12% of the book — free to read
'یادیں'
فکر انگیز، سبق آموز داستان
_______
پروفیسر مشتاق احمد سلیم

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۵ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشرمحفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ درج بالا افراد یا ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
آئی -ایس-بی-این نمبر:
978-627-526-006-6
--------
ادارت و ترتیب: بتول جمالیؔ
معاونت: مدثّر مشتاق
سرورق: انعم امیر
|
مرحوم پروفیسر مشتاق احمد سلیم اپنے بیٹے مدثّر مشتاق کے ہمراہ |
پیش لفظ
سب سے پہلے تو میرے لیے یہ انتہائی فخر کا مقام ہے کہ میں مرحوم پروفیسر مشتاق احمد سلیم جیسے عظیم استاد کا بیٹا ہوں۔ جب کبھی ریاست آزاد جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور یونیورسٹی کے قیام کی تاریخ لکھی جائے گی تو مرحوم پروفیسر مشتاق احمد سلیم کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ۰ ۱۹۸ میں جب AJK یونیورسٹی کا قیام ہوا اس وقت میری عمر آٹھ برس کی تھی، اور میں نے ابو کو دن رات یکسوئی اور ثابت قدمی سے کام کرتے دیکھا۔ لیکن اپنی انتہائی مصروفیت کے باوجود وہ فیملی کو پورا وقت دیتے تھےاور ہماری تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں رہنے دی، امی (نسیم اختر مرحومہ )نے بھی ابو کا بھرپور ساتھ دیا۔
جب میں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو دو شخصیات نے مجھے باقاعدہ ایک ایک نصیحت کی۔ ابو نے مجھے کہا کہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے، اصل جینا وہ ہے جو دوسروں کے لیے جیا جائے۔ دوسری نصیحت میرے چچا ڈاکٹرمحمد زبیر نے کی کہ اپنے عملی اُمور میں ہمیشہ انصاف سے کام لینا اور خیال رکھنا کہ کبھی کسی سے زیادتی نہ ہو۔ میں نے ان دونوں نصیحتوں کو اپنی زندگی میں شامل رکھا۔
میرا اور ابو کا باپ بیٹے کا رشتہ اس دوران گہری دوستی میں بدل گیا جب امی کینسر سے لڑ رہی تھیں۔ امی کے آخری ایام میں ہم لوگ لاہور میں چچا زبیر کے گھر پر رہائش پزیر تھے۔ اس دوران جس طرح چچا جان ڈاکٹر زبیر اور چچی جان ڈاکٹر عالیہ نے امی کا دن رات خیال رکھا اللہ تعالیٰ انہیں اس کارِ خیر کا اجرِ عظیم عطا فرمائے آمین۔
امی کا علاج انمول ہسپتال میں چل رہا تھا اور ابو نے جس جانفشانی سے امی کی تیمارداری کی اس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس دوران ابو مجھ سےدل کی ہر بات کہاکرتے تھے، جس سے مجھے بھی حوصلہ اور اعتماد ملتا۔ کینسر کے علاج کے دوران اخراجات نہایت بڑھ چکے تھے ، مجھے یاد ہے ابو نے مجھے چیک دے کر مظفرآباد بھیجا اور کہا کہ یہ آخری رقم ہے بینک میں یہ لے آؤ۔ اس کے کچھ دنوں بعد 28 مئی 1994 کو امی کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہ غم کے لمحات تھے، لیکن ابو کی شکل میں مجھے ایک دوست مل گیا۔
مجھے ابو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، ان کی بیشمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ وہ کسی کا ناجائز کام کرتے نہیں تھے اور کسی کے جائز کام کے لیے ہرممکن کوشش کرتے تھے اور تب تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک وہ کام ہو ناجائے۔
ابو نے اپنی ساری زندگی دوسروں کے نام وقف کر دی تھی،ہمیشہ بہن ،بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں کا ایک باپ کی طرح خیال رکھا ۔ جو بھی ان کے پاس اپنا مسئلہ لے کر آتا ابو ہر چھوٹے بڑے کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔وہ ایک عظیم استاد، انتہائی ایماندار، محنتی اور ہمدرد انسان تھے۔ وہ ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
پروفیسر مشتاق احمد سلیم کی وفات 2016۔09۔09کے بعد ان کی ہاتھ سے لکھی تحریرملی۔ بہت عرصہ تک یہ میرے پاس تھی اور ارادہ تھا کہ اسےانشا ء اللہ شائع کروں گا۔ میں نے اس تحریر میں کوئی رد و بدل نہیں کیا ، جو ابو نے لکھا تھا وہی لکھا،اپنی دعاؤں میں مشتاق احمد سلیم کو یاد رکھیں، امید ہے کہ ان یادوں میں آپ کو کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
مدثر مشتاق
Emali: modassir.mushtaq@gmail.com
12/10/2022 UK
-----------------------
فہرست
بچپن کے دن – سادہ زمین، مضبوط بنیاد 13
ہجرت: ننگے پاؤں عزت کا سفر. 17
ابتدائی تعلیم اور مظفرآباد میں عملی زندگی کا آغاز. 31
خاندان — رشتوں کا سرمایہ، قربانیوں کی روشنی. 40
علم کی روشنی — استاد سے رہنما تک.. 51
یوگانڈا کی سرزمین — اجنبی دیس میں خدمت کا ایک اور باب 58
آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کا قیام 63
ریٹائرمنٹ کے بعد سادگی، سکون اور خود کفالت کا نیا سفر 74





میرا نام پروفیسر مشتاق احمد سلیم ہے۔ میں نے یہ سطر نہ شہرت کے لیے لکھی ہے، نہ دعویٰ کے لیے۔ بس زندگی کے اُس سفر کو قلم بند کر رہا ہوں جو میں نے اپنے رب کے کرم سے، اپنے والدین کی دعاؤں سے، اور اپنی محنت سے طے کیا۔
مارچ 1935 میں جموں شہر کے محلہ جتکاتیاں میں ایک متوسط گھرانے میں میری پیدائش ہوئی۔
1942 تا 1947 ابتدائی تعلیم گھاس منڈی سکول نزد تالاب کھٹیکان جموں سے حاصل کی۔ جموں ہندو اکثریت کا صوبہ تھا، یہ وہ وقت تھا جب ہندو اور مسلمان جموں میں ایک کنبہ کی مانند رہتے تھے۔ آپس میں پیار تھا۔ ایک دوسرےکے تہوار/غمی خوشی میں شامل ہوتے تھے، اچھا وقت تھا۔
اُس وقت بھی بعض ا نتہا پسند ہندو مسلمانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ مگر ان کی حیثیت آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ مسلمانوں میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔ ویسے بھی تعلیم یافتہ ہندو مسلمانوں کو حیلے بہانوں سے تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہمارے بزرگ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔
مجھے یاد ہے ایک بار استاد نے مجھے کلاس کا مانیٹر بنا دیا۔ عمر کا تقاضہ تھا میں جیسے خود کو لے کر ضرورت سے زیادہ بے فکر ہوگیا۔ اس کا اثر میری پڑھائی پر ہوا اور گریڈ میں کمی آگئی۔ والد صاحب نے مجھے پڑھائی کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک دن کہا: "کتابیں لے آؤ، آگ لگا دیتا ہوں۔ اب تو تم کلاس کے مانیٹر ہو گئے ہو، پڑھنے کی کیا ضرورت؟" یہ جملہ میرے اندر آگ لگا گیا — اور میں پھر کبھی اپنی تعلیم کے معاملے میں پیچھے نہ ہٹا۔
میں بچپن میں بڑا شرارتی بچہ تھا، ہمیشہ کسی نئی چیز میں ہاتھ ڈالنے کو تیار۔ ایک دفعہ میں محلے کے موچی کے پاس بیٹھا، اُس کے اوزاروں سے کھیلنے لگا۔ ایک تیز دھار آلہ میرے گھٹنے پر جا لگا۔ شدید زخم، سوجن، اور پیپ سے زخم اتنا بڑھ چکا تھا کہ ٹانگ کاٹنے کی نوبت آگئی۔ اس وقت گاما جرّاح، سیالکوٹ کے مشہور حکیم، نے کہا کہ مجھے ایک آخری حربہ آزمانے دیں۔ گاما جرّاح نے ٹانگ میں سوراخ کرکے روزانہ تھوڑا تھوڑا موڑنا شروع کیا اور اس طرح ٹانگ کا زخم بھرنا شروع ہوگیا اور ساری پیپ نکل گئی۔ وہ درد آج بھی یاد ہے، لیکن وہی درد مجھے صبر اور برداشت سکھا گیا۔
اس نو عمری میں پیش آنے والے واقعات اور حالات سے میں بے خبر تھا۔ مجھے اور میرے ہمجولیوں کو اس نوخیزی میں سوائے تھوڑی بہت پڑھائی اور کھیل کود کے اور کسی بات میں دل چسپی نہ تھی۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روزانہ تالاب کھٹیاں کے کھلے میدان اور اس سے منسلک باغ میں کھیلنے جایا کرتا تھا۔ کیا ہی سہانا اور دلکش سماں ہوتا تھا۔ کبھی کبھی ہم اسلامیہ ہائی سکول جموں، پرنس آف ویلز کالج جموں کی طرف سیر و تفری کے لیے جایا کرتے تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں جون ۱۹۴۷ء میں موسم گرما کی تعطیلات کے دور ان اپنے والدین کے ہمراہ سیر و تفریح کے لئےسری نگر گیا تھا۔ سری نگر پہنچنے سے پہلے ہم نے ایک ایک رات اود ھم پور اور قاضی کُنڈ میں قیام کیا ۔ سری نگر پہنچ کر میں نے ایسی تسکین محسوس کی جو بیان سے باہر ہے۔ سری نگر واقعی جنّت ارضی تھی۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تھا، سری نگر دیکھنے کا اشتیاق بڑھتا جارہا تھا۔ آخر خدا نے میری یہ آرزو پوری کی۔ مجھے اب بھی جھیل ڈھل، حضرت بل ، نشاط باغ ۔ امیراں کدل چشمی، ویری ناک اور محلہ سرائے بالا جہاں ہم اپنے عزیزوں کے ہاں مقیم تھے اچھی طرح یاد ہیں اور ان کو یاد کر کے اب بھی انجانی لذت محسوس کرتا ہوں ۔
سری نگر کی سہانی وادی کی فضائیں نہایت پُر رونق ، پُر نور اور انتہائی معطر تھیں جو کہ 56 سال گزر جانے کے بعد بھی ایک حسین خواب کی طرح میرے ذہن میں محفوظ ہیں ۔
|
غلام محمد (والد مشتاق احمد سلیم) |
You have read 12% of یادیں (Yaadain) - Life Changing Book. The full e-book picks up right where this stopped.