اور کبھی کبھی اللہ حجت تمام کر چکا ہوتا ہے۔ ایک ہادی آ کر جا چکا ہوتا ہے۔ اور ہم کاملیت کے پییچھے بھاگتے بھاگتے اس نعمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کے وہ کامل ہادی تو اپنا کام صدیوں پہلے مکمل کر چکا ہے۔ مگر ہم اس سطحی معاشرے کےسطحی ذہن ہونے کے ناطے، اس معاملہ میں بھی اسٹیٹس کانشس ہوتے ہیں ۔ اور ایک خواجہ سرا کو بطور ہادی تسلیم کرنا تو سیدھا غیرت پر پاؤں رکھنا ہے۔ یہ صرف اور صرف ایک باغی کے لیے ہی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ کنویں کے مینڈک سے ہم اس چیز کی امید ہرگز بھی نہیں کر سکتے ۔