Check out our most recent publications
نا تمام قصے - Na Tamam Qissay
Free sample · no sign-up

نا تمام قصے - Na Tamam Qissay

by Narmeen Surahio

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

 

کاپی رائٹ © ۲۰۲۲ء داستان

جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

 

اشاعتِ اوّل: جنوری ٢٠٢٢ء

سرورق: شافعہ انعم سرھیو

مطبع : داستان پرنٹنگ پریس

 

 

داستان پبلشرز

 

انتساب

امی’ رافعہ جبین‘ کے نام، جنھوں نے اپنی شفقت اور محبت سے میرے وجود کو ہمیشہ گرمائے رکھا اور میرے اندر پنپتی مثبت سوچ کو پروان چڑھایا۔

ابو ’ نعیم الدین‘ کے نام، جن کی محبت اور اعتبار نے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ راستے میں آئی رکاوٹوں کو پار کرنا سکھایا۔

 

خصوصی ذکر

پیاری بہن، شافعہ انعم جو ہمیشہ آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتی ہے اور اسی یقین کو مجھ میں منتقل کیا۔

پیارا بھائی، حماس سرھیو کہ جو کم گو اپنی ذات میں گم رہتا ہے مگر میری ہر خوشی میں پُرجوشی کا اظہار کرتا ہے۔

پیارا محمد احمر جو گھر بھر کا لاڈلا ہے اور جس نے میری سنائی گئی کہانیاں سن سن کر چار کی سال عمر میں اپنی تخلیق کردہ کہانی دل چسپ کہانی سنا کر مجھے حیران کردیا۔

پیاری انابیہ، جو اپنی باتوں سے ہر ایک کو حیران کرتی ہے اور ابھی سے ہر کام میں پیش پیش رہتی ہے۔

پیاری عنایہ ایمان، جو میری طرح ہی من موجی ہے اور آزاد پنچھی کی روح اس میں بستی ہے۔

پیارا محمد خضر، کہ جسے میری طرح جادوئی دنیا پر اندھا یقین ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ ہر چیز ممکن ہے۔

پیارا محمد عون، جو گھر بھر کا لاڈلا ہے اور اپنی کھلکھلاہٹ سے سب کو ہنسانے کا ہنر جانتا ہے۔

پیارا محمد نوریز، جس کی مسکراہٹ میرا دن خوشیوں سے بھر دیتی ہے۔

(مجھے ان سب میں اپنی جھلک دِکھتی ہے۔ کہیں ظاہر تو کہیں چھپی نظر آتی ہے۔)

دونوں چاچو، تاج محمد سرھیو اور خرم سعید سرھیو کہ جنھوں نے بچپن سے میرے لاڈ اٹھائے اور آگے بڑھتے رہنے کی تلقین کی۔ پیاری چاچیاں، لاریب گل سرھیو اور قراۃالعین سرھیو کہ جو دوسرے گھر سے آئیں مگر ان سے بھی ایک انمول رشتہ جڑ گیا۔

سکول، کالج اور سندھ یونیورسٹی کے معزز اساتذہ کے نام، جنھوں نے مجھے علم کی روشنی سے منور کیا اور اپنے تجربوں سے میری قوتِ مشاہدہ میں اضافہ کیا۔ خصوصی شکریہ شعبۂ اردو کے اساتذہ کا، کہ مجھے اردو کے حوالے سے قیمتی معلومات انھی سے ملیں۔

میری یونیورسٹی کی پیاری سہیلیاں، جنھوں نے ہر قدم دوستی جیسے نایاب رشتے کو برقرار رکھا اور میرے پل میں تولہ اور پل میں ماشہ مزاج کو بھی خوش اسلوبی سے سہا۔

سوشل میڈیا کی اُن سہیلیوں کے نام، کہ جنھوں نے ادبی دنیا سے متعارف کروایا اور ہمیشہ ساتھ نبھایا۔

اُن رسائل اور جرائد کے مدیران اور منتظمین کا بھی شکریہ کہ جنھوں نے میری تحاریر کو سندِ قبولیت بخشی۔

میرے تمام جاننے والوں اور اپنوں کا بےحد شکریہ!

 

خصوصی نوٹ

داستان میرے لیے ایک فیملی کی طرح ہے کہ جس کے ساتھ میں نے بہت کچھ سیکھا۔ اس ٹیم نے ہمیشہ ساتھ دیا۔

اس کتاب کی اشاعت پر میں داستان اور سید عمر امیر کا شکریہ خصوصی طور پر کرنا چاہوں گی کہ انھی کے سبب یہ کتاب وجود میں آئی۔ داستان ٹیم اور پیاری دوست فریال زہرا کا بطورِ خاص شکریہ!

 

فہرست

 

9

اِک خواب

 

12

خط سی کہانی

 

13

خط بنام’ محبوبہ‘

1

15

خط بَنام دوست (تمثیلی)

2

17

افسانے

 

18

کون جانے

1

31

اے خدا

2

52

آزادی ملی

3

58

نظریں چرانا

3

68

ناول کی دنیا

4

98

خوابوں کا سفر

5

104

ماں اور فرض

6

112

چمک

7

121

ناتمام قصے

 

122

حسرتیں

1

125

وجود کی جنگ

2

128

مسافر

3

131

ادھورا مکالمہ

4

134

نرمین میری نظر میں    

 

 

اِک خواب

ماضی کی کھڑکی میں جھانکا تو ایک کم گو سی لڑکی اپنی دنیامیں گم نظر آئی۔ آس پاس کی دنیا سے لاتعلق اس کے تصور میں خوب صورت پھول اور پودوں کی ایک دنیا آباد ہے۔ اڑتے قالین اسے عجب دنیا کی سیر کرواتے ہیں۔ آسمان میں رنگین پرندے اڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ جو پرندوں سے دور دور رہتی ہے وہاں اپنا ڈر بھول جاتی ہے اور انھیں کندھے پر بٹھائے اس جادوئی قالین پر بیٹھ کر سیر کرتی ہے۔ نیچےدیکھو تو مور اپنے پر پھیلائے محوِ رقص ہیں۔ پرندوں کی بھانت بھانت کی بولیاں ہیں۔ یہ شام کا سماں ہے۔ رات کے وقت آسمان میں تارے ایک قطار میں چمکتے ہیں۔ چاند اس کے ساتھ قدم بہ قدم چلتا ہے۔ وہ مسکراتی ہے تو اس کی آنکھوں میں جگنو بھی ساتھ مسکرا دیتے ہیں اور ہر چیز روشن ہو جاتی ہے۔ جب اداس ہوتی ہے تو ہر جگہ اداسی چھا جاتی ہے۔ صبح کے وقت وہ کردار اس لڑکی کے سنگ جینے کا سامان کرتےہیں مگر اس میں بھی ایک روشنی چھائی رہتی ہے۔

اس دنیا میں وہ ایک بیلرینا ہے اور ایک ہی پاؤں پر وہ کئی بار گھوم سکتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں اس کی آواز پیاری ہے اور وہ اس خوشی میں دنیا بھر کے گیت گنگنا لیتی ہے۔ اسے بیکنگ کا شوق ہے اور وہ ہر کیک بنا لیتی ہے۔ وہ تقریبات منعقد کرتی ہے اور ہر چیز کی خوب صورتی اور بدصورتی کو محسوس کرلیتی ہے۔ وہاں اس لڑکی کی سوچیں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔

عقل سے ماورا باتوں پر کوئی اس پر ہنستا نہیں کہ اس کی نظر میں ہر چیز ممکن ہے۔ وہ چھپ کر جادوئی چیزوں پر یقین رکھتی ہے۔ آنکھ بند کر کے ہر چیز کی vibes محسوس کر سکتی ہے۔

جب آنکھ کھلتی ہے تو یہ خواب حقیقت سے دور نظر آتا ہے۔ ایک لاتعلق دنیا سا مگر۔۔۔ مگر اس کے کردار اسی لڑکی کے گرد چلتے پھرتے ہیں۔ رات کے وقت جب وہ تنہا ہوتی ہے تو ننھے بونے اس کے گھٹنوں سے لپٹ جاتے ہیں۔ موسیقی مدھم سرگوشی کرتی اسے کھلکھلانے پر مجبور کردیتی ہے۔۔۔ وقت بیت جاتا ہے، وہ لڑکی بڑی ہوگئی ہے مگر یہ جیتے جاگتے کردار کبھی اس سے دور نہ ہوئے۔ رات کو چہل قدمی کرتے ہوئے یہ کردار واقعتاً حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کبھی حقیقی زندگی میں بھی آپ کو ان کی جھلک ملے گی کہ اس دنیا میں موجود کئی خواب اور باتیں حقیقت کا روپ دھار گئے۔

یہ میری کہانی ہے۔ یہ میرے بُنے گئے کردار ہیں جو میرے تخیل میں میرے ساتھ رہتے ہیں۔ یہی کردار، کہانیاں اور خیالات میرے ساتھی ہیں۔ سب چیزوں کو کر دِکھانے اور آگے بڑھنے کی ایک وجہ یہی تصورات اور تخلیقی صلاحیت ہے۔

یہ سب ایسے ہی ممکن نہ ہوا۔وقت کے بہتے دریا میں میرا دل جب بھی لرزتا تھا میرے اندر کی مثبت سوچ مجھے کہتی رہتی کہ آگے بڑھو، کچھ کر دکھاؤ۔ اتنا کچھ کر دکھانے کے بعد بھی نہ جانے یہ کون سی چاہ ہے جو بھگائے جاتی ہے اور کسی پل چین نہیں آتا۔ اب بھی دل بےقرار ہے۔ کچھ کرنے کو بےتاب ہے۔ کردار، کہانیاں اور اور وہ دنیا مجھے پکارتی ہے۔ نہ جانے یہ بےچینی اور جنون کہاں تک لے جائے گا۔

میں کسی کا نام خصوصی طور پر نہیں لوں گی مگر جنھوں نے زندگی کے کسی بھی موڑ پر مدد کی، میری رہ نمائی کی۔۔۔ وہ یہ یاد رکھیں اُن کا نام میرے دل میں نقش ہے اور میں سدا اُن کے لیے دعاگو رہوں گی۔

نرمین سرھیو

٢۷ اپریل، ٢٠٢۱ء

Narmeensurahio@outlook.com

 

 

خط بنام’ محبوبہ‘

کوچۂ بےوفا، شہرِ الفت، سرزمينِ خدا

اے جنونی لڑکی!

تمھارا ساتھ میری محبت کے لیے ہمیشہ تسکین کا باعث رہا۔ تمھاری ہر ادا نے میرے دل کو سکون بخشا۔ تمھارے لبوں سے پھوٹتی شگفتہ ہنسی نے مجھے دیوانہ بنایا۔ تمھاری ذہانت کا میں دل سے قائل ہوا۔ تمھاری خفگی اور تمھارا روٹھنا، ہر بات نے مجھے بےقرار کیا مگر سنگ بتائے ہر لمحے، مجھ پر یہ انکشاف ہوتا رہا کہ تم سرتاپا ایک اسرار ہو۔ تم ٹھہرے پانی سی پُرسکون نظر آتی ہو مگر تمھارے اندر ایک ایسی چنگاری دبی ہے جو تم سمیت مجھ کو بھی جھلسا رہی ہے۔ یہ تمھارے اندر کا دکھ ہے جو تمھارے لہجے سے جھلکتا ہے۔ یہ تمھارے اندر کی تنہائی ہے جو تمھاری ہنسی میں گونجتی ہے۔ یہ تمھاری حسرتیں ہیں جو تمھاری آنکھوں سے ٹپکتی ہیں۔ یہ تمھارے خواب ہیں جو ادھورے پڑے سسکتے ہیں لیکن تم نے یہ خوب کیا کہ ان چیزوں پر ایک پردہ سا ڈال رکھا ہے۔ تم تک رسائی بس اس خول کو توڑ کر ہی پائی جا سکتی ہے۔ فقط قریبی لوگوں کو یہ حسرتیں نظر آتی ہیں۔ فقط تمھارے رفقأ اِس تنہائی کی پہچان رکھتے ہیں مگر تم حقیقتاً ایک جلتا ہوا الاؤ ہو جو سب کو راکھ کر دینا چاہتا ہے۔ جسے متضاد سوچوں نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ چاہنے کے باوجود بھی تم اپنی آنکھوں کو کھول کر ہوش و حواس کی دنیا میں قدم نہیں رکھ پا رہیں۔ اپنی تپش سے تم آگ لگا دینا چاہتی ہو۔ تم ایک ایسی شخصیت بن چکی ہو جو بظاہر دل کش ہے، مگر اندر سے واہی تباہی ہے۔۔۔ مکمل بربادی۔

مجھے تم سے محبت کا اقرار رہا ور اب بھی مجھے تم سے محبت کا اقرار ہے مگر میں اس تباہی کے کارواں کا حصہ نہیں بن سکتا۔ میں تمھارے سحر میں گرفتار سہی مگر اس جنونیت کو سہہ نہیں سکتا۔ مجھے تم سے آج بھی محبت ہے مگر میں تمھارے ساتھ چل نہیں سکتا۔

فقط

تمھارا محبوب

 

خط بَنام دوست (تمثیلی)

پیارے دوست!

یہ تمھارا یونیورسٹی کا پہلا سال سہی مگر تمھارے رویے نے ازحد مایوس کیا۔ تم اس شکوہ کناں کسان سے لگ رہے ہو جو قحط زدہ دنوں میں ہر روز زمین کے بانجھ پن سے نئے سرے سے بےزار ہوجاتا ہے اور اپنے پاس موجود میوؤں کے مال سے کارآمد شے بنانے سے ناکام بھی۔ مانا کہ دل کی خواہش خواہش ہوتی ہے اور اس کی اہمیت اپنی جگہ قائم و دائم بلکہ مسلم ہے، مگر تمھارا یہ رویہ تمھارے اندرونی خلفشار کے باعث ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ تمھارے اندر ہزار اندیشے ہیں، دل میں سو آرزوئیں گھر کیے ہوئے ہیں، بےچینی انگ انگ میں سمائی ہے۔ تم اندر سے ڈرے سہمے ہو۔ تمھارے اندر مستقبل کا خوف ڈیرا جمائے ہوئے ہے۔ تم خوابوں کی پناہ گاہ میں سر چھپانا چاہتے ہو۔ فرار کی راہ اختیار کرنا تمھیں آسان لگتا ہے۔ جس سمت نگاہ اٹھاتے ہو اندیشے لرزا دیتے ہیں۔ تمھیں یہ ماحول راس نہیں آ پا رہا اور نہ ہی دل کو موافق۔

 دوسروں کی خواہشوں کی تکمیل تمھیں شش وپنج میں مبتلا کر دیتی ہے۔ تم بہرے بن کر اس راہ سے گزر جانا چاہتے ہو۔ یہ خوشی بھرا اہتمام جو دوسروں کے چہروں سے جھلکتا ہے تمھیں اپنی مات کا جشن لگتا ہے۔ تمھارا اعتبار دعاؤں پر ڈگمگا رہا ہے مگر۔۔۔ مگر کیا تم تقدیر سے منہ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہو؟ کیا تمھیں غیب کے علم کا دعوا ہے؟ تمھیں اپنے مستقبل کے کارناموں کا علم ہے؟ ممکن نہیں جو تم سوچتے ہو وہ بہتر نہ ہو اور تم اپنے اندر ایسا راز پا لو جو آگ لگانا جانتا ہو۔ ایسا منتر جا لو جو تمھاری توقعات بدل ڈالے۔۔۔ چیزیں تمھاری حق دار ہوجائیں۔۔۔ کامیابی تمھارے قدم چومنے کو بےتاب ہوجائے۔ زندگی راحت کا دوسرا نام ہو اور سب حقیقتاً بدل جائے۔

یہ سب تم پر اسی صورت منحصر ہے جب تم حقیقت کو قبول کرلوگے، تبھی چیزوں کو بدل ڈالنے کی صلاحیت خود میں پاؤ گے۔ آگے بڑھو اور اس راز کو جان لو کہ تمھاری بقا اسی میں ہے، جس کا انتخاب خدا نے کیا ہے۔ حقیقت کو قبول کروگے تو ہی آگے بڑھ پاؤ گے۔

تمھاری خیر خواہ

 

 

کون جانے

١٦ جنوری، ٢٠١٩ء

موسم سرد ہے سوچ خواب آلود ہے۔ ایسا لگتا ہے ہم سب کسی نہ کسی کے انتظار میں ہیں۔ کسی ایسے کے منتظر۔۔۔ جو آئے گا اور ہماری اداسی قہقہوں میں بدل جائے گی۔ ہر چیز سفر ہے مگر ہمارے جذبات منجمند کسی کے منتظر ہیں۔ جیسے۔۔۔ جیسے گل موھر کا یہ پیڑ۔۔۔ لیکن۔۔۔ نہیں اسے دیکھ کر تو بس آگ کا خیال آتا ہے۔ نرم گرم آگ۔۔۔ جذبات کی آگ۔۔۔ ہر طرف یہی تو مچی ہے۔ ہمارے جذبے ہی تو سوچ رہے ہیں۔ میں بھی تو ایک شخص کی منتظر ہوں۔ یہی جذبہ مجھے اندھا بنا رہا ہے۔ میری آنکھیں اس راستے سے ہٹتی ہی نہیں۔۔۔ اور اب وہ آرہا ہے تیز تیز قدم اٹھاتا۔۔۔ میری جانب۔۔۔ اور شاید وہ کسی اور طرف نکل جائے۔ وہ مجھے جانتا نہیں تو رکے گا کیوں؟ رکنا۔۔۔ بات کرنا۔۔۔ پہچاننے کی علامت ہے۔ کوئی اجنبیوں کے پاس نہیں آیا کرتا۔۔۔ اور اس کھڑکی سے تکتے تکتے مجھے ڈر ہے میری تمام زندگی، تمام عمر یونہی گزر جائے گی، مگر حرج بھی کیا ہے اس میں۔ گزرنی ہے، تو ایسے ہی گزر جائے۔ لوگوں کو گزرتے دیکھ کر۔۔۔ موسموں سے باتیں کرتے ہوئے۔۔۔ ہوا کو محسوس کرتے ہوئے، اور جذبے۔۔۔ جذبے تو ہوتے ہی بےکار ہیں۔ تاریخ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ جب تک وہ شدت کا روپ نہ دھار لیں، اور میرے جذبے تو بس یونہی گزر رہے ہیں، بےکار سے۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of نا تمام قصے - Na Tamam Qissay. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Narmeen Surahio earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 300

See all editions, reviews and details

نا تمام قصے - Na Tamam Qissay Buy — Rs 300