Hardcopy Price
E-book Price
Pyar Ka Teesra Shehr by Maira Anwaar Rajpoot is an intense love story book that portrays love in its purest and most painful forms, love that sacrifices, love that waits, and love that remains incomplete. A true love story novel that reminds readers that with time, characters change, names change, and outcomes change, but the story of love remains the same.
This Urdu romance novel weaves together the lives of Mishan, Mustafa, Jalib, and Tajwar, four souls bound by fate, loss, and unfulfilled desires. Each character carries a different shade of love, making their journeys deeply emotional and painfully relatable.
Through these intertwined stories, this realistic love story book reflects the truth that love, like death, is universal, yet not destined for everyone. The author presents love not as a fantasy, but as a lived reality shaped by sacrifice, silence, and separation.
Written in simple and fluent language, this love story book in Urdu avoids heavy philosophical complexity and stays close to real life, where love often remains unfinished, yet unforgettable. Every character holds significance, and the absence of even one would leave the journey incomplete.
| ISBN (Digital) | 978-969-696-435-3 |
|---|---|
| ISBN (Hard copy) | 978-969-696-434-6 |
| Total Pages | 127 |
| Language | Urdu |
| Estimated Reading Time | 3 hours |
| Genre | Romance |
| Published By | Daastan |
| Published On | 12 Feb 2026 |
Rating:
Feb 16, 2022
پیار کا تیسرا شہر از مائرہ انوار راجپوت
"جو ادھوری رہ جاتی ہے وہ پیار کی کہانی ہوتی ہے، اور جو مسافر سے سب کچھ چھین لے ، وہ سفر پیار کے شہر کا ہوتا ہے"
محبت ایک ایسا جزبہ ہے جو ہر رشتے کی بنیاد ہے جس کے بغیر ہر شخص ادھورا ہے۔ اسی محبت اور پیار کو مصنفہ نے بہت خوب صورت انداز سے دنیا کی حقیقت کی جھلک دکھائی ہے۔ عورت جو معاشرے کی اصلاح میں اور بگاڑ میں اہم پہلو ادا کرتی ہے۔ پیار جو موت کی طرح ازلی سچ ہے، مگر ہر ایک پہ نہیں آتا۔۔
میشان جس کو قسمت نے ہر عمدہ چیز سے نوازا لیکن محبت جو اس نے حاصل کر کے کھو دی، مصطفیٰ کی محبت جو اسکو عشق کے سفر تک لے گئی اس کی محبت کی گہرائی نے بےوفائی کا الزام اس نے اپنے سر لیا اور میشان کو رہائی دی تاکہ وہ دوبارہ شادی کر کے ماں بننے کا جزبہ محسوس کر سکے کیونکہ وہ باپ بننے کی صلاحیت سے محروم تھا اور اپنی محبت کو دل کے تہ خانے میں قید کر دیا۔ جالب جس نے نا کبھی ماں اور نہ ہی باپ کی محبت حاصل کی جس کے اپنے رشتہ دار ہونے کے باوجود اس نے لاوارثوں والی زندگی گزاری۔ جس کو محبت ہوئی بھی تو اسکے ملنے سے پہلے ہی وہ اسکو کھو چکا ہے۔ تاجور جس نے اپنے باپ کو بچپن ميں ہی کھو دیا اور زمانے کی دھوپ میں لا کر کھڑا کر دیا، اس کے سر پر خاندان کی عزت اپنی ماں کا مان رکھا گیا جو کے ہمارے معاشرے میں ہر لڑکی کے سر پر ہیں ، لیکن اس نے اپنی ماں کے وعدے کی خاطر اپنی محبت کی قربانی دی۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اس کہانی کے تمام کرداروں میں سے ایک کردار بھی کم ہو تو یہ نامکمل لگے گی۔۔
مصنفہ نے بنکاک کی سیر بھی کروائی۔ بنکاک کی خوبصورت مناظر کشی، اور بہت باریک بینی کے ساتھ بنکاک کی تاریخ وہاں کے قدیم مقامات کا سفر بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
مصنفہ نے اپنی اس تحریر کو فلسفوں میں نہیں الجھایا بلکہ اسکو مختصر اور سادہ رکھا ہے۔ اور اس کہانی کو مائرہ نے حقیقت کے بہت قریب رکھ کر لکھا ہے۔
کچھ ناولز ایسے ہوتے ہیں جن کی کہانی شروع سے ہی ہمیں اپنے سحر. میں قید کر لیتی ہیں اور آخر تک انکا اثر رہتا ہے۔ "پیار کا تیسرا شہر" بھی ایسی ہی کہانی ہیں۔ جس نے اپنے قارئین کو اپنے ساتھ باندھے رکھا ہے۔ میں mydastan@ کی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے یہ کتاب
بیجھی
پیار کا تیسرا شہر از قلم مائرہ انوار راجپوت
پیار کے پہلے شہر سے تو سب واقف ہیں۔ آئیں جانتے ہیں پیار کے تیسرے شہر کے بارے میں۔ تھائ لینڈ کے بارے میں۔
موت اور محبت دو الہامی جذبے ہیں جو آپ پر اچانک وارد ہوتے ہیں۔ پیار کے تیسرے شہر میں ان کے بارے میں ہی بات ہوئ ہے۔ تاجور پر جس طرح محبت اچانک نازل ہوئ تھی بالکل اسی طرح موت نے بھی اس اچانک ہی اپنے شکنجے میں جکڑ لیا تھا۔
یہ کہانی جتنی عام لگی تھی اس سے کہیں گہری تھی۔ بہت جگہوں پر یہ آپ کو سوچوں کے گہرے بھنور میں دھکیل کر غوطے کھانے مجبور کردے گی۔ پھر وہ میشان کی بے انتہا اتھری محبت ہو، یا پھر مصطفی کی بے لوث، بے غرض محبت ہو۔ پھر وہ تاجور کی پہلی محبت کی تڑپ ہو یا جالب کی خاموش محبت۔
ہر کردار بہت خوبصورتی سے کہانی میں کسی نگینے کی مانند پرویا گیا۔ اور بنکاک کی سیر پوری جزیات کے ساتھ خوب کروائ گئ۔ تھائ کلچر کے بارے میں معلومات مفید تھی اور کسی اور کے بارے میں جاننا ویسے بھی خاصا دلچسپ کام ہے۔
بہت جگہوں پر روایتی کہانی ہونے کے باوجود اس کہانی میں بہت کچھ انوکھا تھا۔ کہانی کہیں بھی طوالت کا شکار نہیں ہوئ۔ مصنفہ نے کہیں بھی بلاوجہ فلسفہ جھاڑنے کی کوشش نہیں کی بلکہ مختصر اور بہترین الفاظ کا چناؤ استعمال کیا۔
اور آخر میں محبت کے وار سے بچنے کی کوشش وہ موت کے ظالم شکنجے میں لپیٹی گئ۔ کیونکہ موت سے فرار ممکن نہیں۔ کیونکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے۔