ز-ر-ش 7 Reviews

By: Zarish Iqbal

Price

ابھی بھی بیٹھی نقش کھینچے چلی جاتی ہوں

 ہواؤں سے

الجھتے بادلوں میں

ویران دیواروں پہ، بنجر زمین پہ اور سالوں سے

تاریخ رقم کرتی شاخوں میں

اور پھر وہی چہرے دھیرے دھیرے

لازوال داستان لکھتے چلے جاتے ہیں

کچھ ایسی ہی کئی لازوال ان کہی داستانیں جو ہمارے اندر ہر چڑھتے نئے دن کے ساتھ جنم لیتی ہیں اور ہر ڈھلتی گہری رات کے ساتھ گُم ہوتی چلی جاتی ہیں، اس کتاب میں میرے اندازِ بیاں میں پنپ رہی ہیں اور میرے ساتھ ساتھ اس کتاب کو پڑھنے والوں کو بھی وجہ دیں گی کہ ہم کیوں سہم جاتے ہیں؟  جب ان کہی کو کہی کرنا ہو یا جب تلاش ہو کسی ایسے کونے کی۔۔۔ کہہ ڈالو وہ سب جو تمہارے دماغ سے شروع تو ہوتا ہے پر ختم دل پہ ہوتا ہے اور اگر دل سے شروع ہو جائے تو دل کے ساتھ ہی آخری سانس لیتا ہے، اپنی پہچان کی دنیا سے قدم باہر رکھتے ہی سہم جاتے ہیں ہم۔۔۔ خود پر پڑنے والی ہر نظر سے اور کہے گئے الفاظ سے۔۔۔ پر کبھی سوچا ہے کیوں ؟؟ جبکہ ہر نظر اور لفظ اجنبیت سے بھرپور ہوتا ہے تو پھر بھی  ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔۔۔ ہونا بنتا نہیں ہے ؟؟ سوچو تو وہ یوں کہ جب ہمارا دل ہمارے صحیح ہونے کی گواہی دے رہا ہو یا وہ لوگ جن کو ہمارا دل اور دماغ تسلیم کرتا ہے تو پھر باہر کی دنیا سے سہم جانے کا اندیشہ بڑھا لینا خود کے لیے وہ بھی تب جب ہم ان کے لیے معنی نہیں رکھتے اور وہ ہمارے لیے نہیں۔ ہم انہیں نہیں بدل سکتے اور وہ ہمیں نہیں۔۔۔۔ جب تک کہ ہم خود کو نہ بدلنا چاہیں اور صرف ہم ہی ہیں جو خود کو بدل سکتے ہیں۔ اگر بدلاؤ کی ضرورت ہمارا دل اور دماغ خود محسوس کررہا ہے یا وہ لوگ محسوس کر رہے ہیں جن کو زندگی سے نہ جانے دینے کے لیے ہم خود بدلنا چاہتے ہوں۔۔۔ وہاں حق ہے ہمیں پریشان کیے جانے کا اور ہم پہ فرض ہے کہ ہم سہم جائیں۔۔۔!

 

یہ زرش کے نام کا جو پہرا ہے
بس میں ہی میں کا تو سہرا ہے

زرش اقبال

ISBN (Digital) 978-969-696-422-3
Total Pages 70
Language Urdu
Estimated Reading Time 1 hour
Genre Poetry
Published By Daastan
Published On 09 Jun 2020
Zarish  Iqbal

Zarish Iqbal

زندگی کے ان پچیس سالوں میں کب اپنی ذات کی تعمیر کے لیے تحریر کا سہارا لے لیا خود بھی نہیں جانتی۔شاید اُسی دن سے جس دن سے ہوش سنبھال لیا اور بچپن کھو دیا یا یوں کہوں کہ ہوش سنبھالنے کے چکر میں ابھی بھی اپنے کھوئے بچپن کو جینا چاہ رہی ہوں۔ وہ جو پیچھے چھوٹ گیا ۔۔۔جسے جی نہیں پائی۔۔۔ وہ اب آخری دن تک جینے کو کوشش میں رہوں گی۔ شوق تھے، ہیں اور رہیں گے بھی اور وہ بھی ایک دو شوق نہیں بلکہ ہر وہ کام کرنے کی ٹھان لیتی ہوں جسے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ میرے ہاتھ اسے کرنے سے محروم کیوں رہیں۔ ہر وہ بات سوچنے، سمجھنے اور الجھ کر سلجھانے کا شوق رکھتی ہوں جسے سوچتی ہوں کہ میری عقل سمجھ بوجھ ہضم کرنے میں کتنا وقت لیتی ہے۔ زندگی شروع ہوئی۔۔۔۔ غور کر نے کی بات ہے کہ زندگی شروع ہوئی اور میں نے بُننا شروع کردیا ۔لفظوں کو، اُن کے لہجوں کو، اُن کے جذبوں کو۔۔۔ پر بُنتے بُنتے کب کاغذ اور قلم ہاتھ میں آئے علم نہیں۔ہاں علم ہے تو اس بات کا کہ اب میں تحریر کر پاتی ہوں جو نظروں سے گزر کر دل میں ٹھہرے اور دماغ میں قیام کرلے۔ اردو، پنجابی اور انگریزی میں تحریر کرتی ہوں آگے جا کے اگر اس قابلیت کی مالک ہوئی کہ دل و دماغ کے ساتھ ساتھ اور زبانیں سمجھ پاؤں تو لکھوں گی ضرور۔ لاہور میں مقیم ایک چوتھائی دماغ اور تین چوتھائی دل کی مالک ذات ہے میری جسے لکیریں کھینچنے کی عادت ہے۔ وہ لکیریں کبھی تحریر بن جاتی ہیں اور کبھی تصویر۔ اپنی پہلی کتاب کی تصویر بھی میری ذاتی کوشش ہے اگر میری کتاب میرا عکس ہے تو اس کتاب کی تصویر میں میری ذات کی جھلک۔ لکھتی ہوں کہ میٹھی ہو جاؤں اتنی میٹھی کہ جتنا میرا خدا مجھے دیکھنا چاہتا ہے۔۔ میٹھی ہو جاؤں اپنی تحریروں میں خلوص، پاکیزگی اور اصل گھول کر۔۔ وہ سب گھول کر جو میں نے چکھا ہے اور چاہتی ہوں کہ سب چکھیں اور پرکھیں کہ یہاں اس دنیا میں ان کہی باتیں، جذبے، احساس، رشتے، تعلق اور دعائیں اپنا اپنا ایک ذائقہ رکھتی ہیں۔۔۔ اور اگر اتنا میٹھا میں کسی کو ڈھونڈ نہ پاؤں تو کسی کی تلاش مجھ پہ ختم ہو جائے تو سکون میرا ہوگا۔۔۔ اور میں اس سکون کی تلاش میں لکھے جارہی ہوں۔۔۔!

Reviews


Inshal Nazif

Rating:

Aug 28, 2020

Awesome work... Waiting for your more books..

Sonia Khan

Rating:

Jul 07, 2020

This book made me feel what I had stopped feeling long ago.Its the exploration of one'self.Loved it so much.

Amina Sindhu

Rating:

Jun 08, 2020

Awesome poetry book and the thoughts are really different and amazing

Amina Zahid

Rating:

Jun 04, 2020

Very nice . . .

May 21, 2020

May 21, 2020

اپنے احساسات، جذبات، خیالات اور سوچوں کا اظہار بہ ذریعہ نظم شاعرہ نے بہترین انداز میں کیا ہے۔۔۔

Zarish Iqbal

Rating:

May 21, 2020

Books in Same Genre