12% of the book — free to read
_______
داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۵ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشرمحفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ درج بالا افراد یا ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
آئی -ایس-بی-این نمبر: 978-627-526-057-8
ادارت و ترتیب: بتول جمالیؔ
سرورق: انعم امیر
انتساب
اہلیہ کے نام جن کے ساتھ زندگی کا خوبصورت سفر جاری ہے!!!
پیش لفظ
یہ بات ایک کثیرطبقہ فکر کے نزدیک درست تسلیم کی جاتی ہے کہ شاعر بنایا نہیں جا سکتا بلکہ شاعرپیدا ہوتا ہے۔تاہم شعر کہنے کے فن میں نکھار کا تعلق اس شاعر کی زبان، ذاتی تجربات، احساسات اور چند دوسرے بیرونی محرکات سے ہے۔ شاعر کی تخلیق میں انہی تمام عوامل کی چھاپ باآسانی محسوس کی جا سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ایک شعر کا مضمون پڑھنے والے کو اپنی ذات میں ہونے والے عوامل کا مظہر نظر آتا ہے۔بہرحال یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں بلکہ ایک حسین اتفاق ہے۔
ازل سے ایک منظر ہے
فقط آنکھیں بدلتی ہیں
(امجد اسلام امجد )
اُردو زبان میری مادری زبان ہے اور ایک عرصے سے مجھے اُردو ادب خاص طور پر شعروشاعری سے کافی لگاؤ رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف شعراء کو پڑھنا اور سننا ہمیشہ سے میرا مرغوب مشغلہ رہا ہے۔
شاعری سے اس محبت کو واضح کر نے کیلئے یہ واقعہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ دہم جماعت میں ایک مرتبہ اُردو کا پرچہ حل کرتے ہوئے ایک شعر اتنا پسند آیا کہ اس کی تشریح کرتے ہوئے میں نے خود پر لازم سمجھا کہ شعر کا حق ادا کیا جائے لہٰذا جامع تشریح کرنا مناسب سمجھا اور اسی کوشش میں دس نمبر کا ایک سوال چھوڑنا پڑا جبکہ اس شعر کی تشریح کے صرف دونمبر تھے۔
شعر لکھنے کا آغاز 2010ء میں کیا تھا تا ہم یہ ایک غیر ارادی عمل تھا اور اس کے پیچھے کبھی بھی ایک کتاب مرتب کرنے کا خیال کارفرما نہ تھا۔وقت کے ساتھ .بیرونی عوامل اور حساس طبیعت نے اس بات پر مجبور کیا کہ اپنے اندر اُبھرنے والے خیالات کو باقاعدگی سے کاغذ کی نظر کیا جائے۔ یہاں پر یہ بات بتانا مناسب سمجھوں گا کہ اس سلسلے میں نہ تو کبھی کسی استادکی رائے لی نہ ہی باقاعدہ طور پر ان شعروں کی اصلاح کروائی لیکن اس کے پیچھے میری یہ سوچ ہمیشہ آڑے آتی ہے کہ میرے خیالات آزاد ہیں اور میں اس کا اظہار بھی آزادی کے ساتھ پڑھنے اور سننے والوں کے سامنے کر دینا چاہتا ہوں۔
یہ کتاب میری پہلی کتاب ہے۔ کتاب میں موجود نظمیں اور غزلیں میرے جذبات اور مزاج کی عکاس ہیں۔ کتاب کے عنوان کا انتخاب بھی ایک مشکل مرحلہ تھا۔ مختلف عنوان دماغ میں زیرِ بحث رہے تاہم سب سے مناسب عنوان یہی لگا۔ کتاب کی تکمیل پر میں اپنے اہل خانہ اور دوست احباب کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے مختلف مراحل میں میری حوصلہ افزائی اور معاونت کی۔ پڑھنے والوں کو اس کتاب میں بہت سے ایسے مضامین ملیں گے جن کا تعلق ان کی ذاتی زندگی سے ہو گا اور جب وہ ایسے کِسی مضمون کو پالیں تو جان لیجئے گا کہ آپ اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ کچھ اور ہمسفر بھی آپ کے ہمراہ اس راستے کے مسافر ہیں۔
محمد علی محبوب
فہرست
وہ نظم جو نہیں لکھنی تھی... 26
وادی استورکے برف پوش پہاڑوں میں نئے سال کے موقع پر. 46
مارچ 2020ء میں کرونا وائرس کے دوران. 55
|
وہ خدا! جو میرے گماں میں تھا اسے مجھ سے پیار تھا اس طرح اسی عشق کا میں بھی اسیر تھا تھا حوس کا بُت، تھا حسد کا بُت |
دیکھو!
میری بات سنو۔۔۔۔
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں
تم اب تک مجھ سے نالاں ہو
اظہارِحقیقت جرم ہے کیا؟
جو آب فلک سے گرتا ہے
وہ مینہ نہیں تو پھر کیا ہے؟
جو چشم نم کا باعث ہے
وہ آنسو کا ایک قطرہ ہے
اور ابر کا آنا فطرت ہے
آنکھیں بھر جانا فطرت ہے
جب سورج آگ برستا ہو
اور حسن سے دل جھلستا ہو
ماحول میں حبس سا طاری ہو
اور روح بےچین سواری ہو
دوپہر میں سب ہی چاہتے ہوں
اک شجر سایہ دار فقط
اور عشق کی آگ بجھانے کو
محبوب کا اک دیدار فقط
اس شجر سایہ دار کو بھی
You have read 12% of Dillo ki Dilli - دِلوں کی دِلّی. The full e-book picks up right where this stopped.