12% of the book — free to read

مانا کہ ہم یار نہیں
کومل بھٹی

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢۲ء
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

داستان پبلشرز
*
مدیران
نرمین سرھیو (مدیرۂ اعلیٰ)
فریال زہرا (مدیرۂ معاون)
ـــــ
گرافک ڈیزائنر
انعم امیر
سر ورق کے جملہ حقوق مصنفہ کےنام محفوظ ہیں
انتساب
یہ کتاب میرے شوہر سائمن (جنھوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی)،
میرے پیارے بیٹے ایڈرین زیو (جو مجھے میری جان سے بھی بڑھ کر پیارا ہے)
اور میرے مرحوم بھائی ہنی (جس کی یاد ہمیشہ دل میں تازہ رہے گی) کے نام!
فہرست
وہ بہت دیر سے اپنے کمرے میں باتھ روم کے فرش پر بیٹھی دنیا سے بےخبر زاروقطار رو رہی تھی۔ صبح کے اس پہر اس کی ہچکیوں کی آواز اس کے کمرے میں گونج رہی تھی۔ دل کا غبارنکالنے کے بعد جب اس نے منہ دھونے کے لیے آئینے میں دیکھا تو اس کی آنکھیں شدید لال ہو رہی تھی۔ لیکن اتنا رونے کے بعد بھی اس کے چہرے کی کشش، جھیل سی نیلی آنکھوں، تیکھے خدوخال اور گلابی ہونٹوں کی تمازت میں کوئی فرق نہ پڑا تھا۔ اس کےسنہرے لمبے بال اس کےگیلے چہرے کے اطراف میں چپکے ہوئے اس کے گالوں کو بوسہ دے رہے تھے۔ اس عالم میں بھی وہ کسی اپسرا کی طرح انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔
وہ چہرہ دھو کے ایک مصنوعی مسکان اپنے چہرے پر سجائے اپنی حالت درست کر کے باتھ روم سے باہر آئی اورباہر آتے ہی تولیہ ایک طرف پھینکتے ہوئے آواز لگائی۔
”مم!اِز مائی بریک فاسٹ ریڈی؟“
(?Mom!Is my breakfast ready)
”یس ڈئیر!“مم نے باہر سے جواب دیتے ہوئے کہا۔
مانم کی طرح اس کی مم بھی حسن و جمال کا پیکر تھی۔ کچن میں کھڑی اپنی بیٹی کا ناشتہ تیار کرتے ہوئے دراز قد، سنہرے بالوں، اور نیلی آنکھوں والی خاتون نے قدموں کی آہٹ پر مڑ کے بیٹی کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے بیٹی کو گڈ مارننگ کہنے لگی۔ مانم نے مم کو ایک میٹھی سی مسکان دیتے ہوئے سینڈوچ پکڑ کر اپنے ٹفن میں رکھااور بیگ اٹھا کے جانے لگی تو سامنے ایک دراز قد ادھیڑ عمر کا شخص ایک میٹھی سی مسکان سجائے مانم کا انتظار کر رہا تھا۔
”آل سیٹ فور نیو جاب؟“(?All set for new job)یہ کہتے ہوئے مانم کے باپ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
”!Yeah“ مانم نےایک میٹھی سی مسکان کے ساتھ کہا۔ پھر سامان اٹھا کے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئےبولی، ”اوہ شکس گوٹا گو۔۔۔سی یو لیٹر پیرنٹس۔ “
(Oh shaks۔۔۔gotta go۔۔۔see you later parents)
یہ کہتے ہوئے وہ باہر بھاگ گئی۔ گیراج میں ایک سفید بڑی گاڑی کھڑی تھی۔ ڈرائیور نے مانم کے لیے دروازہ کھولا، گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگائی اور گاڑی کا شیشہ نیچے کر دیا۔ شیشہ نیچے کرتے ہی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اسے چھو کر یوں گزرا کہ اس کی روح تروتازہ ہو گئی۔ بارش کے بعد گیلی مٹی کی سوندھی خوشبو کچھ پرانی یادیں تازہ کر گئی۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد وہ ایک اسکول کے باہر اتری۔
جاب کا پہلا دن ایک عجیب سی کشمکش کے ساتھ شروع ہوا۔ مانم چلتے چلتے سیکورٹی گیٹ کے پاس پہنچی تو سب اسے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگے۔ نئی جاب، نیا ماحول اور نئے لوگ، یہ سب اسے ایک عجیب سی گھبراہٹ میں مبتلا کر رہے تھے۔ اسی کشمکش سے دو چار وہ سر جھکائے ایڈ من آفس پہنچی۔
”مانم تلہار!پلیز کم!“
(Manam Talhar۔۔۔Please come!)
ایک درمیانے قد کی خاتون نے ایک خوشامدی مسکراہٹ کے ساتھ اندر آنے کوکہا۔ مانم سر جھکائے اپنی انگلیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی اور اس خاتون نے مانم کو کچھ کاغذات دستخط کے لیے دیے۔ چند لمحوں کے بعد مانم نے کاغذات سائن کر کےاس خاتون کو واپس پکڑا دیے۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس خاتون نے مانم کو ایک پیون کے ساتھ اس کے آفس کی طرف روانہ کر دیا۔ مانم حیران پریشان سی اس پیون کے ساتھ لفٹ میں داخل ہوئی جو پہلی منزل پر جا کے رکی۔ لفٹ کے داہنےجانب اس کا کمرہ تھا۔ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی۔
وہ ایک بہت ہی خوبصورت اور بڑا کمرہ تھا، جس کے ایک کونے میں ڈیسک ٹاپ اور میز سیٹ تھا۔ ایک لمبی الماری بالکل اس میز کے پیچھے پڑی تھی۔ کمرے کی دوسری جانب ایک بڑی کھڑکی تھی جس سے پورا اسکول اور باہر کی سڑک واضح نظر آ رہی تھی۔ وہ پورا کمرہ بچوں کے مطابق تصویروں سے سجا ہوا تھا اور آرٹ کے سامان سے لبریز تھا۔ وہ کمرے کا جائزہ لیتے ہوئےاور اس کی نفاست کو دل میں سراہتے ہوئے کھڑکی کی جانب بڑھی۔ ایک عجیب سی اداسی اور گہری سوچ نے اس کے خوبصورت چہرے کو ماند کر رکھا تھا۔ کھڑکی سے باہر کی ہر شے ایک دلکش منظر پیش کر رہی تھی۔ رات بھر برسنے والی بارش کے بعد ہر شے میں نکھار آگیا تھا پیڑ پودوں کی چمک اور خوشگواری میں اضافہ ہو گیا تھا۔ آسمان پربنے ہوئے قوس قزح کے رنگ الگ ہی سماں باندھ رہے تھے، لیکن مانم کے اندر کی اداسی ساری رات آنسو برسانے کے بعد بھی مٹ نہ پائی تھی۔ اس کی آنکھوں میں قوس قزح کے رنگوں کے باوجود بھی تاریکی تھی۔ مانم کے اندر کی خاموشی اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی جبھی اچانک فون کی گھنٹی نے اس گہری خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا۔ اس نے میز پر پڑے بیگ میں سے موبائل نکالا تو اس کیا سکرین پرفیس ٹائم میں ”آلو“ نام جگمگا رہا تھا۔ جس کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
”ہے!آل سیٹ؟“(?Hey all set)
ایک نوجوان گندمی رنگ کی لڑکی دوسری جانب سے چہچہاتے ہوئےاس سے مخاطب ہوئی تھی۔
”!Yeah“مانم نے ایک جھوٹی مسکان کے ساتھ جواب دیا۔
”یو کرائیڈ اگین؟“(?You cried again) اس کے چہرے کے تصورات کو بھانپتے ہوئے عالیہ نے پوچھا۔
”.I’m fine“مانم نے سنجیدگی سے اپنی بات کا دفاع کیا۔
”?Are you fine nah“اس نےغورسے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئےپوچھا۔
”یا، ڈونٹ وری۔ آئی گاٹا گو۔ سو مچ تھنگس ٹو ڈو۔ “
(.Yeah!don't worry, I gotta go. So much things to do)
یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا۔ اس سے پہلے کہ عالیہ اس سے اور پوچھ پاتی۔ فون بند کرتے ہی اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔
✯✯✯
”ہیلپ می!لیو می۔۔۔پلیز لیٹ می گو۔ “
(Help me!Leave me…Please let me go.)
مانم کی چیخیں فضا میں گونج رہی تھیں لیکن اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ کچھ لڑکے اسے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹ رہے تھے۔ وہ ان سے ہاتھ چھڑا کے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی مگر یہ کوشش بالکل ناکام تھی۔ وہ بالکل انجان جگہ پر چند لڑکوں میں گھری ہوئی تھی۔ ان لڑکوں کی آنکھوں میں ایک عجیب سی وحشت اور ہوس تھی۔ وہ لڑکے کبھی اسے کھنچتے تو کبھی اس کے کپڑے نوچنے کی کوشش کرتے۔ مانم خود کو بچانے کے لیے کچھ بھی نہ کر پا رہی تھی اور بےبسی کا یہ عالم تھا کہ کوئی اس کی چیخ و پکار سننے والا نہیں تھا۔ ان میں سے ایک لڑکے نے اسے دھکیل کر نیچے پھینکا اور جیسے ہی وہ اس کے قریب آیا ڈر اور گھبراہٹ سے اس کی آنکھ کھل گئی۔
جیسے ہی اس کی آنکھ کھلی تو وہ پسینے سے شرابور تھی۔ اس کے دل کی دھڑکنیں اس قدر تیز تھیں کہ مانو دل حلق کوآتا ہو۔ چند لمحات بعد جب وہ اس حالتِ غیرسے باہر آئی تو اسے احساس ہوا کہ آج پھر اس نے وہی ڈراؤنا خواب دیکھا تھا۔ یہ وہی خواب تھے جو کئی ماہ سے اس کا تعاقب کر رہے تھے۔
اپنے کمرے میں خود کو محفوظ پا کر اس نے سکھ کا سانس لیا۔ پاس پڑے میز سے پانی اٹھا کر پیا اور موبائل آن کر کے ٹائم دیکھا۔ ٹائم دیکھتے ہی اسے احساس ہوا کہ اس کا آلارم بجنے میں بس چند ہی منٹ رہ گئے ہیں۔ وہ اسی حالت میں بیڈپر بیٹھی آلارم کے بجنے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔اور کچھ یادوں نے اسے آ گھیرا۔۔۔وہی ہنستا مسکراتا چہرہ۔۔۔آنکھوں سے ٹپکتی شرارت اور اردگرد قہقہوں سے گونجتی فضا۔ مانم ابھی اپنی سوچ کی گہرائیوں میں ڈوب ہی رہی تھی کہ الارم کی آواز نے اسے واپس کھینچ لیا۔
حسبِ معمول وہ اٹھ کے باتھ روم گئی اور تقریباً پندرہ منٹ ویسے ہی فرش پر بیٹھ کر زاروقطار روتی رہی۔ پھر منہ دھو کے نقلی مسکان منہ پر سجائے باہر آئی اور اپنے مام ڈیڈسے دعائیں لے کر معمول کے مطابق اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگائے دنیا بھلا کے اسکول کی جانب چل پڑی۔
اسکول پہنچ کر روز کی طرح وہ ارد گرد سے بےخبر اپنے آفس تک پہنچی اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
یہ ایک انٹرنیشنل اسکول تھا جہاں مانم کی طرح اور بھی بہت سے غیر ملکی لوگ پڑھاتے بھی تھے اور پڑھتے بھی تھے۔ اسکول جوائن کیے اسے ایک ہفتہ ہو چکا تھالیکن وہ ابھی تک کسی سے کچھ خاص بات نہیں کر پائی تھی۔ کئی بار اس نے کوشش کی مگر کسی سے بات کرنے کی ہمت نہ جتا پائی تھی۔ اسکول جاتے ہی اس نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کو بہت اچھے سے سنبھال لیا تھااوربچے بھی اس سے مانوس ہونے لگے تھے۔ وہ ایک آرٹ ٹیچر تھی۔
مانم لوگوں سے بات چیت کرنے میں بہت احتیا ط کرتی تھی۔ وہ کسی سے بہت جلدی بےتکلف نہیں ہوتی تھی۔ اسکول میں چند لوگوں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر مانم کی طرف سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ پا کے وہ بھی خاموش ہو گئے۔
مانم کی زندگی میں ایک دوست اسے بہت عزیز تھی جس سے وہ اپنی تمام باتیں شیئر کرتی تھی اور وہ مانم کی گہری خاموشی کو بھی محسوس کر لیتی تھی۔
”سو مانم!ہاوز اِٹ گوئنگ؟“(?So Manam!hows it going)
عا لیہ مانم سے اکثر بات کرتے ہوئےیہ سوال پوچھتی تھی۔
”اٹس گوئنگ گڈ!“(.Its going good)
مانم بچوں کے ساتھ کام کرتے ہوئےکہتی۔ آج بھی یہی ہوا تھا۔
”آر یو اوکے؟“
”!Pretty much“ اس نے گہری سوچ میں ڈوبےہوئے جواب دیا۔
”ڈ ڈ یو میک اینی فرینڈ؟“(?Did you make any friend)
عالیہ کے پوچھنے پر مانم نے برآمدے میں کھڑے تین چار ٹیچرز کو آپس میں بات کرتے دیکھا۔ وہ سب خوشی سے ہاتھ پر ہاتھ مارکے باتیں کر رہے تھے۔
”ناٹ یٹ۔ “(Not yet.)اس نے انھیں دیکھ کر بس سر جھکائے عالیہ کو جواب دیا۔
”یو شو ڈ۔ “(.You should)عالیہ نے کہا۔
”آئی ڈونٹ واننا۔ “(.I don’t wanna)مانم نےبس اپنے کمرے میں چپ کر کے بیٹھے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔
”مانم!پھر وہی بات۔ “عالیہ غصہ ہوئی تھی۔
”فائن، آیل ٹرائے۔ “(Fine I'll try)اس نے جیسے اپنی جان سے عزیز دوست سے ہار مانتے ہوئے کہا۔
حسبِ معمول مانم اپنے آفس میں بیٹھی کچھ فائلز چیک کر رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور ایک پیون اندر داخل ہوا۔
وہ شاید اس سے کچھ کہنا چا رہا تھالیکن ہچکچاہٹ کی وجہ سے کہہ نہیں پا رہا تھا۔ اس نے دو منٹ رک کر اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اسے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی۔ اس کی انگریزی سن کر مانم بے ساختہ ہنسنے لگی۔
”اِٹس اوکے آپ اردو میں بتا دیں۔۔۔مجھے اردو سمجھ آتی ہے۔ “ ایک انگریز کے منہ سے اردو کے الفاظ سن کر وہ پیون چونک گیا اور شاید کچھ پل کے لیے اپنے کانوں پر یقین نہ کر پایا۔
”آپ کو اردو آتی ہے میڈم؟“ حیرت اس کے چہرے پر واضح تھی۔ مانم اس کی بات سن کے ایک دم کھل کھلا کر ہنسنے لگی اور ہنستے ہنستے ماضی کے خیالوں میں کهو گئی۔
وہ اس کی انٹرن شپ کا پہلادن تھا۔ دل میں کچھ الجھنیں لیےوہ اپنے ٹریننگ روم کی طرف جارہی تھی۔ اس کے سنہرے بال اور نیلی آنکھیں ہر جگہ اسے دوسروں سے منفرد بنا دیتی تھیں اور کوئی بھی اس کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
ٹریننگ روم کا راستہ فلور سے ہوتے ہوئے گزرتا تھا جہاں دفتر کے تمام ملازم اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ اس کے آتے ہی سب کی توجہ اس کی طرف مرکوز ہو گئی۔
اس آفس میں پہلے ہی لڑکیوں کی کمی تھی اور اس کا حسین و جمیل سراپا لڑکوں میں پہلےدن ہی چھا گیا تھا۔ انھی میں ایک لڑکا روشان بھی تھا۔
روشان ایک درمیانے خدوخال اور گوری رنگت کاخوش شکل لڑکا تھا۔ ہلکی ہلکی دا ڑھی سے ڈھکا چہرہ اور انگلیوں سے بنے بکھرے بال۔ دیکھنے میں وہ ایک عام سا نوجوان تھا پر اس کی آنکھوں میں جھلکتی شرارت اور دل فریب مسکان اسے اوروں سے الگ کرتی تھی۔
دودن کی چھٹی کے بعد روشان نے اسے آج پہلی بار ہی اس آفس میں دیکھا تھا۔
”ڈوڈ(dude)کیا پیس ہے نا۔۔۔“روشان کے پاس بیٹھے اس کے ایک دوست نے مانم کو گزرتے دیکھ کر کہا۔
”یار انگریز لگتی ہے۔ “ روشان اس کی خوبصورتی میں کھوگیاتھا۔
”پٹھان بھی تو ہو سکتی ہے۔ “ اس کے دوست نےکچھ سوچ کر کہا۔
”جو بھی ہے۔۔۔خوبصورتی اینڈ ہے اس پر۔ “ روشا ن نے کھوئے ہوئے ہی جواب دیا۔
“ہاں یار۔۔۔“ دونوں اسے گزرتا ہوادیکھ کرحسرت سے بولےتھے۔
اس کی انٹرن شپ کے دن یونہی گزرتے جا رہے تھے اور وہ اپنے ارد گرد سے بےخبر بس اپنے کام سے کام رکھے مصروف رہتی تھی۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ اس کے آنے سے آفس کے اندر کتنی ہلچل مچ چکی ہے۔
لوگ اس سے بات کرنے کے بہانے تلاش کرتے تھےپر اس کا ایک تلخ سا انداز ہر کسی کواس کی حد میں رہنے پر مجبور کر دیتا۔
ایک دن شام میں وہ تھکی سی کیفے میں جا کے سوچ رہی تھی کہ کیا لےاور روشان پاس کھڑا اپنی چائے بنا رہا تھا۔ وہ اسے چور نظروں سے دیکھ کر کچھ سوچنے لگااور پھر اس سے کچھ فاصلے پر آ کے کھڑا ہو گیا۔
”سو ہاؤ واز یور ڈے؟(?So how was your day)روشان نےبڑے اعتماد سے پوچھا۔
”اُف ہیکٹک!“اس نے بنا سوچے سمجھےکہا۔
”ٹی اور کافی؟“روشان نے بات بڑھانے کے لیے پوچھا۔
”آئی تھنک آئی شوڈ ٹیک ٹی۔ “(.I think I should take tea)وہ سر پکڑے بیٹھی تھی۔
”شیور، یاربھائی ایک چائے۔ “اس نے کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے کو آواز لگا کے اپنا کپ اور چپس پکڑتے ہوئے پیسے رکھے۔
”سی یو!“اس نے مانم کو دیکھ کر کہااور وہاں سے چلا گیا۔
”ہاؤمچ؟“(کتنا ہوا؟)اس نے ہلکی سی مسکان دے کراپنی چائے کا مگ پکڑا اور کاؤنٹر پر کھڑے شخص سے پوچھا۔
”وہ سر نے دے دیے۔ دیٹ سر گو آوے۔ “(That sir go away)وہ پہلے تھوڑا حیران ہوئی پھر دکاندار کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی پر ہنستے ہوئے وہاں سے باہر نکل آئی۔ وہ باہر آئی تو ایک طرف اندھیرے میں سیڑیوں پر روشان اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا چائے پی رہا تھا۔ وہ ایک جگہ اکیلے آ کر ابھی بیٹھنے ہی لگی تھی کہ اس کی نظر روشان پر پڑی۔
”ہا ئے!تھینکس فور دا ٹی۔ “
(Hi!thanks for the tea.)
اس نے دور کھڑے کپ اٹھا کراس کا شکریہ ادا کیا۔
”آئی ڈیڈنٹ نو یو پیڈ فور دِس۔ “
(I didn't know you paid for this.)
پھر وہ روشان کی طرف بڑھنے لگی۔
”اِٹس اوکے۔ “ روشان نےمعصومیت سے کہا۔ وہ بس ایک ہلکی سی مسکان دیے وہاں سے چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی روشان کے دوست اس کی واہ واہ کرنے لگےاور روشان ہواؤں میں اڑنے لگا۔
”واہ بھائی بڑی سپیڈسے جا رہا ہے۔۔۔تو بات چائے تک پہنچ گئی۔ “ اس کے ایک دوست نےاس کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔
”یو نوبھائی کا چارم ہی بہت ہے۔ “ روشان نے اکڑتے ہوئے کہااور سب اونچی آواز سے ہنسنے لگے۔
ایک دن روشان مانم کے بالکل ساتھ والے کیبن میں بیٹھا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح ارد گرد سے بےخبر اپنا کام کر رہی تھی۔ روشان کافی دیر سے اس سے بات کرنا چا رہا تھا لیکن اس کے اٹیٹیوڈ(attitude)بھرے چہرے کو دیکھ کر ہمت نہیں کر پارہا تھا۔ کام کرتےہوئےوہ اچانک پیچھے ہوئی تو اس کی کرسی کا ٹا ئر روشان کے پاؤں پر آ گیا۔
”ایم سو سوری!“اس نے گھبرا کےکہا۔
”اِٹس اوکے۔ “روشان نے اپنا پاؤں مسلتے ہوئے کہا۔ مانم نے اسے پہچان لیا۔
”ٹی گا ئے؟“(?Tea guy)
”ہاں۔ “ روشان مسکرا یا۔
”ا یم سو سوری، آئی ڈیڈنٹ سی۔ “(.I’m so sorry I didn’t see)اس نے پھر معذرت کی۔
”اِٹس اوکے۔ “ روشان نےیہ کہہ کر مو قعےکا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ ”روشان!روشان بٹ۔ “ اس نے اس کےآ گے ہاتھ بڑھایا۔
“مانم!مانم تلہار۔ “ اس نے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا نام بتایا۔
”یو آر ناٹ فرام پاکستان، رائٹ؟“
(You are not from Pakistan, right?)
روشان نے بڑے اعتماد سے مانم سے پوچھا۔
”ا یم فرام جورڈن۔ “(I am from Jordan)
”ہمم!مڈل ایسٹرن۔ “(Hmm!Middle Eastern)
”ما ئی مدر اِز ایکچولی فرام جرمن۔ “(My mother is actually from german)مانم نے وضاحت کی۔
”آ ئی مسٹ سے یو آر رئیلی ویری بیوٹی فل۔ “
(I must say, you are really very beautiful.)
اس نےذرا دل پھینک انداز میں کہا۔
”تھینکس۔ “ وہ تھوڑا شرما گئی۔ اتنے میں اسے کسی نے بلایا۔
”گوٹا گو۔ “(Gotta go)کہہ کر وہ اٹھ کے چلی گئی۔
ایسے ہی روشان بہانے سے روز اس کے ساتھ والے کیبن میں بیٹھنے لگا۔ کوئی بیٹھنے لگتا تو اسے ہٹا کے بیٹھ جایا کرتااور جب بھی وہ آ کے بیٹھتی تو وہ کسی نہ کسی بہانے سے اسے مخاطب کر لیتااور بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا۔
”ہا ئے۔ “ایک دن روشان نے اسے خوشامدی مسکان دیتے ہوئے کہا۔
”ہائے۔ “ مانم نےبھی مسکرا کرجواب دیا۔ یوں ہی وہ اس سے بات چیت شروع کیا کرتاتھا۔
”سو ہاؤز اِٹ گوئنگ ان پاکستان؟“(?So how's it going in pakistan)
”اِٹس گوئنگ پریٹی گڈ۔ “(Its going pretty good)مانم کچھ سوچتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
”سو وائے آریو ہیر؟“(?So why are you here)اس نے تھوڑا تجسس سے پوچھا۔
”ایم اِن مائی سینئر سیمسٹر سو جوائن اِٹ پارٹ ٹائم۔ “
(I'm in my senior semester, so join it part time.)
اس نے مختصر سا جواب دیا۔
”ہمم!گڈ “ روشان کو اب آ گے سمجھ نہ آیا کہ کیاپوچھے۔
”واے آر یو ہیر؟“(?Why are you here)مانم نے پہلی بار اس سے کوئی سوال کیا۔
”فنانشل کرائسس۔ “(Financial crisis)روشان نےایمانداری سے جواب دیا۔
اور یوں ہی وہ دونوں ہر روز ایک ساتھ بیٹھنے لگے، روشان بہانے سے اس سے باتیں کرنے لگااور اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنے لگا۔
”یو ڈیڈنٹ میک فرینڈز؟“(?You didn't make friends)روشان نے ایک دن اس سے پوچھا۔
”نو باڈی وانٹس ٹو بی مائی فرینڈ۔ “(.Nobody wants to be my friend)اس نے بتایا۔
”لے ہم یہاں پر مرے جا رہے ہیں۔ “ روشان نےاپنے منہ میں کہا۔
”واٹ؟“(?What)وہ تھوڑا حیران ہوئی۔
”آ ئی مین وائے؟“(?I mean why)روشان نے فوراً بات پلٹی۔
”مے بی بکوز ا یم بلونڈ۔ گرلز ڈونٹ لائک می، اینڈ بوائز یو نو۔۔۔“
(Maybe because I'm blonde. Girls don't like me and boys you know...)
اس نےاپنی آنکھیں گھماتے ہوئے ایک ہلکی سی مسکان دیتے ہوئےکہا۔
”آ یل گیو یو آ ٹپ۔۔۔بی وئیر آف بوائز۔ دے ڈونٹ ہیو گڈ انٹینشنز فور یو۔ “
(I'll give you a tip... beware of boys. They don't have good intentions for you.)
اس نےاس کے قریب آ کے آہستہ سے کہا۔
”آ ئی نو آلریڈی۔ ڈونٹ وری۔ “
(I know already, don't worry.)
مانم نے چہرے پر مسکان سجائےکہا۔
”سو کین وی بی فرینڈز؟“(?So can we be friends)اس نے تھوڑا جھجکتے ہوئے پوچھا۔
”یا وائے ناٹ!“(!Yeah, why not)اس نےایسے ہی کہہ دیا۔
روشان کے منہ پر شرارتی سی مسکراہٹ آئی۔ وہ دونوں پھر ایسے ہی روز بات چیت کرنے لگے۔ روشان نے اپنے دوستوں میں مشہور کر دیا کہ اس نے مانم کو سیٹ کر لیا ہے۔
”ابے اتنی جلدی؟“ اس کے دوست نے حیرانی سے پوچھا۔
”بھائی کا چارم ہی بہت ہے۔۔۔“ روشان نے کالرچڑھائے۔
”بلونڈ ہے نا۔۔۔جلدی پھنس گئی۔ “ اس نے مزید وضاحت کی۔
”سہی ہے باس!ہم سے کب ملوا رہا ہے۔ “وہ تھوڑے شوخ انداز میں بولے۔
”ہاں کیوں نہیں، بریک میں ملواتا ہوں۔ “اس نے فخر سے کہا۔
پھر وہ بریک میں مانم کو لے کر آیا۔ آفس کے باہر سیڑھیوں میں اس کے سارے دوست کھڑے تھے۔ اسے دیکھ کر ان میں سے دو نے اپنا سگر یٹ بجھایا۔
”مانم میٹ مائی فرینڈز۔ کاشان، علی، اینڈ فرحان۔ یو ما ئٹ وونٹ ریممبر دا نیم۔ سو ڈونٹ بودر۔ “
(You might won’t remember the name, so dont bother.)
روشان نے اس کا سب سے تعارف کرواتے ہوئے بڑے فخر سے کہا۔ اس کے دوست اسے غصے سے دیکھ رہے تھے۔ وہ لوگ اشاروں میں باتیں کر رہے تھے۔
”آ ئی ول ناٹ۔۔۔ڈونٹ وری۔ “ مانم نے مسکرا کر کہا۔
”سالے خود کی اچھائی ہماری برائی۔ “ ایک دوست نے دبے لفظوں میں اسے گھورتے ہوئے کہا۔
”چِل مار آہستہ آہستہ ہی کروا ؤں گا نا۔ “ روشان نے بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں سمجھایا۔ مانم انھیں حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔
”دے آر بِٹ اینگری بکوز آ ئی ڈونٹ سپینڈ آ لوٹ آف ٹائم ود دیم ناؤ۔۔۔“
(They are bit angry because don't spend a lot of time with them.)
روشان نےوضاحت کی جبکہ مانم بس حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
”یار۔ “ اس نے الجھ کر کہا۔
”بھینس کی دم۔ بندی بنی تو دوستوں کو بھول گیا۔ “ دوسرےدوست نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
”ہا ہا ہا۔۔۔بی سی مینز۔ “ روشان بات دبانا چا رہا تھا۔
”بہن چ۔۔۔“ مانم اس کی بات کاٹتے ہوئے بول پڑی۔ روشان اور اس کے دوستوں نے حیران ہو کے اسے دیکھا۔
”ریلیکس ڈ یو ڈ اتنا ٹرانسلیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ “مانم نےطنزیہ مسکان دیتے ہوئے کہا، سب حیران رہ گئے۔
”تمھیں اردو آتی ہے؟“ روشان نےحیرانی سے پوچھا۔
”آتی ہے۔۔۔“ مانم نےاپنا بیگ پکڑتے ہوئےکہا۔ ”اینڈ ڈوڈ آ یم ناٹ ہز بندی۔ بس سلام دعا والی فرینڈ ہوں۔ سو چِل۔“
یہ کہہ کر وہ اٹیٹیو ڈ سے اپنابیگ اٹھا ئے وہاں سے چل دی۔ روشان سکتے میں کھڑا تھااور اس کے سب دوست اس پر اونچا اونچا ہنس رہے تھے۔ گزرتے ہوئے مانم بھی ہنس پڑی۔
✯✯✯
اتنے میں اس کے کانو ں میں عالیہ کی آواز آئی۔ وہ ایک دم اپنے ماضی کی یادوں سے باہر آئی۔
”مانم تو پھر چلی گئی تھی نا اپنے فلیش بیک میں۔ “ عالیہ کی آواز سے اس کی یادوں کا تسلسل ٹوٹا۔
”نہیں وہ۔۔۔ایسے ہی۔ “ مانم نے دھیمی آواز میں کہا۔
”جو بھی ہو یوآل ویز میک فول آف پیپل۔ “
(You always make fool of people.)
عالیہ نےہنستے ہوئےکہا۔
”ہاں۔۔۔مجھے بڑا مزہ آتا ہے جب لوگ مجھے فورینر سمجھ كے ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتے ہیں۔ “ مانم نےہلکی سی مسکان دےکر کہا۔
”یو جسٹ ڈونٹ لک لائک۔۔۔یو آر فورنر۔ “
(You just don’t look like, you are foreigner.)
عالیہ نے اسے ٹوکا۔
”ہاف۔۔۔اور اب تو ہاف بھی نہیں رہی۔ “ مانم نے پلٹ کر اسے درست کیا۔
”ہاں اب تو دیسی ٹپوری بن چکی ہے۔ “ یہ کہہ کر وہ دونوں ہنسنے لگیں۔
”اِٹس بین سو لانگ تجھے ایسے کھلکھلا كے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا مانو۔۔۔“ عالیہ پیار سے مخاطب ہوئی۔ مانم ہنستے ہوئے چُپ ہو گئی۔
”ایسے ہی رہا کر۔۔۔یو لک سو پریٹی وین اسمائلنگ۔ “
(You look so pretty when smiling.)
عالیہ نےپیار سے اسے دیکھتے ہوئےکہا۔ مانم بس ہلکا سا مسکرائی۔
”چل عالیہ گوٹا گو۔ “(gotta go)یہ کہہ كر اس نے فون بند کر دیا اور ایک ٹھنڈی آہ كے ساتھ اپنے خیالوں کی ٹوٹی لڑی کو پھر سے پرونے لگی۔
✯✯✯
مانم اپنےکیو بیکل میں آ كر بیٹھی تو روشان پیچھے سے بھاگتا آیا۔
”مانم۔۔۔مانم۔۔۔لسن مین، آئی ایم سوری!آئی ڈیڈنٹ نو۔۔۔“
(Listen man, I am sorry!I didn't know...)
وہ بہت ہی شرمندہ تھا۔
”اٹس او کے، یو آر ناٹ دہ فرسٹ ون۔ “
(Its ok, you are not the first one.)
اس نےاس کی بات کاٹتے ہوئے بہت آرام سےکہا۔
”ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مجھے انگریز سمجھ كے۔۔۔“ انگلی سے انورٹڈ کوما کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی۔ ”اپنی بندی flaunt کر چکے ہیں۔ “ روشان اب شرمندہ سا ہو كے سر میں ہاتھ پھیرنے لگا۔
”میرا ایسا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا۔ وہ تو فرینڈز نے سمجھ لیا تو میں نے بھی ایسکلیٹ(escalate)کر دیا۔ “ روشان نے شرمندہ ہوتے ہوئے بڑے پیارے انداز میں سنجیدگی سے وضاحت کی اور مانم بس اپنی ہنسی دبا رہی تھی۔
”چِل ما ر۔۔۔اتنا دل پر نہ لے۔۔۔آئی ایم یوزڈ ٹو اِٹ۔ “(.I am used to it)مانم نےاسے ہلکا سا تھپک كرکہا۔
”سو آر وی اِسٹل فرینڈز؟“ روشان نے بہت ڈرتے ہوئے پوچھا۔ مانم نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
”تمیز سے، جسٹ فرینڈ رہے گا تو فائن۔۔۔اگر آگے چل كر ہٹ مارنی ہے تو پہلے ہی بتا رہی ہوں، ڈونٹ ویسٹ یور ٹائم۔ “ یہ کہہ كر وہ مسکراتے ہوئے اپنے کیو بیکل میں بیٹھ گئی۔
”نہیں نہیں میں دوستوں پر چولی نہیں مرتا۔ “ روشان نے فوراً خوشی سے اس كے کیو بیکل پر ہاتھ رکھ كرکہا۔
”پھر ٹھیک ہے۔ “ اس کی طرف دیکھ كر مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا اور دونوں نے ہاتھ ملائے۔
اتنے میں ہارن بجا اور مانم کی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹا۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی تھی جو ایک سگنل پر کھڑی ہوئی تھی۔ اسے احساس ہوا كہ وہ پھر سے اپنے ماضی میں کھو گئی تھی۔
آہستہ آہستہ مانم اب اسکول میں ایڈجسٹ ہو رہی تھی۔ وہ ایک دن کیفے میں گئی تو کیفے کا ویٹر بھی اس سے ٹوٹی پھوٹی انگلش بولنے کی کوشش کر رہا تھا یہ سن كے مانم نے ایک دم مسکرا کر کہا، ”اٹس او کے بھائی، آپ یہ والا ہی ڈال دو۔ “ ویٹر نےبھی حیرانی سے اسے دیکھا اور اس كے پاس کھڑی ایک ٹیچر حیرانی سے اسے دیکھ كر اس سے مخاطب ہوئی۔
”اوہ!یو ڈو نو اردو؟“(?You do know Urdu)وہ خوشی سے پوچھ رہی تھی۔
”!Yeah“مانم نےہلکی سی مسکان سجاکرکہا۔
”کچھ بولو!“وہ ایکسائیٹڈ ہوئی۔
”کیا؟“اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”اوہ آئی ایم سو سوری!سو سٹوپڈ آف می۔ “
(Oh I am so sorry!so stupid of me.)
اس نےاپنی بیوقوفی پر ہنستے ہوئےکہا۔
”فاریا بخاری!“ اس نے ہاتھ آگے بڑھا تے ہوئے کہا تھا۔
”مانم تلہا ر!“ سنجیدگی سے ہاتھ ملا كے جواب دیاگیا۔
”کم جوائن۔ “ وہ دونوں اپنی اپنی پلیٹیں لے كے ایک جگہ بیٹھ گئیں۔
”سو یو آر نیو پرائمری آرٹ ٹیچر۔ “
(So you are new primary teacher.)
اس نے مانم سے پوچھا۔
”جی، اور آپ؟“ مانم نے بھی سوال کیا۔
”آئی ایم ایم۔ اے۔ پی(مڈل ایئر پروگرام)آرٹ ٹیچر، آرٹ اینڈ ڈیزائن ایکچولی۔ “ فاریا نےبتایا۔
(I am MAP(Middle Year Programme)art teacher, art and design actually.)
”اوہ تو آپ ہیں ایم۔ اے۔ پی ٹیچر!“ مانم نےایسے کہاجیسے انھیں ہی ڈھونڈ رہی تھی۔
”کیا یار میں نے تمھیں کافی بار دیکھا، بٹ سوچا انگریز ہے پتا نہیں کیسی ہوگی۔ اِس لیے بات نہیں کی۔ “ اس كے اس طرح بتانے پر مانم کوہنسی آگئی۔
”ہوں، پر آدھی۔ “ ا س نےوضاحت کی۔
”تم نے بتایا ہی نہیں كہ تمھیں اردو بھی آتی ہے۔ “ فاریا نے کھاتے ہوئے اپنے ہی دھیان میں پوچھا۔
”تم نے پوچھا ہی نہیں۔ “ مانم نے اپنے دھیان میں کھاتے ہوئےکہااور ایک دم اس کی مسکان غائب ہو گئی۔ اُسے ماضی کی یادیں پھر سے اپنے حصار میں کھینچ كر لے گئیں۔ اسےیوں محسوس ہوا كہ ہر کڑی، ہر بات اس كے ماضی سے جڑی ہے۔
✯✯✯
”تو نے بتایا ہی نہیں کہ تجھے اردو آتی ہے؟“ روشان نے مانم كے ساتھ والے کیو بیکل میں بیٹھے اپنی کرسی اس کی طرف موڑکرکہا۔
”تو نے کبھی پوچھا ہی نہیں۔۔۔انگریزی جھا ڑتا جا رہا تھا تو میں نے بھی جھاڑ د ی۔ “ مانم اپنی کرسی کو ہلاکر مسکراتے ہوئےکہنے لگی۔
”کمینی یار تجھے تو بہت اچھی اردو آتی ہے۔ “ روشان نےحیرانی سے اس كے تھوڑا اور پاس آكر کہا۔
”ماں جرمن ہےلیکن باپ دیسی ہی ہے۔ “ مانم نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے اسےبتایا۔ ”ویسے بھی 5 سال سے یہیں ہوں۔ “ وہ اسے مزید کچھ بتاتی اس سے پہلے اس كے کانوں میں پھرسے آ واز پڑنے لگی۔
”ہیلو!کہاں کھو گئیں؟“ فاریا اس كے منہ پر چٹکی بجاتے ہوئے اس کی توجہ اپنی طرف دلوا رہی تھی۔
”کہیں نہیں۔ “ وہ ہلکی سی مسکان كے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
آہستہ آہستہ اس کی فاریا سے اچھی دوستی ہو گئی۔ ویسے ہی کام كے سلسلے میں اس سے بات چیت ہوتی ہی رہتی تھی۔
”تھینک گاڈ کوئی تو فرینڈ بنا۔ “ عالیہ اور مانم اپنے اپنے کمرے میں بیٹھے ویڈیو چیٹ کر رہی تھیں۔
”مانم باہر نکل اور فرینڈز بنا یار۔ “ عالیہ اسے نصیحت کر رہی تھی۔
”نہیں یار۔۔۔بس دل نہیں کرتا۔ “ مانم نے بیزار سی ہو کرکہا۔
”اٹھ نکل، سوشلائز کر، دوست بنا۔ تبھی تو ان سب سے باہر آ پائے گی۔ ورنہ وہیں اٹکی رہے گی۔ “ وہ پریشان تھی۔
”سچ بولوں تو کچھ کرنے کا دل نہیں چاہتا عالیہ!ڈر لگتا ہے دوست بنانے سے۔ “
”دیکھ آئی کین انڈر اسٹینڈ۔۔۔بٹ مانو لائف ختم نہیں ہوئی ہے۔ یو ہیو ٹو موو آن۔ “(.You have to move on)عالیہ نے بڑے پیار سےاسے سمجھایا۔
”دیکھ یو آر سو پریٹی، لائف ختم نہیں ہوئی۔ فائنڈ سم ون۔۔۔آئی ایم شیور لوگ مرتے ہوں گے تجھ پر۔ “
(You are so pretty...Find someone.)
مانم ان باتوں پر بس خاموشی سے اسے دیکھتی رہی اور فون بند کر كے سونے كے لیےلیٹی تو اس كے کانوں میں پھر سے ماضی کی آ وازیں گونجنے لگیں۔
✯✯✯
”بائے دا وے بہت سوہنی ہے تو۔ “ وہ اور روشان ایک دن ایسے ہی آفس میں بیٹھے سینڈوچ کھارہے تھے جب اس نے کہا تھا۔
”آئی نو روشی!لیکن پلیزڈونٹ ہٹ آن میں۔ “
(I know...Don’t hit on me.)
”اوہ ہیلو اتنی بھی سوہنی نہیں۔ “ وہ چڑگیااور اس کی بات سن کر وہ ہنسنےلگی۔
”دیکھ تو اچھا لڑکا ہے۔۔۔فرینڈ رہے گا تو دور تک جائے گا۔ “ اسے سمجھایا تھا۔
”آئی نو بٹ، یہی تو مسئلہ ہے۔ “ اس نے کھاتے ہوئے کہا۔
”سن!مجھے بھی یہ ٹپوری لینگویج سکھا نا۔۔۔“ مانم نے ایکسائیٹڈ ہو كرکہا۔
”میرے ساتھ رہ خود سیکھ جائے گی۔ “ اور انھی آوازوں کے ساتھ مانم نیند کی وادیوں میں چلی گئی۔
اگلے دن وہ اسکول میں بچوں كو آرٹ ایکٹیویٹیز(activities)کروا رہی تھی جب کلاس ختم ہونے پر اس نے اپنا ٹائم ٹیبل دیکھا تو اس كے اکٹھے دوپیریڈز فارغ تھے۔ تبھی عالیہ کی بات اس كے کانوں میں گونجنے لگی۔
”مانم باہر نکل اور فرینڈز بنا یار۔ “ وہ یہ سوچتے ہوئے باہر نکلی اور اسکول کا جائزہ لینا شروع کیا۔
”باہر نکل، کوئی نیو ایڈونچر ڈھونڈ۔۔۔“عالیہ کی باتیں مسلسل اس كے دماغ میں گھوم رہی تھیں۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ مختلف کلاسز جو رنگا رنگ سجی ہوئی تھیں۔
”ایکسپلور دِس نیو پلیس۔۔۔نئے دوست بنا۔ “
(Explore this new place.)
وہ آس پاس سے گزرتے ٹیچرز کو دیکھنے لگی لیکن ان سے بات کرنے کی ہمت نہ کر پائی۔ وہ دوسرے فلور كے برآمدے سے گزر رہی تھی كہ اچانک اس کی نظر ایک کمرے كے باہر لگی نیم پلیٹ پر پڑی جس پر ”میوزک روم“ لکھا تھا۔ دروازے كے ساتھ ہی ایک بڑی سی شیشے کی کھڑکی لگی ہوئی تھی جس سے پورا کمرہ واضح نظر آ رہا تھا۔ وہ کھڑکی سے اندر جھانکنے لگی۔ اندر ایک طرف بڑا سا پرانے زمانے کا پِیانو پڑا تھا اور دوسری طرف گٹار۔۔۔وہ دو منٹ کھڑے ہو كے انھیں دیکھنے لگی۔ وہ اندر جاناچاہتی تھی لیکن کچھ سوچ کر رک گئی اور اپنے دھیان ہی میں مڑی تھی كہ اچانک کسی سے ٹکرا گئی۔ اس نے نظر اٹھا كر دیکھا تو ایک درمیانے قد کا نوجوان، گوری رنگت، سلجھے ہوئے بال اور داڑھی كے ساتھ اس كے سامنے کھڑا تھا۔ مانم نے اسے دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی اُداسی اور سنجیدہ سا چہرہ۔ وہ پینٹ شرٹ میں ملبوس، کانوں پر بیٹس(ہیڈ فون)لگائے اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔
”آئی ایم سو سوری۔ “ مانم سے ٹکرانے پر وہ فوراً اپنے ہیڈ گیئر(ہیڈ فون)اتار كے اسے دیکھنے لگا۔
”اٹس او کے۔ “ مانم اسے دیکھ کر ایسے گھبرائی جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
وہ لڑکا سنجیدگی سے بات کررہا تھا لیکن مانم بس اسے دیکھ کر فوراً وہاں سے گھبرا كے بھاگ گئی۔ وہ اس کے اِس رد عمل سے تھوڑا حیران ہوا تھا۔
✯✯✯
”اچھا سن۔۔۔یہ ایف بی(فیس بک)والا لڑکا ہے نا بہت ہاٹ ہے۔ “ دوپہر کو مانم اور عالیہ ویسے ہی کال پر بات کر رہے تھے۔ عالیہ اپنے موبائل پر فیس بک چیک کرتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ مانم اپنے ہی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔
”تو سن رہی ہے؟“ عالیہ نے اس سے پوچھا۔
”ہاں۔ “اس نے ڈر کر جواب دیا۔
”مانو۔۔۔تو پھر چلی گئی تھی نا۔ “ اس نے تھوڑا چڑ كرکہا۔
”نہیں یار۔ “وہ فوراً وضاحت دینے لگی۔
”جھوٹ نہ بول۔ “ وہ غصہ ہوئی تھی۔
”ارے سچی نہیں۔۔۔میں تو کچھ اور سوچ رہی تھی۔ “
”کیا؟“
”ایکچولی آج آئی ڈسکورڈ میوزک روم اِن دا اسکول۔ “
(I discovered music room in the school.)
”اوہ وائو!پھر؟“ عالیہ ایکسائیٹڈ ہو كر پوچھنے لگی۔
”پھر کیا۔۔۔کچھ بھی نہیں۔ “
”اوہ شٹ!“ عالیہ نےکچھ سوچ کر کہا۔
”کیا ہوا؟“ مانم نے ایک دم پوچھا۔
”مل گیا تیرا ایڈونچر۔ “ اس نےایکسائیٹڈ ہو كےکہا۔
”کیا؟“
”میوزک۔۔۔“
”اس سے کیا ہوگا؟“ وہ اُداس ہو گئی۔
”ارے اِٹس ون تھنگ دیٹ یو لائک۔ “
(It’s one thing that you like.)
وہ ایکسائیٹڈ تھی۔
”چھوڑ نا۔۔۔اِس سے بھی پرانی یادیں ہی تازہ ہوں گی۔ “ اس نےدل چھوڑتے ہوئےکہا۔
”ارے نہیں ہوں گی۔ ٹرسٹ می یو ول فائنڈ آ نیو ایڈونچر۔ “
(Trust me you will find a new adventure.)
”چھوڑ نا، ویسے بھی اِٹس فور اسٹوڈنٹس۔ “ مانم نےکچھ سوچ كےکہا۔
”ارے تو فائنڈ آؤٹ نا۔۔۔ہو سکتا ہے اسٹاف كے لیے بھی ہو۔ “ عالیہ کافی ایکسائیٹڈ ہو رہی تھی۔
”اچھا چل دیکھتی ہوں نا۔۔۔“ مانو نے آلو سے جان چھڑانے كے لیے کہہ دیا۔
اس کی زندگی اسی طرح گزر رہی تھی۔ وہ بہت ہی افسردہ رہا کرتی تھی۔ کسی سے زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتی تھی بس خود میں رہنا پسند کرتی تھی۔ بات کرتے کرتے اکثر کھو جایا کرتی اور لوگوں کی بھیڑ میں بھی وہ خود کو تنہا پاتی۔ حقیقت تو یہ تھی كہ وہ اپنے ایسے حال میں خوش تھی اور شاید اِسی تکلیف كے ساتھ جینا چاہتی تھی۔
ایک دن وہ اسکول میں معمول كے مطابق ہینڈ فری لگائے اپنے خیالوں میں کھوئی داخل ہوئی۔ سامنے دیکھا تو روز کی طرح حاضری لگانے كے لیے ٹیچرز کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ ان كے اسکول میں حاضری لگانے كے لیے پہلے آپ کو دیوار پر لگی فیس اسکین مشین تک جانا پڑتا تھا اور پھر ایک ٹیبل پر پڑے رجسٹر میں بھی حاضری لگانی پڑتی تھی۔ وہ اس لمبی قطار کو دیکھتے ہوئے گزر رہی تھی كہ اس کی نظر اسی لڑکے پر پڑی جس سے وہ میوزک روم كے باہر ٹکرائی تھی۔ ایک عجیب سی کشش تھی اس كے سنجیدہ سے چہرے پر۔۔۔ایسی كہ بھیڑ میں کھڑا بھی وہ صاف نمایاں ہو رہا تھا۔ آج بھی اس نے کانوں میں ہیڈ گیئر لگائے تھے۔ وہ آس پاس سے بے خبر، اپنی ہی دنیا میں کھویا تھا۔ اس نے اسے دیکھا تو دیکھتی ہوئی ہی گزری۔ لیکن اُس کا مانو کی طرف کوئی دھیان نہیں تھا۔
اس کا وقت یوں ہی گزر رہا تھا۔ نرسری سے لے کر تیسری جماعت تک كے بچے اس كے پاس الگ الگ اوقات میں آیا کرتے تھے اور وہ ان سے آرٹ کی مختلف ایکٹیویٹیز کروایا کرتی تھی۔ بچوں كے ساتھ گزارا وقت اسے ہمیشہ اپنے غموں سے دور رکھنے میں مدد کرتا تھا۔ کیونكہ وہ لوگوں سے زیادہ بات چیت نہیں کرتی تھی اِس لیے کیفے میں بیٹھ كے کھانے سے بھی گریز کرتی تھی اور عموماً اپنے کمرے میں ہی لا کر اکیلے کھایا کرتی تھی۔ کمرے میں لگے اسپیکر میں ایک دن اعلان ہوا كہ اسٹاف میٹنگ ہے۔ یہ اس کی پہلی اسٹاف میٹنگ تھی تو سوچا كہ جا کر دیکھے آخر اِس میں کیا ہوتا ہے۔
بیسمنٹ میں بنے ایک کشادہ ہال میں یہ میٹنگ ہر مہینے كے پہلے پیر کو اسکول كے بعد رکھی جاتی تھی۔ مانم وہاں گئی تو کافی ٹیچرز اپنی اپنی باتوں میں مصروف، گروہ کی صورت میں بیٹھے تھے۔ کچھ ٹیچرز پیچھے پڑے چائے اور کھانے کی ہلکی پھلکی چیزوں سے آراستہ میز سے چائے اور اپنی مرضی کے بسکٹ اٹھائے اپنی متعین نشستوں پر بیٹھ رہے تھے۔ وہ ان سب کو دیکھتی سر جھکائے اپنی انگلیوں سے کھیلتی پیچھے کی ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئی۔ میٹنگ کا آغاز ہوا اور اسکول کےانگریز پرنسپل اسکول سے متعلق کچھ ضروری اعلانات کرنے لگے۔ وہ اپنے خیالوں میں ہی کھوئی تھی اور ایک لفظ بھی نہ سن پائی تھی۔ اتنے میں پرنسپل نے اس کا نام لیا اوروہ ایک دم چوکنی ہو گئی۔
”پلیز ویلکم اَور نیو پرائمری آرٹ ٹِیچر، مس مانم!پلیز اسٹینڈ اپ۔ “
(Please welcome our new primary art teacher, Ms Manam!please stand up.)
وہ اٹھی اور سب نے اس كے لیے تالیاں بجا کر اس کا استقبال کیا۔ وہ جعلی مسکان سجائے سب کو دیکھ کر اشارتاً سب کا شکریہ ادا کر رہی تھی اور پھر یوں ہی سر جھکائے بیٹھ گئی۔ اتنے میں پرنسپل ایک اور ٹیچر كے لیے استقبالیہ تالیا ں بجوانےلگے۔ مانم کی طرح ان کا بھی شاید اِس اسکول میں یہ پہلا ہی مہینہ تھا۔
”مسٹر سالار پلیز اسٹینڈ اپ!“ وہ کھڑا ہوا تو مانم نے مڑ كے دیکھا۔ یہ وہی لڑکا تھا جس سے وہ پہلے بھی دو بار متاثر ہو چکی تھی۔ وہ بھی عاجزانہ سی مسکراہٹ لیے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واپس بیٹھ گیا۔ لیکن وہ بس اسے ہی دیکھتی جا رہی تھی۔ ایک عجیب سی کشش تھی جو لاکھوں کی بھیڑ میں بھی اسے سب سے منفرد بنا رہی تھی۔
ایک دن اسکول كے برآمدے سے گزرتے ہوئےاس کی نظر پاس لگے پوسٹر پر پڑی جس میں اسکول میں ہونے والے کنسرٹ سے متعلق تفصیلات دی ہوئی تھیں۔ اس نے اسے دیکھ کر ایک لمحے کےلیےکچھ سوچا پھر آگے بڑھ گئی۔
”یو شوڈ گو۔ “(.You should go)وہ حسبِ معمول عالیہ سے کال پر بات کر رہی تھی جب اس نے کہا۔
”نہیں یار دل نہیں۔ “ وہ کچھ اکھڑی اکھڑی سی تھی۔
”مانو یہی تو ٹائم ہے لوگوں سے کیژیولی(Casually)او ر سوشلی انٹر یکٹ کرنے کا۔ “ وہ اسے سمجھانے لگی۔
”مجھے نہیں کرنا کسی سے انٹر یکٹ۔ “
”مانو!میری جان!کب تک اپنے ببل میں رہے گی فور گاڈ سیک نکل آ ان سب سے۔۔۔تو اِس کنسرٹ پر جا رہی ہے۔ دیٹس اِٹ۔ “ آلو چڑ گئی تھی۔
”ارےلیکن۔۔۔“ اِس سے پہلے كہ وہ کچھ کہہ پا تی فون بند کر دیاگیا۔
اگلی شام مانو شیشے كے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت سمپل سا تیار ہوئی تھی۔ ایک نارمل سے رائیل بلو ٹاپ كے ساتھ جینس میں ملبوس وہ اپنے سنہری گھنے با لوں کو کھلا چھوڑ كے بس ہلکا سا گلوس لگا كے تیار ہوئی۔ یوں تیار ہوکے شام میں جب وہ دوبارہ اسکول پہنچی تو سب رنگا رنگ ملبوسات زیب تن کیے ہوئے نظر آئے۔ میک اپ میں ڈھکے چہرے ہر طرف پھیلے تھے۔ مانو ان سب میں سادگی کا مجسمہ بنی الگ ہی نظر آ رہی تھی۔ وہ اپنی انگلیوں سے کھیلتی ڈری گھبرائی سی ہال میں جا كے بیٹھ گئی۔ سب ہی اپنے اپنے دوستوں كے ساتھ باتوں میں مشغول تھےاور وہ ان میں بیٹھ کر عجیب سا محسوس کر رہی تھی۔ ایک دو ٹیچرز خود سے مانو سے تھوڑی سی بات کرنے کی کوشش کرنے لگےلیکن وہ انھیں کچھ خاص جواب ہی نہ دے پائی تو وہ بھی کچھ دیر بعد چلے گئے۔ وہ ایک جگہ جا كے بیٹھی تو شو شروع ہواجس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہورہی تھی۔ وہ بہت ہی بور ہو رہی تھی تو کچھ دیر بعد عالیہ کو میسیج کر دیا۔
”ہے!انجوائنگ دا کنسرٹ؟“(?Hey!Enjoying the concert)اس کا رپلائے آیا۔
”شدید بور ہو رہی ہوں یار۔۔۔“
”کیوں تو تو بہت انجوئے کیا کرتی تھی کنسرٹس۔ “
”ہاں بٹ آئی ہارڈلی نو اینی ون۔ “(.I hardly know anyone)
”دین گو ٹاک نا۔ “(.Then go talk)
”کیسے یار۔۔۔سب کی اپنی اپنی کمپنی ہے یہاں۔ “
”چل لائیو آ مجھے تو دیکھنے دے کیسے ہوتے ہیں کنسرٹ۔ “اس نے ویڈیو آن کی، اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگائی اور اُداس سی بیٹھی ویڈیو چیٹ کرنے لگی۔
”تیرا سڑا منہ نہیں سٹیج دکھا۔ “ وہ پھر اسے سٹیج اور آڈینس دکھا نے لگی۔
”اوئے ایک سیکنڈ سٹیج دکھا نا۔ “ عالیہ نے دیکھ كر فوراًکہا۔
مانو اپنے دھیان میں اسے سب دکھارہی تھی، کچھ بچوں کی پرفارمنس چل رہی تھی تبھی اس نے کہا، ” زوم کر۔ “
”ڈیم!کتنا ہوٹ ہے۔ “اس نے زوم کیا تو عالیہ نے ایک دم پیچھے بیٹھے لڑکے کو دیکھ كرکہا۔ مانو نےغور کیا تو وہی نیو ٹیچر سالار پیچھے بیٹھا اپنی دھن میں گٹار بجا رہا تھا۔ مانو نے اسے دیکھا تودیکھتی ہی رہ گئی۔
”یہ ہوٹی کون ہے؟“تبھی عالیہ نے پوچھا۔
”کوئی نیو ٹیچر ہے۔ “ مانونے نیم دلچسپی سے بتایالیکن موبائل اسکرین پر وہ اسی کو دیکھ رہی تھی۔
فنکشن یوں ہی چلا اور سارا وقت مانو عالیہ سے بات کر كے ہی دل بہلاتی رہی اور پھر جلد ہی وہاں سے اٹھ كر چلی آئی۔ یہ شور یہ رنگا رنگ منافقوں سے بھری محفلیں اب اس كے دل کو نہیں بھاتی تھیں۔ رات میں وہ اپنے ایک ناول میں گم بیٹھی تھی جب عالیہ كے واٹس ایپ میسیج نے اس كے کمرے میں پھیلی خاموشی کو توڑا۔ اس نے کھول کر دیکھا تو عالیہ نے اسی کنسرٹ پر سالار کی لی ایک تصویر واٹس ایپ کی تھی۔ مانو دیکھ کر ایک دم اٹھ بیٹھی اور اسے رپلائے کیا۔
”یہ کب لی؟“
”جب تو زوم کر كے دکھا رہی تھی۔ یو نو سکرین شاٹس لینے میں تو ماسٹر ہوں میں۔ “مانو ہنسنےلگی۔
” کتنا ہوٹ ہے نا۔ “ عالیہ كے کہنے پر اس نے بھی اس کی تصویر دیکھ كر کچھ سوچاپھر دونوں ہی ہنسنےلگیں۔
اگلے دن وہ ویسے ہی اپنے کان میں ہینڈ فری لگائے اسکول پہنچی۔ آج وہ کافی لیٹ ہو گئی تھی اور ٹائم دیکھتے ہوئے آ رہی تھی۔ ایک ٹیچر فیس اسکین مشین پر کھڑا حاضری لگا رہا تھا جب مانو وہاں پہنچی۔ مانم كے آگے ایک اور ٹیچر تھا لیکن اس نے فوراً ہٹ كے اسے اشارہ کیا کہ وہ جا كے پہلے حاضری لگا لے۔ مانو نے دیکھا تو یہ وہی ٹیچر سالار تھا۔ وہ آگے بڑھ كے حاضری لگانے لگی اور وہ عاجزی سے سر جھکائے اس کا انتظار کرتا رہا۔ مانو کو اس کا یہ اندازبہت اچھا لگاوہ ایک ہلکی سی مسکان دے كر آہستہ سے اس کا شکریہ ادا کرنے لگی اور وہ عاجزی سے سر ہلا كے آگے بڑھ گیا۔ تبھی ایک میٹھی سی مسکان نے اس کے چہرے کا احاطہ کرلیا۔
اسی دن دو پہرمیں وہ جب کیفے گئی اور كھانا ڈلوا رہی تھی تو ایک دم اس کی نظر پیچھے پڑی، اس نے دیکھا سالار ایک ٹیبل پر اکیلا بیٹھا ہیڈ گیئر لگائے دنیا سے لا تعلق آرام سے كھانا کھا رہا تھا۔ وہ اسے دیکھتی تو دل ہی دل محسوس کرتی تھی كہ وہ اِس دنیا میں اکیلی نہیں جو تنہائی پسند کرتی ہے۔ دنیا میں اور بھی لوگ ہیں جو بس خود میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس کی دنیا اور آس پاس سے یہ لا تعلقی ہی مانو کی نظر میں اسے دوسروں سے منفرد اور پر کشش بنا رہی تھی۔
”آلو!“ اگلے ہی پل عالیہ سے کال پر بات کرتے ہوئے وہ کہنے لگی۔
”ہاں بول۔ “ اپنا کام کرتے ہوئے آلو نےکہا۔
”آئی تھنک آئی فاؤنڈ آ کرش۔۔۔“(.I think I found a crush) مانو ہچکچاتے ہوئے کچھ سوچ كے کہنے لگی۔
”نو کڈنگ، کون؟؟؟“ آلو ایک دم سیدھی ہو كے بیٹھی اور اس کی بات غور سے سننے لگی۔
”وہی لڑکا۔ “
”کون سا؟“
”وہ سکرین شارٹ والا۔ “ مانونے شرماکرکہا۔
”نہ کر، وہ ہوٹی۔ “
”ہاں۔ “
”کب؟کہاں؟کیسے؟ڈیٹیلز دے۔ “ ایکسائیٹڈ ہو كر پوچھاگیا۔
”ایسے ہی ہینڈسم تو ہے ہی, ڈیسینٹ بھی ہے۔ “
”واہ یار!کوئی انٹر ایکشن ہوئی؟“
”ابھی تک تو نہیں۔۔۔بٹ آئی تھنک آئی کائنڈ آف اٹریکٹِو ٹوورڈز ہم۔ “
(But I think I kind of attractive towards him...)
”اچھا کرتا کیا ہے۔ “
”ٹیچر ہے۔ “
”آف کورس چپڑاسی تو ہوگا نہیں۔۔۔کس چیز کاٹیچر ہے؟“
”یہ پتا نہیں۔ “
”دین فائنڈ نا۔۔۔پھر ہم پلان کریں گے كہ انٹر ایکشن کیسے کرنی ہے۔ “ عالیہ کی بات پر مانو مزید شرمانے لگی۔
”بس لڑکی ہو گیا تیرا کام۔۔۔چیزہم بیبس۔ “(Chase him babes)
”آئی ایم ناٹ گونا ڈو اینی تھنگ۔ “(.I am not gonna do anything)
”کم آن۔۔۔میں ہوتی تو اب تک نمبرز ایکسچینج ہو چکے ہوتے۔ “ عالیہ کی اِس بات پر مانو بے ساختہ ہنسنےلگی۔
ایک دن وہ کسی کام سے باہر گئی۔ اپنے دھیان برآمدے سے گزر رہی تھی كہ اچانک کسی سے ٹکرانے پر اس کی ڈائری نیچے گر گئی۔ اِس سے پہلے كہ وہ نیچے جھکتی اور اٹھاتی، جس سے ٹکرائی تھی وہ فوراً اٹھا كے معذرت کرنے لگا۔ مانونے دیکھا وہ سالار ہی تھا۔ وہ ایک دم اسے دیکھ كے اس میں کھو سی گئی۔ ہوا سے اس كے بال اڑنے لگےتھے۔ دونوں ہی ایک دوسرے میں کھوئے تھے، تبھی آواز آئی۔
”ایکس کیوز می!“
وہ کلاس كے دروازے كے بالکل سامنے کھڑے تھے اور کوئی ٹیچر اندر جانا چاہ رہی تھی۔ وہ دونوں سائڈ پر ہوئےاور مانو نےہلکی سی مسکراہٹ كے ساتھ کہا۔
”تھینک یو۔ “
”نو پرابلم۔ “سالار عاجزی سے کہتے ہوئے گزر گیا۔ مانو كے منہ پر ایک مسکان آ گئی اور وہ فوراً اپنا فون نکل کر عالیہ کو میسیج کرنے لگی۔
”ویئر آر یو؟کم آن لائن۔ “
(Where are you?come online.)
یہ لکھ کر وہ کچھ سوچ كے مسکراتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
”ہاں بول۔ “ عالیہ کی کچھ دیر بعد ہی کال آ گئی۔
”آج میری انٹر ایکشن ہوئی۔ “
”سکرین شا ٹ والے سے؟“
”ہاں۔ “ ایکسائیٹڈ سی ہو كے کہنے لگی۔
”وائو!ڈیٹیلز بتا۔ “ آلو بھی ایکسائیٹڈ ہو گئی تھی۔
”آج میں کوریڈور سے گزر رہی تھی كہ اچانک میری ڈائری نیچے گر گئی اور اس نے مجھے اٹھاكے دی۔ “
”وائو پھر۔۔۔؟“
”پھر آئی سیڈ تھینک یو اینڈ ہی سیڈ نو پرابلم۔ “
(I said thank you and he said no problem.)
”اوہ وائو پھر؟“ ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے۔
”پھر کچھ نہیں وہ ایک ہمبل سی سمائل دے كر گزر گیا۔ “
”لے۔۔۔بس؟“ آلو کی ساری ایکسائٹمنٹ دھری کی دھری رہ گئی۔
”ہاں۔ “ مانو معصومیت سے کہنے لگی۔
”بی بی اسے انٹر ایکشن نہیں کمینہ پن کہتے ہیں۔ “ آلو اکھڑتےہوئےکہنے لگی۔
”چھوڑ نا۔۔۔میرے لیے یہ بھی بہت ہے۔۔۔اِٹ جسٹ برنگ سمائل آن مائی فیس۔۔۔“
(It just bring smile on my face.)
مانو نےمعصومیت سے کچھ سوچ كے شرماتے ہوئےاس سے کہاتھا۔
”کیپ اِٹ اپ میری چیتی اب آگے بڑھ۔۔۔“ اور دونوں ہنسنےلگی۔
✯✯✯
ایک دن وہ سیکنڈ فلور كے برآمدےسے گزر رہی تھی كہ اچانک اس کی نظر میوزک روم كے اندر پڑی تو سالار گٹار بجا رہا تھا۔ وہ بچوں کا لیسن لے رہا تھا۔ مانو کھڑے ہو كے اسےتوجہ سے پڑھاتا دیکھ رہی تھی۔
”آئی فگر آؤٹ۔ “کچھ دیر بعد وہ آلو سے کال پر بات کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”کیا؟“ آلو ناخنوں پر نیل پالش لگاتے ہوئے اس کی کال سن رہی تھی۔
”ہی ازآ میوزک ٹیچر۔ “(.He is a music teacher)
”نہ کر۔۔۔“ ایک دم نیل پینٹ ایک سائڈ پر رکھتے ہوئےکہنے لگی۔ ” ایک تیر دو شکار۔ “
”مطلب؟“ حیرانی سے۔
”ارے جوائن میوزک کلب اور مار لا ئینیں اس پر۔ “
”شٹ اپ میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی۔ “
”ارے کیوں۔۔۔سی ہر بار تجھے کوئی اپروچ نہیں کرنے آنے والا۔۔۔ٹیک آ فرسٹ اسٹیپ من۔ رممبر آنلی فیک بوائز اپروچ۔۔۔اینڈ ہی سیمز لائک آ نائس گائے۔ “
(Take a first step, remember only fake boys approach...and he seems like a nice guy.)
مانو کچھ سوچ رہی تھی تبھی ایک میٹھی سی مسکان اس کے لبوں پر آگئی۔
ابھی وہ بیٹھی سوچ ہی رہی تھی كہ فاریا ایک اور ٹیچر كے ساتھ اس كے کمرے میں آئی۔
”ہے مانم!“ فاریا ایک بہت ہی زندہ دل انسان تھی۔ اس كے آنے سے رونق سی آجاتی تھی۔
”ہے!“ اسے دیکھتے ہی اس كے چہرے پر بھی مسکان آ گئی۔
”مانم میٹ ماریہ۔۔۔ماریہ!مانم۔ “ وہ دونوں طرف اشارے کر كے ایک دوسرے کا تعارف کروانے لگی، ان دونوں نے کافی کے مگس پکڑے ہوئے تھے جس میں سے ایک وہ مانم کو دیتے ہوئےکہنے لگی۔
”آئی ڈونٹ نو تم کیسی کافی پیتی ہو۔۔۔بٹ اپنی بنا رہی تھی تو تمھاری بھی لے آئی۔ “
”دیٹس سو جنروس آف یو۔ “(.Thats so generous of you)
وہ لوگ بیٹھ كے کام كے بارے میں بات کرنے لگے اسی دوران تھوڑی آگے پیچھے کی بھی باتیں ہونے لگی۔ مانو نے آخر کار تھوڑا گھلنا ملنا شروع کر دیا تھا لیکن یہاں بھی پہلا قدم لینے والی فاریا ہی تھی۔
”فاریا ٹیل میں ون تھنگ۔۔۔“(.Faria!tell me one thing)
”ہاں پوچھو۔۔۔“
”یہ جو میوزک کلب بنا ہے، اِز اِٹ جسٹ فور کِڈس یا اسٹاف بھی جوائن کر سکتا ہے؟“ مانو تھوڑا ہچکچاتے ہوئے پوچھنے لگی۔
”آئیڈیا نہیں۔۔۔بٹ یو کین آسک۔ “(.But you can ask)
اس کے بعد کئی دن تک وہ ایسے ہی کئی بار میوزک روم كے پاس سے گزری لیکن کبھی اندر جانے کی ہمت نہ کر پائی۔ وہ بس گزر كے آ جاتی تھی۔ اسے ہمیشہ آلو کی بات یاد آتی تھی۔
”ہر بارتجھے کوئی اپروچ نہیں کرنے آنے والا۔۔۔ٹیک آ فرسٹ اسٹیپ۔ ہی سیمز لائک آ نائس گائے۔ “ آخرکار ایک دن ہمت کر كے وہ میوزک روم تک آگئی۔ کچھ پل باہر کھڑے رہنے كے بعد اس نے ہینڈل پکڑ کر ایک لمبا سانس لیا اور خود کو ہمت دلائی۔
”کم آن مانو یو کین ڈو دِس۔ “(.Come on Mano you can do this)خود سے کہہ کر اس نے اندر دیکھا تو سالار سامنے ہی اپنی ٹیبل پر بیٹھا کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا۔
”ہے!“ وہ اندر جا كر ہلکا سا مسکرا كےکہنے لگی۔
”ہے!“ سالار نےسنجیدہ سا منہ بنائے کہا۔
”ایکچولی آئی کیم ہیئر ٹو آسک اباؤٹ ون آف مائی کڈ۔ “
(Actually I came here to ask about one of my kid.)
مانو نے گھبرا كے جھوٹ بول دیا۔
”وچ کلاس؟“(?Which class) اس نےاسی سنجیدگی سے پوچھا۔
”گریڈ تھری۔ “
”اوہ!آئی ڈیل وِد ایم وائے پی، مڈل ایئر پروگرام۔ “
(Oh!I deal with MYP, Middle Year Program)
”اوہ!“ مانو کو اب سمجھ نہیں آئی كہ آگے کیا بولے۔ وہ تو بہانے سے بات کرنا چاہ رہی تھی لیکن یہاں تو۔۔۔
”یو کڈ آسک سر جوزف۔ نیکسٹ ٹو دِس روم، ہی ڈیلز وِد پرائمری۔ “
(You could ask sir Joseph. Next to this room, he deals with primary.)
”شیور!“ یہ کہہ كر وہ مڑی اور کچھ سوچ كے دل میں کہا۔ ” شٹ!“
”ون مور کوئسچن۔ “(One more question)
”شیور!“سالار تب تک واپس اپنے کام میں مصروف ہو گیا تھا۔ اس کی بات سن کر دوبارہ متوجہ ہوا۔
”اِز دس کلب جسٹ فور اسٹوڈنٹ اور اسٹاف کین یوز اِٹ ٹو؟“
(Is this club just for student or staff can use it too?)
اس نے کچھ ڈرتے ہوئے پوچھا۔
”اِٹ ڈیپنڈس واٹ وڈ یو لائک ٹو پلے۔ “
(It depends what would you like to play.)
وہ بنا کوئی تاثر دیے سنجیدگی سے کہنے لگا۔
”گٹار۔ “ ڈرتے ہوئےکہا۔
”شیور یو کین۔۔۔“(Sure you can)وہ ہلکی سی ایک مسکان دےکر کہنے لگاتو مانو كے منہ پر بھی ایک معصوم سی مسکراہٹ آ گئی۔
”وین کین آئی جوائن؟“ جذباتی سی ہو كراس نے پوچھا۔
(When can I join?)
”یو کین کم اینی ٹائم۔ “
(You can come any time.)
”لاسٹ آوَر؟“(?Last hour)
”شیور۔ “ مانو یہ سن كے مسکرائی اور فوراً کمرے سے باہر آ كے خوشی سے فون نکال كے آلو کو ٹیکسٹ کرنے لگی۔
”آئی ٹاک ٹو ہم۔ “(.I talk to him)
”اب کیا گرایا؟“ نیم دلچسپی سےپوچھا گیا۔
”ارے آئی جوائن میوزک کلب۔۔۔آج جانا ہے 2 بجے۔ “
”نو کڈنگ۔۔۔سچی؟“
”ہاں نا!“
”واہ میری شیرنی!تھینک یو، سوری سے ڈائریکٹ اتنی لمبی چھلانگ۔۔۔“ اس کی بات سن كے مانو شرماگئی۔
”پھر آر یو گوئنگ؟“(?Are you going)وہ بھی پرجوش ہوگئی تھی۔
”یس!“خوش ہو کر کہا۔
وہ کام کر رہی تھی جب اچانک اس نے ٹائم دیکھا تو 2 بجنے والے تھے۔ اس نے فوراً اپنا کام نمٹا کر شیشے میں اپنے بال سنوارے، میوزک روم كے باہر جا كے ایک لمبی سانس لی اور اندر گئی۔ سالار حسب ِمعمول اپنے کمپیوٹر پر مصروف تھا۔
”ہے!“ مانو ہچکچا كےکہنے لگی۔
”اوہ ہے۔۔۔آن ٹائم۔ “ سالار اپنے کام سے نظر ہٹا كے اسے دیکھ كے ہلکا سا مسکرایا اور ایک اسٹول پر بیٹھ كے اسے گٹار پکڑایا۔
”سوری آئی ڈیڈنٹ کیچ یور نیم۔ “(.Sorry I didnt catch your name)
”مانم۔ “
”نائس نیم۔۔۔سالار۔ “
”یونیک۔ “
”تھینکس۔۔۔سو یو وانٹ ٹو لرن گٹار۔ “(.Thanks, so you want to learn guitar)
”یس۔ “ نروس سی ہو كےکہنے لگی۔
”او کے سو بفور وی اسٹارٹ، لیٹس ہیو آ ہینڈ فل نالج اباؤٹ واٹ دِس انسٹرومینٹ اِز۔ وی آر گوئنگ ٹو پلے این ایکووسٹک گٹار، دس اِز کالڈ کورڈ اینڈ دس۔۔۔“
(Ok so before we start, let’s have a handful knowledge about what this instrument is. We are going to play an acoustic guitar, this is called chord and this...)
”ہینگ آن!آئی نیو آل دِس، ان فیکٹ آئی ڈو پلے ایزویل۔ اِٹس جسٹ آئی وانٹ ٹو پالش مائی اسکلز۔ “ مانو چڑ كے کہنے لگی۔
(Hang on!I knew all this, in afct I do play as well. Its just that I want to polish my skills all.)
”وانہ پلے سم۔۔۔“سالار نے اسے سنجیدگی سے دیکھا اور اسے گٹار پکڑا كرکہا۔
مانو نے ڈرتے ہوئے پکڑا اور گٹار کو اپنی ٹانگوں پر رکھ کر بجانے لگی۔ سالار اس كے گٹار کی پوزیشن ٹھیک کروا كے شائستگی سے ہاتھ باندھےاسے دیکھنے لگا۔ مانو اس كے یوں دیکھنے سے اتنی نروس ہو گئی كہ غلط اسٹروک بجا دیا اور ڈر كےاسے دیکھا۔
”اِٹس او کے ٹرائی آگین۔ “ وہ اس کی حوصلہ افزائی کرنے لگا۔ اس نے پھر بجایا پر جو وہ بجانا چاہ رہی تھی دو سے تِین بار کوشش کرنے پر بھی اسے نہ بجا پائی۔ وہ بس آنکھیں بند کر كے خود کو کوسنے لگی۔
سالار نے اندازہ لگا لیا تھااس لیے کہنے لگا، ”اٹس او کے، لیٹ می پلے سمتھنگ فور یو۔ “
(It’s OK, let me play something for you.)
اس سے گٹار پکڑا اور پہلا اسٹروک ہی ایسا لگایا جس نے سیدھا اس کےدل کو چھوا۔ مانو بس اسے بجاتا دیکھتی رہی۔ وہ دن تو ایسے ہی گزرا۔ شام میں جب گھر پر بیٹھے اس کی عالیہ سے بات ہوئی تو اس نے سارا قصہ سنایا۔
”سٹوپڈ! سٹوپڈ می۔۔۔آئی میڈ فول آؤٹ آف مائے سلیف۔ “
(Stupid!Stupid me, I made fool of myself.)
”کیا ہو کیا گیا تھا تجھے؟اچھا خاصا تو بجاتی ہے۔۔۔“
”یار ہی از سو ہینڈسم اور ایسے مجھے دیکھتا جا رہا تھا آئی جسٹ گوٹ کنفیوژ۔ “(.He is so handsome...I just got confuse)اس نے چڑکرکہا۔
”چل کوئی نہیں، ہو جاتا ہے کبھی کبھی۔ “ اس نے تسلی دی۔
”رہنے دے۔۔۔آئی ایم ناٹ گوئنگ آگین۔ “(I am not going again)اس نے کچھ اُداس سی ہو كر کہا۔
”پاگل نہیں بن، تو جائے گی۔ “
”آئی وِل ناٹ۔ “(.I will not)
”یو ول۔ “(.You will)
”آلو!نو۔ “
”مانو!یس۔ “
”میں نہیں جاؤ ں گی، نہیں جاؤں گی، نہیں جاؤں گی۔ “
اگلے دن اس نے میوزک روم كے باہر کھڑے ہو كے پھر ایک گہری سانس لی اور اندر چلی گئی۔ اسے دیکھ كر اب کہ سالار نے ایک خوشامدی مسکان دی۔ کل کی حرکت پر مانو کچھ شرمندہ سی تھی۔
”ہے، یو ہیئر!“(.Hey!You here)
”سوری آئی ایم لیٹ۔ “(.Sorry!I am late)
”اِٹس او کے، کم۔ “ وہ اسے دیکھ کر واپس اسی اسٹول پر جا كے بیٹھا اور گٹار اٹھا كےاسے ٹیون کرنے لگا۔ مانو حسبِ معمول اس كے سامنے جا كے بیٹھ گئی۔
”سو شُوڈ وی اسٹارٹ فرام بیسک؟“ سالارنےاسے دیکھ كے طنزیہ مسکراہٹ كے ساتھ کہا۔
(So should we start from basics?)
”یا شیور۔ “ مانو نےشرمندہ سی مسکان دے كے کانوں كے پیچھے بال کرتے ہوئےکہا۔ پھر اس نےاسے سب ضروری باتیں بتائیں اور گٹار پکڑا كے اس کی پوزیشننگ کروائی۔
”او کے آئی ہیو ٹو ٹچ یو۔ “ بڑے شائستگی سے کہا۔
(Ok I have to touch you.)
”سوری؟“ مانو اس کی بات سن کر ایک دم ڈر گئی۔
”لائک اِن آرڈر ٹو پوزیشن آئی ہیو ٹو ٹچ یو۔ “ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اس نے کہا۔
(Like in order to position I have to touch you.)
”اوہ یا شیور۔۔۔“ پھر وہ اس کی کہنی پکڑ كے پوزیشن ٹھیک کرکے اسے سکھانے لگا۔ کبھی خود بجاتا تو کبھی اسے بجانے کو کہتا۔ اگلے کئی دن تک وہ یوں ہی اپنے اسکول كے کاموں سے فارغ ہو كے تقریباً 2 بجے اس كے پاس جایا کرتی اور وہ ایسے ہی انتہائی سنجیدگی اور شرافت سے اسے سکھایا کرتا۔
سالار ایک انتہائی سنجیدہ اور شائستہ طبیعت کا انسان تھا۔ وہ بہت ہی دل سے سکھایا کرتا اور مانو بھی بڑے دھیان سے سیکھا کرتی تھی۔ جب جب وہ غلطی کیا کرتی تو اتنا معصوم منہ بناتی كہ بے ساختہ سالار بھی مسکرا دیا کرتاتھا۔ اکثر لوگ باہر سے گزرتے ہوئے انھیں عجیب سی نظروں سے دیکھتےتھے۔ مانو اکثر یہ نوٹ کرتی تھی اور اسے بہت عجیب لگتا تھا۔
“How’s your music class going on?”
(تیری میوزک کلاس کیسی چل رہی ہے؟)
عالیہ مانو كے گھر آئی تھی۔ وہ دونوں مانو كے کمرے میں بیڈ پر لیٹی تھیں جب اس نے مانو سے نےشرارت سے پوچھا۔
”.Its going good “(اچھی چل رہی ہے۔ )فیس بک اسکرول(scroll)کرتے ہوئے اس نےاپنے دھیان میں جواب دیا۔
”گڈ یار!فائنلی تجھے کافی دنوں سے دورے بھی نہیں پڑے۔ “ آلو نےبھی اپنے موبائل میں ڈوبے ہوئے کہا۔
”ہاں۔ “کسی سوچ میں کھوئے ہوئےہی جواب دیا گیا تھا۔
” indulge yourself یہ اتنا مشکل بھی نہیں۔ “(خود کو اس میں ملوث کرلے۔ )
”مجھے بھی لگتا ہے لیکن۔۔۔“
”لیکن؟“
” its little odd یوں اکیلے جانا۔۔۔“(یہ تھوڑا عجیب ہے۔ )
”اوہ کم آن!تو کسی جنگل میں نہیں جا رہی۔ “ آلو اٹھ كے بیٹھی اور اس سے تھوڑا جھڑکتے ہوئے کہنے لگی۔
”ہاں لیکن جب لوگ روم كے باہر سے گزرتے ہیں تو تھوڑا عجیب سا لگتا ہے۔ “
”اوہو ریلیکس کچھ نہیں ہوتا۔ “ مانو آلو كے سمجھانے كے باوجود سوچ رہی تھی۔ کچھ تھا جوچل رہا تھا اس كے دماغ میں۔
وہ ایسے ہی روزانہ میوزک روم جانے لگی تھی اور میوزک اسےایک عجیب سی خوشی دینے لگا تھا۔ وہاں جا كے کچھ لمحوں كے لیے وہ سب بھول جایا کرتی تھی۔ اب وہ تھوڑا خوش رہنے لگی تھی۔ وہ روزانہ 2 بجنے کا انتظار کیا کرتی تھی اور خاص وہاں جانے كے لیےاس نے تھوڑا تیار ہونا بھی شروع کردیا تھا۔ سالار بھی اس کی کمپنی انجوئے کرنے لگا تھااور ان کی اب اچھی دوستی ہونے لگی تھی۔ روز وہ سیکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ ایسا کر دیتی جو سالار كے ہنسنےکا باعث بن جایا کرتا تھا۔ لیکن کہیں نہ کہیں لوگوں کا یوں باہر سے گزرتے ہوئے انھیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھنا اسے پریشان کرتاتھا۔
”فاریا!“ایک دن فاریا اس كے کمرے میں آئی تو مانو نےکچھ سوچ کر اس سے کہا۔
”ہاں۔ “
”میں نے میوزک کلب جوائن کیا ہے، کیا تم اس میں شامل ہونا چاہو گی کیونکہ میں بالکل اکیلی ہوں۔ “
” Of course کب جانا ہے؟“(یقیناً۔ )مانو کو امید نہیں تھی كہ وہ اتنی جلدی مان جائے گی۔
”آج 2 بجے۔ “اس نے تھوڑا کنفیوژ ہوتے ہوئے کچھ افسوس سے کہا۔
”ٹھیک ہے میں آجاؤں گی۔ “کہہ کر وہ چلی گئی۔
مانو دل میں سوچنے لگی كہ کیا اس نے فاریا سے پوچھ کر ٹھیک کیا۔
”میرے خیال میں یہ ٹھیک ہے ایک سے بھلے دو ہوں گے۔ لوگ عجیب نظروں سے تو نہیں دیکھیں گے نا۔ “اس نے خود کو تسلی دی۔
فاریا ٹھیک 2 بجے آ گئی اور مانو اسے لے کر میوزک روم کی طرف بڑھی۔
”کیا تم نے اس سے بات کی ہے؟ یہ نہ ہو وہ مجھے نکال دے۔ “فاریا نےجاتے ہوئے مانو سے پوچھا۔
”ارے نہیں، اس نے کہا تھا کہ یہ اسٹاف کےلیے بھی اوپن ہے۔ “
”ہائے!“وہ کمرے میں داخل ہوئیں۔
”ہائے!“ اس نے مسکرا کر ہی جواب دیا۔
” .I bring one student for you“(میں آپ کےلیے ایک نئی شاگرد لائی ہوں۔ )مانو نےفاریا کی طرف اشارہ کرکےکہا۔
”ہائے!“ فاریانے پاس جا كے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ ”آئی ایم فاریا۔ “
”سالار۔ “ عاجزی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا گیا۔
” .I must say you are too handsome “(مجھے کہنا پڑے گا کہ آپ بہت ہینڈسم ہیں۔ )
فاریا کی بات پرسالار اور مانو نے دفعتاًایک دوسرے کو دیکھاتھا۔
اس نے سامنےدو اسٹول لگوا كے ان دونوں کو بٹھایا۔
پھر اس نےمانو کو گٹار پکڑا كے کہا، ”.Please practice the previous lesson“(پچھلے سبق کی پریکٹس کریں۔ )
”او کے مس فاریا!Let’s start with basics “(آئیےبنیادی باتوں سے شروع کرتے ہیں۔ )اب وہ فاریا سے بات کررہا تھا۔
فاریابہت پُرجوش طبیعت کی ما لک تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں ان دونوں میں بہت ہی اچھی بات چیت شروع ہو گئی اور مانو اُداس سی ان دونوں کو آپس میں ہنستا دیکھتی رہی۔
وہاں سے نکلتے ہی سب سے پہلے اس نے عالیہ کو کال کی تھی۔
”مجھے لگتا ہے میں نے غلطی کردی ہے۔ “وہ اپنے آفس میں بیٹھی پریشانی سے ناخن کھارہی تھی۔
”کہا تھا، کہا تھا میں نے۔۔۔اب بھگت۔ “آلو راستہ چلتے ہوئے غصے میں اس سے کہہ رہی تھی۔
”اچھا ڈانٹ تو نہ۔ “اس نے معصومیت سے کہا۔
”ہائے!کب جانا ہے؟“ اگلے دن فاریا 2 بجےسے بھی پہلے ہی آ گئی۔
”2بجے۔ “
”میں فارغ تھی تو آ گئی۔ “
”اچھا کیا، میں بھی بس ہو رہی ہوں۔ “
”مجھے وہ کلاس اور ٹیچر دونوں ہی بہت پسند آئے۔ “
مانو بس اداسی سے اسے دیکھے گئی۔ وہ پھر ایسے ہی روز جانے لگےاور فاریا ایسے ہی مذاق کیا کرتی۔ سالار فاریا كے آ جانے سے پہلے سے بھی زیادہ انجوئے کرنے لگا تھا اور وہ اب مانو سے زیادہ فاریا سے باتیں کیا کرتا تھا۔ مانو بس اداسی اور حسد سے ان دونوں کو دیکھا کرتی تھی۔
”وہ تو مجھے اٹینشن ہی نہیں دے رہا۔ “ وہ منہ پھلائے اپنے بیڈ پر لیٹے آلو سے کال پر بات کررہی تھی۔
”مارا نا خود كے پاؤں پر ہتھوڑا۔۔۔“ آلو اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔
”ہاں۔ “ اس نےپھولا ہوا منہ اور پھلایا۔
”چل کوئی نہیں، نکالتے ہیں کوئی حل۔ “
”پتا ہے یہ بہت اچھا ہے۔۔۔مجھے اس کلاس کے بعد طبیعت میں تازگی محسوس ہوئی۔ “اگلے دن فاریا مانو كے روم میں بیٹھی کہہ رہی تھی۔ وہ روز ہی وقت سے پہلے آ جایا کرتی تھی۔
”میوزک کرنے سے مجھے بہت خوشی ملتی ہے۔ “
” .Thats good“
”پر مجھے یوں اکیلے جانا تھوڑا عجیب لگتا ہے۔ “
”جانتی ہوں، تم بہت کم عمر اوربےحد خوبصورت ہو۔ “
”تھینکس۔ “مانونے شرما كےبال کانوں كے پیچھے کرتے ہوئےکہا۔
”تم جیسی لڑکیاں ڈرتی ہیں۔۔۔بدنامی نہ ہو جائے اور اس طرح کا اسٹاف۔۔۔لیکن مجھے ڈر نہیں لگتا۔ “
”کیوں؟“ مانو اپنی چیزیں سمیٹ كے رکھرہی تھی۔
”میں divorcee ہوں نا۔ “ اس نے بڑے سادہ انداز میں کہا۔ مانو نے مڑ كے حیرانی سےاسے دیکھاتھا۔
”تو تم اتنی خوشی سے کیوں بتا رہی ہو؟“
”کیا کروں رو رو كے تھک گئی ہوں۔۔۔“ مانو پریشانی سے اسےدیکھنے لگی۔ ”پریشان نہ ہو میں ٹھیک ہوں۔ “
وہ بس ہمدردی سے اسے دیکھنے لگی۔ فاریا كے انکشاف نے اسے کافی پریشان کر دیاتھا۔ اتنی ہنستی چہچہاتی لڑکی، اس كے ساتھ اِس قدر برا ہو چکا ہے۔ کیسے کرب سے گزری ہو گی وہ۔۔۔یہاں مانو اپنے ساتھ ہوا حادثہ بھول نہیں پا رہی اور یہاں یہ بھی۔۔۔
”میں divorcee ہوں نا۔ “ یہی آواز بار بار اس كے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ انھی سوچوں میں گم تھی جب اسے عالیہ کی کال آئی۔
”سنا کچھ بہتر ہوئے حالات؟“
”نہیں مسئلہ ہیsolve ہو گیا۔ “
”کیسے؟“
”وہ طلاق یافتہ ہے۔ “
”!Oh thank god “ آلو نے جیسےسکھ کی سانس لی۔
”آلو یار!“ مانونے غصے سے اسے ٹوکا۔
”سوری!سوری!بٹ تھینک گاڈ تیرے چانسس برائٹ ہیں۔ “
”پتانہیں۔ “
”کیا مطلب؟“
”آلو مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیا کر رہی ہوں۔۔۔I don’t want thisمیں ایک پرابلم سے نکل كے دوسری میں نہیں جانا چاہتی۔ “
”اسے موو آن ہونا کہتے ہیں۔ “
”اور اگر میں ایسا نہ چاہتی تو؟“
”خدا کے واسطے مانو!کب تک اس چیز کی سزا خود کو دے گی جو تو نے کی ہی نہیں۔۔۔You have to distract yourselfورنہ توکبھی اپنے پاسٹ سے باہر نہیں آ پائے گی۔ “(تجھے اپنا دھیان بٹانا ہوگا۔ )
”مجھے کوئیhook up نہیں کرنا۔ “
” Hook up کرنے کو کہہ کون رہا ہے۔ ابھی تو پتا نہیں وہ سنگل ہے بھی كہ نہیں میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تو نئے دوست بنائے۔
”ڈر لگتا ہے۔ “
”مانو ڈر مت یار۔۔۔میں ہوں نا۔۔۔ایک بار بیوقوفی کر لی دوبارہ نہیں کرنے دوں گی۔ “
”!I love you“
”!I love you too چل ایک ٹینشن تو دور ہوئی نا۔ “
”عالیہ!stop being so rudeبیچاری فاریا کتنی زندہ دل بندی ہے۔۔۔اسے دیکھ كے ہمیشہ لگتا تھا جیسے اس کی لائف بہت اچھی ہوگی۔ “
”اب اس کا دکھ لے كے نہ بیٹھ جانا۔۔۔تیرے پاس اپنے بڑے ہیں۔ “ اس کی بات پر وہ بے ساختہ ہنس دی۔
مانو اور فاریا یوں ہی میوزک کلب جانے لگے اور تینوں اب بہت اچھے دوست بن گئے تھے۔ فاریا ہی ان میں زیادہ بولنے والی تھی ورنہ سالار سادہ طبیعت کا اور مانو چُپ رہنے والی تھی۔ دن یوں ہی گزرنے لگے۔ پھر اچانک موسم کی تبدیلی پر مانو کا گلا کافی خراب ہو گیا۔
” .I bring chatter box for you, cause I cant speak“(میں اپنے لیے چیٹر باکس لائی ہوں کیونکہ میں بول نہیں پارہی۔ )اس نےاپنی دبی آواز میں کہا۔
”.Yeah!I can see that “(ہاں وہ میں دیکھ رہا ہوں۔ )
پھر وہ دونوں اپنے اپنے اسٹول پر جا کر بیٹھ گئیں اور سالار ان كے لیے تھوڑا سا بجانے لگا۔
” .So with music we have to learn history as well“(ہمیں میوزک کے ساتھ ہسٹری کو بھی دیکھنا ہوگا۔ )
”یار تو ہر وقت انگریزی کیوں جھا ڑتا رہتا ہے، اردو میں بول نا۔ “
”اس کےلیے۔ “
”کس کے لیے؟“ اس نےاس کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور پھر مانو کی طرف متوجہ ہو ئی۔
”مانو بول۔ “
”مجھے اردو آتی ہے۔ “ سب کی طرح سالار بھی اردو كے الفاظ مانو کی زبان سے اد ا ہوتےہی حیران رہ گیا۔ اس كے اِس رد عمل پر وہ دونوں ہی ہنسنےلگیں۔
”تو ایویں اتنے دنوں سے منہ ٹیڑھا کر رہا تھا۔ “
” .I thought you are foreigner“(میں نے سوچا تم غیر ملکی ہو۔ )
”آدھی۔ “
”آدھی؟“
”I am from Jordan مام جرمن۔۔۔بٹ ڈیڈ دیسی ہی ہیں۔ “
”Oh I see!“
”?Isn’t she beautiful“(کیا یہ پیاری نہیں ہے؟)سالار نے فاریا كے سوال پر ایک دم چونک كے مانو کو دیکھا پھر دونوں ہی تھوڑا عجیب محسوس کرتے ہوئے نظریں چراگئے۔
”.Yeah, she is“سالار نے مانو کو دیکھ كے کہا اور اس كے جواب پر مانو شرما گئی۔
” .Ok back to lesson…so lets start in Urdu“(ٹھیک ہے چلو اب سبق پر واپس آتے ہیں۔ اب اردو میں شروع کرتے ہیں۔ ) وہ دونوں ہنسنےلگیں۔
”تو ہم ہسٹری کی بات کررہے تھے۔ تو گٹار کی فریکونسی رکھی گئی تھی440Hz۔ “
”اوئے۔ “ فاریا نے ایک دم انھیں کا ٹتے ہوئے کہا۔ ”یعنی وہ گانا کتنا آن پوائنٹ ہے۔۔۔لگے 440 وولٹ چھونے سے تیرے۔ “ اس نے گانا شروع کردیا۔ سالار حیرانی سے دیکھنے لگا اور مانو اس کی بیوقوفانہ حرکتوں پر ہنستی جا رہی تھی۔
”وہ volts تھا یہ hertz ہے۔ “ سالار نے دبے غصے سے کہا۔
”اوہو تو بات تو ایک ہی ہے نا۔۔۔ایسے مجھے یاد رہے گا۔ “
ایسے ہی فاریا انھیں اپنی بیوقوفانہ باتوں سے ہنسایا کرتی تھی اور اسی دوران فاریا نےسالار کو بھی اپنی طلاق کا بتایا۔ سالار كے دل میں بھی فاریا كے لیے ہمدردی پیدا ہونے لگی تھی۔ مانو ابھی بھی زیادہ کھل كے بات نہیں کیا کرتی تھی اور سالار کو یہ بات بڑی الجھی ہوئی سی لگتی تھی۔
”مانم بہت شرمیلی سی ہے۔ “ فا ریا اور سالار ایک دن بیٹھ كے باتیں کر رہے تھے۔
” مجھے لگتا ہے وہ ایک انٹرورٹ ہے۔ “
”But Dude بلا کی خوبصورت ہے۔ “
”She is German خوبصورت تو ہوگی ہی۔ “ سالار کی بات سن کر فا ریا تھوڑی سی اُداس ہو گئی۔
”پر کیا فائدہ!“
” Hey relax وہ ایک گدھا تھا۔ “(پرسکون رہو!)
”آئی نو!پتا ہے پچھلے دنوں پتا چلا كہ اس کی بیٹی ہوئی ہے خدا اس كے نصیب اچھے کرے۔ باپ کا کیا اس كے سامنے نہ لائے۔ “ فا ریا اُداس ہو گئی۔ سالار نے اس کا دھیان بٹاتے ہوئے کہا۔
”کیا ہم مانم کی ہی بات کریں۔ “ وہ ایک دم اسےدیکھ كے مسکرائی۔
”اوئے ہوئے بڑا انٹرسٹ لے رہا ہے۔۔۔“ وہ ہنسنےلگا۔
”او کے گائیز!کل والا لیسن ریوائز کرو۔ مجھے اسکول کنسرٹ کےلیے پریکٹس کرنی ہے۔ “ مانو اور فاریا ایک دن پریکٹس کر رہے تھےجب سالار نے انھیں بتایا۔
”اوہ ہاں کنسرٹ آ رہا ہے نا؟“ فاریا نے خوشی سے کہا۔
”ایک اور کنسرٹ۔۔۔ابھی تھوڑے دن پہلے تو تھا۔ “ مانو نے حیرانی سے پوچھا۔
”اوہ وہ پرائمری ایئرز کا تھا نا، اب مڈل ایئر پروگرام کا ہے۔ سالار!تم پرفارم کرو گے میں بہت ایکسائیٹڈ ہوں۔ “
”!Yep“ سالارنے اپنے دھیان میں گٹار ٹیون کرتے ہوئےکہا۔
”کیا کوئی چانس ہے کہ میں اس کنسرٹ کا پارٹ بن سکوں؟“ مانو نے کچھ سوچ كر ڈرے سہمے انداز میں پوچھا۔
”کس لحاظ سے؟“سالار نےسنجیدگی سے پوچھا۔
”Like میں گٹار بجانا چاہتی ہوں۔ “ہچکچاتےہوئے اس نے اس انداز میں کہا کہ سالار بے ساختہ ہنس دیا۔
”پہلے بیسک تو سیکھ لو۔ “ یہ کہہ كے دوبارہ اپنا گٹار ٹیون کرنے لگا۔
”مجھے آتا ہے۔ “ مانو نےتھوڑا بگڑ کر کہا۔
”جی دیکھ لیا تھا۔ “ وہ اب طنزیہ مسکرایا۔
”!Come on“ مانو چڑ گئی جس پر فا ریا اور سالار دونوں ہی ہنسنےلگے۔
”ویسے بھی یہ گانے والاکنسرٹ ہے۔ “سالار اپنے دھیان میں بولا۔
”.Hey!I can sing too“(میں گا بھی سکتی ہوں۔ )مانو ایک دم پرجوش ہوئی۔ فا ریا اور سالار حیرانی سے اسے دیکھنے لگے۔
”وائو کچھ سناؤ نا۔ “ فا ریا نے خوشی سے کہا۔
”ارے نہیں اتنا اچھا بھی نہیں۔ “اب وہ تھوڑا کنفیوژ ہوگئی تھی۔
”کم آن!“ فا ریا اصرار کرنے لگی۔
”ویسے بھیI have a bad throat “(میرا گلا خراب ہے۔ )
”یہ بہانے ہوتے ہیں۔۔۔جنھیں سنگِنگ نہیں آتی۔ “ سالار نے گٹار سائڈ پر رکھتے ہوئے طنزیہ کہا جس پر مانو کو غصہ آگیا۔
”I can!“
”تو پھر سناؤ!“ سالار نےاس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا۔ مانو سناتی پر آواز خراب ہونے کی وجہ سے وہ کچھ بے سری ہو گئی۔ بار بارٹرائی کرنے کے باوجود بھی وہ نہیں گا پا ئی تھی۔
”رہنے دو۔۔۔گٹار جیسا ہی ہے۔ “ سالارنے طنزیہ اسے گٹار پکڑتے ہوئے کہا۔ مانو کو غصہ آیااور فا ریا ہنسنےلگی۔ مانو کچھ شرمندہ سی ہوگئی۔
شام میں اس نے عالیہ کو کال کر كے سب بتایا۔
”وہ ہمیشہ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ “وہ روٹھ كے بول رہی تھی۔
”تو کیوں مذاق بنانے دیتی ہے۔ “
”یار پتا نہیں کیوں میں ہمیشہ نروس ہو جاتی ہوں۔ “
”کیوں یار!اتنا اچھا تو گاتی ہے۔۔۔“
”رہنے دے۔ اتنا اچھا بھی نہیں گاتی۔ لیکن میں سچ میں اس کنسرٹ کا حصہ بننا چاہتی تھی۔ تجھے پتا ہے نا مجھے کتنا شوق ہے سٹیج پر پرفارم کرنے کا۔ “
”مانو جب تک تو ایسے ہی نروس ہوتی رہے گی، بھول جا۔ “
”نہیں یار اِس بار تو finally I’ll try میں اب اپنے آپ کو چینج کرنا چاہتی ہوں۔ “
”آہا میری چیتی!“
مانو اب خوش رہنے لگی تھی۔ ان لوگوں نے ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا۔ سالار ویسے تو بہت سنجیدہ اور مہذب سا انسان تھا لیکن فا ریا كے ساتھ مل كے ہمیشہ مانو کی ٹا نگ کھینچا کرتا تھا۔ مانو بہت ڈ ری سہمی سی ہی رہتی تھی لیکن ان کی کمپنی انجوئے کیا کرتی تھی۔
ایک دن مانو میوزک کلب ہی جانے کی تیاری کر رہی تھی كہ اچانک فا ریا کی کال آئی۔
”ہائے!آج میں تھوڑی بزی ہوں تم اکیلی چلی جانا کلب۔ “
”اکیلے؟“ مانو تھوڑی سی نروس ہو ئی۔
”اوہو سالار ہے ٹائیگر نہیں، کھا نہیں جائے گا تجھے۔ جاؤ اور انجوائے کرو۔ “ اس نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
”!Come on Mano تو یہ کرسکتی ہے۔ “وہ کچھ سوچ کر خود سے ہمت جتا كےچلی گئی۔ وہ گئی تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔
”?Hey!Where“اس نےڈرتے ہوئےسالار کو کال کی۔
”!Heyمیں ایک میٹنگ میں ہوں۔۔۔تم ایسا کرو اسٹارٹ کرو میں تھوڑی دیر میں وہاں پہنچ جاؤں گا۔ “
سالار نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔ مانو اب کمرے میں پڑی چیزوں کو ٹٹولنے لگی۔
سالار کا میوزک روم بہت ہی سادہ اور پیارا سا تھا۔ ایک دیوار ہر قسم كے اجلے رنگوں سے بھری تھی۔ دوسری دیوار پر دُنیا كے ہر نامور میوزیشن کی تصویری لگی تھی۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی دا ئیں طرف شیشے کی ایک بڑی سی کھڑکی تھی جس سے باہر سے برآمدہ دکھتا تھا۔ اس کی کھڑکی كے سامنے ہی ایک بڑا سا پُرانے زمانے کا پیانو پڑا تھااور ایک کونے میں سارے ساز پڑے تھے۔ کمرے میں اندھیرا تھا اور وہ ایسے ہی کمرے کو جانچ رہی تھی۔
پھر اس نےگٹار اٹھایا اور اسٹول پر بیٹھ كے سالار كے بتائے ہوئے طریقے سے اسےسیٹ کرنے لگی۔ وہ ایک اسٹروک بجاتی اور پھر تھوڑا سا بجانا شروع کرتی۔
”اچھا خاصا تو بجاتی ہوں، اس كے سامنے کیا ہو جاتا ہے۔۔۔“ اس نے سوچا اور پھر تھوڑا سا گنگنانے لگی۔
وہ گٹار بجانے کےساتھ ساتھ گنگنا بھی رہی تھی۔ تبھی اس نے آنکھیں بند کیں تو اچانک روشان کا چہرہ سامنے آ گیا۔۔۔وہی ہنستا مسکراتا شرارتی سا چہرہ۔۔۔اس نے اسی حالت میں گانا شروع کردیا۔ اس كے لبوں سے نکلنے والے گیت كے بول لفظ بہ لفظ اس کی سماعتوں میں گونج رہے تھے۔ وہ ماضی کی یادوں میں محو اپنی ہی دھن میں گا رہی تھی۔ روشان کا چہرہ اور اس كے ساتھ بِتایا ہوا وقت کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں كے سامنے گھوم رہا تھا۔ لفظوں کو گنگناتے ہوئے وہ روشان کو اپنے قریب محسوس کر پا رہی تھی لیکن پھر ایک دم ایک انجانے ڈر سے اس نےاپنی آنکھیں کھول دیں۔ آنکھیں کھولتے ہی ادھر ادھر اسے تلاش کرنے لگی۔
گاتے ہوئے وہ پھر ماضی کی ان حسین اور میٹھی یادوں میں کھو گئی جہاں وہ روشی كے ساتھ تھی۔ وہ دونوں خوش تھے۔ یہ سب سوچتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
سالار بھی برآمدے سے چلتا اپنے کمرے میں آ رہا تھا كہ اچانک کھڑکی سے اس کی نظر اندر پڑی۔ مانو کو یوں آنکھیں بند کیے مگن گاتا دیکھ وہ چپكے سے دروازہ کھول كے اندھیرے میں ایک کونے میں ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا۔ مانو اپنے گانے میں اِس قدر مگن تھی كہ اسے سالار کی موجودگی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ گانے کی دھن اس كے دل کی دھڑکنوں كے ساز سے مل رہی تھیں یا شاید دل کی دھڑکنیں اس كے گانے كے ساتھ مل گئی تھیں وہ سمجھ نہ پائی۔ جو بھی تھا ہر دھن اور اس دھن سے منسلک یادیں دل پر قیامت کی طرح ٹوٹ رہی تھیں۔ گاتے گاتے میٹھی یادیں کڑواہٹ میں بدل رہی تھی۔
سالار مانو کی میٹھی اور سریلی آواز میں بالکل کھو سا گیا تھا۔ ایسا نہیں تھا كہ اس کی آواز بہت سریلی اور خوبصورت تھی۔ ایک تیکھی آواز، سر تھوڑے کچے، لیکن جتنے دل سے وہ گا رہی تھی وہ اس كے گانے میں ایک عجیب سا رنگ بکھیر رہے تھے۔ کوئی بھی اس پل اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پاتا۔
گاتے گاتے ایک یاد اس کی روح کو دہلا گئی جہاں روشی ایک صوفے پر بیٹھے کوری آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ نیچے بیٹھے بھیگی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔ ایک کرب تھا اس کی آنکھوں میں جسے صرف وہ دونوں ہی اس پل میں محسوس کر سکتے تھے۔۔۔پھر مانو نےاسی کمرے سے بھاگتے ہوئے زخمی نگاہوں سے بس روشی کو ایک آخری بار دیکھا۔ روشی وہیں ادھ موا سا بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ انتہائی رنجیدہ نگاہوں سے اسے ایک آخری بار دیکھ رہی تھی جیسے سب ختم ہو رہا ہو۔ جیسے سب دور جا رہا ہو۔ جیسے یہ آ خری بار تھا كہ وہ اس کا دیدار کر رہی تھی۔ جیسے کسی نے اس کی روح تک نچوڑ د ی ہو۔
آنکھیں کھلیں تو ایک عجیب سی افسردگی اس كے چہرے پر تھی۔ آنکھیں نم اور ناک لال۔۔۔وہ گٹار بجا كے رکی تو سالار كے تالیاں بجانے سے چونک گئی اور ڈ ر كے مڑی۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔ باہر سے آتی مدھم سی روشنی میں سالار مانو كے چہرے کی افسردگی دیکھ نہ پایا تھا۔ اس نے جب تک جا كے لائٹس آن کیں اس نے فوراً اپنے آنسو پونچھ كے حالت درست کر لی تھی۔
”حیرت انگیز!یہ بہت زبردست تھا۔ “سالار بہت ہی متاثر تھا۔
”تھینکس۔ “ وہ نروس ہوگئی تھی، لہٰذاسر جھکائےکہا۔
”تم نے اس دن کیوں نہیں گایا؟“
”سب كے سامنے میں تھوڑا نروس ہو جاتی ہوں۔ “
”ارے اتنی خوبصورت آواز ہوتے ہوئے تم کیسے نروس ہو سکتی ہو؟“
”مجھے نہیں پتا۔ “
”تمھیں کنسرٹ میں پرفارم کرنا چاہیے سر تھوڑے کچے ہیں، But don't worry, we will work it out“
(لیکن پریشان نہ ہو ہم اس پر کام کر لیں گے۔ )
”نہیں نہیں۔ “ اس نے ایک دم ڈر کر کہا۔
”کیوں نہیں؟تم بہت اچھا گاتی ہو۔ “
”نہیں پر اتنے سارے لوگوں كے سامنے بس میں نہیں گا سکتی۔۔۔پلیز۔ “
”ارے پر تم پارٹ لینا چاہ تو رہی تھیں۔ “
”وہ تو گٹار كے لیے۔۔۔مجھے شوق ہے to perform in the concert“
”تمھیں گانا بھی چاہیے۔ “
”میں گھبراجاؤں گی اور بےوقوف کہلاؤں گی۔ گانا نہیں پلیز۔ “
مانو نے ڈ ر كے جلدی جلدی کہا۔
” !Ok ok relaxلیکن میں تمھیں گٹار کےلیے سلیکٹ کررہا ہوں، اب پرفارمنس کے لیے تمھیں میں ٹرین کروں گا۔ “(ٹھیک ہے ریلیکس ہوجاؤ!)
مانو بس خوشی سے اسےدیکھتی رہی۔
”یہ چیز میرے عزیز۔ “ گھر جاکر اس نے آلو کو فون کرکے بتایا تو وہ بھی بہت خوش ہوئی تھی۔
”Seeایویں نروس ہوتی ہے۔۔۔I told you تو بہت اچھا بجاتی ہے۔ “
”تھینکس۔ “
”گانے کا بھی کہنا چاہیے تھا۔ “
”نہیں یار!You know میں نے کبھی سٹیج پر نہیں گایا۔ ایویں اپنا Foolبنوانے کا کوئی شوق نہیں ہے مجھے۔ “اس نے وضاحت کی۔
”ارے ایسے ہی۔ اتنی نیگیٹو نہ ہوا کر۔۔۔خیر میں بہت ایکسائیٹڈ ہوں تو کنسرٹ میں گٹار بجائے گی۔ میں ضرور آؤں گی۔ “
مانو بھی بہت خوش تھی۔ فون بند کرکے وہ سوچتے ہوئے اپنے بیڈ پر لیٹی تو ماضی کی ایک یاد کا جھونکا پھرآ گیا۔
ایک دن مانو اور روشی رات كے وقت آفس میں تھے۔ گراؤنڈ میں ایک طرف شیڈ بنا تھاجو ان دونوں کی پسندیدہ جگہ تھی۔ وہاں ان كے کچھ جاننے والے دوست گٹار بجاكے گا رہے تھے۔
” ?Hey!can I join you guys too“(کیا میں بھی تمھیں جوائن کرسکتی ہوں۔ )
مانو نے خوش دلی سے پوچھاتھا۔
”شیور۔ “
”کیا میں بجا بھی سکتی ہوں پلیز؟“پھر اس نے بڑی معصومیت سے ان سے گٹار مانگا۔
”شیور۔ “جوانھوں نے اسے پکڑادیا۔
”تجھے گٹار بجانا آتا ہے؟“ روشی نے حیرانی سے پوچھا۔
”ہاں۔ “ مانو گٹار پہن كے پوزیشن سیٹ کرتے ہوئےبولی۔ پھر اس نے بجانا شروع کیا، سب اس سےبہت امپریس ہوئےاور لڑکوں نے اس کے ساتھ ایک میڈلے((Medleyبھی گایا۔
”.I wanna join you too“(میں بھی تم لوگوں میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔ )اس نےلڑکوں سے ساتھ گانے کی اجازت لی۔
”تو گاتی بھی ہے؟“ روشی مزید حیران ہوا۔
”لیکن میں بجاتے ہوئے گا نہیں پاتی۔ “
اس نے گٹار اتار كے ایک لڑکے کو پکڑاتے ہوئےکہا۔
پھروہ لوگ مل كے الگ الگ گانوں پر jamming کرتے۔ روشی ان کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ وہ بار بار مانو کو ہی فوکس کر رہا تھا اور مانو اسے اشارے سے منع کر رہی تھی لیکن روشی جان بوجھ كے اسے تنگ کر رہا تھا۔ آخر کار مانو نےاس كے ہاتھ سے موبائل چھین لیا۔
”اوئے!اوئے!“ روشی نے کہا اور کیمرہ میں مانو کا ہاتھ نظر آیا، پھر زمین کا منظر اور پھر ویڈیو بند ہو گئی۔
ماضی کی ان تلخ یادوں سے باہر آئی تووہ ابھی بھی وہی ویڈیو دیکھ رہی تھی جس میں روشی كے ہنسنےکی آوازیں تھیں لیکن چہرہ نہیں تھا کیونكہ وہ کیمرہ كے پیچھے تھا۔ اسے سن كے اس كے چہرے پر ایک زخمی سی مسکراہٹ آ گئی تھی اور آنکھوں میں نمی بھی۔
✯✯✯
اب سالار نےواقعی بڑی محنت سے مانو کو سکھانا شروع کر دیا۔ فاریا بس ٹائم پاس کرنے جایا کرتی اور اپنی بیوقوفانہ حرکتوں سے انھیں لبھایا کرتی تھی۔ مانو اور سالار فاریا کی فالتو حرکتوں پر بہت ہنستے۔ اسی دوران مانو کو اسکول کی طرف سے ایک ای میل(email)موصول ہوئی۔ مڈ بریک میں اسکول کی طرف سے ایک ٹرپ ترکی جا رہا تھا۔ وہ یہ ای میل پڑھ كے کچھ سوچ میں پڑ گئی پھر عالیہ سے بات کرنا ٹھیک سمجھا۔
”تو چلی جا۔ “اس نے چھوٹتے ہی کہا۔
”نہیں یار دل نہیں۔ “
”ارے! تبدیلی تیرے لیے اچھی ہے۔ “
”کیا فائدہ۔۔۔میں ہارڈلی لوگوں کو جانتی ہوں، اکیلے جاكے اور ڈپریس ہی ہوں گی۔ “
”کیوں تیرا وہ گینگ نہیں جا رہا؟“ اس بات پر مانو ہنسنےلگی۔
”پتا نہیں۔ “
”پھر پتا کر نا۔ “ عالیہ کی بات کو وہ کچھ دیر سوچتی رہی۔
اگلے دن وہ میوزک کلب میں تھی۔
”کیا تم لوگ ترکی جارہے ہو؟“اس نے ڈر کرپوچھا۔
”نہیں یار کوئی موڈ نہیں۔۔۔“ فاریانے کہا۔
”اور تم سالار؟“اس نے ذرا اور ہچکچا کر پوچھا تھا۔
”نو آئیڈیا۔ “ مانو کو اس کی بات سن كے مایوس ہوئی تھی۔
”کیوں تجھے جانا تھا؟“ فاریانے پوچھا۔
”Was planning لیکن تم لوگ نہیں جاؤ گے تو فائدہ۔۔۔“وہ اُداس سی کہنے لگی۔
گھر آ كے اس نے عالیہ سے بھی بات کی۔
”تو تو نہیں جا رہی؟“ عالیہ کہیں بیٹھی کچھ کھارہی تھی۔
”کیا فائدہ یار۔ “
”چل جورڈن ہی ہو آ۔۔۔تیری موجیں ہیں، اسکول والے کبھی بھی بریک دے دیتے ہیں۔۔۔اور ایک میری فرم ہے کمینے ان کا دل نہیں ہوتا كہ سنڈے بھی آف کریں۔ “ آلو کی بات سن کر اسے ہنسی آگئی۔
”یہ تو موجیں ہیں اسکول کی۔ سوچ رہی ہوں چلی جاؤں، 15 دن کا آف آ رہا ہے۔ “
”چل انجوئے کر۔۔۔میں تو یہیں سڑنے والی ہوں۔ “آخری جملے پر اس نے برا سا منہ بنایا تھا۔
”کیوں تو ڈیرہ نہیں جائے گی؟“
”نہیں یار کیا فائدہ جاہلوں میں جا كے۔۔۔میں اپنی ماڈرن پھوپھی کے ساتھ خوش ہوں۔ “
”ایسے تو نہ بول۔۔۔وہ تیرا خاندان ہیں۔ “
” Chuck itنا۔ “(اسےچھوڑ۔ )
عالیہ نے یہ کہہ کر بات بدل دی اور یوں وہ دونوں گھنٹوں اپنی باتیں کرتی رہیں۔
جب تک دونوں ایک دوسرے سے اپنے پورے دن کی روٹین شیئر نہیں کر لیتی تھیں دونوں کا ہی كھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔
”ہائے!“ اگلے دن مانو اسکول گئی تو اسے راستے میں ہی اٹینڈنس رجسٹر كے پاس سالار مل گیا۔
”ہائے۔ “ مانونے ہمیشہ کی طرح تھوڑا سہم كے کہا۔
”تو تم نے ترکی کےلیے اپلائے کیا؟“
”نہیں I dropped it “(میں نے چھوڑدیا۔ )اس نےاُداس سا منہ بنایا۔
”کیوں؟“ وہ حیران ہوا۔
”کیونکہ تم لوگ نہیں جا رہے تھے۔ “
”ارے میں نے آج ہی کیا ہے۔ “مانو نےحیرانی سے اسے دیکھا پھر مسکرا ئی۔
”چلو پھر فاری کو بھی منائیں، مزہ آئے گا۔ “مانو کی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر سالار بھی مسکرادیا۔
اس نے آلو کو بھی فون کرکے بتادیا تھا۔
”واہ!میں بہت ایکسائیٹڈ ہوں۔ اب جا اور اپنی ساری پرانی بری یادیں یہیں چھوڑ كے جا۔ “عالیہ بھی خوش تھی۔
”.I will“ یہ کہہ كر وہ کچھ سوچنے لگی۔
اسے پھر سے ماضی کی یادیں گھیرنے لگی تھیں۔
”مانو نہ جا نا۔ “ روشی نے اُداس سا منہ بناکے کہا تھا۔
”فالتو باتیں نہ کر روشی! تجھے پتا ہے مجھے جانا ہے۔ “وہ چڑ گئی تھی۔
”تیرے بغیر میں کیا کروں گا؟“ وہ کیوٹ سا منہ بنائے کہنے لگا۔
”Roshi!Stop being cuteمیرا جانا مشکل نہ کر، اور پھر میں روز ویڈیو کال کروں گی نا۔ “(اتنا کیوٹ بننا بند کر۔ )
”او کے۔ “اس نے اُداس سا ہو كے کہا۔
”تب تک تو پھنسا نئی لڑکیاں۔ “ مانو نےاسے منانے كے لیےکہاتھا۔
”کہاں یار۔۔۔تو نہیں ہوگی تو کون پھنسا كے دے گا۔ “ وہ ہنوز اداس تھا۔
”روشی کچھ تو کر لیا کر۔۔۔کیا بنے گا تیرا میرے بغیر۔ “یہ سوچتے ہوئے وہ ان یادوں سے باہر آئی تو چہرے پر ایک میٹھی مسکان كے ساتھ غم كے تاثرات بھی تھے۔
وہ ایئرپورٹ پر تھی اپنے اسکول كے باقی ٹیچرز كے ساتھ۔
”اوہ! میں بہت ایکسائیٹڈ ہوں، یقین نہیں آرہا۔ اماں ابا مان گئے۔ “فاریا بہت خوش تھی۔
”ہمم منایا کس نے؟“ سالار نےطنزیہ سی مسکراہٹ دی۔
”تم نہ مناتے تو اسکول بھی نہ آنے دیتے۔۔۔تھینکس ٹو مانم!اِس کی تو شکل دیکھ كے ہی میری ماں پگھل گئی۔ “ مانم بس چُپ کر كے کھڑی تھی۔
”اوئے تجھے کیا ہوا ہے؟“ فاریا مانم کو چُپ کھڑا دیکھ پوچھنے لگی۔
”کچھ نہیں۔ “اس نے کچھ گھبراکےکہا۔
”اے ڈونٹ وری!ہم بس 13 دن كے لیے جا رہے ہیں۔۔۔Mama’s princes “ فاری كے طنز پر سالار بھی ہنسنےلگا۔ مانم بھی آخر کار ہنس پڑی۔
وہ سب مل کر ترکی كے لیے روانہ ہوئے۔ انھیں ملا کر تقریباً 11 لوگ اسکول سے گئے تھے۔ مانو اور فاری پلین میں بھی ایک ساتھ ہی بیٹھے تھےجبکہ سالار اسکول كے کچھ میل ٹیچرز كے ساتھ بیٹھا تھا۔ مانو چُپ چُپ اور اُداس ہی تھی۔ ایسا نہیں تھاكہ وہ پہلی باراکیلے سفر کر رہی تھی۔ مم ڈیڈ كی جاب كے سلسلے میں وہ کافی دنیا گھوم چکی تھی۔ اِس بار بس وہ یادوں کا بوجھ لیے سفر کر رہی تھی۔ ایسا بوجھ جو نہ وہ کسی کو بتا پا رہی تھی اور نہ ہی ٹھیک سےچھپا پا رہی تھی۔ چُپ چُپ اور ڈرا سہما سا رہنا اب اس کی طبیعت کا حصہ بن گیا تھا۔ اس کا حسن وجمال اور پوشیدہ طبیعت ہر کسی كے لیے بہت پر کشش تھی لیکن وہ کسی کو بھی اپنی دنیا میں جلدی داخل نہیں ہونے دیتی تھی۔
بیرون ملک کا فاری کا یہ پہلا سفر تھا اور اس کی پر جوشی اور خوشی یہ بات صاف واضح کر رہی تھی۔ مانو اس کی خوشی دیکھ كے مسکرا رہی تھی۔ دور بیٹھا سالار بھی اپنی آنکھیں انھی پر جمائے ہوئے تھا۔ اپنی خاموش طبیعت کی وجہ سے وہ بھی جلد کسی سے گھلتا ملتا نہیں تھا۔ اس کی دنیا کا گھیرا بھی بہت قلیل تھا۔ کہیں نہ کہیں مانو کی خاموشی اس کی دنیا میں جہاں گھل رہی تھی وہیں فاری کی سترنگی فطرت اس کی خاموش دنیا میں رنگ بکھیررہی تھی۔ وہ ان دونوں لڑکیوں کا ساتھ انجوئے کرنے لگا تھا۔
تقریباً 6 گھنٹے کے طویل سفر كے بعد جب ان کی فلائٹ استنبول میں اتری تو سب ہی سفر کی تھکن لیے نئی جگہ اور نئے لوگوں سےلطف اندوز ہو رہے تھے۔
”کس قدر خوبصورت جگہ اور خوبصورت لوگ ہیں!مجھے لگ رہا ہے ہم تینوں سنگلس کو یہاں کوئی نہ کوئی تو مل ہی جائے گا۔ “ فاری ایئرپورٹ سے باہر نکل کر ادھر سے ادھر دیکھتے ہوئےکہنے لگی۔ اکتوبر میں استنبول کا موسم انتہائی خوشگوار تھا۔
جہاں یہ لوگ رکے تھےیہ علاقہ شہر کے بیچوں بیچ تھا۔ کھڑکی سے باہر دیکھو تو جی چاہے دیکھتے ہی رہو۔ مانو کتنی ہی دیر کھڑی لہروں کو کنارے سے ٹکراتے ہوئے دیکھتی رہی۔ مانو کی زندگی بھی کچھ انھی لہروں کی طرح ہچکولے کھا رہی تھی اس كے حال اور ماضی كے درمیان، اور یوں ہی اس کی سوچیں کنارے سے ٹکرا ٹکرا کر واپس آ رہی تھی۔ جیسےوہ کسی بھنور میں پھنسی ہو اور باہر نکلنے کا کوئی امکان نظر نہ آ رہا ہو۔ یہ سب بظاہر تو بڑا خوبصورت لگ رہا تھا اور ہر کوئی اس خوبصورتی کو سراہا رہا تھالیکن اس كے اندر پیدا ہوتےبھنور کو کوئی نہ جان پاتا تھا۔ مانو کی زندگی بھی ایسی ہی تھی۔ دور کھڑے سب اس کی خوبصورتی کو تو سراہ رہے تھےلیکن اس كے اندر پنپتے دکھوں کو کوئی نہ دیکھ پا رہا تھا۔ مانو یوں ہی اپنی سوچوں كے گھیرے میں کھوئی تھی كہ فاری کی بات سے ایک دم چونکی۔
”یہاں کیا کر رہی ہو؟ آجاؤ تھوڑا آرام کرلو 11 بجے پھر نکلنا ہے۔ چل آجا اگلے 12 دن ہیں یہ نظارہ دیکھنے كے لیے۔ یہ سمندر کہیں نہیں جا رہا۔ “فاری یہ کہہ كے اسے لے گئی۔
وہ لوگ کچھ گھنٹے آرام کرنے كے بعد نکلے ان کی سب سے پہلی منزل تھی ”آیا صوفیا“۔ یہ ایک بہت ہی بڑی اور خوبصورت مونومینٹ ہے جس میں ایک بہت بڑا میوزیم پایا جاتا ہے۔ دیواروں اور چھت پر تراشے ہوئے حضرت عیسیٰؑ كے mosaic ایک عجیب ہی تاریخی منظر پیش کر رہے تھے۔ پہلی جگہ ہی دل لبھا دینے والی تھی۔ اس میوزیم میں تقریباً دو گھنٹے پھرنے كے بعد سب ہی بھوک سے نڈھال ہو گئے۔ پاس كے ایک ریسٹورنٹ میں انھیں لنچ دیا گیا۔ ان لوگوں نے بہت سی تصاویر لیں اور اپنے پہلے وزٹ کو خوب انجوئے کیا۔ ٹرکش ڈیلائٹ اور استنبول كے خاص قہوے نے سب تھکن پل بھر میں اتار دی تھی۔
یہ پانچ لڑکیوں اور آٹھ لڑکوں پر مشتمل گروپ تھا جن میں دوٹورسٹ گائیڈ تھے۔ شروعات میں سب ہی لڑکیاں اورلڑکے الگ ٹولا بنائے گھوم رہے تھےلیکن کیونکہ سب ہی ایک ہی اسکول میں کئی سالوں سے تھے اور ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے اِس لیے آہستہ آہستہ سب لڑکے لڑکیاں آپس میں گھل مل گئے۔ پہلے تو سالار بھی لڑکوں كے ساتھ الگ الگ ہی پھر رہا تھا پھر فاری نے جب نوٹ کیا كہ وہ ان لوگوں كے ساتھ کافی بور ہو رہا ہے تو اس نے اسے اپنے پاس بلوا لیا۔ سالار اور مانو دونوں ہی خاموش طبیعت كے تھے اِس لیے فاریا ہی ان دونوں كے بیچ بات چیت کا ذریعہ تھی۔ وہ اسکول میں پرانی تھی اِس لیے وہ باقی كے سارے اسٹاف کو بہت اچھی طرح جانتی تھی اور ان سب كے ساتھ آرام سے گھل مل گئی تھی۔ بفے(Buffet)كے ساتھ ساتھ سب ہی سیلفیز لے كے انجوئے کر رہے تھےجبکہ مانو بس بیٹھی ایک پھیکی سی مسکان سجائے سب کو دیکھ رہی تھی۔ سالار نے مانو کو اکیلے بیٹھے دیکھا تو اپنی پلیٹ پکڑے اس كے سامنے والی کرسی پر آ كے بیٹھ گیا۔ مانو نےاسے بس ہلکی سی مسکان دی تھی۔ کافی دیر یوں ہی چُپ بیٹھے رہنے كے بعد سالار نے ہی بات شروع کی۔
”تمھیں یہ جگہ کیسی لگی؟“
”اِٹس گڈ۔ “مانو مختصر گفتگو کےموڈ میں تھی۔
”کیا تمھیں کھانا پسند آیا؟“
”زیادہ نہیں، لیکن مجھے چائے پسند آئی۔ “
”ترکی کی چائے بہت مشہور ہے۔ “
”!Yeah“
” Jordanian teaکیسی ہوتی ہے؟“(اردنی چائے۔ )
”جورڈن كے جوسز کافی فیمس ہیں۔ ہمارے پاس پھول اور مختلف پھلوں کا جوس بھی پایا جاتا ہے۔ “
”اچھا، تو تم وہیں پیدا ہوئی تھیں۔ “
”!Yeah“
”پاکستان کب آئے؟“
” .Around 8 years ago“(تقریباً 8 سال پہلے۔ )
”ہمم long time۔۔۔جاتے ہو واپس؟“
” .Every vacation, its my home town“(ہر دفعہ چھٹیوں میں، وہ میرا آبائی شہر ہے۔ )
”آئی ایم سوری تمھیں ایسے تو نہیں لگ رہا کہ میں تمھیںinterrogate کر رہا ہوں۔ “سالار نے ماحول کو تھوڑا ہلکا کرنے كے لیے کہا۔ جس پر ایک ہلکی سی مسکان مانو كے چہرے پر کھل آئی۔
”نہیں۔۔۔بالکل نہیں۔ “
”تم introvert ٹائپ سی لگتی ہو۔۔۔زیادہ بات نہیں کرتی نا۔ “
مانو بس اسے حیرانی سے دیکھتی رہی اور ایک آواز اس كے کانوں میں گونجنے لگی۔ ”بلال یار تو کتنا بولتا ہے اور مانو یار تو کتنی بات کرتی ہے چُپ ہی نہیں ہوتی۔ “
بلال، مانو اور روشی ایک گا ڑ ی میں جا رہے تھے۔ شام کا وقت تھا۔ بلال ڈرائیو کر رہا تھا، مانو فرنٹ سیٹ پر تھی اور روشی بیک سیٹ پر لیٹا تھا۔ ایسے جیسے ابھی نیند سے اٹھا ہو۔ مانو اور بلال اسے دیکھ كے اس كےچھیڑنے پر ہنس رہے تھے۔ اِس كے بعد ہی ایک اور یاد اسے اپنے ساتھ اُڑا لے گئی۔
مانو اور روشی آفس کی لابی میں بیٹھے تھےاور وہ ایکسائٹمنٹ سے باتیں کر رہی تھی۔ ”اور پھر پتا ہے میں نے اس کی بہت بےعزتی کی۔ شکل دیکھنے والی تھی۔ “
”اچھا پھر؟“ روشی نے بڑے پیار سے ایک گال پر ہاتھ رکھے اسے غور سے سنتے ہوئے کہا۔
”پھر کیا بات ختم۔ “
”اور سنا۔ “
”اور کیا سناؤں؟میں ہی بولتی جاتی ہوں تو بھی کچھ بات کر نا۔ “ مانو تھوڑا چڑ كےکہنے لگی۔
”نہیں میں سن رہا ہوں، تو ہی بول۔ “ روشی نے پیار سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
”لو یہ کیا بات ہوئی۔ “ مانو چڑ گئی۔
”بول نا۔۔۔مجھے تجھے سننا اچھا لگتا ہے۔ “وہ پیار سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک اور یاد اس کی آنکھوں كے سامنے آ گئی۔ روشی غصے سے چیخ كے بول رہا تھا۔
”کتنی بکواس کرتی ہے تو۔ “
”جیسے تو تو کرتا ہی نہیں۔ “وہ بھی غصے میں بات کر رہی تھی۔
”You know۔۔۔میں تجھ سے بحث میں کبھی نہیں جیت سکتا۔ “اس نےہار مانتے ہوئے کہا۔
”ہاں کیونكہ میں فیکٹ بتاتی ہوں اور وہ چبھتے ہیں۔ “ مانونے جان بوجھ كے اسے طنز کیا۔
“.Stop acting like a bitch”
روشی نے چڑ كے کہا اور فون پٹخ دیا۔ مانو اس كے رد عمل پر حیران ہی رہ گئی تھی۔
وہ ان یادوں سے باہر آئی تو سالار بھی اب سامنے اپنے کولگیز کو انجوئے کرتا دیکھ رہا تھا۔ پتا نہیں سالار نے اس سے کیا کیا پوچھا جن کا جواب وہ نہیں دے پائی تھی۔ کہیں نہ کہیں اب وہ دل ہی دل افسوس بھی محسوس کر رہی تھی اپنے اس غیرمہذب رویے پر۔۔۔لیکن یہ اس كے بس میں نہیں تھا۔ بیٹھے بیٹھے کب کس بات سے وہ ماضی میں چلی جاتی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ شاید وہ ابھی بھی ہر پل ان یادوں کو جی رہی تھی۔ بہت گہرا تھا صدمہ جس سے وہ باہر آنا چاہتی تھی۔ وہ ایک ایسے بھنور میں پھنسی ہوئی تھی جہاں سے صرف کوئی ایک ہاتھ کھینچ کر ہی اسے نکل سکتا تھا۔ وہ اپنے حال اور ماضی كے ہچکولوں میں پھنس كے رہ گئی تھی۔ اپنی حرکت پر شرمسار تھی اِس لیے دوبارہ سالار کو بلانے کی ہمت نہ کر پائی۔ فاری اسٹاف كے دوسرے لوگوں كے ساتھ سیلفیز لینے میں مصروف تھی۔ اس کی نظر ان پر پڑی تو ایک ہی میز كے دونوں کناروں پر دونوں منہ موڑے یوں بیٹھے تھے جیسے اجنبی ہوں۔ وہ انھیں یوں بیٹھا دیکھ تھوڑا مسکرائی اور پھر آ کر مانو کوکہنے لگی۔ ”آؤ، تمھاری تو کوئی پکچر ہی نہیں۔ “ اور اسے زبردستی اپنے ساتھ لے گئی۔ مانو جعلی مسکان سجائے کیمرہ کی طرف دیکھنے لگی اور سالار دور بیٹھا چائے پیتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔
رات میں BURC بیچ سائڈ پر بون فائر کرتےسب ہی گا بجا رہے تھے اور شام كے منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ یہاں آنےسے سب میں گہری جان پہچان ہو گئی تھی۔ مانو بھی اب تھوڑا گھلنا ملنا شروع ہو گئی تھی۔ وہ سب بیٹھے انجوئے کر رہے تھے كہ مانو کو عالیہ کی کال آئی۔ وہ اٹھ كےایک الگ جگہ آ گئی۔
”ہائے کیا ہو رہا ہے؟“
”کچھ نہیں آج بیچ سائڈ بون فائرہے۔ “
”وائو یار!ششکے۔ “ آلو نے ایکسائیٹڈ ہو كےکہا۔
”Snapchat اسٹوری لگانا۔ “
”ہاں ضرور۔ “ مانو کچھ کھوئی کھوئی سی تھی۔
”ہے کیا ہوا؟خوش نہیں لگ رہی؟“
”نہیں ایسے ہی۔ “
”مانو کیا ہوا؟پھر وہی خواب آیا؟“
”نہیں۔ “
”تو پھر کیا ہوا ہے۔۔۔اتنیlow کیوں ساؤنڈ کر رہی ہے؟“
”پتا نہیں یار کیا ہوا، جب سے یہاں آئی ہوں بہت لو ہو گئی ہوں۔ ایسا لگتا ہے میں اس جگہ کے حساب سے مس فٹ ہوں۔ “
”پر کیوںیار؟اب تو سب ٹھیک ہو رہا تھااور پھر تیرے تو اب دوست بھی بن گئے ہیں۔ کیا انھوں نے کچھ کہا؟کیا وہ تجھے ٹائم نہیں دے رہے؟“ وہ پے در پے سوالات کی بوچھاڑ کر رہی تھی۔ اس کی آواز میں پریشانی واضح تھی۔
”نہیں وہ بات نہیں ہے یار۔۔۔I don’t know۔۔۔وہ لوگ تو ہر وقت ساتھ رکھ رہے ہیں، میں خودہی نہیں مکس ہو پا رہی۔ “
”اپنےماضی سے باہر آئے گی تو حال کو انجوئے کرے گی نا۔۔۔مانو کتنی لکی ہے توchilling in Turkey اتنے اچھے دوست بنے ہیں تیرے، ایک اتنا اچھا موقع بن رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی سین بھی بن جائے تیرا اور اس سکرین شارٹ والے کا۔ مانو تجھے خود کو ایک چانس دینا پڑے گا یار۔۔۔سب کچھ ختم نہیں ہوا۔۔۔Please go and enjoy “
”.I’m trying“
”جتنا ٹرائی کر رہی ہے دِکھ رہا ہے۔ اب یہاں کیا کر رہی ہے جا جا كے ان سے بات کر انجوئے کر۔۔۔مجھ سے بات تو ہوتی رہے گی۔ “ وہ ہلکا سا ہنسی تھی۔
”او کے۔ “اس نے فون بند کردیا۔
جب وہ عالیہ سے بات کرکے سب کے پاس پہنچی فاری نے کچھ شور ڈالاہوا تھا۔ وہ ان میں جاكے بیٹھ گئی۔
”ہاں تو بولو۔ “ فاری سالار سے کچھ پوچھ رہی تھی۔ ” .Trust me, I am a very good observer“(یقین کرو میرا مشاہدہ بہت اچھا ہے۔ )
”ایویں۔۔۔میرے بارے میں بتاؤ۔ “ فاری نے تجسس سے پوچھا۔
”تم ایک کارٹون ہو۔ “ سالار نے کہا۔
”وہ تو میں ہوں۔ “ فاری نے فخر سے کہا تو سب ہنسنےلگے۔
”لیکن اِس مسکان كے پیچھے ایک بہت ہی نازک سا دل ہے۔ “ سالار نے سنجیدگی سے کہا توفاری کی مسکان تھوڑی کچھ مدھم ہوئی۔ اِس سے پہلے كہ سب یہ محسوس کرتے اس نے بات پلٹ دی۔ سالار پھر وہاں بیٹھے دوسرےلوگوں کی شخصیت كے بارےمیں بتانے لگا۔ سب ہی لطف اندوز ہو رہے تھے۔
”ربش!ہم سب تمھارے اتنے اچھے دوست ہیں۔۔۔ظاہر سی بات ہے تم ہمارے بارے میں سب جانتے ہو۔ “فاری چڑ گئی۔
”فائن!تو پھر کسی ایسے كے بارےمیں پوچھ لو جس كے بارے میں میں زیادہ نہ جانتا ہوں۔ “اس نے فاری کو چیلنج کیا۔
”او کے، مانم كے بارے میں بتاؤ۔ “ فاری كے منہ سے اپنا نام سن کر مانو ایک دم چونکی۔
”?What“ اس نےتھوڑا پریشان ہو كے پوچھا۔ سالار اسے غورسے دیکھ رہا تھا۔
”سوچ لو۔۔۔“ سالار نےمانم کو چیلنج کیا۔
”I’m an open book میرے بارے میں کیا بتاؤ گے۔ “(میں ایک کھلی کتاب ہوں۔ )مانو نےسنجیدگی سےکہا۔
”تم ایک کھلی کتاب لگتی ہو جسے ایزیلی کوئی بھی پڑھ سکتا ہے لیکن گہرائی میں، بہت سے راز چھپے ہوئے ہیں۔ جو شاید تمھارے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا۔ “سالار بڑی سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہا تھا۔
مانو اس کی بات سن كے کچھ دیر كے لیے دنگ رہ گئی۔
”And your eyes بہت واضح طور پر کچھ کہتی ہیں جو سب دیکھ كے بھی کچھ سمجھ نہیں پاتے۔ “ سالار اور مانم ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھو سے گئےتھے۔ وہ جھیل سی نیلی آنکھیں۔۔۔ان میں اتنی گہرائی تھی كہ سالار بس ان میں ڈوبتا ہی چلا گیا۔ جبھی فاری کی آواز نے یہ تسلسل توڑا۔
”ایویں چَولیں نہ مار!یہ فلمی باتیں بند کرو اور کچھ سناؤ اب۔۔۔“ فاری چڑكےکہنے لگی۔
ان دونوں کا آئی کانٹیکٹ ایک دم ٹوٹاتھا۔ مانو ہچکچا كے دوسری طرف دیکھنے لگی جبکہ سالار کی نظریں ابھی بھی اسی پر جمی ہوئی تھیں تبھی کسی نے سالار كے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور اس نےمڑ كے دیکھا تو ایک ٹیچر اسے اس کا گٹار پکڑا رہی تھی۔ وہ گٹار پکڑ كے پوزیشن سیٹ کرتے ہوئے بھی ابھی تک مانو میں ہی کھویا ہوا تھا۔ اس نے گٹار بجانا شروع کیا تو آنکھیں مانو پر ہی جمی ہوئی تھی۔ مانو کا دھیان اس کی طرف بالکل نہیں تھا اور وہ بس سمندر میں اٹھتی لہروں کو دیکھنے میں مگن تھی۔ سالار نے ڈھلتی شام میں اس کی خوبصورتی کونہارتے ہوئے گانا شروع کیا۔
باقی سب بیٹھے خوبصورت شام كے منظر كے ساتھ سالار کی مدھر آواز سے لطف اٹھا رہے تھے۔
سالار كے گانے كی آواز جیسے مانو کی خوبصورتی کو ہی بیان کر رہی تھی۔ مانو نے بھی مڑ كے اسے دیکھا، اس كے دیکھنے پر سالار نے اپنی نظریں پہلے جھکا لیں اور پھر پاس بیٹھی فاری کو ایک میٹھی سی مسکان دےکر اس كے لیے گانے لگا۔
فاری دور سے بیٹھی اسے پیار سے دیکھ كے مسکرا رہی تھی۔ بون فائر كے پاس بیٹھا سالار یوں ہی گٹاربجا رہا تھا اور باقی سب اٹھ كے اپنے اپنےمشروبات ہاتھ میں لیے اِس گیت پر ہلکا ہلکا جھوم رہےتھے۔ اس کی خوبصورت آواز سے آس پاس سے گزرنے والے راہ گیر بھی رک كے مسرور ہورہے تھے۔
مانو بھی اٹھ كے ہاتھ باندھے آس پاس اکیلی پھرنے لگی۔ وہ جہاں جہاں جا رہی تھی سالار کی نظریں اسی کا تعاقب کر رہی تھی۔
پھر وہ بھی اٹھ كے ان سب كے درمیان میں پھرتے ہوئے گٹاربجاتے ہوئے گانے لگا۔
وہ گاتے ہوئے مانو كے قریب آ ہی رہا تھا كہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ سب ہی وہاں سے بھاگنے لگے۔ وہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے سے ہٹ(Hut)بنے ہوئے تھے۔ سب ادھر اُدھر بھاگ كے خود کوبھیگنے سے بچانے لگے۔ مانو ہمیشہ کی طرح کھوئی ہوئی تھی اِس لیے ایک دم کچھ سمجھ ہی نہ پائی كہ کیا کرے اور کہاں بھاگے۔ وہ ڈری، گھبرائی سی ادھر ادھر دیکھ ہی رہی تھی كہ اچانک سالار اس کا ہاتھ پکڑے کہنے لگا، ” اس طرف!“
وہ اسے لے کر ایک شیڈ کی طرف بھاگا۔ ایک ہاتھ میں گٹار اور دوسرے میں مانو کا ہاتھ۔ اِس سے پہلے كہ وہ کچھ سمجھ پاتی، سالار كے ساتھ بھاگ كے ایک شیڈ كے نیچے آ گئی تھی۔ سالار فوراً اپنے کپڑو ں پر گرے قطروں کو جھاڑنے لگاتھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیزبارش ہونے لگی۔ شام بھی ڈھل کر اب گہری ہو گئی تھی۔ سالار نے اپنی جیکٹ اتار كے ایک سائڈ پر رکھ دی۔ اس شیڈ كے نیچے بس وہ دونوں ہی تھے۔ اچانک ایک دوسرے کی ڈری سہمی شکلیں دیکھ کر دونوں ہی ہنس دیے۔
”گاڈ بارش!“ سالار باہر تیز برستی بارش کو دیکھ كے تھوڑا چڑكے کہنے لگا۔
”No kidding۔۔۔I love بارش۔ “(مذاق نہ کرو۔ )اس کی آواز میں ایکسائٹمنٹ تھی۔
”تو آجاؤ پھر۔ “ سالار نے بنا سوچے سمجھے اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر بھیگنے کی پیشکشں کردی۔ پتا نہیں اس وقت اس كے دماغ میں کیا چل رہا تھا كہ بارش کو پسند نہ کرتے ہوئے بھی وہ بھیگنے پر راضی ہو گیا۔ کیونکہ شاید مانو کی کھلی مسکان اور آنکھوں کی چمک نے واضح کر دیا تھا كہ اسے بھیگنا بہت پسند ہے۔
”ابھی؟۔۔۔نو۔ “ مانو تھوڑا جھجکی۔
”ارے Come on۔ “وہ ایک دم اس کا ہاتھ پکڑ كے لے گیا۔
مانو بارش میں جاتے ہی خوبصورت مسکان كے ساتھ بانہیں پھیلائے آسمان کی طرف دیکھ كے برستی بوندوں کا استقبال کرنے لگی۔ برستی بوندوں نے پل بھر میں دونوں کو بالکل بھگو دیا تھا۔ بھیگنے سے مانو کی شفاف جلد اور بھی کھلنے لگی اور وہ پہلے سے بھی کئی زیادہ خوبصورت اور نکھری نظر آنے لگی۔
سالار اس کی خوبصورتی سے مسرور تھا، مانو ابھی بھی بانہیں پھیلائے خود کو بھگو رہی تھی، سالار بس اسی میں کھویا تھا۔
تبھی اسے شرارت سوجھی اور اس نے مانو پر پانی پھینکا، وہ بھی پلٹ کر اس پر پانی پھینکنے لگی۔ کچھ ہی دیر کھیلنے كے بعد وہ سردی سے کانپنے لگی تھی۔
”اب آجاؤ ورنہ کل تک فوت ہو جاؤ گی۔ “ سالار نے پیار سے کہاتو وہ لوگ شیڈ كے نیچے واپس آ گئے۔ رات ہونے لگی تھی۔ بارش کی وجہ سے سب چہل پہل بھی ختم ہو گئی تھی۔ دور دور تک کوئی نہیں دِکھ رہا تھا۔ مانو کانپتے ہوئے اپنے بازو سے خود کو کور کرنے لگی۔ سالار نے اسے سردی سے یوں کانپتے دیکھا تو فوراً شیڈ میں پڑی اپنی سوکھی جیکٹ کی آفر کر دی۔ اس نے بنا انکار کیے فوراً لے كے اوڑھ لی۔ آس پاس کسی کو نہ پا كے سالار اب موبائل نکالے اپنے ساتھ آئے ایک ٹیچر کو کانٹیکٹ کر رہا تھا۔
”بھائی کہاں ہو؟کیا؟لیکن میں اور مانم تو ابھی بھی یہیں ہیں۔۔۔yeah, on sea side۔۔۔ٹھیک ہے آجاؤ۔ “ سالار کسی سے کال پر بات کر رہا تھا۔ مانو بس بیٹھی دیکھ رہی تھی۔
”کیا ہوا؟“اس نے معصومیت سے پوچھا۔
”وہ سب ہوٹل جانے كے لیے نکل گئے ہیں۔ “ سالار نے بتایا۔
”?What“وہ پریشان ہوگئی تھی۔ ”پریشان نہ ہو وہ لوگ واپس آرہے ہیں۔ “
سالار نے اسے تسلی دی۔
”اوہ!“
”یو او کے؟“ مانو کو کانپتا دیکھ سالار نے پوچھا۔
”ہاں، اصل میں ٹھنڈ کافی ہوگئی ہے۔ “
اس نے اپنے ہاتھ سے خود کو ملتے ہوئےکہا۔
”.I know“ سالار کو بھی اب سردی لگ رہی تھی۔
”لیکن مزا آیا۔ “ مانو نہانے كے بعد کافی خوش نظر آ رہی تھی۔
”!Yeah“
”after a long time میں بارش میں نہائی۔ “ مانو نے خوشی سے بتایا۔
”اور میں شاید پہلی بار۔ “
”!No kidding“ مانو حیران ہوئی۔
”مجھے بارش کچھ خاص پسند نہیں۔ “ سالار ہچکچاتے ہوئے کہنے لگا۔
”.Come on!Best part of my life is Barish“(میری زندگی کا بہترین حصہ بارش ہے۔ )مانو ایکسائیٹڈ ہو كے کہنے لگی۔ سالار اس کی معصومیت پر ہنساتھا۔ تھوڑی دیرتک خاموشی رہی پھر سالار بھی اس كے پاس آکے بیٹھ گیا۔ مانو اسے چور نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”وہ۔۔۔About my personality۔۔۔was right“(میری شخصیت کے بارے میں۔۔۔درست تھا۔ )
مانونے ہچکچاتے ہوئے نظریں جھکا كےاعتراف کیا۔ سالار كے چہرے پر ایک فخریہ سی مسکان آئی۔
”!See“اسی فخر سےاس نے کہا۔
”لیکن تم آنکھوں كے بارے میں بھی کچھ کہہ رہے تھے۔۔۔“مانو نے کتراتے ہوئے پوچھا۔
”کیا؟“ سالار اب حیرانی سے اس کی طرف مڑ كےدیکھنے لگا۔
”یہی كہ میری آنکھیں بھی کچھ کہتی ہیں۔۔۔“ مانو ڈرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”تمھاری آنکھوں سے دل دکھتا ہے تمھارا۔۔۔“ سالار اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔ مانو ایک دم اسے دیکھ كے چونکی اور اس کی نیلی آنکھیں چاند کی روشنی میں چمکنے لگیں۔ ایسے جیسے آنکھیں نہیں دو چمکتے ستارے ہوں۔
”اچھا اور کیا کہتا ہے دل میرا؟“ اس نے تھوڑے طنزیہ اندازمیں پوچھا۔
”یہی كہ اِس کا درد کم ہو جائے۔۔۔“ سالارنے سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا۔ مانم نے اس کی بات پر چونک کر اسے دیکھا اور ماضی کی ایک آوازاس کی سماعتوں سے آ ٹکرائی۔
”تو میری رگ رگ سے واقف ہےپھر بھی نہیں سمجھ پا رہا میں کیا چاہتی ہوں؟“ مانو کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ غصے سے بول رہی تھی۔
”کیا چاہتی ہے تو؟“ روشی چیخا۔
”تو اچھی طرح جانتا ہے۔ “ مانو اب روتے ہوئے ہار مان كے بول رہی تھی۔
”جانتا ہوتا تو پوچھتا۔ “ روشی ابھی بھی سخت لہجے میں بات کررہا تھا۔
”تو مجھے کبھی نہیں سمجھ پائے گا۔ “اس کےلہجےمیں تکلیف تھی۔
”منہ سے کچھ پھوٹے گی تو سمجھ آئے گی نا۔ “ روشی چڑگیا تھا۔
”.Forget it“ تکلیف اور افسوس سے اسے دیکھ كےکہا اور پھر سر جھکا كے پاس سے گزر گئی۔ اتنے میں ہارن کی آواز سے وہ اپنی سوچوں سے باہر آئی۔
”میرا خیال ہے وہ لوگ آگئے۔ “
سالار نےکہا اور دونوں نےاٹھ كے اپنا اپنا سامان اٹھایا۔ بارش میں نہانے كے بعد مانو کاموڈ بہت ہی خوشگوار ہو گیا تھا اور سالار نے اس کی وہ سائڈ دیکھی تھی جو اسے بہت کم دیکھنے کو ملی تھی۔ لیکن یہ سائڈ بڑی مختصر تھی کیونکہ ماضی کی ان کڑوی یادوں نے پھر اسے وہی چُپ اور سہمی ہوئی بنا دیا تھا۔
”!Come“ سالار نے اسے آواز دے کر بلایا اور بس کی طرف جاتے ہوئے پوچھنے لگا، ”تم بیچ بیچ میں کھو کہاں جاتی ہو۔۔۔کیا ہوا ہے؟“
”کچھ نہیں۔ “ اس نے ہلکا سا سر ہلا کے کہا۔ سالار بس اسے حیرانی سے دیکھےگیااور وہ لوگ بس میں چڑھ گئے۔ مانو ایک طرف کھڑکی سے لگی فاری كے ساتھ بیٹھی تھی۔ فاری اس كے کندھے پر سر رکھے سو گئی تھی اور اس كے بالکل ساتھ والی سیٹ پر کچھ فاصلے پر سالار بیٹھا مانو کو ہی دیکھ رہا تھا۔ جو بس خاموشی سے اپنی سوچوں میں گم تھی۔ ایک عجیب سی اُداسی تھی اس كے چہرے پر، ہوا سے اس كے لمبےسنہری بال لہرا رہے تھے اور وہ اس اُداسی میں بھی انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔ سالار بس اسے اور اس کی خوبصورتی کو تک رہا تھا پھر کچھ سوچ كے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
ان کی اگلی منزل کیپادوکیا(Cappadocia)تھی۔ یہ کیسیری ایرکیلیٹ(Kay Seri Erkilet)نامی ایک شہر میں واقع ہے جو ان کی رہائش سے بائے ایئر قریب ڈیڑھ گھنٹے پر تھا۔ وہاں پہنچ کر ایک شٹل كے ذریعے یہ لوگ کیپادوکیا تک پہنچے۔ یہ جگہ اپنے ہاٹ ایئر بلون کی وجہ سے سیاحوں میں بہت ہی مشہور تھی۔ دنیا بھر سے لوگ ہاٹ ایئر بلون كے لیے اِس طرف کا رخ کرتے تھے۔
انھوں نےوہاں پہنچنے پر ناشتے كے بعد شہر کا ٹور کیا۔ وہ ایک بہت ہی خوبصورت اور دلکش جگہ تھی۔ جہاں ہر طرف تاریخ سے جڑی چیزیں چمک رہی تھی۔ ان لوگوں نے وہیں كے ایک ہوٹل میں قیام کیا تھا۔ چھوٹی سی ٹریننگ كے بعد سب کو ہاٹ ایئر بلون کی سواری كے لیا تیار کیا گیااور سالار ٹورسٹ گائیڈ سے ان تینوں كے ٹکٹس لےآیا۔
”کہتے ہیں كہ جب یہ بلون بالکل اونچائی پر چلا جائے اور آپ وہاں چیخو تو اپنی زندگی كے سارے دکھ اور ساری فرسٹریشن وینٹ آؤٹ کر سکتے ہو۔ “سالار نےانھیں بتایا۔
”ربش۔ “ فاری ہمیشہ کی طرح چڑكےکہنے لگی۔
”ارے ٹرائی کرنے میں کیا جاتا ہے۔ “ سالار نے وضاحت کی۔
”بلون سے اٹھا كے زمین پرپٹخ دے گی۔ “ فاری نے کہا۔
”.Fari!Let’s try“(آؤ ٹرائی کریں۔ )مانو نے بڑی سادگی اور معصومیت سےکہا تھا۔ فاری اس کی اتنی خوبصورت معصوم شکل دیکھ كے کچھ سوچ میں پڑ گئی۔
”اب اتنے پیار سے بولے گی تو کرنا ہی پڑے گا۔ “ اس نے پیار سے اسے دیکھتے ہوئےہامی بھری اور وہ لوگ بلون کی طرف چل دیے۔ پہاڑوں كے درمیان رنگ برنگے اڑتے غبارے ایک عجب ہی منظر پیش کر رہے تھے۔ جھٹکے سے اڑنے والا بلون پیٹ میں عجیب سی تتلیاں پیدا کر رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ ہوا میں بلند ہوا محسوس ہی نہیں ہوا كہ وہ زمین سے کس قدر اونچائی پر پہنچ گئے ہیں۔ اب زمین پر ہر چیز چونٹی کی مانند نظر آنے لگی تھی اور نیچے دیکھنے پر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر طرف قدرت نے ایک خوبصورت ہرا قالین بچھادیا ہو۔ ان كے غبارے میں ان كے علاوہ پانچ لوگ اور بھی تھے۔ وہ سب ہی دنیا كے الگ الگ حصوں سے تعلق رکھتےتھے، یہ لوگ خود ہی اپنے اسٹاف كے ساتھ نہیں بیٹھے تھے ورنہ وہ لوگ بھی خاصے اچھے تھے۔ سب اونچائی پر پہنچ کر بہت انجوئے کررہےتھے۔ ان تینوں نے مل کر خوب سیلفیز اور گروپفئیس(Groupfies) لیں اور فاریا نے اپنے بلون كے کیپٹن سے ساری معلومات اکٹھی کیں۔
”اچھا سنو گائیز!یہ موچھوں والا کیپٹن کہہ رہا ہے کہ جب بلون تھوڑا اور اونچائی پر جائے گا تو وہ ہمیں سگنل دے گا، پھر چیخناہے۔۔۔اور اگر چیختے چیختے آنکھوں سے آنسو نکلے تو مطلب فریسٹیشن بھی نکل آئی۔ “ فاری نے آ كے انھیں سمجھایا۔
”اب آنسو کہاں سے لائیں۔ “ سالار نے مذاق کیا۔
”بھینس کی دم اِس سے اچھا میں اپنے ہسبنڈ کو یہاں سے دھکا دے دیتی خوشی كے آنسو نکل آنے تھے۔ “ فاری کی بات پر سب ہنس دیے۔
”خیر ٹرائی کرتے ہیں۔ “ مانو اور سالار كے درمیان میں فاری کھڑی تھی۔ وہ تینوں ایک کنارے پر کھڑے ہو گئے۔
” .On my count of 3“(میرے 3 گننے پر۔ )فاری کہنے لگی اور پیچھے سے مانو کو آنکھ مار دی۔
”1۔۔۔2۔۔۔3۔ “ اس نے گنا، سالار اکیلا چیخا تھا جبکہ فاری اور مانو ہنس رہی تھیں۔
”کیا بدتمیزی ہے یار۔ “اس نے شرمندہ سا ہو كے کہا۔
”او کے او کے سیریس۔ “ فاری ہنستےہوئےکہنے لگی۔
”1۔۔۔ 2۔۔۔3 “ اِس بار سالار نے بولتے ہوئے مانو کو آنکھ ماری اور مانو بھی ہلکی سی مسکان کےساتھ سر ہلا كے اس کا اشارہ سمجھ گئی۔ اس دفعہ فاری نے چیخ ماری اور وہ دونوں ہنستے رہے۔
”کمبختوں سیریس ہو جاؤ۔۔۔غبارہ نیچے چلا جانا ہے۔ “ فاری نے سالار کو مارتے ہوئے چڑكےکہا۔
”غبارہ!“ سالار فاری كے دیسی نام پر ہنسنےلگا۔
”غبارہ ہی ہے۔ “ وہ اور بھی چڑ گئی۔ مانو بھی ہنس رہی تھی ان کی شرارتوں پر۔
”چلو On a serious note۔ “(اب سنجیدگی سے۔ )سالار کہنے لگا۔
”1“ مانونے معصومیت سےکہا۔
”2“سالار نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”3 “ فاری نےشرارت سے کہااور تینوں چیخنے لگے۔ سب مڑ كے انھیں ہی دیکھ رہے تھے۔ پہلے تو تینوں چیخے اور بہت خوش تھے پھر ایک دوسرے کو دیکھ كےاور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑکے دوبارہ چیخے، اِس بار دل کھول كے چیخے تھے۔ مانو کی آنکھوں كے سامنے اس کا ماضی تیزی سے چلنے لگا۔۔۔مانو کا اور روشی کا ہنستا مسکراتا چہرہ۔۔۔مانو کا رونا۔۔۔روشی کا غصہ۔۔۔دونوں کا بے بس ہونا۔۔۔مانو کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔ وہ بڑی مشکل سے خود کو کنٹرول کر رہی تھی۔ کیونكہ ان كے سامنے روکر وہ انھیں کوئی وضاحت نہیں دینا چاہ رہی تھی۔ ابھی وہ اسی کشمکش میں تھی كہ فاری ایک دم نیچے بیٹھ گئی اور منہ پر ہاتھ رکھ کے زاروقطار رونے لگی۔ مانو اور سالار دونوں گھبرا گئے۔ سالار بھاگ كے اپنے بیگ میں سے پانی کی بوتل نکال كے لایا اور اسے دی۔ فاری سالار كے گلے لگ كے روتی ہی جا رہی تھی۔ سالار پریشانی سے اسے گلے لگائے اس کاسر سہلانے لگا۔ اس کی نظریں جب مانو پر پڑیں تووہ بھی بہت گھبرائی ہوئی نظر آئی۔
وہ اسے بھی تسلی دینا چاہ رہا تھا لیکن ہمت نہ کر پایا۔ واپسی کا آدھا گھنٹہ فاری نے یوں ہی سالار کی بانہوں میں رو كے گزارا تھا۔ اس جگہ سے واپس ہوٹل کا راستہ تقریباً بیس منٹ کا تھا۔ اس عرصے کو ان تینوں نے کیسے گزارا یہ بس وہی جانتے تھے۔ آج رات انھیں یہیں رکنا تھااِس لیے وہ ہوٹل آگئے۔ اتنا زیادہ رونے سے فاری بالکل نڈھال ہو چکی تھی۔ سالار اور مانو نےبمشکل اسے کمرے تک لا كے بیڈ پرلٹایا۔ مانو اسے کمبل اوڑھا كے پیار سےسر سہلانے لگی۔ بیڈ پر لیٹتے ہی فاری گہری نیند میں چلی گئی۔ مانو سالار کو دروازے تک چھوڑنے آئی تو دونوں دبی آواز میں ہی بات کرنے لگے۔
”?Is she fine“سالارنے پریشانی سے دور اُسے پر سکون سوتے دیکھ کر کہا۔
”ہاں۔ “ مانونے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ كے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔
”Damn۔۔۔ہمیں وہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ “ سالار پریشانی سے کہنے لگا۔
”I guess اس کا یہ vent outضروری تھا۔ تین سال سے اندر دبا كے گھوم رہی تھی۔ “ مانو اُداس سی بولی۔
”وہ ٹھیک تو ہو جائے گی نا؟“ سالارنے پریشانی سے اور بڑی معصومیت سے پوچھا۔ ہمیشہ ہر قسم كے حالت کو سنجیدگی اور میچورٹی سے سنبھالنے والے سالار کو آج اِس قدر پریشان دیکھ کر مانو بھی حیران تھی۔ اس کی معصومیت پر وہ ایک دم ہنس پڑی۔
”Don’t worry فاری چیتی ہے ہماری۔ She is brave really۔ زیادہ دیر تک نہ تو اسٹریس لے سکتی ہے نہ دے سکتی ہے۔ “)وہ واقعی بہادر ہے۔ )مانو کی تسلی پر وہ بھی ہنس دیا۔
”چلو میں نکلتا ہوں۔۔۔اگر تمھیں میری ضرورت ہو تو بلالینا۔ “سالار نےبڑی ذمہ داری سے کہا۔
”.I will“ مانو یہ کہہ كے اسے بائے کرتی ہوئی فاری كے پاس آ كے بیٹھ گئی۔ فاری آرام سے سو رہی تھی۔ مانو پیار سے اس كے سر میں ہاتھ پھیرنے لگی۔ ان کچھ ہی دنوں میں ان کی دوستی بہت ہی پکی ہو گئی تھی۔ کہیں نہ کہیں تینوں ہی ڈوبتے ہوئے ایک دوسرے کا سہارا بن گئے تھےاورفاری ان کی دوستی کی بنیاد بنی تھی اِس بنیاد کو آج ہلا دیکھ دونوں ہی گھبرا گئے تھے۔ مانو لیٹی سوچ رہی تھی كہ ہر کوئی کہیں نہ کہیں اِس دُنیا میں غموں سے گزر رہا ہےلیکن ہر کوئی ایک جعلی مسکان سجائے زندگی گزار بھی رہا ہے۔ کسی سے بچھڑ كے سانس لینا کتنا مشکل ہوتا ہے اسے مانو سے بہتر اور کون جان سکتا تھا۔ لیکن اِس وقت وہ اپنے نہیں فاری كے غموں پر غورکرنا چاہتی تھی۔ اس كے لیے مضبوط ہونا چاہتی تھی۔ آخر وہ تینوں ایک دوسرے کا سہارا تھے۔ اگر ایک کمزور پڑ رہا تھا تو باقی دو کواسےسنبھالنے كے لیے کھڑا ہوناتھا۔
صبح میں سالار فاری كے کمرے میں آیا، جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک ہاتھ میں خوبصورت سا بُکے(Bouquet)اور دوسرے میں ایک کھانے کا پیکٹ تھا۔ دروازے کھول كے اندر آتے ہی اسے فاری كے کسی پر چلانے کی آواز آئی جس سے اسے اندازہ ہو گیا كہ وہ جاگ بھی گئی ہے اور رات کی نسبت بہتر بھی ہے۔ آگے بڑھا تو دیکھا وہ ابھی بھی اپنے بستر پر ہی تھی۔ آنکھوں كے گرد گہرے حلقے بتا رہے تھے كہ وہ بہت سے غم اس پھیکی مسکان كے پیچھے چھپا رہی ہے۔ سالار ناشتہ لے کر آیا تھالیکن وہاں مانو نے بھی ٹیبل سجایا ہوا تھا جس پر پراٹھے، اچار اور دہی وغیرہ موجودتھا۔ سالار كے ہاتھ میں کھانے کا شاپر دیکھ كے وہ غصے سےکہنے لگی۔
”ہو کیا گیا تم دونوں کو؟ابھی اسے میں بول رہی تھی اور اب تم بھی اٹھا كے لے آئے ہو۔۔۔“ اس نے انھیں ڈانٹا پھر تھوڑا سا خود کو سنبھالتے ہوئےکہنے لگی، ”Relex guys!I’m fine ایک occasional دورہ تھاایسے دورے پڑتے رہتے ہیں، اتنا اسپیشل نہ فیل کرواؤ مجھے عادت نہیں ہے ان سب کی۔ “
سالار بڑی شائستگی سے اس كے پاس جا كے بیٹھااور پھولوں کا گلدستہ اسےپکڑا كے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال كے کہنے لگا،
”تم بہت خاص ہو اور یہ پھول صرف ایک یاد دہانی ہیں۔۔۔جس طرح تم ہماری زندگی میں رنگ بکھیرتی ہو، ہم تھوڑا سا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ “
اس کے اس طرح کہنے پر فاری اسے پیار سے دیکھنے لگی اور اس کی آنکھیں پھر بھیگنے لگیں۔ اس نے اسے پیار سے گلے لگایا تھا۔
”پاگل۔۔۔سینٹی کر دیا۔ “ فاری كے بولنے پر مانو بھی پیچھے کھڑی ہنسنےلگی اور آنکھوں میں بنی نمی آنسو بن کر چھلک گئی۔ پھر ان سب نے مل كے ناشتہ کیا۔
”ابے ترکی میں حلوہ پوری کہاں سےڈھونڈی؟“ فاری نے کھاتے ہوئے پوچھنا ضروری سمجھا۔
”Don’t ask۔۔۔گوگل کر كے بڑی مشکل سے 6 میل دور ایک شاپ ملی۔ “ سالار بتایا۔
”ہائے صدقے!“ فاری کو بے ساختہ اس پر پیار آیا تھا۔
”اِس نمونی کو بھی دیکھ۔۔۔صبح ترلے کر كے ہوٹل كے کچن سے پراٹھے بنوائےہیں۔ “ سالار نےمانو کو دیکھا وہ مسکرا رہی تھی۔
”تمھیں پراٹھے بنانے آتے ہیں؟“ سالارنے حیرانی سے پوچھا۔
”نہیں، لیکن گوگل کر كے شیف کو دکھایا۔ He made it“ سب ہنسنےلگے۔
”لو ترکی شیف کو بھی دیسی بنا دیا۔ “ فاری ہنسی۔
”تم مس کر رہی تھیں نا دیسی كھانا۔۔۔سوچا ایسے وقت میں کھانے سے زیادہ کوئی چیز تمھیں چیئر نہیں کر سکتی۔ “ مانو نےبتایا۔
”ویسے تم دونوں کی سوچ کتنی ملتی ہے۔ “ فاری نے اچانک ان دونوں کو دیکھ كےکہا۔ سالار اور مانونے ایک دم ایک دوسرے کو دیکھا، دونوں نےکچھ عجیب محسوس کیاتھا۔ وہ ایک دوسرے کو ہی دیکھ رہے تھے كہ فاری كے سیٹی مارنے پر دونوں کی نظروں کا تسلسل ٹوٹا اور مانو شرما كے دوسری طرف دیکھنے لگی۔ فاری نے بس ایک شرارتی سی مسکان دی اور سالار اسےاشارتاً کہہ رہا تھا۔
”.Stop it“
”چلو بھائی اب جلدی جلدی ختم کرو یہ باراتوں والا كھانا۔ “ فاری كے کہنے پر سب ہنسنےلگے۔
”ویسے تمھیں اچانک ہوا کیا تھا؟“ سالار نے کھاتے ہوئے پوچھا۔
”چھوڑیار!بس ایویں وہ فضول آدمی یاد آ گیا۔ “ فاری نے بھی کھاتے ہوئے جواب دیا۔
”.I thought you moved on“(مجھے لگا تم آگے بڑھ چکی ہو۔ )سالارنے پریشانی سے کہا۔
”I was۔۔۔لیکن کبھی کبھی۔ “ فاری کچھ سوچ كے کہنے لگی۔ ”پتا ہے آئی واز 25 جب میری شادی ہوئی۔ پہلا رشتہ آیا اور وہی بن گیا میرا ہسبنڈ۔۔۔ایک ہی مہینے میں میرے ماں بابا کو لگا شادی کرو اور فارغ کرو۔ میری شادی کے دن، آخری بار جب میں خوش تھی۔ “ فاری بولتے ہوئے اپنے خیالوں میں کھو گئی۔ ”یو نو شادی کی پہلی رات ہر لڑکی كے لیے بہت یادگار ہوتی ہے۔۔۔میری بھی تھی۔ “ پھرطنزیہ ہنس كےکہا، ”فرق بس اتنا ہے۔۔۔لوگوں کی حسین یادیں جڑی ہوتی ہیں لیکن میرے لیے وہ ایک صدمہ تھا۔ “
”لیکن کیوں؟“ مانو پریشانی سے پوچھنے لگی۔ فاری ایک زخمی مسکان كے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔
”وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا، اس کی شادی مجھ سے زبردستی کروائی گئی تھی۔ اس نےاپنے پیرنٹس کی فرسٹریشن مجھ پر کیوں نکالی یہ سمجھ میں نہیں آیا۔ یو نو جب ایک لڑکی اپنی ورجینٹی(virginity)کسی كے لیے کھوتی ہے نا تو وہ اس انسان کو اپنا سب کچھ مان بھی لیتی ہے۔ “ مانو غورسے اسے دیکھ رہی تھی۔
”ہر رات میں ازدواجی عصمت دری کا نشانہ بنی۔ “
وہ کڑوی یادیں اس کی آنکھوں كے سامنے گھومنے لگی تھیں۔ اس کی چیخ وپکار۔۔۔آنسو۔۔۔وہ بولتے ہوئے اس درد کو محسوس کر پا رہی تھی جو وہ ان سالوں میں سہہ چکی تھی۔
”مجھے اپنی چیخیں، اپنا رونا آج تک یاد ہے۔ میرا سمج فری کاجل۔۔۔صبح میں میرے تکیے كے ساتھ smudge ہوتا تھا۔ “ فاری یاد کررہی تھی اس وقت کو جب وہ روز صبح بکھری سی بیٹھی پچھلی رات کی اذیت كے صدمے میں خود کو سمیٹنے کی جدوجہد کیا کرتی تھی۔
”?What about your parents۔۔۔انھوں نے کچھ نہیں کہا؟“(اور تمھارے والدین کا کیا؟)مانو نے پریشانی سے پوچھا۔
”ہمم۔۔۔میرے گھر والے۔۔۔مانم پاکستان میں جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی ہے نا، تو کہتے ہیں كے اس کا جنازہ ہی اس گھر سے واپس آئے۔ میرے پیرنٹس بھی اسی کیٹیگری سے تعلق رکھتےتھے۔ ایک سال تک میں نے اس کاٹارچر سہا۔۔۔پھر ایک وقت وہ بھی آیاجب ٹارچر اتنا بڑھ گیا كہ میرے منہ اور جسم پر بھی نمایاں ہونے لگا۔ “ مانو کی نظر بات کرتے ہوئے فاری كے بازو پر پڑی۔ اس کی شفاف گندمی رنگت پر ایک ابھرا ہوا نشان واضح تھا۔
”ان سب كے بعد بھی میں نے اس شخص سے پیار کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اسے مجھ سے کبھی پیار ہوا ہی نہیں۔۔۔“ فاری کی آنکھیں اب بھیگنے لگی اور آواز کانپ رہی تھی۔ سالار بھی بڑی سنجیدگی سے بیٹھا اس کا ہاتھ پکڑ كے تسلی دینے لگا اور مانو کی ناک لال ہونا شروع ہوگئی۔
”پھر یہ سب ختم کیسے ہوا؟“ سالار نے پوچھا۔
”جب پانی سر سے اوپر چلا گیا تو سوچا یا تو اسے مار دو یا خود مر جاؤ۔۔۔خود مرنے والا آپشن زیادہ ایزی تھا۔ بس اُٹھائی چھری اور اپنی scared body پر مار دیا ایک اور کٹ۔ “ فاری كے بازو پر ابھی بھی وہ کٹ نمایاں تھا۔
”جو لاسٹ سین مجھے یاد ہے نا۔۔۔اس نے مجھے دیکھ كے بھی ان دیکھا کر دیا۔ اماں ابا کو ڈرانے كے لیے کٹ مارا تھا كہ وہ مجھے گھر لے جائیں۔ پتا نہیں چھری زیادہ تیز تھی كہ میرے جذبات۔ جو گھر کی جگہ سیدھا ہسپتال پہنچ گئی۔ چاردن آئی سی یو میں رہی تو ڈاکٹر نے بھی کہہ دیا كہ آپ کی بچی كے فرشتے نظر آ گئے ہیں۔ “ فاری طنزیہ مسکراتے ہوئےکہہ رہی تھی۔
”پھر؟“ مانو نے معصومیت سے بمشکل کہا۔
”پھر کیا ڈھیٹ ہڈی ہوں۔۔۔پانچ دن بعد اٹھ كے بیٹھ گئی۔ لیکن ٹیکنیک کام آئی اور فائنلی ایک سال اور چارماہ كے ٹارچر كے بعد I got divorce۔ لیکن مانم!ریئل ٹارچر وہ نہیں تھا۔ ریئل ٹارچر تو گھر آنے كے بعد اسٹارٹ ہوا۔ لوگوں كےطعنے، میری کریکٹرassissination، میرے ماں باپ کا شرم سے جھکا سر۔۔۔“ اس نے ایک لمبی سانس لی۔ مانو کی آنکھیں اب پوری طرح نم ہو گئی تھیں۔
”اس میں کوئی شک نہیں کہ میری فیملی نےمیرا بھرپور ساتھ دیا۔ لیکن کوئی کتنا بھی کر لےاینڈ میں آپ کو اپنے پاؤں پر خود ہی کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ تو occasionalدورے ہیں پڑتے رہتے ہیں۔ So chillax۔ اتنے منحوس منہ نہیں بناؤ۔ “ سالار اور مانو دونوں ہی بہت دُکھی بیٹھے تھے اس کی بات سن كے ایک دم ہنس پڑے۔ ہنسنےسے مانو کی آنکھوں میں آئے آنسو چھلک گئے اور وہ فوراً انھیں پونچھتی ہوئی اٹھ کر بالکونی کی طرف بھاگ گئی۔
”اب اسے کیا ہوا؟“ فاری نے اسے یوں جاتا دیکھ کے کہا۔ سالار بھی پریشانی سے دیکھنے لگا۔
”Go checkیہ ضرور رو رہی ہوگی۔ “اس نے پریشانی سےسالار سےکہا۔ سالاراب بھی بس ادھر دیکھ رہا تھا تو فاری چڑ كے کہنے لگی، ” ارے جاؤ نا۔ “ اور وہ اس كے کہنے پر اٹھ گیا۔
”ذرا چانس بھی مار لینا۔۔۔“جاتے ہوئے فاری نےآواز لگائی اور یہ خود ہی ہنسنےلگی۔ مانو بالکونی میں جا كے اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ سالار آیا تو پریشانی سے منہ چھپا لیا۔
”Hey!You OK?“(تم ٹھیک ہو؟)
” Yeah!I’m fine(ہاں، ٹھیک ہوں۔ )وہ بس ایسے ہی۔ “ مانونے آنسو پونچھتے ہوئے سر جھکائے اپنی انگلیوں سے کھیلتے ہوئے کہا۔
”Hey relex۔۔۔وہ واقعی بہت بہادر لڑکی ہے۔ پھر ہم ہیں نا۔ “ وہ مسکرا کر اسے سمجھانے لگا۔
”!Yeah“ مانو نےاُداسی سےکہا۔
”Now come۔۔۔ہم نے اسے cheer up کرنا ہے۔۔۔خود ڈپریس نہیں ہونا۔ “ وہ بڑے پیار سے اسے سمجھا رہا تھا، وہ اس کی بات پر ہنسی اور اپنے آنسو پونچھ كے اس سے پوچھا۔ ”ٹھیک ہے؟“ ساتھ معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
”!Yeah“سالار نے اس کی بڑی بڑی گہری آنکھوں کو دیکھ كے ایک پیاری سی مسکان دی۔
وہ دونوں اندر آئے تو فاری تیار کھڑی تھی۔ ”چلیں؟“اس نے خوشی سےپوچھا۔
”ارے کہاں۔۔۔تم ٹھیک نہیں ہو۔ آج ہم روم میں ہی رہیں گے۔ “ مانو پریشانی سے اسے پکڑ كے بیڈ کی طرف لے جاتے ہوئےکہنے لگی۔
”ارے اتنا خرچہ کر كے اتنی دور یہاں کمرے میں بیٹھنے تھوڑی نہ آئے ہیں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، اب چلو۔ “فاری نے مانو سے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے کہا۔ سالار اور مانونے ہنس كے اسےدیکھا۔
فاری کی بات ٹالی تو جا نہیں سکتی تھی لہٰذاوہ باہر آگئے۔ وہ لوگ پاس كے ایک کیفے میں آئےتھے۔ سالار آرڈر لینے گیا تھا۔ فاری ابھی بھی تھوڑا بیمار اور اُداس سی لگ رہی تھی۔
”تم ٹھیک ہو نا؟“ مانونے پریشانی سے پوچھا۔
”ہاں بابُو ریلیکس۔۔۔تم لوگوں نے میری لائف کا ایک trailerدیکھا ہے مووی تو کب کی ختم ہو چکی ہے۔۔۔You know Manam!ہر کسی کی لائف کی نا ایک اسٹوری ہوتی ہے اور ہر اسٹوری میں ایک ٹوئسٹ۔۔۔اب دیکھ وہ جو سامنے لڑکا کھڑا ہے۔ “ سالار کو دکھاتے ہوئےکہنے لگی۔ ”اسٹوری اس کی بھی ہے اور ٹوئسٹ بھی۔ لیکن مجال ہے جو اس لڑکے كے ماتھے پر کبھی ایک شکن بھی آئی ہو۔۔۔“ فاری نے پیار سے اسے دیکھا تھا۔ مانو فاری کی بات سن كے حیران ہوئی تھی۔
”اس کی کیا اسٹوری ہے؟“ وہ پوچھ ہی رہی تھی كہ اتنے میں سالار آگیا۔
”چلو لیڈیز!“ انھیں waffle آئس کریم پکڑاتے ہوئے کہنے لگا۔
”آدھا گھنٹہ ہے ہمارے پاس، وہ ویٹر بتا رہا تھا یہاں قریب ہی ایک پارک ہے۔ وہیں پر سائٹ دیکھ لیتے ہیں۔ “
وہ لوگ اٹھ کر اس جگہ آگئے تھے جس کا سالار نے بتایا تھا۔ وہاں بہت انجوئےکررہے تھے اور فاری اپنے کیمرہ سے ان کی سیلفیزلے رہی تھی كہ اچانک اس كے موبائل پر کال آ گئی اور اسکرین پر” اماں“کا نام لکھا آرہا تھا۔
”اوہو!اماں۔۔۔بچوں تم دونوں ایک دوسرے کو کمپنی دو میں ذرا اماں کو رپورٹ دے كے آئی۔ “ یہ کہہ كےوہ بھاگ گئی۔ مانو اور سالار پہلے توایک دوسرے کوعجیب نظروں سے دیکھتےرہے تھےپھر ایک بینچ پر جا كے بیٹھ گئے۔ سامنے ایک خوبصورت جھیل تھی۔ دن چڑھ چکا تھا اور ایک خوبصورت ٹھنڈی ہوا جسم کو چھو كے گزر رہی تھی۔ پھولوں سے سجا پورا پارک ایک عجب ہی نظارا پیش کر رہا تھا۔ بہتے پانی کا شور، بھینی بھینی سی خوشبوئیں، میٹھی سرد ہوا، چڑیوں کی چہچہاہٹ اور ہلکی پھلکی چہل پہل ایک نہایت حسین سماں باندھ رہی تھی۔ ایسے میں سالار اور مانو کا یوں خاموشی سے ایک دوسرے كے ساتھ ہونا دونوں کے دل میں ایک عجب احساس پیدا کر رہا تھا۔ وہ دونوں جھیل كے بالکل سامنے جا کر بیٹھ گئےتھے۔
”کتنی پیاری جگہ ہے نا۔ “ مانو نےکہا۔
”ہممم۔ “ سالار اس نظارے میں محو تھا شاید اِس لیے مختصر جواب دینا ہی مناسب سمجھا۔
کچھ چل رہا تھا مانو كے دماغ میں لیکن کیونکہ وہ ابھی تک سالار كے ساتھ دوستی كے اس درجے پر نہیں پہنچی تھی جہاں وہ بنا جھجکے کچھ بھی پوچھ پائے اس لیے خاموش تھی۔ آخر کار ہمت کر کے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے پوچھنے لگی۔
”اممم۔۔۔“
”کیا ہوا؟“سالار نے اس کی طرف دیکھا۔
”کچھ پوچھوں؟“ وہ معصومیت سے کہنے لگی۔
”شیور۔ “اس نے نگاہوں میں کچھ حیرت لیےکہا تھا۔
”فاری کہتی ہے۔۔۔ہر کسی کی لائف کی ایک اسٹوری ہوتی ہے اور ہر اسٹوری کا ایک ٹوئسٹ۔ “
”ہمم۔ “وہ اسی کی طرف متوجہ تھا۔
”تمھاری اسٹوری کیا ہے؟“ گھبراتے ہوئے ہی سہی لیکن پوچھ لیا گیا تھا۔
”میری اسٹوری سمپل سی ہے۔۔۔“سالار ایک میٹھی سی مسکان دیے کہنے لگا۔ ”مانسہرہ سے تعلق رکھتا ہوں۔۔۔روایاتی پٹھان فیملی۔ دو بھائی تھے۔ بھائی ایک حادثے میں وفات پا گیا، دو سال پہلے، اب اکلوتا بیٹا ہوں۔۔۔فی الحال ایک میوزیشن۔۔۔that’s it۔ “ اس نے بڑے مختصر انداز میں بیان کیا تھا۔
”لیکن ہر کہانی میں ایک ٹوئسٹ ہوتا ہے، تمھاری کہانی کا ٹوئسٹ کیا ہے؟“ مانو ڈرے ڈرے دبے الفاظوں میں پوچھ رہی تھی۔ سالار اس کی معصومیت پر ہنس كے اپنے موبائل میں ایک لڑکی کی تصویر نکال کر اسے دکھانے لگا۔ گندمی رنگ، تیکھے نقش، سحر انگیز مسکان، بڑی بڑی گول کالی آنکھیں اور آنکھوں كے نیچے گہرے حلقے۔ دیکھنے میں ایک نہایت ہی سادہ اور نازک سی لڑکی تھی۔
”ٹوئسٹ۔۔۔یہ ہے میری کہانی کا ٹوئسٹ۔ “ مانو دیکھ كے کچھ پلوں كے لیے حیران ہی رہ گئی۔ وہ کبھی اسے کبھی اس تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ سالار بھی مسلسل اسی تصویر کو نہار رہا تھا۔ ایک چمک تھی اس کی آنکھوں میں، وہ تصویر دیکھتے ہوئے جسے مانو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اِس سے پہلے كہ وہ مزید اِس کی کہانی کو جان پاتی۔۔۔فاری آ گئی۔
”اُف میری اماں بھی نا اتنا سر کھاتی ہیں۔ “ فاری بولتی ہوئی آ رہی تھی۔ ”مشکل سے سگنل ڈاؤن کا بہانہ کر كے جان چھڑائی ہے۔۔۔چلو چلیں۔ “ وہ دونوں ہی خاموشی سے اٹھ كے فاری كے ساتھ چل دیے۔
”قسم سے میری اماں نے مفت ہی ترکی گھوم لینا ہے مجھ سے رپورٹس لے لے كے۔ “ سالار ہنسا لیکن مانو ابھی بھی اس تصویر كے پیچھے چھپے راز میں کھوئی ہوئی تھی۔
”آلو!میرا کرش نو مور کرش ہو گیا۔ “ وہ اُداس سی عالیہ سے بات کررہی تھی۔
”اوئے کیوں کیا ہوا؟“ آلو کسی لڑکے كے ساتھ ڈیٹ پر تھی۔ وہ لڑکا پیچھے ٹیبل پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا اور وہ چپكے سے مانو سے بات کر رہی تھی۔ یہاں مانو بھی اپنے کمرے کی بالکونی میں بیٹھی اپنے دکھڑے سنا رہی تھی۔
”دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا مجھ پر یار۔۔۔“
”ہوا کیا۔۔۔کچھ بول بھی؟“ آلو بے چینی سے پوچھ رہی تھی۔
”یار وہ تو committed نکل آیا۔ “
”اوہ بھینس!ڈیٹیل بتا۔ “
”آج بندی دکھائی اپنی۔ “
”شٹ یار!“
”قسم سے یار۔۔۔دل میں کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی۔ اتنی اونچی كہ اس نے بھی سنی ہو گی۔ “
”ہائے میرا بےبی۔ “
”مر كے ایک کرش بنا۔۔۔وہ بھی کرش ہو گیا۔ “یہ الگ دکھ تھا۔
”چھوڑنا کوئی ٹرکش پھنسا۔ “
”رہنے دے مجھے نہیں پھسانا۔۔۔“
”پھرمیں کیا کر سکتی ہوں۔۔۔دعا ہی دے سکتی ہوں كہ اس کا بریک اپ ہو جائے۔ “
”اوئے ایک سیکنڈ۔ “جیسے اسے کچھ یاد آیا تھا۔
”کیا ہوا؟“
”ہی سیڈ وہ لڑکی اس کی لائف کا ٹوئسٹ ہے۔ “
”کیا پتا بریک اپ ہو گیا ہو۔ “عالیہ نے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائے۔
”چھوڑ نا، اس کا مطلب ہے اسے مجھ میں باکل دلچسپی نہیں ہے۔ میں ہی ایویں خیالی پلاؤ پکا رہی تھی۔ “
”چھوڑ نا موو آن۔ “(آگے بڑھ جا۔ )
”وہی تو ہو رہی ہوں۔ “ مانو ایک دم سنجیدگی سےکہنے لگی۔
”اے۔۔۔چھوڑ نا۔۔۔“ عالیہ سمجھ گئی تھی کہ وہ کس حوالے سے بات کر رہی ہے۔
”منہ ایسے بنا رہی ہے جیسے تو نے واقعی اسے پھنسا لینا تھا۔ “ دونوں ہنسنےلگی۔
”چل ایکdistraction تو تھی نا۔ “
”چل چھوڑ، جتنی تو پیاری ہے نا تجھے ہزار اور مل جائیں گے۔۔۔“ وہ ہنسنےلگی۔
”چل اب انجوئے کر اور مجھے بھی کرنے دے۔ “ پیچھے مڑ كے لڑکے کو دیکھتے ہوئےاس نے مانو سےکہا جو کب سےاس كے انتظار میں سوکھ رہا تھا۔
”یہ وہی فیس بک والا ہے؟“
”نہیں یار۔۔۔یہ تو کافی دیر سے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ میری فرینڈ کا بھائی ہے۔ “
”اوہ!“
”چل تو چِل کر۔۔۔میں کرتی ہوں پھر بات۔ “
”بائے۔ “ یہ کہہ كے دونوں نے کال ختم کی۔
”کرش۔۔۔نو مور کرش۔۔۔“ فون بند کر كے مانو اپنی ہی بات پر ہنسنےلگی۔
ان لوگوں کا ٹرپ بدستور جاری تھا۔ ایسے ہی مختلف جگہوں پر گھومتے، ترکی کی تمام تفریح گاہیں دیکھتے اور بہت لطف اندوز ہوتے۔ ایک دن انھیں وہاں كے فیمس کلب میں لے جایا گیا، کلئین(Klein)نامی یہ کلب ترکی كے مشہور چوراہے تاکسم(Taksim)میں تھا۔ کلب کا ماحول نہ صرف شرابی اور عیاش لوگوں كے لیے تھا بلکہ عام لوگ بھی وہاں کے ماحول اور سنگیت سے لطف اٹھا سکتے تھے۔ فاری بہت ہی خوش تھی۔
”یار یہ باہر کی لائف بھی کتنی لش ہے نا۔۔۔سوچو میری اماں مجھے یہاں آنے دیتی کبھی۔ “ اس کی خوشی دیدنی تھی۔ سالار اور مانو اسے اتنا خوش دیکھ كے ہنس رہے تھے۔
”Manam آؤ ڈانس کریں۔ “وہ اس کا ہاتھ پکڑ كے کہنے لگی۔
”ارے نہیں فاری you go۔ “ مانو منع کر رہی تھی۔ آج پھر سے اس کا دل بہت اُداس تھا۔ ان كے اصرار کرنے پر وہ آ تو گئی تھی لیکن وہاں اس شور اور بھیڑ میں بھی وہ خود کو مکس نہیں کرپا رہی تھی۔
”اوہو ایک تو یہ لڑکی، سولہ کراس نہیں کیا كہ بڑھاپا چھا گیا ہے۔۔۔مانم تُم ایسی کیوں ہو؟“فاری نےبالآخر پوچھ ہی ڈالا۔
”کیسی؟“اس نے ڈر کے پوچھا۔
”ایسی ڈری سہمی سی، چھوئی موئی، تیرا کوئی بریک اپ وغیرہ تو نہیں ہوا؟“ فاری كے پوچھنے پر وہ ایک دم چونکی تھی۔
”فاری کچھ تو سوچ سمجھ كے کہاکر۔ “ سالار نےذرا ڈانٹے والے انداز میں کہا۔
”لو جی!بزرگوں کی ٹولی مل گی ہے مجھے۔ تُم لوگ بیٹھو میں تو چلی۔ “یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور اب سالار اور مانو بیٹھے ایک دوسرے کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
”میں دیکھتا ہوں۔ “ یہ کہہ كے سالار اٹھ کے فاری کے پیچھے گیا تھاجوڈانس فلور پر تھی اور دل کھول كے ناچ رہی تھی۔ سالار اس كے پاس چلا گیا کیونكہ اسے ڈر تھاکہ کوئی اور فرنگی اسے تنگ نہ کرے۔ مانو بس دور سے بیٹھی انھیں دیکھ رہی تھی اور فاری کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ ان كے اسٹاف كے باقی لوگ بھی وہاں اکٹھے ہو گئے تھےاور سب نے اپنا الگ ہی اک گروہ بنا لیاتھا۔ فاری پھر زبردستی مانو کو بھی اٹھا لے آئی۔ وہ بس ان میں کھڑی ہلکی ہلکی تالیاں بجا رہی تھی۔ سالار بہت اچھا ڈانس کرتا تھااور یہ ان دونوں کو آج ہی پتا چلا تھا۔ مانو کا موڈ بھی اب بہت اچھا ہو گیا تھا اِس لیے وہ سالار کی یہ سائڈ دیکھ کر ہنس رہی تھی۔ سالار پیار سے مانو کو دیکھ کر ہی ناچ رہا تھا۔ مانو کا دھیان نہیں تھا لیکن دور کھڑی فاری سالار كے چہرے كے تاثرات پر ہی غور کر رہی تھی۔
”بھائی آج تو مزہ ہی آ گیا۔ “ اسکول كے سائنس ٹیچر خوشی سے سالار کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے۔
”مجھے تو پتا ہی نہیں تھا تم اتنا اچھا ناچتے ہو۔ “ اردو کی ٹیچر نے سالار کی حوصلہ افزائی کی۔
”بھائی یہ بچہ تو all in one ہے۔ “ انگلش کی سینئر ٹیچرنے خوش ہوتے ہوئےکہا۔
سالار بس عاجزی سے سب کی داد لے رہا تھا۔ مانو تھوڑے فاصلے پر کھڑی انھیں دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں فاریا اس كے اور اپنے لیے ایک جوس لے کر آئی اور پیتے ہوئےکہنے لگی۔ ”بھائی آج تو مزہ ہی آ گیا۔۔۔“
”تم بہت اچھا ڈانس کرتی ہو۔ “ مانونے دل سے تعریف کی۔
”یہ تو کچھ نہیں۔۔۔شادی سے پہلے کبھی دیکھتی۔ میں تو خود کی شادی پر بہت ناچی تھی۔ “ مانو اس کی بات سن كے ہنسنے لگی۔
”ویسے ناچتی تم بھی برا نہیں۔ “ فاریانے شرارت سے اسے کندھا مار كےکہا۔
”ہاں۔۔۔بٹ اب نہیں۔ “
”کیوں اب بوڑھی ہو گئی ہو؟“
”پتا نہیں، اب شاید بڑی ہو گئی ہوں۔ “
”سن بہت گرمی ہو رہی ہے اب، تھوڑی دیر باہر چلیں۔ “ فاری كے کہنے پر مانونے بھی شائستگی سے ہاں میں سر ہلایا۔ جاتے ہوئے فاری نے دور سے سالار کوساتھ چلنےکا اشارہ کیا۔ اس نے اشارتاً کہا كہ تم جاؤ میں خود آجاؤں گا۔ کیونكہ ٹیچرز ابھی بھی اس كے گرد گھیرا بنائے کھڑے تھے۔ وہ دونوں گلاس رکھ كے باہر نکلےتو شام ہو چکی تھی۔ پورا شہر رنگا رنگ روشنیوں سے چمک رہا تھا۔ بہت ہی سہانی سی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
”ایک بات پوچھوں فاری؟“
”ہممم۔ “
”تم کتنی اچھی ہو، کتنی لِیولی(lively) پھر تمھارے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟“ اس كے معصوم سوال پر فاری ہنس دی۔ پھرکہنے لگی۔
”یہ ایک آزمائش ہے مانو!سب کو اِس سے گزرنا پڑتا ہے، بس کوئی جلدی گزر جاتا ہے تو کوئی دیرسے۔ میرے ساتھ یہ سب کچھ ہونا لکھا تھالیکن کوئی دکھ نہیں۔۔۔ہر صدمہ اگر ہمیں توڑ كے جاتا ہے تو کچھ سکھا کر بھی جاتا ہے۔۔۔I’m strong now دُنیا کو اکیلے فیس کرنے کی ہمت رکھتی ہوں۔ “
”دوسروں کو ٹرسٹ کر پا تی ہو؟“
”مانو!صرف اس لیے کہ وہ ایک شخص برا تھااس کی سزا میں باقیوں کو کیوں دوں۔ ہاں میں ابھی بھی ٹرسٹ کرتی ہوں، فرق یہ ہے كہ اب پرکھ كے کرتی ہوں۔ “
”تم بہت اسٹرونگ ہو، آئی وش میں بھی ایسی ہو پاتی۔ “
”ہو جاؤ گی، ابھی بہت چھوٹی ہو تم۔ “
”میں بھی ایک بات بولوں مانم؟“ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے کہا۔
”ہمم۔ “
”دیکھو میں نہیں جانتی تمھاری لائف میں کیا ہوا ہے اور نہ ہی جاننا چاہتی ہوں، لیکن چڑیا یوں گھٹ گھٹ کر جینے سے نا تم اور کسی کو نہیں خود کو ہی سزا دے رہی ہو۔۔۔بھولنا مشکل ہےلیکن آگے ملنے والے موقع کو اپنانا شروع کرو اپنے پاسٹ سے باہر آجاؤ گی۔ “ فاری کی بات سن کر مانو کی سانسیں ہی رک گئی تھیں۔
”ایسا تو کچھ نہیں۔ “ مانو نےنظریں چرا کربال کان كے پیچھے کرتے ہوئےکہا۔ اس کی بات پر فاری مسکرا دی۔
”I’m 29 لڑکی۔ دُنیا دیکھ چکی ہوں، اتنا تو پہچان سکتی ہوں كہ اِس ڈری سہمی مانم كے پیچھے ایک بہت چلبلی سی چڑیا ہےجس نے خود کو ایک پنجرے میں بند کر لیا ہے۔ شاید کسی نے اس كے پر کاٹنے کی کوشش کی ہے۔ “ فاریا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالےکہہ رہی تھی۔ ماضی کی ایک جھلک مانو کی آنکھوں كے سامنے سے بجلی کی مانند گزری جس نے اس كے تن بدن میں ایک کپکپاہٹ طاری کر دی اور وہ ڈر كےادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اِس ڈر سے كہ کہیں اس کی آنکھوں میں آتی ماضی کی وہ جھلکیاں فاری پہچان نہ لے۔
”سردی بہت ت ت ت ہو گئی اندر چلیں۔ “ وہ بمشکل خود كے بکھرے ٹکڑے سمیٹ کر بول پائی تھی۔ وہ بات پلٹنا چاہتی تھی اور یہ فاری سمجھ گئی تھی۔ اِس لیے ایک ہلکی سی مسکان دےکر ہامی بھرلی۔ ”ہاں شیور۔ “
اگلے دن یہ لوگ ایک اور بیچ پر گئےتھے جس کا نام پاٹارا بیچ(Patara Beach)تھا۔ یہ ترکی كے سب سے بڑے اور لمبے ترین بیچ میں شمار ہوتا تھا۔ وسیع وعریض رقبے پر پھیلا یہ انتہائی خوبصورت بیچ تھا۔ یہ لوگ دوپہر میں بیٹھے وہاں کا سہانا موسم اور مدھم دھوپ انجوئے کر رہے تھے۔
”وہ دیکھ!“ فاری نے سالار کو ایک گوری دکھاتے ہوئے کہا۔
”کتنی سونی ہے نا۔۔۔پھنسا لے۔ “وہ اسےکہنی مار کرکہنے لگی۔ مانو بس چُپ کر كے انھیں دیکھ رہی تھی۔
”ہاٹ ہے۔ “ سالارنےبھی ہنس كر کہا اور اس كے کہنے پر مانو نے منہ بنایا تھا۔ بات یہیں ختم ہو گئی۔ انھوں نے کافی دیر اسی بیچ پر گزاری اور horse riding، jet skiوغیرہ کر كے خوب انجوئے کیا۔ ان سب سے زیادہ گھوڑے پر بیٹھتے ہوئے فاری ڈری اوروہ سب خوف میں اس کے منہ سے نکلنے والی گالیاں انجوئے کر رہے تھے۔ دن ڈھلنا شروع ہوا تو فاری اکیلے سمندر کنارے بیٹھے وہاں کی خاموشی سے لطف اندوزہو رہی تھی۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی كہ مانو اس كے پاس آ بیٹھی۔
”!Hey“ وہ خوش دِکھ رہی تھی۔ شاید یہاں كے ایڈونچر کو وہ انجوئے کر رہی تھی۔ فاری نے اسے بس ایک میٹھی سے مسکان دی۔ آج وہ مانو کی طرح کھوئی ہوئی تھی۔
”وہ کہاں ہے۔۔۔تمھارا پارٹنر اِن کرائم؟“ مانونے سالار کو آس پاس نہ پا کرپوچھا۔
”وہ دیکھ سامنے۔۔۔hot chickكے ساتھ ڈیٹ مار رہا ہے۔ “اس کے اشارے پر مانو نے مڑ كے دیکھا تو سامنے ایک شیڈ كے نیچے ٹیبل پر سالار بیٹھا ایک گوری سے ہنس ہنس كے باتیں کر رہا تھا اور ساتھ دونوں جوس پی رہے تھے۔ سالار بہت خوش لگ رہا تھا۔ مانو کو بہت ہی عجیب لگا کیونکہ جہاں تک وہ اسے جج کر پائی تھی سالار ایک بہت ہی مہذب اور سلجھا ہوا لڑکا تھا۔ لیکن اب اسے لگ رہا تھا كہ عام لڑکوں کی طرح اِس نے بھی چانس ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ وہ اس سے بات کر كے ان کی طرف ہی آ رہا تھا كہ فاری دور سے ہی خوش ہو كےکہنے لگی۔
”او ہو ڈوڈ۔۔۔لگتا ہے کام بن گیا۔ “ فاری كے کہنے پر سالار ہنسنےلگا۔ ”اوہو اب تو ہم ٹرکش بھابی ہی لے كے جائیں گی۔ “ فاری نے ہنستے ہوئے یہ جملہ ادا کیا تو مانو کو غصہ آنے لگا۔
”کتنے چیپ ہو تم دونوں۔ “ مانو كے کہنے پر سالار اور فاری ہنسنےلگے۔ ” سالار!تمھیں شرم نہیں آتی۔ “وہ اس پر بھی چڑھ دوڑی تھی۔
”اوئے تجھے کیا ہو گیا ہے۔ “ فاری نےحیرانی سےپوچھا۔
”نہیں یار ایک سیکنڈ۔۔۔“ اس نےفاری کو غصے سے روکتے ہوئےبات جاری رکھی۔
”اتنی پیاری لڑکی کو چھوڑ كے تُم اِس گوری پر لائن مار رہے ہو۔۔۔“ مانو کا غصہ دیکھ کروہ دونوں ہی حیران ہو گئے۔
”ہاں لیکن۔۔۔“ سالار وضاحت دینا چاہ رہا تھا۔
”چل چڑیا۔۔۔اب وہ ایک ساتھ نہیں ہیں۔ “فاری سالار کی بات کاٹتے ہوئےکہنے لگی۔
”ہاں تو جتنی effort تم اسے پھسانے میں لگا رہے ہو۔۔۔اتنی اسے منانے میں لگاؤ تو لائف سنوارے تمھاری۔ تُم سارے لڑکے ہوتے ہی چیپ ہو۔۔۔ایک لڑکی سے دل بھر گیا تو دوسری کی طرف مڑ جاؤ۔ اس لڑکی كے دل پر کیا بیتتی ہے کبھی خیال نہیں آیا۔ “
”ریلیکس چڑیا!جذباتی کیوں ہو رہی ہے۔ “ فاری از حد حیران ہونے لگی تھی۔
”جذباتی نہیں ہو رہی۔ سچ بتا رہی ہوں۔۔۔سب لڑکے ایک جیسے ہی ہوتے ہیںand you proved it۔ “
”بس کر دے مانم!جو دل میں آ رہا ہے بولتی جا رہی ہے۔ جانتی کیا ہے تو۔۔۔“ فاری اب غصے میں آگئی تھی اس لیے مانم چُپ ہو گئی اور سالار بس بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا۔
”تو پاگل ہے، کیا بکواس کر رہی ہے۔ وہ ٹرکش میوزک پروجیکٹ کی بات کر رہی تھی۔ یہ وہی بات کرنے گیا تھا۔ میں ایسے ہی اسے مذاق کر رہی تھی۔ “
”اوہ!“ مانو کو فوراً ہی اپنی غلطی کا اندازہ ہو گیا تھا۔
”اب جا سوری بول اسے۔ “ یہ کہہ کر فاری بھی وہاں سے چلی گئی۔
مانو بہت شرمندہ تھی۔ نہ جانے کیا ہو گیا تھا اسے۔ وہ جانتی تھی فاریا کی مذاق کی عادت ہے اور وہ ایسے الٹے سیدھے مذاق بھی کر دیتی ہے اور وہ یہ بھی جانتی تھی كہ سالار ایسا نہیں ہے۔ بس وہ وقت، ماحول اور کہیں نہ کہیں مانو کی جلن تھی جو وہ ایسے ری ایکٹ کر گئی۔ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہوتی رہی۔ پھر سوچا كہ اسے معافی مانگنی چاہیےتو اٹھ کر اسے ڈھونڈنے لگی۔
سالار ایک جگہ ساحل کنارے اکیلا ہی بیٹھا پانی میں پتھر پھینک رہا تھا۔ مانو اسے دیکھ کر وہیں رک گئی۔ اس کی سمجھ ہی نہیں آ رہاتھاكہ کیا کہے۔ کبھی ایک قدم آگے لیتی تو کبھی ایک قدم پیچھے۔ کبھی کبھی غلطی ماننا مشکل نہیں ہوتالیکن اس غلطی پر معافی مانگنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر آخر کار تھوڑی ہمت جتا كے وہ اس كے پاس جا كے بیٹھ گئی۔
”!Hey“ شرمندگی سے اس کے منہ سے بس یہی نکل پایا۔
”ہائے!“ بنا دیکھے، اکھڑےسے انداز میں جواب ملا۔
”ناراض ہو؟“معصومیت سے پوچھتے ہوئے وہ اپنی انگلیوں سے کھیلنے لگی۔
”بات تو ناراضگی والی ہی تھی۔ لیکن خیر It was natural۔۔۔You over reacted۔ “ سالار بڑی سنجیدگی سے اپنی ناراضگی بھی جتا گیا اور اسے شرمندہ بھی نہیں ہونے دیا لیکن وہ بےخبر تھا کہ اس کی بات مانو کو اس کے ماضی میں کھینچ کر لے گئی تھی۔
”مانو تو ہمیشہ اوور ری ایکٹ کرتی ہے۔ “ روشی نےمانو کو ٹیکسٹ کر كے کہا۔
”مجھے پتا ہے میں اوور ری ایکٹ کرتی ہوں تو تو ہی تمیز سے بات کر لے۔ “
”اچھا اب تیرا اوور ریکشن بھی میری غلطی ہے۔ “اتنے میں کوئی اس كے منہ پر چٹکی بجانے لگا تو وہ حال میں واپس آئی۔
”ہیلو!تم شاید منا رہی تھیں مجھے۔ “ سالار نےہلکا سا غصہ دکھاکے کہا۔ مانونے ایک دم گھبرا كے اسے دیکھا۔ ” یار تم بات کرتے کرتے کہاں کھو جاتی ہو۔ “
”نہیں، کچھ نہیں۔ “اس نے ڈر كےکہا۔
”تو continue کرو۔ “ سالار طنزیہ کہنے لگا۔
”کیا؟“ وہ ابھی بھی پوری طرح ہوش میں نہیں آئی تھی۔
”سوری۔ “ وہ اسے اشارتاً بتانے کی کوشش کرنے لگا كہ اسے کیا بولنا تھا۔
”اوہ ہاں۔۔۔آئی ایم سو سوری۔ پتا نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا۔ پتا نہیں کیوں میں نے اتنا ری ایکٹ کیا۔ “اسے اچانک ہی یاد آیا تھا۔
”کیا تمھیں جیلسی ہورہی تھی؟“سالار نےمذاق میں پوچھا۔
”.No, absolutely not“(نہیں، ظاہر ہے کہ نہیں۔ )مانو نے فوراً وضاحت دی۔
”چلو معاف کیا۔ “ اس نےہلکی سی مسکان دے کےکہا۔
”کیا یاد دلا دیا یار۔ “ دو منٹ کی خاموشی كے بعد سالار ایک ٹھنڈی آہ بھر كے کہنے لگا۔
”تو یہ۔۔۔آئی مین۔۔۔اممم۔ “مانوں جاننا چاہا رہی تھی پر پوچھتے ہوئے جھجک بھی رہی تھی۔
”امبر۔۔۔اور میں کلاس فیلو تھے۔ “ سالار سمجھ گیا كہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہی ہےلیکن الفاظ نہیں جُتا پا رہی۔ بولتے ہوئے سالار کی آنکھوں كے سامنے وہ پل گھومنے لگے۔ وہ کھلکھلاتی ہوئی ہنسی اس كے کانوں میں گونجنے لگی تھی۔
”ہم کب فرینڈز سےبیسٹ فرینڈز بنے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔“ اسے یاد آتاگیا کہ کیسے وہ کالج میں ہر وقت ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔ کیسے ایک ساتھ كھانا کھاتے تھےاور اپنی یونیورسٹی کی سیڑیوں پر بیٹھ کر سالار اس كے لیے گٹار بجایا کرتا تھا۔
”ہم میں پیار کب اور کس کو پہلے ہوا، کچھ یاد نہیں۔۔۔جو بھی تھا۔ Best days of my life۔۔۔وہ بہت سمجھتی تھی مجھے، ایک الگ ہی کیمسٹری تھی ہماری۔ “ سالار کی بات سن كے مانو کو بھی کچھ یاد آیا۔
”تیری میری کیمسٹری کوئی میچ نہیں کر سکتا۔ “ روشی اور مانو ایک جگہ بھاگ كے آئےتھے اور پارکنگ لاٹ میں رک كے بات کرنے لگےتھے۔ روشی ہانپتے ہوئے کہہ رہا تھا اور مانو ہنس رہی تھی۔
اس نے اپنے خیالوں کو جھٹکتے ہوئے سالار کو دیکھا جو ابھی چپ تھا۔
”تو پھر ٹوئسٹ کہاں آیا؟“ مانو معصومیت سے پوچھنے لگی۔
”ٹوئسٹ؟ہماری پوری لائف ہی ٹوئسٹڈ تھی؟“ سالار ایک زخمی مسکان دیے کہنے لگا۔
”مطلب؟“اس نےحیرانی سےپوچھا۔
”مطلب امبر ایک کینسر سروائور تھی۔ اس کی ایک لیگ کٹی ہوئی تھی۔ “
”اوہ۔ “ مانو اس کی بات سن كے پریشان ہو گئی۔
”جب میں نے اسے پرپوز کیا تھا تو جواب میں ایک تھپڑ آیا تھا۔ ریزن یہ نہیں تھا كہ وہ مجھ سے پیار نہیں کرتی تھی۔ ریزن یہ تھا كہ وہ مجھ سے اتنا پیار کرتی تھی كہ وہ نہیں چاہتی تھی، میں اچھا بھلا ہو كے اس كے پیچھے اپنی لائف برباد کروں۔ “
”تو پھر؟“
”پھر کیا۔۔۔پٹھان ہوں میں بھی۔ ہم کمٹمنٹ کر كے مُکرتے نہیں، دل میں اسے اپنی بیوی مان چکا تھاپھر تو پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔ “
”تو کیا پھر وہ مانی؟“ وہ معصومیت سے پوچھنے لگی سالار نے ہنس كے اسے دیکھا۔
”اس نے تو ماننا ہی تھا۔ وہ تو مان گئی مگرمین مسئلہ تو گھر والوں کا تھا۔ اکلوتا بیٹا اور ایک لنگڑی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ “
”تو یہ تھا ٹوئسٹ؟“ مانونے ایک اور معصوم سوال سالار كے سامنے رکھا۔
”ٹوئسٹ میجر ہوتے ہیں یہ تو ایک set back minorتھا۔ جیسے کہ میں نے کہا اکلوتا بیٹا تھا تو اپنی بات بھی منوانا جانتا تھا۔ گھر والوں کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے۔۔۔ہو گئی ا نگیجمنٹ۔ “ وہ ساتھ ہی موبائل میں اسکرول کر كے ایک تصویر دیکھنے لگا۔ امبر میں اور سالار ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، اور بہت ہی خوش لگ رہے تھے۔ انھیں دیکھ کر مانو بھی مسکرائی۔
”لائف میں سب کچھ پرفیکٹ جا رہا تھا۔ ہم دونوں نے اپنی ڈگریز ختم کیں، مجھے ایک اچھی جاب مل گئی اور جنوری میں شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئی۔ ہم نے خوابوں خیالوں میں اپنے بچوں كے نام تک سوچ لیے تھے۔ “ سالار کہتے کہتے کھو گیا اور ایک میٹھی سی مسکان اس كے ہونٹوں پر آ گئی۔
”پھر؟“ مانو بھی اسے دیکھ كے مسکرانے لگی۔
”پھر کیافیری ٹیل میں آ گیا ٹوئسٹ۔ “
”کیا؟“اس کا تجسس ایک دم ہی بڑ ھ گیا۔
”امبر کا کینسر relapse کر گیااور جب تک ہمیں پتا چلا she was on fourth stage, کینسر پورے جسم میں پھیل چکا تھا اور اس کا بچنا نا ممکن تھا۔ سب جانتے تھے۔۔۔میں بھی جانتا تھا۔ “ اسےوہ وقت یاد آیا جب امبر ہسپتال میں تھی۔
”لیکن ہیرو تھا نا۔۔۔ایسے کیسے جانے دیتا۔ “وہ مانو کو مسکرا کر كے دیکھنے لگا۔
”مطلب؟“ مانو كے پوچھنے پر اسے وہ دن یاد آیا جب اس نے امبر کےاور اپنے بابا سے لڑائی کی تھی۔
”میں اس سے شادی کرنا چاہتاہوں۔ “اس نےبڑے اعتماد سے ہاتھ باندھے کہا تھا۔ اس كے اور امبر كے بابا اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔
”تمھارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا۔ “ سالار كے بابا نےغصے سے کہا۔
”بیٹا کیا فائدہ؟“ امبر كے بابا بھی اسے سمجھانے لگےتھے۔
”وہ مرے گی تو میرا نام لے كے۔۔۔میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ “
”سب نے منع کیا، یہاں تک کہ امبر نے بھی منع کیا۔ “ اسے یاد آیا جب امبرہسپتال میں تھی۔ وہ بہت ہی بیمار تھی۔ ہسپتال كے بیڈ پرلیٹی اپنے آخری دن گنتے ہوئے وہ سالار کو سمجھانے کی کوشش کررہی تھی۔
”کیوں ضد کر رہے ہو؟کیوں داغ لگانا چاہتے ہو خود پر؟“
”داغ نہیں نشانی۔ “ سالار بالکل نڈھال سا ہوا کہنےلگا۔
”یہ مت کرو۔۔۔تمھارے آگے پوری زندگی پڑی ہے؟“ امبر بالکل ہار ماننےوالے انداز میں بولی تھی۔
”ایسی زندگی نہیں چاہیے جس میں تم نہیں۔ “ سالار اس کا ہاتھ پکڑے کہنے لگا۔ اس کی آواز میں بےبسی واضح تھی۔ ایسے جیسے بس یہ پل یہیں تھم جائے اور وہ کسی طرح اسے روک پائے۔
”سالار جذباتی نہ بنو۔ “وہ غصے سے اس کا ہاتھ جھڑک كے کہنے لگی۔ ”میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ “پھر پیار سے سمجھانے لگی۔
”اب کچھ بولو تو۔۔۔یہ میری آخری خواہش سمجھو۔ “ سالار روٹھےہوئے ضدی بچے کی طرح کہنے لگا۔ امبر بس افسوس سے اسے دیکھنے لگی۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہے تھے۔ جیسے ایک دوسرے کو اس پَل نے تھام لیا ہو۔ بےبسی دونوں کی آنکھوں میں تھی۔ آنسو ؤں سے بھری آنکھیں امبر کو دہائی دے رہی تھیں كہ کچھ دیر اور رک جائےاور امبر کی آنکھیں سالار سے التجا کر رہی تھیں كہ وہ اپنی ضد چھوڑدے۔
”سب ہی ناراض تھے مجھ سےمیری اِس ضد پر۔۔۔لیکن سب یہ بھی جانتے تھے کہ میں کتنا ضدی ہوں۔۔۔15 جنوری کی تاریخ فائنل ہوئی جو ایک دن بعد تھی۔ سوچا تھا پورے ہسپتال کو سجا كے سب كے سامنے کروں گا نکاح اس سے۔ “
”پھر؟“ مانو پریشانی سے پوچھنے لگی۔ سالار نےاسے ایک زخمی سی مسکان دے كے ایک ٹھنڈی آہ بھر كے کہا۔
”پندرہ جنوری کی صبح 11:30پر نکاح تھا ہمارا۔ پندرہ جنوری کو ہی 9:47پر she left۔ “ اس كے یہ بولتے ہی سب کچھ تھم سا گیا۔ کنارے سے ٹکراتے پانی کا شور، فضا میں چلتی ہوا۔۔۔ہر طرف بس خاموشی چھا گئی۔ سالار کی آنکھوں كے آگے وہی دن گھوم رہا تھا۔
سالار یہ خبر سن كے ہسپتال میں پریشانی سے بھاگتا آ رہا تھا۔ امبر كے کمرے كے باہر پہنچا تو سب اندر رو رہے تھے۔ وہ بس بے سدھ کھڑا دیکھ رہا تھا۔ جیسے وہ یقین ہی نہ کر پا رہا ہو كہ کیا ہو گیا۔
”میں بھول گیا تھا وہ مجھ سے زیادہ ضدی ہے۔ وہ نہیں چاہتی تھی كہ مجھ پر شادی شدہ ہونے کا داغ لگے، اس لیے نکاح سے پہلے ہی۔۔۔“ اِس كے آگے وہ کچھ بول ہی نہیں پایا، بس سامنے ساحل پہ اٹھتی لہروں کو دیکھنے لگا۔ آنسوؤں کا ایک گولا جو حلق تک آ گیا تھا وہ اسے آنکھوں تک آنے نہیں دینا چاہتاتھا۔ جانتا تھا کہ اگرمانو کو دیکھا تو شاید رو دے گا۔ بہت کچھ تھا جو اِس وقت چل رہا تھا۔ ایک ہل چل بالکل اس ساحل کی طرح۔ درد اتنا تھا كہ ساتھ بیٹھی مانو بھی محسوس کر پا رہی تھی۔ اِس حد تک كہ اس کی نیلی آنکھیں بھیگنےلگیں اور ناک لال ہو گئی۔
”اسے کیا پتاكہ نکاح کاغذ كے دو ٹکڑوں پر نہیں دو دلوں كے بیچ میں ہوتا ہے، اور وہ تو میری دو سال پہلے ہی ہو گئی تھی۔ “ یہ بول كے ایک زخمی سی مسکان دیتے ہوئے اس نے مانو کو دیکھاجو بالکل خاموش بیٹھی تھی۔ ”تمھیں کیا ہوا؟“اسے یوں دیکھ کر پریشانی سےپوچھا۔
”کچھ نہیں۔ “یہ کہہ کر وہ اٹھ كے چلی گئی۔
”ارے سنو!“ سالار اس سے بات کرنا چاہ رہا تھالیکن مانو اپنی ہی سوچوں میں کھوئی چلی گئی تھی اور یادوں کی تصویروں کی ایک لڑی اس کی آنکھوں كے سامنے چلنے لگی تھی۔
”میری لائف تیرے جیسی چِل نہیں نا۔۔۔مجھےسمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ “ ایک دن روشی بیٹھا اسے بتا رہا تھا۔
”کیوں تیری لائف میں کیا مسئلے ہیں؟“ اس نے سادگی سے پوچھا۔
”بی بی تم لوگ آتے ہو اچھی فیملیز سے۔۔۔میری طرح نہیں اماں الگ رہتی ہیں، ابّا الگ۔۔۔پیار میں اماں سے کرتا ہوں اور رہنا ابّا كے ساتھ پڑتا ہے۔ “ روشی بڑی ایمانداری سے بتا رہا تھا۔ ”تو چھوڑ دے یار بڑی complicated لائف ہے میری۔ تیرے چھوٹے سے دماغ میں نہیں آئے گی۔ “ وہ خود ہی چڑ كے بات پلٹتے ہوئےبولا۔ مانو اس کے انداز پرہلکا سا ہنسی۔
سالار کی کہانی سن کر اس کی نیلی آنکھوں میں موتیوں کی مانند آنسو بھر آئے تھےاورناک سرخی مائل ہو گئی تھی۔ وہ کوشش کر رہی تھی كہ نہ روئےلیکن دل کا درد تھا كہ دماغ کی چلنےہی نہیں دے رہا تھا اور آنسو بےساختہ اس کی آنکھوں سے چھلک رہے تھے۔ رات تک وہ یوں ہی اپنے کمرے میں رہی اور کسی سے بات نہ کی۔ وہ اپنی بالکونی میں بیٹھی وہی سب سوچ رہی تھی كہ عالیہ کی کال آ گئی۔ وہ عالیہ سے بھی سب کچھ شیئر کرنے لگی۔
”ہر کسی کی لائف سے افیکٹ ہونا بند کر دے مانو!بھول گئی ہےکسی پر ترس کھانے کی بہت بڑی قیمت چکا رہی ہے ابھی تک۔ “
”ہاں عالیہ آئی نولیکن۔۔۔“
”مانو میں یہ نہیں کہتی کہ اس کی اسٹوری ایویں ہی ہے۔ دُکھی ہے، بہت دُکھی ہے یار۔۔۔لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ تو اس پر ترس کھاکر ایموشنلی اٹیچ ہونا شروع ہو جائے۔ دیکھ مانو تو بہت sensitive ہے، لوگوں کی باتوں کا اثر لیتی ہےلیکن میری جان!یہ دنیا بہت سخت ہے، یہ نوچ کھاتی ہے۔ فی الحال تیرے اپنے رولے بہت ہیں اب اس كے بارے میں سوچ سوچ كے پریشان مت ہونا۔ “
”.Don’t worry I won’t“اس نے بیڈ پر بیٹھے انگلی سے شیٹ پر دائرے بناتے ہوئےکہا۔ ایک طرف فاری سوئی ہوئی تھی اور وہ لیمپ کی ہلکی روشنی میں آہستہ آہستہ بات کر رہی تھی۔
”یو ول۔۔۔میں تجھے جانتی ہوں نا، پوری رات بیٹھ كے ماتم کرے گی اب اس کا۔ “ آلو غصے سے بولی تو وہ بے ساختہ ہنسنےلگی۔ وہ واقعی پوری رات کروٹیں لیتی رہی۔ رہ رہ كے سالار کا ہنستا مسکراتا چہرہ اس کی آنکھوں كے سامنے آ رہا تھا۔
”کتنا پیار کرتا تھا وہ، کیسے جی رہا ہوگا۔۔۔کیسے جی رہا ہوگا اس كے بغیر۔۔۔“وہ ایسے ہی لیمپ کی روشنی میں لیٹی اس كے بارے میں سوچتی کب سو گئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔
اگلے دن صبح میں مانو اٹھ كے ابھی فریش ہی ہوئی تھی كہ اس كے دروازے پر کسی نے دستک دی۔ وہ اکیلی ہی اس وقت کمرے میں تھی۔ اس نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے سالار کھڑا ہوا تھا۔ دونوں ہاتھ پیچھے باندھے۔
”ہائے!“اس نےبڑے خوشگوار انداز میں مسکرا کر کہا۔ صبح كے اِس پہر منہ دھوئے مانو کسی حسینہ سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بھی پہلے سے زیادہ نیلی اور چمکدارلگ رہی تھیں۔ کچھ دیر كے لیے سالار اسے دیکھ کر اس كے بےعیب حسن میں کھوسا گیا۔
”ہائے!تم اتنی صبح؟“ وہ ابھی حیرانی سے پوچھ ہی رہی تھی كہ اچانک سالار نے اپنے پیچھے چھپائی ہوئی کافی کی ٹرے نکال كر اسے دی جس میں تین کپ تھے اور ساتھ ہی دوسرے ہاتھ کو سامنے لایا تو اس میں ایک بہت ہی خوبصورت سفید پھولوں کا بکے تھا۔ یہ سب دیکھ کر مانو نے حیرانی سے پوچھا۔
”یہ کیا ہے؟“
”وہ کل میں نے اپنی اسٹوری سنا كے تمھیں کافی اپ سیٹ کر دیا تھا نا۔۔۔اِس لیےIt’s just a compensation۔ “ سالار نے بڑے ہی معصوم انداز میں وضاحت کی۔
”Yeah but یہ فلاورز۔۔۔؟“
”مانم تم بہت حساس ہو بالکل ان پھولوں کی طرح جانتا ہوں جانتا ہوں میری کہانی نے تمہیں اداس کر دیا ہے، لیکن تم اداس بالکل اچھی نہیں لگتیں۔۔۔تو ایک چھوٹی سی کوشش to cheer you up۔ “ سالار اتنے پیارے اندازمیں کہہ رہا تھا كہ نہ چاہتے ہوئے بھی مانو اسے بس حیرانی سے دیکھےگئی۔۔۔اور روشی کی آواز اس كے کانوں میں گونجنے لگی۔
”مانو تو اتنی sensative ہے نہیں جتنا تو بننے کی کوشش کرتی ہے۔ !Grow up“
مانو کھوئی ہوئی تھی جب کسی نے اس كے چہرے كے سامنے ہاتھ ہلایا۔ وہ دونوں ابھی بھی ویسے ہی دروازے میں کھڑے تھے۔
”کیا ہوا؟“
”میں سوچ رہی تھی کہ تمھاری جگہ مجھے تمھارے لیے کچھ کرنا چاہیے تھا۔۔۔“
”ارے نہیں ریلیکس۔۔۔ہیئر۔ “ اس نے پھول پکڑائے اورمانوان حسین سفید پھولوں کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی۔
”اندر آجاؤں؟“ اس كے سوال پر اسے ایک دم احساس ہوا كہ وہ راستہ روکے کھڑی ہے۔
”اوہ ہاں شیور!“ چیزیں ابھی بھی سالار كے ہاتھ میں ہی تھیں۔ مانو نے سر جھکائے کانوں كے پیچھے بال کرتے ہوئے اسے اندر آنے کا رستہ دیا۔ وہ اندرآ كے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا اور سامان ٹیبل پر رکھ دیا۔ مانو ابھی دروازے میں کھڑی پیار سے ان خوبصورت پھولوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔ سالار کافی ٹرے سے نکال کر اب میز پر رکھ رہا تھا۔ وہ سامنے آ كے بیٹھی تو فکر سے سالار کو دیکھنے لگی۔ سالار کو محسوس ہو گیا تھا كہ مانو اسے ہی دیکھ رہی ہے، اِس لیے وہ بنا دیکھے ہی کہنے لگا، ”میں ٹھیک ہوں مانم۔۔۔stop staring“ اور مانو ایک دم ڈر كے کہیں اور دیکھنے لگی۔ اس كے ایسے رد عمل پر سالار بےساختہ مسکرا دیا۔ ”چِل یار۔ “
”تم دکھی نہیں ہو؟“ مانو معصومیت سے پوچھنے لگی۔
”ہوں۔۔۔لیکن اب ہر وقت سب کو دکھانے سے بھی کیا ہوگا۔ “ سالار اسے دیکھ كے تھوڑا سنجیدہ سا ہو كے کہنے لگا۔
”پھر تم نے خود کو کیسے سنبھالا؟“اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔
”She’s goneوقت لگالیکن I accept it۔ غم کو بھلانے كے لیے گٹار بجاتا ہوں، یہ چیز مجھے خوشی دیتی ہےاور کچھ پلوں كے لیے لگتا ہےوہ یہیں ہے، مجھے سن رہی ہےاور دور سے بہت خوب کا اشارہ کر رہی ہے۔ “ وہ کہتے کہتے کھو گیااور پرانی یادوں کا ایک جھونکا اسے چھو کر گزارا جس میں وہ اپنی بالکونی میں کھڑا گٹار بجا رہا تھا اور امبر پاس کھڑی خوشی سے اسے سنتے ہوئےسراہ رہی تھی۔
”کتنا مشکل ہوگا نا؟“
”زیادہ نہیں، اس نے جانا تھا یہ طے تھا۔ جب پیار کیا تب بھی اور جب شادی کا فیصلہ کیا تب بھی۔ بس اتنی جلدی چلی جائے گی یہ نہیں سوچا تھا۔ “ دو منٹ تک خاموشی رہی۔ ایسے جیسے وہ اپنے غم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔
”خیر چھوڑو، جتنا یاد کریں گی اتنا ہی دکھ ہوگا۔ یو نو مانم! مانو پیار میں دکھ ملتا ہی ملتا ہے آج نہیں تو کل۔۔۔یہ تم نے ڈسائیڈ کرنا ہے کہ اس درد کو اپنی یاد بنانا ہے یا اس کے دیے پیار کو۔ “مانو اب بھی کھوئی ہوئی تھی۔
”پھر کھو گئی۔ “ تبھی وہ اپنے خیالوں سے واپس آئی اور اسے ترس بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ وہ اس كے درد کو بخوبی محسوس کر سکتی تھی۔ پیار کو کھونا کیا ہوتا ہےشاید وہ بھی اچھی طرح جانتی تھی۔
”See this look...I don't like this look of yours۔۔۔یہ جو ترس ہے نایہ نہیں چاہیے یار۔ یہی وجہ ہے کہ میں کسی سے اپنی کہانی شیئر نہیں کرتا۔ “وہ چڑ گیا تھا۔
”آئی ایم سوری۔ “ وہ ڈر كےکہنے لگی۔
”ریلیکس۔ “ ایک میٹھی مسکان اس كے چہرے پر آ گئی۔
”وہ کریکٹر کہاں ہے؟“
”وہ تو آج صبح ہی سن رائز دیکھنے چلی گئی۔ “
”Oh freakآج تو سن رائز دیکھنے جانا تھا۔ تم کیوں نہیں گئی؟“
”دل نہیں کیا۔ “
”یار میں بھول ہی گیا۔ “
”اٹس او کے اب سن لائٹ میں بیٹھ كے ایک ساتھ بریک فاسٹ کرتے ہیں۔ “ یہ کہہ كے مانو اٹھی اور انٹرکام پر ناشتے کا آرڈر دینے لگی۔ وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے بالکونی میں ناشتہ کررہے تھے جب فاری کمرے میں داخل ہوئی۔ اس كے آتے ہی کمرہ ایک دم رونق سے سرشار ہو گیا۔ کمرے میں ایک دم جیسے رونق سی آگئی۔
”واہ رے مائی لَو برڈز!ایک ساتھ۔۔۔اکیلے اکیلے۔ “ فاری آ كے ان دونوں کو دیکھ کر چھیڑنےلگی۔
” اُفف!ہو گیا اِس کا شروع۔ “مانو چڑکے بولی۔
”مذاق کر رہی تھی میری جان!“وہ اس كے کندھوں پر ہاتھ رکھ كے تسلی دیتے ہوئےکہنے لگی۔
”کیسا رہا؟“ سالار نےاپنے کھانے کا آخری نوالا لیتے ہوئے پوچھا۔
”انتہائی بکواس!اتنی چڑھائی چڑھا كے لے کر گئے کمر رہ گئی، اور جب تک ہم پہنچےسورج سر پر کھڑا تھا۔ کون سا سن رائز۔۔۔بونگی بکواس۔ اچھا ہوا تم دونوں نے مِس کر دیا۔ “ فاری کی وضاحت پر وہ دونوں ہی ہنسنےلگے۔
”خیر میں نے اس ٹرکش سورج کے ساتھ کچھ سیلفیز لی ہیں۔ “وہ اپنے موبائل میں کچھ اسکرول کرتے ہوئےکہہ رہی تھی۔ ”پاکستان كے سورج جیسا ہی ہے۔ “انھیں دکھاتے ہوئے کہنے لگی اور وہ دونوں پھر ہنسنےلگے۔
اگلے دو دن وہ یوں ہی ترکی کی محتلف سلطنتوں میں ہر قسم کی سیاحت سے لطف اندوزہوتے رہے۔ ترکی میں ان کا سفر اب بس ختم ہونے کی کگر پر تھا۔ اِس سفر كے ساتھ وہ تینوں بہت ہی حسین یادیں لے جا رہے تھے۔ خوبصورت منظر كے علاوہ وہ ایک دوسرے کی زندگی کی گہرائی میں جا پائے تھےجس نے ان کی دوستی کو اور بھی مضبوط کر دیا تھا۔ مانو کی زندگی كے پنّے ابھی بھی کسی گہرےکنویں میں دفن تھے۔ وہ انھیں کھولنے کی ہمت تو نہ کر پائی تھی لیکن ان كے ساتھ رہ کر بہت کچھ سیکھ گئی تھی۔ كہ غم ہر کسی کی زندگی میں ہوتا ہےاس سے ڈرنا ہے یالڑنا ہےیہ فیصلہ آپ کو کرنا ہوتا ہے، اور مانو نے فیصلہ کر لیا تھاكہ جب وہ پاکستان جائے گی تو اپنی زندگی کا ایک نئےسرے سے آغاز کرے گی۔ وہ ماضی کی یادوں کو خود پر سوار کر كے ڈرے گی نہیں بلكہ اس وقت اور اس لمحے سے جیسے وہ لڑی ہےاسے اب اپنی ڈھال بنائے گی۔
”واؤ یار یہ تو بہت ہی شاندار ہونے والا ہے۔ “ فاری خوشی سے آخری دن کا شیڈول پڑھتے ہوئےکہہ رہی تھی۔
”کیا ہوا؟“
” Ballroom dance and dinner at cruise۔۔۔ترکی میں آخری دن۔ “اس کے انداز سے ایکسائٹمنٹ عیاں تھی۔
”واؤ یار!Last day seems like grand“ سالار نےبھی خوشی سے کہا۔
”وہ تو ٹھیک ہے لیکن بالروم ہے۔۔۔میں کیا پہنوں گی؟“ فاری کو نئی پریشانی لاحق تھی۔
”لیٹس شاپ۔ “ مانو خوشی سےکہنے لگی۔
”محلےوالوں سے مانگ مانگ كر اِس ٹرپ كے پیسے اکٹھےکیے ہیں۔۔۔شاپ ٹرکش بھیک مانگ كر کروں کیا؟“ فاری کی بات پر وہ دونوں ہنسنے لگی۔ ” ویسے بھی میں بڈھی ہوگئی ہوں۔ یہ میکسی اور فراکس تم جیسی بچیوں پر اچھی لگتی ہیں۔ “
”کوئی بڈھی نہیں ہوئی۔ یوآرجسٹ 27سو جسٹ کم، لیٹس شاپ۔ “ مانو یہ بول كے اسے کھینچ کر لے گئی اور تینوں نکل پڑے شاپنگ کرنے۔ وہ گلیوں سے لے كے بازار اور بازاروں سے مال ہر جگہ گئے، لیکن کہیں فاری کو لباس پسند نہیں آیا تو کہیں اس لباس کی قیمت۔ وہ یونہی تماشے کرتی رہی اور مانو نے پھر آخرکار اسے ایک بہت ہی خوبصورت لباس دلوایا۔ مانو نے خود كے لیے بھی ایک لمبی میکسی خریدی۔ وہ بہت ہی دلکش تھی، دیکھتے ہی بھا جانے والی۔
شام میں تینوں بہت اچھا سا تیار ہوئے۔ سالارنے شیشےمیں خود کو دیکھ کر ایک گہری سانس لی۔ کالے پینٹ کوٹ میں وہ انتہائی ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس كے دماغ میں کچھ چل رہا تھا جس میں وہ بہت الجھا ہوا سا تھا۔ انھیں الگ الگ ہوٹل کی خاص گاڑیوں میں لے جایا گیا۔ فاری اور مانو الگ سے ایک گاڑی میں گئے، سالاروہاں پہلے ہی پہنچ گیا تھا۔ کھلے آسمان تلے ایک وسیع اورعریض کروز پران كے لیے یہ انتظام کیا گیا تھا۔ ان كے علاوہ دنیا بھر سے آئے سیاحوں نے اس میں شرکت کی۔ سب ہی رنگا رنگ لباس میں ملبوس جوڑے بنائے اِس خوبصورت شام میں شرکت كے لیے آ رہے تھے۔ سالار کی نظریں دروازے پر ہی تھیں۔ وہ دیکھنا چاہ رہا تھا كہ اس خوبصورت لباس میں مانم کیسی لگے گی۔ اتنے میں دروازے سے فاری داخل ہوئی۔ لائٹ پرپل کلر کی ایک سیدھی سی پیروں تک آتی میکسی كے ساتھ اونچی ایڑی کی سیڈل پہنے، سادے سے بالوں کو ایک بکھرے سے بن میں باندھے وہ سیڑھیوں سے اترتی اندر داخل ہو رہی تھی۔ بالکل ہلکےسے میک اپ كے ساتھ وہ سادی لیکن خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کی کھلی مسکان اس کی شخصیت میں چارچاند لگا رہی تھی۔ یوں مسکراتے ہوئے اس کی نظر جب سالار پر پڑی تو دور سے ہی اسےہائےکرتی ہوئی اس كے پاس آئی۔
”اوہ مائی گاڈ!سالار تم انتہائی ہینڈسم لگ رہے ہو۔ “اس كے کہنے پر سالار نےمسکرا کر نظریں جھکائیں اور اسے شکریہ کہنے لگا۔
”ٹرسٹ می ان گوڑی چمڑیوں کو کمپٹیشن دے رہے ہو آج تو۔۔۔“ وہ ہنسنے لگا۔ نظریں ابھی بھی دروازے پر ہی جمی ہوئی تھیں۔
”وہ کہا ں ہے؟“ آخر کار پریشانی سے اس نے پوچھ ہی لیا۔
”پیچھے ہی تھی بس آ رہی ہو گی۔ سو آل سیٹ؟“ فاری سالار کو شرارت سے کہنی مارتے ہوئے پوچھنے لگی۔
”آئی گیس۔ “ اس نے گھبراتے ہوئے کہا۔
”ڈونٹ بی نروس۔۔۔بی آ چیتا۔ “ فاری اسے حوصلہ دیتے ہوئےکہنے لگی۔ وہ بس ہنس رہا تھا۔ سب آ رہے تھےلیکن سالار کو بےصبری سے بس اسی کا انتظار تھا۔ اتنے میں اچانک کروز کی لائٹس بجھا دی گئیں اور وہاں کھڑی میزبان اعلان کرنے لگی كہ آج رات كے خصوصی مہمان تشریف لا چکے ہیں۔ جس پر سب کی آنکھیں دروازے پر مرکوز ہوگئیں اور اندھیرے میں بس ایک اسپاٹ لائٹ دروازے پر ڈالی گئی۔ اسپاٹ لائٹ كے پڑتے ہی جو پہلا شخص جو وہاں سے داخل ہوا وہ مانو تھی۔ سالار نے جب مڑ کر دیکھا تو مانو گھبرا کر سامنے دیکھ رہی تھی۔ اس نے اسے دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔
اس نے بوٹل گرین کلر کی ایک انتہائی خوبصورت میکسی پہنی ہوئی تھی۔ سالار پہلی بار اسے میک اپ میں دیکھ رہا تھا۔ اسپاٹ لائٹ کی روشنی میں چمکتی اس کی دودھ سی سفید جلد دمک رہی تھی۔ اس كے لمبے سنہری بال جنھیں نیچے سے اس نے کرل کیا ہوا تھا، کسی گڑیا كے بالوں کی مانند چمک رہے تھےاور گہری نیلی آنکھوں میں لگا کاجل اس کی آنکھوں کی رنگت کو اور نمایاں کر رہا تھا۔ اچانک اسپاٹ لائٹ پڑنے پر اس کی آنکھیں چندھیا رہی تھیں۔ سب کی نظریں خود پر پا کر وہ بہت گھبرا گئی تھی۔ گھبرانے سے اس کے گال بالکل سرخی مائل ہوگئےاور یوں ایسے گھبراتے ہوئے وہ اس اندھیرے میں کسی اپنے کو تلاش کرنے لگی۔ اتنے میں اس کےپیچھے سے مہمانِ خصوصی نمودار ہوئے۔ وہ اس سلطنت كے وزیر تھےجنھوں نے اپنے نجی کروز پر سیاحوں كے لیے یہ خاص پروگرام منعقد کیا تھا۔ انھیں دیکھتے ہوئے میزبان نے اعلان کیا اور سب نے ان كاتالیوں سے استقبال کیا۔ مانو كے قدم ابھی بھی وہی جمے ہوئے تھے۔ وزیر كے گزرتے ہی نزاکت سے اپنے وسیع لباس کو اٹھائے وہ احتیاط سے سیڑھیاں اترنے لگی۔
You have read 12% of مانا کہ ہم یار نہیں - Mana k hum yar nahin- Romantic Urdu Novel. The full e-book picks up right where this stopped.