21% of the book — free to read
بسم الله الرحمن الرحيم
رفشہ نوید پاکستان کی سب سے نوجوان مصنفہ
" میں نے یہ کتاب اس لیے لکھی کیونکہ میرا ماننا ہے کہ قلم اٹھانے کے لیے عمر کی نہیں،مقصد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرامقصد اللہ کے ایک پیارے نبی کی زندگی سے ملنے والے سبق کو سادہ الفاظ میں دوسروں تک پہنچانا تھا۔"
فہرست
مصنفہ رفشہ نوید.................................................................. 4
حسنِ یوسف...................................................................... 6
میرا پیغام........................................................................... 30
سچی معافی اور بڑا دل........................................................... 31
برائی کا جواب اچھا اسے دینا.................................................... 31
اللہ کی منصوبہ بندی............................................................ 31
علم اور دیانت داری........................................................... 32
اختتامی کلمات................................................................. 32
وہ حسن لازوال، وہ صبر بے مثال
قصہ ہے یوسف کا، قدرت کا ایک کمال
حضرت یوسف علیہ السلام کنعان میں پیدا ہوئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا زمانہ پیدائش تقریبا 1800 قبل مسیحی یا لگ بھگ 1747 قبل مسیحی مانا جاتا ہے۔
آج کے دور میں کنعان کوئی ایک ملک نہیں ہے، یہ ایک قدیم تاریخی خطہ تھا۔ جو کئی ممالک کے جعرافیائی علاقوں پر پھیلا ہوا تھا۔ کنعان کا علاقہ بنیادی طور پر بہرہ روم( Mediterranean Sea) کے مشرقی علاق ساحل پر واقعہ تھا، اور یہ آج کے درج زیر ممالک پر پھیلا ہوا ہے:
کنعان ایک قدیم نام ہے۔ جو آج کے علاقوں فلسطین، اسرائیل اور لبنان وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جسے اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کے لیے مبارک ٹہرایا۔
"اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو بچا کر اس سرزمین شام کی طرف روانہ کیا جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لیے برکت رکھی ہے۔"
الأنبیاء آیت نمبر 7
حضرت یوسف علیہ السلام کے والد کا نام یعقوب( علیہ السلام)، اور والدہ کا نام رحیل بنت لیان یا الایان ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام بھی نبی تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد کا نام اسحاق بن ابراہیم ہے، یعنی حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ہی ان کے چہرے میں نور کی جھلک نظر ائی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :
" ہم نے یوسف کے چہرے میں ڈال دیا ۔"
سورہ یوسف آیت نمبر 12
یہ نور ان کی پاکیزگی، خوبصورتی اور اللہ کی محبت کی علامت تھا۔ یہ صرف جمالیاتی نور نہیں بلکہ روحانی نور تھا۔ جو یہ ظاہر کرتا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اللہ کے منتخب کیے ہوئے بندوں میں شامل ہیں۔ یہ نور ظاہر کرتا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام مستقبل میں نبوت کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی آواز خوبصورتی، اور نور انہیں بھائیوں میں ممتاز کر دیتا تھا۔ جس کی وجہ سے بعض بھائیوں کے دلوں میں حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے حسد پیدا ہو گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے گھر کا ماحول بہت روحانی، ایمانی اور محبت بھرا تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بچوں کے ساتھ محبت اور عدل سے پیش آتے تھے، اور انہیں ایمان اور اخلاص کی تعلیم دیتے تھے۔
گھر میں دعا اللہ کی دعا اور نیکی کے کاموں کی عادت تھی لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کی خوبصورتی اور نور کی وجہ سے بعض بھائیوں میں حسد پیدا ہوا، اور یہاں سے حضرت یوسف علیہ السلام کے ان تجربات کا آغاز ہوا۔ اس کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد کی نصیحت اور ایمان کی روشنی میں صبر اور حکم کے ساتھ بڑے ہوئے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام سے بے حد محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے ،اور وہ اپنے بیٹے کے لیے خاص دعاؤں اور توجہ کا اہتمام کرتے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی خوبصورتی ،نیکی، ذہانت اور ایمانداری نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی محبت کو حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے اور بڑھا دیا۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کی یہ محبت اور شفقت نہ صرف آپ علیہ السلام کی تربیت کا باعث بنی بلکہ گھر کے ماحول کو بھی سکون اور رحمت سے بھر دیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام ایک ایسے خاندان نے پیدا ہوئے۔ جو جذبات محبت اور روحانی اصولوں سے بھرپور تھا۔ خاندان کے افراد کے درمیان تعلقات بہت مضبوط اور محبت بھری بنیادوں پر قائم تھے۔ مگر بعض اوقات حسد یا انسانی جذبات بھی موجود ہوتے تھے۔ جہاں محبت، شفقت، حسد اور آزمائش سب ایک ساتھ موجود تھیں۔ اس ماحول نے حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر و حکمت اور تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ نے خصوصی نعمت دی تھی کہ وہ خوابوں کی تعبیر کر سکتے تھے۔ بچپن سے ہی وہ خوابوں میں آنے والے نشانات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب عام خوابوں سے مختلف ہوتے تھے۔ یہ خواب علامات اور نشانات کے حامل ہوتے تھے۔ جن سے آنے والے حالات کا پتہ چلتا تھا۔ ان خوابوں میں اکثر مستقبل کے واقعات، آزمائشیں اور اللہ کی حکمت کے راز چھپے ہوتے تھے۔
خوابوں میں آنے والے یہ راموز حضرت یوسف علیہ السلام کی بصیرت اور اللہ کے پیغام کو سمجھنے کی قابلیت کی علامت تھے۔ یہ قدرتی صلاحیت نہ صرف ان کی شخصیت کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ اللہ کی عنایت اور قدرت بھی ظاہر کرتی ہے۔
اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خوابوں کو راز رکھنے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم اس لیے تھا کہ خوابوں کی تعبیر اور ان کے اثرات کے بارے میں بے وقت اور نامناسب باتیں نہ ہوں۔ اس سے حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر اور تقوے میں اضافہ ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ہمیشہ اللہ تعالی کا حکم مانا اور اللہ کے حکم کے مطابق عمل کیا۔
جب حضرت یوسف علیہ السلام کو خواب آیا تو اس وقت اپ کمسن تھے۔ آپ کی عمر تقریبا 7 سے 12 سال کے درمیان تھی، گھر میں خاموشی تھی، ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک اور چہرے پر معصومیت و نورانیت تھی۔
اس گہری رات میں حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا،جو عام خوابوں جیسا نہیں تھا بلکہ ایک الہی اشاراہ تھا۔
خواب میں حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ 11 تارے (آپ کے 11 بھائی)، سورج (آپ کے والد) اور چاند (آپ کی والدہ)آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔
"جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا:
You have read 21% of حسن یوسف. The full e-book picks up right where this stopped.