Hardcopy Price
E-book Price
The Rise of Muslim World in 22nd Century by Mudassir Majeed is a thought-provoking Islamic novel and a deeply engaging religious fiction book that follows a man wandering through a sin-filled world in search of the true path of God. Despite being mocked and shunned by society, he continues his spiritual journey, seeking a guide to lead him toward divine wisdom.
Written as an Islamic novel in Urdu, the book makes its message easily accessible to native readers. This compelling religious novel explores the struggles of faith, morality, and perseverance, making it an engaging read for anyone interested in spiritual exploration.
As a meaningful Islamic story book, it offers lessons about courage, devotion, and the quest for guidance. Will he find the guidance he seeks, or will fear of the world force him to turn back? Discover the answer in this gripping tale of faith, determination, and the search for God’s way.
| ISBN (Digital) | 978-969-696-464-3 |
|---|---|
| ISBN (Hard copy) | 978-969-696-465-0 |
| Total Pages | 110 |
| Language | Urdu |
| Estimated Reading Time | 2 hours |
| Genre | Religious |
| Published By | Daastan |
| Published On | 12 Feb 2026 |
Rating:
Dec 05, 2022
کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہےجیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔
(سورہ ابراہیم آیت نمبر 24)
اس خوبصورت آیت کو خیالی تصویر کی طرح ڈیزائن کروا کر اپنی کتاب کے سرورق میں لگوانے کا آئیڈیا بہت اچھا تھا۔ اس کے لئے تعریف تو بنتی ہے۔
جیسے کہ کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے، یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ایک "مسلم" کو مخاطب کر کے اسے ڈانٹ کر سمجھایا گیا ہے کہ ایک مسلم، جی ایک سچا مسلم کیسے بائیسویں صدی میں خود کو عالم میں عروج حاصل کر سکتا ہے۔
مصنف اس چیز کو سمجھانے کیلئے ایک بناوٹی سی کہانی کو شروع میں متعارف کرواتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک عام انسان جب شادی کرتا ہے، تو ظاہر ہے اسے بیوی بڑی مذہبی اور Supportive سی ملتی ہے۔ وہ بیوی پا کر بڑی سکون کی زندگی گزارنے لگتا ہے، پھر ان کو اولاد ہوتی ہے۔ جیسے جیسے اولاد بڑی ہوتی ہے، ابا میاں کو احساس ہوتا ہے کہ وہ جس طرح اتنے سال غفلت میں رہا، وہ اپنی اولاد کو ویسی غفلت میں نہیں رہنے دے گا۔
بس پھر کیا تھا، ابا میاں نے شروع کی اپنی تحقیق اور شروع ہو گئے اس کتاب کو لکھنے۔ کتاب میں وہ اپنے بیٹے سعد سے مخاطب ہو کر قرآن کی آیات کو جس طرح کھول کھول کر سمجھاتے ہیں، یہی اس کتاب کا اصل مقصد معلوم ہوتا ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے بہت سارے سوالوں، باتوں، الجھنوں کو سلجھاتے ہوئے اختتام پہ پہنچایا گیا ہے۔
کتاب کی پازیٹو پہلوؤں پہ بات کریں تو کتاب واقعی پڑھنے لائق ہے۔ اس میں ہر علم و شخصیت کو جس طرح حصوں میں الگ کر کے، ایک ایک چیز سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ قابل تعریف ہے جبکہ کتاب میں قرآنی تعلیمات کا آدھے سے زیادہ حصہ ڈالا گیا ہے، یہ بھی آپ کی دلچسپی قائم رکھنے کیلئے اچھا پہلو ہے۔
منفی پہلو کی بات کی جائے تو مصنف جو بناوٹی کہانی کا سہارا لے کر چیزیں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ بہت بونگا لگتا ہے۔