ایسا ہوا جینا / Aesa Hua Jeena 1 Reviews

By: Noushaba Irfan

Price

PK Flag
PKR 850
INR Flag
INR 1500
USD Flag
USD 40

تخیل کی بلند پروازی لیے، مکمل آزادی سے زندگی کے ہر رخ کو بیان کرتی ایک ایسی 'سوانح عمری' ہے جس کا سادہ طرزِ تحریر باعثِ کشش ہے۔ دلچسپی کا نمایاں عنصر لیے یہ کتاب ایک بچے کی آزادی تو کہیں متفکرانہ سوچوں کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہے۔ ایسی کئی سوچیں جنھیں ہم نہایت عام سا تصور کرتے ہیں مصنفہ نے لکھ ڈالیں اس احساس کے ساتھ کہ ہر خیال عام سہی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یادوں میں خاص کی سی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ عجب امید و نا امیدی کے درمیاں ہے زندگی کبھی یہاں، کبھی وہاں، کبھی کہاں ہے زندگی

ISBN (Digital) 978-969-696-403-2
ISBN (Hard copy) 978-969-696-404-9
Total Pages 362
Language Urdu
Estimated Reading Time 6 hours
Genre Non-Fiction
Published By Daastan
Published On 14 Oct 2020
Noushaba Irfan

Noushaba Irfan

نوشابہ عرفان ایک نئی مصنفہ ہیں۔ ان کا انداز منجھا، سادہ، رواں اور بےتکلف ہے۔ انھوں نے جامعۂ پنجاب سے ایجوکیشن اور جامعۂ کراچی سے اردو میں ماسٹرز کیا اور چھبیس سال بحریہ کالج این او آر ای ون کراچی کے ملا کر تقریباً اٹھائیس سال درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔ آپ نے لاہور اور کراچی میں زندگی گزاری مگر اب امریکہ میں سکونت پذیر ہیں۔

Reviews


May 28, 2020

کہانی کو اس انداز میں بیان کرنا کہ قاری کی دلچسپی اختتام تک برقرار رہے اپنے آپ میں ایک فن ہے۔ مگر جب کہانی اصل زندگی کی ہو اور لکھاری اپنی مرضی سے مواد میں ردّو بدل کرنے کی گنجائش نا رکھتا ہو تو کہانی لکھنا لکھاری کے لیے چیلنج سے کم نہیں۔ نوشابہ عرفان کی کتاب "ایسا ہوا جینا" ان کی خود نوشت ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور اندازِ بیان نہایت عاجزانہ ہے۔ کئی بار قاری کو اایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصنّف خود سامنے بیٹھ کر زندگی میں گزرے واقعات بیان کر رہا ہو۔
'ایسا ہوا جینا' ا جینے کا ہنر سکھاتے ایسے حالات اور واقعات کا مجموعہ ہے کہ جن سے ہم سب گزرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پل، ان کہی باتیں، خوشی اورغم کی ملی جُلی کیفیت میں لپٹے وہ لمحات جو ہمارے ذہنوں کی الماری کے کسی کونے میں دفن ہوتے ہیں وہ سب آپ کو اس کتاب میں ملیں گے۔
اس کتاب میں آپ کو کہیں بہن بھائیوں کی چہک سے گونجتی فضائیں سنائی دیں گی تو کہیں آپ کی ملاقات پورے گھر کو اکیلے سنبھالتی نوشابہ سے ہوگی۔ کہیں اُن کے بحریہ کالج میں گزارے یادگار لمحات کا تذکرہ ہے تو کہیں عرفان صاحب سے پرائمری کلرز پر ہونے والی ہلکی پھلکی بحث۔ ہنسی ، قہقہے، غم ، غصّہ ،اندیشے، اُلجھنیں غرض وہ تمام فطری جذبے جن میں ہم زندگی کے مختلف ادوار میں مبتلا ہوتے ہیں اس کہانی کا حصّہ ہیں۔
کتاب کے آخری حصّے میں مختلف مواقع اور تقریبات پر نہایت سادہ اور دلفریب انداز میں لکھی گئی کچھ آزاد نظمیں، نثر اور قطعات ہیں کہ جس نے اُن خوبصورت لمحوں کو الفاظ کی زنجیر سے قید کرکے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا ہے۔
یہ عام سی زندگی کی وہ خاص کہانی ہے کہ جو ہم جیسے عام لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔

Books in Same Genre