12% of the book — free to read
تانیثیت کا نیا دَور(اوّل)
نیا اسلوب، نئی عورت
(نسائی افسانہ 1919 سے2019 تک، ایک مباحثہ)
بشریٰ اقبال ملک، ڈاکٹرحمیرا اشفاق
اس شعور کے نام جو انسان میں غلطی کے اعتراف
اور انصاف کا جذبہ بیدارکرتا ہے۔
اس احساس کے نام جو سچا شاعر ، مصور موسیقاروگلوگار،
حاملہ عورت
اور
نا بینا آنکھیں
محسوس کرتی ہیں
اس علم کے نام جو نور دیتا ہے۔




کہنے کو یوں تو عشق کا جادو ہے میرے پاس
پر میرے دل کے واسطے اتنا ہے اس کا بوجھ
سینے سے اِک پہاڑ سا ہٹتا نہیں ہے یہ
(امجد اسلام امجد)
پاک وومن فورم رائیٹرز فورم کی جانب سے ’’تانیثیت کا نیا دور‘‘ کا آغاز کیا جارہاہے ۔ جس میں اردو ادب کے میدان میں نسائی آواز کو تقویت دینا مقصود ہے۔ اس تحریک کو کتب کے ایک سلسلے کے ذریعے شروع کیا جارہا ہے ۔جس کا مقصد ادب کو زنانہ یا مردانہ ڈبوں میں بانٹنا ہر گز نہیں ہے بلکہ خواتین کی ایک صدی کی کاوشوں کو ایک کتاب میں یک جا کر کے پیش کرنا ہے ۔
اس سلسلے کی پہلی کتاب ’’نیا اسلوب ،نئی عورت‘‘ ۱۹۱۹ء سے ۲۰۱۹ء تک خواتین افسانہ نگاروں کے اس شعور کا جائزہ ہے جو بحثیت انسان اسکو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ کہانیاں موضوع کی بنیاد پر منتخب کی گئی ہیں افسانہ نگاری کے محاسن کو کم دیکھا گیا ہے کیونکہ ہر زمانہ اپنے محاسن خود بناتا ہے۔
فورم ہر سال اردو ادب کی کسی ایک صنف پر تانیثیت کے حوالے سے کام کرنے والی ادیب شاعر و محقیق خواتین کومتعارف کروانے کے ساتھ خواتین کی اجتماعی آواز کو بلند کریگا جس کوکسی بھی طرح ادب یا مردانہ ادب سے مخالفت مخاصمت یا مسابقت سمجھا جانا غلط ،نا سمجھی یا کم علمی تصور کیا جائے گا۔
یہ سلسلہ پاک وومن رائیٹرز فورم اور بین الاقوامی سماجی تنظیم ، سائیٹ سیورز ،جو بینائی سے محروم اور معذور افراد کی بحالی کی بین الااقوامی تنظیم ، کی ایک مشترکہ کوشش ہے۔ کتب کے اس سیریز سے پاکستان کے نسا ئی ادب اور تانیثیت پر مبا حث کے آغاز کے ساتھ ادب کے میدان میں موجود معذور و نابینا خواتین کو بھی برابری کی بنیاد پر ادبی میدان میں ، اپنی ذہانت اور فطانت سے معاشرے کو فیض یاب کرنے کا شکریہ ادا کرناہے ۔
اسکے علاوہ نووارد اور مستند اساتذہ خواتین افسانہ نگاروں کے افسانوں کو یک جا کرکے تجزیہ نگاروں اور قانون ساز اداروں اور خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظمیموں کو نسائی شعور کی پہنچ اور تانیثیت کے احساس کی قوت اور اسکے درست سمت میں استعمال سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں ۔
اس کتاب کو اردو کی اہل قلم خواتین کے ادراک اور ہوش کے مطالعاتی جائزے کی کتاب بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ماضی اورحال کی افسانہ نگار خواتین کے ایک صدی پر محیط افسانوںکو یک جا کرکے پیش کرنا دراصل آج اور کل کی خاتون کے شعور و آگہی کے فرق اور معیار کو جاننا اور نئی اور پرانی سوچ کے زاویوںپرسنجیدگی سے غور کرناہے۔
حقیقت میں یہ خواتین کا خواتین ہی کی تحریروں کے ذریعے احتساب اور کھوج کا عمل ہے ۔ کیونکہ ہمیںکھوج ہے کہ کیا جدیدخاتون خود کو صنف نازک اورمرد کو صنف سخت ماننے کو تیار ہے ؟ کیا مرد اور عورت بحیثیت انسان برابر ہیں؟
اور احتساب یہ کہ مردوں کی محتاج بننے سے انکاری خاتون خود پر لگائے گئے (نافرمان، بدکردار ،خود سر، گناہ گار اور باعث گناہ ) جیسے الزامات کا سامنا ، معاشی ترقی کے دور میں کس طرح کر رہی ہے ۔ اس کے صبر اور برداشت کا پیمانہ کیا ہے ؟
یہاں عام پاکستانی خاتون کی زندگی اور حالات کے ذریعے معذور خواتین کے مصائیب اور مشکلات کا احساس بیدار کرنے کی سعی بھی شامل ہے۔
معلوم یہ بھی کرنا ہے کہ کیا خواتین قلمکاروں کی تعداد ہر دور میں کم رہی ہے اورکیوں ؟ اگر کمی ہے تو کیا اسے خواتین پر اپنے اظہارپر گھر کے مردوں کی پابندی سمجھا جا ئے یا پھر مواقعے اور تربیت میں کمی کو وجہ نیایا جائے ، یا پھر اس بات پر سر تسلیم خم کر لیا جائے کہ خواتین میں اپنی بات کہنے ، اپنی ذات اور خواہش کاا ظہار کرنے کی صلاحیت قدرتی طور پر نہیں ہوتی یعنی عورت مرد کے مقابلے میں کم عقل پیدا کی گئی ہے واقعی اس کی اوقات جوتی اور لباس جیسی ہے جب چاہو بدل لو اس پر کو ئی فرق نہیں پڑتا۔ اور وہ تمام فرمان اور تصورات جو پرانی کتب میں ہیں ،واقعی درست ہیں ؟
اس کتاب کو تحقیق کرنے اور ان موضوعات پر سوچنے کی دعوت دینے کے لیے کئی حصے میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلا دریچہ فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور ربط اور انکے مقاصد کی ذیل میں خصوصی خواتین کے مصاحبہ ھا پر مشتمل ہے ۔
دوسرا دریچہ ، تانیثیت اور نسائی ادب و آواز کے حوالے سے مضامین اورمحترمہ کشور ناہید صاحبہ کا مصاحبہ اور محترمہ فاطمہ حسن صاحبہ کا نسائی ادب پرمکالمہ اورہمارے مضامین ’’پاکستانی ، مسلم یا اسلامی تانیثیت‘‘، ’’عورت کو لکھنا ہو گا‘‘ اور ’’ خواتین کا ادب کے ارتقاء میں حصہ ‘‘ شامل ہیں ۔
تیسرے دریچہ ماضی کی ان افسانہ نگار کو دیکھاتا ہے جنہوں نے اردو ادب کے آغاز سے 1980کی دہا ئی تک، بر صغیر کی خواتین کی سوچ کوبیان کیا ہے ۔ جس میںعورت کا ،اپنی حالت نہ بدلنے کا شکوہ ،ہر ظلم اور زیادتی سہہ کرشرم وحیا کا منبع بن کر رہنے کو ترجیح دینے، قربانی کا سمبل بن کرعظمت کے تاج پہننے کے شوق کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔
خواتین اہلِ قلم کی جدو جہد کو گزشتہ دو صدیو ں کی رو شنی میں دیکھا جائے تو ان کی فنی و فکری جہات کا بخو بی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔جب ان پر مکتب کے دروازے مقفل اور ان کی صلا حیتوں کو زنان خانوں تک مقید کر دیا گیا تھا۔ با شعور خواتین کے مزاحم رویوں کے باوجود سر سید کی روشن خیالی کا ستارہ بلند تھا ڈارون کی تھیوری اور سائنسی نظریات پر یقین رکھنے والے روشن خیال دانشور مرد بھی خواتین کے لیے محض دینی گھریلو تعلیم کو کا فی سمجھتے تھے۔اسی دور میں ڈپٹی نذیر احمد کی مثالی عورت کا خاکہ تیار ہوا ۔ نوآبادیاتی اثرات کے نتیجے میں متزلزل مسلم تہذیب کا سارا بوجھ اکبر الہٰ آبادی جیسے شاعروں نے عورت کے کا ندھوں پر ڈال دیا تھا۔اس صورتِ حال میں مولوی ممتاز علی اور شیخ عبداللہ جیسے مدبرسامنے آئے جنہوں نے مخالفت کے باوجود خواتین کے حقوق کے لیے عملی جدو جہد کی۔اس ضمن میں بیگم عبداللہ(عالاں بی) اور محمدی بیگم اور بیگماتِ بھوپال کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔
محمدی بیگم کی ادارت میں مجلہ ’’تہذیب النسواں‘‘ ۱۸۸۹ء میں منظرِ عام پر آیا شدید ردِعمل کے باوجود وہ خواتین کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینے میں کا میاب رہیں جس میں وہ اپنی تخلیقی صلا حیتوں کا اظہار کر سکیں۔شعورِ نسواں کے فروغ کے لیے شیخ عبداللہ کی ادارت میں مجلہ ’’خاتون‘‘ ۱۹۰۴ء میں منظر عام پر آیا جس کا بنیادی مقصد خواتین کے لیے باقاعدہ تعلیم کے اداروں کا قیام اور فروغِ تعلیمِ نسواں کے لیے راہیں ہموار کرنا تھا۔ ان رسائل نے خواتین کے سفر نامے اور مضامین کا سلسلہ شعر و ادب کے ساتھ ساتھ جاری رکھا۔ جس سے خواتین کو دنیا میں ہو نے والے تغیرات سے آگہی اور روایتی سانچے سے ہٹ کر اپنی راہ بنانے کا رجحان عام ہوا۔اس دور میں عطیہ فیضی اور شائستہ اکرام اللہ جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ اہلِ قلم بھی سامنے آئیں جنہوں نے یورپ کے اسفار بھی کیے اور اپنی ہمہ جہت تخلیقی صلا حیتوں کا اظہار بھی کیا۔ اردوادب نے رومانویت کے اثرات قبول کیے تو حجاب امتیاز علی رومانوی ادیب کے طور پر سامنے آئیں۔ ان دنوں قرۃ العین حیدر جیسی ادیبہ نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا اور تاریخ اور تہذیب کے سنگم سے ’’آگ کا دریا'‘‘ جیسے کئی ناولوں سے اردو ادب کو سرفراز کیا۔یہ بات بغیر کسی صنفی تفریق کے کہی جا سکتی ہے کہ قرۃ العین حیدر اردو ناول کا سب سے معتبر حوالہ ہے۔’’ روشنی کا سفر‘‘ اور ’’فوٹوگرافر‘‘ جیسے لا زوال او ر منفرد افسانے بھی قرۃالعین حیدر کے تخلیقی شعور کا ہی خاصہ ہیں۔عالمی اثرات قبول کرتے ہو ئے اردو ادب میں حقیقت نگاری کا رجحان عام ہوا تو رشید جہاں نے ’’دلی کی سیر‘‘ جیسا افسانہ لکھ کر ’’انگارے‘‘ کی تپش اور بڑھا دی۔ جب ۱۹۳۶ئمیں افسانوی مجموعہ ’’انگارے‘‘ پر پا بندی لگی تو روایت پسند مولویوں نے عورت سمجھ کر ’’رشید جہاں‘‘ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔صرف یہی نہیں بلکہ مساجدسے بھی رشید جہاں کے خلاف بہت نفرت انگیز تقاریر کی گئیں۔قتل اور ناک کا ٹنے کی دھمکیاں اس سے سوا تھیں۔لیکن انہوں نے اپنا سفر جا ری رکھا۔وہ شیخ عبداللہ جیسے تعلیمِ نسواں کے حامی کی بیٹی اور پہلی گائنا کالو جسٹ تھیں۔
ترقی پسند ادب میں ’’عصمت چغتائی‘‘ جیسی معاشرتی جبر سے باغی آوازیں بھی اُبھریں۔جن کی شدت نے بے ضمیر معاشرے کو جھنجھوڑ نے کی ہر ممکن سعی کر ڈالی۔ان کے ناول،افسانے اور خاکہ نگاری جیسی صفات کو پسِ پشت ڈالتے ہو ئے انہیں ایک افسانے ’’لحاف‘‘ تک محدود کر دیا گیا۔
اسی دور میں خدیجہ مستور اور ہا جرہ مسرور نے بھی اردو افسانے میں فسادات سے لے کر مہاجرت تک کے مسائل کو بڑی مہارت سے پیش کیا۔ رضیہ سجاد ظہیر بھی ترقی پسند ادب کی ترجمان بن کر اُبھریں اور اردو افسانے میں منفرد مقام بنایا۔خدیجہ مستور نے اعلیٰ اور متوسط طبقے کی بجائے پسماندہ طبقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کی حتیٰ الوسع کوشش کی۔
قیام پاکستان کے بعد اردو افسانے میں خواتین اہلِ قلم نے کئی سنگِ میل عبور کیے۔ مارشل لاء کے نتیجے میں اظہار کا پیرایہ علامت ٹھہری تو خالدہ حسین نے ’’ہزار پایہ‘‘ اور ’’دروازہ‘‘ جیسے افسانے تخلیق کیے جن میں جدید فرد کے دا خلی مسائل کو بڑی فنی چابک دستی کے ساتھ پیش کیا۔ خواتین کے مسائل اور ان کے ساتھ پیش آ نے والے مسائل کو ’’یارِ من بیا‘‘ اور ’’واشنگ مشین‘‘ میں اس طور پیش کیا کہ کہانیاں جذبات کا نوحہ بننے کی بجائے معاشرے کا آئینہ بن گئیں۔
واجدہ تبسم کا ’’اُترن‘‘ اور فردوس حیدر کا ’’گائے‘‘ بھی معاشرے کے تضادات کی بھرپور عکا سی کرتے ہو ئے افسانے ہیں۔اسی طرح نیلم احمد بشیر کا افسانہ ’’گلابوں والی گلی‘‘ ہمارے ارد گرد مریضانہ ذہنیت کا شکار افراد کا چہرہ آشکار کرنے کی کو شش ہے۔فردوس حیدر کا افسانہ ’’گائے‘‘ کو بڑے منفرد اور علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔
متذکرہ بالا افسانہ نگار خواتین نے اپنے قلمی سفر میں انتہائی مشکلات کا سامنا کیا لیکن اس کے باوجود انہو ں نے ہر معاشرتی ناہمواری پر صدائے احتجاج بلند کی۔انہو ں نے ادبی سفر میں ایسے ان مٹ نقو ش ثبت کیے جن کے تتبع میں خواتین قلم کاروں نے اپنی راہیں متعین اور ہموار کیں۔
چوتھا دریچہ ۸۰ء کی دھائی کے بعد سے ۲۰۱۹ تک خاتون کے قلم و ذہن کی پرواز کا اندازہ لگا رہاہے۔ معاصر افسانہ نگار خواتین کے ذریعے پاکستانی کی خواتین کی زندگی، سوچ اور خواہشات کے نئے پہلوؤں کااندازہ ہوتاہے کہ خواتین خود اپنی ذاتی ترقی اور استحصال کا جائزہ کیسے لے رہی ہیں یوںافسانہ نگار خواتین کی ایک نئی کھیپ کو متعارف بھی کروایا جا رہا ہے جو پاک وومن رائٹرز فورم کے پلیٹ فارم سے خاتون کی قدرو قیمت اہمیت اور صلاحیت کو قلم کے ذریعے منوانے میں مصروف عمل ہیں۔ بلا شک و شبہ یہاں سب کی تحریر موجود نہیں ۔ بہت سی نامی گرامی خواتین افسانہ نگار اتنا سکہ منوا چکی ہیں ۔فورم انکی قدر کرتا ہے اور انکی ہمتوں اور ذہانت کو سلام پیش کرتا ہے کہ انہوں نے اس جاگیردارانہ، مردانہ ماحول جس کو حکومت کی پشت پناہی بھی میسر ہے پر عزم طریقے سے لکھ کر اپنا سکہ منوایاہے۔
ذہانت اور عزم کے اس دریا میں سے کچھ نئی اور پرانی افسانہ نگار خواتین کی تحریروں کو جمع کر کے انکا تقابلی جائزہ لینا ان کے نسائی شعور کی منزلوں کا اندازہ لگانا قارئین اور ماہرین کی ذمہداری بنتی ہے ۔
چونکہ تانیثیت کا حوالہ ہے اس لیے ادب ، سماج اور نفسیات کے متحقیقین ان کہانیوں کو مفید پا ئیں گے۔ کیونکہ افسانہ نگار اپنے معاشرے کے باسیوں کے جذبات وماحول اور لوگوں کے رویوں کو لفظوں میں پرو کر واقعات کی حساس لفظی ڈاکیومنٹری بنا تاہے ۔
تانیثیت یعنی Feminism معاشرے کو متوازن اور مہذب بنا نے کا ایک عمل ہے۔ یہ اس آگہی کا نام ہے جس سے پچھلی نسل بے خبر رہی ہے۔ عورت جو خود کو مکمل انسان سمجھنا بھول بیٹھی تھی اور خود کو مرد کی ضرورت اور آرام کا ذریعہ سمجھ رہی تھی بیدار ہو ئی اس میں نسائی شعور بیدار ہوا کہ مرد اور عورت ایک دوجے کے لیے لازم ملزوم ہیں اور دونوں کے ایک دوجے پر برابر کے حقوق ہیں۔ جدیدافسانوں میں ہمیں وہ سوال اور سوچ کے زاویے محسوس ہونگے جو وہ ماضی کی کہانیوں میںموجود نہیں ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ شعور کا جو رنگ پرانی عورت میں تھا، وہ جدید کہانیوں میں کم نظر آتا ہے۔ آگہی الہام کی طرح نہیں اُترتی اس کے پیچھے جستجو کا ایک شعوری اور لا شعوری سلسلہ ہوتا جو معاشرے میں تبدیل لاتا ہے ۔ ایک معاشرت میں دوسری معاشرت کے آثارکو تلاش کرنا تحقیق کا فن ہے۔
مغربی معاشرت میں بھی بائبل کے دلائل کے ساتھ حکم خدا کے طور پر، چرچ کے جاری حکم سے خواتین کو اللہ کے حکم کی نافرمانی کرنے پر زندہ جلا دیا جاتا تھااور اس آتش زنی کو دیکھنے لوگ دُور دُور سے آتے اور جذبہ ایمانی سے بھرپور نعرے بازی کی جاتی ۔ Alice Kyteler کو 1324 میں چڑیل کہہ کر جلا دیا گیا تھا۔ Claire Nolan کا ناول "The stone" اور مشہور فیمینسٹ Robin Morgan کا ناول"The Burning Time" یورپ میںعورت ذات پر ہونے والے بھیانک مظالم کی تصویر کشی کرتے ہیں۔
مغرب کی خواتین نے اپنے حالات کو بدلنے کے لیے بے حد جدوجہد کی آج ان کے حالات بدل گئے جس کی وجہ حکمرانوں اورچرچ کا اپنے ان بھیانک اقدامات پر شرمسار ہونا اور اپنی ان زیادتیوں کا اعتراف تھا۔
اس کتاب کا قاری ان نکات پر سنجیدگی سے غور کرے اور سوچے کہ ہمارا مذہبی اور ادبی وثقافتی سرمایہ مرد کی غیرت ،عزت کی کہا نیوں سے بھرا پڑاہے اور یہی کہانیاں قِصّے اور نصابوں میں اسباق، معاشرے کے بچے بچے کی سرشت ہیں۔وہ ان سے الگ ہو کرسوچ ہی نہیں پاتے۔ ان کو عورت ہی عزت وبے عزتی کی وجہ لگتی ہے۔ عورت کو انسان کے بجائے ایک ایسی قیمتی شئے سمجھا جاتا ہے جو اپنی حفاظت خود بھی نہیں کر سکتی ۔ ادب، میڈیا اور نصاب مل کر معاشرے کی نفسیات اور رویہ بنا تے ہیں۔ کہانیوں، شاعری اور ڈراموں کے موضوعات ہی معاشرتی رویوں میں تبدیلی لاسکتے ہیں اور تبدیلی وہ ہی لاتا ہے جو تکلیف میں ہوتا ہے ۔
پاکستانی پدر شاہی معاشرے میںکچھ ایسے نظریات اور اقدامات کو درست تصور کیا جاتاہے جو انسانی حقوق اور انسانیت کے منافی ہیں۔ عام افراد ان تصورات کواپنی معاشرت اور روایات اور مذہبی احکامات سمجھتے ہیں ۔ ان حالات میں آگہی کا بیج بو نا بہت مشکل امر ہوتا ہے۔
کہانی، ڈرامہ اور شاعری ازل سے آگہی دینے کے مؤثر ترین ذرائع چلے آ رہے ہیں اس لیے ہم نے نئے او ر پرانے وقت کی عورت کے افسانوں کا مجموعہ شائع کرکے معاشرے کی اک مجموعی فکر بنانے اور خواتین کے درد کومحسوس کرنے دعوت دی ہے۔
بشریٰ اقبال اور حمیرا اشفاق
۲۰۱۹
رابیعہ بصری
یہ فورم پاکستانی معاشرے میں ادب و آرٹ سے شغف اور محبت رکھنے والی خواتین کے لیے ہے جن کو وسائل اور مواقع نہیں ملتے ہیں۔ اس لیے پاکستان وومن رائیٹرز فورم نے انیس سو نوے کی دھائی میں قومی ،علاقائی اور بین الاقوامی زبانوں میں لکھنے والی اہلِ قلم خواتین کی ترویج اور ترقی کے لیے کام شروع کیا ۔ اس کی منتظم اور رُوحِ رواں بشریٰ اقبال نے سلمیٰ مسعود خان اور سلمیٰ علی خان کی مدد سے پشاور میں نرجس افروز ریدی کی رہائش گاہ پر اس فورم کا آغاز کیا۔ اور پشاور میں، ۸مارچ کو خواتین شعراء کے خواتین کے لیے پہلے مشاعرے سے اس کا افتتاح کیا گیااس مشاعرے کا انعقاد پشاور وومن ڈویلپمنٹ سینٹر کی چیئر پرسن معراج ہمایوں نے کیا تھا۔
قیام کے وقت تک سر حد (خیبر پختونخواہ )میں میںکوئی ایسی تنظیم نہ تھی جو ادب وآرٹ کے میدان میں آنے والی نو آورد لڑکیوں اور خواتین کو پلیٹ فارم اور باعزت اور محفوظ ماحول مہیا کرتی۔ بشریٰ اقبال جو خود ، ایسے فورم کی تلاش میں تھیںاور پشاور کی ادبی محافل میں جا نا چاہتی تھیں مگر ان محافل میںخواتین کی شمولیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ انہوں نے ادیب اور شاعر خواتین وحضرات سے ان وجوھات کو جاننے کے لیے انٹرویو کیے اور ادب، شاعری اور علم کی دلدادہ خواتین کے ساتھ مل کر اس پلیٹ فارم کو قائم کیاجو ہر طبقہ فکر کی خواتین کے لیے قابلِ قبول ہے اور لڑکیوں اور خواتین کے لیے اک حو صلہ ہے جو اپنے ہی گھروالوں کی حوصلہ شکنی اور روک ٹوک یا بدنامی کے خوف کے باعث میدانِ ادب میں متعارف نہیں ہو پاتی ہیں ۔ ماضی میں کچھ خواتین مرد ادیب شعرا ء سے اصلاح اور مدد لینے پر نا پسندیدہ تجربات سے دوچار ہوچکی تھیں، فورم کا قیام ان واقعات کے تدارک کے لیے بھی تھا ۔ خواتین کو ایک مضبوط تنظیم کی ضرورت تھی جو ان کو نہ صرف ادبی حلقوں میں متعارف کروائے اور تحفظ بھی فراہم کرئے اور قوم کی تعمیر اور ترقی میں لڑکیوں اور خواتین کو اپنا حصہ ڈالنے کے با عزت مواقعے بھی میسر کرتی ر ہے۔
محترمہ سلمیٰ مسعود ، محترمہ سلمیٰ علی خان، نرجس افروز زیدی ، نیلو فر سمع اور بہت سی دیگر خواتین نے مل کر فورم کا پہلا الیکشن کروایا۔
فورم کی فاؤنڈر ممبرزمیں محترمہ سلمیٰ مسعود ، محترمہ سلمیٰ علی خان، نرجس افروز زیدی ، شمشاد نازلی ،راحت جوش ،نیلوفر سمعی ، مسز ناہید وصال ، ثروت محسن احسان اور مرحومہ نیر رمضان کے نام نمایاں ہیں۔ فورم کی پہلی صدارت مایہ ناز ادیبہ و شاعرہ محترمہ زیتون بانو کو ملی اور کئی سال تک وہ اس عہدے پر فا ئز رہیں ۔ فورم نے ان کی شخصیت اور ادبی قد سے بہت فیض حاصل کیا وہ آج بھی فورم سے منسلک ہیں۔ دوسری صدر محترمہ پروفیسر منور رئوف صاحبہ، تیسری محترمہ عطیہ ہدایت اللہ اور چوتھی محترمہ ثمینہ قادر اور پانچویں محترمہ بشریٰ فرخ صاحبہ رہیں۔
۲۰۰۸ء کے بعد اس فورم کو ینگ وومن رائٹرز فورم کے نام سے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں پھیلا دیا گیا۔ جہاں ہر شہر میں ان کی اپنی کا بینہ اور اپنا انداز ہے۔ ینگ وومن رائیٹرز فورم، پاک وومن رائیٹرز فورم کی وہ شاخیں ہیں جو ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میںپھیلی ہو ئی ہیں اور پہچان اور تلاش کے اس سفر کو تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے لیے یہ فورم تشکیل دیا گیا ہے ۔ اس پلیٹ فارم سے ۱۹۹۴ء سے آج تک ہزاروں خواتین اور لڑکیاں فیض حاصل کر چکی ہیں ۔ یہ فورم چونکہ کوئی ممبر شپ فیس نہیں لیتا ہے اس لیے یہ پاکستان کی ہر خاتون قلم کار اور فنکار ہ کا پلیٹ فارم ہے۔ اس پر کبھی بھی ایک گروپ یا کسی مخصوص شخصیت کی اجارہ داری نہ ہو سکی ہے ۔ ہر گروپ اپنی مد د آپ کی بنیاد پر کسی بھی فنڈ اور سرمائے کے بغیر کام کرتاہے ۔ ملک بھر سے ادب نواز اور آرٹ سے تعلق رکھنے والی خواتین اور یونیورسٹیوں کی طالبات خلوص اور دل جمی سے زبان و ادب اور آرٹ کے تحفظ کے ایک منفرد ، محفوظ اور انوکھے انداز میں ملک و قوم کی خدمت سر انجام دیتی ہیں۔
فورم کے سامنے پاکستانیت، زبان اور عورت یہ وہ تین نکات ہیں جن پر سنجیدگی اور ذہانت سے درست سمت میں کام کرنے کے لیے ایک منشور تیار کیا گیا ہے اور فورم کو سو سائٹی ایکٹ کے ذریعے رجسٹرڈ کروایا گیا ہے ۔
پاکستان وومن رائیٹرز فورم نے اپنے ابتدائی دور ہی میں پشاور سے اردو ادب کے حوالے سے شاعری میں نرجس افروز ، بشریٰ فرخ ،صوفیہ احمد، شاہدہ سردار،خالدہ عظمیٰ،حمیرا شفق کومتعارف کروایا اور نثر میں غازیہ شاہد ،شمیم فضل الخالق ، مشرف مبشر اور ھما بیگ ،عطیہ ہدایت اللہ کے نام زیادہ نمایاں ہیں ۔ اور ان تمام کے شعری مجموعے اور نثری کتب منظر عام پر آئیںاور اکثر کتب کی شاندار رونمائیاں کروائی گئیں۔ خود فورم کی بانی بشریٰ اقبال ملک نے اپنا پہلا افسانہ اسی پلیٹ فارم پر پیش کیا اب ان کے دو افسانوی مجموعے ہیں۔ جن میں سے چند افسانوں کاانگریزی ، جرمن، عربی اور فارسی زبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ نئی شاعرو ادیب خواتین کے لیے یہ فورم رحمت کے طور پرکام کر رہا ہے ۔
پشتو ادب کے حوالے سے فورم کی زیتون بانواور سلمیٰ شاہین ،حسینہ گل نے سر پرستی کی ہے ۔ جبکہ ثمینہ قادر ،رفعت شاہین ، زاہدہ تنہا ، نیلم آرزو او ر نازیہ درانی نے پشتوشاعری میں نام اسی فورم سے بلند کیا ہے اور ہندکو کے حوالے سے قدسیہ قدسی، رانی عندلیب، راحت جوش ،شمشاد نازلی اور صائمہ محبوب اور ثروت کے نام لیے جاتے ہیں ۔
فورم نے محسوس کیا کہ نئی نسل اپنی مادری اورعلاقائی زبانوں سے دُور ہو چکی ہے اس لیے اردو اور انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ مادری زبانوں سے محبت پیدا کرنے کے لیے خواتین اور بچیوں کے لیے ادبی محافل کا ایک سلسلہ ملک بھر میں شروع کیا ۔ مادری زبانوں میں افسانے اوراشعار لکھنے کے مقابلے کروائے اور ان قدیم گیتوں اور قصوں کوجو اَب تک زبان در زبان چلے آرہے تھے ا ور بے قدری اور بے اعتنائی کے ماحول کے باعث ختم ہو رہے تھے اور بھلا ئے جا رہے تھے ان قصوں اور گیتوںکو تحریری شکل میں محفوظ کرنے کی ترغیب دی اور اس معاملے میں بھی فورم کو بہت کامیابیاں بھی ملی ہیں ۔نئی نسل میں مادری زبان کو سیکھنے اور اس میں شاعری کرنے اور افسانہ لکھنے کا شوق بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ان کے لیے ایک انتہائی دلچسپ تجربہ بھی ہے اور ان کی شخصیت کو مضبوطی اور تقویت اور تکمیل کا ذریعہ بھی ۔
پشاور میں ینگ وومن رائیٹرز فورم کے قیام اور ترقی میں نمایاں نام فائزہ حسین ، مائیدہ ارشد، سدرہ امین اور صائمہ فیروز، نیلم آفریدی، کائنات شاہ، ماہ نور حیات اور کائنات حمید اور ان کی کیبنٹ کے نام نمایاں ہیں ۔
اسلام آباد میںرابعہ بصری اس علم کو بلند کیے ہوئے ہیں جبکہ اس چیپٹر کی جڑوں میں نو ثیقہ سید ، شبیہ زہرہ اور تحریم حسن ، شاداب خان اور بہت سی دوسری لڑکیوں کی محنت شامل ہے ۔ اسماء شاہ ، صوفیہ شاہد ، فرحین خالد اور ان کی ٹیم اسلام آباد کو سیراب کر رہی ہیں ۔ لاہور چیپٹر کوعشرت شاہین ،سدرہ طارق، صبیحہ ناز ،جویریہ کنول ا ور ان کی ٹیم نے بنایا ۔ اب جویریہ ارشد اس کو پروان چڑھانے میں مصروف عمل ہیں ۔ بھاولپور میں ظاہرہ اکبر اور شاہدہ خان کوشش اور محنت کر رہی ہیں ۔ کراچی چیپٹر کی جڑوں میں حبیبہ نصر اللہ ،کرن اشرف ،رومیسا احمد اور ان کی ٹیم کی شب وروز کی محنت شامل ہے ۔ حیدر آباد چیپٹرمیں خوش بخت میمن اور ان کی ٹیم نے کام کیا ہے ۔ کو ئٹہ میں ھدیٰ شیخ ،حمیرا صدف ، زاہدہ رئیسی ، شاہینہ شاہین کے نام نمایاں ہیں ۔
فورم نے پاکستان بھر میں سیکڑوں علاقائی زبانوں کی شاعرات اور لکھاریوں کو متعارف کروایا ہے ۔ بہت سی نوجوان لکھنے والیاں پشاور میں پشتو، لاہور میں پنجابی، حیدرآباد میں سندھی اور کوئٹہ میں بلوچی اور بہاولپور میںسرائیکی ادب میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ان سب کی وجہ سے پاکستان بھر میں اردو ،انگریزی ،پشتو، ہندکو ،پنجابی، سندھی زبانوں میںنئی نسل میں نیا ادب اور نیا اسلوب بنانے کا احساس اور شوق بڑھا ہے ۔ مثال کے طور اس سال سامنے آنے والے چند نمایاں نام پشتو میں نازیہ درانی اور نیلم آرزو ، عارفہ نور ،سپوگمی خٹک ، مائل اورکزئی ،آرزو زیارت والا، پنجابی میںعشرت شاہین ،سدرہ طارق، صبیحہ ناز ۔ بلوچی میںزاہیدہ رئیسی راجے ، شاہینہ شاہین اورحمیرا صدف حسینی۔
اردو شاعری میںاسلام آباد میں رابعہ بصری ، ھدیٰ ،سعدیہ اور نثر میں ابصار فاطمہ ، صفیہ شاہد ،فرحین ، معافیہ نمایاںمقام حاصل کر رہی ہیں ۔
فورم نے اپنی ممبران کو پابند کیا ہے کہ وہ ایک گروپ کی صورت ہی میں ادبی محافل میں جا ئیں۔ ان کے اکیلے اور ذاتی طور پر جانے میں ان کے کسی بھی قسم کانقصان کا فورم ذمہ دار نہ ہو گا ۔ یہ لائحہ عمل اس لیے اختیار کیا گیاہے کیونکہ پاکستان میں خواتین کو تحفظ میسر نہیں یہاں قوانین اور معاشرتی قدروں کو تبدیل کرنے کی ابھی بہت ضرورت ہے۔ خواتین کے لیے معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں جن کا تدارک دریافت نہیں ہوا ہے ۔ فورم اس نوعیت کے معاشرتی مسائل کو حل کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے اور کوشاںہے ۔
یہ کوششیں کسی حد تک نظر آ رہی ہیں اور ادب اور آرٹ سے متعلق خواتین کے مسائل میں کسی حد تک کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ لڑکیوں کی خود اعتمادی میں اضافہ ہے فورم لڑکیوں کو گروپس اور ٹیم کی حیثیت دے کر ان کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ اعتماد اور فخر سے فورم کی محافل میں بھیجتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے کے بہت سے ٹیبوز کو ختم ہوئے ہیں ۔
فورم کی حکومت سے گزارش ہے کہ ملک میں لائبریری کلچر کو فروغ دیا جائے اور ہر سرکاری پرائمری سکول میں لائبریری کے قیام کو لازمی بنایا جائے۔
اس سلسلے میں ملک کے ادب اور ثقافت سے محبت رکھنے والے مخیر خواتین اور حضرات سے رابطے کے لیے پاک وومن رائیٹرز فورم اور ینگ وومن رائیٹرز فورم کی ممبران کواجازت نامے یا کارڈز دئیے جا ئیں جن کی بنیاد پر وہ اپنے اپنے علاقے شہر اور گائوں کے سکولوں میں ان مخیر افراد کی مدد سے لا ئبریوں کا انتظام کروا ئیں۔
اس فورم کی وجہ سے گزشتہ پچیس سالوںمیں ملک میں علم و شعور اور آگہی کی اَن گنت شمعیں جلیں ہیں اور پاکستانی کی بہت سی بچیوں، لڑکیوں کو احساس ملا ہے کہ وہ انسانیت، ادب اور ملک کے لیے بے غرض ہو کر خدمت کریں۔ ان سیکھنے والیوں اور قربانی دینے والیوں کی محنت اور خلوص کی قدر وہ گھرانے ہی کرسکتے ہیں جن کی بیٹیوں کویہ روشنی ملی ہے ۔ محترم افتخار عارف صاحب کا یہ شعر فورم کی ان نو جوان خدمت ِخلق کرنے والی ممبران کی محنتوں کے لیے ہے ۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اُتارے ہیں کہ جو واجب بھی نہیں تھے
میرا تمام فن، میری کاوش، میرا ریاض
اِک ناتمام گیت کے مصرعے ہیں جن کے بیچ
سا ئیٹ سیورز ایک عالمی فلا حی تنظیم ہے جو تیس ممالک میں بینائی سے محروم افراد کے علاج معالجے اور دیکھ بھال کے علاوہ نابینا اور معذور افراد کو سماجی اور ا دبی سرگرمیوں میں بھی شامل رکھنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے تاکہ ان کے احساس اور جذبات دوسروں تک پہنچتے رہیں ۔ کیونکہ پاکستان وومن رائیٹرز فورم معاشرے میں بصیرت کی آنکھ کھولنا چاہتا ہے اسلیے اس ادارہ سے جو آنکھوں کو بصارت حاصل کرنے میںمددکرتا ہے ، سے بھر پور تعاون کر تا ہے تاکہ پاکستان کے عام افراد میں ان خصوصی افراد کی مدد اور خیال رکھنے کا شعور اُجاگر ہو ۔
سا ئیٹ سیورز کا ہیڈکواٹر اسلام آباد میں ہے جس کی کنٹری ڈائریکٹر منزہ گیلانی فورم سے منسلک ہیں اور فورم کے پلیٹ فارم سے بصارت سے محروم خواتین لکھاریوںکی بصیرت کو اجاگر کر کے انکوہمت اور حوصلہ مہیا کر رہی ہیں۔
زیرِ مطالعہ کتاب پاکستانی ادب میں تانیثیت اور اردو ادب میں خواتین ادیب وشعرا کی جانب معاشرے کے عام افراد کے رویے پر مباحثہ کا ایک ماحول تیار کیا جارہا ہے اور معذور وبینائی سے محروم ادیب وشاعر خواتین کے ایک تعارف اور ان سے بات چیت کے ذریعے صنف نازک کی جانب عام فرد کے رویے کا اندازہ لگایاگیا ہے ۔
ادب کسی بھی معاشرے کی نفسیات اور تہذیب کا عکس ہوتا ہے جو اس معاشرے کے باشعور باشندوں کے ذریعے پروان چڑھ کر حکمرانوں کے رویّے اور ملکی پالیسیاں بنواتاہے۔ جس ملک کی عوام کو اپنی ترقی وبہبود کی خواہش نہ ہو تو وہاںحکومت اور دفاتر میں موجود افرادمیں خودبخود لاشعوری طور پر احساس اورصلاحیتوں کی کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ پاکستانی معاشرہ پدر شاہی اور غریب افراد کا معاشرہ ہے جہاں عام شہری اور اکثر دیہاتی گھرانوں میں خواتین اوربچوں کی حالت بہت خراب ہے ۔ اخراجات کے معاملات اور گھریلو فیصلوں میں عموماً گھر کے مرد سربراہ ہوتے ہیں۔ خواتین کو بچوںکی تعلیم اور دوسرے معاملات میںمشورہ دینے کے قابل ان وجوہات کی بنا پر نہیں سمجھا جاتا کہ ، اسے اللہ کا حکم تصور کیا جاتا ہے ، دوسری وجہ عورت کی معاشرتی معاملات میں ناتجربہ کار ی ۔ تیسری وجہ مجموعی نا خواندگی ، چوتھی اور بنیادی وجہ پورے گھرانے کا ایک مرد کی کمائی پر انحصار ہے ۔ایسے میں بچی/لڑکی اور خاتون کا معذورہونا اس کے معاشرتی و معاشی مسائل کو بڑھا دیتاہے ۔ اس لیے معذور عورت میں اپنی اس بے بسی میں کمی یا سہارے و مشورے اورکتھارسس کی ضرورت عام خواتین سے زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں سائیٹ سیورز یہ کام بخوبی انجام دے رہا ہے۔
پاک وومن رائیٹرز فورم اور ینگ وومن رائیٹرز فورم پاکستان بھر میں اظہار کی صلاحیت رکھنے والی خواتین کو تحریراور بیان کی تربیت دیتا ہے اور احساس اور مدد کے اس نظریے میں سائیٹ سیورز کا ساتھ شامل ہے ۔
پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے ۲۰۱۱ء کے سروے کے مطابق پاکستان میں آٹھ فیصد افراد معذور ہیں ۔ یعنی سو میں سے آٹھ افراد معذور ہیں کس بھی معاشرے کے لیے یہ ایک بڑی تعداد ہے ۔ پاکستانی حکومت پر یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور بوجھ ہے ۔ معذور افراد کو روزگار اور انفراسٹرکچر مہیا کرنا حکومت کا کام ہے لیکن ان کی فنی اور تعمیری صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا، سوشل پلیٹ فارمز اور معاشرے کے باشعور افراد پر فرض ہے ۔ جہاں ان کو ان کا مکمل حق ملے، ترس اور رحم کی بھیک نہیں ۔
فورم معاشرے میں اس شعور اور احساس کو تحریر اور تقریر کے ذریعے اُجاگر کر رہا ہے، معذور اور خاص طور پر نابینا خواتین لکھاریوں کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش ہے اور سائیٹ سیورز پاکستان ملک کی تمام خواتین کی فلاح وبہبود اور ادیب کی خدمت میں فورم کے ساتھ ساتھ ہے ۔
فورم اور سائیٹ سیورز نے مل کر معذور افراد کی تعلیم و تفریح اور خواتین کے لیے ادبی پروگرام کیے ہیں۔ اس کی مختصر سی تفصیل یہ ہے ۔ ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۴میںخواتین کے قومی مشاعرے پشاور میں کروائے گئے۔ ۲۰۱۴ء میں نابینا خواتین کا ایک روزہ سیمینار کروایا گیا۔ ۲۰۱۵ء میں معذور افراد کی بیروزگاری کے موضوع پر نابینا خواتین و حضرات کے لیے سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔ ۲۰۱۶ء میں کامیاب نابینا خواتین کے تعارف کے لیے ایک تقریب منعقد کروائی گئی۔ ۲۰۱۷ء میں نابینا افراد کے لیے ایک پورے دن کے ادبی میلے کا اہتمام کروایا ۔ یہ سلسلہ مستقل میں بھی جاری رکھنے کا عزم ہے۔ اب ان دونوں اداروں نے تانیثی ادب پر کتب کے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔اس سلسلے کی پہلی کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ دوسری کتاب جدید نظم اگلے سال آجا ئے گی۔ اس کتاب کا پہلا حصہ فورم کی ان ممبران کے مصاحبات پر مشتمل ہے جو نابینا اور معذورہیں ۔ ان کے انٹرویوز پڑھیے اور ان کی ہمت کو داد دیجیے کہ وہ پاکستانی معاشرے میں کس جرأت اور بہادری سے اپنے حقوق کیکامیاب جنگ لڑ رہی ہیں اور معاشرے کی ان خواتین کے لیے مثال بنی ہوئی ہیں جو صحت، صلاحیت اور مواقع ہونے کے باوجود خاندان ، ملک اورمعاشرے کی تعمیر اور ترقی میں ہماری معذور بہنوں سے بہت پیچھے ہیں۔ اس سلسلے میں سائیٹ سیور کا ادارہ اور پاک وومن رائٹرز فورم ان تمام ممبران کا جنہوں نے یہ انٹرویوز لیے ہیں کا بے حد شکر گزار ہے۔
***
دردِ دل کے واسطے
انٹرویور۔ ماریہ ضیا
سیدہ منزہ گیلانی کاتعلق والد کی طرف سے پشاورسے اوروالدہ کی طرف سے کوہاٹ سے ہے۔ ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی۔ پشاور یونیورسٹی سے پہلی ڈگری آرتھو پیڈک ٹیکنالوجی میں اور اس کے بعدہیلتھ پلاننگ اور مینجمنٹ میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں بھی پشاور یونیورسٹی سے ہی حاصل کیں۔
آپ نے پشاور میں جرمن ٹیکنیکل کو آپریشن کے ایک پراجیکٹ کو بطور پروگرام کوآرڈینیٹر جوائن کیا۔آپ نے اس ادارے کے ساتھ کچھ عرصہ کام کیااوراس دوران انہیں مزید تعلیم کے لیے ایک بہت معتبر اینا میری شمل سکالرشپ ملا جس کے تحت انہوں نے سکاٹ لینڈ کی ایبرڈینیونیورسٹی سے بایئو انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا اور پاکستان کے اس بہترین فلاحی ادارے کومزید ترقی دی۔ اسی دوران ان کو سائیٹ سیورز کی جانب سے پاکستان میں اس ادارے کی سربراہ کے طورپر خدمات کا موقعہ ملا جس کی ذمہ داری اور فرایض وہ آج تک خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہیں۔ یہ ادارہ پاکستان میں نابینا افراد کے لیے بے شمار خدمات انجام دے رہا ہے۔
انٹرویور۔ ماریہ ضیا
سوشل ورکر ،ادیبہ شاعرہ، معذور و نابینا افراد کے لیے بے لوث کام کرنے والی، قدرت کی طرف سے خداداد صلاحتیوں سے نوازی گئی ماریہ ضیا سولہ سال کی عمر میں نابینا ہوگئی تھیں لیکن آپ نے حالات کا مقابلہ کیا، قدرت نے بے حد رہنما ئی کی اور اپنی تعلیم و ترقی میں نابینا پن کو آڑے نہ آنے دیا۔آپ اُردو، پنجابی، پشتواورانگلش زبانوں پر عبور رکھتی ہیں۔ آپ نے معذور خواتین کی کہانیوں پر مبنی ایک کتاب بھی ترتیب دی ہے۔ امریکہ کے ایک ایکسچینج پروگرام میں شمولیت کی۔صنفی تضاد اور خواتین کے حقوق کے پروگراموں میں آپ کی بھرپور شمولیت اور شرکت رہتی ہے۔ آج کل ہاشو فاؤنڈیشن میں بطور پروگرام آفیسر کام کر رہی ہیں۔
آج وہ ویمن رائٹرز فورم کی طرف سے محترمہ منزہ گیلانی کا انٹرویو کر رہی ہیں۔ محترمہ منزہ گیلانی سائٹ سیورز انٹرنیشنل کی کنٹری ڈائرکٹر ہیں۔ یہ انٹرویو ایک ایسی کتاب کا حصہ بنے گاجس کا مقصد ادب کی دنیا میں خواتین کے کردار کا جائزہ لینا اور اس میں معذور ادیب و شاعر خواتین کی شمولیت کو یقینی بناناہے۔
ماریہ ضیاء منزہ صاحبہ پاک وومن رائیٹرز فورم کی جانب سے سلام عرض۔ آپ کے ادارے نے اس کتاب کی اشاعت کو جس مقصد کے لیے ہمارے فورم کی مدد کرکے ممکن بنایا ہے، اس کی مختصر سی وضاحت کر دیجیے۔
منزہ گیلانی: شکریہ میں آپ کو سائٹ سیور کی طرف سے خوش آمدید کہتی ہوں۔ سب سے پہلے ماریہ ضیاء آپ کے بارے بتاتی ہوں میں آپ کو ۲۰۱۲ء سے جانتی ہوں جب آپ نے سائٹ سیور میں میرے ساتھ بطور ایڈمن آفیسر کام کیاتھا۔ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آج وہی ماریہ رائٹرز فورم کی جانب سے میرا انٹرویو کر رہی ہیں۔ یوں ہماری ماریہ بھی اس کتاب کی طرح ہم دونوں اداروں کے درمیان ایک رشتہ اور تعلق بن رہی ہے۔ اس کا ایک اہم مقصد ادب کے قاری کے لیے نِسائی ادب سے متعلق معلومات اورتانیثیت کے تصور کا شعور فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معذوری کا شکار خواتین کے مسائل کو اُجاگر بھی کرنا ہے۔ یہاں ان کے انٹرویوز کے ذریعے واضح کیا جانا ہے ادب کی دنیا کو باکمال معذور اور نابینا لکھاری اورشاعرات سے متعارف ہونا چاہیے۔ اور معاشرے کو یہ بھی بتانا ہے کہ یہ جو جسمانی معذوری کا شکار لڑکیاں اور خواتین قلم کار ہیں وہ دوسری خواتین مصنفین سے کم نہیں ہیں اگرچہ ان کوعام خواتین سی زندگی بھی میسر نہیں بلکہ ان سے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا بھی ہے۔
ماریہ: منزہ آپ نے معذور افراد کی بحالی اور خدمت کو کیوں انتخاب کیا۔ آپ کی تعلیم اور جابز کو دیکھ کر یہ خیال سب کے ذہن میں آتا ہے کہ آپ نے بچپن ہی سے تہیہ کر رکھا تھا،ہم جیسی خواتین کی مدد کرنے کا۔
منزہ: جی ہاں ہر انسان کو کوئی کیرئیر تو اپنانا پڑتا ہے۔ مجھے شاید ہمیشہ سے خدمت ِخلق کا شوق تھا اوراس کے لیے کچھ وجوہات بھی بن گئی تھیں جب میں نے اپناماسٹرز ۲۰۰۵ء میں مکمل کیا اور وطن واپس آئی تویہ وہ وقت تھا جب اکتوبر ۲۰۰۵ء کا خوفناک زلزلہ آیاتھا۔ جس کے نتیجے میںبہت تباہی ہوئی تھی اور معذوری کی شرح میں کافی اضافہ ہو گیا تھا۔ عام پاکستانیوں کو تو اس کا احساس بھی نہیں ہے کہ معذوری کا شکار ہونے والوںمیں ایک بڑی تعداد خواتین کی تھی کیونکہ بیشتر خواتین گھروں میں تھیں اور گھروں کے گرنے کے باعث ان میں زیادہ تر خواتین ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کے باعث مفلوج بھی ہو گئیں تھیں۔ اس وقت ملک میں ایسی معذوری کی بحالی کے حوالے سے سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں اس حوالے سے اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ ان معذور افراد کی بحالی کے لیے متعلقہ ماہرین سے استفادہ حاصل کیا جائے۔ چونکہ میری تعلیم اس کی مناسبت سے بہت اہمیت کی حامل تھی لہٰذا میں نے بہت سے ایسے اداروں کے ساتھ مل کرکام کیا جو ان معذور افراد کے لیے سرگرم عمل تھے۔ ان میں قابلِ ذکر یہ ہیں۔
JICN اور NIRM (National Institute of Rehabilitation Medicine)
ماریہ: آپ ہمیں سائیٹ سیورز کے متعلق کچھ بتائیں اس ادارے کو کیوں چُنا۔
منزہ: جی ہاں وہ بھی خودبخود ہو گیا۔ سائٹ سیور جوائن کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان کے تمام پراجیکٹس معذور افراد کی فلاح وبہبود کے لئے تھے اور یہ کام میرے دل ودماغ دونوں سے بہت قریب ہے۔سائٹ سیورزنہ صرف پاکستان کا ایک بڑا ادارہ ہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی ترقیاتی تنظیم ہے۔ جس کا ہیڈ آفس برطانیہ میںہے۔جودنیاکے ۳۳ ممالک میںکام کر رہی ہے جس میں افریقہ کے مشرقی اور مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ بھارت،بنگلہ دیش اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ اور پاکستان میںہم ۱۹۸۵ء سے کام کر رہے ہیںاوراس وقت ہمارا ایک ہی پارٹنر ادارہ تھا جس کا نام ایل آربی ٹی تھا۔اس وقت سے ہمارا ادارہ پاکستان میں اور دنیا میںاپنے ۳۳ ہسپتالوں کے ذریعے آنکھوں کا علاج بالکل مفت فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان جیسے غریب اور زیادہ آبادی والے ملک کو دنیا بھر میں نیک نام اور کام کرنے والی این جی اوز کو یہاں کام کرنے دینا چاہیے۔
ماریہ: سائِٹ سیورز تو بینائی کے لیے کام کرنے والا ادارہ ہے لیکن آپ تو معذور افراد کے لیے بھی کام کررہی ہیں۔ جیسے آپ فورم کے ساتھ مل کر ادب وشاعری کے اکثر پروگرام کرتی ہیں۔
منزہ: معذور افراد کے ساتھ مل کر کام کرنا ہمارے ادارے کی اوّلین ترجیح ہے اوراپنی جابز کے دوران میں نے سیکھا اور جانا کہ معذور افراد کو بے انتہامسائل کا سامنا ہے اور معذور خواتین کے لئے یہ مسائل کئی گنا زیادہ ہیں اور مزید بڑھتے جارہے ہیں۔ پہلی وجہ معذوری، پھر ایک خاتون ہونا،پھر اگر وہ غربت کا شکار بھی ہیں تو ہم سوچ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی کیا ہوگی ان تمام وجوہات کی بنا پر معذور خواتین کے مسائل کوحل کرنے کے لئے ہمارے تمام معاشرے کوخاص توجہ دینی چاہیے اور ان کے مسائل کا حل اورتدابیرکرنی چاہیں۔ ان میں ایک آسان سا کام ان کو دِلی خوشی دینا ہے۔ ان کی باتیں سننا ان کے درد کا بانٹنا ہے۔ادبی محافل میں یہ مقصد ملا، آپ کے فورم کے پروگراموں میں مَیں طالب علمی سے آ رہی ہوں۔
ماریہ: نابینا افراد کے لیے پاکستان میں کیا ہورہا ہے تھوڑی سی معلومات دیجیے۔
منزہ: اسی سال میں ہم نے قومی سطح پر اسNational Blindness Survey کا پلان بنایا ہے تاکہ ہم نابینا پن کی درست شرح اوراس کی بنیادی وجوہات کو بھی جان سکیں۔ اس کے بعد ہم نے آہستہ آہستہ اپنی پارٹنر شپ کو وسیع کیا اور آج ماشااللہ ہمارے ۵۲ سے زیادہ پارٹنر ادارے موجود ہیں جو پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں جو نابینا پن کی روک تھام کے ساتھ ساتھ معذور افراد کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کی بحالی کے لئے کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کو سائٹ سیورز کی مالی اور تکنیکی معاونت حاصل ہے۔
ماریہ: معذور افراد کے ساتھ مل کرکام کرنے سے آپ نے کیاسیکھا؟
منزہ: سب سے بنیادی بات جس کا ہمیں بہت شدت سے احساس ہوا وہ یہ تھا کہ معذور افراد کے پاس اظہارِ رائے کے لئے کوئی فورم یا پلیٹ فارم نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اپنی آواز اور مسائل کو اُجاگر کر سکیں اور ہم نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے تو ان کو قومی، صوبائی اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر مناسب فورم مہیا کیے جائیں جہاں یہ اپنے مسائل پر بات کر سکیں اور ایک مربوط بات چیت کا آغاز ہو۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی شدت سے احساس ہوا کہ معذور افراد کی بہت بڑی تعداد دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ وہ اپنے گھروں میں قید ہیں۔ ان کے خاندان والے ان کو دنیا کے سامنے لانے سے کتراتے ہیں اور یہ مشکلات شہروں میں رہنے والے معذور افراد کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے لئے کہیں زیادہ ہیں۔ انہی حقائق کو سوچتے ہوئے ہم نے ان خواتین کی معاشرے میں شمولیت کو بڑھانے کے لیے مختلف فورمزپران کوشامل کرنے کے لئے بات چیت شروع کی اور ویمن رائٹرز فورم کے ساتھ تعلق بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ماریہ: ویمن رائٹرز فورم کیا ہے اور سائٹ سیورزکے ساتھ اس کا تعلق کیسے بنا؟
منزہ: ہمارے ادارے کی سب سے بڑی مشکل معذور خواتین کو تلاش کرنا تھا کیونکہ ان کو ان کے اپنے خاندان والے بھی ردّ کر چکے تھے اور ان کو محض ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا اور اب بھی بہت سی خواتین کو ایسی ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان خواتین کی نہ تو کوئی فیملی لائف ہے اور نہ ہی ان کو تعلیم اور معاش کے مواقع حاصل ہیں۔ ویمن رائٹرز فورم ایک غیر سرکاری، غیر سیاسی اور غیر جانبدار تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں خواتین میں ادبی سرگرمیوں کی بحالی و ترویج ہے خاص طور پر خواتین کے لئے حقوق کے تحفظ اور ان کو مردوں کے مساوی حیثیت کے لئے بھی سرگرم عمل ہے۔ سائٹ سیورز اور ویمن رائٹرز فورم کا بنیادی نقطہ نظر مماثلت رکھتا ہے خاص طور پر خواتین کی معاشرے میں شمولیت کو یقینی بنانا دونوں اداروں کی بنیادی کاوش ہے۔
اس تعلق کے بنا نے کی وجہ ویمن رائٹرز فورم کی ایک تقریب بنی جہاں مجھے جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں میں نے دیکھا کہ یہ فورم کس طرح لکھاری اور شعرا خواتین کو ایک آواز دے رہا ہے اور وہ اپنی رائے کا اظہار کس قدر پُرزور انداز میںاعتمادکے ساتھ کررہی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جو سب معذور خواتین کو بھی دلوانا چاہتی ہوں اوراس حق کو حاصل کرنے لئے ہم نے اس فورم پر معذور خواتین کو ممبر بنوایا اور اظہارِ رائے کا موقع فراہم کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ ان کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا بھی ذریعہ بنا ڈالا ہم دونوں اداروں نے ایک معاہدہ بھی سائن کیا ہے۔
اس حوالے سے ہم نے فورم کے ساتھ بہت سے پروگرام کیے اورمعذور خواتین کو اپنے مسائل اور اپنی آواز کو اپنی تحریروں اور شاعری کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا۔
اس طرح اس پارٹنر شپ کا آغاز ہوا۔
اس کے تحت ہم نے اس فورم کے ساتھ مل کر کچھ تقریبات منعقد کیں، جیسا کہ سفید چھڑی کا عالمی دن، معذور افراد کا عالمی دن، اور کچھ ادبی تقریبات کا بھی اہتمام کیا۔ پشاور میں خواتین کے قومی مشاعرے بھی کیے۔اسلام کا گروپ تو ہمارے ساتھ بہت ہی تعاون کرتا ہے۔رابعہ بصری بہترین پروگرام کرتی ہیں۔
ماریہ: آپ کی وومن فورم سے کیا امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں ؟
منزہ: سب سے اہم بات ان خواتین کے ٹیلنٹ کو سامنے لاناہے۔
سب سے اہم تبدیلی جو ہم دیکھنا چاہیں گے وہ یہ ہے کہ اس فورم کے پلیٹ فارم پر معذور خواتین اپنی رائے کا ُکھل کراظہار کریں اور یہ فورم ان کے خیالات اور جذبات کے لیے ایک خاص جگہ بن جائے۔
ماریہ: اس فورم کی ممبرخواتین خاص طور پر معذور خواتین کیا اُمیدیں رکھتی ہیں اپنی شمولیت کے حوالے سے؟ آپ اس پارٹنر شپ کے مستقبل کو کیسے دیکھتی ہیں؟
منزہ: اچھی اُمید ہے کیونکہ ہماری پارٹنرشپ سے بہت سی ایسی لکھاری اور شاعر ات اُبھر کر سامنے آئیں جو اب تک اپنی معذوری کی وجہ سے گھروں میں قید تھیں اور یہ فورم ان کی آواز بنا۔ لیکن وہ بہت کم ہیں فورم کو اس سلسلے بہت کام کرنا ہوگا اور کرنا بھی چاہیے۔
ماریہ : پروگرام کروانے کے علاوہ فورم اور کیا کرے کوئی مشورہ ؟
منزہ: ہم نے فورم کے ساتھ مل کریہ کتاب شائع کی ہے جس میں کچھ چیدہ چیدہ معذور خواتین جو قائدانہ صلاحیتوںکی حامل ہیںان کو متعارف کروایا۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسی کہانیاںشامل کی ہیں جو بامقصدہیں اور خواتین کے احساسات کو کھل کر معاشرے کے سامنے پیش کر رہی ہیں اور پڑھنے والوں کو عمدہ ادبی تحریریں مہیا کر رہی ہیں۔ اس سے معاشرے کا مجموعی ماحول بدل جائے گا۔
ماریہ: یہ بتائیے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں خواندگی کی شرح بہت کم ہے اور کتاب اور اُردو ادب کا رجحان تو نہ ہونے کے برابر ہے، وہاں کتاب شائع کرنا کتنا پریکٹیکل ہوگا؟
منزہ: بہت اچھا سوال کیاہے آپ نے۔ مجھے آپ کی بات سے اس حد تک تو اتفاق ہے کہ اس ملک میں خواندگی کی شرح کم ہے مگر میرا مشاہدہ ہے کہ جو خواتین خواندہ ہیں اور لکھنے کی طاقت رکھتی ہیںوہ اپنے ادب کے ساتھ بہت حدتک منسلک ہیں اور وہ پوری طرح قابلیت رکھتی ہیںکہ اس کتاب کے بنیادی پیغامات کو ان باقی تمام خواتین تک پہنچا سکیں جن کے لئے وہ دراصل کام کررہی ہیں۔مجھے قلم کی طاقت پر پورا یقین ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ قلم کی طاقت کا موازنہ کسی اور قوت سے نہیںکیاجاسکتا۔ پاکستان میں کتاب پڑھی جا رہی ہے۔ یہ تصور غلط ہے کہ پاکستانی اُردو کتب نہیں پڑھتے۔
ماریہ: منزہ آپ ایک پر اُمید اور پریکٹیکل خاتون ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پریکٹیکل لوگ ادب وشاعری کو بیکار اور فضول شے سمجھتے ہیں ۔
منزہ: اس کتاب میںجو مضامین اورکہانیاںشائع ہوں گیںوہ بہت با مقصد ہوں گی جن کے ذریعے پڑھنے والوں تک کوئی نہ کوئی اہم پیغام پہنچ سکے گا اور یہ کہانیاں دلچسپ بھی ہوں گی کیونکہ یہ نسائی شعور کے لیے لکھی جارہی ہیں۔ اوریہ ہماری فورم کے ساتھ مل کرپہلی کوشش ہے اور اس کے رسپانس کو دیکھنے کے بعد ہم فیصلہ کریں گے کہ آئندہ اس کی اشاعت میں کیاجدت لائی جاسکتی ہے اور کیسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔
ماریہ : آخر میں آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی ؟
منزہ: آخر میں مَیںتمام خواتین کویہی پیغام دیناچاہوں گی کہ اپنے آپ میں بھروسہ کرنا سیکھیں اور اپنے حقوق کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو گرا دیں تبھی آپ اس دنیا میں خوداعتمادی اور عزت سے جی پائیںگی۔ یہ خوف کہ مرد عورت کو منع کرتے ہیں، روکتے ٹوکتے ہیں خواہ مخواہ ہی ہے میرے آپ کے اور کروڑوں خواتین کے والد، بھائی اور شوہر نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ چند ایک تنگ نظروں سے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ خاموشی سے اپنے کام سے کام رکھیں۔بحث و مباحثوں سے بچیں۔
میرا بیان میرا عمل
تین کتب کے اس پروجیکٹ کا مقصد بات کو ختم کرنا نہیں بلکہ ان کتب میں کی گئی باتوں کو ہر عورت کے عمل اور کردار میں شامل کرناہے ۔ پاکستانی یا مشرقی خواتین سے مراد ان معاشروں کی خواتین ہیں جہاں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے قوانین ہی نہیں ہیں ۔ خواتین کے مسائل ودکھ صرف وہی انسان سمجھ سکتا ہے جس نے اس خاتون کی بات اسکی زبان سے خود سنی ہو۔ افسوس کہ ایسا ان معاشروں میں نہیں ہو پاتا جہاں خاتون کو اپنے تحفظ کی کوئی گارنٹی ہی نہ ہو ۔ اگر انسانی فطرت کے مطابق دیکھا جائے تو کوئی باپ اپنی بیٹی کی ، بھائی اپنی بہن کی اس بات اور خواہش کو ٹال نہیں سکتا جو اسنے انکی زبان سے اپنے کانوں سے سنی ہو ۔ میری اس بات پر یقین نہ کرنے والے غیرت کے نام پر قتل ، خاندان کی عزت برقرار رکھنے کے لیے زبردستی کی شادی ،یا جائیداد کے لیے انکی شادی نہ کرنا وغیرہ کی مثالیں دے کر اس فطری محبت پر مرد کی اناء کی اہمیت وضاحت کرینگے ۔ مگر جس کو وہ اناء یا باپ بھائی کی مرضی سمجھتے ہیں وہ دراصل پدرشاہی سماج کا وہ بوجھ ہے جو بچارے باپ اوربھائی کو قصائی بننے پر مجبور کرتا ہے ۔ اگر قوانین بن جائیں اور حقوق متین ہوجائیں تو سب کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے ۔ اور معاشروں میں وہی تبدیلی اجاتی ہے جو مغرب کے معاشروں میں آئی ۔
کھلتا نہیں ہے کچھ کہ حقیقت میں کیا ہے یہ
۔تقدیر کی عطا ہے یاکوئی سزا ہے یہ
کس سے کہیں اے جان یہ قصہ عجیب ہے
شاعری میںنئی پاکستانی عورت کی نمائیندہ شاعرہ روبینہ شاد آج کل شاعری کے میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ آپ پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ایک نابغۂ روزگار شخصیت ہیں۔ آپ ۲۵ نومبر کو چکلالہ، راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا آبائی گائوں بمبو ہے جو تحصیل شکر گڑھ کے نواح میں واقع ہے۔والد صاحب آرمی میں تھے اسی لیے پاکستان کے مختلف شہروں میں گھومنے پھرنے کا موقع ملتا رہا۔
آپ نے المکتوم سینٹر اسلام آباد جو نابینا افراد کا ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے، سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ المکتوم سینٹر میںتعلیم حاصل کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بریل کتب دستیاب تھیں۔(یہ ایک ایسی لکھائی ہے جس میں الفاظ اُبھرے ہوئے نقطوں کی صورت میں اُوپر آ جاتے ہیں اور نابینا افراد اِسے چُھو کر پڑھ سکتے ہیں)۔
یہ نعمت میٹرک کے بعد پھر میسر نہیں آئی۔ اس کے بعد مارگلہ کالج برائے خواتین سے ایف اے اور بی اے عام کتب سے جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور حفظ کی مدد سے وہ امتحانات میں کلامی قوت سے بہترین نمبروں سے کامیاب ہوئیں۔ سکول اور کالج میں بہت سے مقابلوں میں حصہ لیا اورنمایاں کامیابیاں حا صل کیں ۔
تقریر کا فن،شعر پڑھنے کا ڈھنگ اور اُردو تلفظ کی ادائیگی کا سہرا وہ اپنے کالج اور سکول کی مہربان اساتذہ کے سر ڈالتی ہیں۔ آپ نے ایم اے اردو ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا۔اور ایم ایڈ سپیشل ایجوکیشن سرحد یونیورسٹی پشاور سے کیا اورآج کل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میں بطور لیکچرار اُردو خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔
انٹرویور۔صفیہ شاہد کا تعلق تلہ گنگ چکوال سے ہے۔ آپ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی سے ایم ایس اردو کر رہی ہیں۔اردو افسانہ لکھتی ہیں اور نظم میں دلچسپی ہے۔ اور ان دونوں اصناف پر طبع آزمائی کر رہی ہیں۔آپ کالم اور مضامین بھی لکھتی ہیں۔مشق سخن کے ساتھ ساتھ آپ پیشہ پیغمبری سے وابستہ ہیں اور اسٹیپس کالج راولپنڈی میں بطور اردو لیکچرار کام کر رہی ہیں۔ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر کی فعال کیبنٹ ممبر کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔
صفیہ شاہد نے روبینہ کا یہ انٹرویو ان سے یوں لیا گیا ہے جیسے ایک بینا فرد سے لیا جاتا ہے۔ اس انٹرویو سے قارئین کو اندازہ ہوگا کہ روبینہ جن بصارتوں سے مالامال ہیں وہ دنیا میں بہت کم لوگوں کو حاصل ہیں ان کے سامنے اکثر بینائی والے پانی بھرتے دکھائی دیں گے۔
سوال : ادب کی کون سی صنف میں زیادہ دلچسپی ہے اور پسندیدہ شخصیت کون ہے؟
جواب: ادب میں مجھے شاعری پسند ہے اور جیسا کہ شاعری کی بھی بہت سی اصناف ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر غزل سے بہت لگائو ہے اور میری وجۂ شہرت بھی غزل ہی ہے۔ غزل کہنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے شاید اسی لیے مجھے غزل کہنا اچھا لگتا ہے اور جہاں تک پسندیدہ شخصیت کا تعلق ہے تو جیسے جیسے ادب کا مطالعہ کیا،کلاسکیل شعراء کو پڑھا، ان میں سے تین اہلِ سخن نے خاص طور پر متاثر کیا۔ میر تقی میرؔ کا الگ ہی انداز ہے،غالب ؔ بھی شعر گوئی میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اور علامہ محمد اقبالؔ تو میری رُوح میں بستے ہیں۔ ان کے اشعار وظیفے کے طرح میری زبان پررہتے ہیں۔
میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان کے افکار کومشعلِ راہ بنا کر ان پر عمل کیا جائے۔میرے دل میں ایک خواہش سی ہے کہ کسی طرح ان جیسا طرزِسخن مجھے بھی عطا ہو جائے۔اور یہ صرف کہنے کی حد تک نہیں ہے بلکہ ان کے اس شعر کو تو میں نے عملی طور پر اپنی زندگی کا نصب العین بنا رکھا ہے۔
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ پیچ غریبی میں نام پیدا کر
سوال: شعر گوئی کا آغاز کب اور کس سے متاثر ہو کر کیا؟سب سے پہلے آپ نے کیا لکھا؟
جواب: میں شروع سے ہی چیلنج قبول کرنے والی رہی ہوں۔زمانہ ء طالب علمی میں ایک ہم جماعت نے غزل کہی تو مجھ میں بھی جوش پیدا ہوا کہ اگر یہ شعر کہہ سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں ۔بس وہ دن اور آج کا دن شاعری میری روح کا حصہ بن گئی۔
سوال: آپ نے سب سے پہلے جو غزل کہی اس کے کچھ اشعار ہم سے شیئر کیجیے۔
جواب: شروع سے ہی اللہ پاک سے دعائوں کے ذریعے وابستگی رہی ہے اور دعائوں سے ہی شاعری کا آغاز کیا۔پہلی غزل بھی دعائیہ ہی تھی۔اس کا ایک شعر آپ احباب کی نظر:
اس کے بن کچھ بھی نہیں ہے میرا سُونا جیون
میں نے صدیوں سے جو مانگا اسے میرا کر دے
سوال: کہتے ہیں کہ لکھنا پڑھنا شخصیت میں نکھار لاتا ہے۔آپ نے ابھی تک کیا کیا لکھا ہے اور کن موضوعات پر آپ کی نظر خاص رہتی ہے؟
جواب: میں نے زیادہ تر شاعری میں ہی طبع آزمائی کی ہے۔نظمیں اور غزلیں کہی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ڈرامے اور طبیعت کے بر خلاف سیاسی کالم بھی لکھے ہیں۔مجھے سیاست سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے ۔بقول شاعر
کی محبت تو سیاسست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر پیار نہ کرتے تو حکومت کرتے
جہاں تک موضوعات کی بات ہے تو سیاسست،معیشت،معاشرت، مذہب اور غزل کے روایتی مضامین سمیت سب پر ہی لکھا ہے۔یعنی کوئی ایک مخصوص موضوع نہیں ہے تقریباً سبھی موضوعات پر نظر رہتی ہے۔
سوال : ادب کسی بھی معاشرے کا عکاس ہوتا ہے ۔اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے اور آپ کے خیال میں ادیب معاشرے کے عام آدمی سے کیسے مختلف ہوتا ہے؟
جواب: ایک ادیب معاشرے کا حساس ترین انسان ہوتا ہے۔وہ جو کچھ کسی معاشرے میں دیکھتا ہے اسے قلمبند کرتا ہے یہی ایک معاشرے کی عکاسی ہے۔میں اگر اپنی بات کروں تو زمانۂ طالب ِعلمی میں تاریخ کے مضمون سے بڑا دل گھبراتا تھا کہ بھلا تاریخ کا ادب سے کیا تعلق ہے۔
لیکن جب خود شعر کہنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ ادیب سیاست سے بھی متاثر ہوتا ہے، وہ معاشرت اور لوگوں کے رویّے سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ہم بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ادیب کبھی بھی معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔جیسے آج کے سائنسی دور میں ایجادات بطور ضرورت اور بطور موضوع دونوں طرح سے ادب کا حصہ بن رہی ہیںمثلاً آدھا مصرعہ میرے میسج میں لکھا رہتا ہے۔اور کسی نے کیا خوب کہا کہ
اس کا نمبر نہیں کسی نے لیا
لوگ سمجھے کوئی پری ہوگی
تنقید کا مضمون پڑھتے ہوئے کسی مغربی مفکر کا قول پڑھا تھا کہ ادیب ابنارمل ہوتا ہے۔وہ عام لوگوں سے ہٹ کر چلتا ہے اس کی سوچ ان سے مختلف ہوتی ہے۔ عام انسان کسی واقعے کو دیکھ کر بھول جاتا ہے۔ادیب کے دل سے وہ واقعہ تب تک نہیں نکلتا جب تک وہ اپنی شاعری یا نثر میں اسے سمو نہ لے۔جیسے پچھلے سال معصوم زینب کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو اس درندگی کے حوالے سے لکھا تھا کہ
یہ جو دنیا ہے اس میں روز نیا
اک تماشا دکھائی دیتا ہے
روز چیخیں سنائی دیتی ہیں
خون بہتا دکھائی دیتا ہے
سوال: معاشرے میںعورت کے مسائل کے حوالے سے آپ نے ابھی تک جو لکھا ہے اس میں سے کچھ شیئر کیجیے۔
جواب: جی کافی کچھ لکھا ہے۔ایک غزل کے کچھ اشعار پیش کرتی ہوں۔
روایت سے بغاوت کر رہی ہوں
جفائوں پر شکایت کر رہی ہوں
کھڑی ہو کر ہوائوں کے مقابل
چراغوں کی حفاظت کر رہی ہوں
مرے حق میں نہیں بولے گا کوئی
سو خود اپنی وکالت کر رہی ہوں
اور ایک اور غزل کے کچھ اشعار ہیں کہ:
یہ درد یہ آہیں یہ چبھن کس کے لیے ہے
خلوت میں یہی سوچتی رہتی ہوں شب و روز
کہتی ہوں بڑے پیار سے جس کے لیے غزلیں
گر وہ نہیں سنتا تو سخن کس کے لیے ہے
سوال: مرد اور عورت دونوں ایک جیسے انسان ہیں اور حقوق کے اعتبار سے معاشرے میں برابری کے درجے پر فائز ہونے چاہییں۔اس حوالے سے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب: میں یہ سمجھتی ہوں کہ خواتین کی آزادی کے نعرے تو بہت بلند کیے جاتے ہیں، اسمبلیوں میں نمائندگی دی جاتی ہے مگرعورت اگر وزیر بھی ہے تو وہ اپنے ان پڑھ شوہر کے سامنے بول نہیں سکتی۔بہت بڑی بڑی مثالیں ہمارے ہاں موجود ہیں۔ یہی ہمارے معاشرتی رویے ہیں کہ ایک عورت کو اپنی مرضی سے ووٹ دینے پراس کا شوہر چھری سے تشدد کا نشانہ بناتا ہے ۔طاہرہ سرا صاحبہ کا ایک پنجابی شعر اس حوالے سے مجھے یاد آگیا ہے وہ کہتی ہیں
خورے طاہرہ پیار دی کیہڑی منزل اے
سب کجھ میرا اے پر مرضی میری نئیں
کہنے کو تو ہم حقوقِ نسواں کے بڑے علمبردار بنتے ہیںمگر جب حقوق کی وصولی کی بات آتی ہے تو سب کچھ مردوں کے کھاتے میں جاتا ہے۔جہیز دے دیں گے لیکن بیٹی کو جائداد میں حصہ نہیں دے سکتے۔اور بھی بہت سے مسائل ہیں جو توجہ طلب ہیں۔معاشرہ آج بھی مردوں کا ہی ہے۔یہ ایک فرسودہ خیال ہے کہ عورت کمزور ہے ،آج کی عورت مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ،اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ بطور انسان عورت کے حقوق اور ضروریات کسی طور بھی مردوں سے کم نہیں ہیں۔
سوال: جیسا کہ عورت آج بھی بہت سے معاملات میں سفر کر رہی ہے تو حقوقِ نسواں کی جس تحریک کا آغاز مغرب سے ہوا ہے آپ کے خیا ل میں اس سے مشرق و مغرب کی عورت کو کوئی فائدہ حاصل ہوا ہے؟
جواب: اگرچہ مجھے براہ راست مغرب کا سفر کرنے کا موقع تو نہیں ملا لیکن جتنا پڑھا سنا ہے، اس کے مطابق مغرب میں عورت مشرقی عورت کی نسبت زیادہ خود مختار، آزاد اور طاقتور ہے ۔اسے نا صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی اجازت ہے بلکہ حقو ق حاصل بھی ہیں۔اگرچہ ہمارے ہاں بہت سی چیزیں عورت کے حوالے سے تبدیل ہوئی ہیں مگر مزید تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ حقوقِ نسواں کے تحریک نے ہی عورت کو یہ شعور دیا ہے کہ وہ اپنے وجود کو منوائے اور اپنے لیے آواز اُٹھائے۔
سوال: آج کل کے ادیبوں اور شعراء کو کیا کہنا چاہیںگی ۔آپ کے خیال میں کون کون سے موضوعات توجہ طلب ہیں ؟
جواب: ادیب کو معاشرے کا حساس ترین فرد ہونے کے ناطے چاہیے کہ معاشرے کے تمام مسائل پر گہری نگاہ رکھے۔لیکن میں سمجھتی ہوں کہ محض حسّاس ہونا کافی نہیں ہے۔ میرے نزدیک حسّاس وہ ہے جو نا صرف محسوس کرے بلکہ عملی طور پر بھی اپنا کردار ادا کرے۔ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل اور موضوعات ہیں جو توجہ طلب ہیں ۔میں معذوری کی حامل فرد ہونے کی حیثیت سے اکثر تقریبات میں ادباء سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ معذور افراد کے مسائل پر قلم اُٹھائیں، خواتین کے مسائل پر لکھیں جیسا کہ منٹو نے ایک مرد ہونے کے باوجود مردوں کی ان زیادتیوں پر لکھا جوو ہ عورتوں کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔اور خواتین لکھاریوں کو تو چاہیے کہ اپنے مسائل اور حقوق کے لیے خود آواز بلند کریں۔ اپنے قلم کو اظہار کا ذریعہ بنائیں۔
سوال: معذور افراد بھی معاشرے کا اہم حصہ ہیں اس حوالے سے کن مشکلات کا ذکر کرنا چاہیں گی اور مزید یہ کہ ان مسائل کے تدارک کے لیے آپ کیا تجاویز دیں گی۔
جواب: بہت سارے مسائل ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ سوشل ایکسیپٹنس کا ہے یعنی معاشرتی طور پر قبول کرنے کا رجحان کم ہے۔اگر ہمارے دلوں میں ہی معذور افراد کے لیے جگہ نہیں ہو گی تو پھر اداروں میں بھی جگہ نہیں بن پائے گی۔ اور گھروں میں بھی امتیازی رویہ برقرار رہے گا ۔تعلیمی میدان میں جو مشکلات ہیں ان میں ریکارڈنگ دستیاب نہ ہونا،معاون رائٹر کی عدم دستیابی اور مخصوص تعلیمی اداروں کی کمی شامل ہیں۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈگری ہاتھ میں ہونے کے باوجود نوکریوں کے حصول میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں اور نوکری مل بھی جائے تو اداروں میں کام کرنے کے دوران بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان مسائل کے تدارک کے لیے میں یہی کہوں گی کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معذور افراد بھی معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کو بھی جینے کا اتنا ہی حق ہے۔پہلا مرحلہ ہی سمجھنے کا ہے۔اس وقت میں جس کالج میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہوں وہاں پر نابینا طالبات کی مدد اور راہنمائی کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے انسٹرکٹرز موجود ہیںاور کمپیوٹر کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ پرنسپل ڈاکٹر عالیہ سہیل صاحبہ خود ذاتی طور پر بھی دلچسپی لیتی ہیں اور بطور استاد مجھے طالبات کا بہت پیار ملتا ہے ،مدد ملتی ہے مگر اس سے بڑھ کر بھی اس حوالے سے مستقل اقدام کیے جانے چاہئیں۔
سوال ۱۲: پاکستان میں مختلف ادارے بالخصوص ’’سائیٹ سیورز ـــ‘‘ معذور افراد کے حوالے سے اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔آپ سائیٹ سیورز کی خدمات کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گی؟
جواب: جی بجا طور پر سائیٹ سیورز بہت اہم خدمت سر انجام دے رہا ہے۔میم منزیٰ مخصوص افراد کی مدد اور رہنمائی کے لیے ہر دم تیار رہتی ہیں۔پاکستان میں سائیٹ سیورز جیسے اوربھی ادارے ہونے چاہئیں۔ہر سال ینگ ویمن رائیٹرز فورم کے ساتھ مل کر جو پروگرام کیاجاتا ہے اور اس میں ہم تمام افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جاتا ہے یہ سلسلہ بہت اچھا ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔
سوال: کیا آپ خود کو دیگر خواتین سے مختلف اور طاقتور سمجھتی ہیں اگر ہاں تو کب اور کس اعتبار سے ایسا محسوس ہوا؟
جواب: میں خود کو مختلف اس اعتبار سے سمجھتی ہوں کہ میں اللہ پاک کے کرم سے اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہوں جس نے ایم اے کیا۔اور اسی ذات کی مہربانی سے آج بطور لیکچرار اردواپنے فرائض سر انجام دے رہی ہوں۔ میرے خاندان کے لوگ جو میرے والد صاحب کو کہتے تھے کہ آپ ناحق اتنی محنت کر رہے ہیں یہ بچے رہیں گے تو نابینا ہی۔آج وہی لوگ مجھے پورے خاندان کا فخر ماننے پر مجبور بھی ہیں اور مسرور بھی۔ کئی خواتین ایسی ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو دبا کر ہار مان لیتی ہیں لیکن میں نے اپنی صلاحیتوں کو دبنے نہیں دیا اور ان کو بروئے کار لا کر ہر میدان میں خود کو منوایا ہے الحمدللہ۔
سوال: ینگ ویمن رائیٹرز فورم کی آبیاری میں بطور صدر آپ نے بھی خدمات سرانجام دیں۔ ادب کی اس خدمت اور ینگ ویمن رائٹرز فورم کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب: ینگ ویمن رائٹرز فورم بجا طور پر بڑی اچھی اچھی تقریبات منعقد کرتا رہا ہے۔ہم نے مل کر کئی پروگرام کیے۔ مشاعروں کا انعقاد کیا۔خاص طور پر ملک کی نامور شاعرہ محترمہ کشور ناہید کی کتاب ’’آباد خرابہ ‘‘کی تقریب رونمائی کی ۔اس کے علاوہ نوجوان افسانہ نگاروں کی کتاب ’’دھارے‘‘کی تقریب رُونمائی کا اہتمام بھی کیا۔ خانوادہ اقبال کے چشم و چراغ جناب منیب اقبال صاحب کے ساتھ ایک نشست رکھی گئی تھی جس میں مجھے خود بھی ان سے پہلی مرتبہ ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ تو فورم کی یہ اچھی روایات ہیں۔ینگ ویمن رائٹرز فورم کی ایک اور خاص بات جومجھے بہت اچھی لگتی ہے وہ یہ ہے کہ گزشتہ تین سال سے نابینا افراد کے عالمی دن کے موقع پر کوئی نا کوئی تقریب ضرور سجائی جاتی ہے، جس میں معذور ی کے حامل وہ افراد جو لکھتے ہیں یا کسی بھی شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ان کو سن کر اور ان کے تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔تومیں خاص طور پر کہنا چاہوں گی کہ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔اس سے انہیں بھی احساس ہوتا ہے کوئی ان کا خیال کرنے والا،ان کو چاہنے والا ہے۔
سوال: کہتے ہیں کہ یا تو شاعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔آپ بطور شاعرہ نئے آنے والوں اور شاعری میں دلچسپی رکھنے والوں کی رہنمائی کے لیے کیا کہیں گی؟
جواب: جی بالکل شاعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔اگر تو آپ شاعر ہیں تو اوزان اور شاعری کی کچھ نہ کچھ سمجھ بوجھ فطری طور پر آپ کو عطا کردہ ہو گی ۔اگر میں اپنی بات کروں تو میں نے آج تک عروض کی تعلیم نہیں لی۔مجھے بڑے اساتذہ جن میں ڈاکٹر احسان اکبر صاحب اور محترمہ ڈاکٹر نجیبہ عارف شامل ہیںنے یہ کہہ کر سکھانے سے انکار کیا کہ آپ ایک جینوئین شاعرہ ہیں اور آپ کو عروض سیکھنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔لیکن اس کے باجود میں نے جوبھی لکھا ہے جتنا بھی لکھا ہے کسی نا کسی استاد کو ضرور دکھایا ہے۔نوجوانوں کا ایک رویہ یہ بھی عام ہے کہ وہ تھوڑا بہت لکھتے ہی خود کو میر ؔ کا ہم پلہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیںتو میں یہی کہوں گی کہ اگر بڑا شاعر بننا ہے تو بڑے شعراء کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔مشقِ سخن ترک نا کریں ۔کسی کو استاد بنائیں اوراستاد کے سکھانے پر برہم نہ ہوں بلکہ جو بھی لکھیں ان کو دکھا کر اصلاح لیں ۔
سوال: قومی زبان اظہار کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔آپ اس حوالے سے کیا رائے رکھتی ہیں؟
جواب: جی یقینا اگرقومی زبان کو اظہار کا بہترین ذریعہ سمجھا جائے اور اس پر فخر کیا جائے تو اس سے اچھی بات ہی کیا ہے۔اللہ کا شکر ہے انگریزی اور پنجابی زبان میں بھی مہارت رکھتی ہوں۔ لیکن مجھے اردو کا ذخیرہ الفاظ عطا ہونے پر بہت فخر ہے۔اور میں بہت اچھے انداز میں اردو بول سکتی ہوں۔اردو زبان میں اس قدر شیرینی اور دلکشی ہے کہ اگر دل سے بولی جائے تو دل پر اثر کرتی ہے۔
سوال: ماشاء اللہ آپ ملازم پیشہ ہیں۔تو گھر ،کام اور اپنی ذات ایک ساتھ لے کر چلنا کتنا سہل یا کٹھن ہے؟
جواب: اس حوالے سے میں یہی کہنا چاہوں گی کہ بعض اوقات چیزیں مشکل ہو بھی جاتی ہیںلیکن اللہ کا شکر ہے جس نے گھراور جاب سمیت تمام میدانوں میں سرخرو کیا ہے۔ اگر انسان ہمت نا ہارے،مایوسی کا شکار نا ہو ،اور ہر مشکل سے لڑنے کے لیے تیار اور آمادہ رہے تو تمام مسائل حل ہو جاتے ہیں۔
سوال : آپ کی تمام شاعری ہی آپ کے دل کے قریب ہوگی لیکن وہ شعر، غزل یا کوئی نظم جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہو؟
جواب: جی شاعر کے لیے اپنی شاعری ایسے ہی ہے جیسے کسی انسان کو اپنی اولاد عزیز ہوتی ہے۔ اس لیے مجھے بھی اپنی تمام شاعری ہی اچھی لگتی ہے لیکن ایک غزل جو میری وجہ ء شہرت بنی اس کا شعر پیش کرتی ہوں۔
دل کی نگری اچانک اُجڑ سی گئی
حادثہ ہو گیا دیکھتے دیکھتے
اور جس نوعیت کا یہ انٹرویو ہے بالخصوص عورتوں کے ساتھ جو رویہ رکھا جاتا ہے اور دعوے پارسائی کے کیے جاتے ہیں، اس حوالے سے شعر ہے کہ:
جس کا دامن گناہوں سے تر تھا
کبھی پارسا ہو گیا دیکھتے دیکھتے
سوال: ینگ ویمن رائٹرز فورم کے توسط سے پاکستانی عورت کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب: اپنے ہم نفسوں کے لیے میرا پیغام یہی ہے کہ ہمت نا ہاریں ۔کوشش سے بڑی سے بڑی مشکل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔اپنی ذمہ داریاں خود اُٹھائیں کسی پر انحصار نا کریں اور نہ ہی کسی پر بوجھ بنیں۔اپنے ملک،زبان و ادب اور ثقافت کی خدمت کریں۔انہیں آپ کی ضرورت ہے ان کو اپنائیں اور دنیا کے سامنے ان کو دوام بخشیں۔
اس خوبصورت پیغام کے ساتھ ہی ہم نے نوجوان اور باہمت شاعرہ روبینہ شاد سے اجازت چاہی۔
سنبل سرور سے ملاقات
آسانیوں سے پوچھو نہ منزل کا راستہ ذرّے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے
اپنے سفر میں راہ کے پتھر تلاش کر قطرے کی دسترس میں سمندر تلاش کر
سنبل سرور پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ہیں۔ آپ نے تعلیم مین سٹریم اسکول، کالجز میں ہی حاصل کی اور وہ اس بات پر زور بھی دیتی ہیں کہ معذوروں کو معاشرے کے عام طالب علموں کے ساتھ ہی تعلیم حاصل کرنی چاہیے مگر ان کے کورس کی کتب بریل میں ہونی چاہئیں۔
آپ نے سینٹ پال ہائی اسکول واہ کینٹ سے میٹرک کیا۔ ایف جی پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن واہ کینٹ سے ایف اے اور بی اے کیا۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے لسانیات میں ایم ایس سی کی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے لسانیات میں ایم ایس کا کورس ورک مکمل کیا ہے۔ کالج اور یونیورسٹیوں میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ لیا ہے اور تمام اکیڈمک کیریئر میں فسٹ ڈویژن حاصل کی ہے۔
بریل پروفیشینسی ٹریننگ ، کمپیوٹر ٹریننگ ، انگلش پروفیشینسی ٹیسٹ ، عریبک لینگویج پروفیشینسی ٹیسٹ بھی امتیازی پوزیشن سے پاس کیے ہوئے ہیں۔ایف جی پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن واہ کینٹ میں دو ہزار چودہ تا دو ہزار سولہ بطور وزیٹنگ فیکلٹی برائے انگلش کام کیا ہے۔ اور دو ہزار سولہ سے اب تک فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی میں انگلش کی وزیٹنگ فیکلٹی کے کام کر رہی ہوں۔اس کے علاوہ انہوں نے یو ایس ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ بیورو آف ایجوکیشن اینڈ کلچرل افیئرز کے International visitors leadership program on all forcess میں بھی شرکت کی ہے۔ خصوصی افراد سے متعلق آگہی مہم کا حصہ بھی رہی ہوں۔ بصارت سے محروم افراد کے لیے White Cane Shinesکے نام سے فیس بک پیج بھی چلا رہی ہیں۔سنبل سرور بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مال وہ گوہرِ نایاب ہیں جنہوں نے بصارت سے محرومی کو اپنی کامیابیوں کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔ ہم نے ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا تا کہ ان کے بارے میں مزید جان سکیں۔ اس نشست کا احوال ذیل میں درج ہے۔
انٹرویور: عروج احمد ایڈوانس ڈپلومہ اِن مینجمنٹ اکاؤنٹنگ (چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس انگلینڈ) آخری لیول کی تیاری جاری ہے۔لکھنا شوق ہے اور فلیش فکشن میں طبع آزمائی کر رہی ہوں۔ اس کے علاوہ گاہے بہ گاہے بلاگ بھی لکھتی ہوں۔ ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر سے بحیثیت میڈیا ہیڈ وابستہ ہوں۔
عروج احمد : آپ کس صنف میں اظہار کرتی ہیں ، شاعری یا نثر ؟ اور کس زبان میں لکھتی ہیں ؟
سنبل سرور : میں شاعرہ نہیں۔ آرٹیکلز لکھتی ہوں۔ بصارت سے محروم افراد کے جو روزمرہ مسائل ہیں ان پر لکھتی ہوں۔ زیادہ تر انگریزی میں اظہارِ خیال کرتی ہوں۔ کیونکہ میں نے انگریزی لسانیات کو پڑھا ہے تو انگریزی کو ہی ذریعہ اظہار بنایا ہے ، دوسرا (ہنستے ہوئے) مجھے لگتا ہے میری اُردو کوئی اتنی اچھی نہیں کہ میں اس میں باقاعدہ لکھ سکوں۔
عروج احمد : آپ کا آبائی شہر کون سا ہے ؟
سنبل سرور : میری پیدائش ٹیکسلا میں ہوئی۔ البتہ میرا آبائی شہر سیالکوٹ ہے۔
عروج احمد : آپ کتنے بہن بھائی ہیں اور آپ کا نمبر کون سا ہے ؟
سنبل سرور : ہم دو ہی بہنیں ہیں اور میں بڑی ہوں۔
عروج احمد : بہن کے ساتھ کیسا تعلق ہے ؟ کبھی آپ کو ایسا لگا کہ آپ کی بصارت سے محرومی آپ دونوں کے تعلقات پر منفی انداز میں اثر انداز ہوئی ہو ؟
سنبل سرور : بہت اچھا۔ بالکل بھی نہیں۔ بلکہ میری بہن میری مددگار رہی۔ میرا سلیبس پڑھ کر سنانے سے میرے تعلیمی امتحانات میں میرا ’رائٹر‘ بننے تک، وہ میری معاون رہی۔
عروج احمد : اپنی کامیابیوں میں کس کا ہاتھ سب سے نمایاں نظر آتا ہے ؟
سنبل سرور : والدین کا اور بالخصوص امی کا۔ میری امی مجھے پڑھ پڑھ کر سبق یاد کرواتی تھیں۔ انہوں نے ہی مجھے بریل (Braille) کا استعمال سکھایا۔
عروج احمد : آپ کی والدہ کو بریل کا استعمال کیسے آتا تھا ؟
سنبل سرور : یہ ایک الگ ہی کہانی ہے۔ اور کہانی کچھ یوں ہے کہ میرے والدین کرسچین آئی ہاسپٹل ٹیکسلا میں کام کرتے تھے۔ وہاں لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنی والدہ کی آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں تشریف لائیں۔ وہ لاہور میں ’سن رائز سکول فار دی بلائنڈ‘ میں بحیثیت ٹیچر اپنی خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔ ان کا وہاں قیام تین چار دن کا تھا۔ جب میری والدہ نے انہیں میرے بارے میں بتایا تو انہوں نے ان کو اس قلیل قیام کے دوران ہی بریل کے حروف تہجی کا چارٹ ، بریل بورڈ اور بنیادی بریل استعمال کرنا سکھا دی۔ کسی انسان کا محض تین چار دنوں میں بریل کو سمجھ لینا اور اسے استعمال کرنا سیکھ لینا آسان کام نہیں۔ اسی طرح میری والدہ مجھے پڑھ پڑھ کر سبق یاد کرواتی رہیں۔ وہ بلا مبالغہ وہ تمام امتحانات پاس کر سکتی تھیں جن کی انہوں نے مجھے تیاری کروائی۔
عروج احمد : آپ نے بتایا کہ آپ نے ایک مین سٹریم اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے کیا فوائد اور نقصانات ہوئے ؟
سنبل سرور : نوے کی دہائی کے اوائل میں جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو ٹیکسلا اور واہ کینٹ میں بصارت سے محروم بچوں کے لیے کوئی خصوصی اسکول نہ تھا۔ بنیادی تعلیم، جس میں اردو، انگلش اور میتھس کے بیسکس شامل تھے، گھر پر ہی پڑھائے گئے۔ پھر المکتوم اسکول اسلام آباد میں داخلہ کروایا گیا۔ اسلام آباد اور ٹیکسلا کا فاصلہ بہت تھا۔ میری امی میرے ساتھ جاتیں اور مجھے لے کر واپس آتیں۔ المکتوم میں وہ وقت میرے لیے ایک ڈراؤنے خواب جیسا ہے۔ بریل کی عدم موجودگی اور وہاں کے اساتذہ کا غیر دوستانہ ، غیرموافق رویہ… پڑھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ تین چار دنوں میں ہی ہم نے اس اسکول کو خیر باد کہہ دیا۔ پھر گھر کے قریب واقع ایک اسکول میں داخلہ لیا اور تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ وہ اسکول بند ہوا تو سینٹ پال ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ پہلے پہل تو وہ کچھ ہچکچائے لیکن پھر انہوں نے داخلہ دے دیا۔ میٹرک تک میرا طریقہ کار یہ رہا کہ جو کچھ پڑھایا جاتا میں سن کر اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتی۔ امتحانات میں باقی طلبہ تحریری جوابات دیتے اور میں زبانی۔ بورڈ کے امتحانات تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر بورڈ کے امتحانات میں مَیں نے ’رائٹر‘ کے تھرو امتحان دیا اور فسٹ ڈویژن میں امتحان پاس کر لیا۔
عروج احمد : آپ نے لسانیات کا ہی انتخاب کیوں کیا ؟
سنبل سرور : اسکول کے زمانے سے ہی میرا رجحان انگریزی کی طرف تھا۔ میں نے میٹرک اور انٹر میں آرٹس کے مضامین کا انتخاب کیا تھا کیونکہ بصارت سے محروم طلباء کے لئے مین سٹریم اسکولوں میں سائنس مضامین کے پریکٹیکلز کے لیے نہ تو آلات دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی اساتذہ کے پاس اس سلسلے میں کوئی تجربہ ہوتا ہے کہ وہ ان کو بغیر دکھائے ان پریکٹیکلز کی اساس سمجھا سکیں۔ سو ہم آرٹس مضامین ہی منتخب کر سکتے ہیں۔ گریجویشن تک لیٹریچر پڑھا میں نے۔ پھر ماسٹرز اور ایم ایس کے لیے لسانیات منتخب کیں۔ لسانیات تھوڑا مختلف اور سائنٹیفک مضمون ہے۔
عروج احمد : ادب اور عورت کے معاشرتی مسائل میں کب اور کیسے دلچسپی پیدا ہوئی؟
سنبل سرور : مین سٹریم اسکول میں پڑھنے سے اور اپنے عورت ہونے اور بصارت سے محروم ہونے سے۔ ہمارے معاشرے میں عورت ہونا اور پھر کسی معذوری کا شکار ہونا اور اس معذوری کو اپنے عزائم کی راہ میں حائل نہ ہونے دینا بہت سی عجیب اور حیرت خیز نگاہوں کو دعوت دیتا ہے۔ جب میں نے کالج کے پہلے سال بریل کا گریڈ ٹو سیکھنا شروع کیا ، یونیورسٹی اور جاب مارکیٹ میں قدم رکھا تو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ میں انہیں چیلنجز کہوں گی ، مشکلات نہیں۔ تو مجھے لگا کہ مجھے ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونا ہے۔ مجھے ان کے بارے میں بات کرنی ہے ، لکھنا ہے۔
عروج احمد : کیا کیا لکھا ہے آپ نے ؟
سنبل سرور : آرٹیکلز اور بلاگز۔ اور ایک لائف سٹوری۔
عروج احمد : لائف سٹوری ، یعنی اپنی سوانح حیات ؟
سنبل سرور : کسی حد تک۔ کیا کیا ہوا…؟ کن کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا…؟کیا کیا تجربات حاصل کیے۔
عروج احمد : آرٹیکلز اور بلاگز کن موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں ؟
سنبل سرور : جو مسائل کسی معذوری کے شکار افراد کو اپنی روزمرہ زندگی میں پیش آ سکتے ہیں، ان پر بات کرتی ہوں۔ ان مسائل کے حل پر بات کرتی ہوں۔ عام عوام کی آگہی کے لیے لکھتی ہوں۔ پیرامیڈیکل اسٹاف کی رہنمائی کے لیے لکھتی ہوں۔ معذور افراد کو ایک بڑا مسئلہ ہسپتالوں میں اس وقت پیش آتا ہے جب پیرامیڈیکل اسٹاف کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسپیشل نیڈز کے افراد کی کس طرح مدد کرنی ہے۔ اس حوالے سے ان کی آگہی کے لیے لکھتی ہوں۔
عروج احمد : وہ کیا چیز ہے جو آپ کو لکھنے پر اُکساتی ہے ؟
سنبل سرور : حالات و واقعات میرا سب سے بڑا محرک ہیں لکھنے کے لیے۔ اور بہت کچھ ہے جس پر میں لکھنا چاہتی ہے۔
عروج احمد : اپنے لکھے سے کس حد تک مطمئن ہیں ؟
سنبل سرور : (ہنستے ہوئے) جب میں نے لائف سٹوری لکھنے شروع کی تھی تو میں گریجویشن میں تھی۔ اب اسے پڑھوں تو لگتا ہے بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ سو اسے ازسرِنو لکھا جانا چاہیے۔
عروج احمد : کتنا کچھ چھپوا چکی ہیں ؟
سنبل سرور : ابھی تک کچھ نہیں۔ کیونکہ مجھے ایسے کسی پلیٹ فارم کا معلوم نہیں تھا جو میری تحاریر چھاپ سکے۔ دوم ، میری تحاریر انگریزی میں ہوتی ہیں جبکہ یہاں اُردو پبلش کرانے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں ، انگریزی کے کم۔ لیکن میں معجزوں پر بڑا یقین رکھتی ہوں۔ یہ معجزے ہی تھے جنہوں نے میرا ایک مین سٹریم اسکول میں تعلیم حاصل کرنا ممکن بنایا۔ یہ معجزہ ہی تھی کہ میں نے میرٹ پر تعلیم حاصل کی۔ سو کوئی معجزہ یہاں بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہاں میں نے اپنا بلاگ بنایا ہوا ہے جہاں وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ شیئر کرتی رہتی ہوں۔
عروج احمد : اپنی زندگی کی کوئی خوبصورت یاد شیئر کیجئے۔
سنبل سرور : میں ضرور یہ تذکرہ کرنا چاہوں گی۔ میں اس وقت گریڈ تھری میں پڑھتی تھی جب سویڈن کی ایک یونیورسٹی سے ایک طالبہ اپنی انجنیئرنگ کی ڈگری کی تکمیل کے لیے انٹرن شپ پر یہاں کاربن ڈسپوزل سے متعلق تجربہ کرنے آئی ہوئی تھی۔ انہوں نے میرا کانفیڈینس اور موبیلیٹی بہت بڑھایا۔ یہ ان کی رضاکارانہ خدمات کا ہی اثر تھا کہ میں یہ جان سکی کہ بصارت سے محروم افراد بھی معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میری خود اعتمادی بڑھانے میں ان کا بہت کردار ہے۔
عروج احمد : کن کن مصنفین کو پڑھا ہے آپ نے ؟
سنبل سرور : میں آڈیو بکس سے بہت دلچسپی رکھتی ہوں۔ اُردو میں عبداللہ حسین ، قرۃ العین حیدر ، احمد ندیم قاسمی ، بانو قدسیہ ، اشفاق احمد (بالخصوص ان کا ’زاویہ‘)، شفیق الرحمن (ان کے ’دجلہ‘ کی تو میں فین ہوں)۔ انگریزی میں ولیم شیکسپیئر، جین آسٹن ، شارلٹ برونٹے ، ایمیلی برونٹے ، چارلس ڈکنز ، ایمیلی ڈکنسن ، ورجینیا ولفس ، جیمز جوئس ، ڈی ایچ لارنس اور اسّی اور نوے کی دہائی کے ماڈرن انگلش رائٹرز میں ڈان براؤن ، جے کے رولنگ ، ماریو پوزو قابلِ ذکر ہیں۔
عروج احمد: شاعری میں کس سے متاثر ہیں ؟
سنبل سرور : مجھے شاعری میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں۔ انگریزی میں جان کیٹس اور ولیم ورڈزورتھ پسند ہیں۔ اچھی شاعری سنتی ہوں ، پڑھتی ہوں اور داد دیتی ہوں لیکن شعر یاد نہیں رکھ پاتی۔
عروج احمد : آپ کا پسندیدہ مشغلہ ؟
سنبل سرور : میرا پسندیدہ مشغلہ آڈیو بکس سننا ہے۔ جتنی بھی مل جائیں۔
عروج احمد : آپ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے ؟
سنبل سرور : سب سے بڑی کامیابی… ہممم…دراصل میں کوئی ایک کامیابی بطورِ سب سے بڑی کامیابی منتخب نہیں کر سکتی۔ جب میں نے میٹرک کا امتحان دیا تھا تو مجھے سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش ہوا تھا وہ ’رائٹر‘ کا تھا اور مجھے خود سے کوئی جونیئر منتخب کرنا تھا اور جب میں نے پیپرز دیئے تھے تو میں بالکل بھی مطمئن نہیں تھی کہ میں اچھے نمبر لے بھی سکوں گی یا نہیں۔ وہاں اچھے نمبروں سے کامیاب ہونا بھی کامیابی تھی۔ اس کے بعد مجھے میرے گریجویشن کے امتحانات میں ٹف ٹائم ملا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ یو ایس کا جو میرا آئی وی ایل کا جو دورہ تھا وہ بھی ایک اچیومینٹ تھا…وہاں جانا ، تمام ٹریننگ کو کلی طور پر خود پر انحصار کرتے ہوئے لینا…وہ شاید ابھی تک کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
عروج احمد : زیست کا سب سے یادگار دن ؟
سنبل سرور : قائد اعظم یونیورسٹی سے جس دن مجھے ماسٹرز کی ڈگری ملی تھی ، وہ دن۔
عروج احمد : اگلے دس سالوں میں آپ خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟
سنبل سرور : اگلے دس سالوں کا تو میں پورے وثوق سے نہیں کہہ سکتی لیکن میں ایک کتاب چھپوانا چاہوں گی جس میں مَیں خصوصیت سے اپنے اس تجربے پر بات کرنا چاہوں گی کہ ہمارا معاشرہ کسی محرومی کو کیسے دیکھتا ہے اور اس کے حامل فرد سے کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ اور یہ کہ کیسے ہم ایسے لوگوں کو اپنے مرکزی دھارے میں لا سکتے ہیں۔
عروج احمد : White Shine Cane کے بارے میں کچھ بتائیے۔
سنبل سرور : امریکہ سے واپس آنے کے بعد میں نے White Shine Cane کے نام سے جو پراجیکٹ شروع کیا وہ دراصل نان ڈس ایبلڈ کمیونٹی کی آگہی کے لیے ہے۔ بنیادی مقصد ان کو کسی بھی قسم کی معذوری کے متعلق معلومات فراہم کرنا ، یہ بتانا کہ کسی معذوری کے ساتھ زندگی کیسی ہوتی ہے اور انہیں کسی معذور فرد کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے ، اور یہ کہ وہ کسی ایسے فرد کی موجودگی میں کس طرح زیادہ سے زیادہ نارمل انداز میں، بغیر انہیں ان کی معذوری کا احساس دِلائے، اپنے کارِ زندگی سر انجام دے سکتے ہیں۔
اس میں میری ٹارگٹ آڈینس اسکول ، کالج ، یونیورسٹیاں ، ہسپتال اور دیگر عوامی مقامات ہیں جہاں پر میں زیادہ سے زیادہ لوگوں سے بات کر سکوں اور آگہی کی شمعیں روشن کر سکوں۔
عروج احمد : ورک پلیس پر کیسا تجربہ رہا آپ کا ؟
سنبل سرور : ایسا نہیں ہے کہ مسائل درپیش ہی نہیں آتے لیکن بحیثیت مجموعی اچھا تجربہ رہا۔ تدریس میں آتے وقت یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ چونکہ بصارت سے محروم ہیں تو آپ کیسے نشاندہی کر سکیں گی کہ کون سی طالبہ کلاس میں باتیں کر رہی ہے وغیرہ۔ خیر یہ مرحلہ بھی بخیر و خوبی انجام پایا۔ ہماری پرنسپل میم سعدیہ کا کردار بہت معاون رہا اس سلسلے میں۔
عروج احمد : کیا زیادہ مشکل ہے ہمارے معاشرے میں ، عورت ہونا یا کسی قسم کی معذوری ؟
سنبل سرور : (ہنستے ہوئے) ہمارے ہاں عورت ہونا ہی مشکل ہے۔ اسی بنا پر صنفی امتیاز کا سامنا رہتا ہے خواتین کو۔ اس پر کوئی معذوری ہونا… مطلب دوہرا چیلنج۔ اس موضوع پر میں نے اپنے بلاگ پر ’ونڈر ویمن آف پاکستان‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی پوسٹ لکھی ہوئی ہے۔
عروج احمد : کیا آپ خود کو ذہنی طور پر پاکستان کی دیگر خواتین سے مختلف اور الگ محسوس کرتی ہیں ؟ اگر ہاں ، تو کب ، کہاں ، اور کس لحاظ سے آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے ؟
سنبل سرور : کچھ فرق بھی ہے اور کچھ مماثلت بھی۔ صنفی امتیاز ہم سب کے لیے ایک سا ہے۔ معذوری محض جسمانی نہیں ہوتی ، معذوری معاشرتی بھی ہوتی ہے۔ کسی کو صنف کی بنیاد پر کسی مقصد کے لیے موزوں تصور نہ کرنا معاشرتی معذوری کی ہی ایک قسم ہے۔ سو ایک بڑے کینوس پر ہم ایک ہی مقام پر ہیں۔
عروج احمد : کیا آپ کو لگتا ہے کہ انسان نے وقت سے کچھ سیکھا ہے ؟
سنبل سرور : اس پر میرا نکتہ نظر منقسم ہے۔ شاید اس پر حتمی رائے ممکن نہیں۔ پاکستانی معاشرے میں اخلاقی اقدار زوال پذیر ہو رہی ہیں۔ ہمارا احساس مرتا جا رہا ہے۔ کسی سانحے کے وقوع پذیر ہونے پر ہم خوب واویلا کرتے ہیں اور چند دن بعد اسے یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے میں کسی قدر مایوسی کا شکار ہوں۔ لیکن دوسری طرف ، ہم نے سیکھا بھی بہت کچھ ہے۔ جیسا کہ پنجاب حکومت کا کوٹہ سسٹم کا اجرا خوش آئند ہے۔
عروج احمد : آج کل کے نئے لکھنے والوں کو کچھ کہنا چاہتی ہیں ؟
سنبل سرور : مجھے نہیں لگتا کہ میں اس مقام پر ہوں جہاں میں کسی کو کوئی نصیحت کر سکوں۔ لیکن اگر میں کچھ کہوں گی تو اتنا ہی کہوں گی کہ بہت سے مسائل ہیں جن پر توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے۔ اخلاقی انحطاط پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرتی رویوں اور عدم برداشت پر لکھنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں عدم برداشت کی جو لہر ہے وہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر ایک غصے سے بھرا نظر آتا ہے۔ سڑک پر اورر ٹیکنگ پر ہی تُوتکار ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں ہم ایسے لوگ خود کو اور زیادہ غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں اختلافات پر اتفاق کرنا سیکھنا چاہیے پھر چاہے وہ جسمانی معذوری ہو یا مذہبی عقائد۔ ہمیں ان مسائل کو اُجاگر کر کے انہیں حل کرنے پر بات کرنی چاہیے۔
عروج احمد : خواتین کے حقوق کے حوالے سے حکومت پاکستان کے لیے کوئی پیغام ؟
سنبل سرور : جی بالکل۔ آپ خواتین کے حقوق کے حوالے سے جو بھی بل قومی اسمبلی میں پاس کریں اس کا اطلاق یقینی بنائیں۔ کسی بھی جاب کے لیے محض صنف کی بنیاد پر خواتین کو موزوں نہ سمجھنا بھی oppression ہے۔ عورت کی عزت اور اختلافات کا احترام نصاب کا حصہ بنا کر سکھایا جائے۔ آپ بچوں کی ذہن سازی کر سکتے ہیں۔ بڑوں کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔
عروج احمد : معذور افراد کے کیا مسائل ہوتے ہیں ؟ آپ کی نظر میں ان مسائل کا کیا حل ہے ؟
سنبل سرور : معذور افراد کے لیے سب سے بڑا مسئلہ مین سٹریم اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنا ہے۔ انہیں اسپیشل سکولوں تک محدود کر دینادرست نہیں ، بالخصوص ویل چیئر باؤنڈ اور نابینا افراد کو۔ یہ دونوں مین سٹریم اسکولوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ رسائی کا ہے جس کا سبب انفراسٹرکچر کی ڈیزائننگ ہے۔ لفٹس اور ریمپس کی عدم موجودگی رسائی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ملازمت کے مواقعوں کا فقدان ہے۔ جہاں جہاں کوٹہ سسٹم موجود ہے وہاں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ چیک اینڈ بیلنس سے کوٹہ سسٹم کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ اور اس سب کے لیے ذہن سازی آگہی سے ہی ممکن ہے۔
عروج احمد : آپ کے قیمتی وقت کے لیے بہت بہت شکریہ
رابیل پیرزادہ جو بچپن میں ایک حادثے کے باعث بینائی سے محروم ہو ئیں ۔آپ اپنی ہمت ذہانت اور خداداد صلاحیتوں سے مالامال ہونے کی وجہ سے پاکستان کی ایک ہمہ جہت شخصیت قرار دی جاتی ہیں۔ آپ بیک وقت کئی فنون کی ماہر ہیں ۔ سماجی سرگرمیاں ہوں، مارشل آرٹ ہو، بناؤ سنگھار ہو یا کہ باورچی خانہ انہوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ یہ ملتان کی پہلی نابینا لڑکی ہیں جو ایم اے انگلش کر کے آج بطور پرسنلٹی گرومر پورے پاکستان میں لیکچر اور سیمینارز کر رہی ہیں۔
آپ صائمہ عمار پروگرام کی وہ پہلی لڑکی ہیں، جو بیکن ہاؤس سکول کا 67 سالہ ریکارڈ توڑ کر پہلی نابینا ٹیچر منتخب ہوئیں۔ جنہوں نے نیشنل ،انٹرنیشنل لیول پر لیسنگ سکلز (Listening Skills) پر ویڈیوز کنڈکٹ کیں۔ آپ انٹرنیشنل لائنز کلب (International Lions Club) کی پہلی ایکٹیو بلائنڈ ممبر ہیں جنہیں امریکہ کی طرف سے شیرنی (Lioness) کا خطاب ملا۔انہیں Pried of Pakistan اور Star of Pakistan کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔
آپ اس وقت پی ایف ایف بی میں بطور چیف کوآرڈینیٹرکا کام کر رہی ہیں۔
انٹرویور: نوثیقہ سید نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا ہے ۔ قلمی سفر کا آغاز آٹھویں جماعت سے شروع کر دیا تھا۔شاعری اور نثر دونوں میں طبع آزمائی کرتی ہیں۔گھریلو ماحول ادبی پایا ہے فورم سے ۲۰۱۳ء سے وابستہ ہیں۔
نوثیقہ : اپنے بارے میں کچھ بتایئے کب اور کہاں پیدا ہوئیں؟
جواب: میرا تعلق سید مخدوم فیملی سے ہے۔ ملتان میں ہماری دو دربار ہیں۔ ہمارے گھر کا ماحول وہی جدی پشتی پیری مریدی والا ہے۔ ملتان شہر میں دربار حافظ جمال کے ساتھ ہی ہماری حویلی ہے میں نے ۲۴ ستمبر ۱۹۸۹کو وہیں آنکھ کھولی۔
نوثیقہ: آپ نے ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ بتائیے۔
جواب: جیسا کہ آپ کو علم ہو گا میں پیدائشی طور پر نابینا نہیں تھی، اس لئے میں نے نارمل بچوں کی طرح ساڑھے تین سال کی عمر میں کنڈر گارڈن سکول ملتان سے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا،بعد میں کیمبرج سکول ملتان سے پہلی جماعت سے ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔
اور پھر اسی سکول میں ایک حادثے میں اپنی بینائی کھو بیٹھی۔ ساتویں کے بعد میں کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی نہیں گئی بلکہ ایم اے انگریزی تک ساری تعلیم گھر بیٹھے ’’پاکستان فاؤنڈیشن فائٹنگ بلائنڈنس‘‘(پی ایف ایف بی) کی مدد کے ذریعے حاصل کی۔
نوثیقہ : آپ کی بینائی کس عمر میں اور کیسے گئی؟ اور اس نے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی لائی؟
جواب: بارہ سال کی عمر میں اپنی کزن کے ساتھ اس کے کالج گئی۔ وہیں ایک دیوار کے پاس سے گزر رہی تھی کہ اچانک مجھے کوئی چیز اپنے سر سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوئی کچھ چوٹیں آئیں،جب گھر پہنچی تو امی نے کہا، کیا کر دیا ماتھا خراب کر دیا اپنا، عورت ذات ہو نشان ڈال دیا ماتھے پر(ہمارے ہاں یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ عورت میں کوئی عیب نہ ہو) انہیں اس بات کا علم بھی نہ تھا کی یہ زندگی بھر کا نشان بننے والا ہے۔مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میں ایک قبر میں آ گئی ہوں جہاں روشنی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ میں صرف لوگوں کی آوازیں سن سکتی ہوں۔ یہ میرے اور میرے والدین کے لئے بہت بڑے امتحان کی گھڑی تھی، جہاں بیماری کے ساتھ ساتھ لوگوں کی باتوں کا بھی سامنا کرنا تھا، کچھ کہتے ’’ہائے یہ تو ان کو گناہوں کی سزا مل گئی‘‘،کچھ کہتے ’’بیچاری ایک ہے لڑکی، اُوپر سے اندھی بھی ہو گئی اس کی تو زندگی ہی ختم ہو گئی۔‘‘ اس وقت میں مَیں نے رشتے بدلتے دیکھے، دوست بدلتے دیکھے۔لیکن میں نے ہمیشہ یہی کہا یہ مت کہو خدا سے میری مشکلیں بڑی ہیں ۔ ان مشکلوں سے کہہ دو سب سے بڑا خدا ہے۔
نوثیقہ : عورت کے معاشرتی مسائل میں کب دلچسپی پیدا ہوئی؟ عورتوں کے لئے اس وقت آپ کیا خدمات انجام دے رہیں؟
جواب: جب میں بینائی سے محروم ہوئی تو مجھے بھی باقی بچوں کی طرح یہ سوچ کر حفظ میں ڈال دیا گیا کہ نابینا ہے اور تو کچھ کر نہ پائے گی۔ میں نے حفظ کیا لیکن اسی دوران میں نے ایک دن میم صائمہ عمار کو ٹی وی پر یہ کہتے سنا کہ بصارت سے محروم افراد ہم سے رابطہ کریں ہم ان کو اِک نئی زندگی دیں گے، نیا جوش و ولولہ دیں گے۔میں دل ہی دل میں ہنستی تھی کہ ہمیں کوئی کیسے نئی زندگی دے سکتا ہے پھر بھی اَک امید تھی دل میں اس لئے ان سے رابطہ کیا اور آج میں کہہ سکتی ہوں واقعی وہ نابینا افراد کو نئی زندگی دیتی تھیں،انہوں نے مجھے زندگی جینا سکھایا۔ اور اس وقت میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ میں بھی لوگوں کی زندگیاں بدلوں گی، میں نے محسوس کیا کہ بچوں کو بصارت سے محروم اوپر والا کرتا ہے لیکن معذور وہ خود بن جاتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ نابینا ہونے کے ساتھ ساتھ اپاہج بھی ہو گئے ہیں اس لئے میں لڑکیوں کو سیلف گرومنگ کی کلاسس دیتی ہوں، سیلف ڈیفنس کی کلاسس دیتی ہوں، پپٹ بنانا سکھاتی ہوں اس کے علاوہ یوٹیوب کے ذریعے بچیوں کو کھانا بنانے کی کلاسس بھی دیتی ہوں۔
نوثیقہ : آپ لکھتی بھی ہیں۔اب تک آپ نے کیا کچھ لکھا کس صنف میں مہارت رکھتی ہیں؟
جواب: میں نے آغاز میں شاعری بھی کی،بچوں کے لئے کہانیوں کی ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا ’’شہزادی کی باتیں‘‘ میری کہانیوں میں سے ’’موم کی ُگڑیا، نیلی جھیل کے عجیب لوگ، اور پھولوں کی شہزادی‘‘ بہت مشہور ہوئیں۔ اور کالم بھی لکھے جو مختلف ممالک میں شائع بھی ہوئے۔ سید سردار پیر زادہ صاحب ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہر مقام پر مجھے موٹیویٹ کیا،بار بار لکھنے کا کہتے رہے اور میں بھی ادب سے جڑی رہی۔ لیکن اب میرا فوکس خاص طور پر عورتوں کے مسائل کا حل اور موٹیویشنل لیکچرز ہیں۔
نوثیقہ : شاعر سے بات ہو رہی ہو اور اس کا کلام نہ سنا جائے یہ تو نا انصافی ہو گی، آپ سے کچھ سنانا چاہیں گے۔
جواب: اپنی ایک غزل آپ کی نظر کرنا چاہوں گی۔
میری آنکھ بھی نم ہے صاحب مہلت کتنی کم ہے صاحب
کس کو کس کا غم ہے صاحب یادوں کا ماتم ہے صاحب
شور بھی ہے سنّاٹا بھی ہے یہ کیسا عالم ہے صاحب
پھر شایدیاد آئی ہے پلکوں پہ شبنم ہے صاحب
نوثیقہ: محترمہ صائمہ عمار مرحومہ رابیل کی استاد اور آئیڈئیل تھیں ۔ صائمہ عمار بھی ڈھائی سال کی عمر میں نابینا ہو گئی تھیں ۔ آپ نے اٹھارہ سال تک لندن میں نابینا افراد کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور پاکستان واپس آکر نابینا افراد کی روشنی بن گئیں ۔آپ کی خدمات کبھی نہیں بھلائی جا سکیں گی ۔ رابیل نے ان کی وفات پر ایک غزل کہی۔ اس غزل کے چند اشعار :
تھکی تھکی سی آس ہے یہ دل بہت اُداس ہے یہ
یہ تُو ہے یا تیرا لٹ پلٹ سا احساس ہے یہ
درد تو دل کو راس ہے یہ دل بہت اُداس ہے یہ
بدن پر سجے لباس پہ نہ جا یہ تو خوش لباس ہے یہ
لوگ سمجھتے ہیں میں شاعرہ ہوں لیکن سچ پوچھیے تو میں شاعرہ نہیں ہوں جو تھوڑی بہت شاعری کی بھی ہے وہ میرے مزاج سے ہٹ کر ہے، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ بچپنے میں لکھی گئی شاعری ہے۔
نوثیقہ : کیا آپ آج کل کے شعرا اور ادیبوں کو کچھ کہنا چاہتی ہیں۔
جواب: ہمارے جتنے بھی ادیب اور شعراء ہیں یہ ہمارا اہم خزانہ ہیں۔ ہمارے ملک میں آج کل ادب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے پہل میوزک اور موسیقی (سنگنگ) سے رُوح کو سکون ملتا تھا، موسیقی کو روح کی غذا کہا جاتا تھا لیکن آج کل موسیقی سردرد بن چکی ہے۔اس میں کوئی بامعنی الفاظ نہیں بلکہ فحاشی ہے اور میرے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل ادیب طبقے سے دور ہو چکی ہے۔ اگر اس میں نوجوانوں کا قصور ہے تو کافی حد تک قصور ادیبوں اور شاعروں کا بھی ہے کیونکہ انہیں سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی سٹینگز رکھنی چاہئیں کہ جن کے ذریعے وہ نوجوانوں کو اپنی سوچ اور تجربے سے متعارف کرا سکیں۔کچھ وہ ہم نوجوانوں سے ہمارا کلچر سیکھ سکیں، کچھ ہمیں سیکھا سکیں کیونکہ جب ینگسٹرز اور سینئرز ساتھ چلتے ہیں تو ایسے ہی دنیا میں خوبصورتی اور زندگی میں سکون آتا ہے۔
نوثیقہ : آپ خواتین کے لیے بہت کام کر رہی ہیں، خواتین کے حقوق کے حوالے سے حکومت کو کوئی پیغام دینا چاہتی ہیں؟
جواب: ویسے تو حکومت کو ساری ہی خواتین کے حقوق پر کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہاں میں خاص طور پر حکومت سے یہ کہنا چاہوں گی بصارت سے محروم بچیوں کے شناختی کارڈ پر سفید چھڑی کا نشان لگایا جائے نہ کہ کرسی کا نشان، دوسری بات ہمارے ہاں بلائنڈ لوگوں کے لئے اے ٹی ایم کی سہولت موجود ہونی چاہیے جیسا کہ کراٹے سیکھتے ہوئے میںمعذور ہو گئی تھی ویل چیئرپر تھی، حکومت نے اس وقت تک پیسے نہیں دیئے جب تک میں نے خود جا کے سٹیمپ نہیں لگایا۔ اس کے علاوہ ہر سال پوری دنیا میں بیس لاکھ لوگ بلائنڈ ہو رہے ہیں وہ عام لوگوں کی بنسبت زیادہ محنت کر کے پڑھتے ہیں ان کے لئے کوٹے کو بڑھایا جائے۔
نوثیقہ : کیا آپ خود کو باقی خواتین سے الگ سمجھتی ہیں؟ آپ کو ایسا خود محسوس ہوتا ہے یا لوگوں کا رویہ بتاتا ہے۔
جواب: اگر آپ کا مطلب کام کے لحاظ سے یا سوچ کے لحاظ سے مختلف سمجھنا ہے تو جی ہاں میں خود کو بہت مختلف سمجھتی ہوں اور اس کا کریڈٹ میں اپنے والدین اور اساتذہ کو دوں گی کہ جنہوں نے میری پرورش ہی اس انداز میں کی کہ مجھے اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے جینا سکھایا۔
اور اگر آپ کا سوال جسمانی طور پر مختلف سمجھنا ہے تو ہر گز نہیں کیونکہ میں ہر وہ کام کر سکتی ہوں جو اک نارمل لڑکی کرتی ہے جہاں تک بات رہی لوگوں کی تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان بہت اوپر کی سوچنے لگتا ہے پھر لوگ کیا کہتے ہیں معنی نہیں رکھتا، آپ سب کچھ صرف اللہ کی رضا کے لئے کرنے لگتے ہیں اور اس وقت کوئی یہ کہے کہ ہائے یہ جو مرضی کر لے، ہے تو اندھی ہی نا، تو میں اس وقت اس جملے کو انجوائے کر رہی ہوتی ہوں کیونکہ میں وہ خوش قسمت لڑکی ہوں جس نے وہ زندگی بھی جی تھی جس میں بصارت ہوتے ہوئے بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا اور آج یہ زندگی بھی جی رہی ہوں کہ آنکھیں نہیں ہیں لیکن دل کی آنکھیں کھل چکی ہیں۔ اس لئے میری یہ زندگی اس زندگی سے زیادہ بہتر ہے۔
نوثیقہ : کیا آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ نے وقت سے کچھ سیکھا ہے؟؟
وقت بہت بڑا استاد ہے۔اگر میرے سامنے مجھ سے چھ ماہ بڑا بچہ کھڑا ہو تو اس کا تجربہ مجھ سے زیادہ ہو گا کیونکہ اسے وقت نے مجھ سے زیادہ سکھایا ہوگا۔ مشکل وقت آپ کو لڑنا سکھاتا ہے، آپ کو اللہ کے قریب لے کے آتا ہے۔ وقت آپ کو مختلف اوقات میں مختلف سبق دیتا ہے۔ وقت سب سے بڑا بادشاہ ہے اور یہی مرہم رکھنے والا بھی ہے۔
نوثیقہ : آپ اپنی کامیابی کے پیچھے کسی کا ہاتھ سمجھتی ہیں یا یہ صرف اور صرف آپ کی محنت ہے؟؟
؎ یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
جب میں بلائنڈ ہوئی تو میری نانو نے مجھ سے کہا اب آپ کو نظر نہیں آتا اس لئے آپ روز دو رکعات شکرانے کے نفل ادا کیا کریں، مجھے اس وقت بڑی حیرت ہوئی تھی کہ میری نظر چلی گئی ہے اور یہ مجھے کہتی ہیں نوافل ادا کرو وہ بھی شکرانے کے؟؟ میری حیرت آہستہ آہستہ یقین میں بدلتی گئی دو رکعات شکرانے کے نفل اور ہفتے میں ایک روزہ یہی میری زندگی کی کامیابی کا راز ہے۔اس کے علاوہ میرے والدین جنہوں نے میرا ساتھ دیا، میرے اساتذہ کرام جنہوں نے مجھے جینے کا ڈھنگ سکھایا جنہوں نے مجھے میری زندگی کا مطلب سمجھایا وہ سبھی لوگ اس کامیابی کا ذریعہ ہیں۔
نوثیقہ : سائٹ سیورز جو کہ نابینا افراد کے لیے اس وقت بہت زیادہ کام کر رہی ہے، کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی؟
جواب: میرا سائیٹ سیورز سے رابطہ ینگ ویمن رائٹرز فورم کے توسط سے ہوا اور میرے نزدیک یہ دونوں ایسے پلیٹ فارم ہیں جن کی مدد سے بہت سی نوجوان بچیوں کا ٹیلنٹ نکھر کر سامنے آیا ہے کیونکہ ان میں ایک فورم بچیوں کا ادب کے ساتھ لگاؤ بڑھاتا ہے تو دوسرا ان کے ہنر کو منواتا ہے۔یہ ہنر مند افراد کو مختلف مواقع مہیا کرتے ہیں۔
اگر شخصیت کی بات کی جائے تو منزہ گیلانی ایک بہادر، باہمت، مستقل مزاج،رحم دل اور ملنسار خاتون ہیں۔میری اکثر ان سے مختلف پروگراموں میں ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ میں نے انہیں ہمیشہ مددگاروں کی مدد کے لئے تیار پایا ہے۔
سُکھ کی چھائوں
محترمہ ماریہ قریشی کا تعلق سیالکوٹ کے ایک قصبے سے ہے اور ابتدائی تعلیم بھی وہاں ہی حاصل کی۔
میرے والد ایک بینکر رہ چکے ہیں اور والدہ لاہور میں لیکچرر تھیں۔مگر شادی کے بعد انہوں نے گھریلو ذمہ داریوں کی طرف بھرپور توجہ دی اور اپنی لکچرر شپ چھوڑ دی۔ہم چھ بہن بھائی ہیں اور میں سب سے چھوٹی ہوں۔ بچپن میں مَیں ایک شرارتی بچی تھی ، جیسے درختوں پر چڑھنا،سائیکل چلانااور اس طرح کی دوسری شرارتوںمیں آگے آگے رہتی تھی۔کتابیں پڑھنے کا شوق بھی بچپن سے ہی تھا کہ پانچویں کلاس میں تھی جب سب سے پہلی کتا ب مستنصر حسین تارڑ صاحب کی ہنزہ داستان پڑھی۔اور یہ شوق والدصاحب کی طرف سے ملا ۔ انہیں کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھاانہوں نے ایک لائبریری گھر میں بنا رکھی تھی ۔بچوں کے بہت سے رسالے جیسے نونہال ، تعلیم و تربیت اور بہت سے اخبارات بھی آتے تھے اور یہ بات والد صاحب نے بہت پہلے سے ہی سمجھادی تھی کہ ان سب کو خریدنا اور پڑھنا بھی ادب کی خدمت ہے۔اور بس پھر یوں کتابیں پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی رہا بلکہ بچپن میں زیادہ رہا پھر کچھ مصروفیت کے باعث کتابوں کے ساتھ تعلق کچھ کم ہو گیا ہے لیکن اب وہ کتابیں پڑھنے کا جنون دوبارہ بڑھنے لگا ہے۔
میری معذوری پیدائشی نہیں تھی بلکہ میڑک میں تھی میں جب ریڑھ کی ہڈی میں کچھ مسئلہ شروع ہوا فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھایا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ ایک ہڈیوں کی بیماری ہے جس کے لیے ایک سرجری کروانی ہو گی۔ وہ سرجری کروائی وہ تو کامیاب رہی مگر اچانک کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے باقی جسم پیرالائزڈ ہو گیا۔ علاج تو بہت کروایا مگر اس کاعلاج ممکن نہ تھا۔ پھربتایا گیا کہ اب اس کے ساتھ ہی زندگی گزارنی ہے اپنی باقی صلاحیتوں کو استعمال میں لانا ہے۔ ایک نارمل زندگی گزارتے گزارتے اچانک پیرالائیز ہو جانا بہت مشکل ہو جاتاہے یوں زندگی گزارنا کہ آپ کو ہر کام کے لیے کسی کی ضرورت ہو۔ خیرہر دن سیکھنے کو کچھ ملتا ہے کہ کیسے کیسے بد صورت رویے معاشرے میں موجود ہیں ۔ کچھ اچھے لوگ بھی ہیں جو حقیقت میں کچھ اچھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تعلیم کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے بی ۔اے کر چکی ہوں۔
انٹرویور :افشین جاوید کا تعلق راولپنڈ ی سے ہے۔آپ ینگ ویمن رائیٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر کی رکن ہیں۔آپ بین الاقوامی یونی ورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس اردو کر رہی ہیں۔ اردو خاکہ نگار،افسانہ نگاری اور نظم نگاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔کئی نظمیں اور افسانے کالج کے زمانے میں چھپ چکے ہیں۔ناول پڑھنے میں بہت دلچسپی رکھتی ہیں۔
سوال: آپ نے کس عمر میں لکھنا شروع کیااور کون کون سے موضوعات کو احاطۂ تحریر میں لائی ہیں؟
جواب: میں مختلف ادوارمیں لکھتی رہی ہوں۔ جیسیے سولہ سترہ سال کی عمر میں بھی میں نے کچھ لکھا۔ درمیان میں کچھ عرصہ نہیں لکھا۔میں اپنے لیے لکھتی ہوں لازمی نہیں کہ ہر تحریر کہیں نہ کہیں چھپوائی بھی ہو ۔ کچھ چیزیں اپنی یادداشت کے لیے بھی لکھیں۔ حقیقت سے قریب تر موضوعات کولکھنا پسند کرتی ہوں۔
افشین : کس زبان کو آپ اظہارکا ذریعہ بناتی ہیںنیز ادب میں کس صنف سے آپ کوزیادہ دلچسپی ہے اور کیا آپ نے اس صنف میں طبع آزمائی بھی کی ہے؟
جواب: میں زیادہ تر اُردو میںہی لکھنا پسند کرتی ہوں اور اسی زبان میں لکھتی ہوں ، بہت کم تحریریں ہیں جو انگریزی میں لکھی ہیں ۔ زیادہ تحریریں اُردو میں ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ مجھے پنجابی زبان بھی بہت اچھی لگتی ہے۔ صنف کے حوالے سے مجھے طنزو مزاح میں خاصی دلچسپی ہے۔ سفر نامے اور خود نوشت پڑھنے کا بھی بہت شوق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حالات ِحاضرہ سے بھی کافی لگاؤ ہے۔روزمرہ زندگی میں جو جو مشکلات اور مختلف تجربات کا سامنا رہتا ہے زیادہ تر میں ان موضوعات پر لکھتی ہوں۔ میں ناول یا افسانہ نہیں لکھ سکتی ہوں، حقیقت سے قریب موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہارکرتی ہوں اور ان کے کچھ حل بیان کرتی ہوں جیسے آرٹیکلز، بلاگز وغیرہ ۔ میں کوشش کرتی ہوںتلخ موضوعات کو بھی شگفتہ انداز میں لکھوں۔
افشین: آپ نے بے شک خود کو دوسری خواتین سے زیادہ مضبوط اور طاقتو ر منوایا ہے کچھ اس سفر کے بارے میں بتائیں کہ یہ سفر کیسا رہا؟
You have read 12% of تانیثیت کا نیا دور (نیا اسلوب، نئی عورت) - Tanisiyat ka Naya Daur (Naya Usloob, Nayi Aurat). The full e-book picks up right where this stopped.