔“

 اب ہنسی کی آواز نہیں آئی تھی، اُن سب کی آنکھوں میں دکھ تھا۔میثم عباس کی نظریں اٹھیں اورسب کو گھورکرسامنے متوجہ ہوگئیں اب ان میں ڈر ہلکورے لے رہا تھا۔

”کیا کہیں گے ہم، جب سب حقیقت جان کر ہم سے پوچھیں گے یہ آپ کے ٹیچر کا کارنامہ ہے؟“ آپ وہ ہیں سر جو میرے نبیﷺ تھے، معلم آپ جیسے ٹیچر ز نے مذاق بنا دیا ہے اِس پیشے کو۔جیسے آپ اپنے شاگرد پر اتنی پابندیاں نافذکرتے ہیں، آپ کو چاہیے نا سر اپنے فرائض منصبی ایسے ادا کریں کہ شاگرد کے دِل میں آپ کے لیے عزت ہو، احترام ہو آپ اپنے بچوں کا مستقبل سنوار رہے ہیں یا بگاڑ رہے ہیں۔“دُکھ کی شدت سے اُس کی آواز کانپ گئی۔

”سکندر نے کہا تھا سر، میرا باپ مجھے زمین پر لایا اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔وہ ارسطو کا شاگرد تھا سر جو 'فاتح عالم 'کہلایامیں “آواز کانپی تھی۔

”ہم ہم سب کیا کہیں کہ ہمارا باپ ہمیں زمین پر لایا اور ہمارے استاد نےگڑھا کھود کر ہمیں اِس میں دبا دیا کہ سب کے پیروں کے نیچے آجاؤ۔“اُس سے بولا نہیں جا رہا تھا سو چپ ہوگیا کافی دیر بعد کمرے میں آوز گونجی۔

”مجھے بہت دُکھ ہو رہا ہے سر۔“ اور پھر وہ خاموش ہوگیا۔بہت دیر بعدزریاب حیدر کی آواز آئی۔

”آپ کی بیٹی بہت خوب صورت ہے سر۔“ ایک جھٹکے سے سب نے اُسے دیکھا تھا اُس کے ہاتھ میں ایک فریم تھا یقیناً تصویرہی تھی۔میثم عباس تیز قدموں سے زریاب کی جانب بڑھا اور اُس کے ہاتھ سے تصویر کھینچی۔ایک زناٹے دار تھپڑ دے مارا اُس کا چہرہ گھوم گیا اور مارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا کسی نے روک لیا وہ کررہا تھا اور وہاں کرار کو ہی ہونا تھا زیرک عباس تو دور بھاگتا تھا دِلوں سے یہاں بھی زبردستی ہی لایا گیا تھا۔

 ”کیا کہہ رہے ہیں پاگل ہیں آپ؟“

”آپ بیٹھے“ غصے سے ہاتھ چھڑایا، کالر سے پکڑ کر زریاب حیدر کو سیدھا کیا۔

”آپ کی بیٹی نہیں ہے، بیوی نہیں ہے، بہن نہیں ہے توکیا ہوا ماں تو ہے نا دوبارہ کسی کی بیٹی کا نام لیا تو میں سچ میں۔۔۔سچ میں آپ کی زبان کھینچ لوں گا سنا آپ نے؟“زریاب حیدر کی آنکھوں میں حیرانگی ابھری تھی۔

”کیا سمجھ رہے ہیں آپ؟یہ دیکھیں۔“دائیں ہاتھ سے تصویر سامنے کی یاد آیا تین ماہ پہلے سر نے ٹریٹ دی تھی، اپنی چوتھی بیٹی کی خوشی میں وہاں وہی تھی چھوٹی سی بچی میثم نے سر جھکا لیا، شاید شرمندگی سے زریاب حیدر کی آنکھیں مسکرائیں۔“ جو کرنے آئے ہیں، وہ کریں!“

”جیسا کہ ابھی زریاب حیدر کہہ رہے تھے سر میں بھی کہوں گا آپ کی بیٹی واقعی بہت خوب صورت ہے۔“ زریاب حیدر کی مسکراتی آنکھوں نے قہقہہ لگایا کھل کے اور یہ بات دیکھے بنا بھی سب جانتے تھے۔ ”بہت ہی زیادہ خوب صورت!“ کرار نے کہا تھا۔ تھوڑا آگے بڑھ کر زریاب سے تصویر اُٹھائی۔ غور سے دیکھی، پھر سامنے کی۔”ہوں“ سر کے قریب جا کر بیٹھ گیا، دائیں جانب بالکل سیدھا سامنے دیکھتا ہوا۔”آپ کی بیٹی خوب صورت ہے ابھی بچی ہے بہت چھوٹی سی بچی کل بڑی ہوگی جوان بچی۔“مڑ کر آنکھوں میں دیکھا ایک معصوم آنکھوں میں ہلکا سا دُکھ اُبھرا۔چہرے کو ہر قسم کے وہ جذبات سے عاری لہجے میں بول رہا تھا۔رکھا گیا تھا مگر یہ آنکھیں۔

”ویسے میں استاد کے برابر بیٹھنے کو غلط سمجھتا ہوں لیکن ابھی میں آپ کو استاد کہنا غلط سمجھتا ہوں۔“ اٹھ کھڑا ہوا، سانس لی جیسے خود و تیار کررہا ہو۔

”آپ کو معلوم ہے سر بیٹی رحمت ہوتی اللہ کی رحمت لیکن یہ زمانہ پتا ہے کیا کہتا ہے۔“ گھوم کر آنکھوں میں دیکھا۔”زحمت لوگ کہتے ہیں بیٹی کوزحمت۔غلط کہتے ہیں نہیں کہنا چاہیے میں سب کو نہیں سمجھا سکتا آپ کو سمجھا رہا ہوں بیٹی کی قدر کریں جنت میں لے کر جائے گی اور جہاں تک مجھے یقین ہے، آپ کو آپ کی حرکتیں تو جنت میں لے کرجا سکتی نہیں۔“ وہ سب آہستہ سے ہنسے تھے ”شاید کوئی بیٹی لے جائے اور اگر آپ نہیں چاہتے یہ احسان بیٹیوں سے لینا تویہ کام آپ کے شاگرد کر سکتے ہیں بنا احسان کے آخر کو ایک شاگرد ہی ایک استاد کے کام آتا ہے۔تو سر یہ کام یہ سب کر دیں گے۔“ اُن سب کے ہاتھ جیب کی جانب رینگے تھے بالکل ایک ساتھ۔

”کیا کررہے ہیں آپ؟“میثم عباس کی سر زنش بھری آواز اُبھری سب ہاتھ وہیں رک گئے جہاں تھے بالکل ایک ساتھ۔

”آپ شکایت کریں سر۔“ موبائل نکالا کوئی نمبر نکال کر اسکرین سامنے کی۔

 ”کیوں نا پہلے ہم ایک بات کر لیں۔“موبائل ٹیبل پہ رکھ دیا۔

”جہاں اتنی باتیں بتادیں آپ کو سر ایک بات اور بتا دوں۔“

”جو آپ کریں گے سر اِس سے معلوم ہے کیا ہوگا؟“اُف! آنکھوں کا تاثر۔

”ہم نکال دیے جائیں گے لیکن صرف۔۔۔“زور دیا۔”یونیورسٹی سے دنیا سے نہیں سر پھر پتا ہے کیا ہوگا؟“عجیب نظروں سے دیکھا!

”آپ ان گرمیوں کی تپتی دوپہرمیں، کل جب کالج سے گھر آرہے یوں گے تو آپ کو معلوم ہوگا سر یہ اسلام آباد ہے کراچی نہیں مگر آپ کو یہ معلوم نہیں سر، اس وقت ان سب کے دِل میں کیا ہوگا۔“اُس نے سب کی جانب اشارہ کیا ہاتھ سے۔

”اور شاید سر، ہاں کوئی یہ منظر دیکھنے کے لیے موجود نہ ہو دو آدمی بائیک پرآئیں سینےمیں”گولیاں“اُتاردیں نکل گئے، لاش درختوں کے جھنڈ میں پھینکی نہ پھینکی پہلی بات تو یہ سر کسی کو معلوم نہیں ہو سکے گا ہاں اگر ہوگیا تو“ کھڑکی سے باہراُس نے گاڑیوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔”ان کے باپ بچالیں گے، وہ نہ بچا پائے ان کے باپوں کے باپ بچا لیں گے جیسے بھی مگر یہ بچ جائیں، اگر کوئی نہیں بچے گا تو وہ صرف آپ ہیں آ او۔“ کچھ سوچا۔

”ارے صرف یہ سب تو نہیں بچیں گے کوئی اور بھی بچے گا نا آپ کے بچے، سر، میرے کہنے کا مطلب تھا آپ کی ”بچیاں“ جوان بیوی چلیں بیوی کو چھوڑیں، بچیوں کا سوچیں ”چار بچیاں!“کل جوان ہو جائیں گی سر پر باپ کا سایہ نہیں وقت سے پہلے پریشانیوں سے نبٹتی بوڑھی ماں کہاں تک سہارا دے گی اور آخر کب تک دے گی میں نے آپ کو پہلے ہی بتا یا تھا سر زمانہ بیٹیوں کو زحمت سمجھتا ہے ان کو بھی جن کا باپ نہ ہو اور جن کا باپ ہی نہ ہو وہ۔“ میثم عباس رکاتھا اورسر کی آنکھوں میں کچھ تھا کیا خوف!

”ارے سر! آپ تو ڈر گئے۔“قہقہوں کا طوفان اُبلا تھا سر نے اپنے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔۔”می۔۔ی ثم“آواز میں خوف۔۔نظروں میں جانے کیا؟

”سر “نظریں اُٹھا کر دیکھا تھا اُس نے عجیب طریقے سے ”یہ سب دوست ہیں میرے۔“ اُس نے سب کو دیکھا۔”اچھے ہیں یا برے ہیں “اُس نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے۔”میرے ہیں سر“ چلتا ہوا کھڑکی کے پاس گیا ”آج اگر سر ان کو میں بچانے نہ آتا “ پورا پورا کا گھوما ”ان کے باپ آتے سر اِن کو بچانے۔“ وہ اپنے سر کو دیکھتے بول رہا تھا۔دھیرے دھیرے چلتا سر کے قریب گیا ”اور آپ کو۔“ اور وہ جھک کر خوفزدہ آنکھوں میں غور سے دیکھا ”برباد کرنے۔“سر کی آنکھیں بند ہوئی تھیں چہرے کا سارا خون جانے کہاں چلا گیا تھا ”میثم عباس، آپ کو برباد نہیں کرنے آیا سر “وہ پھر سے اُن کر قریب بیٹھ گیا۔”اپنے دوستوں کو بچانے آیا ہے “ٹیبل سے جھک کر موبائل اٹھایا ”صرف بچانے۔“ نمبر ملا کر سر کے کان سے لگایا۔”کہیں سر “ آنکھوں سے اشارہ کیا ”آپ کا استعفیٰ آپ کے دستخط سمیت ٹیبل پر پڑا ہے۔“سر ذرا سا جھکایا۔”منظور کروائیے۔“ چار منٹ بعد اور پھر دروازہ کھلا تھا وہ سب آگے پیچھے باہر کھڑے تھے خوبصورت دکھائی دے رہے تھے میثم نے دایاں پیر آگے بڑھانے کے لیےاٹھایا ”اللہ معاف نہیں کرے گا تم لوگوں کو “ میثم نے پیر واپس اُسی جگہ رکھا اور باہر نکلنے سے پہلے اُنہوں نے سر کی آواز سنی تھی۔”میری بچیاں چھوٹی ہیں۔“ وہ مڑا تھا ”میرا روزگار“

”کرارحیدر سر کو سمجھا کر آئیں۔“ اُس نے آنکھوں میں تنبیہ کی۔”یاد رہے صرف سمجھانا ہے “ پھر سے سیدھا ہو کر کھڑا ہوگیا، مڑا کرار حیدر بولا”جیسا کہ آپ کو پتا ہے سر ہم بُرے ہیں یہ صرف آپ کو ہی پتا ہے اور ہم “وہ ایک دم رکا تھا۔”اچھا چھوڑیں، میثم نے کہا تھا کہ صرف سمجھاناہے۔یہ آپ کی کی۔“اور اُس نے اپنے والٹ سے ایک کارڈ نکال کر دیا۔”یہاں پر جائیے گا، آپ کوکام مل جائے گا۔اور پلیز سر آئندہ کسی بھی لڑکی کومت چھیڑیے گا، ورنہ ہر جگہ آپ کو ہم جیسے لڑکےنہیں ملیں گے۔“ وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیاتھا۔

”حیدر “میثم کی آواز۔”اوہ سوری“ کرار سیدھا کھڑا ہوا سر کو دیکھا ”یہ“ اپنے والٹ سے وہ اتنا خوب صورت تھا، خوب صورتی رشک کرتی تھی اُس پر وہ اتنا حسین تھا، حسن کو ناز تھا اُس پر وہ راج کرتا تھا دِلوں پر سب محل پر سارے!

فرش پر راج کرتا تھا اور کسی کو بھی کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا اُسے راج کرنا تھا اُس پر بھی!

تیز قدم سے سیڑھیاں پھلانگتانکلا تھا بڑے سے روسے لڑکا باہر نکلاتھا سامنے گاڑیاں تھیں ہر رنگ کی وہ بلیک جیپ کی طرف بڑھا دروازہ کھولاتھا سن گلاسز آنکھوں پر چڑھائی تھیں بیٹھا تھا گاڑی موڑی ایک جنگلے سے آگے بڑھائی! وہ گاڑیاں دوڑا رہا تھا اور اُڑا رہا تھا یہ گمان تھا ارد گرد وادیاں تھیں گھاٹیاں تھیں خوب صورتی تھی سبزہ تھا حسن تھا اور اِس سب میں وہ حسین تھا!

یہ سب یہ سب چیزیں گواہ تھیں یہ جارہا تھا وہی جس کی ٹھوڑی میں گڑھا تھا۔وہی گڑھا جو پریشان تھا اس وقت جس کے چہرے پہ حسن تھا دنیا کی ہر چیز کہتی!

”قسم حسن بنانے والی کی اِس دنیا میں اس وقت تم سے بچے کوئی نہیں!“

اچانک کالے شیشوں کے پیچھے اُن پریشان آنکھوں نے سانس لیا سکھ کا گڑھے کو بھی ذرا سکون ملا اسپیڈ بڑھی تھی آڑی ترچھی اُس سڑک پہ یہ جیپ دوڑتی بہت خوب صورت لگ رہی تھی اس کے سامنے آگے وہ تھی سُرخ رنگ کی اسپورٹس کار دوڑتی جارہی تھی بھاگتی جارہی تھی وقت کے جیسے وہ رکتا نہیں ہے گاڑی رک نہیں رہی تھی بپلک جیپ اس ریڈ سپورٹس کار کے قریب پہنچی پھر ساتھ! اُس نے ایک خطر ناک موڑ موڑا تھا بہت ہی خطر ناک اِس کالی جیپ میں بیٹھے شخص کا دِل دھڑکا تھا بہت زور سے زندگی رکنے لگی تھی گڑھے کو ہوا تھا کچھ کیا؟ یہ معلوم تھا صرف اُسے بلیک جیپ دوڑتی رہی بے چین بے سکون سی اب کی بار دائیں طرف تھی اسپورٹس کار کے ساتھ بالکل ساتھ اُسے نظر آئی تھی وہ!

گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے جن کو وہ ایک ہاتھ سے صاف کرتی کبھی ہوا میں اُڑتے بال سمیٹتی ”اسٹاپ دا کار“ وہ چلایا تھا۔”اسٹاپ دا کار۔“ سرخ گاڑی ایک بار پھر سے آگے نکل گئی بلیک جیپ پھر سے ساتھ تھی ایک موڑ آیا انتہائی خطرناک موڑ وہ ریڈ اسپورٹس کار ایک جھٹکے سے رکی تھی ٹائر وں کو ٹھیک سے آواز بھی نہ نکالنے دی گاڑی تبدیل کی

زوم زوم زوووووووم زووووووم زووووووووم۔زووووووووووووووووووم!

سراُٹھا کر بلیک جیپ میں دیکھا تھا بستی آنکھوں نے دیکھا تھا وہ گڑھا التجا کر رہا تھا۔سب سے پہلے وہ التجا روکتی ایکسیلیٹر پہ پیر کا زور بڑھا تھا اور گاڑی!

گئی دونوں گاڑیاں دائیں بائیں ہچکولے کھاتی وہ دونوں پھر آمنے سامنے تھیں وہ ایک بار پھر سے چلایا تھا۔”stop the car“ پریشان آواز چلاتی آواز۔

“Stop the car” چلاتی آواز “stop the car now”

تحکم تھا آواز میں کرب تھا لہجے میں التجا تھی آنکھوں میں!

اچانک بلیک جیپ میں بالکل اچانک اُس میں بیٹھے شخص نے اسٹئیرنگ پہ ہاتھ گھمائے تھے ٹائر چرچرائے اور پھر اِس بلیک جیپ کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی!

اسپورٹس کار میں موجود لڑکی گڑ بڑائی گھبرائی آنکھیں پھیل گئیں لب کے دائیں طرف موجود تل چلا رہا تھا بہت زور سے دنیا کی ہر چیز نے سنی تھی وہ آواز!

گاڑی ٹکرائی تھی سامنے جا کر وہ اچھل کر سامنے گری تھی زور سے بہت زور سے!

٭٭٭

وہ اِس بڑے سے گھر کا ایک خوب صورت سا کمرہ تھا اور اِس میں کھڑے تھے سب خوب صورت ہاں ایک خوب صورت وجود بیٹھا تھا ایک طرف وہ لڑکی بیٹھی تھی لب کو دانتوں تلے دبائے، ہاتھ مڑورتی، نظریں جھکائے پلکیں جھپک جھپک کر آنسو روکنے کی کوشش میں ناکام، لب کے دائیں طرف تل نے دلاسہ دیا سکون ملا!

”آپ جینے کیوں نہیں دیتے اسے۔۔۔کیوں؟“

وہ سامنے کھڑا تھا سب سے الگ ہٹ کر خوب صورتی کا پیکر دونوں بازو سینے پر باندھے چہرہ پرسکون تھا، آنکھوں میں ہلکا سا غصہ!

”یہ آپ کے ہی بچے ہیں۔“ اُس نے دیکھا تھا اسی میرون ساڑھی والی عورت کو نرم سی آنکھوں سمیت۔

”اِسی لیے تو کہتی ہوں کہ“ وہ سب سر جھکائے کھڑے تھے دنیا نے دیکھا بچے نکل کریں، تو ماں باپ سامنے کھڑا کر کے ہاتھ میں ڈنڈا لیے کھڑے ہوتے تھے بچے سامنے سرجھکائے!

آج بھی دنیا دیکھے سر جھکائے کھڑے تھے ماں باپ بڑے اور سر تان کر کھڑا تھا بچہ پوچھ رہا تھا۔(کیوں؟)”کہ سب ایک جیسے ہوجائیں۔“

بات کاٹی تھی ماں نہیں تھی وہ اُس کی، ہاں ماں جیسی ضرور تھی۔

”تو کیا مضائقہ ہے اِس میں؟“ سر اُٹھایا تھا اُسی ماں جیسی نے۔

”دنیا میں جا کر دیکھ لو سب کے بچے ایک جیسے ہوتے ہیں لوگوں کے بچے۔“

”لوگوں کے بچے!“ بات کاٹی تھی پھر سے، ”لوگوں کے بچے؟“ حیرانگی تھی آواز میں۔”لوگوں کے؟“

کیا حیرانگی تھی نا آنکھوں میں سامنے سب میں سے کچھ سر جھکے تھے کچھ اُٹھے!

جو جھکے سر تھے نا وہ تھے اِس محل کے بڑے وہ سر اُٹھے تھے نا وہ تھے اِس محل کے۔۔اِ س خوب صورت گھر کے خوب صورت بچے!۔۔خاموش تھی۔۔خاموشی!

اُس عورت نے سر اُٹھایا کچھ دور کھڑی ایک لڑکی کی جانب اشارہ کیا ”دیکھو اُسے “ دیکھا تھا اُسے۔”یہ بھی تو بہن ہے اُس کی۔“ ایک بچے کی جانب اشارہ کیا۔”یہ یہ بھی تو بھائی ہے نا اُس کا۔کسی پر بھی نہیں گئی یہ “ صوفے پہ بیٹھے وجود کو دیکھا۔

”لو۔“ اُس نے سر ہلایا۔”یہ“ دونوں بہن بھائیوں کو دیکھا۔”یہ دونوں ایک جیسے ہیں؟“ہلکی سی ہنسی۔”اوں۔۔ہوں۔“جیسے تنبیہ کی۔”نہیں نا؟“ آنکھیں اُف اُف۔۔اُف۔

”تم ماں باپ کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہو؟“ شرم دِلائی۔

”ماں باپ بیٹھ سکتے ہیں۔“ اُسے کوئی فرق نہیں پڑا۔”سر بھی اٹھا سکتے ہیں۔“ اُس نے مشورہ دیا تھا ”اگر وہ ٹھیک ہیں تو۔“ چیلنج کیا ماں باپ کو سر نہیں اٹھایا گیا۔

”ہم صحیح ہیں۔“ وہ خوبصورت سی قیمتی، دھڑکنیں روک دینے والی ہنسی ہنسا۔

”آپ آج کل کی نسل ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔“ اُن سب خوبصورت بچوں کو دیکھ کر کہا گیا تھا۔

”اور آپ کی نسل ہماری سمجھ میں نہیں۔“ دوبدو جواب دیا

”جو جیسا ہے اسے رہنے دیں سب ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔“ آنکھیں سرخ ہوگئیں!

”کیوں“ وہ بھڑکی۔”کیوں نہیں ہوسکتے ساری دنیا میں “

”کون سی؟“ وہ دھاڑا تھا سہم گئےسب۔”کون سی دنیا؟ کون سے لوگ؟ کون ایک جیسا ہے؟“

”نہیں“ نفی میں سر ہلایا۔”کوئی نہیں۔“ زور سے ہلا۔”کوئی بھی نہیں۔“ قدم بڑھاتا آگے آیا۔”ہابیل تھا قابیل کو اللہ نے کیوں بھیجا؟“ اُس کی آواز میں سختی تھی۔

”ہارون کو کیوں اللہ نے بھیجا، موسٰیؑ تھے نا؟“ سر دیکھا جھکا سر ”یہ جو اصغری اکبری کیا کرتی رہتی ہیں ہر وقت۔“ کئی لب مسکرائے تھے۔”وہ دو کیا تھیں بہنیں سگھڑ بد سلیقہ ایک سی ہوتیں تو کوئی گن گاتا چھوٹی کے اپنا بڑی کی لڑائیاں کیسے کرتی۔“

”بات سنیں۔۔“ اُس نے دیکھا، سر اُٹھا نہیں تھا۔”سر اٹھائیں چاچی امی شرمندہ مت کریں۔“ سر اٹھا تھا۔”میری بات سنیں“ ہاتھ اُٹھا کر کہا قطعی لہجے میں ”ہر کسی کو الگ چاہیے سب ایک سے ہوں۔۔تو یہ آپ کی میری سب کی ہم سب کی کھو دے اپنی خوب صورتی اور اب جائیں ہم ہر رنگ ہے ہر روپ ہونا چاہیے۔دنیا کو ایک سا مت کریں مت کریں پلیز۔“آنکھیں سکڑی تھیں۔

”نہیں رہنے دیں جینے دیں سب کو ہر کسی کو سب کو حق حاصل ہے وہ کیسے کوئی بچہ نہیں ہے اب ان میں بڑے ہوگئے ہیں ان کو پتا ہے اچھا کیا ہے برا کیا ان کو جینے دیں اپنےطریقے سے سلیقے سے جئیں یا بے ڈھنگے طریقے سے آپ کہتی ہیں کہ ہر بات یہ ہر جگہ پہ اچھی بچیاں کرکرکے پتا نہیں چلا آپ انہیں گندی بچیاں بنا دیں گی ان کا حق ہے اس زندگی کو جئیں، کیسے جئیں چھوڑدیں انہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔“کندھے پہ ہاتھ رکھا۔”یہ بھی جائیں گی اچھی بچیاں آپ انہیں خود سے جی تو لینے دیں۔“ذرا پیچھے ہوا مسکرا یا، سب مسکرائے سب سے پیچھے دیکھا وہی بلو جینز بلیک پینٹ پہنے کھڑا تھا مسکرا یا نہیں دونوں بازولمبے کیے لمبے سیدھے مٹھیاں بند کیں انگوٹھے سامنے یوں پھر بایاں ہاتھ گرایا دایاں ماتھے تک لے گیا(بھائی تجھے سلام)مسکرا کر ہاتھ گر دیا!

مڑا صوفے پر بیٹھے وجود کو دیکھا جواب بھی ہنسی آنکھوں کے ساتھ نیچے دیکھ رہی قریب گیا اس کو اٹھایا سامنے بالکل سامنے کھڑا کیا خودسے ذرا دور۔

”میری طرف دیکھو۔“ بغور دیکھتے نرمی سے کہا وہ سر جھکائے روتی رہی ”سر اٹھاؤ۔“ ٹھوڑی سے پکڑا چہرہ دیکھا سوجی آنکھیں سُرخ ناک۔”اچھی لگ رہی ہو۔“ سر ہلایا۔”بہت اچھی۔“سب ہنسے تھے اُس نے سر اُٹھا کر خفا نظروں سے سب کو دیکھا ”ہنس لو ہنس لو سب۔“روئی تھی زور سے بہت زور سے۔”سب ہنس لو مجھ پہ گندی ہوں نا۔“وہ ہنسا تھا دھیرے سے پل کو سب کی دھڑکنیں رکیں(یہ لڑکا مار ڈالے گا)کس نے سوچا تھا۔

”مجھ سے اچھا اِس دنیا میں نہیں کوئی سوائے میرے۔“ اور یہ تو سب مانتے تھے نا وہ بھی۔”تمہیں معلوم ہے نا آنسو نہیں دیکھ سکتا۔“ وہ غصے میں آگیا تھا۔

”کیا چاہتی ہو میں چاچی امی و وہ کہہ دوں جو نہ تمہیں اچھا لگے نہ اُنہیں نہ مجھے اور نہ ہی “ پیچھے مڑ کر میرون ساڑھی میں ملبوس عورت کو دیکھا۔”دنیا کو۔“سب ہنسے تھے ایک بار پھر سے وہ خاموش نہیں ہوئی وہ پیچھے ہٹا دیکھتا رہا دیکھتا رہا وہ سر جھکائے دیکھتی رہی ”کیز دو اسپورٹس کار کی۔“ اُس نے ہاتھ پھیلایا۔۔اُ س نے جھکے سر کے ساتھ ہتھیلی پر چابی رکھ دی قدموں کی آواز اُبھری۔

”کہاں جارہے ہیں؟“یہ اُس کی ماں کی آواز تھی وہ رکا پیچھے مڑا جھکے سر کو دیکھا۔”آج جی چاہ رہا ہے اس گاری میں بیٹھ کر زور سے ٹکر مار لوں اور پھر چلا جاؤں اِس دنیا سے۔“ سب سر اٹھے تھے وہ بھی وہ مڑا جانے لگا وہ دوڑی تھی پیچھے سے لپٹ گئی جا کر وہ رکا مسکرایا مڑا اس کو سامنے کیا وہ روتے روتے گلے لگ گئی روتی رہی روتی رہی ”سوری۔“ ہلکی سی آواز۔

”ہمیں چھوڑ کر کہیں مت جانا “ سینے میں منہ دیے روتی رہی ”آپ ہوتے ہو تو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔“دونوں بازو ارد گرد پھیلے تھے ”آپ تو سائبان ہیں ہمارے۔“ سر اٹھا کر دیکھا۔”ہے نا؟“اُس نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا، پھر سینے میں منہ دے لیا اُس نے گھیرا تنگ کرکے بالوں پہ لب رکھ لیے ”آئی لو یو “ وہ رو دی۔”آئی لو یو ذل یزدان بھیا!“

٭٭٭

ابھی بھی ریت گیلی ہے
ابھی بھی نقش باقی ہیں!
گئے قدموں پہ لوٹ آؤ!

”مجھے تو یہی چاہیے بس۔“ ایک آواز آئی تھی وہ سب رکے اور اُن کے لب مسکرا نا بند ہوگئے اور شاید اس وقت زمین نے گول چکر کاٹنے سے انکار کر دیا تھا اُنہیں یہی لگا تھا۔سب نے میثم عباس کو دیکھا میثم عباس مر جائے گا سب نے مڑ کر اُسے دیکھا تھا۔

”جاؤ! لے کر آؤ چاقو، کاٹو میثم عباس کے جسم کو اگر خون کا ایک قطرہ بھی گر گیا تو کہہ دینا میثم عباس مر گیا۔ہاں اگر لہو کی بوند اس پل اِس کے جسم سے بہتی تو یہی سمجھنا میثم عباس مرگیا یا وہ کبھی اِس دنیا میں تھا ہی نہیں۔دیکھ وہ چاروں لڑکے تجھے گھور رہے ہیں۔“ کسی نے کہا تھا اُس لڑکی سے۔

”اُن چاروں سے کہہ دو لیٹ ہو گئے اب تو میری شادی ہوگئی ہے، آج کے بعد یہ لوگ مجھے گھورنا بند کردیں گے۔“

اُس نے ہنستے ہوئے سر اُٹھا کر چاروں کو دیکھا اور میثم عباس کا سانس اکھڑا تھا اُسے دیکھ کر۔زمین نے ایک بار پھر ضد کی مجھے رُکے رہنے دو آسمان زمین سے ٹکرا نے کے لیے بیتاب تھا وہ شک نہیں تھا وہ یقین تھا سامنے وہی تھی ہاں وہ ”درہ دجانہ۔“ ہی تھی!

متاع جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا!
 

میثم عباس کو کچھ یاد آیا تھا۔

٭٭٭

وہ جگہیں یاد آئیں گی وہ قصے یاد آئیں گے
وہ جب، جب یاد آئیں گے، تمہیں پہروں رُلائیں گے!

وہ ایک بس تھی اندر لڑکے تھے، لڑکیاں تھیں۔جوان لڑکے، جوان لڑکیاں۔وہ کسی یونیورسٹی کی بس تھی یا شاید نہیں یقیناً وہ ایک ٹرپ تھا!

یہ سب تالیاں پیٹ رہے تھے، گنگنارہے تھے، قہقہے لگا رہے تھے کہ اچانک یوں ہوا تھا بس لڑھکی تھی ایک طرف اورپھر!

٭٭٭

”میثم ہاتھ دیں آپ مجھے، چھوڑیں چھور دیں انہیں۔“ کرار جیسے چلا رہا تھا۔

وہاں پہاڑ تھے ہر طرف پتھر تھے ہر طرف کھائی تھی وہ ایک اور میثم عباس لڑھکتا جا گرا تھا وہاں اور اُس کے پیچھے وہ تھی ہاں وہی ”درہ دجانہ“ میثم عباس نے پکڑ رکھا تھا بڑے سے پتھر کو اور درہ دجانہ نے پکڑ رکھا تھا میثم عباس کی ٹانگوں کو اور کتنی دیر سے وہ سب اُسے کہے جا رہے تھے میثم عباس کو کہ ہاتھ پکڑ لے وہ اُسے کھینچ لیں گے۔

”نہیں نہیں تم لوگ اپنے دوست کو بچا لوگے مجھے یہیں پھینک جاؤ گے نہیں میں نہیں چھوڑوں گی۔“

وہ اسے واقعی وہاں گرا آتے میثم عباس کا ہاتھ کھینچ لیتے مگر مگر میثم عباس کی جینز بڑے سے آہنی پتھر میں پھنسی تھی اور اُسے صرف درہ نکال سکتی تھی اس وقت صرف۔۔۔'درہ دجانہ'جو وہ کسی صورت نہیں نکال رہی تھی۔

”ہم آپ کو نہیں چھوڑیں گے درہ یہ ہمارا وعدہ ہے۔آپ پلیز جینز چھوڑوائیں اِس پتھرکی قید سے اور مجھے ہاتھ دیں، یہ سب ہمیں کھینچ لیں گے اوپر، پلیز۔“ وہ چلاتی ہوئی آواز میں بول رہا تھا۔”پلیز درہ۔“ التجا کی گئی۔”ہم دونوں کو ہی واپس لے کر جائیں گے۔“

”ہرگز نہیں۔“ اُسے تو جیسے نا ہی کرنا سکھایا تھا گھر والوں نے۔

”آہ۔“ میثم کا ہاتھ پھسلا تھا۔تڑپ کر سب ذرا آگے جھکے تھے، وہ تھوڑا سا نیچے لٹک رہے تھے۔

”کیا ہوا؟“ زریاب نے بے تابی سے پوچھا۔

”سہرا پہن کر گھوڑی چڑھنے لگا تھا اور گھوڑی بدک گئی۔“ درہ بولی تھی۔اللہ یہ لڑکی کیسے باتیں کرتی ہے، اِن سب نے سوچا تھا۔

”زریاب حیدر، زریاب حیدر، پلیز کسی بھی طرح مجھے اوپر کریں پلیز۔میرے ہاتھ چھل چکے ہیں۔“

رگڑ لگنے کی وجہ سے اُس کے ہاتھ واقعی پھٹ گئے تھے۔مگر اِس ظالم حسینہ کو ترس نہیں آیا تھا جو خود خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی (اللہ ابھی نہیں ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی ہے ) وہ اونچا اونچا بڑ بڑا رہی تھی۔

”میثم پلیز ہاتھ مت چھوڑنا میں مر جاؤں گی میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔“ اور وہ جانتے تھے کہ وہ یونیورسٹی میں بھی سارا وقت یہی بات کرتی تھی۔(یہ درہ بھی۔۔ناآآآآآآں)

”آپ کو آج بھی شادی کی پڑی ہے درہ؟“

ذرا دور اُلٹی بس کے قریب بیٹھا ہانپتا کانپا زیر ک عباس ہنس دیا۔اُسے ساحر فاروق نے کہا تھا کہ آؤ ہماری مدد کرو، لیکن وہ تو ڈرتا تھا، کہیں میں بھی گر نہ جاؤں۔

”آآآ۔۔“ اور جب میثم عباس کا ہاتھ پھسلا تھا تو وہ دوڑتا اُن دونوں کے قریب آیا تب تک، وہ دونوں۔۔نیچے پہنچ چکے تھے باقی سب نےمڑ کر زیرک کو دیکھا۔پریشان چہرہ دیکھ کر مسکرائے۔

”آپ پریشا ن مت ہوں زیرک ہم نے قسم کھائی تھی ساتھ مرنے کی ایسے چھوڑ کر نہیں جاسکتے ہمیں میثم۔“ کرار ہاتھ جھاڑتا پیچھے مڑا تھا۔

”میثم تو بچ جائیں گے نا؟“زریاب نے ایک آس سے پوچھا۔

”ہوں اگر اِن کی قسمت اچھی ہوئی تو۔“

اور اُس کی قسمت کتنی اچھی تھی سب جانتے تھے سو بچ گیا وہ ان پہاڑوں کے نیچے ندی بہہ رہی تھی اور چونکہ 'درہ دجانہ' نے میثم عباس کی ٹانگوں کو پکڑ رکھا تھا سو میثم عباس کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ظالم حسینہ کو ڈھونڈنے کے لیے وہ نکل آئے تھے خشکی پر۔میثم عباس کے ہاتھ بُری طرح چھل چکے تھے اور اُس کی جینز کا ایک ٹکڑا وہیں اُسی پتھر میں رہ گیا تھا۔اُن سب کو خشکی والی جگہ پر رہنے کے لیے گھر بھی مل گیا تھا مگر میثم عباس کی قسمت اتنی بھی اچھی نہیں تھی۔“

 وہ ایک بوڑھی اماں تھی جو اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں۔مٹی کا گھر، چھوٹا سا باورچی خانہ، چھوٹا سا ایک کمرہ باقی سامان کا اتنا معلوم نہیں مگر ایک چار پائی تھی اور دو لحاف۔ان بوڑھی اماں کا گھر تو چھوٹا تھا مگر دِل نہیں اُنہوں نے اپنے چھوٹے سے باورچی خانے میں ایک طرف چٹائی بچھائی اور ایک لحاف لے کر ماں بیٹی گُھس گئیں مگر قسمت میثم عباس کی!

جان دے کر بھی بچانے والوں میں سے ہیں ہم!

”یہ دنیا ہے یہاں پر کچھ بھی ہو سکتا ہے کسی بھی وقت کسی بھی لمحے۔“

٭٭٭

اس دِل کی جھیل سی آنکھوں میں
اِک خواب بہت برباد ہوا!

اُداسی ہی اداسی تھی ہر طرف وہ لیٹا ہوا تھا صوفے پر آنکھیں موندے زندگی سے بیزار اور سب ہر وقت ہنستے کھلکھلاتے، مسکرا مسکرا کر باتیں کرتے، اور اُس دِن کے بعد سے میثم عباس کی زندگی ویران ہوئی تو ساتھ میں اُن سب کی بھی ویران ہو گئی۔

”میثم عباس۔“ بے چینی ہی بے چینی تھی لہجے میں۔

”ہوں۔“ اُس نے آنکھوں کو مسلا کھولا۔

”کیا ہوا؟“ اور پھر جن نظروں سے میثم عباس نے دیکھا تھا نا کٹ کر رہ گئیں وہ!

”ابھی بھی پیار کرتے ہو اُس سے؟“

”نہ کروں؟“ سُرخی بھری تھی اُس کی آنکھیں میں۔

”ابھی تک کرتے ہو؟“ سوالیہ نظریں

”ابھی تک۔“ وہ بھڑکا ایک دم سیدھا ہوا اُٹھ کر بیٹھا۔”ابھی تک مطلب؟“ اُس کی آنکھیں کبھی بھی ایسی نہیں تھیں۔وہ دہل گئیں۔”میں میں میثم عباس آپ کے اُن لاڈلوں کے جیسے نہیں ہوں۔“ باہر کی طرف اشارہ کیا (ان لاڈلوں) وہ دنگ ہی تو رہ گئی تھیں۔میثم عباس کا یہ انداز!وہ کبھی بھی ایسے بات نہیں کرتا تھا۔

”سچا پیار کیا تھا میں نے 'درہ 'سے سچا پیار۔“

ہاتھ بڑھایا تھا پری نے نرمی سے۔”میثم عباس۔“ اُس نے ہاتھ جھٹک دیا!

میثم عباس نے پری کا ہاتھ ہاتھ جھٹک دیا اُنہوں نے اپنے ہاتھ کو دیکھا، ”میرا ہاتھ۔۔“

”مجھے اکیلا چھور دیں پری۔“ وہ کس کرب سے بولا تھا۔(مار ڈالوں خود کو )

”اس میں اُن کا قصور نہیں وہی غلط تھی۔“ کن آنکھیوں سے دیکھ رہا تھا میثم عباس۔

”میرے ضبط کو مت آزمائیں پری اِس سے پہلے کہ میں کچھ غلط بول دوں کچھ غلط کردوں، جائیں چلی جائیں یہاں سے۔“ وہ دھاڑا تھا۔”چلی جائیں۔“ وہ گرجا تھا!

”اُس نے غلط کیا تھا حیثم عباس اُسے نہیں کرنا چاہیے تھا وہ غلط تھی اُسے بتانا چاہیے تھا نا۔“ وہ روپڑا تھا کیا کہتا پری نے غور سے اُسے دیکھا تھا زندگی بکھیرنے والے شخص کو جو زندگی سے بے زار بیٹھا تھا سر جھکائے روتے ہوئے وہ جوان مرد رو رہا تھا۔کس کے لیے؟

”تم مرد ہمیشہ عورت کے لیے ہی کیوں روتے ہو؟“کیا پوچھ لیا تھا۔

”وہ غلط تھی میثم عباس وہ غلط تھی۔“

”پری۔“ وہ تڑپا۔”مت کہیں پری، مت کہیں، کچھ مت کہیں۔“ آنکھوں میں جلن ہورہی تھی درد تھا ہر طرف بس درد!

وہ بے یقین تھی۔”آپ ایک عورت کے لیے مجھ سے اونچی آواز میں بات کررہے ہیں میثم عباس؟“ وہ رو دیں۔”میں کہوں گی غلط، وہ غلط تھی ہزار بار کہوں گی لاکھ بار کہوں گی، غلط تھی 'درہ دجانہ؛ اُس نے غلط کیا، غلط تھی وہ غلط تھی۔“

”اور آپ نے اُس کے بارے میں کیا کہا۔“ وہ سخت غصے میں تھا۔

”میں اب بھی اُس کے بارے میں یہی کہوں گی میثم، غلط تھی درہ دجانہ۔اُس نے غلط کیا، غلط تھی وہ۔“

”اُس کو غلط مت کہیں پری۔“ وہ کراہ رہا تھا۔

”کہوں گی غلط کہوں گی غلط تھی، غلط تھی، میرا بچہ چھین لیا میرا میثم عباس لے لیا۔مجھ سے میرا بچہ۔“

وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھیں۔”غلط تھی وہ غلط کہوں گی میں اُسے۔“

میثم عباس نے چیزیں اٹھا کر پٹخنا شروع کردیں ایک کانچ ٹوٹا تھا ایسے ہی بالکل ایسے ہی جس طرح اُس کا دِل ٹو ٹا تھا مگر دِل ٹوٹنے کی آواز نہیں آئی حالانکہ دِل زیادہ قیمتی ہے پھر کیوں؟

زریاب حیدر کرار حیدر دوڑتے اندر آئے اور اُن کے پیچھے زریاب، کرارپری کو اور زریاب میثم کو سنبھالنے لگا۔

”غلط نہیں ہے غلط نہیں تھی وہ۔“ وہ چلا رہا تھا چیزیں پھینکتا توڑتا بپھرا ہوا تھا کوئی دیکھ کر کہہ نہیں سکتا تھا وہ سب کا پیارا میثم عباس ہے! جو بس ہمیشہ نرم لہجے اور نرم آواز میں بات کیا کرتا تھا۔

”غلط تھی وہ میرا بچہ چھین لیا غلط تھی وہ مجھ سے میرا میثم عباس چھین لیا “ وہ کرار کی بانہوں میں تڑپ رہی تھیں سسک رہی تھیں۔

کوئی اور وقت ہوتا تو یوں پری کو رلانے پر میثم عباس جان دے دیتا اپنی مگر ابھی اُسے فرق نہیں پڑرہا تھا! جانے کیوں؟

اچانک زریاب حیدر کو کالر سے پکڑ کر سامنے کھڑا کیا، ”کیوں نہیں بتایا مجھے۔“ اُس نے کرار کو دیکھا۔”وہ سب مذاق تھا آپ کے لیے کیوں نہیں بتایا مجھے؟ کیوں؟ کیوں نہیں بتایا؟“ وہ چیخ رہا تھا۔”مجھےکیوں نہیں بتایا؟ کیوں؟“

”کیوں کیا کرار حیدر ایسے کیوں جی رہا تھا نا میں کیوں مار دیا کیوں بتایا نہیں کیوں؟ وہ ڈھے گیا۔”کیوں؟“ وہ زمین پہ بیٹھتا چلا گیا۔”بتا سکتے تھے آپ مجھے لیکن نہیں بتایا آپ نے۔“

اور وہ ذرا دور زمین پر بیٹھے اپنے جوان بیٹے کو بلکتے، تڑپتے دیکھ رہی تھی اُس کا جی چاہا جائے اور تمام دنیا تمام دنیا کی ماؤں کو جھنجھوڑ کر پوچھے۔”اِسی دِن کے لیے پالتی ہو؟ جوان کرتی ہو اپنے بچوں کو؟“

”میں پھر کہوں گی میثم عباس“ اب آنسو خشک تھے۔”وہ غلط تھی درہ دجانہ غلط تھی۔“

”میں کچھ نہیں جانتا کچھ نہیں سوائے اِس کے کہ وہ میرا پیار تھی بس۔“

”اُس نے چھین لیا میرے بچے کو مجھ سے۔“ وہ پھر سے رو دیں۔”ٹھیک کہتے ہیں لوگ۔“

”پری پلیز۔“ زریاب نے روکنا چاہا۔”ڈائن ہوتی ہیں۔“ وہ صرف میثم کو دیکھے جا رہی تھیں۔

”چڑیلیں ہوتی ہیں جونک کی طرح چمٹتی ہیں، جان نہیں چھوڑتیں اور گھر سے باہر نکلتی کس لیے ہیں چمٹتی کس کے ساتھ ہیں خون کس کا چوستی ہیں۔“ پری سخت تڑپ رہی تھیں۔

”پری۔“ وہ ضبط کر رہا تھا ”غلط بات مت کریں۔“

”وہ چمٹ گئی میرے بچے کو“

”پری آپ تو کبھی بھی ایسے بات نہیں کرتی تھیں۔“ وہ بولا۔

”تم بھی تو ایسے کبھی نہیں کرتے تھے میثم۔وہ ہے ایسی وہ چمٹ گئی میرے بچے کو۔جس کے لیے میرا میثم عباس مجھ سے بد تمیزی کر رہا ہے۔“

”میں نے کہا نا پری غلط بات مت کریں۔“ وہ دھاڑا تھا۔

”میری سب تربیت خاک میں مل گئی۔“ وہ روئی تھیں اور بے تحاشا روئی تھیں۔”میری محبت سب ختم۔“اُس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔”خالی ہاتھ رہ گئی میں ایک ماں خالی ہاتھ رہ گئی۔“

وہ سب زمین پر بیٹھے تھے طوفان ختم ہوچکا تھا زیرک عباس بھی آگیا تھا۔دیوار سے ٹیک لگائے وہ حسین پری سامنے دیکھتے بولی۔

”وہ کیوں آئی ہماری زندگی میں میثم عباس؟ کیوں؟ کیوں آئی؟ زندہ رہ رہے تھے نا سانس لے رہے تھے۔“ اُس کا لہجہ کُرلایا۔

”اب تو ٹھیک سے سانس بھی نہیں لینے ہوتی سب کچھ لے گئی چین، سکون، قرار آنسو چھوڑ گئی ہمارے پاس مار گئی۔“ کچھ دیر سب کو دیکھتی رہی پھر اُٹھ کر وہ حسین پری میثم عباس کے پاس آگئی نیچے اُس کے قریب بیٹھ گئی اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا میثم عباس نے نظریں اُٹھا کر اُسے دیکھا۔

”اُس کو بھول جائیں میثم عباس۔“

”آپ مجھے بھول جائیں۔“ کندھے کو سہلاتا ہاتھ۔۔نیچے گرا تھا زمین پہ!

چند پل بیت گئے خاموشی سے وہ اُٹھیں آگے بڑھتے بڑھتے بولیں۔

”تو پھر اُسے واپس لے آئیں۔“

”اُس کی شادی ہوچکی ہے۔“ وہ رکیں پیچھے مڑیں مسکرائیں لب۔۔۔آنکھیں نہیں۔

”ظاہر سی بات ہے تم نہیں کوئی اور سہی۔“

اُس نے دیکھا میثم نے دیکھا تھا اُس حسین پری کو جو اسوقت اُسے پری نہیں لگ رہی تھیں۔”وہ یہاں نہیں ہے پری 'درہ دجانہ'یہاں نہیں ہے۔“ اُس نے اپنی بات پر زور دیا۔”میں ہوں میثم عباس، یہاں ہے اور آپ مجھے تکلیف دے رہی ہیں۔“

٭٭٭

اب کس سے کہیں اور کون سنے؟
جو حال تمہارے بعد ہوا!

وہ ہڑ بڑا کر اُٹھی تھی سینے میں کچھ چبھ رہا تھا۔وہ سب پڑھ رہے تھے نظریں اُٹھا کر دیکھا ویران آنکھیں بنجر چہرہ وہ تڑپ اٹھے۔

”پری“ کوئی اور وقت ہوتا تو میثم عباس سب سے پہلے آتا مگر یہ کوئی اور وقت نہیں تھا یہ وہ وقت تھا جس وقت میں اُس نے اپنی ماں کو رُلایا تھا اور اُس کی ماں نے اُسے رلایا تھا۔اور کس لیے؟ اور جب بھی ایسے ڈرتی تھیں نا تو میثم عباس کی بانہیں اُسے سہارا دیتیں مگر آج بانہیں تو تھیں مگر زریاب حیدر کی میثم عباس وہیں بیٹھا رہ گیا نظریں کتاب پر جمی تھیں۔

”میرے پاس کچھ باقی نہیں رہا “وہ رو رہی تھیں ”کچھ بھی مجھے خون نظر آرہا ہے ہر طرف خالی ہاتھ خالی دامن تم سب مجھے چھوڑ دو گے۔“ زریاب حیدر کی بانہیں وہ سہارا نہ دے پائیں جو میثم عباس دیتا تھا۔وہ ماں تھیں مقام بڑا تھا وہ بیٹا تھا، اُسے آجانا چاہیے تھا پھر بھی نہیں آیا وہ خود اُٹھ کر گئی تھیں اُس کے پاس۔اُس کے معاملے میں دِل ایسے ہی مجبور ہوتا تھا اور اُس کے سینے میں منہ دے کے چلائی تھیں روئی تھیں اُس نے بازو نہیں پھیلائے تھے وہ توڑ گیا تھا سب کو!

وہ جن کے کاسئہ دِل میں درد مسلسل ہے!

٭٭٭

وہ کب سےدروازے میں کھڑا اُس غم کی تصویر کو ضبط سے دیکھتا جا رہا تھا برستی آنکھوں سمیت سامنے دیکھا اُس کے چہرے سے بھی ایک قطرہ گرا تھا۔اُس کا دِل چاہا خنجر اُٹھائے کاٹ ڈالے خود کو وہ دھیرے سے آگے بڑھا!

قریب جا کر قدموں میں بیٹھ گیا ہاتھ پکڑا اورعقیدت سے چوما ہاتھ سہلایا آہستہ آہستہ۔

”خوش رہا کریں۔“ اُٹھا تیز قدم آگے بڑھائے۔

”خوش کیسے رہا جاتا ہے؟“ اُٹھتے قدم رُکے۔

”جیسے پہلے رہتی تھیں۔“

”پہلے “ اُس نے سوچا۔”پہلے کب؟“

”جب ہم سب ساتھ ہوتے تھے ساتھ رہتے تھے۔“

”تو ہم ہی ساتھ رہتے ہیں اُسے کیوں لائے؟ ہم میں ہماری زندگی میں۔“ وہ اُداس تھیں حسین پری غمگین تھی وہ شکایت کر رہی تھیں اپنے بچے سے بالکل بچوں کے لہجے میں وہ مسکرایا۔

قریب گیا پاس بیٹھا بازو پر اُس کا ہاتھ ایک بار پھر سہلایا پھر دونوں بانہوں میں لے کر سینے سے لگا لیا وہ پری پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔”آپ نے غلط کیا۔“ اُس نے شکوہ کیا۔

”میں نے آپ سے کہا تھا نا اکیلا چھوڑدیں۔“ وہ اٹھا اور پری کے پاس بیٹھا، اُس کو بازؤں کے گھیرے میں لے کر اُس کے سر پراپنی ٹھوڑی ٹکائے دھیرے سے پھرسےبولا۔

”میں نے کہا تھا نا اکیلا چھوڑ دیں، غصے میں آگیا تھا میں بس۔“ پری نے تیزی سے اُس کی بات کاٹی۔

”غصہ کرنا نہیں سکھایا تھا میں نے آپ کو۔“ وہ تڑپی تھیں۔”خود سیکھ لیا؟ یا اُس نے سکھایا؟“

”پری پلیز۔“ التجا کی تھی اُس نے جیسے۔

”کیوں؟“کتنا کرب تھااُس کی آنکھوں میں۔”کیوں بھولنے نہیں دیتے آپ لوگ مجھے؟“

”زندہ نہیں رہنے دے رہے مجھے خود کے لیے نہیں جی رہا آپ لوگوں کے لیے جی رہا ہوں۔“

”بھول جانے کی کوشش کرتو رہا ہوں مگر آپ آپ کیوں نہیں بھولنے دے رہے؟“

”کیونکہ ہم خود نہیں بھول پارہے انہیں۔“ وہ زیرک عباس تھا دروازے میں کھڑا ہوا۔

”آپ بھول نہیں پا رہے ہم بھلا نہیں پارہے۔“

”انہیں لے آئیں۔۔'درہ' کو لے آئیں میثم۔“

”زیرک عباس، پلیز۔“ کتنا تڑپا تھا وہ کوئی آکے پوچھتا؟

”لے آئیں درہ کو ہمارے لیے نہ سہی اپنے لیے پری کے لیے۔“

”شادی ہوچکی ہے اُن کی۔“

”پھر بھی لے آئیں۔“

”دماغ ٹھیک ہے آپ کا؟اپنی جگہ پر ہے؟“

”نہیں کچھ بھی کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے سب غلط کچھ اپنی جگہ پر نہیں ہے۔“

”جائیں چلے جائیں سب بوڑھی ماں کو اکیلا چھوڑ کر۔“ وہ سب مسکرائے تھے ہلکے سے اور پری نے سر اُٹھا کر میثم عباس کو دیکھا اُس کے لب مسکرا رہے تھے آنکھیں نہیں۔اُس نے دھیرے سے اپنی انگلیوں کی پوروں سے اُس کی سوجی آنکھوں کو چھوا

”یہ آنکھیں کب مسکرائیں گی؟“

”جب آپ مسکرائیں گی جب میری پری مسکرائیں گی۔“

٭٭٭

جہاں پر جیت اٹل ہو وہ بازی ہار کے دیکھو!

”کیوں؟“ ایک تڑپ تھی ”کیوں؟“ ایک کرب تھا ”کیوں آجاتی ہو بار بار میری راہ میں؟“ کرلا کر پوچھ رہا تھا۔

”میں پیار کرتی ہوں تم سے۔“

”میں نہیں کرتا۔“ اور پیچھے مڑ کر اُس نے ضبط سے آنکھیں میچیں۔

”میں نہیں کرتا۔“ اُس نے سُرخ آنکھوں کو کھولا۔”میں نہیں!“

”میں پیار کرتی ہوں تم سے “

”میں نہیں کرتا۔“ضبط کرنے کے باوجود اپنی آواز کو اونچا نہیں کرپایا۔”میں نے کہا نا میں نہیں کرتا۔“

”ادھر“ بازو کو اُس کے سخت بازو کو اپنے نرم سے ہاتھ میں پکڑ کر خو د کی جانب موڑنا چاہا۔

”ادھر دیکھو نا!“ موڑنا چاہا وہ نہیں مڑا تو وہ خود سامنے جا کر کھڑی ہوگئی اُس کی نظرجھکی تھی ”میری طرف دیکھ کر کہو۔“ نم آواز تھی اُس کی۔

”میری طرف دیکھ کے کہو۔“ اُس نے ٹھوڑی پکڑ کر اوپر کی ”نظریں اُٹھاؤ میری طرف دیکھ کے کہو تو مانوں۔“

ایک چیلنج تھا لہجے میں جیسے وہ کہہ نہیں پائے گا ہاں وہ کہہ نہیں پائے گا پھر اُس نے کیوں کہہ دیا۔

”نہیں ہے پیار تم سے۔“ پتا نہیں اپنے اوپر آسمان گرایا تھا یا اُس کے اوپر وہ نہیں جان سکا!

٭٭٭

وہ وہاں پر بیٹھے رو رو کر، اور پھر سب اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔پتہ نہیں وہ سوئے تھے یا نہیں، لیکن پری کی آنکھ نہیں لگی تھی۔وہ اُن کا بچپن سوچنے لگی۔

”پوچھنا چاہتی ہیں بتاتا ہوں “ رُک کر دیکھا سب کو۔”ہم سب ماڈرن مسلمان ہیں۔“

”مجھ پر چوٹ کر رہے ہو۔“ سب کی نظریں یتیم بچے سے نہیں تھیں یتیم بچے کی ماں پر ٹکی تھیں۔کھلے بال دائیں طرف سے آگے گلے میں دوپٹہ چھوٹی شرٹ پاجامہ پہنے کھڑی تھی اُس یتیم بچے کی ماں۔

”اوہ!“ اس نے اپنا چھوٹا سا گول سا، خوب صورت سر جھٹکا۔”یہ سب بہت پرانا بہت پرانا ہوچکا ہے نارمل جیسے میں یتیم ہوں نا ایسے ہی ماڈرن مسلمان وہ یتیم تھا صرف یتیم! لیکن باقی سب کر سکتا تھا کھا سکتا تھا وہ، سُن سکتا تھا، دیکھ سکتا تھا، محسوس کر سکتا تھا، آخر کو انسا ن تھا وہ کیا ہوا اگر یتیم تھا۔

”زندگی کو سمجھنے کے لیے کون سے فلسفے کی ضرورت ہوتی ہے؟“

”موت کی۔جب موت آتی ہے نا تو زندگی اپنے آپ سمجھ آجاتی ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ تب تک زندگی آپ سے روٹھ جاتی ہے دور چلی جاتی ہے۔“

”نیندیں میری ہیں تو سپنے بھی تو میرے ہی ہوں گے نا!“

میثم عباس اور زیرک عباس بڑے تھے۔کرار حیدر، زریاب حیدر چھوٹے تھے جڑواں تھے۔بالکل الگ سے جڑواں بالکل مختلف!

سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی
تونے اندازہ وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے!

”کیلا ہے کیلا ہے۔“ وہ ٹیرس کی ریلنگ سے جھانکتا نیچے دیکھتا چلاتا۔

”کے لا ہے، کے لا ہے، کے، لا، ہے۔“ پھر وہ حسین پری آکر دے جاتی کیلا وہ کھاتا خاموش رہتا۔

کیلا ختم بولنا شروع ”ایپل ہے، ایپل ہے، اے، پل ہے اےےےےے، پل ہے۔“ پھر پری آکر ایپل بھی دے جاتی کچھ دیر بعد۔

”اورنج ہے، اورنج ہے، اووورنج ہے اوووورنج ہے؟“ پھر اورنج بھی مل جاتا وہ سارا دِن بس ایسے ہی نام لیتا رہتا۔وقفے کے بعد پھر سے شروع ہوجاتا ہے۔”کے لا ہے۔“

پری کو اتنے کام نہیں ہوتے جتنا 'زریاب حیدر' کے ساتھ گھومنا پڑتا ہر پانچ منٹ بعد، ہر سات منٹ بعد ہر ایک منٹ بعد اُسے کچھ چاہیے ہوتا اور یہ بات چند دِن بعد پری کو معلوم ہوگئی کے اُسے کیوں کچھ چاہیے ہوتا پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا!

اس سال میثم اور زیرک اسکول جانے لگے تھے اور کرار؟

وہ شیدائی تھا اُسے عشق تھا نیند سے اُس کا بس نہ چلتا کہ وہ سوتا اور خوب سوتا، بہت سوتا بے حد سوتا۔وہ نماز کے لیے اُٹھتا بڑی مشکل سے بند آنکھوں سمیت لاکھ چھینٹے مارتا چہرے پر آنکھ نہ کُھلتی اُن سب کو بچپن سے ہی نماز پڑھنے کا بہت شوق تھا۔وہ بھی اُن کے ساتھ اُٹھ جاتا اور اکثر سجدے میں ہی سو جاتا اورکہا کرتا بند آنکھوں سے نماز پڑھتا ہوں۔وہ سب گھسیٹتے مسجد لے کر جاتے۔

”ساری نمازیں ہم رات کو اکھٹی کیوں نہیں پڑھ سکتے۔“ وہ کہتا۔

”کھانا بھی سب وقت کا ایک ہی بار کھا لیا کریں، کرار حیدر۔“ زیرک عباس کہتا ہاں کھانے کا بھی شوق تھا اُسے سو کے اُٹھو گے تو کھاؤ کھا کے اُٹھو تو سو!

اب کرار کیا کھائے گا؟ ہر چیز کھانے کے تین منٹ ٹوٹلی تین منٹ ایک سیکنڈ نہ آگے نہ پیچھے پھر سے کہتا۔”اب کرار کیا کھائے گا۔“ کبھی کبھی غصے میں آکر کہہ دیتا، ”زریاب حیدر، اب کرار ما ر کھائے گا۔“ وہ منہ بنا کر کہتا۔”اوں ہوں بچے سخت چیزیں نہیں کھاتے پری نے منع کیا ہے۔“

سب سورہے تھے کرار حیدر اُٹھا میثم عباس، زیرک عباس کے درمیان لیٹی پری کو پاؤں سے ہلکے سے ہلایا وہ جاگ گئی، اُس کی نیند ایسی ہی تھی بچوں کے ساتھ وہ کوئی کرار حیدر، تھوڑا ہی تھی جو ایک دم سے نہ اُٹھتی وہ پری تھی اُٹھ کربیٹھی۔

”کیا ہے؟“ آنکھیں ایسی تھیں، جیسے کبھی سوئی نہ ہو۔

”اب کر ار کیا کھائے گا؟“ آنکھوں میں نیند تھی نیند ہی نیند۔

”کرار حیدر۔“ وہ کراہی، ”ابھی گھنٹہ بھی نہ گزراہوگا فروٹ کا سارا باؤل ختم کر دیا آپ نے۔“

”فریج میں دیکھو۔چاکلیٹس پڑی ہوں گی۔“

”میں نے دیکھ لیا ہے، نہیں ہیں۔“

”کچھ اور دیکھ لو جا کر۔آپ دیکھیں میں سورہی ہوں۔“

”میں بھی سورہا ہوں۔“ بند آنکھیں۔

اُٹھی فریج دیکھا کچن کیبنٹ چاکلیٹس، بسکٹ کسی بھی قسم کی کوئی سنیکس نہ ملے۔

”آپ مجھے انسان کے بچے نہیں لگتے، کرار حیدر۔“

اُسے چئیر پر بٹھایا اُس نے کہنیاں میز پر ٹکائے ہاتھوں میں گال ایسے بند آنکھیں سیدھا سر پری نے دیکھا ٹو ٹ کر پیار آیا۔

 ”چاول بوائل کر دیتی ہوں۔“ وہ بڑ بڑائی۔

”اوں ہوں۔“ اُس نے دیکھا آنکھیں بند تھیں لب ہل رہے تھے۔”پلاؤ وہ بھی چکن والا۔“

پری کو اپنے پاؤں پر کسی لمس کا احساس ہوا لیٹے لیٹے ہی آنکھیں کھول کر دیکھا۔”ہا!“ کراہی۔”اب کرار کیا کھائے گا؟“ چہرے پر زمانے بھر کی معصومیت لیے کھڑا تھا پری نے کروٹ بدلی میثم عباس کو خود سے قریب کیا کمبل کھینچ کر چہرے پر لیا چہرہ نظر نہیں آیا آواز سنائی دی۔”اب کرار خیالی پلاؤ کھائے گا اور سو جائے گا۔“

فجر کی اذان ہورہی تھیں کرار کی آنکھ کھلی سب جھکے تھے اُس پر جگانے کی کوشش اور صرف کوشش۔پری اُٹھی کچن میں گئی دو پراٹھے بنائے واپس آکر کرار کو لالچ دیا ”اب کرار کیا کھائے گا۔“ اُس نے آنکھیں کھولیں مسکرایا ذرا اوپر ہوا بہت ہلکے کہا۔

”اب کرار خیالی پلاؤ کھائےگا اور سو جائے گا۔“ کمبل کھینچا چہرہ ڈھانپا وہ سب کھڑے تھے طریقے سے خاموش!

٭٭٭

”کرار اُٹھ جا ئیں نماز پڑھ لیں۔“

”نماز نیند پوری کر کے پڑھتے ہیں جب تک پوری نہ ہوجائے “

”آپ کی نیند تو ساری زندگی نہ پوری ہو۔“

”مجھ پر ابھی نماز فرض نہیں ہوئی، لیکن پری کہتی ہیں بچپن سے عادت ڈالو تو عادت پڑتی ہے جائیں آپ سب، مجھے سونے دو۔“

وہ زیرک عباس تھا آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا سر پر ہاتھ رکھے۔

”کرار حیدر کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوسکتے۔“

وہ سکول جاتے 'کرار حیدر' سوجاتا پری گھر کے کام نبٹاتی اور زریاب حیدر بور ہوتا، بہت زیادہ بہانے بہانے سے پری کو آوازیں دیتا اور پھر ایک دِن نیا مشغلہ ہاتھ لگا۔گلی سے گزرا تھا کوئی ہاتھ میں وائپر جھاڑو لے کر وہ آوازیں دیتا۔

”جھاڑو لے لو وائپر لے لو۔“ اور زریاب حیدر کہتا۔”آڑو لے لو ایپل لے لو۔“

اورکرار حیدر نیند میں کہتا۔”دے دو۔“

٭٭٭

مہینہ ہوچکا تھا دونوں سکول جاتے ہوئے آج اتوا ر تھا مطلب چھٹی۔پری نے سب کو لان میں بٹھایا، وہ کھیلتے رہے سوائے کرار کے جو کچھ دیر بعد لا ؤنج کے دروازے سے جھانکتا۔”اب کرار کیا کھائے گا؟“ اور پری ٹھنڈی سانس لے کر کچن کی طرف بڑھتی پھر جو صفائی شروع کی، تفصیلی ”زریاب حیدر۔“ وہ چلائی تھی! جانے کیوں؟

ہوا کیا تھا کیا؟ ہاں اُس نے اسٹڈی ٹیبل کی دراز کھولی چیزیں سیٹ کرنے کے لیے وہاں کیا تھا؟ دروازوں کے پیچھے چیک کیا وہاں کیا تھا؟ دیواروں کو غور سے دیکھا، وہاں کیا تھا؟ بیڈ کے نیچے صحیح جھک کر دیکھا وہاں کیا تھا الماریوں سے کھینچ کھینچ کے پردے نکالے وہاں کیا تھا گملوں کو پانی دینے لگی اُن کے پیچھے اُن کے اندر کیا تھا؟

 کیلا ایپل اورنج، یہ سب چیزیں تھیں وہاں

تو اتنے دِنوں سے یہ بُو تھی میں سمجھی تفصیلی صفائی نہیں کی اِس لیے۔“

وہ تنہا تھا تنہائی دور کرنے کے لیے پری کو بلاتا نہ آتیں فروٹس مانگتا اور پھر ان سے اپنی تنہائی دور کرتا۔

”یہ سب کیا کیا آپ نے۔“ جب پری نے اُس سے پوچھا تو اُس نے کہا۔

”میں چونٹیوں کو کھانا کھلاتا تھا پری اب کیا کرنا چاہیے۔“ اور پری نے بہت سوچنے کے بعد کہا تھا۔

”اب وہ سب آکھٹے اگلے سال سکول جائیں گے ایک ہی کلاس میں۔“

٭٭٭

”زندگی مر چکی ہے موت زندہ ہو چکی ہے۔“

”اپنی ٹانگوں کو بہت زیادہ کام میں مت لاؤ حسین طاقت نہیں رہے گی۔“

”کام میں نہیں لاؤں گا تو ناکارہ ہو جائیں گی بے بس ہو جائیں گی۔“

وحشت، بڑے دلچسپ دوراہے پر کھڑی ہے!

”تم ہنستے اچھے لگتے ہو ہنستے رہا کرو۔“

”میں روتے میں قیامت لگتا ہوں تو کیا روتا رہا کروں؟“

”کہتے ہیں جن سے پیار کیا جاتا ہے اُن کی باتیں ماننا چاہیے۔“

”پیار کیا ہے یا لگامیں دے دی ہیں اپنے ہاتھ کی غلام بن گئے ہو۔“

”تم اچھی بات نہیں کر سکتے؟“

”مطلب؟“

”پیار، محبت کی خوشی کی زندگی کی ہم تم ہوں گے بادل ہوگا رقص میں سارا جنگل ہوگا ٹائپ۔“

وہ کھل کر ہنسا تھا ”ذِل“ اُس نے دھیرے سے پکارا۔”ہوں۔“

”مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے؟“

”پکڑا کب ہے؟“

”تم جیسا فلرٹی انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔“ کوئی آکر گرجی تھی اُس پر۔

”ایک ابھی ہوتی ہے دوسری پکڑ لیتے ہو۔“ وہ اُٹھا اُس نے خفگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔

”ہوم ورک توپورا کر کے آتی چھ ہیں تمہیں ملا کر سات.“ مڑ کر دیکھا ”اور اسے ملا کر آٹھ۔“ مسکرایا۔اگلے پل دنگ رہ گیا اس لڑکی کی آنکھ میں آنسو تھے، بے چین ہوا۔

”ایسے کیوں کرتے ہو؟“ پلکوں پر آکے آنسو اٹک گئے۔””بہت مزہ آتا ہے مجھے اذیت دے کے۔“ آنسو لڑھکے تھے گالوں پر۔

”سکون ملتا ہے قرار آتا ہے۔“ آنسوؤں میں اضافہ ہوا تھا۔

”تمہیں پتا ہے یہ آنسو میرے دِل پر گر رہے ہیں اور وہاں پر پہلے ہی بہت زخم ہیں صرف پانی ہوتا تو شاید کام چل جاتا یہ نمکین پانی ہے۔“ اور وہ ہنسا تھا۔”کتنی بار کہا ہے نمک کم کھایا کرو نہیں تو پانی کم پیا کرو یا پھر مجھے لڑکیوں کے ساتھ مت دیکھا کرو اگر دیکھ لیا کرو تو رویا مت کرو وہ بھی آنسوؤں سے؛ دِل کے زخموں پر گرتے ہیں۔“ اُس نے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔

”تم جھوٹ بولتے ہو تمہارا دِل ہی نہیں ہے تو زخمی کہاں سے ہوگا۔“ وہ وہاں سے ہٹ گئی۔وہ دکھی اداس سا اُسے دیکھے گیا۔مسکرادیا اور مسکراتا رہا بہت دیر تک۔

”تم ٹھیک کہتی ہو دِل نہیں ہے میرے پاس اور بغیر دِل کے کیسے جیتے ہیں یہ کوئی آکر مجھ سے پوچھے!“

کشتی چلانی نہیں آتی تو چپو کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں ہر چیز کو چلانے کا ایک طریقہ ہوتا ہے ایک سلیقہ ہوتا ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا۔یونہی چپو کو ہاتھ میں لے لو گے تو ڈوب جا ؤ گے یا اُس کو چلانے کی کوشش مت کرو یا چلانے کا سلیقہ سیکھ جاؤ۔یہی بات میں زندگی گزارنے کے لیے بھی کہوں گی۔

وہ چارسال کا خوب صورت گول مٹول سا بچہ تھا۔اُس کے سلکی بال ماتھے پر بکھرے تھے، اُس کے گول چہرے پر جچ رہے تھے۔آنکھیں چمک رہی تھیں، چہرہ معصوم تھا، گورے گلابی گال حسین امتزاج تھا۔گول چہرے سے ایسے شعاعیں پھوٹ رہی تھیں، جو دیکھتا رک جاتا، ٹھہر جاتا، مبہوت ہوجاتا۔کئی لوگوں سے سناتھا اُس نے، بچے بہت دیکھے پر اِس جیسا کوئی نہیں، کہتے اور گزر جاتے۔قدم آگے بڑھا دیتے۔”تم کون ہو؟“ کسی نے پوچھا تھا۔

”انسان۔“ اُس نے مقابل کی آنکھوں میں حیرانگی سے دیکھا۔”مسلمان۔“

”کس کے بیٹے ہو؟“ اُس نے نرمی سے پوچھا تھا۔

”سیاہ بادل کا۔“ نرمی سے جواب آیا۔

”آپ کون ہیں؟“

”امام۔“

”کون سے والے؟“

”مسجد کا امام۔“

”سب پتہ ہے مجھے۔“ اُس نے ہاتھ اٹھایا۔”زیادہ رعب نہ جھاڑیں مجھ پر کہ آپ کو ہی سب پتہ ہے۔“ جہان بھر کی خفگی آنکھوں میں لیے۔”سب معلوم ہے مجھے، آپ نکاح پڑھانے آئے ہیں یہاں پر۔“ وہ خاموشی سے اُسے دیکھتے رہے۔”بولیے نا۔“ سامنے کھڑ ے مسجد کے اما م گڑ بڑائے۔

”جی بیٹا۔“

”گڈ۔“ اُس نے سراہا تھا اُنہیں۔”کچھ کھاؤ گے؟“

”نہیں۔“ اُس نے نفی میں سر ہلایا۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of قصہ بابا بِگو - Qissa Baba Bigu - karbala book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Zahra Nauman earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 600

See all editions, reviews and details

قصہ بابا بِگو - Qissa Baba Bigu - karbala book Buy — Rs 600