12% of the book — free to read

یہ محض ایک کتاب نہیں، یہ ایک سفر ہے۔ مگر یہ سفر ہر انسان کے لئے نہیں رکھا گیا۔ یہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ حقیقت میں کہاں کھڑے ہیں، اور اب تک انہوں نے اپنی زندگی کے لئے کیا چُنا ہے۔ یہ کتاب اُن ذہنوں کے لئے ہے جو خود کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔
یہ کتاب کسی مسئلے کی فہرست نہیں، بلکہ ایک ایسی بے چینی سے جنم لینے والا سوال ہے جو نیند میں چلتے انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ سوال اُس شخص سے ہے جو صبح سے شام تک مصروف تو ہے، مگر خود سے بے خبر ہے۔ جو محنت کرتا ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ کس کے لئے کر رہا ہے ۔ جو فیصلے لیتا ہے، مگر کبھی نہیں پرکھتا کہ وہ فیصلے واقعی اس کے اپنے ہیں یا کسی اور نے اس کے لئے پہلے ہی طے کر رکھے ہیں۔
یہ کتاب اسی غفلت کے بیچ ایک آئینہ رکھتی ہے، صاف، بے رحم اور شفاف۔ یہاں حقیقت کو مشکل لفظوں میں نہیں، عام فہم میں بے نقاب کیا گیا ہے۔ اگر اس کتاب کو محض پڑھا نہ جائے بلکہ ٹھہر کر سمجھ لیا جائے، تو انسان کے اندر ایک ایسی سنجیدگی جنم لیتی ہے جو زندگی کو گزارنے کا سلیقہ بدل دیتی ہے۔ پھر زندگی صرف چلتی نہیں، سنبھلتی ہے، اور انسان آہستہ آہستہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ نہ صرف ایک بہتر بلکہ حقیقی معنوں میں ایک اچھی زندگی گزارنے کے قابل بن جائے، ایسی زندگی جس میں اس کی ذات، اس کے فیصلے اور اس کا انجام ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔
باب 1: انسان کا پہلا قید خانہ
باب 2: اسکول فیکٹری
باب 3: سلیبس کی زنجیریں
باب 4: شناخت کا خاتمہ
باب 5: نئی نسل
باب 6: عوامی قرض
باب 7: نظام اور لگام
باب 8: نظامِ حیات
باب 9: کامیابی کا موقع
انسان کی سب سے گہری قید وہ ہوتی ہے جو اس کی یادداشت سے پہلے لکھ دی جاتی ہے۔ انسان کی زندگی کا پہلا قید خانہ اس وقت بن جاتا ہے جب اس کے اندر سوال پیدا ہونے سے پہلے جواب رکھ دیے جاتے ہیں۔
وہ ابھی کچھ سوچنے کے قابل بھی نہیں ہوتا، مگر اس کے لیے طے کر دیا جاتا ہے کہ کیا سوچنا محفوظ ہے اور کیا خطرناک۔ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ کسی بنے ہوئے ڈھانچے کا حصہ نہیں ہوتا، وہ آزاد ہوتا ہے، بے خوف، بے نقش، مگر لامحدود۔ اس کے اندر نہ کوئی اصول اترا ہوتا ہے، نہ کوئی تقسیم، نہ کوئی پابندی۔ انسان کی زندگی کا پہلا قید خانہ اس وقت تعمیر ہونا شروع ہو جاتا ہے جب وہ خود قید کا مطلب بھی نہیں جانتا۔ پیدائش کے فوراً بعد وہ ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولتا ہے جہاں ہر جذبہ، ہر ردعمل اور ہر خاموشی اس کے اندر کوئی نہ کوئی نقش چھوڑ دیتی ہے۔ یہ نقش اسے بتائے نہیں جاتے، یہ اس کے اندر بیٹھ جاتے ہیں، اور وہ انہی کے ساتھ بڑا ہوتا ہے۔
بچہ یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا سیکھ رہا ہے، مگر وہ سب کچھ جذب کر رہا ہوتا ہے۔ خوف، احتیاط، خاموشی، قبولیت، وہ ابھی چلنا نہیں جانتا، مگر رک جانا سیکھنے لگتا ہے۔ وہ بولنا نہیں جانتا، مگر لہجوں سے محفوظ اور غیر محفوظ کا فرق سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ برس ہوتے ہیں جہاں انسان کی سوچ کی بنیاد رکھی جاتی ہے، یہاں کوئی کتاب نہیں ہوتی، کوئی نصاب نہیں ہوتا، مگر سیکھنا سب سے گہرا ہوتا ہے۔
گھر والوں کے ڈر، ان کی کمزوریاں، ان کی بے بسی اور ان کی اپنی صدیوں پرانی زخم خوردہ آوازیں بچے کے ذہن میں ایسے اترتی ہیں جیسے سرد رات میں سانس جم کر دھند بن جائے۔ بچہ کچھ جانتا نہیں مگر سب محسوس کرتا ہے۔ وہ انہی محسوسات سے خود کو پہچاننے لگتا ہے، مگر یہ پہچان اس کی اپنی نہیں ہوتی، یہ ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اس کے گرد کھڑے ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں لوگ اولاد کی پیدائش کے بعد خود کو والدین سمجھ لیتے ہیں، مگر والدین ہونے کا شعور پیدا نہیں کرتے اور بغیر سوچے سمجھے وہی پرانے رسم و رواج اور طور طریقے اپنائے رکھتے ہیں۔
لیکن انہیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ بچہ معلومات کو کیسے سمجھتا ہے، جذبات کو کیسے محسوس کرتا ہے، اور رویوں کو کیسے سیکھ کر اپنی شخصیت میں شامل کرتا ہے۔ سائنسی طور پر یہ حقیقت ثابت ہے کہ بچپن میں دماغ تیزی سے پروگرام ہوتا ہے، ماحول، لہجہ، ردعمل اور رویہ بچے کے اعصابی نظام پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ اس کے باوجود والدین اکثر بچے کو اپنی سہولت، اپنے خوف یا اپنے ماضی کے تجربات کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تربیت کے نام پر کنٹرول بڑھتا ہے، سوال کے بدلے خاموشی سکھائی جاتی ہے، اور نظم کے نام پر خوف پیدا کیا جاتا ہے۔
بچہ ایک سیکھنے والا نظام ہوتا ہے، بالکل کمپیوٹر کی طرح، جس میں ڈالا گیا ہر ردعمل ایک مستقل پیٹرن بنا دیتا ہے۔ جب یہ پروگرامنگ لاعلمی سے ہوتی ہے تو بچے کی فطری صلاحیتیں، تخلیقی سوچ اور خود اعتمادی دبنا شروع ہو جاتی ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک آزاد انسان بننے کی صلاحیت پہلے ہی قید ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
اسی مرحلے میں انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ دنیا کو کیسے دیکھنا ہے، اور خود کو کیسے چھوٹا رکھنا ہے۔
انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ کسی نظام کی توسیع نہیں ہوتا۔ اس کے اندر نہ کوئی نقشہ ہوتا ہے، نہ کوئی حکم، نہ یہ شعور کہ اسے کسی سانچے میں ڈھلنا ہے۔ وہ ایک کھلا وجود ہوتا ہے، ایسا وجود جس کے اندر امکانات کی وسعت ہوتی ہے۔ اس کی آنکھ دنیا کو پہلی بار دیکھتی ہے اور اس دیکھنے میں نہ خوف شامل ہوتا ہے، نہ امید، نہ موازنہ آتا ہے۔ وہ زندگی کو اپنی آنکھ سے دیکھنے کے لئے آیا ہوتا ہے، نہ کہ کسی اور کی نظر سے خود کو جانچنے کے لئے۔
اس لمحے انسان مکمل ہوتا ہے، اس کے اندر کوئی سوال نہیں ہوتا مگر جستجو موجود ہوتی ہے۔ وہ جانتا نہیں کہ وہ کیا ہے، مگر وہ جو بھی ہے اس میں کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ وہ حالت ہے جسے دنیا بے ترتیبی سمجھتی ہے، حالانکہ یہی فطرت کی اصل ترتیب ہوتی ہے۔ انسان کی پہلی سانس کے ساتھ کوئی قید جنم نہیں لیتی، قید بعد میں آتی ہے، آہستہ آہستہ، خاموشی سے داخل کی جاتی ہے ۔
دنیا اس آزادی کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتی۔ ماحول، خاندان اور اردگرد کی فضا فوراً متحرک ہو جاتی ہے۔ بچے کو اٹھایا جاتا ہے، سنبھالا جاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ اس پر پہلی غیر مرئی لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔ یہ لکیر کسی قانون کی شکل میں نہیں ہوتی بلکہ لہجوں، خاموشیوں اور ردعمل کی صورت میں ہوتی ہے۔ بچہ کچھ سمجھتا نہیں مگر سب جذب کرتا ہے۔ یہی جذب کرنا اس کی پہلی کمزوری بھی بن جاتا ہے اور پہلا دروازہ بھی، جہاں سے قید داخل ہوتی ہے۔
یہ قید دکھائی نہیں دیتی، مگر اندر ہی اندر انسان کو بدلتی رہتی ہے۔ اس کی دیواریں سخت بھی نہیں ہوتیں، مگر اثر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ انسان آہستہ آہستہ اپنی اصل سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ جتنا بڑا ہوتا ہے، اتنا ہی خود سے بیگانہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ گھر کے لوگ بچے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، مگر اس حفاظت کے پیچھے اپنے خوف چھپے ہوتے ہیں۔ یہ خوف بچے کو الفاظ میں نہیں دیے جاتے بلکہ فضا میں گھول دیے جاتے ہیں۔ ایک فکر مند نظر، ایک بے چین آواز، ایک بے اختیار ردعمل، یہ سب بچے کے اندر پہلی بار یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ دنیا مکمل طور پر کھلی جگہ نہیں ہے۔ وہ ابھی بولنا نہیں جانتا مگر ماحول کے بدلتے لہجوں کو پہچاننے لگتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی آزادی پر پہلی ضرب پڑتی ہے، مگر یہ ضرب اتنی نرم ہوتی ہے کہ اسے پہچانا نہیں جا سکتا۔ یہ قید کسی زبردستی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ محبت کے ساتھ آتی ہے، اسی لئے سوال نہیں بنتی۔ بچہ یہ سیکھنے لگتا ہے کہ کچھ حالتیں قبول کی جاتی ہیں اور کچھ رد کر دی جاتی ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے، مگر اس کا ذہن آہستہ آہستہ ترتیب پکڑنے لگتا ہے، ایسی ترتیب جو اس نے خود نہیں بنائی ہوتی۔
انسان اپنی پہلی آزادی کھو دیتا ہے مگر اسے اس نقصان کا احساس نہیں ہوتا۔ اسے لگتا ہے کہ یہی فطری ہے، یہی درست ہے۔ اس کے اندر ایک خاموش یقین پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ دنیا کو سمجھ کر، احتیاط سے، اور دوسروں کے مطابق چل کر ہی جیا جا سکتا ہے۔ یہ یقین ابھی مکمل شکل نہیں لیتا، مگر اس کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔
یہاں انسان کی کہانی کا سب سے نازک موڑ ہوتا ہے۔ وہ ابھی مکمل طور پر آزاد بھی نہیں ہوتا ہے اور مکمل طور پر قید بھی نہیں ہوتا۔ وہ دو حالتوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے، مگر اس کا وزن آہستہ آہستہ آزادی سے ہٹ کر قبولیت کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں قید خانہ تعمیر ہونا شروع ہوتا ہے، بغیر دیواروں کے، بغیر تالے کے، مگر اس طاقت کے ساتھ جو پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔
بچہ جس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے وہ صرف دیواریں اور لوگ نہیں ہوتے، وہ ایک مکمل فضا ہوتی ہے جس کے اندر مخصوص ڈر، مخصوص امیدیں اور مخصوص توقعات پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ یہ سب چیزیں بچے کے شعور میں داخل نہیں ہوتیں بلکہ اس کے احساس میں اترتی ہیں۔ وہ ابھی یہ نہیں جانتا کہ کیا درست ہے اور کیا غلط، مگر وہ یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ کون سی کیفیت محفوظ ہے اور کون سی خطرے سے قریب ہے۔ یہی احساس آگے چل کر اس کے ذہن کی پہلی سمت بن جاتا ہے۔
بار بار ایک ہی لہجہ، ایک ہی ردعمل اور ایک ہی رویہ بچے کو یہ سکھاتا ہے کہ دنیا کی ایک ترتیب ہے جس سے ہٹنا مناسب نہیں ہے۔ وہ اپنی فطری حرکت کو بھی ماحول کی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے۔ بچہ وہی بنتا ہے جو اسے محسوس کرایا جاتا ہے۔ اگر اسے ڈرایا جائے تو وہ ڈرا ہوا بن جاتا ہے، اگر اسے کم سمجھا جائے تو وہ خود کو کم مان لیتا ہے۔
یہ عمل بہت خاموش ہوتا ہے کوئی یہ نہیں کہتا کہ اب تم آزاد نہیں رہے۔ قید آہستہ آہستہ عادت بن کر اترتی ہے۔ بچہ اپنی اندرونی لہر کو درست یا غلط کے پیمانے پر پرکھنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ خود کو نہیں جانچتا بلکہ ردعمل کو معیار بنا لیتا ہے۔ یہی معیار آگے چل کر اس کے اندر ایک مستقل حوالہ بن جاتا ہے، ایسا حوالہ جو اسے خود سے دور لے جاتا ہے۔
انسان کی سب سے پہلی غلط فہمی یہی ہوتی ہے کہ جو کچھ وہ محسوس کر رہا ہے وہ اس کا اپنا ہے۔ حالانکہ اس کے زیادہ تر ابتدائی احساسات ماحول کی پیداوار ہوتے ہیں۔ بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی بقا اطاعت میں ہے، اس کی سلامتی خاموشی میں ہے، اور اس کی قدر قبولیت میں ہے۔ یہ تصورات اسے سکھائے نہیں جاتے بلکہ اس کے اندر بٹھائے جاتے ہیں،
انسان اکثر ان زنجیروں کو اپنی فطرت'سمجھ لیتا ہے، جو ماحول نے بڑی خاموشی سے اس کی شخصیت کے گرد لپیٹی ہوتی ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آزادی پیچھے ہٹنے لگتی ہے۔ انسان اب بھی آزاد دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے اس کی وسعت سکڑنے لگتی ہے۔ وہ اپنی پہلی خواہش کو روکنا سیکھ لیتا ہے، اپنی پہلی ضد چھوڑ دیتا ہے، اور اپنی پہلی ہمت کو خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ سمجھدار ہو رہا ہے، حالانکہ وہ صرف محتاط بن رہا ہوتا ہے۔ یہی احتیاط اس کے ذہن میں دیوار کھڑی کرتی ہے۔
یہ دیوار کسی خوفناک شکل میں نہیں آتی۔ یہ دیوار نرمی، خیال اور حفاظت کے نام پر بنتی ہے۔ اسی لئے انسان اسے گرانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ وہ اسے اپنا سہارا سمجھتا ہے۔ مگر یہی سہارا آہستہ آہستہ اس کے قدموں کو محدود کر دیتا ہے۔ وہ زندگی کو دریافت کرنے کے بجائے اسے سنبھالنے میں لگ جاتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کی بے نام آزادی اپنی پہلی شکست قبول کرتی ہے۔ کوئی اعلان نہیں ہوتا، کوئی نشان نہیں لگتا، مگر اندر ایک خاموش سمجھوتہ ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھوتہ جس میں انسان یہ مان لیتا ہے کہ دنیا کو بدلنے کے بجائے خود کو ڈھالنا زیادہ محفوظ ہے۔ بچپن کا وہ بے ساختہ پھیلاؤ کسی نظام کی ضد نہیں ہوتا، مگر اسے کچلنا نظام کی اولین ضرورت ہے تاکہ ایک آزاد وجود کو ایک کارآمد پرزے میں تبدیل کیا جا سکے۔
لفظوں کی لغت سے پہلے لہجوں کی جکڑن جنم لیتی ہے، جہاں خاموش اشاروں اور چہروں کے تناؤ سے وہ زنجیریں تیار کی جاتی ہیں جو ایک آزاد ذہن کو تاحیات ردِعمل کا غلام بنا دیتی ہیں۔ جب بچہ بولنا سیکھتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں سیکھتا۔ وہ آواز کے ساتھ چہرے پڑھنا سیکھتا ہے، لہجوں کے اتار چڑھاؤ کو محسوس کرتا ہے، اور لفظوں کے پیچھے چھپے جذبات کو پہچاننا شروع کرتا ہے۔ اس عمر میں بچہ لغت نہیں سمجھتا، مگر وہ ماحول کی فضا کو پوری شدت سے جذب کرتا ہے۔ ایک ہی لفظ مختلف لہجوں میں اس کے اندر مختلف اثر چھوڑتا ہے، اور یہی اثر اس کی ذہنی ساخت میں بیٹھنے لگتا ہے۔
بچہ یہ نہیں سیکھتا کہ کیا کہا گیا، وہ یہ سیکھتا ہے کہ کیسے کہا گیا۔ ایک نرم لہجہ اسے سکون دیتا ہے، ایک تیز آواز اس کے اندر کھنچاؤ پیدا کرتی ہے، اور ایک بے توجہی اسے الجھا دیتی ہے۔ وہ لفظوں کے ساتھ جذبات کو جوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر پیار کے ساتھ بات کی جائے تو وہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے، اگر جھنجھلاہٹ کے ساتھ جواب ملے تو وہ خود کو مسئلہ سمجھنے لگتا ہے۔
یہاں کوئی باقاعدہ سبق نہیں ہوتا، مگر ساری تعلیم یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ بچہ بول کر ردعمل دیکھتا ہے، اور ردعمل سے سیکھتا ہے۔ اگر اس کی بات پر مسکراہٹ آئے تو وہ خود کو درست سمجھتا ہے، اگر ناگواری آئے تو اس کام سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ روک کسی ڈانٹ کے نتیجے میں نہیں ہوتی بلکہ بار بار کے مشاہدے سے جنم لیتی ہے۔ یہی مشاہدہ اس کی شخصیت میں پہلی ترتیب پیدا کرتا ہے۔
اس عمر میں بچہ جذبات کو لفظوں سے الگ نہیں سمجھتا۔ اس کے لئے غصہ ایک آواز ہے، محبت ایک لمس ہے، اور ناپسندیدگی ایک چہرہ ہے۔ وہ سیکھتا ہے کہ کس موقع پر کون سا جذبہ قابل قبول ہے اور کس موقع پر کون سا جذبہ دبانا بہتر ہے۔ اگر اس کے رونے پر فوراً بے چینی پھیل جائے تو وہ سیکھ لیتا ہے کہ رونا مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کے سوال پر جھنجھلاہٹ ملے تو وہ جان لیتا ہے کہ سوال خوشگوار نہیں ہوتے۔
یہاں صرف خوف نہیں سکھایا جاتا، یہاں تاثر سکھایا جاتا ہے۔ بچہ یہ سیکھتا ہے کہ اس کی بات دوسروں پر کیا اثر ڈالتی ہے۔ وہ اپنے جذبات کو سچ یا جھوٹ کے پیمانے پر نہیں پرکھتا بلکہ ردعمل کے پیمانے پر تولتا ہے۔ اگر ردعمل سخت ہو تو وہ جذبہ پیچھے ہٹا لیتا ہے، اگر نرم ہو تو وہی جذبہ دہرا دیتا ہے۔ یوں اس کے اندر جذبات کی ایک ترتیب بننے لگتی ہے جو اس نے خود نہیں چنی ہوتی۔
لہجہ، آواز اور رویہ اس عمر میں الفاظ سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ بچہ بڑوں کے بولنے کا انداز نقل نہیں کرتا، وہ ان کے ردعمل کا طریقہ اپنا لیتا ہے۔ اگر بات بات پر تنقید ہو تو وہ خود کو جانچنے لگتا ہے، اگر ہر بات پر موازنہ ہو تو وہ خود کو کم یا زیادہ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ سب شعوری طور پر نہیں کرتا، مگر اس کا ذہن ان نقشوں کو خاموشی سے محفوظ کر لیتا ہے۔
بچے کے اندر بولنے کا انداز نہیں بلکہ ہونے کا انداز بنتا ہے۔ وہ سیکھتا ہے کہ کب خوش ہونا ہے، کب رک جانا ہے، کب اپنی بات کہنی ہے اور کب نگل لینی ہے۔ یہ سب خوف کی وجہ سے نہیں ہوتا، بلکہ تعلق بچانے، ماحول میں فٹ ہونے اور قبولیت حاصل کرنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔ یہی خواہش آگے چل کر اس کی زندگی کا بنیادی محرک بن جاتی ہے۔
اس عمر میں بچہ ابھی دنیا کو سمجھ نہیں رہا ہوتا، وہ دنیا کو جذب کر رہا ہوتا ہے۔ وہ لفظوں کے معنی نہیں جانتا، مگر آواز کی شدت جان لیتا ہے۔ وہ جملے نہیں پہچانتا، مگر چہرے کی سختی اور نرمی میں فرق محسوس کرتا ہے۔ اس کے لئے دنیا ایک مسلسل کیفیت ہے، جس میں ہر آواز، ہر لمس اور ہر ردعمل اس کے اندر کوئی نہ کوئی نشان چھوڑتا ہے۔
جب ماں یا باپ کی آواز اچانک بدلتی ہے تو بچہ چونک جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ کیا کہا گیا، مگر وہ یہ جان لیتا ہے کہ فضا بدل گئی ہے۔ اگر اس کے بولنے پر بڑوں کے چہرے سخت ہو جائیں تو اس کے اندر ایک ہلکی سی کھنچاؤ پیدا ہوتی ہے۔ یہ کھنچاؤ خوف نہیں ہوتا، یہ ایک ابتدائی بے یقینی ہوتی ہے۔ وہ ابھی ڈرنا نہیں جانتا، مگر وہ محفوظ اور غیر محفوظ کا فرق سیکھنے لگتا ہے۔
جذبات زبان سے پہلے بننا شروع ہوتے ہیں۔ بچہ لفظوں سے پہلے لہجے کو محفوظ کرتا ہے۔یہ سب شعوری نہیں ہوتا، مگر جسم اور احساس کے اندر نقش بننے لگتے ہیں۔ یہی نقش آگے چل کر اس کی دنیا کو سمجھنے کا طریقہ بنتے ہیں۔
بچہ اس عمر میں بات کو یاد نہیں رکھتا، مگر ردعمل کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ یہ نہیں یاد رکھتا کہ اس نے کیا کہا تھا، مگر یہ یاد رکھتا ہے کہ اس کے بعد ماحول کیسا ہو گیا تھا۔ اگر اس کی آواز پر فوراً توجہ ملے تو وہ خود کو موجود محسوس کرتا ہے۔ اگر اس کی بات پر بے توجہی ہو تو اس کے اندر ایک ہلکی سی خالی جگہ بنتی ہے۔
یہی خالی جگہ آگے چل کر سوال بن سکتی تھی، مگر اس عمر میں وہ صرف احساس رہتی ہے۔ بچہ اپنی آواز کو جانچنا شروع کر دیتا ہے، نہ کہ لفظوں سے بلکہ ردعمل سے۔ اگر ردعمل نرم ہو تو آواز جاری رہتی ہے، اگر ردعمل بھاری ہو تو آواز خود بخود مدھم ہو جاتی ہے۔ یہ روک کسی حکم سے نہیں ہوتی، یہ جسم کے اندر پیدا ہوتی ہے۔
بڑوں کا تھکا ہوا لہجہ، بے صبری، یا غیر ارادی سختی بچے کے اندر ایک خاموش پیغام چھوڑ دیتی ہے کہ فضا نازک ہے۔ وہ اس نازکی کو سنبھالنا سیکھنے لگتا ہے، حالانکہ وہ ابھی خود سنبھلنا بھی نہیں جانتا۔
اس عمر میں بچہ اپنی زبان سے کم اور اپنے اردگرد کی زبان سے زیادہ سیکھتا ہے۔ وہ خود الفاظ نہیں بناتا، وہ سنے ہوئے لفظوں کا مزاج اپناتا ہے۔ گھر میں جو باتیں بار بار دہرائی جاتی ہیں، جو جملے فکر کے ساتھ کہے جاتے ہیں، جو خدشات روزمرہ گفتگو میں گھلے ہوتے ہیں، وہ سب بچے کے اندر خاموشی سے اترنے لگتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ باتیں سچ ہیں یا عادت، مگر وہ انہیں فضا کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔
جب بچہ دیکھتا ہے کہ بڑے ہر وقت کسی نہ کسی اندیشے میں بات کر رہے ہیں، رزق کی کمی، لوگوں کی باتیں، مستقبل کا خوف، یا حالات کی شکایت، تو وہ انہی لفظوں کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت کو اپنا لیتا ہے۔ وہ خود یہ الفاظ نہیں دہراتا، مگر ان کے اندر چھپا وزن اس کے احساس میں بیٹھ جاتا ہے۔ یوں خوف اسے سکھایا نہیں جاتا، وہ اسے وراثت میں لے لیتا ہے۔
ہمارے بچے دس یا گیارہ سال تک ایک ہی ادارے، ایک ہی نظام اور مخصوص نگرانوں کے زیرِ سایہ پلتے ہیں۔ روزانہ ایک ہی وقت، ایک ہی ترتیب، ایک ہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ وہاں کیا پڑھتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ وہ وہاں سے کیا بن کر نکلتے ہیں۔ ان برسوں میں ان کے اندر کون سی عادتیں بیٹھتی ہیں، کون سی سوچ مضبوط ہوتی ہے، اور کون سی صلاحیت خاموشی سے مر جاتی ہے۔
کچھ بچے انہی سالوں میں اے پلس گریڈ لیتے ہیں، کچھ اوسط درجے میں رہتے ہیں، اور کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ فرق ختم کیوں ہو جاتا ہے۔ جو تیز تھے وہ کیوں رک جاتے ہیں، اور جو خاموش تھے وہ کیوں کبھی کھل ہی نہیں پاتے۔
سکول میں داخل ہوتے ہی بچے کے ساتھ پہلا بڑا عمل یہ ہوتا ہے کہ اسے ایک فرد نہیں بلکہ ایک نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی رفتار، اس کی سمجھ اور اس کی فطرت کو الگ الگ نہیں دیکھا جاتا بلکہ سب کو ایک ہی نظر سے پرکھا جاتا ہے۔ سکول کے لئے بچہ وہ نہیں ہوتا جو وہ ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جسے ایک مقررہ پیمانے میں فٹ آنا چاہیے۔ جہاں انفرادیت ایک خامی بننا شروع ہوتی ہے۔
ہر بچہ مختلف ذہن لے کر آتا ہے۔کوئی آہستہ سیکھتا ہے، کوئی سوالوں میں جیتا ہے، کوئی خاموشی میں سوچتا ہے، کوئی حرکت میں سمجھتا ہے۔ مگر سکول ان فرقوں کو ماننے کے بجائے انہیں مسئلہ سمجھتا ہے۔ ایک ہی کلاس، ایک ہی وقت، ایک ہی رفتار، ایک ہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ جو اس ترتیب میں فٹ ہو جائے وہ اچھا، جو نہ ہو وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ یوں بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ خود جیسا ہونا خطرہ ہے اور ایک جیسا ہونا محفوظ ہے ۔
جس معصوم آنکھ میں ابھی کائنات کے لیے کوئی پیمانہ تخلیق نہیں ہوا تھا، وہاں موازنے کی دیواریں کھڑی کرنا ہی وہ پہلا نفسیاتی قتل ہے جس پر کوئی قانون گرفت نہیں کرتا۔ سکول کے لئے مختلف ذہن سنبھالنا مشکل ہے، اس لئے وہ سب کو ایک شکل میں ڈھال دیتا ہے۔
یہی ڈھلنا بچے کے اندر پہلی خاموش شکست بن جاتا ہے۔ وہ اپنی فطری رفتار چھوڑ کر باہر کی رفتار اپنانے لگتا ہے، اور یہی اپنانا اس کی سوچ کو محدود کرنا شروع کر دیتا ہے۔
سکول میں انفرادیت کو براہِ راست نہیں مارا جاتا، اسے آہستہ آہستہ غیر ضروری ثابت کیا جاتا ہے۔ بچہ جب کچھ الگ کرتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ طریقہ درست نہیں۔ جب وہ مختلف سوچتا ہے تو اسے سمجھایا جاتا ہے کہ یہ سوال نصاب سے باہر ہے۔ یوں اس کے ذہن میں یہ خیال بیٹھنے لگتا ہے کہ جو چیز سب نہیں کر رہے، وہ غلط ہے۔
یہاں موازنہ سب سے خطرناک ہتھیار بنتا ہے۔ بچے کو اس کی ذات سے نہیں بلکہ دوسرے بچوں سے ناپا جاتا ہے۔ فلاں بچہ زیادہ تیز ہے، فلاں زیادہ خاموش ہے، فلاں زیادہ نمبر لاتا ہے۔ اس مسلسل موازنے میں بچہ اپنی اصل کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ یہ جاننے لگتا ہے کہ اسے کیا بننا ہے، یہ جاننے کے بجائے کہ وہ کیا ہے۔
آہستہ آہستہ بچہ اپنی فطری صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے۔ اگر وہ کلاس کے عمومی سانچے میں فٹ نہیں آتا تو وہ خود کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا ذہن سوال کرتا ہے مگر دل اسے خاموش کرا دیتا ہے۔ وہ اپنی مختلف سوچ کو درست کرنے کے بجائے دبانے لگتا ہے۔ یہی دبانا انفرادیت کے قتل کا اصل عمل ہوتا ہے۔
سکول کا نظام بچے کو یہ سکھاتا ہے کہ قبولیت سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جو قبول ہو جائے وہ بچ جاتا ہے، جو الگ نظر آئے وہ تنہا ہو جاتا ہے۔ اس خوف میں بچہ اپنی شخصیت کے کونوں کو خود ہی گھسنے لگتا ہے۔ وہ کم بولنے لگتا ہے، کم ظاہر کرنے لگتا ہے، اور کم سوچنے لگتا ہے، تاکہ وہ نمایاں نہ ہو جائے۔
یہ عمل کسی ایک دن میں مکمل نہیں ہوتا۔ یہ روز کی معمولی باتوں میں ہوتا ہے۔ وہی نشست، وہی جواب، وہی طریقہ۔ ہر دن بچہ اپنی فطرت کا ایک حصہ چھوڑتا ہے، اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ سیکھ رہا ہے، حالانکہ وہ صرف ڈھل رہا ہوتا ہے۔
یہی ڈھلنا اس کے اندر ایک عجیب خالی پن پیدا کرتا ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو کہا جاتا ہے، مگر اس میں اس کی اپنی روح شامل نہیں ہوتی۔ اس کی سوچ محدود ہو جاتی ہے، اس کی دلچسپی ختم ہونے لگتی ہے، اور اس کی تخلیق دب جاتی ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے، مگر اندر سے آہستہ آہستہ سو جاتا ہے۔ آخرکار بچہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اپنی مختلف ہونے کی صلاحیت کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے اندر اٹھنے والے خیالات کو روک دیتا ہے کیونکہ وہ جان چکا ہے کہ یہ خیالات اسے قبولیت سے دور لے جا سکتے ہیں۔ وہ اپنی آواز کو کم کرتا ہے، اپنی پسند کو چھپاتا ہے، اور اپنی اصل کو محفوظ رکھنے کے بجائے دفن کر دیتا ہے۔
ایک ایسا فرد تیار ہو جاتا ہے جو خود کو نظام کے مطابق ناپتا ہے، نہ کہ نظام کو خود کے مطابق۔ وہ باہر سے کارآمد نظر آتا ہے، مگر اندر سے خالی ہوتا ہے۔ اس کی انفرادیت ختم نہیں ہوتی، مگر استعمال کے قابل نہیں رہتی۔
یہ قتل خون سے نہیں ہوتا، خاموشی سے ہوتا ہے۔ کوئی چیخ نہیں ہوتی، کوئی احتجاج نہیں ہوتا۔ بس ایک دن انسان یہ مان لیتا ہے کہ وہ جو ہے، وہ کافی نہیں۔ یہی مان لینا سکول کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے، اور بچے کی پہلی مکمل نفسیاتی شکست۔ جس نظام میں سب کا ایک جیسا ہونا ہی کامیابی کی نشانی بن جائے، وہاں کسی کا مختلف ہونا ایک بیماری سمجھا جاتا ہے۔
سکول میں سوال پر پابندی نہیں لگائی جاتی، مگر اس کی فضا اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ سوال خود ہی دم توڑ دیتا ہے۔ بچہ جب پہلی بار ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے لفظوں سے زیادہ نگاہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کلاس کی خاموشی، استاد کا توقف، اور باقی بچوں کی نظریں اسے یہ احساس دلا دیتی ہیں کہ اس نے ایک حد پار کر دی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس نے کیا غلط کیا، مگر وہ یہ جان لیتا ہے کہ کچھ کرنا غلط تھا۔
یہاں سوال جرم نہیں بنتا، سوال شرمندگی بن جاتا ہے۔ سکول بچے کو سب کے سامنے سوال کرنے کا موقع دیتا ہے، مگر سب کے سامنے اس کی قیمت بھی رکھ دیتا ہے۔ اگر سوال ٹھیک نہ ہو، اگر لہجہ درست نہ ہو، اگر الفاظ کتابی نہ ہوں، تو بچے کو فوراً یہ احساس دیا جاتا ہے کہ وہ ناسمجھ ہے۔ یہی احساس سوال کو روکنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ جب ذہن میں اٹھنے والی جستجو سب کے سامنے تذلیل کے خوف سے ٹکراتی ہے، تو بچہ خاموش ہونا سیکھ لیتا ہے اور یہی وہ خاموشی ہے جہاں ایک زندہ عقل کا جنازہ اٹھتا ہے۔
بچہ سوال کرنے سے پہلے اب جواب نہیں سوچتا، انجام سوچتا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ مجھے کیا جاننا ہے، وہ سوچتا ہے کہ اگر میں نے پوچھا تو کیا ہوگا۔ یہی سوچ سوال کی فطرت بدل دیتی ہے۔ سوال جستجو نہیں رہتا، خطرہ بن جاتا ہے۔ اور جہاں سوال خطرہ بن جائے، وہاں عقل خاموش ہو جاتی ہے۔
سکول کا سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ وہ سوال کو ختم کر کے بھی خود کو علم کا محافظ ثابت کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سوال کرو، مگر اس کے ساتھ شرط رکھ دیتا ہے۔ سوال وقت پر ہو، انداز میں ہو، اور صرف وہی ہو جو نظام برداشت کر سکے۔ جو سوال اس دائرے سے باہر جائے، وہ بدتمیزی، ناسمجھی یا بغاوت کہلاتا ہے۔
بچہ جلد سمجھ جاتا ہے کہ سوال پوچھنے سے زیادہ محفوظ راستہ یاد کرنا ہے۔ جو یاد کر لیتا ہے وہ بچ جاتا ہے، جو پوچھ لیتا ہے وہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ یہی نمایاں ہونا سب سے بڑا خطرہ بنتا ہے۔ وہ سیکھ لیتا ہے کہ عقل استعمال کرنے سے بہتر ہے عقل چھپا لینا۔
یہاں سوچنے والا انسان نہیں بنایا جاتا، یہاں دہرانے والا ذہن تیار ہوتا ہے۔ بچے کو بتایا جاتا ہے کہ سب کچھ پہلے سے طے ہے۔ سوال کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ جواب کتاب میں موجود ہے۔ کتاب کو عقل کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور بچے کی سوچ کو مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی عقل پر اعتماد کھو دیتا ہے اور کتاب پر یقین سیکھ لیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوال مرنا شروع ہوتا ہے۔ چیخ کر نہیں، آہستہ آہستہ۔ ایک دن بچہ ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیتا ہے۔ دوسرے دن وہ سوچنا چھوڑ دیتا ہے۔ اور تیسرے دن اسے یاد بھی نہیں رہتا کہ سوال کیا ہوتا ہے۔
You have read 12% of Shor say Shaoor Tak- Conscious Living Book. The full e-book picks up right where this stopped.