قصّہ تمام شُد / Qissa Tamam Shud 3 Reviews

By: Atifa Zia

Price

PK Flag
PKR 650
INR Flag
INR 1000
USD Flag
USD 15

تخیل کی بلند پروازی کو چھوتا یہ شعری مجموعہ کئی دلوں کا ترجمان ہے۔ ہر لفظ میں چھپے احساس کا اعلان کرتا، یہ ہر بات میں اہتمام کی نمایاں مثال ہے۔ اس شعری مجموعے میں کہیں محبت کا جذبہ بھاری ہوتا نظر آتا ہے تو کہیں ہجر کا دکھ دل میں پنہاں روتا ہے۔

دل کو چھو لینے کی خاصیت رکھتا یہ مجموعہ امیدوں پر پورا اترنے کے لیے حاضر ہے۔

ISBN (Digital) 978-969-696-428-5
ISBN (Hard copy) 978-969-696-429-2
Total Pages 100
Language Urdu
Estimated Reading Time 2 hours
Genre Poetry
Published By Daastan
Published On 08 Sep 2020
Atifa Zia

Atifa Zia

An educationist with a passion for research who did her Masters in post colonial literature from Punjab University. She is best defined as a nation wide renowned bilingual public speaker who, being the patron of university literary club, actively mobilizes students in creative literary activities like debates, dramatics and writing challenges. The purpose of her life is to prepare leaders of tomorrow who can think and reason critically. Atifa is keen about reciting poetry and likes writing letters and essays. She has also worked in radio where she used to host a show called 'Ghazal Time'.

Reviews


Jul 08, 2020

انسانی زندگی جذبات و احساسات سے عبارت ہے۔ دل کی کوکھ میں پلنے والے جذبات انسان کی اندرونی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ محبت اور نفرت، خوشی اور غم، درد اور اداسی۔۔۔۔۔۔ ان تمام جذبوں کو لفظوں میں ڈھالنے کا فن شاعری کہلاتا ہے۔ ان لفظوں کو بُننے کا عمل آسان نہیں ہوتا۔ انسان کو اکثر جذبات، خیالات، احساسات اور معاشرے کے ان تلخ تجربات اور مشاہدات سے گزرنا پڑتا ہے جو اس کے دل کو درد سے معمور کرتے ہیں۔ زندگی میں سیکھنے کے لئے درد ضروری ہوتا ہے اور یہی درد انسان کے ہاتھ میں قلم تھما دیتا ہے۔
بقول میر:
_ع_ درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان ہوا
میم عاطفہ بنتِ ضیاء کی شاعری نسل نو کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ "قصہ تمام شد" کسی قوس قزح کی مانند ہے جس میں خوشی و غم، فراق و وصال، امید و آرزو، شعور و فراست کے رنگ اور اس پر الفاظ کا انتخاب جو قاری کے ذہن پر کسی کینوس پر پھیلائے رنگوں کی طرح نقش بناتا اور اپنی چاشنی چھوڑے جاتا ہے۔
ان کی شاعری میں خیالات کی پختگی اور الفاظ کی بناوٹ ان کے قادر الکلام ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ تخیلات اور مشاہدات کی الفاظ میں تصویر کشی کا ہنر وہ خوب جانتی ہیں۔ خود پہ بیتی تلخ ساعتیں ہوں، محبت میں گزری خوبصورت گھڑیاں ہوں، معاشرے کی بے رحم جفائیں، جذبوں کی زمیں ہو یا خوابوں کی حسیں بستی، انھوں نے زندگی کے ہر عکس کو خوبصورت پیرائے میں پرویا ہے۔
"قصہ تمام شد" کے ساتھ میم عاطفہ بنتِ ضیاء نے جو شاعری کی زمیں میں گل کاری کی ہے امّید ہے یہ تسلسل یونہی چلتا رہے گا اور یہ گلستاں اپنی دلپزیر خوشبو سے لوگوں کے دل ودماغ کو معطر کرتا رہے گا انشاءاللہ!

Jul 06, 2020

جو لمحے تیرے بنا گزرے
وہ لمحے بہت گراں گزرے
مصیبت ہنس کے جھیلی ہے
گو سر سے آسماں گزرے

Usama Ahmed

Rating:

Feb 26, 2020


بات بڑھائی ہے شناسائی کی اس طورسے
!پڑھ لیا اس کے لکھے کلام کو بڑے شوق سے

!!!انتساب سے متاثر
آنکھیں ہی آنکھوں کو سنتی ہیں
تب ہی تو یہ خواب بنتی ہیں
گہرے سمندر سے موتی لے کر
کہکشائوں سے ستارے چنتی ہیں

Books in Same Genre