12% of the book — free to read
اقلیم فاطمہ، پنجاب کی سرسبز و شاداب و بھولی بسری تاریخی داستانوں کی سرزمین چونیاں، قصور سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ 22 اپریل 1985 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے بی اے کے سالانہ امتحانات 2005 میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور یہ سلسلہ جاری رہا جس کی بدولت انھوں نےاپنی علمی و ادبی زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ لمس ھدی 2023 میں شائع ہوا۔ ان کی شاعری محبت، روحانیت، اور انسانی جذبات کے گرد گھومتی ہے۔ اقلیم فاطمہ مختلف اخباری رسائل اور میگزین کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ وہ آج کل پنجاب یونیورسٹی شعبہ جینڈر سٹڈیز سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو علم و ادب کے ساتھ ساتھ تحقیق کے ذریعے مزید نکھارا۔ ان کی شاعری میں روایتی اور جدید دونوں رنگوں کا امتزاج نظر آتا ہے، جس سے ان کی تحریروں کو ایک منفرد مقام حاصل ہوا ہے۔ بطور معلمہ گزشتہ نو سالوں سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر اینڈ ویمن سٹڈیز سے وابستہ ہیں اور بطور محقق وہ اسلامی اور عصری مطالعات کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
(داستان پبلشرز )
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ مصنف سے باقاعدہ پیشگی تحریری اجازت کے بغیر جزوی یا کلی طور سے کہیں بھی شائع نہیں کیا جا سکتا۔ اس قسم کی صورت ِحال ظہور پذیر ہوتی ہے تو قانونی کار روائی کا حق محفوظ ہے۔
2025ء
میں اقلیم فاطمہ نے شائع کی
نام کتاب: عشق الہام ہے
مصنف: اقلیم فاطمہ
سال: جنوری 2026
میرے ہمسفرِ زیست عدنان حیدر کے نام
جن کے سنگ جینا ہی زندگی ہے!
معزز قارئین!
"عشق الہام ہے" میرا دوسرا اور آخری شعری مجموعہ ہے جسے خداوند قدوس کے لطف و کرم اور اہل بیت علیہم السلام کےتصدق ملنے والی والدین، شاہ سائیں، علی حسین حورا (میرے بچوں) و دیگر احباب کی دعاؤں کے باعث مکمل کر پائی۔
میرا یہ ماننا رہا ہے کہ عشق الہام ہے۔ کیونکہ یہ قلبی واردات کا نام ہے ۔ ایسی واردات جس کے رنگ اور کیفیات تو مختلف ہیں مگر اثر اور نتیجہ ایک ہی ہے۔ ایسا اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ عشق جب بھی ہمارے دلوں پہ جلوہ گر ہوتا ہے تو یہ چاہے کوئی سا بھی رنگ یا کیفیت اپنا کر آئے ، ہماری انگلی تھامے ، منزل بہ منزل ہم پرحقیقتیں عیاں کرتا ، ادراک کی منزلیں طے کرواتا ، ہمیں اپنے ساتھ ساتھ لیے پھرتا ہے۔
میرا یہ شعری مجموعہ بھی ایسی ہی کیفیات کا ترجمان ہے جو دل پر صادر ہوئیں ، مجھے اپنا اسیر کیا اور ہر بار اک نیا عقدہ وا کرواتے ہوئے مجھےزندگی کی نئی جہتوں سے روشناس کرتی چلی گئیں۔ یقینا الہامِ عشق کا سلسلہ رکا نہیں مگر اشعار کی آمد کا سلسلہ رک گیا ہے یا یوں کہیں کہ روک دیا گیا ہے۔ کس نے روکا، کیسے روکا اور کیوں روکا،معلوم نہیں۔
شاید یہ بھی الہام ہی کی نئی صورت ہے۔ اللہ جانے!
خیر میرے اس شعری مجموعے کی تالیف ، ترتیب ،تدوین اور اشاعت کے دوران کئی افراد کی قیمتی آرا نے کلیدی کردار ادا کیا جن میں بہت پیاری دوست نورین فاطمہ، ڈاکٹر شاہد صدیقی، جناب افتخار عارف، ڈاکٹر محمد قاسم یعقوب ، علی اکبر ناطق ، ڈاکٹر عبد العزیز ساحر ، اور میرے انتہائی ممدو معاون وہ احباب شامل ہیں جنہوں نے اپنا نام پیشِ لفظ میں شامل ناکرنے کی درخواست کی۔
یہ تمام لوگ وہ ہیں کہ ان میں سے کسی نے بطور قاری اصلاح کی تو کسی نے مجھے اپنے تخلص اقفا کو 'اقلیم' سے بدلنے کا مشورہ دیا۔ کسی نے کتاب کا مجوزہ نام تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تو کسی نے نظموں اور غزلوں کی ترتیب کے حوالے سے بہترین مشورے دئیے۔ کسی نے قادر الکلام استاد کو کلام دکھانے کا مشورہ دیا تو کسی نے اوزان کی نشاندہی سے لے کر اس کی درستگی کے تمام مراحل میں بھر پور ساتھ دیا۔ یوں ان تمام افراد نے 2022 یعنی ابتدائی کلام لکھنےسے لے کر اس کی اشاعت 2026 تک مختلف اوقات میں میری رہنمائی کی ، جس کے لیے ان سب کی تہِ دل سے مشکور ہوں اور ان کی خیر و سلامتی کے لیے دعا گو بھی۔
"عشق الہام ہے "میری شاعری کی آخری کتاب ہے جسے میں ان تمام محبت کرنے والوں کے نام کرتی ہوں جن کی محبت میں خواب و خیال، اظہار و انتظار، خوشی و غم، شکوے و شکایت، خاموشی و تنہائی، سچائی و بے باکی، اور عشق و محبت کی ان گنت کیفیات موجود ہیں۔ یہ کتاب ایسے تمام محبت کرنے والوں کے لیے نئے سال کا تحفہ ہے۔
امید ہے قارئین اسے قبول فرمائیں گے!
نیک تمناؤں کے ساتھ
سیدہ اقلیم فاطمہ کاظمی
✸
اس نئےسال میں ہےتجھ سے ملاقات کاشوق
چند گھڑیاں تری آنکھیں ترا چہرا دیکھوں
چند گھڑیاں تری قربت کی میسر ہوں مجھے
چند گھڑیاں کبھی انوار کا پہرا دیکھوں
چند گھڑیاں اسی یوحٰی سے گندھے لہجے کا
کچھ اثر اپنی رگ و جان پہ گہرا دیکھوں
چند گھڑیاں میں مکبر کے مظاہر کے قریں
روشنی پاؤں ذرا خود کو سنہرا دیکھوں
چند گھڑیاں یہاں اندھیر ذرا مٹ جائے
جاگتی آنکھ سے اگتا میں سویرا دیکھوں
چند گھڑیاں ذرا اقلیم جو مل جائیں مجھے
اپنا افلاک کی منز ل پہ بسیرا دیکھوں
✸
مرے چشمے سے پھر جاری محبت ہو گئی ہے
بڑی شدت سے اس باری محبت ہو گئی ہے
وہ مجھ کو دیکھ کر بولا سنو مجھ سے مری جاں
تمہی سے دوسری باری محبت ہو گئی ہے
خدا حافظ تمھیں کہتے قدم اٹھا نہیں جب
لگا مجھ کو بڑی بھاری محبت ہو گئی ہے
کوئی در، باب، دروازہ مجھے بھاتا نہیں ہے
تری چوکھٹ پہ جب واری محبت ہو گئی ہے
You have read 12% of Ishq Ilhaam Hai- Spiritual Love Poetry Book. The full e-book picks up right where this stopped.