Check out our most recent publications
حکایت از سرزمین آتش و عشق - Hakayat Az Sarzameen e Atish o Ishq
Free sample · no sign-up

حکایت از سرزمین آتش و عشق - Hakayat Az Sarzameen e Atish o Ishq

by Sana Sadiq

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

حکایت از سرزمینِ آتش و عشق

(آذربائیجان کے حسین سفر کی آپ بیتی)

ثناء صادق

 

 

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان

 

جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ۲۰۲۲ء  

مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

*

مدیران

نرمین سرھیو (مدیرۂ اعلیٰ)

فریال زہرا (مدیرۂ معاون)

 

ــــــ

 

گرافک ڈیزائنر

انعم امیر (داستان)

 

ــــــ

 

سرورق اور تمام تصاویر کے جملۂ حقوق مصنفہ کے نام محفوظ ہیں۔

 

انتساب

خدا کے بعد

چنّو ، نونو اور تانیہ کے نام !

جن سے زندگی کی تمام حسین یادیں وابستہ ہیں

 

فہرست

ابتدائیہ (انسپیریشن)....................... 8

دھچکے پہ دھچکہ.......................... 10

باکو کی شام............................ 15

پہلا کھانا، پہلی رات، پہلی پلاننگ............... 27

دوسرا دن............................ 36

آبشرون سے خزر تک...................... 44

جلتی چٹانیں، خوش کُن نظارے................. 52

اِچری شہر کی لوک داستانیں................... 60

ماڈرن باکی کے جواہر...................... 73

شیکی - دی ونڈر سٹی...................... 79

شیکی کی تاریخ اور ثقافت.................... 87

شیکی کی آپ بیتی........................ 91

حماقتیں 007.......................... 97

شیکی خیر آباد۔۔۔........................ 104

نئے راستے، نئی منزلیں.................... 116

سرخ شہر کے راز....................... 125

عقیدت، عبادت، مروت، سعادت۔۔۔.......... 134

الوداع گانجہ، الوداع آذربائیجان................ 147

مصنفہ کے بارے میں.................... 157

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ابتدائیہ (انسپیریشن)

ہر سفر کے شروع ہونے سے پہلے اس کے پیچھے کی کہانی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنا ازخود وہ سفر۔ یہ ہمارا ماننا ہے، اور اس حساب سے ہمارے کسی بھی سفرنامے کا سب سے پسندیدہ حصہ ہوتا ہے اس سفرکی شروعات پر روشنی ڈالنا۔ ویسےبھی ہم سےکسی نے کہا تھا کہ دنیا کی عجیب و غریب جگہیں ہی ڈھونڈ کر تمہیں کیوں جانا ہوتا ہے؟ اور اس بات کا جواب آج تک ہم خودکو بھی دینے اور سمجھانے سے قاصر ہیں تو اور کسی کو کیا سمجھائیں۔ شاید ہمیں ان جگہوں کو کھنگالنے کا تجسس ہے جنہیں عمومی طور پر اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی ان کا حق بنتا ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ دنیا کے حسن کو بے لاگ سب تک پہنچنا چاہیے، تو جناب مختصراً بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سارے قصے کے پیچھے کیا عوامل کار فرما تھے۔ تو ذکر ہے سن ۲۰۲۱ء کا جب ہماری نظر سے گزری ایک بہت ہی خوبصورت کتاب، جس کا نام ہے ”Ali & Nino“ یہ ناول ایک تاریخی رومانوی کہانی ہے جس کا پس منظر دکھایا گیا تھا دوسری جنگ عظیم کے آس پاس کا اور ذکر تھا اس میں آذربائیجان، روس، ایران اور ترکی کا۔ کسی بھی اور کہانی یا ناول کی طرح ہم نے اس کو پڑھنے کی شروعات کی اور اختتام تک وہ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ایک ہی رات میں ختم ہونے والی اس لازوال محبت کی ادھوری داستان نے ہمارے دل میں گویا پنجے گاڑ دئیے۔ آخری باب اور ہماری آنسوؤں سے تر آنکھیں، بس نہ پوچھئے کہ کیا حال تھا۔ عمومی طور پر بھی ہم اکثر فلموں، ڈراموں اور کہانیوں سے ایسے ہی جڑ جاتے ہیں لیکن اس کہانی کا فتور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زور پکڑتا جارہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آپ کسی چیز کو سچے دل سے تلاش کریں تو پوری کائنات گویا اسے آپ سے ملانے میں لگ جاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ جس چیز یا شخص کو آپ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں وہ بھی کہیں نہ کہیں آپ کی کھوج میں ہوتا ہے۔ دن گزرتے رہے، اور اس کہانی سے متعلق کوئی نہ کوئی چیز غیر ارادی طور پر ہمارے سامنے آتی رہی۔ چاہے وہ علی اور نینو کا اسکلپچر ہو، یا اس کے لکھاری کا پراسرار بیک گراونڈ۔ حد تو یہ کہ ایک ڈرامہ سیریل میں علی اور نینو کے باتومی میں موجود ماڈل کو لےکر کچھ ایسے سین فلمائے گئے تھے جنہوں نے ایک بار پھر ہمیں زبردستی بھلائی جانے والی کہانی یاد دلادی۔ کرونا کی مہربانیوں سے ہم زیادہ کچھ تو نہ کر پائے لیکن سفرکے لیے ہمارے اگلے پڑاؤ کا انتخاب قدرت نے ہمارے لیے گویا خود ہی کردیا تھااور قدرت کے کھیل میں کس کا دخل۔۔۔

ان سب کے بعد آذربائیجان پر کچھ ریسرچ کی، حضرت نظامی کے بارے میں پڑھا اور یہاں جانے کا ارادہ مزید پختہ ہوتا گیا۔ اللہ کی مہربانی سے باقی معاملات آسانی سے طے پائے اور یوں دفتر سے چھٹی لےکر ہم نکلے اس سرزمینِ آتش و عشق کی جادو نگری سے دو دو ہاتھ کرنے، جو لوگ ناواقف ہیں انہیں ہم بتاتے چلیں کہ آذربائیجان کو درحقیقت ”لینڈ آف فائیر“ یعنی سرزمینِ آتش کہا جاتا ہے۔ لیکن علی اینڈ نینو پڑھنے کے بعد ہم نے ازخود اسے ”سر زمینِ آتش و عشق“ کا نام دینا ہی بہتر سمجھا۔ یہ سفرنامہ کیا واقعی اس نام کی لاج رکھے گا؟یہ آپ ہمیں پوری کہانی پڑھنے کے بعد بتائیے گا۔

 

دھچکے پہ دھچکہ

پہلے دن کی شروعات سے قبل آذربائیجان کے حوالے سے کچھ اہم معلومات دیتی چلوں۔ اس ملک کو دی لینڈ آف فائیر / Odlar Yurdu / سر زمینِ آتش بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں، یہ ہم آگے چل کر تفصیل سے بتائیں گے۔ یہاں بولی جانے والی زبان آذربائیجانی ہے جو ۸۰% ترک زبان پر ہی مبنی ہے، البتہ ملک کے مختلف حصوں میں بول چال اور ادائیگی کے انداز مختلف ہیں۔ دوسری اہم زبان جو یہاں کے کئی شہروں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے وہ ہے روسی۔ جی ہاں، کہا جاتا ہے کہ ۱۹۹۰ء-۱۹۹۱ء میں ہونے والی روس افغانستان جنگ میں جب افغان دلیروں نے روس کے چھکے چھڑا دئیے تھے، اس وقت کا سپر پاور یو ایس ایس آر کئی چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا اور وہاں سے ۶ ریاستوں کا قیام ہوا جن کو سینٹرل ایشائی ممالک کے طور پر جانا جاتا ہے، ان ۶ ریاستوں میں سے ایک آذربائیجان کا ملک ہے۔ جس کے وجود کو دنیا کے نقشے پر سب سے پہلے ترکی نے اور اس کے بعد پاکستان نے آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آذری لوگ آج تک پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے بہت عزت اورمحبت رکھتے ہیں اور اس کا بلا تامل اظہار بھی کرتے ہیں۔

ہمیں دیارِ غیر میں پاکستانی ہونے کے کیا فوائد ہوئے اس کا تذکرہ وقتاً فوقتاً ہوتا رہے گا۔ اکثر لوگ سیر و سیاحت کی غرض سے آذربائیجان جانے کے بعد یہاں کے دارالخلافہ باکو سے آگے نکلنے کے بارے میں نہیں سوچتے اور یقین مانیے کہ اگر آپ باکو سے باہر والے آذربائیجان کو ایک بار محسوس کر لیں گے تو یقیناً اس ملک، اس کی تاریخ، تہذیب اور اس کے لوگوں سے کہیں زیادہ عشق میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس ملک کا دوسرا حسین رخ اس سفرنامے کے ذریعے پڑھنے والوں تک کچھ نہ کچھ ضرور پہنچا سکیں۔

تو جناب سفر کی شروعات ہوئی فلائی دبئی کی انتہائی سستی فلائٹ سے۔کہنے کو وہ فلائٹ انٹرنیشنل تھی لیکن ماشاءاللہ ۹۰% پاکستانیوں اور ان کے سستے لطیفوں سے بھری پڑی تھی اور یہ سوچ سوچ کرہماری بھی”کانپیں ٹانگ اٹھیں“ کہ یہ اتنی دیسی عوام اور سب کی سب باکو جارہی ہے تو باکو کا کیا حال ہونے والا ہے؟ ہم جو دیسیوں سے بھاگ کر دیارِ غیر پناہ گزین ہونے جارہے ہیں تو ہمارے ساتھ بھی مختصرا ً”مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے“ والا معاملہ نہ ہو جائے۔خیر اللہ میاں ہمیشہ کی طرح ہم پر مہربان تھے اور ویسے بھی اسی اندیشے کے پیش نظرہم نے اپنا زیادہ تر قیام باکو سے باہر ہی پلان کیا تھا۔ بمشکل فلائی دبئی کا گندہ تھوک کھانا زہر مار کیا۔معاذ اللہ کھانا اللہ کی نعمت ہوتی ہے اور اس کی کسی حال میں بھی برائی ہمیں زیب نہیں دیتی لیکن للہ جس ذائقے کا وہ کھانا تھا انسان کرے بھی تو کیا۔۔۔خیر سے فلائی دبئی ٹرمینل پر جو اترے تو خدا یاد آگیا۔

دبئی ائیرپورٹ

یا اللہ یہ کیا دبئی کی ایمپریس مارکیٹ ہے یا بوہری بازار یا کوئی سا اندرون شہر کا علاقہ؟ کھوے سے کھوا چھل رہا کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی، لوگ ایسےجیسے زمین سے ابل ابل کر آرہے ہوں اور جیسے ہمارے پیارے کرونا نے مکمل ریزائن ہی کردیا ہو۔ شکر خدا کا کہ وہ لے اوور صرف ڈیڑھ گھنٹے کا تھا اور پھر فوراً باکو کی فلائٹ۔ جیسے تیسے کرکے ٹائم گزارا اور ہم آنے والے دنوں کی اچھی یادوں کے تانے بانے بننے لگے۔ باکو اترتے وقت موسم بے حد حسین تھا۔ مستقل بارش، باہر کا درجہ حرارت ۳ ڈگری بتایا گیا۔ جسے سن کر ہی ہمارا خون جمنے لگا تھا۔ کراچی والا ہونے کی وجہ سے ویسے ہی جہاں کوئی ۱۰ ڈگری سے کم کا نام لے ہمیں کپکپی لگ جاتی ہے تو یہ تو دیارِ غیر کا ۳ ڈگری تھا لیکن خیر اب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔ علی اورنینو کا ملک دیکھنے کے لیے اتنی قربانی تو بنتی تھی۔

اس سفر کی پلاننگ میں ہماری مدد کی ہماری یارِ غار محترمہ بڑی جانو اور ہماری تازہ ترین سہیلی اور ہم نام ثناء نے، جن سے ہماری حسین ملاقات ۲۰۲۱ء کی ۳۰ مارچ کو مبارک ولیج کے مبارک مقام پر ہوئی اور وقت گزرنے کے ساتھ بات یہاں تک پہنچی کہ ہم نے ۲۰۲۱ء کے اواخر میں اندرون سندھ کا سفر بھی ساتھ کیا۔ سیہون میں گزرنے والی وہ رات جس میں ہم دونوں ثنائیں رات کے چار بجے تک گپ مار رہی تھیں، اور بلا شبہ وہ ہماری زندگی کی چند حسین ترین راتوں میں سے ایک تھی۔ تب ہی ثناء نمبر ۲ نے ہمیں بتایا تھاکہ کس طرح باکو میں ان کی جان پہچان ایک عدد ٹیکسی بوائے سے ہوئی اور اب اپنا ٹرپ پلان کرتے وقت ہمیں ثناء کا وہ ریفرنس یاد آیا اور ہم نے ان صاحب کا نمبر لے کر اپنے پاس محفوظ کر لیا۔ بھائی کا نام تو ”محمد“ تھا لیکن ہمیں ثناء کی طرف سے واٹس ایپ پر جو نام موصول ہوا وہ تھا ”محمد اسما“۔ہمیں لگا نام اسما ہے تھوڑا زنانہ ہے تو کیا ہوا۔ بعد ازاں جب برادر کو اسما کہہ کر مخاطب کیا تو جواب آیا،

”کال می محمد، اسما از مائے ڈاٹر۔“ (مجھے محمد بلائیے، اسما میری بیٹی کا نام ہے۔)

تو یوں ہم سمجھے کہ بھنڈ ہونے کی ابتداء تو گویا سرزمین پاکستان سے ہی ہوگئی تھی اب تو بس اس نے زور پکڑنا تھا۔ہمارا ارادہ بھائی محمد کو زحمت دینے کا ہرگز نہیں تھا لیکن کچھ معاملات ایسے رہے کہ وہ بندۂ خدا ائیر پورٹ پر ہمیں لینے قبل از وقت موجود تھے۔باکو پہنچنے سے قبل اور یہاں ملاقات کے بعد بھی بندے نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا ہمیں راضی کرنے میں کہ ہمارا پلان ایک بیکار اور مشکل پلان ہے؛ باکو، اسمائیلی اور شیکی جو کچھ ریسرچ اور رد و بدل کے بعد باکو، شیکی اور گانجہ میں تبدیل ہوگیا تھا،بقول بھائی کے:

”ان مارننگ یو گو آوٹ سائڈ باکو، ان ایوننگ یو کم ان سائڈ باکو۔۔۔

گو ٹو گوبا، گبالہ، ٹورسٹ پلیسس۔ گانجہ، شیکی ناٹ گڈ۔

ان باکو لاٹس آف کلبس۔ ان ایوننگ یو کم ان سائڈ باکو۔ “

اب جو ہم سوچتے ہیں کس قدر استقامت سے ہم اپنے پلان پر ڈٹے رہے تو اللہ میاں کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ہےکہ کوئی کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو، بزنس کے لیے بندہ اپنے مطلب کی بات ہی کرتا ہے۔ محمد بھائی بہت اچھے انسان سہی لیکن ہماری مدد کے لیے وہ اپنے پیٹ پر لات نہیں ماریں گے اور یہ بات ہمیں ایک دن مہنگے داموں کے عوض ان کی پروفیشنل خدمات لے کر بہت اچھی طرح سمجھ آگئی تھی۔ ایک بات ہمارے دل پر زوردار طریقے سے لگی تھی، جب انہوں نے کہا کہ،

”سم ٹائمز منی ڈز ناٹ میٹر، یو کیم فرام پاکستان۔ ثناء ٹولڈ یو اباوٹ می، منی از ناٹ امپارٹنٹ۔“

(کبھی کبھی پیسے اہم نہیں ہوتے، آپ پاکستان سے آئی ہیں اور ثناء نے مجھ پر اعتماد کرکے آپ کو میرا بتایا، یہاں پیسے اہم نہیں ہیں)۔

خیر جناب باکو اترتے اور خوبصورت موسم کے سحر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے انتہائی گندی ڈرائیو کرتے ہوئے محمد نے ہمیں ہمارے ہاسٹل پر اتارا۔ ہم ائیر پورٹ سے کچھ ایکسچینج لے چکے تھے لیکن سم کارڈ ہمارے پاس نہ تھا۔ جتنی معلومات گوگل انکل نےہمیں دی تھیں بشمول اور لوگوں کے تجربات و تجزیات کے، باکو میں ائیر پورٹ ٹیکسی اور ائیر پورٹ سے سم کارڈ خریدنا کھال اتروانے کے برابر ہے۔ ٹیکسی سروس کے لیے بہترین ذریعہ بولٹ یا اوبر ہیں اور سم کارڈ ائیر پورٹ سے باہر ہی سے لیں تو زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال ہاسٹل میں وائی فائی کی سہولت موجود تھی لہٰذا ہمارا ارادہ تھا کہ کچھ دیر آرام کے بعد شام تک نکل کر ذرا باہر کی ہوا خوری بھی کریں گے اور سِم، میٹرو کارڈ اور بس کے ٹکٹس کی معلومات بھی۔ شام میں ہمیں محمد سے دوبارہ ملنا تھا تاکہ کچھ معلومات اور اگلے شہروں میں جانے کی تفصیلات لی جاسکیں جو بقول ان کے، ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

”وائے؟“

”بی کاز آئی ایم لوکل۔“

 

باکو کی شام

جناب ائیر پورٹ سے باہر آکر محمد کی گاڑی تک پہنچنے کے دوران ہم یہ سوچ چکے تھے کہ بھاڑ میں جائے رکھ رکھاؤ ہم تو آگے ڈرائیور سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر ہی بیٹھیں گے۔نئی جگہ، نیا ماحول ذرا ہم راستہ بھی تو انجوائے کریں۔ یہ کیا کہ سیٹھانی بن کے سڑی ہوئی بیک سیٹ پر بیٹھ جاؤ۔اس بات کا یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے ہم مسٹر محمد کے معصوم خیالات اور احساسات کو بالکل اگنور مار چکے تھے۔ اس کا اندازہ ہمیں جب ہوا جب ہم نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ فل ماچو اسٹائل میں کھولا اور دھڑام سے اندر جا گرے۔اوہ معاف کیجئے گا اندر جا بیٹھے اور وہ اللہ کا بندہ دو منٹ تک ہمیں تکتا رہا کہ شاید بی بی باجی سے غلطی ہوگئی ہے۔ ہم اس کی حیرت اور نظریں گاڑی میں بیٹھنے کے کچھ دیر بعد تک اپنے اوپر محسوس کرسکتے تھے۔ وہ شاید مخمصے میں تھا اور ہمیں سمجھنے کی کوشش میں بھی۔ خیر راستے بھر جب ہماری پوری توجہ کھڑکی سے باہر کے مناظر پر رہی تب برادر کو تسلی ہوگئی کہ لڑکی گڑبڑ نہیں ہے۔

راستے بھر محمد اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہمیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ ان کا ملک بھی اسلامی ملک ہے اور ہم یہ ہی سوچتے رہ گئے کہ پاکستان والے اسلامی اور ماڈرن والے اسلامی مملکت کا فرق انہیں کیسے سمجھائیں اور بلآخر ہم نے تنگ آکر یہ ارادہ ہی ترک کردیا۔ ہم نے پڑھ رکھا تھا کہ اس ملک کے ڈرائیور قریب قریب نفسیاتی ہوتے ہیں اور کافی بے دردی سے گاڑی چلاتے ہیں۔ محمد بھائی نے ہمیں اس کا فرسٹ ہینڈ ایکسپیرینس کرایا۔ مستقل موبائل کا استعمال، سیٹ بیلٹ ندارد اور اسکریچس مارتے ہوئے بریکس۔بہت فخریہ انداز میں ان سب کاروائیوں پر ہم سے داد بھی وصول کرنا چاہی جسے ہم نے بہت ہی ٹھنڈے انداز میں یہ کہہ کر رد کردیا کہ آپ کے ملک کے ٹریفک قوانین سے ہم نے بہتر ایکسپیکٹ کیا تھا۔اب انہیں کیا بتاتے کہ بھیّا آؤ کبھی خوشبو لگا کر کراچی کی ٹریفک میں۔ بہر حال سفر کسی طرح تمام ہوا۔ محمد صاحب نے ہمیں پٹخنے کے انداز میں ہاسٹل کے دروازے پر تقریباً پھینکا، اور شام کو حاضری لگانے کا کہہ کر یہ جا وہ جا۔اب یہاں سے ہمارا نیا امتحان شروع ہوا، بکنگ ڈاٹ کام پر۔ خوبصورت ترین، رنگ برنگا دکھنے والا پرانے شہر سے چند منٹوں کی دوری پر واقع فلورا ہاسٹل ہمارے لیے اللہ قسم انجینئرنگ کے امتحان سے بڑھ کر امتحان ثابت ہوا۔

پہلا سرپرائز! انگریزی بولنے والے صاحب ندارد، دو عجیب و غریب مجہول لونڈے جن میں سے ایک نے تسلی سے کوئی ۱۵ منٹ ہمیں باہر سڑی ٹھنڈ میں انتظار کروایا۔ وہ تو بھلا ہو ہماری دوراندیشی اور اچھی سفری عادات کا کہ ایک عدد اَپر ہمیشہ بیگ پیک میں رکھنے کا فائدہ ہوگیا نہیں تو باکو میں ثناء کی باقیات بھی نہ ملتیں۔مطلب انتقال کی گارنٹی تھی۔

(باکو کو لوکل زبان میں باکی کہا جاتا ہےہم بھی اپنے سفرنامے میں یہی طرز اپنائے رکھیں گے)۔

دوسرا سرپرائز! پندرہ منٹ بعد جب اندر قدم رکھنے کی اجازت ملی تو واللہ ۳ ڈگری کی ٹھنڈ میں پسینے چھوٹ گئے آپ کی بہن کے۔ایک لمبا ہال نما کمرہ جہاں بیچ میں بڑی سی میز پر ۳ مشٹنڈے قسم کے ترک جوان پھیل کر بیٹھے اور اونچی اونچی آواز میں قہقہے لگانے میں مشغول۔ انگریزی سے نابلد مجہول لونڈے نمبر ۲ نے سامنے ایک قد آدم دروازے میں سے برآمد ہوتی ایک لڑکی سے مدد چاہی کہ وہ ہمیں اندر لے جا کر سیٹ کر دے۔وہ بہن جو خود وہاں مہمان تھی اور ماشاءاللہ انگریزی سے کوسوں دور تک اس کا بھی کوئی واسطہ نہ تھا، وہ عجیب تاثرات کے ساتھ ہمیں ہاتھ کے اشارے سے اندر کمرے میں لے گئی۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of حکایت از سرزمین آتش و عشق - Hakayat Az Sarzameen e Atish o Ishq. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Sana Sadiq earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 300

See all editions, reviews and details

حکایت از سرزمین آتش و عشق - Hakayat Az Sarzameen e Atish o Ishq Buy — Rs 300