Tawaquf / توقّف 0 Reviews

By: Saeed ul Hassan

No Ratings Yet

Price

PK Flag
PKR 1000
INR Flag
INR 1500
USD Flag
USD 40

’توقف‘ ایک منفرد نام ہے مگر ان دنوں ہر شخص انفرادی اور اجتماعی طور پر ایکpause  یا دوسرے لفظوں میں اپنی زندگی کے تھیٹر میں ایک طویلل وقفے ’’intermission‘‘سے دو چار ہے۔ ہو سکتا ہے ہم سب کی زندگیوں میں یہ پراؤ، وقفہ، وقتی طور پہ رکنا بہت ضروری ہو گیا ہو۔۔۔ ہمیں خود سے ملنے یا ملانے کے لیے۔۔۔ ایک دوسرے سے، گرد و پیش سے۔۔۔ یا شاید جانے انجانے میں ہم اپنی ذات ہی سے انجان بن چکے ہوں۔۔۔ یہی خیال میری حال ہی میں لکھی گئی نظم سے جھلکتا ہے، ”کس سے چھپ کے بیٹھے ہیں اور کس سے بھاگ رہے ہیں ہم“جس کا آخری شعر۔

سمٹ کے اپنی ذات میں ہم تو
اور
 بھی  رہ  گئے  ہیں  کچھ  کم

ISBN (Digital) 978-969-696-410-0
ISBN (Hard copy) 978-969-696-409-4
Total Pages 150
Language Urdu
Estimated Reading Time 2 hours
Genre Poetry
Published By Daastan
Published On 19 Jun 2020
Saeed ul Hassan

Saeed ul Hassan

سعید کا ادب سے لگاؤ بہت پرانا ہے۔ جس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے جن دنوں کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور کمپیوٹر سائنسز کو عملی زندگی میں کامیابی کا زینہ سمجھا جاتا رہا تھا، اِنھوں نے معاشیات اور شماریات جیسے خشک مگر اہم مضامین کو چار سال پڑھنے کے بَعْد درخور اعتنا جانا اور ماسٹر ڈگری کے لیے انگریزی ادب کا انتخاب کیا۔۔۔! یہ فیصلہ سعید کے نزدیک، ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ہر حوالے سے اطمینان اور آسانیوں کا باعث بنا۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری لینے کے بَعْد سعید نے تعلیم کے شعبے کو چُنا اور خصوصاً صنفی امتیاز کے خاتمے اور لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے لاہور میں ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ ہو کر سماجی بہبود اور تبدیلی کے سفر پر گامزن ہو گئے۔ لگ بھگ پچھلے سترہ سالوں سے چند نمایاں قومی اور بین اقوامی اداروں میں اہم عہدوں پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے بَعْد ان دنوں ایک ملک گیر غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر وابستہ ہیں۔ سعید پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے ٢٠٠٩ء میں اپنے ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے ”کامن ویلتھ ایجوکیشن اِسْپیشَل نومینیشن ایوارڈ“ اور ”گورنمنٹ آف ملائیشیا ایوارڈ“ حاصل کیا۔ پچھلی دو دہائیوں میں لکھی گئی شاعری آپ کے سامنے سعید کے شعری مجموعہ ”توقّف“ کی صورت میں حاضر ہے۔ اپنی شخصیت کی طرح سعید کا لہجہ نرم، اسلوب سادہ اور متوازن ہے مگر سوچ اور فکر کی گہرائی پوری سنجیدگی سے پڑھنے والے پہ اثر اندازِ ہونے لگتی ہے۔ اسی کی بدولت قاری اور لکھاری گویا ایک دوسرے سے بات چیت کے انداز میں ہَم كلام ہونے لگتے ہیں۔۔۔ شاعری کے ذریعے دو انسانوں میں ہَم آہنگی، ربط اور کافی حد تک ایک نجی تعلق پیدا ہونا، ایک اچھی تحریر کی ضمانت ہوتا ہے کیونکہ ایک کے جذبات منظوم لفظوں میں ڈھل کے دوسرے کے احساسات کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں۔ شعری مجموعہ کی بابت یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سعید کی سماجی موضوعات پہ لکھی گئی دو نظموں کو بین الاقوامی سطح پر کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ”ماں اور میں“ جو ماں اور بچے کے پہلے ہزار دنوں میں خصوصی دیکھ بھال اور غذایت کی اہمیت پر مبنی ہے اور ”زینب کی مٹھی“ چائلڈ پروٹیکشن(بچوں کے حفاظت) کے حساس موضوع پر لکھی گئی ہے۔

Reviews


Be the first to review it. Start now.

Books in Same Genre