قصہ بابا بِگو - Qissa Baba Bigu - karbala book 0 Reviews

By: Zahra Nauman

No Ratings Yet

Hardcopy Price

PK Flag
PKR 2200
INR Flag
INR 2000
USD Flag
USD 35

E-book Price

PK Flag
PKR 600
INR Flag
INR 400
USD Flag
USD 7

"قصہ بابا بِگو Qissa Baba Bigu" by Zahra Nauman is a Karbala book in Urdu that presents the story of Karbala in a clear and relatable way. Written with care and purpose, this book connects the sacrifices of Karbala with the realities of today’s world, making it suitable for modern readers, especially youth.

This story of Karbala book is inspired by the lives of the Ahl al Bayt (a) and the sacrifice of Imam Hussain (a). Zahra Nauman weaves Qur’anic teachings into the narrative, reminding readers of truth, patience, and standing firm against injustice. At the same time, the book portrays the events and martyrdoms of Karbala in a way that deeply affects the reader.

Unlike many books about Karbala, "Qissa Baba Bigu" also highlights human relationships and family bonds. The characters reflect how shared living, love, and responsibility shape moral strength, helping readers see Karbala not only as history but also as guidance for daily life.

For readers seeking books about Imam Hussain, this work offers reflection and understanding. The book presents clear lessons from Karbala book, including courage, faith, sacrifice, and commitment to truth, in simple, engaging language.

This is an Inspirational Islamic book for youth that helps young readers connect with Islamic values through storytelling. For anyone looking for a meaningful Karbala book in Urdu, "قصہ بابا بِگو Qissa Baba Bigu" by Zahra Nauman is a valuable read.

 

ISBN (Digital)
ISBN (Hard copy) 978-969-696-631-9
Total Pages 1036
Language Urdu
Estimated Reading Time 7 hours
Genre Contemporary Fiction
Published By Daastan
Published On 29 Jan 2026
No videos available
Zahra Nauman

Zahra Nauman

سلامتی کی دعا ہے!

ہر لکھنے والا پرفیکٹ نہیں ہوتا، میں بھی نہیں ہوں۔ ہم جب کسی کو سِکھا رہے ہوتے ہیں تو ہم خود بھی اس سے سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ برائی کو جب برائی لکھتے ہیں تو یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ برائی کہیں ہم میں تو نہیں ہے؟ اگر ہے تو ختم کرنا ہے اسے۔

میں جب بھی کچھ نیا لکھتی ہوں تو حاجت کے نفل پڑھ کے لکھتی ہوں،

اللہ تعالیٰ آپ میرے الفاظ میں اثر رکھنا، جو پڑھے وہ اس سے کچھ سیکھ جائے۔

میں دس سال کی تھی جب میری امی فوت ہو گئیں۔میں نے اپنی بڑی بہنوں سے سنا، امی کہا کرتی تھیں کہ” اسے ذاکرہ بنائیں گے“ کیونکہ میری آواز بہت پیاری تھی۔ چند سال پہلے الہدیٰ میں پڑھتے ہوئے میں سوچا کرتی تھی کہ میں ”بہترین عالمہ بن کر بہت اچھا سِکھایا کروں گی۔

میں ذاکرہ نہیں بنی، میں عالمہ بھی نہیں بنی، ہاں میں لکھاری بن گئی۔ مقصد سکھانا تھا، اہم بات سیکھنا تھا۔

اچھا، بہترین سِکھانے کا شوق تھا۔ ایک دن یونہی فیس بک پر ماؤں کے ایک گروپ میں لکھا میں نے اور پھر لکھتی چلی گئی ۔ بہت سے گروپس تھے جہاں میرا لکھا بہت پسند کیا گیا۔ میرے الفاظ کو جادوئی، اثر پذیر (اثر رکھنے والے)، اور موتی کہا گیا۔

میرے لکھے کو بارش کا پہلا قطرہ کہا گیا۔

قصہ بابا بگو، لاوارث اور لاتقدر یہ تین ناول میں نے اس وقت لکھے جب نمرہ احمد کا ناول نمل چل رہا تھا۔

میں نے نمل کو پورا نہیں پڑھا تھا، چند اقساط ہی پڑھیں بس۔ میں نے نمرہ احمد کے بھی سب ناول نہیں پڑھ رکھے۔ نمل کی ایک ایک قسط بہت لمبی ہوتی تھی۔ میرا دل چاہا کہ میں بھی نمرہ کی طرح بہت زیادہ صفحات والا ناول لکھوں۔ لکھنا کیا تھا یہ نہیں معلوم تھا، بس لکھنا تھا اور بہت لکھنا تھا۔

میں اب حیران نہیں ہوتی پہلے میں بہت حیران ہوتی تھی کہ یہ جو لکھا ہے، وہ میں نے ہی لکھا ہے؟ یہ میرے ذہن میں آ کیسے گیا؛؟

یہ سب صرف اور صرف اللہ کی طرف سے ہے۔

ایک دن مجھے کسی کا میسج آیا،

آپ نمرہ احمد تو نہیں؟ آپ کے لکھنے کا انداز ان سے بہت ملتا ہے۔

اور میں بہت خوش ہوئی تھی۔

میں نے انھیں لکھا کہ جب میں نمرہ کو پڑھتی ہوں تو مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ وہ الفاظ میرے ہیں۔ میں یہاں صرف لفظ اور جذبے کی بات کر رہی ہوں۔

اپنے چند ناول لکھنے کے بعد میں نے پڑھا کہ لکھنا لکھنے کی مَشق کرنے سے آتا ہے۔

لکھنے سے پہلے پڑھو تو لکھنا آتا ہے۔

یہ بھی مجھے بعد میں ہی معلوم ہوا کہ جب ناول نگار لکھنے بیٹھتے ہیں تو انہیں خاموشی چاہیے۔ بعض اوقات ان کے ذہن میں کچھ نہیں آ رہا ہوتا۔

الحمدللہ ثمہ الحمدللہ میرے ساتھ یہ سب نہیں ہوتا۔ میں بہت شور میں بھی لکھ لیتی ہوں۔ سارا ناول میں نے پانچ سال پہلے لکھا۔ اس ناول کا اینڈ ایک سال پہلے میں نے اپنے بچوں کے ساتھ لکھا اور مجھے کچھ مشکل نہیں ہوئی۔ الحمدللہ!

 یہ الفاظ میں سوچ کے نہیں بناتی، بہت سے لوگ بہت سی چیزوں کے لیے چنے جاتے ہیں، میں لکھنے کے لیے چنی گئی ہوں۔

میرے لفظ مجھے اپنے بچوں کی طرح پیارے ہیں۔ جیسے جاگ جاگ کے میں نے انہیں پالا ایسے ہی اپنی نیند قربان کر کے بہت محبت سے سب لکھا۔

لکھنا میرے نزدیک کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے جو قرآن میں قصے کہانیاں بیان کی ہیں ہم سب کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں ان سے خود کو ریلیٹ کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی کہانی لگتی ہے۔

وہ تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، بہترین کلام لیکن کوئی بھی لکھنے والا جب لکھے تو اچھا لکھے، ایسا لکھے کہ قاری کو وہ اپنی زندگی کی کہانی لگے اور اس سے بہترین سیکھے۔

میرے نزدیک لکھنا یہ نہیں ہے کہ جو میں نے لکھا دوسرے ضرور اس پر عمل کریں۔ جیسے اللہ نے سب اچھا سکھا دیا، سب اچھا بتا دیا۔ یہ پڑھنے والے انسان پہ ہے کہ وہ اچھی بات کو اس سے لیتا ہے یا بری بات کو۔

بس یہی دعا ہے کہ لکھنے، سیکھنے اور سِکھانے کا یہ سلسلہ جاری رہے اور لوگ اس سے فائدہ حاصل کریں۔

Reviews


Be the first to review it. Start now.

Books in Same Genre