14% of the book — free to read
بے نتیجہ
) شعری مجموعہ (
------------------
از: النویدؔ احمد
جو جیت نہ سکے اُسے ہارا نہیں گیا
اک بھول ہم سے اپنا سدھارا نہیں گیا
کاپی رائٹ ۲۰۲۶ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشرمحفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ درج بالا افراد یا ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
آئی -ایس-بی-این
978-627-526-084-4 پرنٹ:
ای کتاب: 978-627-526-085-1
انتساب
اُن ادھوری خواہشات اور ان تمام لاحاصل جذبوں کے نام ۔۔۔
جنہوں نے میری زیست کی خاموشیوں کوآواز بخشی۔۔۔۔
اُس نوید کے نام۔۔۔
جس نے صدائے دل پر لبیک کہااور اپنے زخموں کو کاغذ پر بکھیرتا رہا۔۔۔
اور اُس حسین یاد کے نام ۔۔۔
کہ جس کی رفاقت حسرتِ دیرینہ ہے۔۔۔
اُن تجربات کے نام ۔۔۔۔
جنہوں نے مجھے میری ہی ذات میں موجود لامتناہی کائنات کے جذباتی رازوں کو افشاں کردیا۔۔۔
حرفِ مصنف
تخلیق کا سفر اپنی ہی ذات میں ایک مسلسل جنگ کی مانند ہے۔ میرے لیے "بے نتیجہ" محض قافیہ اور ردیف کی ترتیب نہیں، بلکہ یہ میرے شعوری اور لاشعوری نشوونما اور تضادات کا ایسا مجموعہ ہے جس پر میں خود ایک ناقد کی حیثیت سے نگاہ ڈالتا ہوں۔ یہ اس داخلی بے چینی کا اظہار ہے جو روح اور مادے کے تصادم ہے وجود میں آتی ہے۔ اس مجموعے میں جہاں ہجر و وصال کی روایتی تڑپ ہے، وہیں ایک فنکارانہ بے چینی بھی ہے جو ابھی اپنے حتمی ڈھانچے کی تلاش میں ہے۔ یہ دلائل، منطق اور نتائج کی تلاش نہیں بلکہ عشق اور جنون کا وہ راستہ ہے جہاں سفر کی خوبصورتی اس کی لاحاصلی میں چھپی ہے۔ میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ کہیں کہیں خام جذبات نے فنی پختگی پر غلبہ پانے کی کوشش کی ہے مگر وہ اس لیے کہ میں نے دل کی دھڑکن کو عروض کے پیمانے پر قربان کرنے سے گریز کیا ہے۔
اس کتاب کا عنوان "بے نتیجہ" انسانی وجود کے اس خالی پن کی عکاسی کرتا ہے کس کا کوئی مادی حل موجود نہیں۔ یہ شعری سفر کسی نتیجے تک پہنچنے کی خواہش نہیں، بلکہ اپنے آپ میں ایک نتیجہ ہے۔ یہ تجربہ میری شعری تربیت کا ایک ابتدائی نقش ہے۔ اس میں اجالوں سے زیادہ واضح سائے بھی ہیں اور شور سے زیادہ بامعنی خاموشی بھی۔
میں اس مجموعے کو قارئین کی نذر کرتا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ آپ اسے محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک طالبِ فن کی جستجو کے طور پر دیکھیں گے۔ اور یہ اشعار آپ کے کسی نہ کسی ادھورے احساس کو زبان دیں گے۔اس دعا کے ساتھ کہ میری یہ پہلی کاوش آپ کے ذوقِ مطالعہ پر پوری اترے۔
النویدؔ احمد
اظہارِ تشکر
کتاب کی تکمیل کے اس مرحلے پر میں ان تمام ہستیوں کا شکر گزار ہوں جن کی بدولت یہ شعری سفر اپنی منزل تک پہنچا:
استادِ محترم جناب ظہورالحق دانش صاحب جن کی فکر انگیز رہنمائی میرے لیے ہمیشہ ایک مشعلِ راہ ثابت ہوئی۔
زاہدہ نور صاحبہ جنہوں نے پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود میری تحریروں پر نظر ثانی کی اور مزید ادبی باریکیوں سے روشناس کرایا۔
میرے بھائی: جن کی بے لوث محبت اور تعاون ہر مشکل گھڑی میں میرا حوصلہ بڑھاتا رہا۔
قارئینِ کرام: آپ تمام دوستوں کا پیشگی شکریہ، جن کی پذیرائی اور ذوقِ مطالعہ ہی کسی بھی تخلیق کار کا اصل اثاثہ ہوتا ہے۔
آخر میں، میں اپنی شریکِ حیات کا بے حد ممنون ہوں، جن کی رفاقت، صبر اور بھرپور تعاون کے بغیر اس مجموعے کو ترتیب دینا ممکن نہ تھا۔
فہرستِ مضامین
|
صفحہ نمبر |
غزل |
شمار |
|
11 |
اترن کے بجھے رنگ سے آنچل سے محبت |
1 |
|
13 |
تیری یادوں کی خوشبو سے کنارہ میں نہیں کرتا |
2 |
|
15 |
الفت کے چراغوں کو بجھانے نہیں دیتی |
3 |
|
16 |
جالِ حسن و عشق میں عشاق پھنستے بھی تو ہے |
4 |
|
18 |
بہت مشکل میری کہانی ہے |
5 |
|
الف |
||
|
21 |
الفت کے تقاضوں میں وعدہ نہیں کرتا |
6 |
|
22 |
تجھے خدا کا واسطہ ہے نہ جا |
7 |
|
24 |
تو میرے عشق کے، الفت کے سہارے آجا |
8 |
|
29 |
جنونِ محبت کو پرستار ملے گا |
9 |
|
32 |
چاند کو چھت پہ اتارا ہوگا |
10 |
|
35 |
رنجش سے زرِ قدر کمانا ہی پڑے گا |
11 |
|
37 |
سر پہ میرے دستِ کرم بھی نہیں رکھا |
12 |
|
40 |
فلک پوچھے زمانہ چاہیے کیا |
13 |
|
42 |
نہ رہا محدود دل تک آشیانہ نہ رہا |
14 |
|
45 |
شدت سے محبت کی طلب میں نہیں بھولا |
15 |
|
48 |
آیا ہوں تمہیں دل سے منانے کے لیے آج |
16 |
|
ر |
||
|
51 |
نظم ظرف پر غزل لبوں پر |
17 |
|
53 |
میں عشق والوں کا پیر بن کر |
18 |
|
54 |
ہے اگر منظور تو انکار کر |
19 |
|
س |
||
|
56 |
'تو مری نہیں' کا تو دکھ نہیں 'تجھے پاسکا نہ' کا غم ہے بس |
20 |
|
ل |
||
|
59 |
پھر جامِ کہن شوق سے پینے کے لیے دل |
21 |
|
م |
||
|
60 |
طلب دنیا میں جنت مت کرو تم | |
You have read 14% of Bay Nateeja- Urdu Poetry Book on Life. The full e-book picks up right where this stopped.