ایسا ہوا جینا / Aesa Hua Jeena 1 Reviews

By: Noushaba Irfan

Hardcopy Price

PK Flag
PKR 850
INR Flag
INR 1500
USD Flag
USD 40

E-book Price

PK Flag
PKR 400
INR Flag
INR 400
USD Flag
USD 3

This autobiography book in Urdu presents a heartfelt and imaginative account of life, written with simplicity and emotional depth. Through a free-flowing and engaging narrative style, the author explores life in its many forms, sometimes through the innocent freedom of childhood, and at other times through thoughtful and reflective experiences shaped by time.

As a philosophical autobiography, the book highlights ordinary moments and simple thoughts that slowly transform into meaningful memories. Each reflection carries an underlying message, making this work both deeply personal and universally relatable. The honest expression of emotions and ideas turns this book into an inspirational autobiography for readers who seek purpose, self-reflection, and inner growth.

This life story book in Urdu serves as a gentle reminder that even the simplest experiences leave lasting impressions. Written as a reflective memoir book in Urdu, it captures emotions, memories, and life lessons in a way that resonates with readers of all ages who appreciate thoughtful storytelling and meaningful narratives.

ISBN (Digital) 978-969-696-403-2
ISBN (Hard copy) 978-969-696-404-9
Total Pages 362
Language Urdu
Estimated Reading Time 6 hours
Genre Non-Fiction
Published By Daastan
Published On 12 Feb 2026
No videos available
Noushaba Irfan

Noushaba Irfan

نوشابہ عرفان ایک نئی مصنفہ ہیں۔ ان کا انداز منجھا، سادہ، رواں اور بےتکلف ہے۔ انھوں نے جامعۂ پنجاب سے ایجوکیشن اور جامعۂ کراچی سے اردو میں ماسٹرز کیا اور چھبیس سال بحریہ کالج این او آر ای ون کراچی کے ملا کر تقریباً اٹھائیس سال درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔ آپ نے لاہور اور کراچی میں زندگی گزاری مگر اب امریکہ میں سکونت پذیر ہیں۔

Reviews


May 28, 2020

کہانی کو اس انداز میں بیان کرنا کہ قاری کی دلچسپی اختتام تک برقرار رہے اپنے آپ میں ایک فن ہے۔ مگر جب کہانی اصل زندگی کی ہو اور لکھاری اپنی مرضی سے مواد میں ردّو بدل کرنے کی گنجائش نا رکھتا ہو تو کہانی لکھنا لکھاری کے لیے چیلنج سے کم نہیں۔ نوشابہ عرفان کی کتاب "ایسا ہوا جینا" ان کی خود نوشت ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور اندازِ بیان نہایت عاجزانہ ہے۔ کئی بار قاری کو اایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصنّف خود سامنے بیٹھ کر زندگی میں گزرے واقعات بیان کر رہا ہو۔
'ایسا ہوا جینا' ا جینے کا ہنر سکھاتے ایسے حالات اور واقعات کا مجموعہ ہے کہ جن سے ہم سب گزرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پل، ان کہی باتیں، خوشی اورغم کی ملی جُلی کیفیت میں لپٹے وہ لمحات جو ہمارے ذہنوں کی الماری کے کسی کونے میں دفن ہوتے ہیں وہ سب آپ کو اس کتاب میں ملیں گے۔
اس کتاب میں آپ کو کہیں بہن بھائیوں کی چہک سے گونجتی فضائیں سنائی دیں گی تو کہیں آپ کی ملاقات پورے گھر کو اکیلے سنبھالتی نوشابہ سے ہوگی۔ کہیں اُن کے بحریہ کالج میں گزارے یادگار لمحات کا تذکرہ ہے تو کہیں عرفان صاحب سے پرائمری کلرز پر ہونے والی ہلکی پھلکی بحث۔ ہنسی ، قہقہے، غم ، غصّہ ،اندیشے، اُلجھنیں غرض وہ تمام فطری جذبے جن میں ہم زندگی کے مختلف ادوار میں مبتلا ہوتے ہیں اس کہانی کا حصّہ ہیں۔
کتاب کے آخری حصّے میں مختلف مواقع اور تقریبات پر نہایت سادہ اور دلفریب انداز میں لکھی گئی کچھ آزاد نظمیں، نثر اور قطعات ہیں کہ جس نے اُن خوبصورت لمحوں کو الفاظ کی زنجیر سے قید کرکے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا ہے۔
یہ عام سی زندگی کی وہ خاص کہانی ہے کہ جو ہم جیسے عام لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔

Books in Same Genre