12% of the book — free to read

ز-ر-ش
از قلم
زرش اقبال

داستان پبلشرز
٭٭٭
کاپی رائٹ©۲۰۲۰ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامين اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ۲۰۲۰ ء
ناشر: داستان پبلشرز
پاکستان
٭٭٭
مدیرہ
نرمین سرھیو
ـــــــــــــــ
۔سرورق کے جملہ حقوق زرش اقبال کے نام محفوظ ہیں
٭٭٭
انتساب
میں اپنی اِس ادنیٰ سی کاوش کو اپنی والدہ ’’الماس اختر“ اور اپنے نانا ابو ’’ملک روشن دین“ کے نام منسوب کرتی ہوں!
چاہے میں اپنے نانا ابو سے اپنی زندگی میں مِل نہیں پائی لیکن میں نے اپنی والدہ کو ہر لمحہ اُن کی نیک سیرتی اور مضبوط شخصیت کے بارے میں بات کرتے سُنا اور دیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری والدہ نے بھی اُن کے اصولوں کو اپناتے ہوئے زندگی میں آئے اُتار چڑھاؤ کا بہادری سے سامنا کِیا ہے اور مجھے بھی میرے مقام تک پہچنے کے لیے اُسی بہادری اور خوب سیرتی کا درس دیتی ہیں۔
آج صبح پھر جب روزی کمانے کے لے راستہ ناپنے نکلی تو نظر ہوا میں جھولتے پھول پہ پڑی جو اپنا بہترین رنگ اور تازگی لیے پودے کی شاخ کا اکیلا مالک بنا بیٹھا۔ بڑی ٹھاٹھ سے آتے جاتے انسانوں کے مشاہدے میں مشغول تھا لیکن باغ سے الگ دُور ایک جھونپڑی کے پاس جہاں کچھ ٹوٹی ہوئی دیواریں اُسے سایہ فراہم کرنے میں ناکام ہورہی تھیں، پر وہ مہک رہا تھا مہکا رہا تھا، خوش تھا، خوشی بانٹ رہا تھا اپنی دُنیا میں کسی کے خوابوں کو سجا رہا تھا۔
چلتے چلتے رک گئی، کھو گئی کسی ایسی دنیا میں جہاں سوال بھی میرے اپنے تھے اور جواب بھی میں نے خود تلاش کرنے تھے اور جیسے ہی اگر کوئی جواب میرے نزدیک آتا تو یکلخت پھر سے کوئی نیا سوال کوئی نئی تہمت کوئی نیا حادثہ جو مجھے کسی ایسے شور میں چھوڑ جاتا جہاں اپنے وجود کو سکون فراہم کرنے میں میری عمر کٹتی جارہی ہے۔ مجھے خود کو اُس دنیا سے واپسی کا راستہ دِکھانے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ اِک ایسی آواز سنائی دی جو مجھے اندر تک کانپنے پہ مجبور کر گئی اور میں ان سوالوں کو اپنی کٹتی عمر کو چھوڑ کر پھول پہ نظر روکے بغیر پیچھے مڑی تو وہ میری ذات کی دہلیز پہ کھڑا دعا دیتا مخاطب ہوا مجھ سے ایسے جیسے لیں دین کرنا چاہ رہا ہو اور یہ وہی موقع تھا جب اُس نے مجھے دعاؤں سے لاد دیا۔میں نے کہا، ”میں کیا کروں گی پگلے؟“ تب اُس نے کہا، ”خدا تجھے اتنا دے جتنا کنوؤں اور سمندروں میں ہے۔۔ تجھے بڑی افسر بنائے۔ جیسی نیک تُو ہے اتنا ہی نیک تجھے تیرے نصیب میں آنے والا ملے“۔ میں نے سوچا نیک؟ وہ تو مجھ سے کہیں زیادہ ہے جو مجھے انمول اور بے دام دعاؤں کا خزانہ دے گیا اور ہم جو ہر قدم دام لگاتے ہیں۔ محبتوں کی جگہ اُنس ہو جائے تو تب تو لازم ہے پر خونی رشتوں میں چاہتوں میں احساس کا رشتہ بندھنے پر بھی باز نہیں رہ پاتے۔ میں اُس نیک انسان کو کیا دے پائی ایک خالی سُنسان چہرے کی جھلک ہاں خالی اور سُنسان جسے بھانپتے ہی وہ رخصت ہو گیا اور میں مزید راستہ ماپ ہی نہ سکی کہ لوٹ آئی۔ اُس خالی کمرے کو ویران کونے کو جہاں مجھے خالی ہوتے میں نے خود دیکھا تھا چاہا بھی تھا خود کو خالی ہونے سے پہلے اور اب پرکھنے بیٹھ گئی۔۔۔ پرکھنے؟ ہاں پرکھنے بیٹھ گئی اور ذات کو نہیں نام کو اپنے ذاتی نام کو پرکھنے بیٹھ گئی جس میں کئی بے رنگ، بے ڈھنگے اور بے مثال بھی کہہ سکتے ہو نام چھپے ہیں۔
یہ زرش کے نام کا جو پہرا ہے
بس میں ہی میں کا تو سہرا ہے
زرش اقبال
https://www.meraqissa.com/_zknits_
فہرست
تک راہ۔۔۔ کہ اب ہم لوٹ گئے... 16
٭٭٭
تُو ہی جُستجُو تُو ہی سرور ہے
میری زندگی کا یہ شعور ہے
تُو ہے لامکاں یہ میرا امتحاں
میری اِک نظر کا قصور ہے
میری مدہوشی جو بنی بے بسی
تُو ہی تاریکی تُو ہی روشنی
تُو جو اُس طرف تو میں اِس طرف
میری اِک نگاہ تو تُو ہر طرف
تُو جو حوصلہ تو وہ ضد میری
میں نہ کہہ سکوں بندگی میری
تُو جو عشق ہے تو سکون ہے
باقی سب نفس کا جنون ہے
میں جو موت سے نہ مل سکوں
تجھے چاہ سکوں نہ میں پا سکوں
میں جو روبرو تو میں خوبرو
گر میں پی سکوں تو ہوں سرخرو
یہ جو حسن کی اِک لہر سی ہے
اِک نظر جو دیکھ تو زہر سی ہے
تُوجو مانگے میں نہ دے سکوں
میں سوچوں بھی بے بہا سی ہے
ارے رک تو جا بحال کر
کچھ تخلیق کا تو خیال کر
یہ جو نمی سے ہے
کیا کمی سی ہے
تیری آنکھ میں جو تھمی سی ہے
یہ جو اُنس سا مجھے سب سے ہے
جوجان لوں تو نہ خود سے ہے
You have read 12% of ز-ر-ش - Zay Ray Sheen - Positive Poetry. The full e-book picks up right where this stopped.