Check out our most recent publications
جبرِ مسلسل - Jabr e Musalsal- Best Personal Development Book
Free sample · no sign-up

جبرِ مسلسل - Jabr e Musalsal- Best Personal Development Book

by Muhammad Jahangeer Badar

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

جبرِمسلسل

جہانگیر بدر

 

 

کتابوں سے دوستی آپ کو دنیا کی فکروں سے بے نیاز کر دیتی ہے۔

 

لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِاللّٰہ  (القران الزمر۔53)

"اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا"

 

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان

جملہ حقوق بحق مصنف اور  ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء

 

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

 مدیران

نرمین سرھیو  (مدیرۂ اعلیٰ)

فریال زہرا (مدیرۂ معاون)

 

سرورق

محمد جہانگیر بدر

 

انتساب:

میرے ان تمام اساتذہ کے نام جنہوں نے مجھے اردو پڑھنا، لکھنا، سننا اور بولنا سکھایا. جن میں ماسڑ فضل حسین، ملک اکرم مکول اور پروفیسر اقبال گھلو صاحب شامل ہیں. اس کے علاوہ تقدیر، نصیب، قسمت، حالات و واقعات اور محبت سے نا امید ہر فرد کے نام.

 

پیش لفظ

 

بہاولپور شہر کی خوبصورت فضا میں رقص کرتی، غم و خوشی سے مزین اس کہانی کا مسودہ ملا تو دو طرح کی خوشیوں نے دل کے آنگن میں ڈیرے ڈالے. ایک تو یہ کہ جہانگیر بدر کا تعلق میڈیکل کے اسی شعبے سے ہے جس سے میرا ہے اور وہ میرے سینئر بھی ہیں. تو ایک سینئر پیشہ ور آڈیالوجسٹ کے ناول کا مسودہ پڑھنا میں اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہوں. دوسری یہ کہ آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس دور میں قلم اٹھانا ہتھیار اٹھانے سے زیادہ جرأت والا کام ہے، بالخصوص ایسے مسائل پر جو ہماری سوچوں میں سرایت کرکے ہماری روحوں کو آلودہ کررہے ہیں. اور یہ جرأت جہانگیر بدر نے کی ہے.

وقت کی کمی کے باعث میں یہ مسودہ پڑھ نہیں پارہا تھا. مگر جب پڑھنا شروع کیا تو پہلے ہی صفحے پر جس تجسس نے میرے حواسوں پر شکنجہ ڈالا وہ آخر تک ٹوٹنے نہ پاپا اور میں پڑھتاچلاگیا. بہترین ذائقہ اور بہتریں تصویر کشی تھی.

دو اہم موضوعات جنہوں نے میرے دماغ کو جھنجوڑا میں سے ایک تو ہمارے معاشرے کا عام مسئلہ ہے. ایک شخص جو کہ زیادتی کا شکار ہوا ہے، بجائے اس کی آواز بننے کے، بجائے اس کی مشکلات کا سد باب کرنے کے، ہم اجتماعی طور پر اسی مظلوم شخص کی شخصیت کو کھنگالنا شروع کردیتے ہیں کہ اس نے کپڑے کیسے پہنے تھے، اس کا چلنے کا انداز کیسا ہے، اس نے کوئی تو اشارہ دیا ہوگا جو اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ورنہ ہمارے ساتھ تو آج تک ایسا نہیں ہوا. اسی دقیانوسی سوچ کے چنگل میں پھنس کر ہم دن بدن اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں. اور کیا ہم تبھی سمجھیں گے جب ظلم پنپتا پنپتا بالآخر ہمارے گھروں تک ان پہنچے گا؟

کہانی میں زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی فرح کو جب لوگوں کی بدسلوکی کاسامنا کرنا پڑرہا تھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر یہ لڑکی لوگوں کی نگاہوں میں سلگتے انگاروں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے ساتھ کچھ غلط کرلیتی ہے یا خودکشی کرلیتی ہے تو کیا یہ سب لوگ ذمہ داری قبول کریں گے؟ کیا ان کو فرق پڑے گا؟ کیا یہ مانیں گے کہ یہ سب قاتل ہیں؟ شاید نہیں!

ایک دوسرا کرداررافع بھی اسی قسم کی تکلیف دہ کیفیت سے دوچار نظر آتا ہے جوکہ مجرم نہیں ہے مگر کوئی اسکی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تحقیق اور تفتیش کی طرف جانے کی کوشش کررہا ہے. رافع کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے مگر اس کے پاس کوئی چارا ہی نہیں ہے سوائے صبر کرنے کے.

مگر بالآخر کہانی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے اور دونوں کرداروں کی محنت، صبر اور بہادری ان پر اچھے حالات لے آتے ہیں.

لکھنا ایک فن ہے. مگر حساس موضوع پر لکھنا فن سے بڑھ کر عبادت بن جاتا ہے. جہانگیر بدر اس کہانی کو لکھنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور دعا ہے کہ ان کے قلم کو مزید مضبوطی عطا ہو اور یہ قلم معاشرے کی اصلاح کرتا چلا جائے۔

اوبئین میئو

 

دیباچہ

 

مشکل ہر انسان کی زندگی میں آتی ہے.ایسا شاید ہی کوئی انسان ہو جس نے اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا نہ کیا ہو، لیکن کبھی کبھی مشکلات کا وقت اتنا لمبا ہو جاتا ہے کہ انسان اکیلا اس کے سامنے چھوٹا پڑ جاتا ہے. خاص کر اگر مشکل اور مصیبت کے وقت آپ کے ساتھ کوئی نہ ہو تو مضبوط سے مضبوط انسان بھی کافی بار ہار ماننے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے .ہر مصیبت سے بچنے کی امید ہر قسم کی پریشانی سے بچنے کی امید آپ کو اسی کے بارے میں ہمت دیتی ہے لیکن ایسے وقت میں ضروری ہوتا ہے کہ آپ حوصلہ رکھیں.اللہ تعالیٰ ہرکسی کی مددکرنے کے لیے تیار ہے.لیکن آپ کو بھی اللہ کی مدد کے لیے خود کو تیار رکھنا پڑے گا. ہم سبھی جانتے ہیں کی زندگی میں کوئی بھی مصیبت بتا کر نہیں آتی. بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک بہت خوبصورت وقت کو مشکل میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی.لوگوں کے نکاح ٹوٹ جاتے ہیں.کافی بار خاندان بکھر جاتا ہے.کچھ لوگ کیریئر نہیں بنا پاتے.بہت بار لاکھ کوششوں کے بعد بھی پروموشن نہیں ملتی. اس بھاگ دوڑ کی زندگی میں کوئی چیز آسان نہیں.ہر ایک آسان زندگی جینا چاہتا ہے لیکن گھر اور آفس کا ماحول ایسا ہے کہ.بہت سے لوگ اپنے آپ کومشکلات سے بچا نہیں پاتے.لیکن جن لوگوں کا اللہ پر ایمان ہوتا ہے اور جو لوگ دل سے اللہ پر یقین رکھتے ہیں اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان کو زندگی کی بڑی سے بڑی مشکل بھی ہلا نہیں پاتی.وہ لوگ آرام سے مصیبتوں کا سامنا کر لیتے ہیں اور انھیں پتہ بھی نہیں چلتا.

اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسی مشکل آ گئی ہے جس کی وجہ سے آپ اپنی زندگی میں پریشان ہیں تو آپ کو اس ناول کا مطالعہ کرنا چاہیئے اس سے آپ میں  اپنی زندگی اللہ کی مرضی سے گزارنے کا شوق ضرور پیدا ہوگا..

اس ناول کو پڑھتے ہوئے، کسی مذہبی، سیاسی، سماجی، حکومتی، سرکاری کسی جماعت یا گروہ کی دل آزاری یا حوصلہ شکنی ہوئی ہو تو میں دل کی گہرائیوں سے ان لوگوں سے معذرت خواہ ہوں. یہ ناول ایک فکشن ہے، اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.

٭٭٭٭٭٭

 

یہ فصل امیدوں کی ہمدم

اس بار بھی غارت جائے گی

سب محنت، صبحوں شاموں کی

اب کے بھی اکارت جائے گی

کھیتی کے کونوں،  کھدروں میں

پھر اپنے لہو کی کھاد بھرو

پھر مٹی سینچوں اشکوں سے

پھر اگلی رت کی فکر کرو

پھر اگلی رت کی فکر کرو کہ

جب پھر اک بار اجڑنا ہے

اک فصل پکی تو بھر پایا

جب تک تو یہی کچھ کرنا ہے

*فیض احمد فیض*

رات کے گیارہ بج رہے تھے پورے شہر میں اندھیرا چھایا ہوا تھا اس شہر کی خاصیت یہ ہے کہ یہاں کی مارکیٹس آٹھ بجے کے بعد بند ہو جاتی ہیں اس لیے ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا آوارہ کتوں کے بھونکنے اور مچھروں کی زوں زوں کے علاوہ مکمل خاموشی تھی۔

"بچاؤ بچاؤ کوئی ہے؟ پلیز ہیلپ" وہ اونچی آواز میں یہ جملہ دھرا رہی تھی، زندگی کی ستم ظریفی تھی یا پھر اس کی قسمت میں یہاں سے بچ جانا ہی لکھا تھا کہ اچانک لڑکی کے شور کی آواز سن کر بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور کچھ ہی دیر میں لڑکی کے ماں باپ بھی وہاں پر پہنچ چکے تھے تماشہ تھا جو لگ چکا تھا سامنے کا سین جو حال بیان کر رہا تھا وہ وہاں کے لوگوں کے دلوں میں ایک بیج بو رہا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ بیج دلوں میں دماغوں میں پروان چڑھا اور وہاں وہ ایک مرتبہ پھر بے ہوش ہو  چکی تھی دنیا سے مکمل طور پر بیگانی ہو چکی تھی اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکل کر لڑکھڑایا تھا اور وہ زمین بوس ہو گئی تھی  یہ منظر دیکھ کر تمام لوگ اس پر چڑھ دوڑے، طرح طرح کے لوگ اور طرح طرح کی باتیں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھیں، وہ پریشانی کے عالم میں خاموش تماشائی بنا لوگوں کے رویے دیکھ رہا تھا وہ اس سچویشن سے نکل نہیں سکتا تھا۔

وہ لگ بھگ 6 فٹ کا سمارٹ ینگ لڑکا تھا خوبصورتی سے تراشے گئے گلابی رنگ کے اس کے ہونٹ تھے، بڑی بڑی آنکھیں جو اس وقت لوگوں کے لگے ہجوم کو دیکھ رہی تھیں گنگریالے بال جو اس کی پرسنالٹی کے حساب سے اسے بہت بھلے لگتے تھے وہ نہ صرف اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے تھے بلکہ یہی بال اس کو بہت عزیز تھے، چہرے پر داڑھی اس کے حسن کی اسکی رعنائی کی وجہ تھی وہ سفید رنگ کے کرتہ شلوار میں ملبوس تھا اوپر سے گورا رنگ اسے مزید چار چاند لگا دیتے تھے وہ چلتا تھا تو دور تک لوگوں کی نظریں اسکا تعاقب کرتی تھیں وہ کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہو سکتا تھا اپنی پرسنالٹی کی وجہ سے وہ بہت ہی وجیہہ لگتا تھا لیکن اس وقت لوگوں کی نظروں کا سامنا کر رہا تھا۔

اس نے کچھ کہنے  کے لیے لب کھولے لیکن جو منظر سامنے موجود تھا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اب وہ ان سے بچ نہیں سکتا تھا اس جمع ہوئے مجمعے نے اسے  ٹارچر کرنا شروع کر دیا تھا لاٹھیوں سے اسے مارا جانے لگا تھا ہر کوئی مارتے ہوئے ساتھ ساتھ بول رہا تھا اسے اسکی ہوئی غلطی کی سزا دینے کے ساتھ ساتھ اس پر لفظوں کے تیر چلائے جا رہے۔

"تمہیں ذرا سی بھی شرم نہیں آئی اس معصوم کے ساتھ ایسے کرتے ہوئے، تمہارے ہاتھ نہیں کانپے تھے اور حد یہ کر دی کہ اسے مارنا چاہتے تھے، شکل سے تو کسی اچھے خاندان کے لگتے ہو لیکن کرتوت تمہارے یہ ہیں تم نے اپنے ماں باپ کا نام ڈبونے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے، اس خوبصورت شکل کے پیچھے اتنا بھیانک چہرہ ہے اللہ تعالیٰ بھی تمہیں تو کبھی معاف نہیں کریں گے تم ذلیل انسان ہو۔" یہ لگ بھگ 55 سالہ آدمی کی آواز تھی جو اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی اور یہ لڑکی کا باپ تھا اور وہ بیچارا زمین پر باقی لوگوں کی مار کھا رہا تھا اور یہ الفاظ اس کے کانوں میں پڑے تھے اسے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی وہ اپنی جان کس طرح سے بچائے۔

اگلے ہی لمحے لڑکی کی ماں نے اس کا گریبان پکڑ لیا اور اور زور دار تمانچہ مارا۔

"ذلیل انسان تمہیں میری ہی بیٹی ملی تھی، تمہاری اپنی کوئی بہن نہیں تھی جس کا تمہیں خیال آتا، جو تم نے کیا وہ تم لازمی کاٹو گے اور جب کاٹو گے تو تمہارے لیے وہی لمحہ فکریہ ہوگا، یاد رکھنا قدرت کا قانون انصاف سے لبریز ہوتا ہے اور تم جیسے اسے کیا سمجھو گے۔"

وہ مار کھا کھا کر پہلے ہی لہو لہان ہو چکا تھا اس کی زندگی کا یہ لمحہ اس  کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا اس میں اٹھنے کی سکت نہیں تھی جگہ جگہ لگے زخم اس کی تکلیف کا سبب بن رہے تھے اس کی زندگی کے یہ لمحے اذیت سے بھر پور تھے وہ خاموش تھا بولنے میں بھی اسے مشکل پیش آ رہی تھی اس کے ہونٹوں سے خون نکل رہا تھا جسے اس نے کرب سے اپنے ہاتھ سے دبایا تاکہ خون رکنے میں مدد مل جائے اس تکلیف میں مزید اضافہ  اس لڑکی کی ماں کے الفاظوں نے کر دیا تھا جو اس کے کانوں میں گونجنے لگے۔

اسے بری طرح سے مارنے کے بعد لوگوں نے واپسی کا رخ کرنا چاہا اگلے ہی پل اسی مجمعے میں سے کسی کی آواز بلند ہوئی۔

"یہ سزا کافی نہیں ہے اسے ایسی سزا کی ضرورت ہے جسے دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کریں اور دوبارہ ایسی گھٹیا حرکت کرنے کی کوشش بھی نہیں کریں، ایسا گھٹیا اور اللہ کا ناپسندیدہ فعل کرنے سے پہلے 1000 مرتبہ سوچیں کیونکہ اس نے جو حرکت کی ہے یہ قابلِ معافی نہیں ہے، زنا کی سزا بھی اسلام نے مقرر کی ہے تو اسے بھی سزا ملے گی یہ گناہ چھوٹا گناہ نہیں ہے یہ گناہ کبیرہ ہے جسے اس نے سر انجام دینے کی

کوشش کی ہے۔ اب جو اس نے کیا اس کی سزا بھی ویسی ہی ہونی چاہیے۔" وہ بولتے بولتے خاموش ہو گیا۔

لوگوں کی نظریں مجمعے میں موجود اس انسان پر تھیں جو اس وقت اسکی سزا تجویز کر رہا تھا۔

"میرے نزدیک اس کی سزا یہ ہے اسکے بال کاٹ دیئے جائیں، اسکی فیشنی داڑھی کو بھی کاٹ دینا چاہیے اور اس کے منہ کو کالا کر دیا جائے تاکہ ہم سب یہ یاد رکھیں کہ اس نے کیا کارنامہ سر انجام دیا تھا اور اسے بھی اس بات کا اندازہ ہو جائے اور دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرے۔"

وہ جیسے ہی خاموش ہوا وہاں پر موجود تمام لوگوں نے اس کی حمایت کی اور  پھر رہی سہی کسر بھی پوری کی جانے لگی اس کے خوبصورت گھنگریالے بال کاٹ دیئے گئے، بے توجہی سے کاٹے بالوں نے اس کے سر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا، اب اس کی داڑھی کو بے دردی سے کاٹا جانے لگا جس سے اس کے منہ پر کٹ بھی لگ چکے تھے۔ اب باری اس کے منہ پر کالک ملنے کی تھی اور انہوں نے یہ بھی کر دکھایا تھا اس کے بعد ہر بندہ وہاں سے جاتا اور اسے ٹھوکر مارتا اور ذلیل انسان کہے جارہے تھے اور اس  کے لیے یہ الفاظ کسی درد سے کم نہیں تھے، اس کی تکلیف کا پیش خیمہ تھے اسے اندر تک جھنجھوڑ رہے تھے کہ وہ ذلیل انسان ہے لوگ ایک ایک کرکے چلے گئے اور وہ زمین پر بے ہوشی کی حالت میں پڑا رہا۔ اس کی حالتِ زار دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا یہ وہی انسان ہے جو کچھ دیر پہلے یہاں اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ موجود تھا اگلے ہی پل وہ ہوش کی دنیا سے بے ہوشی کی دنیا میں جا چکا تھا اور یہ سزا اسکی عمر کھا چکی تھی۔

٭٭٭٭٭٭

تہجد کی اذانیں ہو رہی تھیں وہ ابھی بھی نیم بیہوشی میں پڑا ہوا تھا آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں کھولی تھیں لیکن آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا ہوا تھا اسے سب ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا تھوڑی دیر اسے سنبھلنے میں لگی تھی لیکن جیسے ہی وہ سنبھلا تھا اس  کے لیے یہ جگہ نیو تھی اس کا دماغ اپنی جگہ پر موجود نہیں محسوس ہو رہا تھا  ایسے لگ رہا تھا اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صلیب ہو گئی ہے لیکن وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا جیسے ہی وہ نارمل حالت میں آیا تھا اسے محسوس ہوا تھا وہ کسی بہت ہی عجیب جگہ پر موجود ہے وہاں بہت زیادہ بدبو آ رہی تھی اس نے خود کو ریلیکس کرتے ہوئے غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ اس وقت کچرے کے اوپر سو رہا ہے اسکا دماغ ماؤف ہونے لگا وہ پریشان سا ہو گیا لیکن پھر اسے وہ رات والا واقعہ یاد آیا اسے مارا جا رہا تھا اس کے جسم سے خون نکل رہا تھا جگہ جگہ اس کے جسم پر نشان تھے اس کے سر کے بال اتار دیئے گئے تھے اس کی داڑھی کاٹ دی گئی تھی وہ رات والا واقعہ یاد کر کے رونے لگا۔

" یہ کیا ہو گیا تھا اس نے کیا کر دیا۔" وہ بار بار اپنی داڑھی کو ہاتھ لگا رہا تھا اپنے سر کو ہاتھ لگا رہا تھا ،اس نے جیسے ہی اپنے منہ پر ہاتھ لگایا کالک اس کے ہاتھ پر لگی وہ پریشان سا ہوا لیکن اگلے ہی پل اسے یاد آیا اس کے چہرے پر کالک تھوپی گئی تھی اس کے دماغ میں الفاظ گونج رہے تھے۔" تم ذلیل انسان ہو اورذلیل  انسان کا حشر ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔" یہ لفظ اسے اذیت دینے  کے لیے کافی تھے وہ کپکپاتے جسم کے ساتھ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اگلے ہی پل وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہو چکا تھا زندگی کے یہ لمحے کسی فلم کی طرح اس کے گرد چکر کاٹ رہے تھے اس نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی اور آہستہ آہستہ خاموشی سے سر جھکائے چلنے لگا اس کے کپڑے اتنی زیادہ مار کھانے کی وجہ سے پھٹ چکے تھے لیکن اسے یہاں سے جانا تھا جیسے تیسے چلتے چلتے وہ پیدل ہی اپنے گھر تک پہنچا اور دروازے کی بیل بجائی دروازہ کھولا گیا وہاں پر موجود انسان جو اس کی والدہ غصے سے پھنکار رہی تھیں اور جیسے ہی اسے دروازے پر پایا اسے اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔ وہ گھبرا سا گیا ایک ہی رات میں کیا سے کیا ہو گیا تھا وہ تیزی سے بغیر کسی چیز کی پرواہ کئے آگے کی طرف بڑھا جیسے ہی وہ گھر کے اندر داخل ہوا سب اسے ناکارہ اور گنہگار انسان سمجھ رہے تھے وہ ایک ایک کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا اسے یہ سب بھی سہنا تھا اسکے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس کی والدہ آگے بڑھیں اور اسے دھکے دینے لگیں۔

"تم جیسے بیٹے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے جو کارنامہ تم سر انجام دے کر آئے ہو پورے شہر کو پتہ چل چکا ہے، میری عزت خاک میں ملا دی ایسے بیٹے کا کیا فائدہ جسے اپنی پرواہ ہو اپنی لذتوں کی پرواہ ہو اور یہ بھول جائے کہ اس کی اپنی بہن بھی گھر میں بیٹھی ہے جس کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے، اپنی بہن کو دیکھو جس کا چہرہ شرم سے جھک چکا ہے میرا تو مر جانے کا دل کر رہا ہے اور تم اتنا سب کرنے کے بعد یہاں چلے آئے ہو، تمہیں تو کہیں ڈوب کے مر جانا چاہیے تھا لیکن تم منہ اٹھا کر میرے سامنے موجود ہو تمہیں ذرا برابر بھی احساس ہے تم نے کیا کر دیا ہے، دفعہ ہو جاؤ ہمارے گھر سے، ہماری زندگیوں سے، ہمارے نہ تو دلوں میں اور نہ ہی اس گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ ہے۔" وہ اسے دھکے دیتے ہوئے ساتھ ساتھ بول رہی تھیں اور وہ خاموشی سے سن رہا تھا کچھ بھی وہ بول نہیں پایا تھا پہلے کی تکلیف کیا کم تھی جو اسے یہاں بھی دھتکارا گیا تھا اسے گھر سے باہر نکال دیا گیا تھا پیدل چلنے کی وجہ سے اس کے پاؤں میں چھالے بن چکے تھے جو اسے مزید چلنے میں دقت محسوس کروا رہے تھے وہ نظریں جھکائے بغیر کچھ کہے سڑک پر چلنے لگا  اس کے ذہن میں وہ الفاظ گردش کر رہے تھے کہ "تم ذلیل انسان ہو،  تمہاری سزا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، تمہیں اپنی بہن کا خیال نہیں آیا تمہیں تو ڈوب کر مر جانا چاہیے تھا اس گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔" اس کے ذہن میں یہ الفاظ گردش کر رہے تھے اسکا دماغ ماؤف ہو چکا تھا جس کی وجہ سے وہ چلتے چلتے ایک مسجد کے پاس جا پہنچا اس نے آنکھیں بند کیں اور اللہ کا نام لے کر اس کے اندر داخل ہو گیا اس وقت مسجد میں کوئی موجود نہیں تھا کیونکہ نماز کا وقت ابھی نہیں ہوا تھا اور مولوی صاحب شاید اندر تھے ۔وہ مسجد کے احاطے میں موجود پانی کے نل کے پاس جا پہنچا، منہ دھویا اور سستانے  کے لیے کچھ ہی دیر میں مسجد میں موجود صحن میں فرش پر ہی لیٹ گیا چلنے کی وجہ سے وہ تھک چکا تھا پاؤں زخمی ہو چکے تھے اسے کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ اس نے کل رات سے اب تک کچھ نہیں کھایا تھا اور پھر چلنے کی وجہ سے باقی کسر بھی پوری ہو چکی تھی وہ لیٹتے ہی آنسو بہانے لگا اس کے گرد تمام واقعہ گردش کرنے لگا جو اس کے دل و دماغ سےنکل ہی نہیں رہا تھا، وہ درد و غم کی اس کیفیت میں نیند کی وادی میں چلا گیا یہ شاید تھکان کا اثر تھا جو وہ اتنی جلدی سو چکا تھا۔

اذان کا وقت ہوتا ہے مؤذن اذان دینے  کے لیے باہر آتا ہے اسے سویا ہوا پاتا ہے اور اسے سوتے ہوئے دیکھ کر اذان دینے لگتا ہے کچھ ہی دیر میں نمازی مسجد میں داخل ہوتے ہیں نماز پڑھنے کےلیے  صف سیدھی کرتے ہیں اور مؤذن  کی راہنمائی میں نماز ادا کی جاتی ہے نماز ادا کرنے کے بعد سب اس کی بابت موذن سے پوچھتے ہیں۔

"یہ کون ہے؟ کافی دیر سے یہاں پڑا سو رہا ہے زخمی بھی لگ رہا ہے حلیہ بہت عجیب سا ہے یہاں کا تو یہ نہیں لگتا ہے۔" ایک نمازی نے موذن سے سوال کیا۔

"کوئی فقیر یا نشئ لگتا ہے تبھی سستانے  کے لیے یہاں سو گیا ہوگا۔" مؤذن نے تسبیح ہاتھ میں پکڑتے ہوئے جواب دیا۔

اس نمازی نے ہاں میں سر ہلایا اور اٹھتے ہوئے اس کے پاس جا بیٹھا کچھ پیسے اپنی جیب سے نکالے اور اسے تھما دیے۔جو اس نے چپ چاپ نمازی کی طرف دیکھتے ہوئے رکھ لیے۔

"اب تم یہاں سے جاؤ اور دوبارہ اس مسجد کے آس پاس بھی نظر نہیں آنا۔" نمازی نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

وہ خاموشی سے اٹھا اور آہستہ آہستہ مسجد سے باہر نکلنے لگا۔

اس کے اٹھنے کے بعد نمازی مسجد کے متولی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔

"آج کے بعد مسجد کو تالا لگا کر رکھنا، صرف نشئ ہی نہیں کتے بلیاں بھی اندر آسکتی ہیں مجھے دوبارہ ایسی کوتاہی دیکھنے کو نہیں ملنی چاہیئے۔" اس نمازی نے خود کے غصے کو کنڑول کرتے ہوئے کہا۔

متولی نے اثبات میں سر ہلایا۔

اور یہ الفاظ جاتے ہوئے اس کے کانوں میں بھی پڑے جو اس کی روح تک کو چھلنی کر گئے تھے لیکن  وہ خاموشی سے مسجد سے باہر نکل گیا۔

چلتے چلتے راستے میں ایک آتے پارک میں داخل ہو گیا اور خاموشی سے وہاں پر موجود ایک بینچ پر بیٹھ گیا اور رات سے لے کر اب تک کے تمام واقعے پر غور کرنے لگا اور سوچنے لگا اس کے پاس کوئی رشتہ کوئی تعلق نہیں بچا ہے وہ کس طرح سے آگے سروائیو کرے گا اس کی زندگی تو ایک رات میں ہی ختم ہو چکی تھی، اگلے ہی لمحے  اس کے ذہن میں اپنے ایک دوست کا خیال آتا ہے جو اس تمام دوستوں میں بہترین دوست تھا اس نے اچھا وقت اس کے ساتھ گزارا تھا اور اب برا وقت پڑا تھا تو اسے یقین ہوا کہ وہ اسکا ساتھ ضرور دے گا لیکن ساتھ میں یہ خیال بھی آیا کہ اس سب کے بعد اس کے گھر والوں نے اسے  قبول نہیں کیا ہے تو پھر وہ کس طرح سے اس  کے لیے اچھا کرے گا اس کے پاس جانا ہی اسے بہتر لگ رہا تھا ایک امید اور یقین

کے ساتھ وہ اس کی طرف چل دیا کچھ ہی وقت میں وہ وہاں پہنچ چکا تھا۔

٭٭٭٭٭٭

سردی اتنی شدید تھی کہ وہ کانپ رہا تھا اسکا وجود اسکا ساتھ نہیں دے رہا تھا اس کے دوست نے اسے اس حال میں دیکھ کر کوئی سوال نہیں پوچھا اسے گلے سے لگایا تسلی دینے والے انداز میں تھپکی دی اور اندر لے آیا۔ یہ ایک حجام تھا اس کی روزی روٹی کا ذریعہ اس کی یہی شاپ تھی اپنے دوست پر جان چھڑکنے والوں میں سے تھا سب سے پہلے وہ اس  کے لیے پانی لے کر آیا اس نے جلدی سے پانی کا گلاس تھام لیا اور پینے لگا جیسے پانی ختم ہوا حجام گلاس رکھنے گیا اور وہ اٹھ کر سامنے لگے شیشے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

یہ کیا یہ تو وہ تھا ہی نہیں، اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا اس کی خوبصورتی ماند پڑ چکی تھی اس کے بال نہیں رہے تھے اس کی داڑھی نہیں تھی منہ پر کالک اس کےلیے اسکی زندگی کی حقیقت کو چھین کر اسکی پہچان کو چھیننے کا ذریعہ بن رہی تھی، اس نے ایک دم زور دار چیخ ماری اور چیخ مارتے ساتھ ہی اس نے شیشے کے سامنے رکھے تمام سامان کو ہاتھ سے نیچے گرا دیا شور کی آواز سے پوری حجام شاپ گونج اٹھی اس کے دوست نے جیسے ہی یہ دیکھا وہ دوڑ کر اس کے پاس آیا آج شکر ہے لوگ کم تھے جس کی وجہ سے زیادہ توجہ اس کی طرف نہیں گئی تھی۔

وہ فرش پر بیٹھتا چلا گیا اور آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے وہ خود کے سر میں تھپڑ مارنے لگا اور ساتھ ساتھ وہ الفاظ بھی دھرا رہا تھا میں ایک پھٹکارا ہوا انسان ہوں اس کی برداشت اب ختم ہو چکی تھی اس کے دوست نے اسے اپنے قریب کیا اور اکا دکا لوگوں کو جانے  کے لیے بول دیا اور حجام شاپ بند کرنے کا سائن بورڈ لگا دیا۔

وہ اس کے گلے لگے رو رہا تھا اپنے اختیار سے باہر ہو رہا تھا زندگی ختم ہوتی محسوس ہو رہی تھی اور اس کا دوست اس سے پوچھ رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے وہ اس حال تک کیسے پہنچا ہے اس کا یہ حلیہ کس نے بنایا ہے وہ بھی اس کی یہ حالت دیکھ کر آبدیدہ ہو چکا تھا۔

اور وہ اپنے ساتھ ہونے والے تمام واقعے کے بارے میں بتا رہا تھا کیسے اس نے اتنی مار کھائی کیسے لوگ جمع ہوئے سب کچھ ایک ایک لفظ اسے بتا رہا تھا اور وہ اسے سینے سے لگائے کسی بچے کی طرح سنبھال رہا تھا اسے تسلی دے رہا تھا لیکن وہ بچہ سنبھلنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا وہ مسلسل رو رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ الفاظ ادا کر رہا تھا۔

"میں ذلیل انسان ہوں اللہ کی پھٹکار مجھ پر پڑی ہے اللہ سے دعا ہے وہ مجھے اس پھٹکار سے نجات دے دیں۔"

"کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک ہو جائے گا تم یہ کہنا چھوڑ دو تم ایک بہترین انسان ہو بس اب سے یہ یاد رکھو جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے اب صرف تم ہو اور تمہاری آگے کی زندگی جسے تم نے بہتر کرنا ہے اور یہ لیبل اپنے اوپر سے ہٹانا ہے۔" وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بول رہا تھا اور خود اسکو بھی یہ بات سمجھ میں آ رہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭

اسے جیسے ہی ہوش آیا تھا وہ گھبرا گئی تھی وہ محسوس کرنے لگی ادھر ادھر دیکھنے لگی وہ اس وقت کہاں ہے وہ اسی سوچ میں نظریں دوڑا رہی تھی وہ اپنی ماں کے کمرے میں موجود تھی گرنے کی وجہ سے اس کے سر پر ہلکی سی چوٹ آئی تھی۔اس نے ہوش میں آتے ہی اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی اسے اٹھتے دیکھ کر اس کی ماں اس کے نزدیک آئی اور پیار  سے اسے لیٹے رہنے  کے لیے کہا اسی وقت نرس اندر داخل ہوئی اور اسے زخم کی وجہ سے جو تکلیف ہو رہی تھی اس کی بابت پوچھا اور درد کی وجہ سے ایک انجکشن لگا کر چلی گئی جس کی وجہ سے اسے تھوڑا سکون ملا اور وہ پھر سے نیم بیہوشی میں چلی گئی اسکی آنکھیں بند تھیں اور بند آنکھوں سے اس کے چہرے پر معصومیت جھلک رہی تھی اس کے ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی مخروطی نازک سی انگلیاں اس نے آرام سے رکھی ہوئی تھی نازک سا ہاتھ ڈرپ کی سوئی سے جکڑا ہوا تھا اور وہ خاموش سی دنیا سے بیگانی لیٹی ہوئی تھی اور اسکی ماں اس کے ٹھیک ہونے کے انتظار میں تھی.

٭٭٭٭٭٭

راشد جو رافع کا دوست تھا اس نے جلدی سے اسے سنبھالنے کے بعد ایک صوفے پر لٹایا جو شاپ کے اندر

آنے والوں  کے لیے اپنی باری کے انتظار میں بیٹھنے  کے لیے رکھا گیا تھا کیونکہ اس کی شاپ بہت زیادہ چلتی تھی ہر

وقت رش لگا رہتا تھا اسکی شاپ کا نام راشد حمام کے نام سے رکھا گیا تھا ہر وقت شاپ پر  کوئی نہ کوئی موجود

ہوتا تھا آج بند ہونے کا سائن بورڈ لگانے کی وجہ سے کوئی اندر موجود نہیں تھا سوائے رافع اور راشد کے وہی دونوں شاپ میں موجود تھے رافع کو لٹانے کے بعد وہ جلدی سے گیا اور فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا اور اسے میز پر رکھ دیا اور جہاں جہاں اس کے زخم تھے ان پر خون کے دھبوں کو صاف کرنے لگا لیکن رافع درد سے کراہ رہا تھا اس  کے لیے یہ برداشت کرنا مشکل تھا لیکن وہ برداشت کر رہا تھا برداشت کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اس نے اس کے زخم صاف کر دئیے تھے اب اس پر مرہم لگانے لگا تھا

جس کی وجہ سے اس کی درد کی شدت مزید بڑھی لیکن راشد ساتھ ساتھ بول رہا تھا۔

" کوئی مسئلہ نہیں زخم بہت گہرے نہیں ہیں جلدی مند مل ہو جائیں گے تھوڑا وقت گزر جائے ہاسپیٹل کھل جائیں تو میں تمہیں کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں۔" وہ ساتھ ساتھ بولتے ہوئے پٹی کر رہا تھا اور وہ خاموشی سے سنتے ہوئے پٹی کروا رہا تھا پھر اس نے اسکا منہ دھلوایا ساتھ میں اس کی داڑھی کے بچے گھچے بال کاٹ کر کلین شیو کر دیا اس کے سر کے بالوں کو کاٹ دیا اس کے سر پر اب ایک بھی بال نہیں تھا وہ اس  کے لیے اپنا ہی ایکسڑا رکھا سوٹ اٹھا کر لے آیا تھا جو یہاں حمام پر ہی موجود ہوتا تھا جو اس نے رافع کو دیا تاکہ پہن کر وہ کچھ بہتر حالت میں آ جائے اس نے چپ چاپ کپڑے تبدیل کر لیے اب اس نے خود کو جا کر شیشے کے سامنے دیکھا تو اسے اندازہ ہوا وہ کافی بہتر حالت میں ہے پہلے والی حالت سے نکل آیا ہے لیکن اس کی آنکھوں سے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر ٹوٹ کر گالوں پر بکھرے تھے کیونکہ اسکی داڑھی اب اس کے چہرے پر موجود نہیں تھی اس کے سر کے بال بھی موجود نہیں تھے وہ محو ہو کر اپنے آنسوؤں کو دیکھنے لگا جو اسکی تکلیف کے تھے جو اسکی برداشت کے تھے جو اس کے زخموں  کے تھے راشد نے اسے اس حالت میں دیکھا تو اس کے پاس آ گیا اور اسے دلاسا دینے والے انداز میں اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے صوفے پر بیٹھایا وہ  بھی خاموشی سے اس کے ساتھ چلتے ہوئے بیٹھ گیا اپنی آنکھیں اس نے رگڑ ڈالیں جیسے وہ کبھی رویا ہی نہیں ہو اس نے اپنے اوپر خول چڑھانے کی اداکاری بخوبی سر انجام دی تھی اور وہ زندگی کے حاصل لاحاصل کو سوچنے لگا اور راشد اس  کے لیے ناشتہ لینے کےلیے چلا گیا کیونکہ اب اتنی دیر ہو گئی تھی کہ ناشتے کا وقت ہو رہا تھا اور وہ اپنی زندگی کے تلخ واقعے کو سوچنے لگا تھا۔

 

آرزو جینے کی تھی امکان جینے کا نہ تھا

خواہشیں تھیں صف بہ صف سامان جینے کا نہ تھا

قرض تھا تیرا سو جیتے جی تجھے لوٹا دیا

زندگی ورنہ مجھے ارمان جینے کا نہ تھا

دوستی زہر اب سے کی رنج و غم سے کی نباہ

ورنہ یہ ماحول میری جان جینے کا نہ تھا

زندگی تو چھوڑ میرا ساتھ میں بے زار ہوں

میرا تیرا تو کوئی پیمان جینے کا نہ تھا

میں نے ہنسنے کی اذیت جھیل لی رویا نہیں

یہ سلیقہ بھی کوئی آسان جینے کا نہ تھا

کچھ تیری رحمت پہ تکیہ کچھ گناہوں کی کشش

ورنہ اس دنیا میں تو انسان جینے کا نہ تھا

ذہن کی آوارگی منت کش دنیا نہ تھی

زندگی کا بھی مجیبیؔ دھیان جینے کا نہ تھا

صدیق مجیبی

٭٭٭٭٭٭

اسکا نام عبدالرافع تھا اسے پیار سے اس کے گھر والے رافع بولتے تھے محبت کرنے والا گھر والوں کا خیال رکھنے والا اپنائیت سے بھر پور نوجوان تھا وہ قائداعظم میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا انتہائی محنتی اور دل لگا کر پڑھنے والا انسان تھا اسکی محنت اور لگن کی وجہ سے اسکے تمام میڈیکل کے ایگزامز بہت اچھے سے گزر گئے تھے اب یہ اسکا آخری سال تھا وہ دل لگا کر محنت کر رہا تھا کیونکہ اسے ایک ایسا انسان بننا تھا جو اس کی زندگی کی بھاگ دوڑ میں اسے ایک پروفیشنل ایک بہترین انسان بناتا لیکن جانے اس سے یہ سب کیسے سرزد ہو گیا تھا اسے یاد تھا کیا اس نے کرنا تھا اور کیا کر بیٹھا تھا زندگی کے تمام غم و خوشی اس نے اپنوں کے ساتھ برداشت کیا تھا لیکن اب اسے سب اکیلے سہنا پڑ رہا تھا اور یہی اس  کے لیے کٹھن ہوتا جا رہا تھا وہ سب کچھ پہلے جیسا کرنا چاہتا تھا لیکن مایوسی اس کے نزدیک ترین آ گئی تھی اور  تنہائیوں نے اس کے گرد ڈیرا جما لیا تھا اسے بیش بہا وسوسوں میں گھیر لیا گیا تھا وہ اور اس کی تنہائیاں تھیں سوائے راشد کے اسکے پاس اسکا کوئی غم گسار نہیں تھا اسکی زندگی کے تمام رشتے اس سے دور ہو گئے تھے وہ تنہا رہ گیا تھا اکیلا رہ گیا تھا کوئی ساتھی اسکا نہیں تھا راشد اسکا بچپن کا دوست تھا ہر اچھے برے وقت میں اس کے ساتھ کھڑا تھا اس  کے لیے ہر وقت اس کے ساتھ کھڑا رہنے والوں میں سے واحد انسان تھا اسے سہارا دینے والوں میں سے یہ وہ واحد انسان تھا جس نے اسے اچھائی برائی سمیت قبول کیا تھا اور باقی سب کے ساتھ چلنے  کے لیے انہیں واپس لانے  کے لیے وہ ضبط کئے بیٹھا تھا۔

"اشک نکلا ہے کوئی ہاتھ۔۔۔۔۔ میں پتھر لے کر،

مجھ سے کہتا ہے۔۔۔۔ تیرے ضبط کا سر پھوڑوں گا"

٭٭٭٭٭٭

منیب اپنے دوستوں کے فلیٹ پر موجود تھا وہاں ایک پارٹی رکھی گئی تھی اس پارٹی میں اس کے چاروں دوست موجود تھے انہوں نے مل کر شراب کا انتظام ہمیشہ کی طرح کیا تھا اور ساتھ ہی کچھ عجیب بری صحبت کی حامل لڑکیاں جو پیسے لے کر ان جیسوں کی پارٹیاں سجاتی تھیں انہیں اپنے حسن کے جلوے دیکھا کر انٹرٹین کرنے کی کوشش کرتی تھیں اور پیسے کے عوض کسی بھی حد تک چلی جاتی تھیں وہ وہاں موجود تھیں اور منیب اور اس کے دوست بھی اس عیاشی میں پیسے کے عوض جسموں سے کھیلنے والے پجاری تھے جنہیں اور کچھ نظر نہیں آتا تھا انہیں صرف اور صرف لذتوں سے آشنا ہو کر عیاشی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا تھا منیب یہ عیاشی کرنے  کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا تھا اور اس بات کا علم اسکے والد کو بھی تھا وہ

بھی اسکی ان بری عادتوں سے بہت پریشان تھا۔

نشے کی حالت میں دھت منیب بڑبڑایا۔

"میرے والد مجھے روز کہتے ہیں اپنے دوستوں کی محفل، انکی کمپنی چھوڑ دو، آہ اب ان کو کون بتائے اس محفل کی جان اس کمپنی کا لیڈر میں ہوں۔" اور پھر وہ زور سے قہقہے لگانے لگا باقی دوست بھی اس کی دیکھا دیکھی ہنسنے لگے۔

ایک لڑکی ڈانس کرتے ہوئے منیب کے پاس آئی اور ایک ادا سے بولی۔

"کیسی لگ رہی ہوں؟" اس نے عجیب طریقے سے پوچھا یہ بہت ہی بد ترین فعل ہے لیکن اس  کے لیے یہ بہترین لذت دنیا تھی۔

"میری جان بہت خوبصورت لگ رہی ہو لیکن تم سے زیادہ کوئی اور بھی ہے جو میرے دل کو جچتی ہے

میرے دل پر حکمرانی کرتی ہے لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔" اس نے بے حیائی سے کہا۔

منیب کو اس طرح کی حرکت کرتے ہوئے دیکھ کر ایک دوست نے کہا۔

"واہ واہ"

  اور باقی تینوں کا قہقہ بلند ہو گیا اسکےلیے یہ عجیب بات نہیں تھی اور نہ ہی کوئی نئی بات تھی وہ ان بری حرکتوں کی وجہ سے کبھی بھی شرمندہ نہیں ہوا تھا۔

منیب نے بہت ہی بری سی شکل بنا کر شہباز کی طرف دیکھا جو سب سے زیادہ ان میں گھٹیا انسان تھا وہ کوئی موقع محل نہیں دیکھتا تھا ہمیشہ جہاں اسے جو ملتا تبرک سمجھ کر استعمال کرتا چاہے وہ شراب ہو،  جوا ہو زندگی کی تمام تر خرافات اس  کے لیے بہترین ہی تھیں جبکہ اللہ کریم کے احکام سے وہ بہت دور ہے یہ بات اسے سمجھ میں نہیں آتی تھی۔

اس کے بعد وقار آتا تھا جو تھوڑا سا اس سے کم تھا لیکن ایک نمبر کا چھٹا ہوا بدمعاش تھا شراب،  جوئے وغیرہ کا انتظام اسی کے سپرد ہوتا تھا۔

تیسرے نمبر پر سجاد آتا تھا جو کہ لڑکیوں کا دلدادہ تھا منیب کو اس لذت کا شکار کرنے والا یہی انسان تھا جس کی وجہ سے وہ اپنا سکون صرف یہاں تلاش کرتا تھا جبکہ یہاں پر کوئی سکون اسے میسر نہیں آتا تھا صرف

ظاہری سکون نظر آئے اور باطن کمزور تر ہوتا چلا جائے تو وہ سکون نہیں ہوا کرتا ہے۔

چوتھے نمبر پر احسن تھا جو تھوڑا سا بدتمیز اور شرمیلا تھا ابھی شائد نیا نیا تھا جس کی وجہ سے وہ ذرا ان خرافات میں کم کم  ہی ملتا تھا لیکن حصہ دار وہ بھی ہوتا تھا۔

اور پانچواں دوست طفیل تھا جو ان کی چاپلوسی کر کے اپنے کام نکلواتا تھا اور عیاشی اور عیاری میں بہت زیادہ ماہر سمجھا جاتا تھا اور ان سب کا ہیڈ منیب تھا جو پہلے ہی ہر خرافات کا حصہ تھا۔

ان دوستوں کو کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی صرف اور صرف انہیں اپنا آپ عزیز تھا صرف اور صرف ان  کے لیے یہ زندگی ہی تھی جو بہترین  تھی وہ یہ بھول گئے تھے اس کے علاوہ بھی ایک زندگی ہے جسے انہوں نے گزارنا ہے جب اللہ کی لاٹھی اپنی مار مارے گی تو دنیا جہان سے بیگانے یہ دوست کہاں جائیں گے کہاں یہ زندگی کی رنگینیوں میں مصروف عمل ہونگے اور رسی جو دراز کر کے اللہ نے چھوڑ دی تھی وہ کیسے کھینچی جائے گی اللہ کی طرف سے یہ اپنے انجام کو پہنچیں گے تب کیا جواب دیں گے یہ سوچ انہیں چھو کر بھی نہیں گزرتی تھی انہیں دنیا ہی سب کچھ لگتی تھی اور وہ صرف نام کے ہی مسلمان تھے دلوں کے حال اللہ بخوبی جانتا تھا۔

اور یہ نہ صرف خریدی گئی عورتوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے تھے بلکہ یہ لوگ وہ تھے جو اللہ کریم کی سادہ عورتیں مسلمان عورتیں تھیں ان کو بھی نہیں چھوڑا کرتے تھے۔

٭٭٭٭٭٭

"عبدالرافع میں تمہیں سمجھا چکا ہوں زندگی میں جو ہو چکا ہے سو ہو چکا ہے اب تمہیں خود ہی لڑنا ہے اور اکیلے ہی آگے بڑھنا ہے زندگی اسی طرح سے ہی تمہارے لیے بہترین ہو سکتی ہے ورنہ تو تم ناکارہ و سست اور کاہل ہو جاؤ گے تمہیں کچھ کرنا ہوگا ۔"راشد نے اسے سمجھانا چاہا جو کہ ابھی تک الٹا لیٹا ہوا آنکھیں موندے خاموشی سے پڑا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا کرے وہ ایک رات میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا زندگی کے یہ پل جتنے کٹھن تھے جتنے اس  کے لیے مشکل تھے یہ وہی جانتا تھا اور کوئی یہ لمحے یہ باتیں اس کے دل کی حقیقت جان ہی نہیں سکتا تھا وہ پریشانی کے عالم میں تھا اس کی سمجھ سے باہر تھا آخر وہ کیا کرے اور کس لیے کرے۔ زندگی کے یہ کٹھن لمحے اسے گزارنے تو تھے جیسے بھی سہی یہ وقت تو اسے گزارنا ہی تھا۔

وہ راشد کی بات سن کر سیدھا ہوا لیکن اس کے زخم اسے سیدھا ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے جو کہ درد کر رہے تھے راشد نے جلدی سے اسے سہارا دیا اور وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اب وہ اس کی طرف متوجہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

٭٭٭٭٭٭

اس کا نام فرح عبدالجبار تھا پیار سے اسے فری کہا جاتا تھا فرح بھی قائداعظم میڈیکل کالج کی سٹوڈنٹ تھی بہت ہی خوبصورت تو وہ تھی ہی لیکن اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ وہ بہت زیادہ ذہین لڑکی تھی وہ بھی میڈیکل کے آخری سال میں تھی اس کے پیپرز ہونے والے تھے اس نے دن رات اپنے پیپرز کی تیاری میں ایک کئے ہوئے تھے اسے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بہترین رزلٹ چاہیے تھا۔ فرح عبدالجبار کے والد پروفیسر عبدالجبار قائداعظم میڈیکل کالج میں anotmy کے پروفیسر تھے وہ بہت ہی قابل اور بہترین استاد تھے پورے کالج میں ان کی بہترین ریپوٹیشن تھی بائیو کیمسٹری کے پروفیسر ملک منیر احمد تھے یہ ان کے پڑوسی تھے۔ قائداعظم میڈیکل کالونی کی پہلی سٹریٹ میں سارے پروفیسرز ہی رہا کرتے تھے جن میں پروفیسر عبدالجبار اور پروفیسر منیر بھی رہتے تھے یہ گھر ان کو گورنمنٹ کی طرف سےالاٹ کئے گئے تھے فرح قابل ترین سٹوڈنٹ تھی ہمیشہ سے ٹاپ پر رہی تھی جس کی وجہ سے اسے اس میڈیکل کالج میں ایڈمیشن مل گیا تھا عبدالجبار اور پروفیسرمنیر صاحب کالج لیول کے دوست تھے ایک دوسرے کے کلاس فیلو رہ چکے تھے جس کی وجہ سے ان کی آپس میں بہت اچھی دوستی تھی۔

منیر صاحب کا ایک ہی بیٹا تھا جو فرح کے بالکل برعکس تھا بہت ہی کم عقل ثابت ہوا تھا اس کے علاوہ وہ بری صحبت میں بھی پڑا ہوا تھا اس کے پاس کوئی راستہ ایسا نہیں بچا تھا جس پر چل کر اس نے اپنی زندگی برباد کرنے کی کوشش نہیں کی ہو، وہ نشہ کرتا تھا سموکنگ اس کا مشغلہ تھا آوارہ گردی کرنا اس  کے لیے معمولی سی بات تھی اس نے شیشہ لازمی پینا ہوتا تھا غرض اس کے اندر ہر طرح کی برائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی وہ اسلامیہ یونیورسٹی سے فارمیسی کر رہا تھا وہ زیادہ تر اپنے جیسے ایک آوارہ دوست کے فلیٹ پر پایا جاتا تھا۔ منیر صاحب اپنے بیٹے منیب کا فرح سے رشتہ طے کرنا چاہتے تھے جبکہ فرح اور عبدالجبار صاحب ایسا بالکل نہیں چاہتے تھے لیکن جس رات فرح کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا جو اس کی زندگی کی تباہی کا سبب بنا تھا تب سے لے کر اب تک اسکی بہت زیادہ بدنامی ہو چکی تھی اس کی فیملی اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ اس کی شادی بدنامی سے بچنے  کے لیے منیر صاحب کے بیٹے سے کر دی جائے لیکن فرح کو اس معاملے سے ابھی دور رکھا گیا تھا ابھی وہ اپنے کمرے  میں موجود تھی اور انجکشن کے زیرِ اثر ہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭

فرح اپنے کمرے کے بستر پر لیٹی ہوئی تھی اس کی زندگی کس آزمائش سے گزر رہی تھی اسے کچھ خبر نہیں تھی وہ دوبارہ ہوش میں آئی تھی اس نے ہوش میں آتے ہوئے اپنا ہاتھ اٹھایا اسے معلوم نہیں تھا کہ اسے ڈریپ لگی ہوئی ہے اس نے جیسے ہی  ہاتھ کو ہلایا اوپر کی طرف کیا ڈریپ کی تار کھنچتی چلی گئی اور سوئی اس کے ہاتھ میں چبھی وہ درد سے چیخ اٹھی اسکی امی جو اس کے پاس ہی اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہی تھیں گھبرا کر اٹھیں اور اسکے نزدیک آئیں۔

"کیا ہوا ہے" اس نے جلدی سے پوچھا تھا وہ بالکل اس کے قریب ہی تھیں۔

فرح نے بغیر بولے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا جہاں سے اب خون رس رہا تھا اور اسکے کپڑوں پر خون کے دھبے لگ رہے تھے۔

نسیم بیگم پریشانی سے نرس کی طرف بھاگ گئیں جیسے ہی وہ واپس آئیں ان کے ساتھ نرس تھیں انہوں نے جلدی سے ڈرپ نکالی اور وہاں پر پٹی کر دی جبکہ ڈرپ اب دوسرے ہاتھ پر لگا دی گئی تھی۔

فرح ایک ایسی لڑکی تھی جو اپنے ماں باپ کی بے حد لاڈلی تھی ان کی لاڈلی ہونے کی وجہ سے انہوں نے کبھی اسے کوئی تکلیف نہیں آنے دی تھی وہ ہمیشہ اسے ہر بری بلا سے، ہر تکلیف سے بچا کر رکھتے تھے جبکہ اس رات جو کچھ اس کے ساتھ ہوا وہ نہ صرف اس کی بدنامی کا باعث بنا تھا بلکہ اس کے لیے یہ سب بہت ہی تکلیف دہ ثابت ہوا تھا وہ خود اس حالت کو پہنچ چکی تھی کہ اس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے تھے اس کا چہرہ بے رونق سا ہو چکا تھا اس کی زندگی اس  کے لیے بے معنی سی لگ رہی تھی یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ وہ سہہ نہیں پائی تھی اس کے دل میں مرنے کی خواہش جاگی تھی ابھی تو اس نے لوگوں کی بری نظروں کا برے رویوں کا سامنا بھی کرنا تھا وہ بہت زیادہ مینٹلی ٹارچر تھی۔

ہوش میں آنے کے بعد بھی وہ ابھی تک نیم بیہوشی میں تھی وہ اپنا سر بھاری سا محسوس کر رہی تھی لیکن ابھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مکمل طور پر خیر باد کہے وہ  لیٹی تھی۔

 اس کی تنہائی اور وہ اکیلے ساتھ ساتھ چلنے والے تھے۔ بہت  سی راتیں بہت سے دن اسکی تنہائی اور وہ ایک دوسرے کے منتظر سے تھے اسے ہوش ضرور آیا تھا لیکن اسے ان حالات  سے نکلنے  کے لیے وقت لگنا تھا کسی بھی لڑکی  کے لیے ایسے حالات کا سامنا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے جس کے والدین شرم سے پہلے ہی جھک چکے ہوتے ہیں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہتے ہیں اور وہ نیک پارسا ہو کر بھی ان  کے لیے ایسے دوہرائے پر کھڑی تھی اور وہاں سے اسکا جانا اتنا ہی مشکل تھا جتنا کہ وہ خود مشکل ترین حالات سے نکل کر بستر پر خود سے بھی بے اعتنائی برتنے  کے لیے تیار تھی اور تنہائی اسے عزیز تر ہو رہی تھی۔

نسیم بیگم اسے بار بار پکار رہی تھیں جبکہ وہ خاموش تماشائی سی بنی لیٹی تھی رات کے وقت کا واقعہ، اسکا گرنا، اسکا بہوش ہونا اسکی زندگی کو گھن چکر بنا کر تنہا کر گیا تھا۔

٭٭٭٭٭٭

تین دن گز ر چکے تھے۔ وہ نئے عزم و ہمت اور ولولے کے ساتھ کالج کو روانہ ہوا۔ اپنے سر پر ٹوپی پہنی جو اس کے گنجے سر کو چھپانے کے لیے کافی تھی۔ بھنویوں پر کاجل کی لکیریں لگائیں۔

 کالج میں داخل ہونے کے لیے دو بڑے دروازے ہیں۔ پہلا دروازہ پرنسپل کے آفس کے ساتھ ہے اور یہاں ایک  خاکی وردی میں  ملبوس، لمبی لمبی مونچھوں والا گارڈ بیٹھا رہتا ہے اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھتا ہے۔ کالج کا دوسرا دروازہ  آڈیٹوریم کے بائیں جانب ہے۔ اس دروازے سے جیسے اندر داخل ہوتے ہیں تو دائیں طرف  پتھالوجی  سکیشن اور بائیں جانب فوٹو سٹیٹ شاپ  ہے۔  تھوڑا آگے بڑھیں تو دونوں طرف  گیلریاں ہیں۔ بائیں جانب  ایڈمن بلاک ہے اور اس کے باہر نوٹس بورڈ ہے  اس نوٹس بورڈ پر سرِفہرست رافع کا نام تھا۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of جبرِ مسلسل - Jabr e Musalsal- Best Personal Development Book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Muhammad Jahangeer Badar earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 400

See all editions, reviews and details

جبرِ مسلسل - Jabr e Musalsal- Best Personal Development Book Buy — Rs 400