12% of the book — free to read
خراجِ عشق
ایم عامرؔ آزاد

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢۲ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
*
مدیران
قدسیہ حذیفہ جمالیؔ
نرمین سرھیو
ـــــ
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کےنام محفوظ ہیں
انتباہ برائے قارئین
یہ داستانِ حیات صرف بالغ نظر، اٹھارہ سال سے بڑے افراد کے لیے ہے۔ سانچوں میں جکڑے ہوے ذہن، ہر ممکن کوشش کرکے اس داستانِ حیات سے دورر ہیں۔ احتیاط لازم اس لیے بھی ہے کہ اس داستانِ حیات کے کچھ حصے معاشرے کی طبیعت پر بارِگراں ثابت ہوسکتے ہیں۔
٭٭٭
فہرست
کتابِ عشق ...................................................... 12
من کے بھیتر ................................................... 17
رب العالمین .................................................... 21
عین عشق ...................................................... 25
وہ قیامت خیز لمحوں کی پریشانی نہیں جاتی ...................... 31
ایک دن اپنے ہی ساتھ .......................................... 36
دلوں کا بٹوارہ ................................................. 43
ان تلوں میں تیل نہیں ........................................... 46
ابھی تاروں سے کھیلو، چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ ............... 49
شدت پسند عاشق ............................................... 60
یار کو ہم نے جا بجا دیکھا ..................................... 67
کچھوا اور خرگوش ............................................ 73
تمغہ جرأت .................................................... 76
زمین کی عدالت ............................................... 81
میں اور میری قید تنہائی ....................................... 86
آکسیجن کا بحران .............................................. 91
ماہیت ......................................................... 97
پہلوان نما حکیم اور جنسِ ناتواں ................................ 100
کوئلوں کی دلالی میں ہاتھ بھی کالے اور منہ بھی کالا ............ 103
ہائبرڈ ٹیکنالوجی سے چلنے والی سرکار ......................... 107
آکھ مٹکّا ...................................................... 112
شاہ دولہ کے چوہے ........................................... 114
گدھ بمقابلہ راجہ گدھ .......................................... 120
کھانا کھل گیا ہے ............................................. 126
کیمیائی عدم توازن ............................................ 129
ذات دی کوڑ کرلی ............................................ 135
فریب چال اور مکڑی کا جال .................................. 141
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے .................................. 145
میں نیل کرائیاں نیلکاں، میرا تن من نیل و نیل ................... 149
Hang Till Death 153
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ....................... 158
کیوں ہنگامہ ہے یہ برپا ....................................... 163
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں .................... 167
کعبتہ اللہ میں حاضری ........................................ 171
خدا کےبندے ................................................. 173
آج دن چڑھیا تیرے رنگ ورگا ................................ 175
ہیجڑے ...................................................... 178
تلاش گمشدہ اور کالج کی راہداری ............................. 183
فتح کا نقارہ .................................................. 192
تیری دو ٹکیاں دی نوکری ..................................... 196
ادھورے خواب ہی پورے خواب ............................... 203
منزل گم گشتہ ............................................... 209
بھانڈے ...................................................... 214
زمیں پر خدا کا بھرم قائم رکھتی اس ذریتِ آدم کے نام کہ جن کے دل اگر چیر کر بھی دیکھ لیے جائیں تو وہ آپ کو پرندوں کے دلوں کی طرح ہی معصوم ملیں گے۔ مکر و فریب ریاکاری نفرت اور ہر قسم کے منفی جذبوں سے پاک یہ لوگ اپنے خدا سے آسمانوں پر کیے گئے عہد کو خوب نبھائے ہوئے ہیں۔
یہ داستانِ حیات، رب کائنات کے نام، منزلِ عشق کے نام اور جنگل کے ان شیروں کے نام کہ جن کی خاموشی کو جنگلی درندوں کی جانب سے کمزوری سمجھ لیا گیا تھا کہ پھر ان شیروں کو تنہا گھات لگا کر شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔
جنگلی درندےتوجتھوں کی صورت ہر سمت سے یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان شیروں کو نوچ کھایا جائے۔ یا پھر دریا برد کردیا جائے۔
شیر کمزور کیا پڑتا ہےکہ پھر حملہ آور ہر طرف سے شیر پر ہلّہ بول دیتے ہیں۔ اس اچانک افتاد پر شیر کا گھائل ہونا تو بنتا ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں ناکہ شیر گھاؤ لیے ہوئے بھی ہو تو وہ اپنا تمام سفر بہت خاموشی سے کرتا ہے اور پھرصحیح وقت آنے پر ان درندں کو مناسب جواب بھی دیتا ہے۔ لیکن جب شیر جواب دیتا ہے تو درندے اس کی بس ایک دھاڑ سے ہی مرجاتے ہیں۔ کچھ جنگلی درندے ایسے بھی ہیں، جو شیر کی اُس ایک دھاڑ سے گھبرا کر، اپنی کمین گاہوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی وہیں دُبک کر بسر کر سکیں۔
زبان سے بولنے والے درندے یہ نہیں جانتے کہ شیر ہمیشہ اپنے رویّہ سے بولتا ہے۔
شیر کا جگر لے کر، جنگلوں سے گزرے تھے
تم نہ جان پاو گے، کن حادثوں سے گزرے تھے
وقت کے تھپیڑوں کی کاٹ ہم نے کاٹی تھی
لوٹ کر جو آئے ہیں، حوصلوں سے گزرے تھے
ہر قدم پہ ٹوٹے تھے، پھر بھی گامزن تھے ہم
منزلوں کی چاہت میں جن راستوں سے گزرے تھے
***
میں تیرا جوگی سرمستہ
کچھ بھید لیے ہوں سر بستہ
تو لب سے میرا نام پکار
میں اوّل اوّل ہر دستہ
تو میرے دل پر قوس قزح
تو میرے لب کا گلدستہ
تو آن بسا میری آنکھوں میں
پھر ڈھونڈوں کیوں رستہ وستہ
جو مجھ پر حاکم ہیں میرے
کچھ بونا قد کچھ سر پستہ
دل صد میرا ناشاد رہا
جگ شاد رہے ہنستا بستہ
٭٭٭
میرا متجسس ہونا ایک طرف اور اس کا مشکوک ہونا دوسری طرف اور شاید ایسی ہی کچھ وجوہات ہیں کہ وہ شخص میرے لیے کافی عرصہ سے ایک معمہ سا بنا ہوا ہے۔ دیکھنے میں اچھا خاصہ پڑھا لکھا سلجھا ہوا معقول سا نظر آنے والا وہ میرا روم میٹ میرے لیے ہمیشہ سے ہی پوشیدہ اور مبہم سا کردار رہا ہے۔مبہم بھی اتنا کہ وہ پیاز کی طرح تہہ در تہہ پرتیں لیے ہوئے ہے۔
وہ پینتالیس سال کے پیٹے میں ہی ہوگا لیکن نہ جانے کیوں اُس کے بالوں کو سفیدی نے ڈھک لیا ہے۔ وہ دیکھنے میں اپنی عمر سے بہت بڑا دکھتا ہے۔ وہ پہلی نظر میں دیکھنے سے مجھے کوئی شدت پسند دکھا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ گزرے وقت نے مجھے میری رائے تبدیل کرنے پر مجبور کردیا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر عیاں ہوا کہ وہ ایک حساس اور انسان دوست شخص ہے۔
میں اور وہ کچھ عرصہ سے کراچی میں ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔وہ گھر بھی کیا ایک کمرے پر مشتمل ایک چھوٹی سی رہائش گاہ ہے جس کے ساتھ ایک عدد کچن اور پھر اس کمرے کے ساتھ ہی ایک ملحقہ واش روم بھی ہے۔ وہ ایک نوکری پیشہ شخص ہے اور ایک نجی ادارے میں اچھے عہدے پر فائز ہے۔
وہ اکثر و پیشتر خاموش ہی رہتا ہے لیکن جب بھی بات کرتا ہے تو بہت ہی نپی تُلی اور سمجھ داری کی بات کرتا ہے کہ پھر وہ بات آپ کے دل میں اُتر کر ہی دم لیتی ہے۔ باتیں بھی ایسی کہ جو اس مادہ پرست معاشرے میں اب تقریباً ناپید سی ہوگئی ہیں۔ اُس کی طرف سےیہ عنایت بہت ہی کم کم ہوتی ہے۔ کچھ بھی بھلا سننے کے لیے کچھ کنکر اُس کھڑے پانی میں پھینکنے پڑتے ہیں تو کہیں جاکر کانوں کو سننے کے واسطے کچھ میسر ہوتا ہے۔
وہ مالی طور پر ایک مستحکم شخص ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر و پیشتر محلے کے لوگ اُس کے پاس اپنی مالی ضروریات کا رونا لے کرداد رسی کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ وہ بھی ایسا دیالُو ہے کہ پھر اُن سے بھید بھاؤ کئے بنا ہی ان کی مدد کرتا ہے اور اِس پر اُس کی یہ خصوصیت کہ وہ قرض دے کر اکثر بھول جاتا ہے۔ اس کی یہ عادت تقریباً تمام ہی قرض لینے والوں کے دلوں کو بھا سی گئی ہے۔
میں مشہور زمانہ نہ سہی لیکن ایک کالم نگار، کہانی نویس، ادیب اور شاعر ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ میں میڈیا سے منسلک ایک ادارے میں پارٹ ٹائم ملازم بھی ہوں۔
جہاں تک بات رہی اُس ادارے سے ملنے والی تنخوا ہ کی تو وہ میرے پاس آتے ہی میرے آبائی گھر کے لیے اُڑان بھر لیتی ہے کہ میرے کندھوں پر فیملی کی کفالت کی ذمہ داری ا یک بار گراں ہی سہی لیکن میں اس ذمے داری سے کوئی بھاگا تھوڑی ہوں۔ اور جہاں تک بات رہی اپنے اخراجات کی تو کچھ نہ کچھ رام کہانی کرکے میرے اس شکم کے واسطے بھی کچھ نہ کچھ میسر ہوہی جاتا ہے۔
میں ایک بات اور واضح کرتا چلوں کہ میں نےابھی تک کہ اپنے تمام کردار اور کہانیاں اپنے مشاہدے کو استعمال کرتے ہوئے اس معاشرے سے چنے ہیں۔ آج کل میرے پاس کوئی اچھی کہانی نہ ہونے کے سبب میرے چار سو شاعری اور کَڑکی چل رہی ہے۔ میں بھی اپنی مالی ضروریات کی وجہ سے اکثر کچھ رقم اُس سے ادھار کی صورت میں لے ہی لیا کرتا ہوں۔ وہ میرے لیے ایک اے ٹی ایم مشین سے کم نہیں ہے اور اے ٹی ایم بھی ایسا کہ جس کی کوئی وڈرال لمٹ ہی نہ ہو۔
اپنے چہرے کی مسکراہٹ کی طرح وہ خود بھی بہت گہرا ہے، اتنا گہرا کہ مجھ جیسا چہرہ شناس بھی دھوکا کھاجائے۔ اُس کے چہرے سے معلوم ہی نہیں پڑتا ہے کہ وہ خالص مسکرا ہٹ لیے ہوئے آپ سے مخاطب ہے یاکہ اُس کی اِس مسکراہٹ میں کہیں کچھ دُکھ کی ملاوٹ ہے۔
وہ بات کرتے ہوئے بہت ہی خوبصورت سی ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنےچہرے کے تاثرات کواور دل سے اٹھنے والی آہ کو چھپا لیا کرتا ہے۔ مجھے دیکھنے میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی بہت ہی منجھا ہوا سچا اداکار ہے۔
اُس کی رات کی نیند بہت ہی کم ہے۔ بس تین سے چار گھنٹے کی ہی نیند لیتا ہے اور پھر کبھی کبھار وہ دن کے اوقات میں کچھ دیر کے لیے کرسی پر سر ٹکائے پاور نیپ لے لیا کرتا ہے۔ یہ چند لمحوں کے کچھ پاور نیپ اُس کو چارج کرنے کو کافی ہوجاتے ہیں۔ وہ ایک مسلسل چلنے والی مشین کی مانند ہے اور مشین بھی ایسی کہ جو چوبیس گھنٹے مکمل کارکردگی لیے ہوئے پروڈکشن دیتی ہو بنا کسی ویسٹ آف مٹیریل کے۔ وہ فارغ اوقات میں اکثر کتابوں کے ساتھ عرق ریزی کرتا ہوا پایا جاتا ہے۔کہیں کچھ کتابوں کو کھنگالتے ہوئے تو کبھی چند صفحات پر کچھ نہ کچھ لکھتے ہوئے۔
میں ازل سے شہرت کا بھوکا اور ان دنوں بھی کسی کہانی کی تلاش میں اپنے جوتے چٹخاتا پھر رہا تھا۔ مجھے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ جس کہانی کو میں گھر کے باہر تلاش کر رہا ہوں وہ مجھے اِس گھر میں اِس شخص سے ہی مل جائے گی اور بنا کوئی کشت اٹھائے ہوئے۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا لیکن یہ رنگ اتنا چوکھا ہوگا میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ میری اس کہانی تک رسائی کیسے اور کیوں کر ہوئی۔ آپ نے سن رکھا ہوگا کہ جب خدا دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔ کم از کم میرا اور اس کہانی کا معاملہ تو کچھ ایسا ہی تھا کہ وہ کہانی مجھے چھپر پھاڑ کر ہی ملی تھی۔
ایک دن میں حسب عادت صبح دیر سے بیدار ہوا تو دیکھا کہ وہ حسب معمول اپنے وقت پر آفس کے لیے روانہ ہوچکا تھا۔ میں نے منہ ہاتھ دھو نے کے بعد ناشتے کے لیے کچن کا رُخ کیا اور پھر ناشتے سے فارغ ہوکر اپنے کافی کے کپ کے ہمراہ واپس کمرے کی طرف آگیا۔
باہر موسم کچھ ناخوش گوارہوگیا تھا،ایک تیز آندھی تھی کہ جس کے زیر اثر تیز ہواؤں کے جھکڑ سے چلنے لگے۔ اتنی تیز ہوا کہ اس سے کمرے میں رکھی ہوئی اشیاء تتربتر ہونے لگ گئی۔اسی ہوا کے دوش پر سوار کچھ کاغذ ہوا میں معلق ہوئے اور پھر قلکاریاں بھر نے لگے۔ میں نے جلدی سے کمرے کی کھڑکی اور کواڑ کو مکمل بند کیا تاکہ ہوا کو اس کمرے میں داخلہ سے روکا جاسکے۔
میں کامیاب ہوا تو اگلے ہی مرحلے میں مجھے ان بکھری اشیاء کو واپس ان کی جگہ پر رکھنے کی زحمت اٹھانا پڑ گئی۔ وہاں سے فارغ ہوکر میں نے زمین پر بکھرے ہوئے پیپرز اکھٹے کرنا شروع کردئیے تھے۔اور اب آگے کے مرحلہ میں ان پیپرز کو واپس اسٹڈی ٹیبل پر رکھ دیا کہ اسی دوران میری نظراسٹڈی ٹیبل پر رکھے ہوئے اُس کے نوٹ پیڈ تک چلی گئی۔ یہ وہ نوٹ پیڈ ہے کہ جس پر وہ کچھ نہ کچھ تحریر کرتا ہی رہتا ہے۔سو تجسس کے ہاتھوں جیسے ہی میں نے اُس نوٹ پیڈ کو کھولا تو میری نظر اُس کی نوٹ پیڈ پر لکھی ہوئی تحریر کی طرف چلی گئی، اُس کی نوٹ پیڈ پر لکھی ہوئی تحریر کچھ یوں تھی۔
٭٭٭
عمر: 45 سال
سن: 2021
ایک مشہور ضرب المثل ہے بولنا قدرت سکھاتی ہے لیکن چپ رہنا عقل سکھاتی ہے۔ سو بائیس سال سے میں نے ایک لمبی چپ تان رکھی تھی۔ اور چپ بھی ایسی کہ میں خود اپنے من کے اندر جانے سے بھی گریز کرتا تھا۔ ہاں من کے اندر سے کبھی کبھار ایک آہ نکلتی جو کہ دل کے راستے، میرے دل کو چیرتے ہوئے باہر کی طرف آجاتی تھی۔
مجھ سے پوچھنے والے پوچھتے کے آخر یہ ماجرہ کیا ہے؟
کیا تم کسی تکلیف میں ہو؟
جواب بتانے کے لیےمجھے اِس آہ کے ساتھ دل کے راستے واپسی کا ایک تکلیف دے سفر کرنا تھا۔ سو میری طرف سے تو فِلحال چپ ہی تھی۔ بائیس سال بعد، ہاں بائیس سال بعد، ایک دن اس چُپ کو توڑ دیا گیا۔ کہیں تو کچھ چھیڑ چھاڑ ہوئی تھی۔
وہ قدرت تھی یا من چلا عشق؟ یا دونوں ہی، مجھ سے اپنے اپنے حصے کا خراج مانگ رہے تھے؟
اگر میرے ساتھ جو مجھ پر گزری تھی، وہ اس زمین میں دفن بھی ہو جاتی تو کیا فرق پڑ جاتا؟
برسوں کی مسافت اور اس مسافت کی تھکان اور رتجگے مجھ سے کہتے ہیں چل جھلیا شور مت کر، آنکھیں موندے، چپ سادھے لیٹا رہ۔ جو بچ گیا ہے اس کو سمیٹ لے، یہ نہ ہو کہ زمانے کی گرد اور وقت کی تہوں کے نیچے دبا ہوا طوفان پھر شدت پکڑ لے اور پھر وہ طوفان تیرا سب کچھ ہی بہاکر لے جائے۔
جیسے ایک شوگر کا مریض اپنے زخم کریدنے سے ڈرتا ہے۔بالکل ویسےہی میرے ذہن کے کچھ تاریک گوشے شوگر کا عارضہ لیے ہوے تھےکہ کریدنے پر مجھے گھُن کی طرح چاٹ جاتے۔ یہ دلِ برباد اس عمر میں بھی شدت پسندی سے باز نہیں آیا۔ کہتا ہے اٹھ اور اپنی آپ بیتی لکھ ڈال کہ پھر رانجھے، مجنوں، رومیو اور فرحاد کی کہانیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں۔ تو اپنے رب کا اور اپنے عشق کا کچھ تو حق ادا کر۔
میں جھلا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ضدی دل کی مان کر اپنے من کے اندر اترنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ ایک بات تو طے تھی کہ میرے لیے دل کے راستے من کے اندر اترنا کوئی خالہ جی کا باڑا نہ تھا۔ مجھے ادراک سے لاشعور تک کا سفر جان کو جوکھوں میں ڈال کر کرنا تھا۔ جس وقت سے مجھے یہ کام سونپا گیا تھا، میں اپنے آپ کو ایک خاص ماحول میں رکھ کر آگے کی طرف بڑھتا چلا جارہا تھا۔
You have read 12% of خراجِ عشق - Khiraaj e Ishq- Islamic Spiritual Fiction Book. The full e-book picks up right where this stopped.