Check out our most recent publications
ادب و تنقید - Adab o Tanqeed
Free sample · no sign-up

ادب و تنقید - Adab o Tanqeed

by Muneeb Masoud

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

ادب و تنقید

 

(افسانے، انشائیے اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ)

 

منیب مسعود چشتی

ایم فل اسلامی فکر و تہذیب

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

اشاعت اوّل ٢٠٢۲ء

 

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

*

مدیران

فریال زہرا

نرمین سرھیو

 

ـــــ

سر ورق کے جملہ حقوق مصنف کے نام محفوظ ہیں

 

انتساب

 

ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی ادبی کاوشوں کے نام!

 

ابتدائیہ

بچپن میں ’’تعلیم و تربیت‘‘ پڑھتے پڑھتے لکھنے کا شوق بھی ہوا، پہلے پہل موضوع بتائے جانے پر فوراً کہانی سنانا شروع ہو جاتا تھا۔ ایک ادھ کوشش اخبار میں موجود بچوں کے صفحہ پر لطیفہ کی بھی کی مگر غیر معیاری ہونے کی بنا پر ٹھکرا دیا گیا۔ انگریزی ادب میں بیچلر ہو جانے کے علاوہ کچھ عرصہ عربی پڑھنے کا اتفاق بھی ہوا اور اسی دوران، نفیس دارالکتابت لاہور سے شجرہ نسب پر مشتمل میری پہلی کتاب شائع ہوئی۔ میرے نانا سعد اللہ کلیم جو ضلع اٹک کے معروف صوفی شاعر گزرے ہیں ان کی ادبی و دینی خدمات بھی میرے لیے مشعل راہ بنیں، خاص طور پر ان کا قریب آٹھ سو صفحات پر مشتمل پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’اردو غزل کی تہذیبی و فکری بنیادیں‘‘ ایک گرانقدر تحقیق ہے۔ راقم یہ سمجھتا ہے کہ ہم مصنفین کی زندگی دو اہم اشیاء سے متاثر ہوتی ہے، پہلا کوئی ایسی شخصیت جو آپ کے تصورات میں نقش رہے اور دوسرا مخلص قارئین جو خوبی و خامی کی وضاحت کے لیے تنقید کا دامن تھامے پیچھا نہ چھوڑیں۔

میری زندگی کے دو اہم موضوعات میری تحریروں کا حصہ ہیں، ادب اور دین۔ ادبی تحریریں گویا ابتدائی کاوش تھیں مگر احباب نے پسند کیں، اور اب تحقیق کا رجحان دین کے مختلف پہلوؤں کی جانب ہے جس کی بنیادی وجہ تو تعلیمی شعبہ کی تبدیلی ہے مگر ساتھ میں عصر حاضر کی بگڑتی صورتحال کا بھی عمل دخل ہے۔

انگریزی ادب و عربی تعلیم دو مختلف اہداف تھے جن کا اختتام بلآخر یو ایم ٹی میں موجود شعبۂ اسلامی فکر و تہذیب بنا۔ مغربی تہذیب و ادب کو بھی قریب سے جاننے کا موقع میسر آیا ساتھ میں اسلامی تہذیب و فکر کی خصوصیات واضح ہوئیں اور اسی دوران چند ادبی تحریریں معرضِ وجود میں آئیں۔ یہ کتاب انھیں تحریروں کا مجموعہ ہے، معاشرتی خوبیوں کی عکاسی کے علاوہ چند اہم ادبی موضوعات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا انحصار قارئین کی آراء پر ہے۔ میں ایک منفرد سوچ رکھنے والا شخص ہوں جو دنیا کو کسی علیحدہ پہلو سے پرکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور باقی کا تعارف تحریروں پر چھوڑتا ہوں۔

 

 

فہرست

ابتدائیہ... III

افسانے... 1

میری عید مبارک کر دے.... 1

ننھی کلی... 7

ثریا اور شرافت.... 12

انشائیے... 17

ہمارا ادبی مستقبل........ 17

نفی... 20

قلم کی آپ بیتی... 22

تنقیدی جائزے... 26

اقصیٰ سے کعبہ تک.... 26

ننھے حضور ﷺ ناول کا تنقیدی جائزہ. 32

سلیم احمد کے نظریات... 56

 

افسانے

میری عید مبارک کر دے

رنگِ حنا، آج ”حنا “کے ہاتھوں پر کچھ زیادہ ہی جچ رہا تھا۔ کبھی نرم و ملائم ہتھیلیوں کو دیکھتی تو کبھی چوڑیوں کے اندر موجود کانچ کی مانند نازک کلائیوں پر نظر چلی جاتی اور تو اور آدھ گھنٹے میں پانچویں بار آئینے کا سامنا اتفاقاً ہو گیا تھا۔ وہاں سب سے پہلی نظر اس کی اپنی شرمیلی مسکراہٹ پر ہی جاتی پھر لال ڈوپٹے کی اوٹ سے لال ہونٹ دیکھ کر میچ کرنے لگتی، آج اس نے بال نہیں بنائے کیوں کہ کھلی زلفوں کی تعریف کی اس کو عادت سی ہوگئی تھی۔ جانے لڑکی کی زندگی کے یہ پل کتنے حسین ہوتے ہوں گے، مسکراہٹ آنکھوں پر اور شرم ہونٹوں پر جچتی ہوگی حالانکہ یہ تو تضاد ہوا، اصول وضوابط سے۔

آج حنانے پیا کے آنے کی خوشی میں وہی لال رنگ پہنا تھا جو سہاگ کی یاد کو تازہ کر دیتا تھا۔ اس سے ان دو سالوں میں کتنی بار یہ خواہش ظاہر کی گئی تھی مگر سر پر جو ں بھی نہ رینگی تھی۔ مگر آج، آج تو کچھ خاص ہی موقع تھا، یہی تیاری ہر دفعہ عید کی آمد پر طے ہوتی لیکن یہ خونی رنگ، اس کی زندگی میں دوسری بار، اس کے مخملیں بدن پر عشق کی داستان رقم کرنے چلا تھا۔ جس نے جدائی کے زخم نہ کھائے ہوں وہ وصل کی چاشنی حاصل کرنے سے بھی محروم رہتا ہے، بقول شاعر :

وصالِ یار بجز ہجرِ یار کچھ بھی نہیں
نہ ہوں جو پھول کے پہلو میں خار، کچھ بھی نہیں

( پروفیسر سعداللہ خان کلیم)

اور حنا کی زندگی کچھ ایسے نشیب و فراز سے جڑی ہوئی تھی کہ اس کو ان دو سالوں میں جدائی، بعد از وصال کی لذت سے بخوبی واقف ہونا پڑا تھا۔ تبھی تو دیکھو کیسے کنواری شرارت اس کی روح میں لوٹ آئی ہے، جیسے کوئی کھلتی کلی خزاں کو موسمِ جاں فزا بنا رہی ہو۔

اس تیاری میں اس نے کتنا وقت صرف کر ڈالا تھا مگر مجال ہے کہ لمحات کے گزرنے میں معمولی بھی فرق پڑا ہو، دن تھا کہ گزرتا نہیں تھا، رات تھی کہ ڈھلتی نہیں تھی، آج آہنی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے عید کے چاند کو بھی حنا کچھ یوں بھاگئی کہ وہ ازلی آمدورفت کو بھول بیٹھا تھا اور کھڑکی کے سامنے والی بیری کے اوپر براجمان ہو کر لمحہ لحمہ بیری کی پتلی شاخوں کے بیچ سے جھانکتا اور حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے دوبارہ پسِ پردہ چلا جاتا۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of ادب و تنقید - Adab o Tanqeed. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Muneeb Masoud earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 300

See all editions, reviews and details

ادب و تنقید - Adab o Tanqeed Buy — Rs 300