کمالؔ لمحے - Kamal Lamhay 2 Reviews

By: Kamalud Din

Hardcopy Price

PK Flag
PKR 600
INR Flag
INR 600
USD Flag
USD 20

E-book Price

PK Flag
PKR 600
INR Flag
INR 350
USD Flag
USD 1

Kamal Lamhe is a poem book about morality that takes readers on a thoughtful journey through life’s lessons and human emotions. The poet explores different but related themes of love, loneliness, helplessness, and betrayal, turning these experiences into resonating verses.

This thematic poetry book also brings a playful and thought-provoking side, as the poet uses light-hearted satire to comment on politics, giving it a touch of a poetry book on politics as well.

In addition, the poet Kamalud Din blends the essence of an emotional poem book and a motivational Urdu poetry book, that directly speak to readers searching for  connection, and inspiration. 

ISBN (Digital) 978-969-696-563-3
ISBN (Hard copy) 978-969-696-562-6
Total Pages 164
Language Urdu
Estimated Reading Time 2 hours
Genre Poetry
Published By Daastan
Published On 20 Jan 2026
No videos available

Reviews


Oct 03, 2022

کمال الدین کمال گلگت بلتستان میں درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ "سرد موسم میں حرارت تم ہو" ان کا پہلا شاعری مجموعہ ہے جبکہ کمال لمحے دوسرا جو داستان ادارے نے کمال کوالٹی کے ساتھ شائع کیا ہے۔

کمال لمحے میں شاعر نے اپنی غزلیات اور قطعات کو شامل کیا ہے۔ غزل کی بات کریں تو آج کے دور میں موجود لوگوں کے احساسات اور تجربات کو بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔ غزل لکھنا، پھر اس کو قاری کے سامنے پیش کرنا، ایک خدا داد صلاحیت ہی ہے، جو ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی، نہ ہے۔
کمال لمحے میں موجود کچھ غزلیں مجھے واقعی بہت پسند آئیں۔ بہت سارے ایسے شعر ہیں جو دل پہ اترتے محسوس ہوئے۔ آلہ مزید قلم میں برکت دے!

Bushra Khan

Rating:

Sep 02, 2022

کتاب: کمال لمحے
مصنف: کمال الدین کمال
صنف: شاعری
پبلشر: داستان پبلشرز
میری ریٹنگ: 2/5
فارمیٹ: ای بک، پیپر بیک۔

نہ کریدا کرو میرے اندر
اندروں خانہ کچھ نہیں ہوتا

اوپر لکھا شعر جب پڑھا تو بے اختیار سوچا؛ یا تو میرے اندر ذوق نہیں رہا یا پھر آغاز میں شاعر نے بس یونہی لکھ دیا ہے۔ انتساب پڑھا تو تھوڑا حوصلہ ہوا کہ یقینا کوئی بہتر چیز ہوگی مگر سچ تو یہ ہے کہ جیسے جیسے کتاب پڑھتی گئی مایوسی بڑھی ۔۔۔
بے وزن اشعار کی بهرمار، خوبصورت خیالات میں کمی واضح نظر آئی۔ زیادہ تر میں یونہی لگا کہ شاعر نے قافیہ ملائے ہیں۔۔
چند نمونے پیش خدمت ہیں:

1۔میں پانی دے دے کر سبزہ اگاتا
کسی بھی لمحے بنجر کر رہی ہے
اداسی جی میں آیا کر رہی ہے

2۔ میری جیسی محبت ان کو بھی ہوتی تو کیا ہوتا
وفا کیا ہے ذرا ان کو سمجھ آتی تو کیا ہوتا

3۔ کس شے کا صبح و شام ناظر ہو
رکھتے گھروں میں تو ذخائر ہو

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔۔۔ مگر ایک قاری ہونے کی حیثیت سے میں نے یہ کوشش بھی کی کہ چند اچھے اشعار بھی تلاشوں۔
اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہوں یہ آپ بہتر بتا سکتے ہیں۔

1۔ وہ لگاتے ہیں کفر کے فتوے
اپنے دل میں خدا نہیں رکھتے


2۔ تنہائی ہے، تو کیا ہے، ہونے دو
سفر کیا، ہمسفر بھی اہم نہیں

3۔ تیری یادوں کے گھیرے میں یوں پابند سلاسل ہیں
ہمارے پاس اب کوئی پرنده پر نہیں مارتا

مذکورہ بالا چند اشعار میں خوبصورتی محسوس ہوئی ۔۔۔ مگر میں یہ کتاب آپ کو پڑھنے کی تجویز نہیں دوں گی بلکہ میری ذاتی رائے کے مطابق شاعر کو مزید مطالعہ اور محنت کی ضرورت ہے ۔۔ان کے لیے نیک تمنائیں ۔۔

بشریٰ ایوب خان

Books in Same Genre