Check out our most recent publications
Dillo ki Dilli - دِلوں کی دِلّی
Free sample · no sign-up

Dillo ki Dilli - دِلوں کی دِلّی

by Ali Mahboob

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

دِلوں کی دِلّی

_______

محمد علی محبوب

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲۵ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشرمحفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ درج بالا افراد یا ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

آئی -ایس-بی-این نمبر: 978-627-526-057-8

 

ادارت و ترتیب: بتول جمالیؔ

سرورق: انعم امیر

 

انتساب

اہلیہ کے نام جن کے ساتھ زندگی کا خوبصورت سفر جاری ہے!!!

 

پیش لفظ

 

یہ بات ایک کثیرطبقہ فکر کے نزدیک درست تسلیم کی جاتی ہے کہ شاعر بنایا نہیں جا سکتا بلکہ شاعرپیدا ہوتا ہے۔تاہم شعر کہنے کے فن میں نکھار کا تعلق اس شاعر کی زبان، ذاتی تجربات، احساسات اور چند دوسرے بیرونی محرکات سے ہے۔ شاعر کی تخلیق میں انہی تمام عوامل کی چھاپ باآسانی محسوس کی جا سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ایک شعر کا مضمون پڑھنے والے کو اپنی ذات میں ہونے والے عوامل کا مظہر نظر آتا ہے۔بہرحال یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں بلکہ ایک حسین اتفاق ہے۔

ازل سے ایک منظر ہے

فقط آنکھیں بدلتی ہیں

                                              (امجد اسلام امجد )

    اُردو زبان میری مادری زبان ہے اور ایک عرصے سے مجھے اُردو ادب خاص طور پر شعروشاعری سے کافی لگاؤ رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف شعراء کو پڑھنا اور سننا ہمیشہ سے میرا مرغوب مشغلہ رہا ہے۔

    شاعری سے اس محبت کو واضح کر نے کیلئے یہ واقعہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ دہم جماعت میں ایک مرتبہ اُردو کا پرچہ حل کرتے ہوئے ایک شعر اتنا پسند آیا کہ اس کی تشریح کرتے ہوئے میں نے خود پر لازم سمجھا کہ شعر کا حق ادا کیا جائے لہٰذا جامع تشریح کرنا مناسب سمجھا اور اسی کوشش میں دس نمبر کا ایک سوال چھوڑنا پڑا جبکہ اس شعر کی تشریح کے صرف دونمبر تھے۔

    شعر لکھنے کا آغاز 2010ء میں کیا تھا تا ہم یہ ایک غیر ارادی عمل تھا اور اس کے پیچھے کبھی بھی ایک کتاب مرتب کرنے کا خیال کارفرما نہ تھا۔وقت کے ساتھ .بیرونی عوامل اور حساس طبیعت نے اس بات پر مجبور کیا کہ اپنے اندر اُبھرنے والے خیالات کو باقاعدگی سے کاغذ کی نظر کیا جائے۔ یہاں پر یہ بات بتانا مناسب سمجھوں گا کہ اس سلسلے میں نہ تو کبھی کسی استادکی رائے لی نہ ہی باقاعدہ طور پر ان شعروں کی اصلاح کروائی لیکن اس کے پیچھے میری یہ سوچ ہمیشہ آڑے آتی ہے کہ میرے خیالات آزاد ہیں اور میں اس کا اظہار بھی آزادی کے ساتھ پڑھنے اور سننے والوں کے سامنے کر دینا چاہتا ہوں۔

    یہ کتاب میری پہلی کتاب ہے۔ کتاب میں موجود نظمیں اور غزلیں میرے جذبات اور مزاج کی عکاس ہیں۔ کتاب کے عنوان کا انتخاب بھی ایک مشکل مرحلہ تھا۔ مختلف عنوان دماغ میں زیرِ بحث رہے تاہم سب سے مناسب عنوان یہی لگا۔ کتاب کی تکمیل پر میں اپنے اہل خانہ اور دوست احباب کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے مختلف مراحل میں میری حوصلہ افزائی اور معاونت کی۔ پڑھنے والوں کو اس کتاب میں بہت سے ایسے مضامین ملیں گے جن کا تعلق ان کی ذاتی زندگی سے ہو گا اور جب وہ ایسے کِسی مضمون کو پالیں تو جان لیجئے گا کہ آپ اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ کچھ اور ہمسفر بھی آپ کے ہمراہ اس راستے کے مسافر ہیں۔

محمد علی محبوب

فہرست

 

 خدا 11

اظہارِمحبت.... 13

لازوال محبت.... 16

وصالِ جاناں ابد نہیں ہے... 19

دِلوں کی دِلی. 22

ویران رستے... 24

وہ نظم جو نہیں لکھنی تھی... 26

عارضی کیفیت...... 30

ماڈرن ورلڈ. 31

جو کہنا چاہو۔۔۔۔. 33

پہلی محبت.... 36

حیرت.. 38

ممکنہ سانحہ.. 39

ہم کہاں آگئے... 40

بیتا کل تو بچپن تھا. 43

کسک.... 45

وادی استورکے برف پوش پہاڑوں میں نئے سال کے موقع پر. 46

پہلا دسمبر... 48

طلسمی دھن... 51

ان کہی.. 54

مارچ 2020ء میں کرونا وائرس کے دوران. 55

ناسٹلجیا (NOSTALGIA) 58

وضاحت.... 59

ایک عہد... 60

اثاثہ جات.. 61

غزہ کی بستی پکارتی ہے... 62

اور کیاہی ہونا تھا. 64

دستک.... 66

شکوہ 67

کل داستان. 68

روداد 69

اداس مت ہو. 71

کمرہِ عدالت... 72

قلبِ بے فیض.... 73

معمول. 73

دِل تو کب کا ٹوٹ گیا. 74

وصیت..... 75

غزلیات.. 77

مصنف کے بارے میں... 125

داستان کیا ہے؟ 126

 

 

 

 

خدا

وہ خدا! جو میرے گماں میں تھا
وہ لامکاں، جو مکاں میں تھا
میری سوچ میں، میری فکر میں
میرے روز و شب کے ذکر میں
میری محفلوں میں وہی تھا جو
میری خلوتوں کے زماں میں تھا

اسے مجھ سے پیار تھا اس طرح
میری ماں کا پیار ہو جس طرح
نہیں ماں کا پیار بھی کم تھا گو
ہاں سراپا لطف و کرم تھا وہ
میرے دل کا روشن چراغ تھا
میری جستجو کا سراغ تھا

اسی عشق کا میں بھی اسیر تھا
میں غلام تھا،میں فقیر تھا
میرے عشق میں ہاں کمی تھی گو
میرے دل کی خستہ زمیں تھی جو
وہاں اور بھی کچھ چراغ تھے
جو کہ سب بتوں کا سراغ تھے

تھا حوس کا بُت، تھا حسد کا بُت
کہیں مال کا، کہیں زر کا بُت
کہیں شہرتوں کے عہد کا بُت
کہیں 'میں' کا بُت، کہیں ضِد کا بُت
اسے ان بُتوں نے بھگا دیا ؟
نہیں میں نے اس کو گنوا دیا

 

اظہارِمحبت

دیکھو!

میری بات سنو۔۔۔۔

اب ایسی بھی کوئی بات نہیں

تم اب تک مجھ سے نالاں ہو

اظہارِحقیقت جرم ہے کیا؟

جو آب فلک سے گرتا ہے

وہ مینہ نہیں تو پھر کیا ہے؟

جو چشم نم کا باعث ہے

وہ آنسو کا ایک قطرہ ہے

اور ابر کا آنا فطرت ہے

آنکھیں بھر جانا فطرت ہے

جب سورج آگ برستا ہو

اور حسن سے دل جھلستا ہو

ماحول میں حبس سا طاری ہو

اور روح بےچین سواری ہو

دوپہر میں سب ہی چاہتے ہوں

اک شجر سایہ دار فقط

اور عشق کی آگ بجھانے کو

محبوب کا اک دیدار فقط

اس شجر سایہ دار کو بھی

That’s the end of the free sample

You have read 12% of Dillo ki Dilli - دِلوں کی دِلّی. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Ali Mahboob earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 600

See all editions, reviews and details

Dillo ki Dilli - دِلوں کی دِلّی Buy — Rs 600