Check out our most recent publications

ایسا ہوا جینا / Aesa Hua Jeena

by Noushaba Irfan

★★★★ (1 review) Add yours
Biography
Read a free sample — 12% free, no sign-up

About ایسا ہوا جینا / Aesa Hua Jeena

This autobiography book in Urdu presents a heartfelt and imaginative account of life, written with simplicity and emotional depth. Through a free-flowing and engaging narrative style, the author explores life in its many forms, sometimes through the innocent freedom of childhood, and at other times through thoughtful and reflective experiences shaped by time.

As a philosophical autobiography, the book highlights ordinary moments and simple thoughts that slowly transform into meaningful memories. Each reflection carries an underlying message, making this work both deeply personal and universally relatable. The honest expression of emotions and ideas turns this book into an inspirational autobiography for readers who seek purpose, self-reflection, and inner growth.

This life story book in Urdu serves as a gentle reminder that even the simplest experiences leave lasting impressions. Written as a reflective memoir book in Urdu, it captures emotions, memories, and life lessons in a way that resonates with readers of all ages who appreciate thoughtful storytelling and meaningful narratives.

Quotes from ایسا ہوا جینا / Aesa Hua Jeena

“میرے ہاتھوں ہوا خالی گھر بہت اچھی طرح مجھے زندگی کے بارے میں یہ حقیقت سمجھا گیا کہ کوئی چیز بھی دنیا میں دائمی نہیں۔”
“میری شادی پر اس کا بنایا ہوا ایک ایمبرائڈری والا فریم بھی جو مجھے تحفے میں ملا تھا، آج تک میرے گھر کے لاؤنج کی دیوار پر آویزاں ہے۔”
“اماں کے پیٹ درد کا ان دونوں کے سامنے بھی یقیناً تذکرہ کیاگیا ہوگا، مگر کسی نے بھی کوئی ایسی تجویزنہ دی کہ انھیں ہاسپٹل لے جانے کی ضرورت ہے۔”
Browse all quotes

Reviews (1)

Rate this book Tap a star — no account needed to start
★★★★ By Qudsia Jamali 28 May, 2020

کہانی کو اس انداز میں بیان کرنا کہ قاری کی دلچسپی اختتام تک برقرار رہے اپنے آپ میں ایک فن ہے۔ مگر جب کہانی اصل زندگی کی ہو اور لکھاری اپنی مرضی سے مواد میں ردّو بدل کرنے کی گنجائش نا رکھتا ہو تو کہانی لکھنا لکھاری کے لیے چیلنج سے کم نہیں۔ نوشابہ عرفان کی کتاب "ایسا ہوا جینا" ان کی خود نوشت ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور اندازِ بیان نہایت عاجزانہ ہے۔ کئی بار قاری کو اایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصنّف خود سامنے بیٹھ کر زندگی میں گزرے واقعات بیان کر رہا ہو۔
'ایسا ہوا جینا' ا جینے کا ہنر سکھاتے ایسے حالات اور واقعات کا مجموعہ ہے کہ جن سے ہم سب گزرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پل، ان کہی باتیں، خوشی اورغم کی ملی جُلی کیفیت میں لپٹے وہ لمحات جو ہمارے ذہنوں کی الماری کے کسی کونے میں دفن ہوتے ہیں وہ سب آپ کو اس کتاب میں ملیں گے۔
اس کتاب میں آپ کو کہیں بہن بھائیوں کی چہک سے گونجتی فضائیں سنائی دیں گی تو کہیں آپ کی ملاقات پورے گھر کو اکیلے سنبھالتی نوشابہ سے ہوگی۔ کہیں اُن کے بحریہ کالج میں گزارے یادگار لمحات کا تذکرہ ہے تو کہیں عرفان صاحب سے پرائمری کلرز پر ہونے والی ہلکی پھلکی بحث۔ ہنسی ، قہقہے، غم ، غصّہ ،اندیشے، اُلجھنیں غرض وہ تمام فطری جذبے جن میں ہم زندگی کے مختلف ادوار میں مبتلا ہوتے ہیں اس کہانی کا حصّہ ہیں۔
کتاب کے آخری حصّے میں مختلف مواقع اور تقریبات پر نہایت سادہ اور دلفریب انداز میں لکھی گئی کچھ آزاد نظمیں، نثر اور قطعات ہیں کہ جس نے اُن خوبصورت لمحوں کو الفاظ کی زنجیر سے قید کرکے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا ہے۔
یہ عام سی زندگی کی وہ خاص کہانی ہے کہ جو ہم جیسے عام لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔